Mon, Mar 11, 2013 at 1:02 PM
نواز لیگ کا منشور اور چھوٹے صوبے
سہیل سانگی
2013 کے انتخابات کے لیے جاری کئے گئے منشور میں مسلم لیگ (ن) نے پہلی مرتبہ صوبوں کی شکایات کا اعتراف کیا ہے۔اور صوبوں کے تعلقات کے لیے الگ سے ایک باب مخصوص کیا ہے۔
انتخابات میں منشورکو دیکھ کر لوگ پارٹیوں ووٹ نہیں دیتے۔ ووٹ کے لیے بعض دوسرے عوامل زیادہ موثرہوتے ہیں۔البتہ یہ۔
یہ منشورانتخابات کے آکھاڑے میں موجود پارٹیوں کے پاس انتخابات کے دوران اور اس کے بعد بھی موضوع بحث بنے رہتے ہیں۔عموما منشور سیاسی جماعتوں کا ایسا شو پیس ہوتے ہیں جس میں سب اچھا دکھایا جاتا ہے۔سنہری خواب دکھائے جاتے ہیں جس کی تعبیر نہیں ہوتی۔
نواز شریف انتخابات کے بعد حکومت بنانے کے بڑے امیدوار ہیں۔ان کے لیے لازم تھا کہ وہ پنجاب کی نمائندہ پارٹی کے تاثر کو دھوئیں اور یہ ثابت کریں کہ ان کی پارٹی کو ملک کے چاروں صوبوں میں حمایت حاصل ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں پارٹی منظم کرنا مشکل کام تھا، لہٰذا انہوں نے ان دونوں صوبوں میں اتحاد کی سیاست کا سہارا لیا۔
بلوچستان بہت گرم ہے جہاں ریاستی مشنری اور مسلح بلوچ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور یہ مسئلہ عالمی سطح پر بھی چلا گیا ہے۔یہاں پر پارلیمانی سیاست کرنے والے سیاستداں بھی خود کو مشکل میں محسوس کر رہے ہیں۔ اس مسئلے پر ملک کی تمام پارٹیان متفق ہیں کہ بلوچستان مین اسٹریم سیاست سے باہر چلا گیا ہے۔ اس صوبے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے منشور میں بہت مبہم ہے۔ منشور میں کاہ گیا ہے کہ ”مسلم لیگ بلوچستان کی سنگین صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے۔ ہم بامعنی سیاسی مذاکرات اور جامع پروگرام کے ذریعے بلوچ عوام کے سیاسی و معاشی حقوق کی بحالی سے ان کا دل جیتنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔ یہ پروگرام تمام سیاسی پارٹیوں اور اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ صلاح مشورے سے تیار کیا جائے گا۔“سیاسی و معاشی حقوق“کی اصطلاح بہت ہی مبہم ہے۔ جس سے کچھ واضح نہیں ہوتا کہ وہ کون سے حقوق ہیں۔ لاپتہ ہونے والے سیاسی کارکنوں اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا کوئی حوالہ ہے۔جس کے خلاف بلوچ قیادت آواز اٹھا رہی ہے۔
بلوچستان کے بعد دوسرے نمبر پر سندھ میں قومپرست تحریک موجود ہے۔یہ صوبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ پیپلز پارٹی کا ”آبائی صوبہ“ ہے۔اس مرتبہ نواز شریف نے سندھ کی طرف قدم بڑھایا تو بعض حلقوں نے ان کے اس قدم کو سندھیوں اور پنجابیوں کا اتحاد بحال کرنے کی کوشش قرار دیا۔ یہ اتحاد ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا، مگر بعد میں بھٹو کو پھانسی دینے پرٹوٹ گیا۔لہٰذا نواز شریف نے شہری علاقوں کے بجائے پرانے سندھیوں کا رخ کیا۔ انہوں نے ایسا شاید اس لیے بھی کیا کہ شہری علاقے ایم کیو ایم کے زیر اثر ہیں جہاں سے انہیں ووٹ ملنے کی امید کم ہے۔
آئیے دکھیں کہ مسلم لیگ (ن) سندھ کے ان اشوز کو کس طرح سے دیکھتی ہے۔ سندھ کے بنیادی اشوز مالیاتی ایوارڈ، پانی کی تقسیم، کراچی میں بدامنی کی صورتحال، صوبے میں روز بڑے پیمانے پرتارکین وطن کی اور دوسرے صوبوں سے لوگوں کی آبادکاری، قدرتی وسائل پر حق ملکیت، تھر کول کا استعمال، کراچی کے تعلیمی اداروں میں سندھ کے دیگر علاقوں کے طلباء کے داخلے رہے ہیں جس پر سندھ کے وسیع تر سیا سی حلقے اور بعض اوقات پیپلز پارٹی بھی آواز اٹھاتی رہی ہے۔ان اشوز کو کئی حوالوں سے متفقہ ایجنڈا قرار دیا جاتا رہا ہے، کیونکہ سندھ تمام جماعتیں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر بات کرتی رہی ہیں۔حال ہی میں کراچی میں سندھ ایجنڈا کے موضوع پرایک کانفرنس میں سندھ کے ان نکات کا اعادہ کیا گیا ہے۔ یہ آئندہ انتخابات میں حصہ لینے والی تمام پارٹیوں پر پریشر ہے کہ وہ سندھ کے ان مطالبات پر اپنے موقف کا اظہار کریں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سندھ میں دباؤ موجود ہے کہ سیاسی جماعتیں ایجنڈا سے نہ ہٹیں۔
