Monday, 9 March 2020

پیپلز پارٹی کا نیا پروفائل - Sep 13, 2012

Thu, Sep 13, 2012, 12:50 AM
پیپلز پارٹی کا نیا پروفائل
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
70ع کے انتخابات کی مہم کے ابھی تک چشم دید گواہ موجوددہیں بلکہ اس انتخابی مہم میں حصہ لینے والے کردار بھی ابھی تک حیات کی قید میں ہیں۔ انہیں یہ انتخابی مہم اس کے نعرے، تقاریر، اور دیگر سرگرمیاں یاد ہیں۔ میر، پیر اور وڈٰرے ملامت کی نشانی بنے ہوئے تھے۔  روٹی کپڑا اور مکان مقبول نعرہ تھا۔ کسان، مزدور اور طلبا کے حقوق  تترجیح بنے ہوئے تھے۔اس حوالے سے ادب بھی بہت تخلیق ہوا اور شاعری بھی سامنے آئی۔ عام کہاوتیں، لطیفے، قصے  بھی عوام کی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے ایجاد ہوئے۔ایسا لگ رہا تھا کہ پورے ملک کا عوان نیند سے جاگ اٹھا ہے۔ہر سو عوام، عوام کے حقوق  اور نعروں کا چرچہ تھا۔ اس چرچے میں لوگوں کے جذبات، احساسات، امنگوں کا عکس  مختلف لہجوں اور رنگوں کے ذریعے جھلکتا تھا۔
 جو حلقے واقعے سمجھتے تھے کہ عوام  واقعی اہمیت رکھتا ہے یا یہ سمجھ رہے  تھے اصل مالکان جاگ اٹھے ہیں ان کے ساتھ چلنا اور اس کی بات کرنے کا علاوہ چارہ نہیں، انہوں نے ان نعروں اور پارٹیوں کا ساتھ دیا اور  ان کی طرف ہو گئے۔ یوں سیاست نے رخ تبدیل کیااور سیاسی گروپوں اور لوگوں نے بھی اس کے مطابق اپنا رخ تبدیل کیا۔
 آگے چل کر ملک میں بڑی سیاسی تبدیلیاں آئیں۔اور بالآخرجنرل ضیاء الحق نے بھی آکر میرے عزیز ہم وطنو کہا۔ پھر سیاسی جوڑ توڑ، سختیوں، انتقامی کارروائیوں اور حرفت بازیوں کے باوجود  زمینی صورتحال یہ رہی کہ پیپلز پارٹی اگر کسی کھمبے کو بھی ٹکٹ  دے رہی تھی تو اس کی کامیابی یقینی تھی۔کئی وڈیرے انتخابی جیت کے لیے پی پی سے رجوع کر رہے تھے۔وہ انتخابات میں خرچ کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی کی سیاسی مہم  پر خرچ کر ہے تھے۔کیونکہ پیپلز پارٹی کا ٹکٹ جس کے بھی ہاتھ میں ہوتا تھا  اس کی کامیابی تو یقینی تھی ہی مگر وہ انتخابی اخراجات  سے بھی بچ جاتا تھا۔ کیونکہ عوام ووٹ دینے کے لیے بے چین نظر آرہا تھا۔ یا پارٹی کراکنان اور جیالے انہیں گھروں سے نکال کر پولنگ اسٹیشنوں تک لا رہے تھے۔ یہ بھی ایک دور تھا جو آئندہ دو تین عشروں تک چلا اور ملکی سیاست خاص طور پر سندھ کی سیاست پر چھیا رہا۔ یہ عوامی سیاست کا وہ بہاؤ اور ریلا تھا جس نے 88ع کے انتخابات میں  پیر پگارا، غلام مصطفیٰ جتوئی جیسے  پہاڑوں کو بھی خش خاش کی طرح بہا دیا جبکہ ان کے مقابلے میں معمولی امیدوار تھے۔
 تب الیکشن باز اور روایتی سیاستداں پیپلز پارٹی  کے دروازے پر کھڑے تھے۔ پارٹی ٹکٹ کے لیے لائن لگی ہوئی ہوتی تھی۔ شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ 70ع، 80ع، اور 90ع  کے عشرے میں پیپلز پارٹی نے کبھی کسی ایسے میر،  پیر یا وڈیرے کے پاس چل کے گئی ہو کہ پارٹی میں آؤ یا پارٹی کی حمایت کرو۔پیپلز پارٹی ان وڈیروں سے بڑی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے پیاس کنویں کے پاس جاتا ہے نہ کہ کنواں  پیاسے کے پاس۔ اقتدار کے پیاسے پانی کے کنویں پیپلز پارٹی کے پاس جاتے تھے۔ اور یہ کنواں ان کے پاس نہیں جاتا تھا۔
 اب ایسا نہیں ہو رہا۔ سب کچھ بدل چکا ہے۔ پیپلز پارٹی ان میروں، پیروں اور وڈیروں کے پاس چل کر جاتی ہے۔  اور ایک بار نہیں بلکہ کئی بار اور لگاتار جاتی ہے۔ گھوٹکی کے مہر برادران  سے مسلسل دو سال تک مژاکرات چلتے رہے۔ ایک سال تک ٹھٹہ کے شیرازیوں کے ساتھ بات چیت ہوتی رہی۔ نوشہروفیروز کیے عالمانیوں کے پاس  صدر زرداری کی ہمشیرہ  فریال تالپورچل کر گئیں۔  دادو اور لاڑاکنہ میں موجود ایسی شخصیات  کے پاس بھی پیپلز پارٹی کو جانا پڑا۔سیاسی گادی نشین پیپلز پارٹی میں شامل تو ہوتے رہے ہیں اس مرتبہ خود پی پی ان کو بلا بلا کے شامل کر رہی ہے۔ پارٹی کارکن جو کبھی تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے تھے ان کی پارٹی کو ضرورت نہیں ہے۔ کیا یہ سب کھیل بلا مقابلہ امیدوار جتوانے کے لیے ہو رہا ہے یا اس لیے کہ سندھ میں کوئی اپوزیشن ہی نہ ہو۔
