Mon, Feb 18, 2013 at 3:09 PM
ایم کیو ایم سے پریم کہانی ختم
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
متحدہ کی پیپلزپارٹی کے حکمراں اتحاد سے علحدگی حیران کن نہیں تھی۔ اس میں سب سے اہم وقت کا انتخاب ہے۔ ایک ایسے وقت پر علحدہ ہوئی ہے جب حکومت اپنی آئینی مدت پوری رکچکی ہے۔ یعنی ایم کیو ایم چار سال گیارہ ماہ حکومت میں رہی۔
اب پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی میں سادہ اکثریت والی پارٹی ہوگئی ہے۔ 163 کے ایوان مین پی پی اور شیرازی گروپ کے پاس 93 ایم پی ایز ہیں۔ متحدہ، فنکشنل، ہم خیال، اے این پی، اور اے این پی کے پاس 70اراکین کی اپوزیشن میں ایم کیا ایم کے پاس 47 اراکین ہیں لہٰذا لیڈر آف اپوزیشن بھی اسی کا ہوگا اور نگراں سیٹ اپ میں اپوزیشن کی پارٹی کے طور پر حصہ ملے گا۔ لہٰذا ایم کیو ایم اپوزیشن میں گئی تو بھی فائدے میں گئی۔وفاق میں بھی تقریبا یہی صورتحال ہے۔ جہاں حکومت کی دو تہائی اکثریت ختم ہوگئی ہے۔ متحدہ کے الگ ہونے کے بعد حکمران اتحاد کے پاس 192 اراکین ہیں اور نواز لیگ، فنکشنل، جے یو آئی اور متحدہ پر مشتمل 147 اراکین کی اپوزیشن ہے۔
پیر پاگارا نے دو ماہ قبل حیدرآباد کے جلسے میں کہا تھا اکہ ایم کیو ایم نگراں سیٹ اپ میں شیئر لینے کے لیے منصوبہ بندی کے تھٹ حکومت سے علحدہ ہوگی۔
ایم کیو ایم کے جانے سے سندھ میں 12 اور وفاق میں 2وزارتیں خالی ہوئی۔
پیپلز پارٹی سے پانچ سال کے دوران چار اتحادی الگ ہوئے۔ سب سے پہلے نواز لیگ الگ ہوئی، اس کے بعدجے یو آئی، مسلم لیگ فنکشنل، اور اب متحدہ الگ ہوئی ہے۔ وفاق میں اب اے این پی اور قاف لیگ کے علاوہ پی پی کے ساتھ حکمراں اتحاد میں کوئی جماعت نہیں۔
ایم کیا ایم نے کئی مرتبہ حکومت سے علحدگی کی دھمکی دی تھی جس کا شمار رکھنا مشکل ہے۔ تاہم یہ دوسرا موقع ہے کہ حکومت سے علحدہ ہوئی ہے۔ اس سے پہلے جب سندھ حکومت نے جنرل مشرف کا دیا ہوا بلدیاتی نظام ختم کیا تھا، تب ایم کیو ایم حکومت سے علحدہ ہوئی تھی۔ میں رہنا بھی چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ متحدہ حکومت سے باہر رہنا افورڈ ہی نہیں کر سکتی۔
کیا ایم کیو ایم واقعی ناراض ہے؟ ایسا نہیں لگتا۔ کیونکہ اس جماعت کا گورنر تمام اختیارات کے ساتھ موجود ہے۔ پیپلز پارٹی نے متحدہ کے سخت الزامات کے ناوجود بہت محتاط اور نرم ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اور یہ بھی کہ صلاح مشورہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت سے علحدگی سے پہلے گورنرہاؤس میں رحمان ملک، گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا اجلاس بھی ہوا تھا۔
رحمان ملک کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم سے رابطے میں ہیں اس کے ووٹرز کو تکلیف دینا نہیں چاہتے۔
اس سے پہلے نواز شریف، مشرف دور میں بھی ایم کیوا یم حکومت سے علحدگی کی دھمکیاں دیتی رہی ہے۔ اور نواز شریف اور پی پی کے دور میں حکومت سے علحدہ ہوتی رہی ہے۔ یہ جماعت بطور پریشر گروپ کے کام کرتی رہی ہے۔ کیونکہ یہ جماعت کبھی بھی اکیلے حکومت نہیں بنا سکتی۔ لہٰذا حکومت وہ حکومت میں نہ رہنا افورڈ نہیں کر سکتی۔
اہم چیز یہ ہے کہ صدر زرادری جو مسلسل کہہ رہے تھے کہ آئندہ انتخابات اتحادیوں کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ اب یہ دعوا محض دعوا ہی رہ گیا ہے۔ کیونکہ ایم کیو ایم اتحاد سے ہی علحدہ ہو گئی ہے، جبکہ دو اتحادی جماعتیں اے این پی اور قاف لیگ اگرچہ حکومت میں موجود ہیں مگر انہوں نے بھی انتخابات علحدہ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ یوں یہ جماعتیں انتخابات میں خراب کارکردگی وغیرہ میں حصہ داری نہیں کرنا چاہ رہی ہیں۔
