Monday, 9 March 2020

بلوچستان اور اختر مینگل -Oct 1, 2012

Mon, Oct 1, 2012, 7:50 PM

بلوچستان  اور اختر مینگل

میرے دل میرے مسافر۔۔۔۔ سہیل سانگی
بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اختر جان مینگل کی سپریم کورٹ میں حاضری، وہاں پیش کردہ چھ نکات اوربعد میں میڈیا سے بات چیت   کوسیاسی حلقے اہم قرار دے رہے ہیں۔کسی ناراض بلوچ رہنما نے حالیہ برسوں میں پہلی بار کھل کر شرائط رکھی ہیں۔ اختر مینگل بلوچستان کی قوم پرست تحریک کے ایک اہم ستون سردار عطاء اللہ مینگل کے صاحبزادے ہیں جو ایک عرصے تک بلوچستان کے سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔اگر حکومت  لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کو تیار ہو تو سردار مینگل انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ وہ مذاکرات کے لیے بھی راضی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا دیکھے کہ ہم نے بات چیت کے لیے گنجائش نکالی ہے۔
بلوچستان میں بحران کی حالیہ لہر مشرف دور میں شروع ہوئی جس میں بزرگ بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کو قتل کردیا گیا تھا، اس کے بعد بلوچ  قوم پرستوں نے مذاکرات کے دروازے بند کردیئے تھے۔ خود سرادر عطاء اللہ مینگل نے بارہا کہا کہ وہ بات چیت  کے حوالے سے بے بس ہیں۔
اختر مینگل کے چھ نکات کا بڑا چرچا ہے۔ ان کو شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔ مگر ان میں اور مجیب کے چھ نکات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اختر مینگل کے نکات میں کوئی بھی نکتہ  پاکستان کے فریم ورک سے باہر یا آئین سے ہٹ کر نہیں ہے۔اختر مینگل کے نکات یہ ہیں:
1) بلوچ عوام کے خلاف تمام خفیہ خواہ کھلے فوجی آپریشن بند کئے جائیں  2)  تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کراکے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ 3) آئی ایس آئی اور ایم آئی کے تحت چلنے والے تمام ڈیتھ اسکواڈ بند کئے جائیں۔4)  بلوچ سیاسی جماعتوں کو ایجنسیوں کی مداخلت کے بغیر سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ 5) بلوچ رہنماؤں اور کارکنوں پر غیر انسانی ٹارچر کرنے قتل اور لاشوں کو گم کرنے والوں کے خلاف مقدمات چلائے جائیں 6) کسمپرسی کی حالت میں پڑے ہوئے ہزاروں بلوچوں کی بحالی کے اقدامات لئے جائیں۔یہ وہ چیزیں ہیں جن کا آئین میں باقاعدہ  نہ صرف ذکرہے بلکہ ان کی ضمانت کی شقیں بھی موجود ہیں۔یعنی وہ جو کچھ مانگ رہے ہیں وہ آئین کے فریم ورک میں ہی ہے۔اس لیے وفاق پرست حلقوں کو اطمینان ہوا ہے اور وہ ان کے نکات کو اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
بلوچستان کا اشو قوم پرست تحریک کی تاریخ پر نظر ڈالے بغیر سمجھنا مشکل ہے۔بلوچستان میں قوم پرستی کی یہ پانچویں تحریک ہے جس کے جواب میں عسکری کارروایاں کی گئیں۔اس سے پہلے پچاس، ساٹھ اور ستر کے عشروں میں بلوچستان کی خود مختاری اور سیاسی حقوق کے لیے تحریکیں چلائی گئیں تھیں۔ تعجب کی بات ہے کہ ہر تحریک کا مرحلہ پانچ چھ سال تک رہتا ہے۔ان تحریکوں کے دوران مسلح گوریلا کاروایاں کی گئیں۔ جواب میں بلوچ رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پرگرفتاریاں ہوئیں اور  فوجی کارروایاں کی گئیں۔بلوچ آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔ رہنماؤں کو سزائیں ہوئیں۔بعد میں حالات بدلے یا حکمراں بدلے تو حکمت عملی بھی بدل گئی۔ عام معافی کا اعلان ہوتا رہا۔ کچھ عرصے کے لیے تحریک کی شدت  میں کمی آجاتی تھی۔ یوں یہ سلسلہ چلتا رہا۔
