Sat, Apr 13, 2013 at 9:38 AM
پیپلزپارٹی کے منیجرز
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
انتخابات کے اعلان سے پہلے ہی یہ چرچہ عام تھا کہ انتخابات ملتوی ہو جائیں گے۔ یہ غیر یقینی صورتحال آج تک چل رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے سے ایک بار پھر تجزیہ نگاروں اور سیاسی حلقوں میں چرچہ ہے کہ انتخابات ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے ہیں۔کاغذات نامزدگی کی بے رحمانہ جانچ پڑتال کے دوران یہ بھی سننے کو ملا کہ ”امیدوار میدان میں ہونگے تو انتخابات ہونگے۔“بہرحال جانچ پڑتال کے دوران چار ہزار امیدواروں کو نااہل قرار دیا گیا۔ جبکہ کہ باقی میدان میں ہیں جس میں سب بڑے نام بھی شامل ہیں۔گزشتہ روز آرمی چیف جنرل کیانی نے انکشاف کیا کہ بعض عناصر انتخابات کے مخالف ہیں۔آرمی چیف کے اس بیان سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ بعض عناصر انتخابات کے خلاف سرگرم تھے۔لگتا ہے کہ اب یہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
انتخابات کے بارے میں غیریقینی صورتحال اوراور انتخابی عمل کے دوران بعض پیچیدگیوں کے باعث کوئی بھی پارٹی انتخابی مہم شروع نہیں کر سکی ہے۔اگرچہ اس کے لیے بڑی پارٹیوں کے بعض اندرونی اور تنظیمی معاملات بھی ہیں۔مگر اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ انتخابات کے نتائج کیا آئیں گے اور یہ بھی کہ طاقتور قوتیں کونسے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ان دونوں سوالات کے جوابات جتنے مبہم اور غیر یقینی ہیں اتنا ہی انتخابات کا عمل بنتا ہوادکھائی نہیں دیتا۔اس وقت انتخابات صرف میڈیا میں نظر آتے ہیں یا پھر الیکشن کمیشن کے دفاتر میں۔ووٹر اور کارکنوں تک یہ مہم تاحال پہنچ نہیں پائی ہے۔
پولنگ میں باقی ایک ماہ ہے۔اتنے مختصر مدت میں انتخابی مہم کیسے چلائی جائے گی؟ووٹر تک امیدوار اور سیاسی پارٹیاں کیسے پہنچ پائیں گی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اصل حکمران انتخابی مہم کو بالکل محدود رکھنا چاہ رہے ہیں۔اور اس مہم کو کچھ اس انداز سے رکھنا چاہ رہے ہیں کہ بڑے پیمانے پر عوام کی موبلائزیشن نہ ہو۔انتخابی مہم میں عوامی مطالبات اور عوامی نعرے بھی نہ گونجیں۔اگر یہ دونوں چیزیں ہوئیں تو سویا ہوا عوام جاگ اٹھے گا۔ اور اس کو کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا بلکہ وہ کچھ نہ کچھ لے ہی لے گا۔لہٰذا بہتر ہے کہ اسے سویا ہوا ہی رہنے دیا جائے۔
عجیب بات ہے کہ الیکشن کمیشن سے لیکر سیاسی جماعتوں تک اور تجزیہ نگاروں سے لیکر اہم ریاستی اداروں تک سبھی حالیہ انتخابات کو نہایت ہی اہم قرار دے رہے ہیں۔مگر ان اہم انتخابات میں عوام کی شرکت اور موبلائزیشن سے بچا جارہا ہے۔کیونکہ میڈیا کی آگہی کے دور میں یہ باتیں بہت بھاری ہو جاتیں۔
انتخابات کیا نتائج دیں؟ لگتا ہے کہ اس بارے میں کچھ تبدیل ہونے کا امکان ہے۔اسلام آباد میں ایک سے زائد رخوں میں سوچ چل رہی ہے۔جس کا عکس نیچے بھی پڑ رہا ہے۔ اقتدار کے آسرے میں گھات لگا کر بیٹھے ہوئے حضرات خود کو پارٹی کی پابندیوں اور فلور کراسنگ کے قانون سے بچنے کے لیے خود کو آزاد رکھ رہے ہیں۔ گھوٹکی کے سردار علی محمد مہر نے پیپلز پارٹی کے نامزد ہیں مگر انہوں نے فارم میں پارٹی کے نام کا خانہ خالی چھوڑا ہے۔ وہ آزاد امیدوار ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ واپس کردی تھی۔ اس مرتبہ انہوں نے ایسا کرنے کے بجائے فارم میں پارٹی کا نام نہیں لکھا۔ٹھٹہ کے شیرازی اقتدار کی خوشبو سونگھنے کے ماہر ہیں۔ انہوں نے ابھی گزشتہ دنوں پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ مگر دو روز قبل پارٹی چھوڑ دی۔ اور اب وہ بھی آزاد امیدوار ہیں۔لگتا ہے کہ ان بھوتاروں (وڈیروں) کو کسی حکیم نے نسخہ بتادیا ہے کہ کوئی غیر پی پی سیٹ اپ بھی آسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ میں آجکل کم از کام پانچ وزیراعلیٰ گھوم رہے ہیں۔ ان کی مثال بارہویں کھلارٰ کی سی ہے۔ کو یہ آس لگائے بیٹھا رہتا ہے کہ ٹیم کے اصل کھلاڑیوں میں سے کسی کی آنکھ پھوٹے یا سر ٹوٹے تاکہ اسے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقعہ ملے۔ یہ سب وزیر اعلیٰ کے امیدوار غیر پی پی سیٹ اپ کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں۔ شاید ان کی دعاؤں میں اثر نہ ہو۔
