Jul 20, 201-punjab kia chahwy- 2
پنجاب چاہوے کی؟ 2
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ملکی صورتحال ابتر ہو رہی ہے۔کیونکہ سرکاری ادارے حکومت سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کا اختیار روز بروز کم ہو رہا ہے۔ پاکستان نے امریکہ کی دس سالہ دہشتگردی کے خلاف پراکسی جنگ لڑی۔ مگر حالات وہی نظر آرہے ہیں جو نوے کے عشرے میں افغان جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد پیدا ہوئے تھے اورپاکستان کی امداد کے حوالے سے پریسلر ترمیم آگئی تھی۔نوے کا عشرے میں ہی پنجاب امریکی امداد سے کھو بیٹھا تھا۔اپنی اہمیت جتانے کے لیے ایٹمی دھماکہ بھی کیا۔ لیکن اسکی ایک بھی نہیں مانی گئی اور اسے امداد کے ساتھ ساتھ عارضی طور پر سیاسی اقتدار سے بھی محروم ہوناپڑا۔البتہ آئی جے آئی بنا کر اسٹیبلشمنٹ صرف پنجاب میں عارضی طور پر اقتدار اپنے پاس رکھنے میں کامیاب ہو گئی۔ آج پھرامریکہ نے 90 کی طرح اسٹبلشمنٹ پر دباؤبڑھا دیا ہے اور امریکی امداد کوافغان، پاک امریکہ تعلقات، دہشتگردی کے حوالے سے بعض ٹھوس اورمناسب اقدامات سے مشروط کیا گیا ہے۔
سیاسی بحران اس امر کی چغلی ہے کہ سیاسی اقتدار اسٹیبلشمنٹ کے پاس نہیں رہاتاہم اداروں پر مسلط ہونے کی وجہ سے وہ سیاسی اقتدار (حکومت) حاصل کرنے کے جتن کر رہی ہے مگر انہیں راستہ نہیں مل رہا ہے۔بلکہ دن بدن یہ راستہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ بنگلادیش ماڈل جس کو اب چیف جسٹس خارج از امکان قرار دے چکے ہیں، اس ماڈل کولانے کے لیے فوج اور عدلیہ دونوں کا ساتھ ہونا ضروری تھا۔مگر یہاں صدر کی موجودگی میں بنگلادیش ماڈل لانا مشکل ہو رہا ہے۔ اس کے لیے پہلے صدر کا اہتمام ہونا ضروری ہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے حالیہ بیان کہ پارلیمنٹ پر کسی بھی حملے کا دفاع کیا جائے گا۔ اس نے صورتحال مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔
پنجاب کو جمہوریت سوٹ نہیں کرتی؟
موجودہ حالات میں جب پارلیمنٹ موجود ہے جمہوری سیٹ قائم ہے ایسے میں پنجاب کی اشرافیہ محسوس کرتی ہے کہ اسکو اقتدار نہیں مل رہا ہے۔اب اس کے پاس براہ راست مداخلت کے بغیر کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ اگر منصفانہ اور آزادانہ انتخابات ہوتے ہیں تو بھی امکان کم ہی ہے۔ کیونکہ پہلی مرتبہ پنجاب کے سیاسی مینڈیٹ باقاعدہ تقسیم ہو چکا ہے۔ اور اس تقسیم کی دراڑیں اب زیادہ واضح ہیں۔باقی قوموں کا مینڈیٹ (پنجاب کے ڈر کی وجہ سے) تھوڑے سے فرق کے ساتھ وہی رہنے کا امکان ہے۔ایسے میں پنجاب نے سیاسی اقتدار یعنی وزیر اعظم، صدر، کابینہ اور پارلیمنٹ حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ اختلافات کی نذرہو جائے گی۔بلکہ بیرونی دباؤ کی وجہ سے پائدار ثابت نہیں ہوگی۔جب تک وہ اہم امریکی مطالبات نہیں مان لیتی۔سیاسی سیٹ اپ میں پنجاب کے لیے ناممکن ہے کہ وہ سیاسی اقتدار حاصل کر لے۔کیونکہ پنجاب کی 90 جنرل نشستیں تقسیم ہو چکی ہیں۔جبکہ دوسرے صوبوں اور سراءٗیکیوں کے پاس 182 نشستیں ہیں جو موجودہ سیٹ اپ کو بچانے کے کام آئیں گی۔ان حالات میں پنجاب کو جمہوریت سوٹ نہیں کر رہی ہے بلکل اسی طرح سے جیسے بنگال کے ہوتے ہوئے نہیں سوٹ کر رہی تھی۔اب اس کے پاس یہ راستہ ہے کہ کوئی انجنیئرڈ انتخابات ہوں، یا دوسرے صوبوں کا مینڈیٹ بھی تقسیم ہو۔
پراکسی لیڈرشپ
دوسرے صوبوں کا مینڈیٹ تقسیم کرنے کے لیے پنجاب کے اداروں کی کوشش ہے کہ وہاں پراکسی قیادت پیدا کرے۔خاص طور پرسندھ میں پیپلز پارٹی کو کمزور کرے۔ سندھ میں ممتاز بھٹو کی نواز لیگ میں شمولیت اور جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ کے ساتھ انتخابی اتحاد اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔سندھ میں کبھی بھی نوازشریف نے پارٹی کو منظم کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اب کر رہے ہیں۔انہوں نے پراکسی لیڈرشپ پر ہی انحصار کیا۔سندھ میں ماضی میں بھی یہ نسخہ جام صادق علی اور لیاقت جتوئی کی شکل میں آزمایا جا چکا ہے۔لہٰذا نواز لیگ بطور پارٹی وہ پیپلز پارٹی کے متبادل کے طور پر نہیں ابھر سکی۔ سندھ میں پراکسی قیادت کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکتی۔