مبصرین اور عام لوگ بھی اس بات کو دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ سب جماتیں حکومت سے علحدہ ہو رہی ہیں تو کسی عوامی مسئلے یعنی مہنگائی، امن امان، صحت تعلیم وغیرہ کو بنیاد بنا کر نہیں ہو رہے ہیں بلکہ ان کی وجہ براہ رست سیاسی ہے۔ اور سیاسی مقاصد کے لیے ہی الگ ہو رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ جماعتیں اس بات کو چھپانے کے بجائے بڑی دیدہ دلیری سے یہ بات کہہ رہی ہیں۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ عوام کے مسائل یا ایجنڈا نعرے یا باتوں کی حد تک بھی نہیں مانا جا رہا ہے۔
اسکا نقصان فنکشنل لیگ اور قوم پرستوں کی نگراں حکومت بنانے میں نہیں سنی جائے گی۔ فنکشنل لیگ جو گزشتہ سال بلدیاتی نظام کے معاملے پر حکومتی اتحاد سے الگ ہوئی تھی، اس کا خیال تھا کہ وہ اپوزیشن کی پارٹی کہلائے گی اور ایوان میں لیڈر آف اپوزیشن بھی اسی پارٹی کا ہوگا۔یوں نگراں سیٹ اپ میں شیئر حاصل کر پائے گی۔ ایممکیو ایم کی متوقع علحدگی کو بھانپتے ہوئے پیر پاگارا نے دو ماہ قبل حیدرآباد کے جلسے میں ایم کیو ایم پر واضح کیا تھا کہ وہ اس گیم سے دور رہے۔ فنکشنل لیگ نے ا پوزیشن لیڈر کے لیے اسپیکر کو درخواست بھی دے رکھی تھی مگر اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ایم کیو ایم کی علحدگی کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے بھی کہہ دیا ہے کہ اب اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ آئندہ چند روز میں کر دیا جائے گا۔ اپوزیشن ایم کیو ایم کی علحدگی کو ڈرامہ اور نورا کشتی قرار دے رہی ہے۔ بعض مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ اس اتحاد کا اس مرتبہ اختتام حقیقی نہیں بلکہ اس میں دونوں فریقین کی رضامندی شامل ہے۔
پیپلز پارٹی کا عام کارکن اس علحدگی سے خوش ہے۔ کیونکہ اس اتحادی کا رویہ ان کے لیے اندرون سندھ میں مسئلہ بنا ہوا تھا۔ اور بلدیاتی نظام اور دیگر اشوز پر وہ پارٹی کا دفاع نہیں کر پا رہے تھے۔ ان کے نزدیک یہ اتحادی سہولت کے بجائے مسئلے پیدا کرنے والے تھے۔
اس علحدگی سے سیاسی طور رپ پیپلز پارٹی اور متحدہ دونوں کو فائدہ پہنچے واپس لیے ہیں۔ ہم اور حساس اتحادی کو بھی ناراض کرکے حکومت نے مقدمات گا۔یہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے ووٹرز کے پاس کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ پیپلز امن کمیٹی کے لوگوں کے مقدمات واپس لینے سے لیاری میں پارٹی کو فائدہ پہنچے گا۔ جہاں پارٹی یہ کہنے کی پوزیشن میں آ جائے گی۔ بعض مبصرین اس صورذتحال کو ان الفاظ میں بیان کر رہے ہیں کہ انتخابات سے پہلے زرداری نے سندھ اور الطاف حسین نے کراچی فتح کرلیا ہے۔
فیالحال صورتحال یہ کہ گورنر عشرت العباد جن کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ پیپلز پارٹی کے وزراء بھی یہی کہہ رہے ہیں۔اگر یہی صورتحال رہتی ہے تو عام تثر بھی یہی رہے گا کہ ایم کیو ایم کی حکمراں اتحاد سے علھدگی محض دکھاوا ہے۔ ایم کیو ایم کے کچھ حلقوں سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ جب وزراء کے استعیفے گورنر کے پاس پہنچیں گے تو ان کو اپنے اپنے بارے میں بھی فیصلہ کرنا اپڑے گا۔ ممکن ہے کہ اس الزام سے بچنے کے لیے گورنر بھی آئندہ چند روز میں مستعفی ہو جائیں۔ بہرحل جو کچھ بھی ہوگا وہ طے شدہ ایجنڈے کے تحت ہوگا کیونکہ دو ہفتے قبل گورنر لندن گئے تھے جہاں پر یہ تمام حکمت عملی ترتیب دی گئی تھی۔
No comments:
Post a Comment