Monday, 9 March 2020

انتخابات سے پہلے - Sep 27, 2012

Thu, Sep 27, 2012, 11:46 AM
انتخابات سے پہلے کی صورتحال
میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی۔۔
پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی مدت مکمل کرنے کو ہے۔آئینی طور پر نئے سال کی پہلی سہ ماہی میں انتخابات کا انعقاد ہونا ہے۔واقعات اور سرگرمیاں بتاتی ہیں کہ کوئی بھی پارٹی انتخابات کی تیاری نہیں کر رہی۔ اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ مقرر وقت پر انتخابات نہیں ہو رہے ہیں۔دوسرا یہ کہ بعض جماعتیں یا مقتدرہ حلقے  انتخابات سے پہلے یہ طے کرانا چاہ رہے ہیں کہ اقتدار کس کو اور کن شرائط پر دینا ہے۔
ابھی تک عام پاکستانی کے مسائل سیاسی جماعتوں کے بحث اور ایجنڈے کا حصہ نہیں بن پائے ہیں۔ جب کہ ملکی صورتحال معاشی،  خواہ امن وامان اور گورننس کے حوالے سے خاصی خراب ہے۔ تیل ہو یا  بجلی کی قیمتیں یا آٹا اور دیگر اشیائے خوردنی سب کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور معیار گر رہا ہے۔ ایک طوفان بدتمیزی ہے کہ لوگوں کو ادائگی کے باوجود  معیاری  اشیاء اور سہولیات حاصل نہیں۔ملکی معیشت شدید بحران کا شکار ہے۔وہ ایک ایسی تنگ گلی میں پھنس چکی ہے۔ جس کے تمام  ترقی کے اشاریئے  بدترین ہیں۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق  اگر خوراک کی قیمتوں میں تیس فیصد اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان میں  ایک کروڑ افراد کی غربت میں اضافہ ہوگا۔معاشی حالات بہتر نہ ہونے کی صورت میں کساد بازاری بڑھ سکتی ہے۔اس کساد بازاری سے یورپ کے کئی ممالک اسپین اٹلی وغیرہ متاثر ہوئے ہیں۔2011-10 میں ملک میں 43 فیصد گھروں کے معاشی حالات خراب ہوئے اور سولہ فیصد کے بہتر ہوئے۔
 روزگار کے مواقع سکڑ رہے ہیں۔نتیجے میں ملکی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔معاشی حالات روز بروز بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔جس کی بحالی کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔
 ملک کے کئی علاقے میں حکومت کا کنٹرول نہیں۔لوگوں کو بے دردی سے مارا جا رہا ہے۔ جن کی نہ کوئی داد ہے نہ فریاد۔اس پر طرہ یہ کہ لسانی و فرقیوارانہ تشدد بھی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ایسے میں حکومتی مشنری کی ناکامی صاف نظر آتی ہے۔
حضور پاک کے شان میں گستاخی  والی فلم  پر احتجاج کے دوران  جوہونے والے  واقعات اور ان کے سیاسی نظام پر  مرتب ہونیوالے اثرات کو بھی ماہرین اہم قرار دے رہے ہیں۔
پاک امریکہ تعلقات براہ راست ملکی سیاست پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔امریکہ  افغانستان سے 2014 میں فوجوں کی واپسی کا پروگرام  بنائے ہوئے تھا۔ لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس کے بعد اس علاقے میں  صورتحال اس کے ہاتھوں سے نکل نہ جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ  امریکہ کے صدراتی انتخابات بھی سر پر ہیں، جس میں صدر اباما  کی جماعت اپنے حصے میں کچھ کارنامے دکھانا چاہتی ہے۔ان دو اہداف نے بھی پاکستان کی سیاست پر اثرات ڈالے ہیں۔
یہ ہے وہ منظر نامہ جس میں آئندہ انتخابات منعقد ہونے ہیں۔ انتخابات ان حالات کی وجہ سے ملک اوریہاں کے باشندوں  کے لیے اہم ہیں۔یہ انتخابات فیصلہ کرینگے کہ مکل دلدل سے باہر آئیگا یا اسی میں پھنسا رہے گا۔
اسٹبلشمنٹ اور اور اس کے  مددگاروں نے ملک کے عوام کی مخصوص  ذہنی، سیاسی ساخت، اور کلچر دیا ہے۔جو حقائق  اور ترقی سے دور  ہے۔ اور عوام کو خوابوں کے ساتھ ساتھ ہواؤں میں لے جاتا ہے۔ معاملہ افواہوں پر چلتا ہے۔جدید میڈیا بھی اس صورتحال کو تھیک نہیں کر سکی ہے، بلکہ اکثر صورتوں میں جدید میڈیا نے اس رجحان کو بڑھایا ہے اور اس کو پختہ کرنے میں رول ادا کیا ہے۔ لہٰذا کئی معاملات پر پھر حکومت کی  مخالفت ہو یا کسی پارٹی کی حمایت  یا کوئی اور واقعہ عوام کی رائے اور ردعمل  بغیر سوچے سمجھے ہوتا ہے۔
