Tuesday, 10 March 2020

ایم کیو ایم تہنائی کی طرف - Dec 11, 2012

Tue, Dec 11, 2012, 10:28 AM

ایم کیو ایم تہنائی کی طرف۔۔۔ میرے دل میرے مسافر۔۔۔سہیل سانگی

Tue, Dec 11, 2012 at 10:44 PM
MQM Isolation-
ایم کیو ایم کی تنہائی۔۔۔ میرے دل میرے مسافر۔۔۔سہیل سانگی
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے گزشتہ ہفتے ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ان کے مطابق پنجاب میں حصول اقتدار کے لیے ملک کو داؤ پر لگانے کی تیاری کی جارہی ہے۔انہوں نے شکوہ کیا کہ سیاسی و مذہبی جماعتیں کراچی میں اسلحے کی نمائش پر تو بیانات دیتی ہیں مگر پنجاب میں حالیہ ضمنی انتخابات میں ہونے والے اسلحے کی نمائش پر سب خاموش ہیں۔ڈاکٹر فاروق نے یہ بھی سوال کیاکہ سپریم کورٹ نے کراچی کے حالات اور حلقہ بندیوں کا تو نوٹس لیا مگرپنجاب میں ضمنی انتخابات کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں کا نوٹس نہیں لیا۔ایم کیو ایم کایہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ یہ جماعت ایک طرف ہے ملک کی سیاسی پارٹیاں دوسری طرف ہیں۔اس سے قبل گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے کراچی کی حلقہ بندیوں اور بدامنی کے حوا لے سے جو فیصلہ دیا تھا تب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے بھی برہمی کا اظہار کیا تھا۔ 
ایم کیو ایم کا سیاسی جماعتوں سے شکوہ کیا اس کی سیاسی تنہائی کی عکاسی کرتا ہے؟ 
 یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں کہ ایم کیو ایم کو اس قسم کی تنہائی کا احساس ہوا ہے۔ پرویزمشرف دور  میں جب چارٹر آف ڈیموکریسی پر  دستخط ہوئے تھے اور اس کے فورابعد نواز شریف نے  جب لندن میں سیاسی جماعتوں کی کانفرنس بلائی تھی اس وقت بھی  ایم کیو ایم کو ایسی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جب اکثر سیاسی جماعتوں نے کسی قسم کا اتحاد اور رابطہ نہ رکھنے کا  اعلان کیا تھا۔  بعد میں پیپلز پارٹی نے  اس وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایم کیو ایم سے اتحاد کای اور اسے سیاسی تنہائی سے نکلنے میں مدد کی۔ کمشنری نظام کی بحالی اورصوبائی وزیر داخلہ ذولفقار مرزا کے سنگین نوعیت کے الزامات نے بھی ایم کیو ایم کو تنہائی تک تنہائی کا شکار کئے رکھا۔
یہ کل ہی کی بات ہے کہ وہ سندھ میں سفید و سیاہ کی مالک نظر آتی تھی۔ سیاسی جماعتیں کراچی اور سندھ کے حوالے سے اس سے بات کرتی تھیں۔ ااور اس کی رائے کو اہمیت دیتی تھیں۔ یوں ایم کیو ایم فیصلہ سازی میں بھی اثر انداز ہونے لگی تھی۔ کراچی پر گرفت رکھنے کی دعویدار یہ جماعت نواز شریف اور جنرل مشرف کے دور کے بعد موجودہ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی حکومت میں رہی ہے۔ اس جماعت کا تینوں سطحوں یعنی وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومتوں میں بھرپور شرکت رہی ہے۔ خاص کر صوبائی اور ضلعی سطح پر فیصلے اسی کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہوتے رہے ہیں۔اگر نہ بھی ہوں وہ کمال خوبصورتی سے یہ فیصلے اپنے حق میں کرتی رہی۔کراچی کی صنعت و تجارت اور ترقی کا پہیہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کے پیش نظر اس جماعت کواقتدار میں بڑا حصہ دیا گیا۔جس کی گواہی موجودہ صدر آصف علی زرداری کے اس بیان سے بھی ملتی ہے۔ جس میں متحدہ سے اتحاد کے حوالے سے کہا تھا کہ انہوں نے کراچی کا امن خریدکیا ہے۔ 
صوبے اور کراچی میں ایک بڑا حصہ ملنے کے باوجود کراچی  میں امن امان  اور کاروبار کی صورتحال بہتر نہ ہو سکی۔کراچی کا ملک کی آمدنی کا 60 سے 70 فیصدفراہم کرتا ہے۔ جس میں سے دفاعی اداروں کے بجٹ میں میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہاں کی تالہ بندی  نے بھی ان اداروں میں بھی صورتحال کو از سرنو غور کرنے پر مجبور کیا۔
جماعت اسلامی جو ایم کیو ایم سے پہلے کراچی کی نمائندگی کی دعویدار رہی ہے اس کے 2008 کے عام انتخابات سے جماعت اسلامی کو کوئی فائدہ پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو، مگر ایم کیو ایم کو شہر کی اکیلی بڑی پارٹی کا اعزاز ضرور ملا۔سیاسی مبصرین اس بات کو بھی بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں کہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے بائکاٹ نے ایک دوسرے کو ہی فائدہ پہنچایا ہے۔سانحہ 12مئی 2007  کے بعد ایم کیو ایم اور اے این پی ایک دوسری کی کٹر مخالف کے طور پر سامنے آئیں۔ مگر پیپلز پارٹی کی مفاہمت کی پالیسی  ان دونوں مخالفین کو ایک ہی میز پر لا بٹھایا۔
