Tuesday, 10 March 2020

سندھ میں وسیع تر اتحاد - Jan 24, 2013

Thu, Jan 24, 2013 at 12:07 PM
سندھ میں وسیع تر اتحاد 
میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی
نواز شریف اور پیر پاگارا نے  فیصلہ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے خلاف سندھ میں سندھ بچایو کمیٹی سے نتخابی اتحاد کیا ہے۔ یہ فیصلہان دونوں رہنماؤں کے درمیاں رائیونڈ میں ہوا جہاں  پیر پاگارا خود چل کر گئے تھے۔ ان کے والد  بڑے پیر صاحب کو نواز شریف سے بات کرنا کچھ زیادہ پسند نہ تھی۔گزشتہ ڈیڑھ سال سے ملک کے اس جنوبی صوبے میں بھر پور کوششیں کی جارہی تھیں کہ پیپلز پارٹی کے خلاف کوئی وسیع تر اتحاد بن سکے۔ اس مقصد کے لیے مختلف قوتوں کو سرگرم بھ کیا جارہا تھا اور کٹھا بھی کیا جارہا تھا۔ مگر یہ اس وقت ممکن ہو سکا جب پیپلز پارٹی نے اپنی اتحادی جماعت کو خوش کرنے کے لیے صوبے میں متنازع بلدیاتی نظام نافذ کیا۔ جس کی قوم پرست اور سندھ کے وسیع تر حلقے مخالف تھے۔اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں سیلاب اس کے بعد شدید بارشوں، بعض علاقوں میں قحط  کی صورتحال میں پیپلز پارٹی کی طرز حکمرانی اور میرٹ کو نظرانداز کرنے سے عام لوگوں میں شکایات پیدا ہورہی تھی انہوں نے اپنا کام دکھایا۔
اس صورتحال نے پیپلز پارٹی مخالفت کے لیے  سیاسی اور زمینی جواز پیدا کردیا۔ نواز شریف نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا اور اس قانون کی مخالفت کی اور ایم کیو ایم کے خلاف موقف اختیار کیا۔
اب جماعت اسلامی، جے یو آئی، اور نیشنل پیپلز پارٹی سندھ بچایو کمیٹی مل کر اتخابات لڑیں گی۔ سندھ بچایو کمیٹی بلدیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کے لیے بنائی گئی تھی۔ مگر اسکو پیر صاحب نے انتخابی شکل دے دی ہے۔یہ نہیں معلوم کہ اس ضمن میں اس کمیٹی کو اعتماد میں لیا گیا ہے یا نہیں؟
 فنکشنل لیگ نے سندھ کی قوم پرست جماعتوں عوامی تحریک، سندھ یونائٹیڈ پارٹی، سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔اس کے علاوہ  جماعت اسلامی، جے یو آئی ان جماعتوں سے کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کرکے مشترکہ انتخابات لڑنے پر اتفاق کیا گیاہے۔ اب ان تمام جماعتوں اور سندھ کے قوم پرست رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ہونا باقی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ سب ایک ساتھ اجلاس نہ کریں بلکہ دو تین گروپوں میں اجلاس کریں۔کیونکہ گروپوں میں اجلاس فیصلہ سازی میں مدد دے گا۔ ویسے بھی  ان تمام پارٹیوں اور گروپوں کا اثر مختلف علاقوں میں ہے۔ دو تین مقامات کے علاقہ ان کے درمیان آپس میں مقابلے یا ٹکراؤ کی صورتحال نہیں ہے۔
 نیشنل پیپلز پارٹی کا اثر نوشہروفیروز کے علاوہ ایک نشست پر شکارپور ضلع میں ہے۔ شکارپور میں جے یو آئی کا بھی کچھ اثر ہے۔ جماعت اسلامی میں اثر شہری علاقوں میں ہے۔عوامی تحریک اور سندھ ترقی پسند پارٹی حیدرآباد اور ٹھٹہ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آسکتی ہیں۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی کا انتخابی حوالے سے اثرجام شورو میں ہے۔ اصل میں نواز لیگ قوم پرستوں کو  فلیور کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے، تاکہ اس کو قوم پرستی سے سرشار اس صوبے میں پیر رکھنے کی جگہ مل سکے اور اس کے حامی بااثرالیکٹ ایبل منتخب ہوسکیں اور ان کو سیاسی حوالے سے مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 
نواز شریف اس مرتبہ اس صوبے میں مختلف حکمت عملی اختیار کی ہے۔ انہوں نے اپنی  پارٹی کو سندھ میں منظم کرکے براہ راست سندھ کا اسٹیک ہولڈر بننے کے بجائے س بات کو ترجیح دی کہ الیکٹ ایبلز کے ساتھ اتحادبنایا اور  اور اس کے ساتھ ساتھ سندھ دوست ہونے کی گواہی کے طور پر سندھ کے قوم پرستوں سے اتحاد کیا۔تجزیہ نگار نواز شریف کی اس حکمت عملی پر یہ تنقید کر رہے ہیں کہ ان کو مستقلبنیادوں پر سیاست کرنی ہے تو مکمل متبادل کے طور پر سامنے آنا چاہئے۔ صرف موقع پرستوں پرانحصار نہیں کرنا چاہئے جو ہرحکومت میں شامل ہوتے رہتے ہیں اور اپوزیشن میں بیٹھنے کے لیے تیار نہیں۔ مختلف بااثر لوگوں کو ملا کر وہ اپناکام نکال سکتے ہیں مگر سندھ کے لوگوں کو کچھ ڈلیور نہیں کرسکیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ لیاقت جتوئی مشرف دور میں وفاقی وزیر رہے۔ 
خود مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل پیپلز پارٹی حالیہ دور میں پیپلز پارٹی کی اتحادی رہی ہیں۔مزید بااثر وڈیرے جو نواز لیگ سے اتحاد کریں گے وہ بھی کسی نہ کسی طرح سے موجودہ حکومت کا حصہ رہے ہیں۔ان تجزیہ نگاروں کے مطابق نواز شریف کی پالیسی میں یہ نقص ہے اور وہ سندھ میں دور رس یا دیرپا سیاسی مفادات نہیں رکھنا چاہتے۔  اس وقت نواز شریف کے ساتھ سندھ میں ممتاز بھٹو، لیاقت جتوئی اور اسماعیل راہو کے علاوہ کوئی اور سیاسی شخصیت پارٹی میں موجود نہیں۔گزشتہ سال ان کی جماعت نے الگ سے اپنی سرگرمیاں کیں، خاص طور پر ماروی میمن سرگرم رہیں۔ مگر پارٹی کے کسی اور رہنما نے سرگرمی نہیں دکھائی۔اب نواز لیگ الگ سے کوئی سرگرمی نہیں کر رہی ہے۔ 
سندھ میں اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے کہ علامہ طاہرالقادری کے دھرنے کے موقع پر نواز شریف نے جب اپوزیشن پارٹیوں کا رائیونڈ میں اجلاس بلایا  اور جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچانے کے عزم کا اظہار کیا تو سندھ کی کسی بھی قوم پرست پارٹی کو نہیں بلایا۔جبکہ بلوچستان، پختونخوا یہاں تک کہ کراچی سے بھی  مختلف جماعتوں کو مدعو کیا گیا تھا۔سندھ میں یہ سوال کیاجا رہا ہے کہ کیانواز شریف  اس معاملے میں سندھ کو اسٹیک ہولڈر نہیں مانتے؟
اب سندھ میں گرانڈ الائنس  پیر پاگارا کی چھتری کے نیچے بن رہا ہے اور ان کا اتحاد  نواز لیگ سے ہے۔ اس حوالے سے سندھ کے قوم پرست  ترجیحات مین تیسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ نواز شریف  سے سندھ کی صورتحال نہ سنبھل سکی تو سندھ کا ٹاسک اب فنکشنل لیگ کو دے دیا گیا ہے جس کو حکومت میں اب جونئر پارٹنر کے طور پر لیا جائے گا؟ 
پیپلز پارٹی کے خلاف ماضی میں بھی اس طرح کے اتحاد  بنتے رہے ہیں۔ سندھ قومی اتحاد  1988 کے اتخابات کے موقع پر بنا تھا۔ اس وقت جی ایم سید زندہ تھے۔ بعد میں بھی سندھ قومی اتحاد کے بینر تلے قوم پرستوں نے انتخابات میں حصہ کیا۔ دونوں موقعوں پر ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی سے تھا۔سندھ قومی اتحاد کا اور کسی کو فائدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو  دادو کے جتوئی خاندان کو فائدہ ہوا۔ اور وہ صوبے کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کر سکے۔ دوسرا فرق یہ تھا کہ تب نواز شریف ان کے براہ راست اتحادی نہیں تھے۔ اور حکمت عملی  کے طور پر اتحادی تھے۔ اس مرتبہ قوم پرستوں سے پنجاب بیسڈ پارٹی نے براہ راست اتحاد کی کوشش کی ہے مگر پیر پاگارا کے بیچ میں آنے سے صورتحال میں تبدیل ہو گئی ہے۔ 