ملک کی معاشی اور سیاسی استحکام ہی  ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتی ہے۔ پاکستان میں نہایت ہی پیچیدہ معاشی اور سیاسی نظام رائج ہے۔جہاں فوجی مداخلت کی اطلاع  ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈال دیتی ہے۔تاہم اس بار اس کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔ خاص طور پر سپریم کورٹ کے اس اعلان کے بعد کہ کوئی بھی غیر آئین مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔سیاسی حلقے تقریبا اس پر متفق ہیں کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اس قسم کی مہم جوئی میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
  پیپلز پارٹی کی ناقص کارکردگی اور اسکی اورمخالفت کی وجہ سے مختلف آپشن بنے۔ ان میں سے زیادہ  ترآپشنزگراس روٹ سے نہیں آئے تھے بلکہ  ماضی کی طرح  بنائے گئے۔ یہ فضا بنی کہ آئندہ حکومت دائیں بازو کی ہونی ہے۔ نواز شریف پرملک کے بعض مقتدرہ حلقوں کو تحفظات ہیں۔  لہٰذادوسرا سیاسی آپشن عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف ہے۔ یہ تاثر بھی دیا گیا کہ اگر  آئندہ انتخابات  کے نتیجے میں منقسم پارلیمنٹ اور اسمبلیاں آنی ہیں تو تحریک انصاف تیسرا برا آپشن بن کر ابھر سکتی ہے۔ یعنی مشرف کا فارمولہ کہ ملک پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے بغیر بھی چلایا جا سکتا ہے۔ مگر عمران کی غلطیوں کی وجہ سے وہ عوام میں اپنی مقبولیت کھو بیٹھے ہیں۔دیکھا جائے تو عمران خان کء پاس ملک ک ودرپیش پیچیدہ مسائل  کا کوئی حل نہیں ہے۔اب یہ تاثر بن رہا ہے کہ تحریک انصاف کا تجربہ کچھ اور تو ہو سکتا ہے مگر متبادل نہیں۔  ویسے بھی پاکستان اب تجربوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔یہاں یہ  بات قابل ذکر ہے کہ اپوزیشن میں سے مسلم لیگ (ن) واحد پارٹی ہے  جو نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔جبکہ تحریک انصاف  ایک عرصے تک  التوا چاہ رہی ہے، بظاہر  اس کا یہ موقف ہے کہ جب تک نئی نسل اس کے لیے تیار ہو جائے۔مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت 1990 کی دہائی میں دو مرتبہ حکومت میں رہ چکی ہے۔ اس جماعت کی کیا خوبیاں اور خامیاں ہیں لوگ اس بات سے اچھی طرح باخبر ہیں۔
 آئندہ حکومت دائیں بازو کی ہوگی کے تاثر کو مسلسل  پختہ کرتے رہنے  اور گزشتہ جمع کے واقعات کے باوجودملک کی فضا  بالکل ایسی بھی نہٰن بنی ہے کہ لازمی طور پر دایاں بازو  اور اس کے تصورات حاوی ہو جائیں اور آئندہ حکومت بھی اس مکتبہ فکر کی بنے۔ اصل میں ان  واقعات  نے اعتدال پسند اور روشن خیال مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ چاہے وہ کسی بھی جگہ پر ہوں، ان کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ معاملات کسی اور ڈگر پر جارہے ہیں۔یہ ڈگر کہیں ملک اور عوام کی بہتری میں نہیں جاتی۔کیا  اس کا مطلب  پیپلز پارٹی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں؟بظاہر تو ایسا ہی لگ رہا ہے۔اگر کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے تو اس کے لیے بھی مقتدرہ حلقے ہی ذمہ دار ہیں جنہوں نے کوئی دوسرا جمہوری اور اعتدال پسند آپشن بننے نہیں دیا۔ اور ہر حوالے سے ملک کی سیاست اور سوچ کو  انہی دو دائروں میں پھنسائے رکھا۔اس صورتحال میں پیپلز پارٹی کو تبدیل کرنا پڑے گا۔اس کو  کلوزڈ کلب کے بجائے ایک جمہوری پارٹی بنانا پڑے گا۔ جس میں نئے لوگ، نئے رجحانات  کے لیے بھی جگہ ہو۔ پارٹی کو سماج میں ہ گزشتہ  دو دہائیوں میں  رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ادراک کرنا پڑے گا۔اس کے بعد کہیں جا کر سماج میں موجود  روشن خیال لوگوں کا رول بنتا ہے۔ورنہ موجودہ حالات میں  اس حلقے کے لیے  پارٹی میں کوئی جگہ ہی نہیں  ہے۔نوشتہ دیوار سب کو پڑھ لینی چاہئے۔یہ تبدیلی خود پیپلز پارٹی کی قیادت شاید ہی  لے۔ اس لیے  بااثر حلقے  وہ خواہ ملک کے اندر ہوں یا باہراس تبدیلی کے لیے اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment