Thu, Mar 14, 2013 at 11:51 AM
”جج آرہا ہے۔“
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
”جج آرہا ہے۔“ اس جملے نے سندھ میں نئی کہاوتوں، لطیفوں اور فکشن کو جنم دیا ہے۔ پرنٹ میڈیا سے سوشل میڈیا تک اورعام گفتگوسے محفلوں تک چرچہ ہے۔ صرف مذاق اور لطیفے ہی بلکہ کئی قصے اور کہانیوں نے بھی جنم لیا ہے۔ صوبے میں ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ برادری ہے۔میڈیا اور عام بات چیت میں کی وجہ سے بعض اوقات استاد اپنا پیشہ چھپانے لگے ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر مختلف مقامات پر مقامی ججز چھاپے مار رہے ہیں۔ اسکولوں کو اطاقوں، مویشیوں کے باڑوں سے خالی کریا جاسکا۔ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ اس کارروائی کے بعد کئی دلچسپ اور تکلیف د دہ حقائق سامنے آئے ہیں۔
موجودہ عدالتی کارروائی کا پس منظر کچھ اس طرح سے ہے۔ ایک عشرے سی ضلع مٹیاری کے رہائشی رحمت اللہ بلال بند اسکول کھولنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے محکمہ تعلیم کے افسران سے ملاقاتیں کیں اور تحریری طور پر درخواستیں بھی دیں۔ مگر نتیجہ صفر۔
وہ مایوس نہیں ہوئے۔ انہوں نے ہالا میں احتجاج شروع کیا۔ کبھی بھوک ہڑتال تو کبھی پیدل لانگ مارچ بھی کیا، ایک مرحلے پر انہوں بطور احتجاج سڑک پر بچوں کو پڑھانا بھی شروع کیا۔
کچھ عرصے کے بعد انہوں نے بند اسکول کھلوانے کی جدوجہد کا دائرہ بڑھا کر صوبے کی سطح پر کردیا۔ اور فلاحی کام کرنے والی تنظیموں سے اپنے علاقے کے بند اسکولوں کی تفصیلات جمع کرنا شروع کیں۔ ثبوت کے طور پر انہوں نے بعض اسکولوں کی تصاویر بھی ہاتھ کرلیں۔ بعد میں ایک سال کے دوران پرنٹ میڈیا میں شایع ہونے والی خبروں کے تراشے جمع کئے۔
یہ تفصیلات انہوں نے ضلع کی عد التوں سے لیکر سپریم کورٹ تک سب کو بھیجے۔ انہوں نے کسی وکیل کی مدد نہیں لی۔ بلکہ خود عدالت میں پیش ہوئے۔ بالآخر سپریم کورٹ کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ سپریم کورٹ نے تین رکنی بنچ قائم کردی جس نے کوئی ایک ماہ قبل سندھ کے تمام ضلع ججز کو ہدایات جاری کیں کہ وہ موقع پر خود جا کر جائزہ لیں اور ایک ماہ کے اندر تفصیلات عدالت میں جمع کرائیں۔
ججز کے چھاپوں کے دوران جو کچھ ہو رہا ہے وہ میڈیا میں دکھایاجا رہا ہے۔
ججز کے چھاپوں کے دوران کئی دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں،بعض اسکولوں میں گھر بنائے گئے ہیں تو کئی میں اناج کے گودام ہیں تو کہیں مویشی باندھے ہوئے۔ مویشیوں کے باڑوں میں تبدیل کئے گئے تھے وہاں پولیس تعینات کردی گئی ہے۔
عدالت کی یہکارروائی قابل ستائش ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان عدالتی کارروایوں سے صوبے کی تعلیم ہمیشہ کے لیے ٹھیک ہو جائے گی؟ یا وقتی طور پر رلیف ملے گا۔ یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کہ ہمارے پاس تعلیمی نظام کا جتنا بیڑا غرق ہے اس کو اتنا جلد بچالینا محال لگتا ہے۔ اس کے لیے عدلیہ کے ساتھ حکومت، افسران، اساتذہ، گاؤں کے معززین کے تعاون کی ضرورت ہے۔
مختلف اضلاع میں کئی ایسے اسکول ملے جو یا تو مال کے باڑے بنے ہوئے تھے یا وڈیروں کی اوطاق۔ یہ صورتحال ہر تحصیل اور ہر یونین کونسل میں ہے۔ جہاں پر چھاپہ مارنے والی ٹیم کی رسائی بھی نہیں ہوسکتی۔ چھاپوں کے دوران غیر حاضر اساتذہ کو معطل بھی کیا گیا ہے۔ٹھل میں شادی کی دعوت میں کھانا چھوڑ کر استاد اسکول پہنچ گئے۔
غیرحاضر اساتذہ کی بہت بڑی تعداد ایسی بھی جو عدالتی چھاپوں کا سن کر اپنے کاروبار چھوڑ کر اسکول پہنچ گئی تھی اور خود کو ایماندار سرکاری ملازمین میں شامل کرالیا۔ یوں مستقل طور پر غیر حاضر رہنے والے خود کو بے قصور ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس صورتحال کو دیکھ کر کم امکان ہے کہ عدالت کے اس حکم کے بعد بھی سندھ کی تعلیم مکمل طور پر بحال ہو جائے گی۔