بلوچستان کو پاکستان میں شامل کرنے کے لیے نہ اسمبلی سے ووٹ لیا گیا تھا اور نہ ہی خیبر پختونخوا کی طرح ریفرینڈم منعقد ہوا تھا۔ بلوچ رہنما اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ہم پاکستان میں شامل تو ہو رہے تھے مگرپوچھ بھی لیا جاتا۔
پہلی قوم پرست تحریک خان آف قلات نے چلائی تھی۔خان آف قلات نے  بلوچ سرداروں سے حلف لیا اور قلات کی آزادی کا اعلان کیا۔بلوچ پہاڑوں پر چلے گئے۔خان آف قلات کی یہ تحریک 1958سے 1962 تک لڑائی  کے طور پرپہاڑوں پر لڑی جاتی رہی۔ ایوب خان  چونکہ سویلین لبادے میں آنا چاہتے تھے اورانتخابات کراکے منتخب صدر بننا اور ملک کو آئین دینا چاہتے تھے، لہٰذا انہوں نے اس شورش کو ٹھنڈا کرنے کا سوچا۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ شاہ ایرن کی بھی یہ فرمائش تھی۔1962 میں ایوب خان نے بلوچوں سے معاہدہ کیا کہ اگر وہ ہتھیار پھینک دیں تو عام معافی دی جائے گی۔ مگرا یوب خان اس معاہدے اور وعدے پر قائم نہ رہ سکے۔ جب سردار لڑاکو پہاڑوں سے اترے تو ایوب خان کی حکومت نے انہیں گرفتار کیا اور سزائیں دیں۔سات رہنماؤں کو پھانسی دی گئی۔ایک سال کے وقفے کے بعد  ایک بار پھر بلوچ رہنماؤں نواب اکبر بگٹی، عطاء اللہ مینگل، اور میر غوث بخش بزنجو کو گرفتار کر لیا گیا۔ان کے ساتھ ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کر کے انہیں اذیتیں دی گئی۔مری،  بگٹی اور جھالاون میں فوجی کاروائی 1969 ع تک، یعنی جب تک ایوب خان تھے جاری رہی۔ یہ بلوچ قوم پرستوں کی دوسری بڑی تحریک کہلاتی ہے۔
 ساٹھ کے عشرے کی بڑی سیاسی حقیقت بلوچ، پختوں اور سندھی قوم پرستوں اور کمیونسٹوں کا ایک پلیٹ فارم پر یعنی نیشنل عوامی پارٹی  میں  کٹھا ہو نا تھا۔ ملک گیر تحریک کے نتیجے میں ایوب خان کو جاناپڑا۔ ان کی جگہ پر جنرل یحیٰ خان آئے تو انہوں نے بلوچوں کو عام معافی دی۔ اسی زمانے میں سندھی قوم پرستوں نے جی ایم سید کی سربراہی میں ملک گیر قوم پرست پارٹی سے علحدگی اختیار کر لی۔
یحیٰ خان نے جب عام انتخابات کرائے تو نیشنل عوامی پارٹی بلوچستان سے جیت کر آئی۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ جیت کر آئی۔ مگر اسٹبلشمنٹ نے اس اکثریتی پارٹی عوامی لیگ کوا قتدارحوالے کرنے سے انکار کردیا۔ یوں مشرقی پاکستان مسلح  جدوجہد کے بعد علحدہ ہو گیا۔  اگرچہ حالات خاصے خراب تھے مگرتب بلوچوں نے کوئی تحریک نہیں چلائی۔ باقی بچے ہوئے پاکستان کے نئے سیٹ میں سرادر عطاء اللہ مینگل وزیراعلیٰ اور غوث بخش بزنجو گورنر مقرر ہوئے۔صرف ایک سال بعد 1973 ع میں بھٹو نے مینگل کی حکو مت برطرف کرد دی۔اس مرتبہ بگٹی نے قوم پرستوں کا ساتھ دینے کے بجائے حکومت کا ساتھ دیا اور وہ بلوچستان کے گورنر مقرر ہوئے۔یوں ایک بلوچ قوم پرست نے اپنی راہ جدا کر لی۔