پیپلز پارٹی اس بات سے آگاہ تھی۔ لہٰذا اس نے سندھ میں سیاست کا ایسا جال پھیلایا کہ ہر چلنے پھرنے جیسے یعنی بااثر شخص کو پارٹی میں لے آنے کی کوشش کی، تاکہ اگر کوئی چاہے تو بھی صوبے میں اتنی آسانی سے غیر پی پی سیٹ اپ نہ بن سکے۔حالانکہ کہ یہ سوچ غلط تھی۔یہ ضرور ہوا کہ آج بھی پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ امیدواروں کی درخواستیں ملی ہیں۔ اگر بڑوں کو غیر پی پی سیٹ اپ لانا ہی ہے تو کسی کو بھی لا کر بٹھایا جاسکتا ہے۔ آخر ضیاء الحق نے جونیجو کو بھی ڈھونڈ نکالا تھا۔ارباب رحیم سے پیپیلز پارٹی کا رابطہ اور سید خورشید شاہ کی ملاقات اسی پس منظر میں ہے۔ سیاسی مارکیٹ میں یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ میڈم فریال تالپور اربابوں کے گاؤں جانے والی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت ارباب سے کسی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے خلاف ہے۔ مگر پارٹی قیادت ان کی مخالفت کو خاطر میں لائے بغیر آگے قدم بڑھا رہی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ پارٹی قیادت نے مہروں اور شیروزیوں کے تجربے سے نہیں سیکھا۔اور وہی تجربہ تھرپارکر میں کرنا چاہتی ہے۔ اس کا نتیجہ وہی نکلنا ہے جو گھوٹکی اور ٹھٹہ میں نکلا۔
آجکل پیپلز پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ وہاں لیڈرشپ کم اور مینجمنٹ زیادہ ہے۔لگتا ہے کہ پارٹی کو لیڈر نہیں بلکہ منیجر چلا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی سیاسی پارٹی ہے۔ اس کو چلانے کے لیے سیاستدان ہی چاہئے۔ جو عوام کو ساتھ لے کر چلے۔ اس کیر ائے کا احترام کرے۔ سیاسی لیڈر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ لوگ اس سے انسپائر ہوں اور اس کے پیچھے چلنے کو تیار ہوں۔ صدر آصف زرادری صدر کے عہدے اور بلاول زرداری سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ سندھ میں پیپلز اپرٹی کے پاس اور کوئی لیڈر نہیں ہے جو لوگوں کو انسپائر کرے اور لوگ اس کے پیچھے چلیں۔ لوگ منیجروں کی بات اور فیصلے ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ منیجر لوگوں کو ہانک کر تو لے جا سکتے ہیں مگر اپنے پیچھے رضاکارانہ طور پر نہیں چلا سکتے۔
لوگوں کی ناراضگی اک اظہار مختلف اضلاع میں وڈیروں کے گروپوں اور لابیوں کا پیدا ہونا اور پارٹی کے فیصلوں سے خود کو بالاتر رکھنا ہمارے سامنے ہے۔ جس وڈیٰرے کو ٹکٹ نہیں ملی وہ احتجاج کر رہا ہے۔ اور احتجاج بھی پارٹی یا اس کے کسی فورم میں نہیں بلکہ سڑک پر سرعام کر رہاے ہے۔ اس سے پارٹی کے خلاف ماحول بن رہا ہے اور پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسی نشست ہو جہاں پر پارٹی اپنے نامزد امیدوار کے بارے میں کارکنوں اور مقامی قیادت کو مطمئن کر سکی ہو،لہٰذا ٹکٹ یافتہ امیدوار پارٹی تنظیم اور کارکنوں سے بالاتر ہیں۔ یہ لوگ پارٹی کی تنظیم یا عوام کے سامنے جوابدہ ہونے کے بجائے منیجروں کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اس پورے قصے میں پارٹی بطور تنظیم گائب ہے۔ یہ سب پارٹی کی تظیم سازی نہ کرنے اور مقامی تنظیم کو اہمیت نہ دینے کا نتیجہ ہے۔
موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ پارٹی اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے۔موجودہ حکمت عملی نے پارٹی کو ایسے مقام پر کھڑا کیا ہے کہ سب کچھ اس کے ہاتھ سے ریتی کی طرح بہتا ہوا نظر آرہا ہے۔ آج پارٹی کو بڑا چیلنج ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی منیجروں کے ذریعے سیاست کرنے کے بجائے لیڈرشپ سے یہ کام کرانے کا کام کب کرتی ہے۔ وقت کم ہے اور چیلنج بڑا ہے۔
No comments:
Post a Comment