خود عدلیہ کے پاس بھی کئی مقدمات زیر سماعت ہیں۔عدلیہ کب تک تعلیم کے معاملات کی مانیٹرنگ کریگی؟ اور یہ بھی کہ ہر محکمہ کے معاملات کو عدلیہ کے ذریعے ہی چلایا جائیگا؟ ہمارے ملک میں ہوتا یہ رہا ہے کہ جب بھی کسی اچھے بھلے ادارے کو اس کے دائرہ کار سے زیادہ استعمال کیا گیا یا ذمہ داری دی گئی تو کچھ ہی عرصے بعد یہ ادارہ بھیاپنی حیثیت کھو بیٹھا اور باقی نظام میں مزید خرابیاں پیدا ہوئیں۔
محکمہ تعلیم کے افسران جو اس پورے معاملے میں برابر کے شریک ہیں اور ماہانہ بھتہ لے کر اساتذہ کو اسکولوں سے غیر حاضر رہنے میں ساتھ دیتے ہیں۔ اس نظام کو ویزا سسٹم کا نام دیا گیا ہے۔ تاحال کسی تعلیمی افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ یہ افسران گھوسٹ اساتذہ کو یقین دہانی کرارہے ہیں کہ یہ مہینے ڈیڑھ کا قصہ ہے۔ اس کے بعد معاملات معمول پر آجائیں گے۔ اور پرانا سلسلہ چلتا رہے گا۔
اساتذہ کی تنظیمیں جو تعلیمی نظام کی بہتری کی دعوا کرتی رہی ہیں۔ وہ منظر سے غائب ہیں۔ عام حلقوں کا خیال ہے کہ اگر حکومت یہ کارروائی کرتی تو اب تک بطور احتجاج پورا سندھ بند ہوچکا ہوتا۔ صرف اتنا ہی نہیں سندھ کے ایجنڈا کی بات کرنے والے کہاں ہیں؟ وہ ایک بھی غیر حاضر استاد کو اسکول میں آکر پڑھانے پر مجبور نہ کر سکے۔
اگرتعلیم کی تباہی کے اسباب تلاش کئے جائیں تو پتہ چلے گا کہ یہ سلسلہ جونیجو دور حکومت سے شروع ہوا۔ اور بعد میں ہر دور حکومت میں پروان چڑھتا رہا۔ اب بطور ایک سسٹم کے ہمارے سامنے ہے جس میں محکمہ کے ایک چھوٹے ملازم سے لیکر اعلیٰ افسران تک سب اس حمام میں ننگے ہیں۔تعلیمی افسران کا تقرر، ان کا احتساب، اساتذہ کی غیر شفاف بھرتیاں، اسکولوں کی بلاجواز اور سیاسی بنیادوں پر منظوری، نے اب صورتحال کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے۔
تعلیم کی تباہی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وزراء، مشیروں اور وڈیروں کے بیٹے اور پوتے نجی تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ باقی غریبوں کے بچے سرکاری اسکولوں کے رحم کرم پر ہیں۔ لہٰذا سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو غریب کی تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تعلیم کا بیڑا غرق ہو اس کی انہیں فکر نہیں۔ اس صورتحال میں صرف غریب طبقے کی ہی تعلیم تباہی کی طرف جارہی ہے۔
ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے۔ استاد کا رتبہ کم ہو گیا ہے۔ اسکو ملزم کے طر ح سمجھا جانے لگے گا۔تعلیم کے لیے استاد کا کردار مثالی ہوگا تبھی اچھی تعلیم دی جا سکے گی۔ یہ رتبہ بحال کرنے کے استاداور ان کی تنظیمیں کای کردار ادا کرتی ہیں اور حکومت کیا اقدامات لیتی ہے؟ اس سوال کا بھی حل ڈھونڈنا چاہئے۔ اور ذمہ داروں کو ابھی سے منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔
تعلیم نظام درست کرنا کسی ایک فرد یا ایک ادارے کی بس کی بات نہیں۔ کیونکہ یہاں پورا آوے کا آوا ہی بگڑاہوا ہے۔ اسکول کے چپراسی اور استاد سے لے کر افسران اور اعلیٰ انتظامیہ تک کرپشن کے عادی ہوچکے ہیں۔ اس لیے کوئی کسی کا احتساب نہیں کرتا۔ وزراء کے احکامات اور ہدایات دور کی بات عدالتی حکم بھی صرف اخباری سرخیوں تک محدود ہوکر رہ جاتے ہیں۔ کوئی بھی عمل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے
تعلیم کی اصلاح کے لیے کسی نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
No comments:
Post a Comment