Wed, Aug 29, 2012, 11:58 PM
مصلحت اور 22دن کی مہلت
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سوئس حکام کو خط لکھنے کا معاملہ اتنا طول کھینچ گیا ہے کہ اب میڈیا اور عوام میں اس کی دلچسپی بہت کم رہ گئی ہے سوائے اس کے کہ کوئی بہت بڑی بات نہ ہو۔ جنوری میں جب عدالت نے این آر اور کیس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل کرنے کا معاملہ اٹھایا تھا تو میڈیا اور سیاسی جماعتوں نے بڑی ہائیپ پیدا کردی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ حکومت ابھی جارہی ہے۔ ائں ہفتے فیصلہ آنے اور اعلان ہونے والا ہے۔ایسا ہونے والا ہے ویسا ہونے والا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔اب سپریم کورٹ سے 18 ستمبر کی تاریخ ملی ہے جب ایک سال کے دوران پانچویں مرتبہ منتخب وزیر اعظم عدالت میں پیش ہونگے۔اس تمام قصے کے باوجود ابھی تک یہ طے نہیں کہ خط لکھا بھی جائے گا یا نہیں۔بظاہر حکومت اور عدلیہ دونوں اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
عدالت میں وزیراعظم کی پیشی کے موقع پر وہی منظر تھے جو وزیراعظم گیلانی کی پیشی کے وقت تھے۔ان سب باتوں کے باوجود تمام حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ عدالت کا رویہ موجودہ وزیر اعظم پرویز اشرف کی طرف نرم تھا جبکہ گیلانی کے وقت یہ رویہ سخت یا جارحانہ تھا۔اب نئے وزیراعظم کو عدالت کچھ وقت اور اسپیس دینے لگی ہے۔ اس بات کا اظہار چوہدری اعتزاز احسن نے بھی کیا۔
اسلام آباد میں موجود حلقوں کا کہنا ہے کہ رویوں میں یہ تبدیلی پس پردہ بعض مذاکرات کا ہی نتیجہ ہو سکتی ہے۔ورنہ یہ سب کچھ ممکن نہیں تھا۔ ابھی ہفتہ دس دن پہلے تک ماحول بہت گرم تھا۔اٹارنی جنرل بہت سخت موقف لیے ہوئے تھے۔ظاہر کہ اٹارنی جنرل یہ موقف اپنی صوابدید پر نہیں کر سکتے تھے۔عدلیہ کے ریمارکس بھی ذرا سخت تھے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وفاق میں موجود پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعتوں نے اس ضمن میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ لگتا ہے کہ مقتدرہ حلقوں اور عدلیہ تک بات پہنچائی گئی کہ اگر یہی گرما گرمی رہی تو تمام سسٹم بیٹھ جائے گا۔ملک میں انارکی کی طرف چلا جائیگا۔لہٰذا دونوں ادارے تحمل، وسیع القبلی اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں۔کچھ صورتحال یوں بنے کہ فیصلوں میں ذاتی یا رنجش کا رنگ نہ ملے۔ انا کا مسئلہ بنانے سے عدلیہ کے وقار اور فیصلوں پر بھی چھینٹے پڑ سکتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات عدلیہ کی جانب پیپلز پارٹی کے رویے میں سختی تھی۔ حکومت اور پیپلز پارٹی کے رہنما جو پہلے ذاتی محفلوں میں عدلیہ کے باے میں منفی ریمارکس دے رہے تھے، مگر پبلک میں عدلیہ کے بارے میں محتاط رویہ رکھے ہوئے تھے۔ لیکن بعد میں حکومت نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی۔اور یہ کہنا شروع کیا کہ عدلیہ کا رویہ پیپلز پارٹی کی جانب مخالفانہ اور نواز شریف کی جانب نرم ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا قتل بھی عدالتی قتل تھا۔ عدلیہ 1954ع سے لیکر 2009ع تک حکمرانوں اور آمروں کی تابع رہی ہے۔ اور ان آمروں کو قانونی طور پر تسلیم کرتے ہوئے انہیں آئین میں مطلوبہ ترامیم کرنے،منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کو جائز قرار دینے آئین سے بالاتر اقدامات کو ڈھانپنے کے لیے چادر فراہم کی۔ یہاں تک کہ عدلیہ سوائے ایک حکمنامے کے جنرل مشرف کے سب اقدامات کو جائز قرار دیتی۔ یہ بھی عدلیہ کا کمال تھا کہ غالم محمد کے اسیمبلی تحلیل کرنے کے حکمنامے سے لیکر مشرف تک کے غیرآئینی کاموں کو جائز قرار دیا گیا۔
پیپلز پارٹی یہ سب معاملات لیکر عوام میں پہنچی۔اس کے پاس آئینی جواز تو پہلے سے موجود تھا کہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے اور اس کے خلاف سوئس حکام کو خط نہیں لکھا جا سکتا۔ یہ بھی کہ حکومت دراصل آئین کی پاسداری کر رہی ہے۔اس سے ہٹ کر آئین کی جو بھی تشریحات اور توضیحات بیا ن کی جارہی ہیں وہ بھی دراصل آئین کی خلاف ورزی کے دائرے میں آتی ہیں۔ اس موقف کے ساتھ پیپلز پارٹی نے کچھ عرصہ سیاسی کام کیا اور میڈیا کے ذریعے عدلیہ کو جواب دیا۔ جس کو بعض حلقے پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں۔سندھ خواہ پنجاب سے پارٹی کے مختلف رہنماؤں کے بیانات آنے لگے۔سندھ کے وزیراطلاعات مسلسل عدلیہ کے حوالے سے اس موقف کے ساتھ بیانات دیتے رہے۔ یہاں تک کہ سندھ اسیمبلی کے اسپیکر نثاراحمد کھڑو بھی عام جلسوں میں یہ کہنے لگے کہ ججز کو بھی سزائیں ہو سکتی ہیں۔یوں ایک درجن کے قریب لیڈر اس مہم پر لگے رہے۔ان کا خیال تھا کہ عدلیہ اگر انہیں کسی ایسے بیان پر طلب کرتی ہے اور توہین عدالت کا مقدمہ چلاتی ہے تو غیرملکی میڈیا میں خاصا شور مچ جائے گا۔ یہ بات عدلیہ کے حق میں نہیں جائے گی کیونکہ عدلیہ اگر آٹھ دس لیڈروں کو توہین عدالت میں سزا سناتی ہے تو ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا جس طرح 1983ع میں ایم آرڈی تحریک کے سلسلے میں گرفتاریاں پیش کرنے کے لیے شروع ہوا تھا۔ہر لیڈر اور کارکن بالکل اس طرح سے سیاسی شہید یا”یوسف ثانی“ہونا پسند کرے گا جس طرح سے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی ہوئے۔ لہٰذا عدلیہ نے بظاہر ایسی بیان بازی کو اہمیت نہیں دی۔ اور کسی لیڈر پر ہاتھ بھی نہیں ڈالا۔ کیا پتہ عدلیہ کے خلاف کوئی ملک گیر تحریک نہ اٹھ کھڑی ہو۔
پیپلز پارٹی کی اس مہم نے اثر دکھایا کہ بعض’قومی کالم نگار‘ کہلانے والے حضرات کو بھی احساس ہو چلا کہ پیپلز پارٹی کے اس ”پروپیگنڈا“ کے بعد بعض غیرجانبدار حضرات بھی یہ کہنے لگے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے شکوے میں خاصا وزن ہے۔ عدلیہ کا رول واقعی ایسا رہا ہے۔پیپلز پارٹی کے ساتھ عدلیہ میں امتیازی سلوک ہوتا رہا ہے۔موجودہ دور میں عدالتوں میں حکومت کی مسلسل طلبی نے پورے سسٹم کو بٹھا دیا ہے اور پیپلز پارٹی کو یہ کہنے کا سنہری موقعہ مل رہا ہے کہ اسے عدلیہ اور میڈیا نے کام ہی نہیں کرنے دیا۔وغیرہ وغیرہ۔۔ اور ایسا کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ عدلیہ کو رویے میں تبدیلی لانی چاہئے۔
پیپلز پارٹی نے اس حکمت عملی پر جب عمل شروع کیا تب تک مخالف سیاستداں اور اینکرز اپنا تمام بارود ختم کر چکے تھے۔ ان کے پاس کوئی گر نہیں بچا تھا۔ عوام ڈیڑھ سال سے مسلسل ایک ہی ترانہ سن کر تھک چکے تھے بلکہ بقول شخصے عوام کے کان پک چکے تھے۔ ان کے پاس دوسرا موقف سننے کی گنجائش نکل آئی۔یوں اس حکمت عملی نے کام دکھایا۔ ایسے میں کسی نے ثالث عدالتی ذرائع کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی۔ لہٰذا مصلحت کی صورتحال بنی اور حکومت کو تین ہفتوں کی مہلت مل گئی۔
مگر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ابھی بھی عدلیہ کا زور ہے کہ خط لکھیں۔ پھر وزیراعظم لکھے یا کوئی اور ذمہ دار حکومتی اہلکار۔ مطلب سوئس حکام کا خط لکھنے کا معامل کبھی ڈرامائی طور پر تیز تو کبھی کچھ سست رفتاری سے اور مدھم سر میں چلتا رہے گا۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ خط لکھنے کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے۔اور اس کے لیے ڈرافٹ کی تیاری بھی ہو رہی ہے۔ خط میں یہ لکھا جائے گا کہ جسٹس قیوم نے جو خط سوئس حکام کو لکھا تھا وہ واپس لے لیا جائے۔ اس کے ساتھ اس بات پر خاصا زور دیا جائے گا کہ ملک کے آئین کے تحت صدر کو کسی فوداری مقدمے میں استثنیٰ حاصل ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
تجزیہ نگار اب یہ بات بھی کر رہے ہیں کہ عدلیہ ایک اور وزیراعظم کو گھر بھیجنے کے مضمرات سے آگاہ ہے۔ اس لیے وہ کوئی ایسا فیصلہ کرتے وقت تمام معاملات کو سامنے رکھے گی یہ حلقے سمجھتے ہیں کہ اگر وزیراعظم راجا کوبتایا گیا تو پیپلز پارٹی چپ کرکے نہیں بیٹھے گی۔ اور جذباتی فضا پیدا کرکے تحریک چلا سکتی ہے۔
حکومت کے خلاف اس عدالتی کارروائی کو دن، ہفتے اور ماہ گزر چکے ہیں۔ اور عوام بھی تھک چکے ہیں۔ اب تو انتخابات کی تاریخ بھی قریب آرہی ہے۔یہاں تک کہ پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیرداخلہ سندھ منظور وسان جنہیں حال ہی میں صدر زرداری منا کرآئے ہیں انہوں نے نوید دی ہے کہ انتخابات مارچ میں ہونگے۔ مطلب اسیمبلیاں اپنی مدت مکمل کر رہی ہیں اگر اس سے پہلے انتخابات کرائے جاتے ہیں تو فرق صرف تین ماہ کا ہے۔ اور ان تین ماہ کا رسک اور برائی خوامخواہ کون اٹھائے گا؟یہ بات تمام فریق سمجھتے ہیں۔
اب جو خبریں آرہی ہیں کہ نگراں سیٹ پر کچھ معاملات طے ہونے جارہے ہیں۔
تان آکر اسی پر ٹوٹتی ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں یا وقت سے پہلے نگراں سیٹ اپ کا کیاہوگا؟ کیا عدالت نگراں حکومت پر بھی زور دے گی کہ سوئس حکام کو خط لکھا جائے، یا یہ معاملہ نگراں حکومت سے پہلے کسی شکل میں نمٹا دیا جائے گا؟ یا یہ معاملہ نئی حکومت پر چھوڑ دیا جائے گا؟ یہ سب کچھ نگراں حکومت کی شکل اور انتخابات کے بعد کا نقشہ مقتدرہ حلقوں کے پاس کیا ہے اس پر منحصر ہے۔
مصلحت اور 22دن کی مہلت
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سوئس حکام کو خط لکھنے کا معاملہ اتنا طول کھینچ گیا ہے کہ اب میڈیا اور عوام میں اس کی دلچسپی بہت کم رہ گئی ہے سوائے اس کے کہ کوئی بہت بڑی بات نہ ہو۔ جنوری میں جب عدالت نے این آر اور کیس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل کرنے کا معاملہ اٹھایا تھا تو میڈیا اور سیاسی جماعتوں نے بڑی ہائیپ پیدا کردی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ حکومت ابھی جارہی ہے۔ ائں ہفتے فیصلہ آنے اور اعلان ہونے والا ہے۔ایسا ہونے والا ہے ویسا ہونے والا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔اب سپریم کورٹ سے 18 ستمبر کی تاریخ ملی ہے جب ایک سال کے دوران پانچویں مرتبہ منتخب وزیر اعظم عدالت میں پیش ہونگے۔اس تمام قصے کے باوجود ابھی تک یہ طے نہیں کہ خط لکھا بھی جائے گا یا نہیں۔بظاہر حکومت اور عدلیہ دونوں اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
عدالت میں وزیراعظم کی پیشی کے موقع پر وہی منظر تھے جو وزیراعظم گیلانی کی پیشی کے وقت تھے۔ان سب باتوں کے باوجود تمام حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ عدالت کا رویہ موجودہ وزیر اعظم پرویز اشرف کی طرف نرم تھا جبکہ گیلانی کے وقت یہ رویہ سخت یا جارحانہ تھا۔اب نئے وزیراعظم کو عدالت کچھ وقت اور اسپیس دینے لگی ہے۔ اس بات کا اظہار چوہدری اعتزاز احسن نے بھی کیا۔
اسلام آباد میں موجود حلقوں کا کہنا ہے کہ رویوں میں یہ تبدیلی پس پردہ بعض مذاکرات کا ہی نتیجہ ہو سکتی ہے۔ورنہ یہ سب کچھ ممکن نہیں تھا۔ ابھی ہفتہ دس دن پہلے تک ماحول بہت گرم تھا۔اٹارنی جنرل بہت سخت موقف لیے ہوئے تھے۔ظاہر کہ اٹارنی جنرل یہ موقف اپنی صوابدید پر نہیں کر سکتے تھے۔عدلیہ کے ریمارکس بھی ذرا سخت تھے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وفاق میں موجود پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعتوں نے اس ضمن میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ لگتا ہے کہ مقتدرہ حلقوں اور عدلیہ تک بات پہنچائی گئی کہ اگر یہی گرما گرمی رہی تو تمام سسٹم بیٹھ جائے گا۔ملک میں انارکی کی طرف چلا جائیگا۔لہٰذا دونوں ادارے تحمل، وسیع القبلی اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں۔کچھ صورتحال یوں بنے کہ فیصلوں میں ذاتی یا رنجش کا رنگ نہ ملے۔ انا کا مسئلہ بنانے سے عدلیہ کے وقار اور فیصلوں پر بھی چھینٹے پڑ سکتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات عدلیہ کی جانب پیپلز پارٹی کے رویے میں سختی تھی۔ حکومت اور پیپلز پارٹی کے رہنما جو پہلے ذاتی محفلوں میں عدلیہ کے باے میں منفی ریمارکس دے رہے تھے، مگر پبلک میں عدلیہ کے بارے میں محتاط رویہ رکھے ہوئے تھے۔ لیکن بعد میں حکومت نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی۔اور یہ کہنا شروع کیا کہ عدلیہ کا رویہ پیپلز پارٹی کی جانب مخالفانہ اور نواز شریف کی جانب نرم ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا قتل بھی عدالتی قتل تھا۔ عدلیہ 1954ع سے لیکر 2009ع تک حکمرانوں اور آمروں کی تابع رہی ہے۔ اور ان آمروں کو قانونی طور پر تسلیم کرتے ہوئے انہیں آئین میں مطلوبہ ترامیم کرنے،منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کو جائز قرار دینے آئین سے بالاتر اقدامات کو ڈھانپنے کے لیے چادر فراہم کی۔ یہاں تک کہ عدلیہ سوائے ایک حکمنامے کے جنرل مشرف کے سب اقدامات کو جائز قرار دیتی۔ یہ بھی عدلیہ کا کمال تھا کہ غالم محمد کے اسیمبلی تحلیل کرنے کے حکمنامے سے لیکر مشرف تک کے غیرآئینی کاموں کو جائز قرار دیا گیا۔
پیپلز پارٹی یہ سب معاملات لیکر عوام میں پہنچی۔اس کے پاس آئینی جواز تو پہلے سے موجود تھا کہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے اور اس کے خلاف سوئس حکام کو خط نہیں لکھا جا سکتا۔ یہ بھی کہ حکومت دراصل آئین کی پاسداری کر رہی ہے۔اس سے ہٹ کر آئین کی جو بھی تشریحات اور توضیحات بیا ن کی جارہی ہیں وہ بھی دراصل آئین کی خلاف ورزی کے دائرے میں آتی ہیں۔ اس موقف کے ساتھ پیپلز پارٹی نے کچھ عرصہ سیاسی کام کیا اور میڈیا کے ذریعے عدلیہ کو جواب دیا۔ جس کو بعض حلقے پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں۔سندھ خواہ پنجاب سے پارٹی کے مختلف رہنماؤں کے بیانات آنے لگے۔سندھ کے وزیراطلاعات مسلسل عدلیہ کے حوالے سے اس موقف کے ساتھ بیانات دیتے رہے۔ یہاں تک کہ سندھ اسیمبلی کے اسپیکر نثاراحمد کھڑو بھی عام جلسوں میں یہ کہنے لگے کہ ججز کو بھی سزائیں ہو سکتی ہیں۔یوں ایک درجن کے قریب لیڈر اس مہم پر لگے رہے۔ان کا خیال تھا کہ عدلیہ اگر انہیں کسی ایسے بیان پر طلب کرتی ہے اور توہین عدالت کا مقدمہ چلاتی ہے تو غیرملکی میڈیا میں خاصا شور مچ جائے گا۔ یہ بات عدلیہ کے حق میں نہیں جائے گی کیونکہ عدلیہ اگر آٹھ دس لیڈروں کو توہین عدالت میں سزا سناتی ہے تو ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا جس طرح 1983ع میں ایم آرڈی تحریک کے سلسلے میں گرفتاریاں پیش کرنے کے لیے شروع ہوا تھا۔ہر لیڈر اور کارکن بالکل اس طرح سے سیاسی شہید یا”یوسف ثانی“ہونا پسند کرے گا جس طرح سے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی ہوئے۔ لہٰذا عدلیہ نے بظاہر ایسی بیان بازی کو اہمیت نہیں دی۔ اور کسی لیڈر پر ہاتھ بھی نہیں ڈالا۔ کیا پتہ عدلیہ کے خلاف کوئی ملک گیر تحریک نہ اٹھ کھڑی ہو۔
پیپلز پارٹی کی اس مہم نے اثر دکھایا کہ بعض’قومی کالم نگار‘ کہلانے والے حضرات کو بھی احساس ہو چلا کہ پیپلز پارٹی کے اس ”پروپیگنڈا“ کے بعد بعض غیرجانبدار حضرات بھی یہ کہنے لگے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے شکوے میں خاصا وزن ہے۔ عدلیہ کا رول واقعی ایسا رہا ہے۔پیپلز پارٹی کے ساتھ عدلیہ میں امتیازی سلوک ہوتا رہا ہے۔موجودہ دور میں عدالتوں میں حکومت کی مسلسل طلبی نے پورے سسٹم کو بٹھا دیا ہے اور پیپلز پارٹی کو یہ کہنے کا سنہری موقعہ مل رہا ہے کہ اسے عدلیہ اور میڈیا نے کام ہی نہیں کرنے دیا۔وغیرہ وغیرہ۔۔ اور ایسا کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ عدلیہ کو رویے میں تبدیلی لانی چاہئے۔
پیپلز پارٹی نے اس حکمت عملی پر جب عمل شروع کیا تب تک مخالف سیاستداں اور اینکرز اپنا تمام بارود ختم کر چکے تھے۔ ان کے پاس کوئی گر نہیں بچا تھا۔ عوام ڈیڑھ سال سے مسلسل ایک ہی ترانہ سن کر تھک چکے تھے بلکہ بقول شخصے عوام کے کان پک چکے تھے۔ ان کے پاس دوسرا موقف سننے کی گنجائش نکل آئی۔یوں اس حکمت عملی نے کام دکھایا۔ ایسے میں کسی نے ثالث عدالتی ذرائع کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی۔ لہٰذا مصلحت کی صورتحال بنی اور حکومت کو تین ہفتوں کی مہلت مل گئی۔
مگر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ابھی بھی عدلیہ کا زور ہے کہ خط لکھیں۔ پھر وزیراعظم لکھے یا کوئی اور ذمہ دار حکومتی اہلکار۔ مطلب سوئس حکام کا خط لکھنے کا معامل کبھی ڈرامائی طور پر تیز تو کبھی کچھ سست رفتاری سے اور مدھم سر میں چلتا رہے گا۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ خط لکھنے کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے۔اور اس کے لیے ڈرافٹ کی تیاری بھی ہو رہی ہے۔ خط میں یہ لکھا جائے گا کہ جسٹس قیوم نے جو خط سوئس حکام کو لکھا تھا وہ واپس لے لیا جائے۔ اس کے ساتھ اس بات پر خاصا زور دیا جائے گا کہ ملک کے آئین کے تحت صدر کو کسی فوداری مقدمے میں استثنیٰ حاصل ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
تجزیہ نگار اب یہ بات بھی کر رہے ہیں کہ عدلیہ ایک اور وزیراعظم کو گھر بھیجنے کے مضمرات سے آگاہ ہے۔ اس لیے وہ کوئی ایسا فیصلہ کرتے وقت تمام معاملات کو سامنے رکھے گی یہ حلقے سمجھتے ہیں کہ اگر وزیراعظم راجا کوبتایا گیا تو پیپلز پارٹی چپ کرکے نہیں بیٹھے گی۔ اور جذباتی فضا پیدا کرکے تحریک چلا سکتی ہے۔
حکومت کے خلاف اس عدالتی کارروائی کو دن، ہفتے اور ماہ گزر چکے ہیں۔ اور عوام بھی تھک چکے ہیں۔ اب تو انتخابات کی تاریخ بھی قریب آرہی ہے۔یہاں تک کہ پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیرداخلہ سندھ منظور وسان جنہیں حال ہی میں صدر زرداری منا کرآئے ہیں انہوں نے نوید دی ہے کہ انتخابات مارچ میں ہونگے۔ مطلب اسیمبلیاں اپنی مدت مکمل کر رہی ہیں اگر اس سے پہلے انتخابات کرائے جاتے ہیں تو فرق صرف تین ماہ کا ہے۔ اور ان تین ماہ کا رسک اور برائی خوامخواہ کون اٹھائے گا؟یہ بات تمام فریق سمجھتے ہیں۔
اب جو خبریں آرہی ہیں کہ نگراں سیٹ پر کچھ معاملات طے ہونے جارہے ہیں۔
تان آکر اسی پر ٹوٹتی ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں یا وقت سے پہلے نگراں سیٹ اپ کا کیاہوگا؟ کیا عدالت نگراں حکومت پر بھی زور دے گی کہ سوئس حکام کو خط لکھا جائے، یا یہ معاملہ نگراں حکومت سے پہلے کسی شکل میں نمٹا دیا جائے گا؟ یا یہ معاملہ نئی حکومت پر چھوڑ دیا جائے گا؟ یہ سب کچھ نگراں حکومت کی شکل اور انتخابات کے بعد کا نقشہ مقتدرہ حلقوں کے پاس کیا ہے اس پر منحصر ہے۔
No comments:
Post a Comment