کراچی اب تبدیل ہے۔ جس کو ایم کیو ایم سمیت  مختلف  سیاسی جماعتیں سمجھنے اور تسلیم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔یعنی زمینی حقائق تبدیل ہو چکے ہیں۔ کچھ نئی قوتیں ابھر کر آئی ہیں۔ جن کی حقیقت کو تسلیم کئے بغیر معاملہ سلجھایا نہیں جا سکتا۔اور یہ حقائق تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ کراچی کے  سیاسی معاملات میں ان نئے پاوربروکرز کی شراکت۔ اور ایم کیو ایم دراصل یہ شراکت نہیں چاہتی۔ جس کے جواب میں  ان نئے پاور بروکرز نے  ایم کیو ایم کا ہی اسٹائل اختیار کر لیا ہے۔ نتیجے میں سیاسی بالادستی کی جنگ سیاسی سرگرمیوں کے بجائے ہتھیاروں سے لڑی جا رہی ہے۔
کیا سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے ایم کیو ایم کی ڈاؤن سائزنگ چاہتی ہیں؟ جس کو عرف عام میں یہ کہا جا رہا ہے کہ جس جماعت کی جو حقیقی سیاسی حیثیت ہے وہ اسکو ملنی چاہئے۔ ورنہ اس سے پہلے کے دو انتخابات میں بھی اسی طرح کی انتخابی فہرستیں تھیں  اور یہی حلقہ بندی تھی۔ مگر اب یہ سب جماعتیں انتخابی فہرستوں میں درستگی چاہتی ہیں۔ نئی حلقہ بندی چاہتی ہیں۔شاید یہی بات  ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے محسوس کرلی ہے  اور کراچی میں نئی حلقہ بندی پر مزاحمت کرنے کا اشارہ  دے چکے ہیں۔
کراچی میں قیام امن کے لیے جو مختلف حکمت عملیاں بنائی جا رہی ہیں کیا یہ کوششیں بارآورہو سکیں گی؟ کراچی میں فوجی آپریشن کے مطالبات کیے جارہے تھے تو  خود آرمی چیف  جنرل پرویز کیانی کویہ وضاحت کرنی پڑی کہ کراچی میں فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں۔ مگر سپریم کورٹ نے فوج کوایک کردار انتخابی ن فہرستوں کی تصدیق کے نام سے دے دیا ہے۔جس میں فوجی جوانوں کو گھر گھر جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔فوج یہ کردار قبول کرے گی یا ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے معاملات طے پا جائیں گے۔ 
 ایم کیو ایم کو بطور سیاسی پارٹی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ ہو اس وقت تین طرف سے دباؤ میں ہے۔ یہ دباؤ لندن سے لیکرکراچی تک ہے۔ لندن میں ڈاکٹر عمران  کے قتل کیس کے حوالے سے  دباؤ ہے تودوہری شہریت کی وجہ سے حیدر عباس رضوی، رضاہارون  جیسے متحرک ارکان اسمبلی  سے محروم  ہونے کی وجہ سے پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں سیاسی تنہائی کی صورت میں پارٹی مزید دباؤ میں آسکتی ہے۔ ہر بار کمال فن سے صورتحال کو پارٹی اپنے حق میں کر تی رہی ہے کیا وہ اس مرتبہ وہ بے لگام صورتحال اس کے بس میں نظر نہیں آتی۔پارٹی کی قیادت کو عملی طور پرسیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنا پڑے گا اور کراچی کے زمینی حقائق  اور نئے  پاور بروکرز کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو  اسپیس دینا ہوگا جس کی کبھی  وہ خود طلب گارر ہی ہے۔ 
=================================
ایم کیو ایم  رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے کہا ہے کہ پنجاب  میں حصول اقتدار کے لیے ملک کو داؤ پر لگانے کی تیاری کی جارہی ہے۔انہوں نے شکوہ کیا کہ سیاسی و مذہبی جماعتیں کراچی میں اسلحے کی نمائش پر تو بیانات دیتی ہیں مگر پنجاب میں حالیہ ضمنی انتخابات میں ہونے والے اسلحے کی نمائش پر سب خاموش ہیں۔ڈاکٹر فاروق کے مطابق ایم کیا ایم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ نے کراچی  کے حالات اور حلقہ بندیوں کا تو نوٹس لیا مگرپنجاب میں ضمنی انتخابات کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں کا نوٹس نہیں لیا۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ متحدہ (ایم کیو ایم) ایک طرف ہے تو  ملک کی سیایس پارٹیاں دوسری طرف ہیں۔اس سے قبل گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے کراچی کی حلقہ بندیوں اور بدامنی کے حوا لے سے جو فیصلہ دیا تھا تب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے بھی برہمی کا اظہار کیا تھا۔ 
ایم کیو ایم کا سیاسی جماعتوں سے شکوہ اس کی سیاسی تنہائی کی عکاسی کرتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ صورتحال کوئی ایک روز میں پیدا نہیں ہوئی ہے۔ اس پر ایم کیو ایم کو سوچنا چاہئے۔کراچی کی نمائندگی کی دعویدار یہ جماعت  جنرل مشرف کے دور سے لیکر آج تک حکومت میں رہی ہے۔ اس جماعت کا تینوں سطحوں یعنی وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومتوں میں بھرپور شرکت رہی ہے۔ خاص کر صوبائی اور ضلعی سطح پر فیصلے  اسی کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہوتے رہے ہیں۔اس جماعت کو  حکومتی معاملات میں  یہ حیثیت صوبے شہری علاقوں میں دہشتگردی اور بدامنی کی بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد دی گئی۔ اس سیاسی شرکت اور مفاہمت کے پیچھے  یہ مقصد کر فرما تھا کہ شہری علاقوں کی دعویدار پارٹی کو مین اسٹریم میں شامل کر لیا جائے۔ 