منشور اور وعدے اپنی جگہ پر سندھ نون لیگ کا عملی رویہ اس پیمانے سے ناپے گا جس کا اظہار موجود پنجاب حکومت کے سندھ کے ساتھ کیا ہے، جہاں یہ جماعت حکومت میں ہے۔ پنجاب حکومت نے پانی کی تقسیم، وفاقی مالی وسائل کی تقسیم، توانائی کا بحران، گیس، تیل اور بجلی کے معاملات پروہی پرانا موقف رکھا۔ سندھ کو شکایت ہے کہ پنجاب اپنے حصے سے زیادہ استعمال کر رہا ہے اور ان وسائل کی قلت کی صورت میں یہ قلت شیئر کرنے کے لیے تیار نہیں۔
سندھ کے ساتھ از سرنو تعلقات کیا آغاز گشزتہ دو سال کے دوران ہوا۔نواز شریف نے سندھ کے قوم پرستوں سے الگ الگ مذاکرات کئے اور بعض معاملات پر یقین دہانیاں بھی کرائیں۔ جبکہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا تھا۔ فنکشنل لیگ کے ذریعے سندھ کے معاملات ہینڈل کرنے کے فیصلے بعد یہ معاہدہ کتنا موثر ہے؟ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔مسلم لیگ (ن) کے نزدیک آئین میں دی گئی صوبائی خود مختاری کافی ہے۔ لہٰذ منشور میں صوبوں کو مزید اختیارات دینے کے بجائے اٹھارویں ترمیم پر عمل درآمد پر زوردیا۔ جبکہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ساتھ کئے گئے تحریری معاہدے میں ”آئین کی حدود میں رہتے ہوئے صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری“مانی گئی تھی۔سندھ میں اتفاق رائے ہے کہ خودمختاری 1940کی قرارداد کے مطابق دی جائے۔
مالیاتی ایوارڈ صوبوں کے درمیاں خاصا تنازع کا باعث رہا ہے۔ پر بھی منشور مبہم ہے۔ سندھ کا مطالبہ رہا ہے کہ آمدنی کی بنیاد پر مالیاتی وسائل تقسیم ہوں۔ جبکہ پنجاب آبادی کو وسائل کی تقسیم کی بڑی بنیاد رکھنے کا حامی ہے۔ سندھ کا یہ بھی مطالبہ رہا ہے کہ ملک کے بالائی علاقوں سے بڑے پیمانے پرآبادی سندھ میں موجود ہے جس کی وجہ سے سندھ کے وسائل پر دباؤ پڑتا ہے لہٰذا دوسرے صوبوں اپنے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے رقم دیں یا وفاقی پول سے خصوصی فنڈ مہیا کیا جائے۔اس کے علاوہ غربت کو بھی ایوارڈ کا اہم حصہ تسلیم کرنے کے لیے سندھ زور دیتا رہا ہے۔
تارکین وطن کے بارے میں منشور میں وہی چیزیں دی گئی ہیں جو ملک میں پہلے سے رائج ہیں۔ ان حکومتی اقدامات سے سندھ کے لوگ مطمئن نہیں ہیں۔
معدنی و قدرتی وسائل پر حق ملکیت کا معاملہ اب اہمیت اختیار کرگیا ہے، سندھ ملک کی تیل اور گیس کی پیداورا کا پینسٹھ سے ستر فی صد پیدا کرتا، پر اس پر صوبے کو آمدنی نہیں ہوتی۔ بلوچستان کی طرح سندھ کا بھی مطالبہ ہے کہ معدنی و قدرتی وسائل پراس کا حق ملکیت تسلیم کیا جائے۔ یہ منشور اس حوالے سے بھی خاموش ہے، آئین بھی اس ہی ضمانت دیتا ہے، لیکن گیس کی پیداور سندھ سے ہونے کے باوجود یہاں بھی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جس کی وجہ پنجاب حکومت کا دباؤ بنا تھا۔
منشور میں سب سے بڑی بات صوبوں کے بارے میں مبہم ہی سہی پہلی بار موقف آیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ یہ بہتر ہوگا۔ اور اس کو پنجاب کی سوچ میں تبدیلی کا پیش خیمہ سمجھنا چاہئے۔
No comments:
Post a Comment