Sat, Oct 13, 2012 at 10:40 AM
یہ کالم اگر آج شایع کریں گے تو بڑا بروقت ہوگا۔بعد میں آؤٹ ڈیٹیڈ ہو جائے گا۔
سندھ میں تصادم کی طرف بڑھتے ہوئے حالات
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
بلدیاتی نظام پر تنازع کے بعد سندھ کے حالات جس نہج پرہیں کہ یہاں کے عوام ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بند ہونے کی صورتحال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سندھ کے سیاسی حلقوں کے احتجاج اور بعد میں نامعلوم افراد کی جانب سے سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور بعض وزراء اور ایم پی ایز کے گھروں پر دھماکوں کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی ان حملوں کا الزام قوم پرستوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خود صدر زرداری کا بھی کہنا ہے کہ یہ حملے پیپلز پارٹی کے خلاف سازش کا تسلسل ہیں۔
جب نئے بلدیاتی نظام سے متعلق بل اسمبلی سے منظور ہوا تھا تب سے اس بات کا خدشہ ظاہر کای جا رہا تھا کہ بعض قوتیں اس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔مگر افسوس کی بات ہے کہ اس طرف نہ حکومت نے اور نہ ہی احتجاج کرنے والوں نے کوئی توجہ دی۔بلکہ دونوں فریقین ایسی زبان استعمال کر رہے تھے جس سے مزید آگ بھڑک اٹھے۔
اب دونوں نے زور آزمائی کے طور پر جلسے منعقد کر رہی ہیں۔پیپلز پارٹی 15 اکتوبر کو حیدرآباد میں جلسہ کر رہی ہے۔سندھ ترقی پسند پارٹی 17 اکتوبر کو خواتین کی کانفرنس بلائی ہے اور 19 اکتوبر کو سندھ بچاؤ کمیٹی کا بہت بڑا جلسہ منعقد ہنا ہے۔سندھ بچایو کمیٹی نے پیپلز پارٹی کے جلسے والے دن پہیہ جام ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کی اپیل کی ہے۔قوم پرستوں کی کوشش ہے کہ پیپلز پارٹی کا جلسہ کامیاب نہ ہو۔ پیپلز پارٹی اس جلسے کو ہر حال میں کامیاب بنانا چاہ رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ یہ دونوں فریق زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لہٰذا دونوں میں تصادم کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اہل دانش حلقے اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ذرا سی اشتعال انگیزی یا غلطی کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتی ہے۔
پیپلز پارٹی یہ جلسہ قوم پرستوں اور صوبے کے وسیع تر حلقوں کی جانب سے شروع کی گئی احتجاجی مہم کے جوااب اور توڑ میں منعقد کی جا رہی ہے۔ تاکہ پیپلز پارٹی دنیا کو یہ دکھا سکے کہ متنازع بل کے باوجود عوام پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔یہ بل ایم کیو ایم کو خوش کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا۔ جو حیدرآباد اور کراچی میں میئروں کے لیے زیادہ اختیارات چاہ رہی تھی۔ اور اس بل کے ذریعے انہیں وزیراعلیٰ کے بھی اختیارات مل گئے ہیں۔ سندھ بولنے والی آبادی اس بل کی شدید مخالف کر رہی ہے۔انہیں خدشہ ہے کہ اس بل سے دوہرا نظام رائج ہو جائے گا جو کہ عملا سندھ کی تقسیم ہے۔
صوبے بھر میں ہونے والے احتجاج میں آبادی کے قوم پرست اور اسمبلی میں موجود پارٹیوں کے ساتھ ساتھ وسیع تر حلقے بشمول دانشوروں کے شامل ہوئے۔جس سے بظاہر لگ رہا تھا کہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔اسی پر پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔ بعض حلقے یہاں تک کہنے لگے کہ”سندھ پیپلز پارٹی کے ہاتھ سے جا چکا ہے اور وہ اپنا مینڈیٹ کھو چکی ہے۔“
اس صورتحال نے پیپلز پارٹی کو مجبور کیا کہ وہ ان احتجاجوں کے توڑ کے طور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرے اور یہ بتائے کہ لوگ اس کے ساتھ ہیں۔خود وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے لافاظ ہیں کہ یہ جلسہ کارکنوں کو آئندہ انتخابت کے بارے میں رہنما لائن مہیا کرے گا۔ مطلب اس جلسے کرنے کا مقصد ووٹرز سے رجوع کرنا ہے۔
