Tuesday, 10 March 2020

ایک آمر کی واپسی - Mar 24, 2013

Sun, Mar 24, 2013 at 10:32 PM
ایک آمر کی واپسی۔ مشرف گزرا  ہو ا  زمانہ یا پریشر گروپ
سہیل سانگی
 ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف منتخب حکومت کا تختہ الٹنے والے پہلے فوجی آمر ہے جو دیدہ دلیری سے واپس ملک آگئے ہیں اوروہ سیاست میں سرگرم ہوناچاہتے ہیں۔ ورنہ دوسرے آمرجنرل ایوب خان اور یحیٰ خان خان کو آمریت ختم ہونے کے بعد عوامی زندگی میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ جنرل ضیا دوران آمریت ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔  
1999ع میں جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا، ان کو جلاوطن کیا اور آئین توڑا۔ د وہ دس سال تک مسلط رہے۔جب 2008  میں پیپلز پارٹی نے دیگر سیاسی جماعتوں ملکر انہیں مواخذہ کی دھمکی دی اور خود عسکری حلقوں میں ان کی حمایت کم ہوئی تو وہ صدارت سے استعیفا دے کر ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ جاتے جاتے انہوں نے کہا تھا کہ اب پاکستان کا خدا حافظ ہے۔ لیکن خدا کے فضل سے پاکستان اب بھی قائم ہے۔  
 مشرف بینظیر بھٹو اور نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں مطلوب ہیں۔ اور سپریم کورٹ کے ججز کو حبس بے جا رکھنے کے بھی الزامات ہیں۔
حال ہی میں مدت مکمل کرنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت امریکی فارمولے کے تحت بنی تھی۔ جس کیمطابق مشرف اور بینظیر بھٹو کو ساتھ ساتھ حکومت کرنی تھی۔ستمبر میں مشرف پر واضح کیا گیادیا کہ”بنیادی طور پر ہم آپ کے ساتھ ہیں مگر چاہتے ہیں کہ حکومت پر جمہوری لبادہ ہو، اور اس کے لیے بینظیر نہایت ہی موزوں ہے۔“  مگر مشرف مستقبل کی اتحادی کو تحفظ فراہم نہ کر سکے اور محترمہ کو راولپنڈی میں جلسے کے بعد قتل کردیا گیا۔ ان کے قتل کے بعد بھی اسی فارمولے پر عمل ہوا۔ فرق یہ ہوا کہ بینظیر جہاں میں نہیں رہیں اور مشرف ملک میں نہیں رہا۔ 
 خود کو ضرورت سے زیادہ دانا سمجھنے والے مشرف نے ملک  میں کسی بھی پارٹی یا ادارے سے بنا کے نہیں رکھی۔ نواز لیگ کی حکومت کو برطرف کیا۔ پیپلز پارٹی ان کو بی بی کے قتل کا ذمہ دار ٹہراتی ہے۔ عدلیہ کو برطرف کیا۔ آخری ایام میں خود عسکری حلقے بھی ان سے ناخوش تھے۔
 ان کے اتحادی آج نئی سیاسی صف بندی میں چلے گئے ہیں۔ مذہبی جماعتوں کا اتحاد مجلس عمل کے لوگ نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ایم کیوایم اور قاف لیگ پیپلز پارٹی کی اتحادی ہیں۔اگرچہ قاف لیگ ڈھائی سال پہلے مشرف کو ”عاق“ کر چکی ہے۔ جس کو جنرل صاحب نے بڑے ارمانوں سے بنایا اور پالا تھا۔ ویسے بھی  یہ لیگ اب آخری سانسیں لے رہی ہے۔ سندھ میں مشرف نے ار باب غلام رحیم اور علی محمد مہر پر بڑی نوازشیں کی تھیں ارباب نواز شریف سے اتحاد کرنے کے چکر میں تقریبا لاہوری بن بیٹھے ہیں۔ لیکن مشرف نے تھر سے الیکشن لڑنے کی بات کرکے نواز شریف کے پاس ارباب رحیم کے نمبر کم کر دیئے ہیں۔
مشرف کی حامی جماعتیں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد میں رہیں۔ سوائے متحدہ مجلس عمل کے۔ ان میں سے مولانا فضل الرحمان نے پی پی کا دیا۔
 مشرف واپس تو آگئے ہیں، کیاسیاسی طور رپربھی وہ خود کو بحال کر لیں گے؟وہ عناصر جو کل مشرف کے ساتھ تھے آج کہاں کھڑے ہیں؟کیا ملکی سیاست میں مشرف کا کوئی رول ہے؟وہ جس رول کی تلاش میں لوٹ کر آئے ہیں کیا وہ رول ان کو مل سکتا ہے؟ان کے ساتھ کون کون کھڑا ہوگا؟ یہ وہ بنیادی سوال ہیں جن کے جواب میں بات پنہاں ہے کہ مشرف کا مستقبل کیا ہے؟ 
