Monday, 9 March 2020

بلدیاتی نظام: جاگیروں کی الاٹمنٹ - Sep 8, 2012

Sat, Sep 8, 2012, 9:43 AM
بلدیاتی نظام: جاگیروں کی الاٹمنٹ 
 میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
کوئی حزب اختلاف نہ ہونے کے باوجود دو اتحادی جماعتوں نے  متنازع  بلدیاتی نظام کے لیے آرڈیننس جاری کردیا ہے۔ ان دو جماعتوں نے صوبائی  اسمبلی میں  واضح اکثریت کے باوجود یہ قانو ن آرڈیننس کے ذریعے لاگو کرنا پسند کیا۔  اب اس آرڈیننس کوباقی  اتحادی جماعتوں کے ساتھ سندھ کے قوم پرستوں اور عوامی حلقوں سے مخالفت کا سامنا ہے۔ نئے نظام پر کئی اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں اور شدید تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ صوبے میں دہرا  بلدیاتی نظام نافذ کردیا گیا ہے۔بڑے شہروں میں جن کو میٹروپولیٹن کا نام دیا گیا ہے، جو کسی طور پر میٹروپولیٹن کی تعریف میں نہیں آتے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک سیاسی پارٹی کوخوش کرنے اور اس کا دائرہ اختیار و اقتدار بڑھانے کے مترادف ہے۔جبکہ پسماندہ اور دیہی علاقے اگر شہری اور ترقی یافتہ علاقوں سے جڑے رہتے تو انکو آگے بڑھنے میں آسانی ہوتی۔ مگر ان علاقوں کو کاٹ کے الگ تھلگ کردیا گیا ہے اور اب ان کو آگے بڑھنے میں زیادہ وقت،  سرمایہ اور محنت درکار ہوگی۔
نئے سیاسی نظام کا نقصان یہ بھی ہوگا کہ مشرف دور کی طرح ایک بار پھر بااثرخاندانوں کو مختلف اضلاع جاگیر کے طور پر الاٹ کرکے دیے جائیں گے۔ جس سے ذاتی اثررسوخ بڑھنے کے ساتھ ساتھ قبائلی اور برادریوں کی بنیاد پر سماج تقسیم ہو جائیگا۔قانون کی بالادستی،  عوام کی رائے اور آواز دب جائے گی۔یہ نظام جس کو سیاسی فیصلے اور مصلحت کا نام دیا جا رہا ہے اس سے پیپلز پارٹی نے ایک طرف ایم کیو ایم کو خوش کیا ہے تو دوسری طرف تمام سیاسی خاندانوں اور بااثروڈیروں کو بھی، کہ ان کو اب تین سطحوں پر حکومت میں شامل کیا جا سکتا ہے اور ان تینوں سطحوں ضلع،صوبے اور ملکی سطح پر اختیار و اقتدار بھی ہے اور پیسہ بھی۔
سندھ کا سب سے بڑا المیہ اس کی لسانی تضادات ہیں جو نہ صرف عام لوگوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ اس کی وجہ سے خوں ریزی، لاقانونیت،  سیاسی خواہ معاشی اور سماجی عدم استحکام عام ہے۔ نیا نظام  اس خلیج کو مزید بڑھائے گا۔ شہر اور دیہات ایک دوسرے پر ہر حوالے سے انحصار  اور شانہ بشانہ چلنے کے بجائے دور رہیں گے۔نظام لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور تضادات کم کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں مگر یہ نظام  تضادات کو شدید تر کردے گا۔
 بعض قانوندان  نئے بلدیاتی نظام کو آئین کی روح سے متصادم قرار دے رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ  آئین کے تحت تمام اختیارات صوبوں کو ہیں۔ بلدیاتی اداروں کو صرف میونسپل اختیارات ہیں، جو شہری سہولیات کے حوالے سے شعبے ہیں۔ باقی صوبے بلدیاتی اداروں کو دینے سے صوبوں کی حیثیت عملی طور پر ختم ہو جائے گی۔ 
گزشتہ دو سال سے سندھ میں دو بڑی اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان صوبے میں بلدیاتی نظام لانے کے لیے  اعصاب شکن  مذاکرات جاری تھے کہ کونسا بلدیاتی نظام ہو؟ وہ جو 1997ع  کے قانون کے تحت رائج تھا، یا وہ جو جنرل مشرف نے ضلع حکومتوں اور ناظموں کی شکل میں دیا تھا۔ دونوں فریقین کے درمیان کئی امور پر اختلافات تھے۔نئے بلدیاتی نظام پر بات چیت مشرف کے دیئے ہوئے ضلع حکومتوں کے نظام کو ختم کرنے کے بعد شروع ہوئی۔ چونکہ نظام کے بارے میں ہی طے نہیں ہو رہا تھا تو بلدیاتی انتخابات بھی نہیں ہو رہے تھے۔ اگرچہ سندھ کو چھوڑ کر باقی تینوں صوبوں میں مشرف کا دیا ہوا ضلع حکومت کا نظام ختم کرکے کمشنری نظام بحال کردیا گیا تھا۔ مگر سندھ میں کمشنری نظام کی بحالی  میں ایم کیوایم آڑے آرہی تھی۔
 گزشتہ سال  مختلف معاملات پر ایم کیو ایم کا دباؤ اور دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات بڑھ گئے تو پیپلز پارٹی نے صوبائی اسمبلی  سے قانون منظور کر کے کمشنری  بحال کردیا۔ جس کی سندھ بھر میں بڑی واہ واہ ہوئی۔مگر یہ معاملہ زیادہ دونوں تک نہ چل سکا۔ایم کیو ایم کو واپس منا کر لے آنا پڑا۔ پیپلز پارٹی کے سرگرم قانونی ماہر بابر اعوان نے کراچی پہنچ کر گورنر سندھ کے ساتھ پریس کانفرنس کی  اور صوبے میں دو قسم کے نظام رائج کئے گئے۔سندھ میں اس نئے قانون کی مزاحمت ہوئی عام ہڑتال کی گئی۔یہاں تک کہ پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی کو اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔صورتحال یہ تھی کہ 24 گھنٹے تک پیپلز پارٹی کا کوئی لیڈر میڈیا کے سامنے نہیں آیا۔بابر اعوان کے فارمولے کے تحت حیدرآباد اور کراچی میں مشرف کا ضلع حکومت کا نظام اور باقی صوبے بھر میں 1997ع کا نظام رکھا گیا تھا۔ایک ہی صوبے میں دو طرح کے نظام نافذ کرنے کو  قوم پرست اور دانشوروں نے سندھ کی تقسیم قرار دیا اور اس کی مخالفت کی۔
عوام کے اس سخت ردعمل کے نتیجے میں مجبور ہو کر پیپلز پارٹی کو یہ آرڈیننس واپس لینا پڑا۔سندھ میں ایم کیو ایم کے سوائے باقی تمام سیاسی جماعتیں اس قانون کے خلاف تھیں۔یوں سندھ میں بلدیاتی نظام تعطل کا شکار رہا۔
 ہمارے  ہاں بلدیاتی نظام آمروں کے ہاتھوں یرغمال بنا رہا ہے۔ایوب خان نے  بنیادی جمہوریتوں کا نظام دیا اور اس کے ذریعے خود کو صدر منتخب کرایا۔مشرف نے ایسا نظام دیا جس میں ضلع حکومتیں بنیں جو صوبائی حکومتوں کو بائے پاس کر کے براہ راست خود صدر سے جڑی ہوئی تھیں۔
 پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کے طور  پربھرپور کوشش رہی ہے کہ ہر صورت میں ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد برقرار رکھا جائے۔مگرسب سے بڑی پریشانی بلدیاتی نظام ہی ہے کیونکہ ایم کیو ایم کا اس معاملے میں بڑا سخت موقف ہے۔ اور وہ اس معاملے میں کوئی لچک نہیں دکھا رہی تھی۔ مگر پیپلز پارٹی کے لیے بھی ایم کیو ایم کا تجویز کردہ نظام جوں کا توں قبول نہیں تھا۔ اس پر طرہ یہ کہ سندھ میں اس پر شدید احتجاج ہو رہا ہتھا۔لہٰذا پیپلز پارٹی سندھ کے اس احتجاج کو مکمل طور پر مسترد کرنے کی بھی پوزیشن میں نہیں۔ اور ایم کیو ایم کو بھی ناراض کرنے کا رسک نہیں لے رہی تھی۔یہی وجہ ہے کہ ہر بار صدر آصف زرداری کو ہی بیچ میں آنا پڑا۔
 اب بلدیاتی نظام کے لیے پیش رفت یوں بھی نظرآتی ہے کہ ایم کیو ایم  عام انتخابات سے قبل بلدیاتی اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے۔اور ان اداروں ے وسائل اور اختیارات عام انتخابات میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔
پیپلز پارٹی گومگو کا شکار رہی۔کیونکہ صوبائی حکومت اس کے پاس ہونے کی وجہ سے بلدیاتی اداروں پر اسی کا کنٹرول ہے۔پیپلز پارٹی  عام انتخابات سے پہلے بلدیاتی انتخابات کراکے کسی بھی طور پر شکست یا سخت مقابلے کی صورتحال میں پڑنا نہیں چاہ رہی تھی۔ بلدیاتی انتخابات کے اثرات بہرحال عام انتخابات پر پڑتے ہیں۔پھر یہ انتخابات کے نتائج حکومت کی کارکردگی کو بھی ظاہر کریں گے۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے سے لیکر ایم کیو ایم کے دباؤ تک ایسی صورتحال بنی ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس بلدیاتی انتخابات کرانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ایم کیو ایم تعلیم، صحت، پولیس اور روینیو کے اختیارات بھی بلدیاتی اداروں کے پاس رکھنا چاہ رہی تھی۔
 مذاکرات کے دوران ایم کیو ایم کراچی میں سابق اضلاع بحال کرنے پر تیار تھی، مگر حیدرآباد ضلع کو پرانی حیثیت میں بحالی پر راضی نہیں تھی۔کیونکہ ایسا کرنے کے بعد حیدرآباد میں اس کی اکثریت نہیں رہے گی۔پولیس روینیو اور مالی اختیارات کے معاملات پر اختلافات رہے۔پیپلز پارٹی کو پورا احساس تھا کہ یہ محکمے ضلع حکومت کو دینے سے اس کے انتظامی اور مالی اختیارات پر اثر پڑے گا۔یہ بلدیاتی اداروں کو میونسپل سروسز سے زیادہ اختیارات دینے کا مطالبہ ہے ایم کیو ایم کے مطالبات تسلیم کرنے میں صوبائی حکومت کے عمل دخل اور اختیارات  میں کمی کے ساتھ ایک اور بھی پیچیدگی ہے۔ وہ یہ کہ حکومت کو دوسرے کئی قوانین میں بھی ترمیم کرنی پڑے گی۔ مزید یہ کہ مجوزہ میٹروپولیٹن کا نظام سندھ کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی دینا پڑے گا۔ تاکہ کراچی کو اختیارات دینے کا جواز پیدا ہوسکے۔
 مشرف نے حیدرآباد جیسے چھوٹے ضلع کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا۔اور اس کی کوکھ سے  تین اور اضلاع بنائے۔اگر حیدرآباد انتظامی طور پر بڑا تھا تو کراچی کو تو آٹھ دس اضلاع میں تقسیم کیا جانا چاہئے تھا۔کیونکہ کراچی میں ہی ٹارکیگٹ کلنگز، بھتہ خوری، لینڈ مافیا، منشیات، اسلحہ مافیا ہے جس کو موثر طور پر کنٹرول کرنے کے لیے مزید اضلاع بنانے کی ضرورت ہے۔مگر ایک سیاس جماعت کو فائدہ پہنچانے اور اس کی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے ایسا نہیں کیا گیا۔ دوسری زبانیں بولنے والوں کو مینڈیٹ ختم کیا گیا۔واٹر سپلائی، ڈرینینج ملیر، لیاری اور دوسرے علاقوں اور کراچی کے دیہات میں نہیں پہنچتے۔یہی صورتحال حیدرآباداور  میرپورخاص شہر کے بعض علاقوں کی ہے۔ اس پورے معاملے پر سندھ کی دوسری سیاسی جماعتیں اس معالے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ نیا مسودہ جس پر اب طویل مذاکرات ہو رہے ہیں، وہ پیپلز پارٹی نے  اپنی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل اور اے این پی کو اعتماد میں لیے حتمی شکل دی۔ ان اتحادیوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔پیر پاگارو کا کہنا ہے کہ نئے بلدیاتی نظام سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اور فنکشنل لیگ کمشنری نظام کی حامی ہے۔اے این پی کا کہنا ہے کہ اتحادی اگر پہلے ہی آپس میں معاملات طے کر کے آکر میں رسمی طور پر آتی ہیں تو  ہم سے امید نہ رکھیں اور وہ خالی ہاتھ واپس جائیں گی۔اب ملم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ (ق) اور عوامی نہشنل پارٹی نے حکومت سے علحدگی کا اعلان کردیا ہے۔ الیکشن جب نزدیک ہوں ایسے وقت میں سیاسی جماعتوں کو اپنے سیاسی کارڈ  ہوشیاری سے کھلنے چاہئے۔
 اصل میں مشترکہ بنیادیں تلاش کرنے اور ایک متوازن بلدیاتی نظام لانے کی ضرورت ہے جو کہ سیاسی مفادات اور مصلحتوں سے بالاتر ہو، اور شک وشبہہ کی گنجائش نہ۔ صرف ایسا ہی نظام مستقبل میں چل بھی سکے گا۔ہونا یہ چاہئے کہ جتنا یہ متنازع معاملہ ہے اس کے لیے آرڈیننس لانے کے بجائے میں  اسمبلی میں بل پاس کرنا چاہئے۔ اور صوبے بھر میں اتفاق رائے بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ایسا نہ کرکے سندھ کے باقی علاقوں سے احتجاج کودعوت دی جارہی ہے۔

No comments:

Post a Comment