بعض سیاسی تجزیہ نگار اس جلسے کو پی پی کا دوسری بڑی غلطی قرار دے رہے ہیں۔ پہلی غلطی عوام کی خواہشات کے برعکس متنازع قانون بنانا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کا یہ قدم صوبے کی متفقہ رائے عامہ کے خلاف ہے، کیونکہ یہ صرف قوم پرستوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سندھ کے لوگوں کا مطالبہ ہے۔ادیب شاعر اور عام آدمی بھی قوم پرست جماعتوں کی حمایت کے بغیر جلوس نکال رہے ہیں۔ بلکہ بعض صورتوں میں قوم پرست جماعتیں ان احتجاج کرنے والوں کے پیچھے چل رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا یہ اقدام عوام کی خواہشات کے برعکس ہے اورعوام نے جو جدوجہد کی ہے اس پر پانی پھیرنے کی کوشش ہے۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے صدر سید جلال محمود شاہ جو کہ تحریک چلانے والی کمیٹی سندھ بچایو کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ سندھ کے عوام نیا بلدیاتی نظام مسترد کر چکے ہیں اب حکومت کو ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہئے۔اور جلسہ کر کے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش نہ کرے۔کو اس تحریک میں سرگرم عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ سندھ کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ سندھ کے لوگوں نے تحریک کے ذریعے جو حاصلات کی ہیں وہ ضایع کردے۔ جیئے سندھ کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ اس تاریخ پر سندھ کے لوگوں کو یوم سیاہ منانا چاہئے۔
بعض ہوش مند حلقے کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی درمیانہ راستہ نکالا جائے۔اور پی پی کو اس تکلیف دہ صورتحال سے نکالنے کے لیے تجاویز دے رہے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم جس کی ایماء پر یہ نظام لایا گیا ہے۔ وہ اپنے موقف میں نرمی لے آئے۔ اگر وہ پیپلز پارٹی واقعی پنا اتحادی سمجھتی ہے تو ایسا کران پڑے گا۔اور سندھ کے لوگوں کے نقطہ نظر کو سمونا پڑے گا۔قانونداں اور سندھ بایو کمیٹی کے رکن بیریسٹر ضمیر گھمرو کا کہنا ہے کہ بل کی تین شقیں اور ایک شیڈیول منسوخ کرنے سے جھگڑا ختم ہو سکتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ ایم یو ایم اپنی ہٹ دھرمی چھوڑے۔کیا یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوگی؟ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک خوش فہمی ہے کیونکہ ایم کیو ایم سے بات چیت کے لیے بیچ میں کوئی شخصیت پل کے طور پر نہیں جبکہ باقی تمام سیاسی جماعتوں کا معاملہ اس طرح نہیں۔
سندھ میں غیر یقینی کی سی صورتحال ہے۔مقبول پارٹی اور مقبول مطالبہ ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔یہ مقبول مطالبہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت سے بھی گہرا ہے کیونکہ سندھ کے لوگ دو معاملات میں بہت ہی حساس ہیں۔ ایک زبان دوسرے زمین۔ خود پیپلز پارٹی کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ عوامی سوچ ہے کہ یہ سندھی پارٹی ہے۔
اب بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض قوتیں سندھ کے ان دو سیاسی مظاہر کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
یہ تضاد کس طرح سے حل ہو سکتا ہے؟ اس پر سندھ کے اہل دانش سیاسی محفلوں اور میڈیا میں بھی میں بحث کر رہے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ خود پیپلز پارٹی کو اس تصادم اور فاصلے کا احساس ہو اور وہ ”سدھر“ جائے۔ لیکن اکثر کی رائے ہے کہ ایسا سوچنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے برابر ہے۔ تجزیہ نگار اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ مثالی صورت تو یہ کہ متبادل سیاسی جماعت موجود ہو۔ لیکن سندھ کے حالات میں ایسی کوئی چیز مسقبل قریب میں نظر نہیں آتی، لہٰذا اب ایک ہی آپشن ہے کہ عبوری دور میں کوئی ایسا مکینزم یا فورم بنایاجائے جس میں مشترکہ narrative رکھنے والے گروپ جمع ہوں اور جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔ ان کے خیال میں یہ وہی ماڈل ہے جوفلسطین اور جنوبی افریقہ میں اپنایا گیا تھا جہاں بہت سارے قوم پرست گروپ تھے مگر کم سے کم پروگرام پر وسیع تراتحاد بنائے ہوئے تھے۔سندھ کی صورتحال میں شاید یہ بھی عملا کے بجائے آئیڈیل ہی لگتے ہیں۔ کیونکہ یہاں پر ابھی تک قوم پرست اتحاد کے ہوتے ہوئے بھی الگ الگ سرگرمیاں کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو برداشت نہیں کررہے ہیں۔ سندھ شاید ون یونٹ کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کے ماڈل کا انتظار رکر ہا ہے جب عوام نے سیاستدانوں کے رویوں سے تنگ آکر نئی سیاسی قیادت پیدا کر لی تھی۔
یہ کالم اگر آج شایع کریں گے تو بڑا بروقت ہوگا۔بعد میں آؤٹ ڈیٹیڈ ہو جائے گا۔
سندھ میں تصادم کی طرف بڑھتے ہوئے حالات
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
بلدیاتی نظام پر تنازع کے بعد سندھ کے حالات جس نہج پرہیں کہ یہاں کے عوام ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بند ہونے کی صورتحال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سندھ کے سیاسی حلقوں کے احتجاج اور بعد میں نامعلوم افراد کی جانب سے سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور بعض وزراء اور ایم پی ایز کے گھروں پر دھماکوں کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی ان حملوں کا الزام قوم پرستوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خود صدر زرداری کا بھی کہنا ہے کہ یہ حملے پیپلز پارٹی کے خلاف سازش کا تسلسل ہیں۔
جب نئے بلدیاتی نظام سے متعلق بل اسمبلی سے منظور ہوا تھا تب سے اس بات کا خدشہ ظاہر کای جا رہا تھا کہ بعض قوتیں اس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔مگر افسوس کی بات ہے کہ اس طرف نہ حکومت نے اور نہ ہی احتجاج کرنے والوں نے کوئی توجہ دی۔بلکہ دونوں فریقین ایسی زبان استعمال کر رہے تھے جس سے مزید آگ بھڑک اٹھے۔
اب دونوں نے زور آزمائی کے طور پر جلسے منعقد کر رہی ہیں۔پیپلز پارٹی 15 اکتوبر کو حیدرآباد میں جلسہ کر رہی ہے۔سندھ ترقی پسند پارٹی 17 اکتوبر کو خواتین کی کانفرنس بلائی ہے اور 19 اکتوبر کو سندھ بچاؤ کمیٹی کا بہت بڑا جلسہ منعقد ہنا ہے۔سندھ بچایو کمیٹی نے پیپلز پارٹی کے جلسے والے دن پہیہ جام ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کی اپیل کی ہے۔قوم پرستوں کی کوشش ہے کہ پیپلز پارٹی کا جلسہ کامیاب نہ ہو۔ پیپلز پارٹی اس جلسے کو ہر حال میں کامیاب بنانا چاہ رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ یہ دونوں فریق زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لہٰذا دونوں میں تصادم کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اہل دانش حلقے اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ذرا سی اشتعال انگیزی یا غلطی کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتی ہے۔
پیپلز پارٹی یہ جلسہ قوم پرستوں اور صوبے کے وسیع تر حلقوں کی جانب سے شروع کی گئی احتجاجی مہم کے جوااب اور توڑ میں منعقد کی جا رہی ہے۔ تاکہ پیپلز پارٹی دنیا کو یہ دکھا سکے کہ متنازع بل کے باوجود عوام پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔یہ بل ایم کیو ایم کو خوش کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا۔ جو حیدرآباد اور کراچی میں میئروں کے لیے زیادہ اختیارات چاہ رہی تھی۔ اور اس بل کے ذریعے انہیں وزیراعلیٰ کے بھی اختیارات مل گئے ہیں۔ سندھ بولنے والی آبادی اس بل کی شدید مخالف کر رہی ہے۔انہیں خدشہ ہے کہ اس بل سے دوہرا نظام رائج ہو جائے گا جو کہ عملا سندھ کی تقسیم ہے۔
صوبے بھر میں ہونے والے احتجاج میں آبادی کے قوم پرست اور اسمبلی میں موجود پارٹیوں کے ساتھ ساتھ وسیع تر حلقے بشمول دانشوروں کے شامل ہوئے۔جس سے بظاہر لگ رہا تھا کہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔اسی پر پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔ بعض حلقے یہاں تک کہنے لگے کہ”سندھ پیپلز پارٹی کے ہاتھ سے جا چکا ہے اور وہ اپنا مینڈیٹ کھو چکی ہے۔“
اس صورتحال نے پیپلز پارٹی کو مجبور کیا کہ وہ ان احتجاجوں کے توڑ کے طور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرے اور یہ بتائے کہ لوگ اس کے ساتھ ہیں۔خود وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے لافاظ ہیں کہ یہ جلسہ کارکنوں کو آئندہ انتخابت کے بارے میں رہنما لائن مہیا کرے گا۔ مطلب اس جلسے کرنے کا مقصد ووٹرز سے رجوع کرنا ہے۔
بعض سیاسی تجزیہ نگار اس جلسے کو پی پی کا دوسری بڑی غلطی قرار دے رہے ہیں۔ پہلی غلطی عوام کی خواہشات کے برعکس متنازع قانون بنانا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کا یہ قدم صوبے کی متفقہ رائے عامہ کے خلاف ہے، کیونکہ یہ صرف قوم پرستوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سندھ کے لوگوں کا مطالبہ ہے۔ادیب شاعر اور عام آدمی بھی قوم پرست جماعتوں کی حمایت کے بغیر جلوس نکال رہے ہیں۔ بلکہ بعض صورتوں میں قوم پرست جماعتیں ان احتجاج کرنے والوں کے پیچھے چل رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا یہ اقدام عوام کی خواہشات کے برعکس ہے اورعوام نے جو جدوجہد کی ہے اس پر پانی پھیرنے کی کوشش ہے۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے صدر سید جلال محمود شاہ جو کہ تحریک چلانے والی کمیٹی سندھ بچایو کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ سندھ کے عوام نیا بلدیاتی نظام مسترد کر چکے ہیں اب حکومت کو ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہئے۔اور جلسہ کر کے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش نہ کرے۔کو اس تحریک میں سرگرم عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ سندھ کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ سندھ کے لوگوں نے تحریک کے ذریعے جو حاصلات کی ہیں وہ ضایع کردے۔ جیئے سندھ کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ اس تاریخ پر سندھ کے لوگوں کو یوم سیاہ منانا چاہئے۔
بعض ہوش مند حلقے کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی درمیانہ راستہ نکالا جائے۔اور پی پی کو اس تکلیف دہ صورتحال سے نکالنے کے لیے تجاویز دے رہے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم جس کی ایماء پر یہ نظام لایا گیا ہے۔ وہ اپنے موقف میں نرمی لے آئے۔ اگر وہ پیپلز پارٹی واقعی پنا اتحادی سمجھتی ہے تو ایسا کران پڑے گا۔اور سندھ کے لوگوں کے نقطہ نظر کو سمونا پڑے گا۔قانونداں اور سندھ بایو کمیٹی کے رکن بیریسٹر ضمیر گھمرو کا کہنا ہے کہ بل کی تین شقیں اور ایک شیڈیول منسوخ کرنے سے جھگڑا ختم ہو سکتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ ایم یو ایم اپنی ہٹ دھرمی چھوڑے۔کیا یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوگی؟ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک خوش فہمی ہے کیونکہ ایم کیو ایم سے بات چیت کے لیے بیچ میں کوئی شخصیت پل کے طور پر نہیں جبکہ باقی تمام سیاسی جماعتوں کا معاملہ اس طرح نہیں۔
سندھ میں غیر یقینی کی سی صورتحال ہے۔مقبول پارٹی اور مقبول مطالبہ ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔یہ مقبول مطالبہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت سے بھی گہرا ہے کیونکہ سندھ کے لوگ دو معاملات میں بہت ہی حساس ہیں۔ ایک زبان دوسرے زمین۔ خود پیپلز پارٹی کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ عوامی سوچ ہے کہ یہ سندھی پارٹی ہے۔
اب بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض قوتیں سندھ کے ان دو سیاسی مظاہر کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
یہ تضاد کس طرح سے حل ہو سکتا ہے؟ اس پر سندھ کے اہل دانش سیاسی محفلوں اور میڈیا میں بھی میں بحث کر رہے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ خود پیپلز پارٹی کو اس تصادم اور فاصلے کا احساس ہو اور وہ ”سدھر“ جائے۔ لیکن اکثر کی رائے ہے کہ ایسا سوچنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے برابر ہے۔ تجزیہ نگار اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ مثالی صورت تو یہ کہ متبادل سیاسی جماعت موجود ہو۔ لیکن سندھ کے حالات میں ایسی کوئی چیز مسقبل قریب میں نظر نہیں آتی، لہٰذا اب ایک ہی آپشن ہے کہ عبوری دور میں کوئی ایسا مکینزم یا فورم بنایاجائے جس میں مشترکہ narrative رکھنے والے گروپ جمع ہوں اور جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔ ان کے خیال میں یہ وہی ماڈل ہے جوفلسطین اور جنوبی افریقہ میں اپنایا گیا تھا جہاں بہت سارے قوم پرست گروپ تھے مگر کم سے کم پروگرام پر وسیع تراتحاد بنائے ہوئے تھے۔سندھ کی صورتحال میں شاید یہ بھی عملا کے بجائے آئیڈیل ہی لگتے ہیں۔ کیونکہ یہاں پر ابھی تک قوم پرست اتحاد کے ہوتے ہوئے بھی الگ الگ سرگرمیاں کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو برداشت نہیں کررہے ہیں۔ سندھ شاید ون یونٹ کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کے ماڈل کا انتظار رکر ہا ہے جب عوام نے سیاستدانوں کے رویوں سے تنگ آکر نئی سیاسی قیادت پیدا کر لی تھی۔
No comments:
Post a Comment