وسیع تر اتحاد  پر بعض اعتراضات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ کہ سندھ بچایو کمیٹی کوئی انتخابی اتحاد نہیں تھا، اس کو انتخابی اتحاد بنانے میں بعض ممبر جماعتوں کو تحفظات ہیں۔ان کے نزدیک  سندھ کے بنیادی مفادات کو انتخابی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہئے۔ دوئم یہ کہ وسیع تر اتحادپیر پاگارا کی رہنمائی میں بنانے کا مطلب فنکشنل لیگ کو پیپلز پارٹی کا متبادل تسلیم کرنا ہے۔ یہ بات بعض حلقوں کو ہضم نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ سیاسی حلقے فنکشنل لیگ کو سیاسی جماعت کم،  روحانی جماعت زیادہ سمجھ رہے ہیں۔

بعض حلقے یہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف براہ راست سندھ میں اپنا سیاسی اسٹیک شو کرے اور اسکے ساتھ ساتھ سندھ کے قوم پرستوں سے وہ خود براہ راست بات کرے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ فنکشنل لیگ کے حوالے کرنے سے باثر وڈیرے ہی آگے آئیں گے اور قوم پرستوں کی سنی نہیں جائے گی۔یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ اتحاد  کسی پروگرام کے بجائے صرف پیپلز پارٹی کی مخالفت میں کیوں؟ اس اتحادکا پروگرام یا منشور کیا ہوگا؟ اس کو کیوں نہیں سامنے لایا جارہا ہے۔
 بہرحال ابھی اس اتحاد کے بارے میں مزید ردعمل آنا باقی ہے۔ اور پیپلز پارٹی جو ابھی تک بااثر لوگوں کو قابو کرنے کی ترکیب پر ہی کام کر رہی تھیاس نے سیاسی طور پر اس اتحاد کے حوالے سے جواب نہیں دیا ہے۔ فی الحال پیپلز پارٹی کا یہ خیال ہے کہ نواز شریف کو اگر بااثر لوگ یا  الیکٹ ایبل ملیں گے ہی نہیں گرانڈ لاائنس کی بیل مونڈھے نہیں چڑھے گی۔

No comments:

Post a Comment