وہ خود کو پی پی اور نواز شریف کے بعد تیسرے آپشن کے طور پر پیش کرتے ہیں۔انکا دعوا ہے کہ ان کی پارٹی ہر نشست پر امیدور کھڑے کرے گی۔ ملک کی دوسرے نمبرپر بڑی پارٹی نواز لیگ یہ کام نہیں کرسکتی۔ مشرف کہاں سے کر لیں گے؟   
مشرف گزرا ہوا زمانہ ہیں۔ تاہم میڈیا ضرورہائیپ پیدا کیاہوا ہے۔ دراصل ان کی اہمیت پریشرگروپ کی سی ہے۔ وہ صرف ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے لیے مشکل پیدا کریں گے۔ اور انہیں مجبور کریں گے کہ وہ بعض اشوز پر اپنی پوزیشن واضح کریں۔
 اسلام آبادکے حلقوں کے مطابق عسکری قیادت نے ریٹائرڈ جنرل کو فی الحال ملک سے باہر رہنے کا مشورہ دیا تھا۔یہی مشورہ  بینظیر کو مشرف نے دیا تھا کہ ان کی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ کہا جاتا ہے کہ ریٹائرڈ جنرل نے و طن واپسی کے لیے سعودی عرب اور عرب امارات کا اثر رسوخ استعمال کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت انہیں گرفتاری کی دھمکیاں دے رہی تھی  اس کے ختم ہونے کے بعد مشرف وطن آرہے ہیں جو۔ اب ان کی فرمائش ہے کہ انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔
 مبصرین کے مطابق مشرف اس پوزیشن میں نہیں کہ حکومت میں آ سکیں گے البتہ سیاسی منظر نامے پر اثرانداز ضرور ہونگے۔اور سیاسی جماعتوں اور ریاست کے اداروں پر بھی اثرانداز ہونگے۔
عسکری قیادت:
ریٹائرڈ جنرل کا سیاست میں سرگرم ہونا سیاستدانوں کے لیے ہی نہیں خود موجودہ عسکری قیادت کے لیے بھی درد سر ہوگا جس نے حالیہ برسوں میں ادارے کو  سراب  سے نکالنے اورنئے طریقے سے استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ان کی آمد سے قبل تجزیہ نگار ان سوالات پر  غور کررہے تھے کہ کیا فوج میں ان کے حامی اس پوزیشن میں ہیں کہ انکو گرفتار ہونے سے بچا سکیں یا یہ فوج یہ برداشت کرلے گی کہ ایک سابق سربراہ جیل چلا جائے۔ فوج آخر ایک ریٹائرڈ جنرل کو سر پرکیوں بٹھائے گی؟
طالبان کی دھمکی کے بعد اگر خدانخواستہ ان کو کچھ ہو جاتا ہے تواس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟اگر ان کو کچھ نہیں ہوتا، تو اس تاثر کو ختم کرنا ناممکن ہوجائے گا کہ انہیں فوج کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ دونوں صورتوں میں فوج کا رول زیر بحث آئیگا۔
عدلیہ:  جب عدلیہ اس کے خلاف مقدمات کی سماعت شروع کرے گی تب صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ یہ وہ عدلیہ ہے جس کو  انہوں نے برطرف کردیا تھا۔تاریخ کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ مشرف نے جس عدلیہ کو لتاڑا تھا تھا وہ اب ان کی آزادی اور مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ 
سیاسی بازار میں یہ باتیں بھی گشت کر رہی ہیں کہ غیرملکی فیکٹر نے یہ یقین دہانی حاصل کر لی ہے کہ عدلیہ ہلکا ہاتھ رکھے۔یہ افواہ ان ججز کے لیے خاصے تکلیف دہ ہونگے جنہوں نے گزشتہ برسوں میں بڑی محنت اور ہمت سے اپنا امیج بنایا ہے کہ عدلیہ آزاد ہے۔ بہرحال یہ افواہ عمل سے ہی ختم ہو سکیں گے۔ فی الحال تو عدلیہ نے ریٹائرڈ جنرل کی بینظیر بھٹو اور نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں ضمانت منظورکر لی ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے دو مرتبہ کو کیا، اور آئین کو توڑا وہ انکے معاملے پر عدلیہ آزمائش میں آئے۔ عدالت جس نے دو منتخب وزیر اعظموں کو طلب کیا۔ جن میں سے ایک کو نااہل قرار دیا۔ صدر کو مشورہ دیا کہ وہ آئین کے مطابق چلیں، طاقتور نوکرشاہی سے بھی پوچھ گچھ کی۔ لوگ منظر ہیں جب عدلیہ مشرف کے معاملے کو ہینڈل کرے گی۔