ملک کی تمام سیاسی جماعتیں کراچی میں امن امان کے لیے ایم کیو ایم کو ذمہ دار ٹہرا رہی ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات، بھتہ خوری، ٹارگیٹ کلنگز انتخابی فہرستوں میں درستگی چاہتی ہیں۔ نئی حلقہ بندی چاہتی ہیں۔ طرح کا اظہار پارٹی کے سربراہ الطاف حسین  کے سپریم کورٹ کے
کراچی  ملک کا معاشی دارلخلافہ ہے تو اس کو اسی طرح رہنا چاہئے۔ صنعت اور کاروبار امن اور آزادی چاہتا ہے۔
 فوج  بھی تنگ ہے۔ عدلیہ بھی کچھ کرنا چاہتی ہے۔
ایم کیو ایم ورکرز کنوینشن  بلا کر کارکنوں سے  براہ راست یا بلواسطہ  رائے لیتی ہے۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ ایک رائے شرکت نہ کرنے والوں کے پاس بھی ہوتی ہے۔ اور اس طرح کے بحران  یا پارٹی کی حیثیت  خراب ہونے کی صورت میں خاصی اہم ہو جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو سیاسی زبان میں رینک اینڈ فائیل کہا جاتا ہے جب کہ  ایک حصہ ایسا بھی ہوتا ہے جو  ووٹرز کہلاتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ یہ دونوں اتنی آسانی سے تبدیل بھی نہیں ہوتے مگر  ان  کے ذہن میں سوالات ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment