Thu, Jun 27, 2013 at 12:00 PM
آخری آ مر مشرف پر مقدمہ
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
جنرل مشرف کا احتساب اور انکے اعمال کی سزا ملنے کی کوشش پر جمہوریت پسند لوف خوش ہیں۔ یہ ان کی پرانی خواہش تھی۔اب وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ حکومت کس طرح سے مقدمہ بناتی ہے اور لڑتی ہے اور عدلیہ اپنا رول کس طرح سے ادا کرتی ہے۔
اس ضمن میں حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کا ایک موقف ہے کہ ڈکٹیٹر کا احتساب ہونا چاہئے۔ پیپلز پارٹی تمام آمروں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وقت بہت ظالم ہے۔ آج جہاں مشرف کھڑا ہیں کل وہاں نواز شریف کھڑے تھے۔ایک حوالے سے مشرف کی حالت نواز شریف کی حالت سے زیادہ خراب ہے، کیونکہ نواز شریف کے سیاسی خواہ سماجی طور پر حامی موجود تھے۔ لیکن مشرف کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ نواز شریف پر مقدمہ چلانے کو ملک کے عوام اور سیاسی قوتیں غلط سمجھ رہی تھیں، لیکن مشرف پر مقدمہ چلانے پر سیاسی قوتیں متفق ہیں۔ نواز شریف کی مدد کے لیے سعودی عرب آگیا تھا جو ان کو رہا کراکے لے گیا۔ لیکن مشرف جس کی اہمیت صرف تب تھی جب وہ آرمی چیف تھا اور آرمی اس کے ساتھ تھی۔ نواز شریف ایک سیاستدان ہیں۔اگر اقتدار میں نہیں تو بھی عوام میں کم یا زیادہ حمایت موجود رہے گی، اور یہ کہ وہ کسی بھی وقت اقتدار میں آسکتے ہیں۔ لیکن مشرف دوبارہ آرمی چیف نہیں بن سکتے۔
مشرف کو واپس وطن آنے کا مشورہ کس نے دیا؟ شاید یہ انکا اپنا فیصلہ ہو۔ وہ اتنے خود سر تھے کہ ان کے ذہن سے یہ جملہ نہیں نکل سکا کہ ”میں نے کہہ دیا وہ کہہ دیا“۔وہ ملک میں موجود صورتحال کو نہیں سمجھ سکے کہ ان کے بیرون ملک جانے کے بعد ملک میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ نئی سیاسی صف بندیاں وجود میں آگئی ہیں۔ ان نئی صف بندیوں میں ان کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔ بلکہ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ وہ ان صف بندیوں کو نقصان پہنچا سکتے تھے لہٰذا انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ عام تاثر یہ تھا کہ مشرف نے بعض دوست ملکوں سے یقین دہانیاں حاصل کیں تھیں کہ وطن واپسی پر ان کے ساتھ خراب سلوک نہیں کیا جائے گا۔انتخابات سے پہلے جب یہ فیصلہ ہوا کہ حکومت نواز شریف کی ہی بن رہی ہے، تو نواز شریف نے مقتدرہ حلقوں کو بتا دیا تھا کہ اگر مشرف کو بچانا چاہتے ہیں تو ان کو نگراں دور میں ہی ملک سے باہر بھیج دیا جائے۔مگر یہ سب کچھ نگراں دور حکومت میں نہیں ہوسکا۔کیونکہ عدلیہ بیچ میں آگئی تھی۔
مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلانے کے حوالے سے دو اور اہم باتیں سیاسی مارکیٹ میں گشت کر رہی ہیں۔ ایک یہ کہ ایسا کرنے سے پینڈورا باکس کھل جائے گا۔ جس کی لپیٹ میں بہت سارے سابق جنرل اور سیاستدان وغیرہ بھی آسکتے ہیں۔ لہٰذا اس کو قومی مصلحت اور مفاہمت کے لیے نہ چھیڑا جائے۔ یہ عجیب پینڈورا باکس ہے جو ہر مرتبہ کسی کے خلاف کوئی کارروائی کرتے وقت کھلنے کا خوف دلایا جاتا ہے۔اور ہر مرتبہ اس میں کوئی نئی چیز ڈال کر بند کردیا جاتا ہے۔ نواز شریف کو یہ بھی مشورہ دیا جارہا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اصغرخان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی عمل درآمد کا معاملہ سر اٹھائے گا جس میں نوے کی دہائی میں انتخابات چرانے کا الزام نواز شریف پر بھی آتا ہے۔ دراصل ایسا وہ لوگ کر رہے ہیں جو یہ خوف دلا کر ایک تاریخی قدم اٹھانے سے روکنا چاہ رہے ہیں۔ اور بلواسطہ طور پر مشرف کی حمایت کر رہے ہیں۔ بعض حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ 1958 سے لیکر2007 تک آئین اور منتخب حکومتیں توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بظاہر یہ بات اچھی لگتی ہے۔ مگر اس کا عملی پہلو کیا ہے؟ اگر 1958سے لیکر 2007 تک کے آمروں اور ان کے ساتھیوں پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سوائے مشرف اور اس کے ساتھیوں کے باقی چند ایک ہی زندہ ہونگے۔باقی واقعات کے بڑے کردار پاکستان کے عوام اور عدلیہ کے دائرہ کار سے باہر جاچکے ہیں۔
ماضی میں ہوتا یہ رہا ہے کہ جمہوریت پر شب خوں مارنے والوں کو یہ سب کچھ ہضم ہوتا رہا ہے۔ لہٰذا ایسے طالع آزما وقتا فوقتا پیدا ہوتے رہے ہیں اگر اس طرح کا احتساب ایوب خان کے خلاف بھی ہو جاتا تو آج ملک کے سیاسی اور معاشی ھالات مختلف ہوتے۔ کیونکہ اس کے بعد کسی بھی طالع آزما کو یہ جرئت نہیں ہوتی کہ منتخب حکومت کو یا آئین کو توڑتا۔
اس پورے قصے میں دو باتیں اور بھی اہم ہیں۔ ایک امریکہ کا رول جس نے پچاس کی دہائی میں پاکستان کی سیاست، حکمرانی اور خارجہ پالیسی کے ساتھ کھیلنا شروع کیا۔ یہی کھیل دوبارہ1977ع میں کھیلا گیا اور جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کردیا۔ ضیا کا مارشل لاء دراصل افغانستان میں پاکستان کو رول دینے کے لیے تھا۔ اور اس کے پیچھے امریکی ہی تھے۔ پاکستان میں لگنے والے مارشل لاؤں کا اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ براہ راست یا بلواسطہ طور پر امریکہ کی آشیرواد حاصل رہی ہے۔
جمہوریت کو لپیٹنے میں دوسرا عنصر خود سیاسی قوتوں کا بھی رہا ہے۔ایک عرصے تک یہ ہوتا رہا کہ جمہوریت کے دعویدار سیاستدان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے ہیں۔ اور لڑتے رہے ہیں جس سے تیسری قوت کو موقعہ ملتا رہا۔ لہٰذا ان آمروں کی نیت اور مہم جوئی اپنی جگہ پر مگر انکو موقعہ اور سازگار حالات سیاسی قوتوں نے ہی فراہم کئے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات فوج کو باقاعدہ دعوت بھی دی جاتی رہی کہ وہ مداخلت کرے یا اقتدار سنبھالے۔اور بعد میں فوج کی آجیاں بھی کرتے رہے ہیں۔یوں یہ سیاستداں فوج کی سیاست میں مداخلت کے ذمہ دار رہے ہیں۔
جب تک یہ رویے تبدیل نہیں ہونگے ایک دوسرے کو برداشت نہیں کریں گے تب تک جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکے گی۔ اس لیے جہاں یہ رویت قائم کی جارہی ہے کہ آئین اور پارلیمنٹ توڑنے والے سزا کے مستحق ہونگے وہاں یہ بھی روایت قائم ہونی چاہیئے کہ سیاسی جماعتیں ذمہ دارانہ کرادر ادا کریں گی۔ملک میں دوسرے صوبے بھی ہیں۔مختلف الخیال لوگ بھی ہیں، جو کہ سب کے سب پاکستانی ہیں۔ لہٰذا سیاسی جماعتیں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں دونوں صورتوں میں قانون اور آئین کی پاسداری کرینگی اور اسکے ساتھ ساتھ ملکی معاملاتباہمی مشورے سے چلائیں گی تاکہ کسی تیسری قوت کی دور کی بات تیسری سوچ بھی کسی کے ذہن میں نہ آئے۔اگر یہ اس طڑھ سے کیا گیا تو یقیننا مشرف آخری آمر ہوگا جو سزا بھی بھگتنے لگے گا۔
No comments:
Post a Comment