یہی وجہ ہے کہ نواز شریف سندھ کے لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ سندھ پنجاب اتحاد کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں جس کی بنیاد بھٹو نے ڈالی تھی۔ وہ اس چکر میں گڑہی خدابخش کی بھی یاترا کر چکے ہیں تاکہ سندھ خواہ پنجاب دونوں میں یہ تاثر دے سکیں کہ وہ اس اتحاد کا تسلسل ہیں۔انہیں اس تسلسل پر اس وجہ سے بھی آنا پڑا کہ پنجاب کی دوسری ہ جماعت مسلم لیگ (ق) جو کبھی ان کی پارٹی کا حصہ تھی وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کرکے سندھ پنجاب اتحاد والے فارمولا کو مضبوط کئے ہوئے ہے اور اس حصے کے نمبر بھی لے رہی ہے۔یہ وہی فارمولا ہے جس کے تحت مسلم لیگ چٹھہ اور مسلم لیگ ملک قاسم گروپ، نوابزادہ نصراللہ پیپلز پارٹی کے اتحادی رہے۔
سندھ کے ساتھ بنانے کے چکر میں نواز شریف نے ایم کیو ایم سے بھی بیر لیا ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات کو ترجیح دی کہ روایتی مہاجر پنجابی اتحاد کے بجائے سندھ کے قوم پرستوں سے اتحاد کرے۔ اور سندھ پنجاب اتحاد کا دکھاوا دے۔ یہ اس لیے ضروری ہو گیاتھا کہ اسٹبلشمنٹ نے جب پنجاب میں ہر حالت میں سیاسی اقتدار اپنے پاس رکھنا چاہا تو اس نے دراصل سندھ پنجاب اتحاد توڑ دیا تھا۔ اور پیپلز پارٹی کا نیا تعارف صرف سندھ کی یا سندھی پارٹی کے طور پر کرایا۔
سرائیکی کارڈ اور دیگر نئے مظاہر
ملک کے دوسرے صوبوں اور علاقوں میں نئی قوتیں اور نئے حقائق و مظاہر پیدا ہوئے ہیں۔جن کا ادراک کرنا از حد ضروری ہے۔سرائیکی علاقہ اور ووٹر پہلی مرتبہ بہت اہم ہو گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کے بعدسرائیکی کارڈ بڑی چالاکی سے استعمال کر رہی ہے۔اگر فوجی مداخلت کے دن پورے ہو چکے ہیں (اگرچہ اس بات پر کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں) تو پھر پنجاب کی اشرافیہ اپنی موجودہ پالیسیوں، نقطہ نظر کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے فارغ ہو جائے گی۔ فاٹا، ہزارہ وغیرہ کو پنجاب کی اشرافیہ روایتی طور پر ہینڈل نہیں کر سکتی۔ اصولی طور پریہ بات پنجاب کوریاستی اداروں میں اکثریت اور بالادستی کی وجہ قابل قبول کرلینی چاہئے۔مگر تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے میں رہی ہیں۔آج بھی نواز شریف باری کی بات کرتے ہیں اور ھساب لگا کر بتاتے ہیں کہ ہم نے اتنے سال حکومت کی اور پیپلز پارٹی نے اتنے سال۔ لہٰذا اب حکومت میں آنے کی ان کی باری ہے وغیرہ وغیرہ۔1973کے بعدسندھی اشرافیہ نے ادارتی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر صاف اور شفاف انتخابات پر انحصار کیا ہے۔وہ 1973 سے 2012 تک تقریبا 17 سال اقتدار میں رہی ہے۔جبکہ آئین اور قانون کو توڑ کر 22 سال پنجاب نے سیاسی اقتدار اپنے پاس رکھا۔
کوئی راستہ ہے؟
موجودہ صورتحال بہت نازک ہے۔کیونکہ پنجاب کی اشرافیہ ہو یا اسٹبلشمنٹ دونوں کے پاس آپشن محدود ہیں۔1990 کے مقابلے میں
2012 انہیں عالمی اور علاقائی صورتحال کی وجہ سے بھاری پڑ رہا ہے۔حال ہی میں سندھی اور پنجابی اشرافیہ اسی دباؤ کے نتیجے میں چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر سمجھوتہ کیا ہے۔اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ نگراں حکومت اور انتخابات کرانے کی تاریخ پر دونوں پارٹیوں کے درمیان سمجھوتہ ہو جائے۔بہرحال ایسا سمجھوتہ قابل دید ہوگا۔کیونکہ اس سمجھوتے کے تحت فیڈریشن کچھ آگے بڑھ سکے گی۔
بہرحال پنجاب کو مکمل سیاسی اقتداراپنے ہاتھ میں رکھنے اور ریاستی اداروں میں بالادستی رکھنے کے عمل اور تصور سے ہاتھ اٹھانا ہوگا۔اور باقی صوبوں سے نیا معاہدہ کرنا ہوگا۔
No comments:
Post a Comment