بھٹو دور میں بلوچ قوم پرست کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں اور فوجی کاروائی کی گئی۔جو 1977 ع تک جاری رہی۔ بھٹو کی حکومت ختم  ہوئی اور ملک میں مارشل لا نافذ کردیا گیا۔ ضیا نے بھی عام معافی کا اعلان کیا۔1978 نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں کو رہا کردیا گیا جو کہ حیدرآباد میں سازش کیس کا سامنا کر رہے تھے۔ پہاڑوں میں چھپے لوگ باہر نکل آئے اور افغانستان چلے گئے۔اس مرحلے پر نیشنل عوامی پارٹی جو  اب بلوچ اور پختون قوم پرستوں کی پارٹی تھی ٹوٹ گئی۔ ہر بلوچ رہنما نے اپنی اپنی پارٹی بنا لی۔ اسی کے ساتھ بلوچ قوم پرستی کے اہم ستونوں مینگل، مری اور بزنجومیں بھی اختلافات ابھر کر سامنے آ گئے۔ نواب خیربخش مری اپنے ساتھیوں سمیت  افغانستان نقل مکانی کر گئے۔ان کی واپسی افغانستان میں نجیب اللہ کی کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد ہوئی۔کہا جاتا ہے کہ مری قبیلے کی آبادکاری اوربحالی کے لیے حکومت نے فنڈز بھی دیئے۔
 ضیا کے دور حکومت میں قوم پرست ملک سے باہر چلے گئے اور یہ تحریک ٹھنڈی رہی۔ میر غوث بخش بزنجو واحد بلوچ لیڈر تھے جو سرگرم رہے اور ایم آر ڈی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔1988 ع  کے انتخابات کے نتیجے میں بلوچ قوم پرستوں کی ایک نئی قیادت یعنی نوجوان بھی سامنے آئے۔ اس سے پہلے صرف ڈاکٹر حئی بلوچ تھے لیکن اب عبدالمالک بلوچ  درجوں دیگر رہنما  بھی تھے۔ یہ سب متوسط طبقے یا نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے تھے جو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ذریعے ابھرے تھے۔انہی انتخابات کے نتیجے میں پہلے نواب اکبر بگٹی وزیراعلیٰ بنے ان کی حکومت کو برطرف کردیا گیا۔ بعد میں اختر مینگل کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ ان کی حکومت کو بھی ختم کردیا گیا۔ ساٹھ کے عشرے سے 1997 تک جب بھی بلوچ قوم پرستوں نے پاکستانی سیاست کا حصہ بننے کی کوشش کی تو ان کی حکومتیں برطرف کردی گئیں اور انہیں گرفتار کیا گیا۔
بلوچ سیاستدانوں کو شکایت ہے کہ پاکستان کی اسٹبلشمنٹ ان کی وفادری پر شک کرتی ہے۔ اوران کے خلاف جھوٹے مقدمات بناتے ہیں اور پیسے دے کر چھوٹے سرداروں کو رہنما بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
 سردار خیربخش مری، عطاء اللہ مینگل، نواب اکبر بگٹی اور غوث بخش بزنجو  ایک دوسرے سے علحدہ ہوئے  اور  اپنی اپنی پارٹیاں بنائیں اس کے ساتھ ایک نیا مظہر بھی سامنے آیا۔ بلوچ اسٹوڈنٹس  آرگنائزیشن سے  ابھرنے والے کیڈر کی بھی خاصی تعدادتھی جو ان روایتی بلوچ رہنماؤں سے اختلاف کرتے ہیں۔ خیال ہے کہ یہی نوجوان قیادت  سخت گیر موقف رکھتی ہے۔ اب  صورتحال یہ ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی اس وقت بلوچ قوم پرست تحریک کی قیادت کر رہی ہے۔
بلوچسیاست پر نظر رکھنے والے اختر مینگل کے موجودہ موقف کو سردار عطاء اللہ مینگل کے اس موقف کا تسلسل ہی قرار دے رہے  جب بڑے مینگل پاکستان آئے۔ تب انہوں نے پنجاب کو بھائی کہا تھا۔ ایک سال قبل سادار عطاء اللہ مینگل نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا  کہ آزادی پسندوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ آزادی حاصل بھی کر سکتے ہیں یا نہیں؟ سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اس آزادی کو برقرار بھی رکھ سکتے ہیں؟  بعد میں ایک اور انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات کے بائکاٹ کے حق میں نہیں تھے،لیکن پارٹی کا فیصلہ تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ سودمند نہیں تھا۔ 2010 ع میں  مینگل نے کہا کہ پنجابیوں کو مارنا غلط ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ  شہباز شریف نے بھی ان سے ربطہ کیا تھا کہ وہ  پنجابیوں کے قتل عام کو روکیں۔

اختر مینگل نے نواز شریف، عمران خان،  اور جماعت اسلامی کے ا میر منور حسن سے بھی ملاقاتیں کیں۔تاہم انہوں نے ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔ نواز شریف، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے بھی بلوچستان کو حقوق دینے اور وہاں پر حالات بہتر بنانے کی بات کی ہے۔نواز شریف ابھی اقتدار میں نہیں ہیں۔  لہٰذا وہ مثبت باتیں کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ جب اقتدار میں آئیں گے تو کیاوہ  اسٹبلشمنٹ سے ہٹ کر بات کریں گے؟  فی الحال نواز شریف بلوچستان میں عوامی رابطہ مہم چلانے سے گریزاں ہیں۔وہ بلوچستان پر کل جماعتی کانفرنس بلانا چاہ رہے تھے وہ بھی عین وقت پرملتوی کردی گئی۔
 اسلام آباد  میں موجودتجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اختر مینگل کی واپسی خوش آئند ہے اور اس بڑے موقعہ کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ سپریم کورٹ کو آخری موقعہ دیا ہے کہ وہ دیکھے کہ بلوچستان کا مستقبل پاکستان کے ساتھ ہے یا نہیں۔ تجزیہ نگاروں کا  خیال ہے کہ عدلیہ کے حالیہ ریمارکس کہ سیاسی جماعتیں بلوچستان کا مسئلہ حل کریں۔ بلوچستان میں حالات بہتر ہو رہے ہیں، ان کے گزشتہ دو روز کے ریمارکس سے مختلف ہیں۔ جو عدلیہ نے عسکری اداروں کا عدالت میں جواب داخل ہونے سے پہلے دیئے تھے۔جہاں تک سیاسی جماعتوں کے رول کی بات ہے، جس کی عدلیہ نے اپنے ریمارکس میں نشاندہی کی ہے،کیا واقعی سیاسی جماعتوں کا کوئی بڑا رول اس پورے قصے میں بنتا بھی ہے؟ اگر اس بات کو لے بھی لیا جائے، پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر باقی بڑی جماعتوں نے مینگل کے موقف کی حمایت کی ہے۔
 ابھی تک بلوچستان کے معاملے پرعدلیہ کی طرف سے جو بھی کاررائی ہوئی ہے اس میں  ریمارکس زیادہ ہیں اور احکامات کم ہی ہیں۔ اور اگر عدلیہ کوئی احکامات جاری بھی کرتی ہے تو کیا عدلیہ کے احکامات پر عمل ہوگا؟   
 اختر مینگل کی باتوں کی خاصے حلقوں سے حمایت اور واہ واہ بھی ہوئی۔ مگرطاقتور اداروں نے اختر مینگل کے الزامات کی تردید کی ہے۔عسکری قوتیں کہتی ہیں کہ خفیہ اداروں کے کوئی  ڈیتھ اسکواڈ نہیں۔ لاپتہ افراد ایجنسیوں کے پاس نہیں۔  بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ اختر مینگل بات چیت کے لیے تیار ہیں، کیا مسلح جدوجہد کرنے والی تنظیموں  سے بات چیت کا کوئی راستہ ہے؟  
ٓ موجودہ قوم پرست تحریک کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ اختر مینگل کے اس عمل سے ناخوش ہیں۔ بلوچ نیشنل موومنٹ جو خود کو موجودہ جدوجہد کا اہم حصہ ہونے کی دعویدار ہے  اس کے مطابق اختر مینگل ڈیل کے ذریعے پاکستان آئے ہیں۔ ان کے خیال میں عالمی حالات بلوچوں کے حق میں ہیں۔ اس تنظیم کے رہنما خان آف قلات آغا سلیمان کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس میں بلوچ اشو اجاگر ہوا، اقوام متحدہ نے بھی نوٹس لیا۔ تو سپریم کورٹ اپنی ریاست بچانے کے لیے متحرک ہو گئی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں جانا  بلوچ تحریک کونقصان دینے کے برابر ہے۔ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ جو بھی واپس پاکستان آیا فوج یا اسٹبلشمنٹ سے ڈیل کرکے آیا۔بلوچستان کی تاریخ بھی  یہ بتاتی ہے۔ مینگل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ بلوچوں کو صرف بندوق چلانی آتی ہے۔یہ سیاسی لوگ نہیں ہیں۔ مگر مسلح جدوجہد میں مصروف گروپ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں بلوچستان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی باتیں کرنا خود فریبی ہے۔ 

بلوچستان کا مسئلہ غیر سیاسی و غیر جمہوری سوچ اورغیر حکیمانہ اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ریاستی ادارے اختر مینگل کے پیش کردہ مطالبات کو یکسر مسترد کر رہے ہیں اس پر کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ پہاڑوں پر موجود تحریک چلانے والے مینگل کی بات کو تحریک کے حق میں نہیں سمجھ رہے ہیں۔لگتا ہے کہ اس  تمام مشق کے باوجود ہم وہیں کھڑے ہیں۔ عملاکوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

No comments:

Post a Comment