سیاسی جماعتیں:
سب سے بڑا امتحان مسلم لیگ (ن) کا ہوگا۔ نواز شریف مسلسل مشرف کے خلاف بولتے رہے ہیں۔اور زور دیتے رہے ہیں کہ حکومت کا تختہ الٹنے والے پر آئین کی دفعہ چھ کا اطلاق کیا جائے یعنی غداری کا مقدمہ چلایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی مہم جوئی کی ہمت نہ ہو۔مشرف کی آمد کے بعد وہ اسکو سزا دلانے کے لیے کتنا زور دیتی ہے، اس سے پتہ چلے گا کہ وہ اس مطالبے میں کتنی سچی ہے۔اگر نواز لیگ انتخابات جیت جاتی ہے تب یہ معاملہ اور بھی پیچیدہ ہوجائے گا۔ تاہم ابھی تک نواز لیگ کا کوئی سخت موقف سامنے نہیں آیا۔
 عمران خان  اور مشرف دونوں ایک ہی حلقے سے حمایت کے آسرے میں ہیں۔کی کیا پوزیشن بنے گی جو شروع میں جنرل مشرف کے ساتھ تھے، مگر بعد میں ان سے الگ ہو گئے۔ اس وقت ان کی پوزیشن یہ ہے کہ وہ طالبان کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ اور میاں نواز شریف کی بھی یہی لائن ہے۔ اور ان کے ساتھ مذہبی جماعتیں کھڑی ہیں۔ یہ پوری لابی طالبان سے مذاکرات کے حق میں ہے۔مشرف کے مخالفین کا الزام ہے کہ انہوں نے نائین الیون کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت ترک کردی تھی۔شدت پسند رہنماؤں کو امریکہ کے ہاتھوں بیچا۔
جبکہ دوسری طرف پی پی، ایم کیو ایم اور اے این پی ہیں۔ تاریخ کی یہ ستم ظریفی ہے کہ مشرف کا اور ان جماعتوں کا اس معاملے میں موقف ملتا جلتا ہے۔البتہ اے این پی اب طالبان سے مذاکرات کی بات کرتی ہے۔
کیا مشرف اور علامہ قادری کے درمیان کوئی تعلق ہے؟دونوں خود کو ”ماڈرن مسلمان“کہلاتے ہیں۔ممکن ہے کہ مشرف بھی دو بڑی پارٹیوں کے خلاف  پوائنٹ اسکور کرنے کے لیے انتخابات میں امیدواروں کی اہلیت کا سوال اٹھائیں۔ اور علامہ قادری کی طرح آرٹیکل 62 اور 63 پر مکمل عمل کی بات کریں۔ جس طرح علامہ خود کوئی سیاسی فائدہ نہ لے سکے، مشرف کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہے کہ وہ کسی اور کی گیم خراب کریں گے۔اس وقت صرف علامہ قادری ہی ہیں جو ان کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ ورنہ کسی پارٹی نے ابھی تک مشرف کا ساتھ دینے یا اتحاد میں دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔
خود کو پاکستان کا نجات دہندہ قرار دینے والا  بلوچستان میں سینکڑوں لوگوں کی پراسرار گمشدگی، ڈرون حملوں کا خفیہ معاہدہ کرنے،  بلوچستان میں آپریشن کی ذمہ داری سے بھی بری الذمہ نہیں۔ 
مشرف کے ابھی تک بادشاہی خیالات ہیں۔وہ دیہی علاقوں کے تھانوں پر ڈیوٹی کرنے والے تھانیدار کی طرح سوچتے ہیں۔ جو ریٹائر ہونے کے باوجود خود کو تھانیدار ہی سمجھتا ہے۔ جنرل نے ملکی وسائل، عسکری ادارے کی کمانڈ، سرکاری مشنری کے نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے سیاست اور حکومت کی۔ اب ان کے پاس ان میں سے کوئی چیز نہیں۔ہاں پیسے ضرورہیں جو خرچ ہوتے ہوئے نظر بھی آتے ہیں۔
 مشرف نے ابھی چند ماہ قبل فوج کو مشورہ دیا تھا وہ ٹیک اوور کرے۔مگر ہر کوئی جانتا ہے کہ اب اس نسخے کی سیاسی مارکیٹ میں ڈمانڈ نہیں رہی۔ اور نہ ہی ان پالیسیوں کی اور شخصی حکومت کی مارکیٹ ہے۔

No comments:

Post a Comment