 سندھ کے لوگوں اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے پاس ایک ہی سوال ہے کہ آخر ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟  بظاہر پیپلز پارٹی کے پاس یہ دلیل ہے کہ اگر کوئی ایسا گروپ  پارٹی کے دائرے سے باہر رہ جاتا ہے  تو صوبائی سطح پر پارٹی کے مقابلے میں آجائے گا۔ علی محمد مہر اس کی ایک مثال ہیں  جنہوں نے ۲۰۰۲ کے انتخابات میں پارٹی کی ٹکٹ ٹھکرا کر آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑا اور وزیراعلی سندھ ہوئے۔ یہ دراصل دلیل سے زیادہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو ڈر ہے۔ اتنی بڑی پارٹی کو افراد سے ڈر لگتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔  اگر یہ دلیل بھی ہوتی  تو بھی کم تعجب کی بات نہیں۔ آخر یہ خوف پیپلز پارٹی میں کیوں بیٹھ گیا ہے؟
سوال یہ ہے کہ یہ افراد پارٹی کی مقبولیت اور عوام  میں موجود جڑوں  پر اثرانداز ہو سکتے ہیں؟
 دراصل اس صورتحال پیدا کرنے کے دو عوامل ہیں۔ایک یہ کہ اسٹبلشمنٹ مسلسل  نئے پاور بروکر اور سیاسی کھلاڑی میدان میں لاتی رہی ہے۔ اور ان کو اقتدار و اختیار دے کر  مضبوط کرتی رہی ہے۔ یہ کام جنرل ضیا کے دور سے لیکر مشرف کے دور تک چلتا  رہا ہے۔ ان دونوں آمروں نے سیاسی بروکرز کا ایک نیا طبقہ پیدا کیا جو اب خاصا  صحت مند ہو گیا ہے اور اب وہ پیپلز پارٹی کو آنکھیں بھی دکھا رہا ہے اور  اس مقبول جماعت کو اپنے شرائط پر لا رہا ہے۔
 اس کے ساتھ ساتھ ضیا اور جونیجو دور میں ایک نیا سیاسی کلچر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیاست میں ذاتی تعلق اور ذاتی مفاد کو نچلی سطح تک متعارف کرایا گیا۔ اس کلچر نے انتخابی سیاست کا رنگ ہی بدل دیا۔ اور اسمبلی ممبر، ووٹر یا کارکن  کے بیچ میں موجود سیاسی رشتہ ختم کرکے  اس کو ذاتی تعلق یا ذاتی مفاد میں تبدیل کردیا گیا اس بات کا تفصیلی ذکر میں اس سے پہلے ایک کالم میں کر چکا ہوں۔ اگر ذاتی مفاد اور تعلق ہی اہم ہیں  تو پھر ووٹر اور سیاسی کارکن  کے لیے کئی آپشنز کھل جاتے ہیں۔ اور نئی راہیں نکل آتی ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو نے  اپنے دونوں حکومتوں کے دور میں  اور پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت  نے بھی سیاسی کلچر میں اس رجحان کو جاری رکھا۔ بعض صورتوں تو تو اس مو مزید مضبوط کیا۔ترقیاتی کام، ملازمتیں بجیٹ وغیرہ سب اسمبلی ممبران کو ذاتی طور پر ملنے لگیں اور وہ ان کی تقسیم بھی ذاتی طور پر کرنے لگے۔ یہ ایک خطرناک رجحان  تھا جس نے اب اپنے بھرپور اثرات دھکانے شروع کئے ہیں مطلب یہ کہ پیپلز پارٹی نے اس رجحان کو ختم کرنے یا روکنے کے بجائے  خود اس کا شکار ہو گئی۔اب پیپلز پارٹی اس پچ پر آگئی  جو  عوامی نہیں بلکہ سیاسی خاندانوں یا سیاسی کھلاڑیوں کی روایتی پچ تھی۔
 یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پیپلز پارٹی کجی قیادت  اور کارکنوں خواہ  عوام  (ووٹروں)  کے درمیان  گیپ موجود ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو  حکومت میں رہتے ہوئیہر دو ہفتے بعد کہیں نہ کہیں جلسہ کرتا تھا یا پارٹی کارکنوں کا ڈویزنل یا صوبائی کنوینشن کرتا رہاتے تھے۔ بینظیر بھٹو نے بھی بڑی حد تک اس روایت کو برقرار رکھا۔جلسے، جلوس،  کارکنوں سے رسمی و غیر رسمی ملاقاتیں، ان سے ملنا، ان کو سننا،  ان کو پوچھنا، ان کو اہمیت دینا جاری رکھا۔اندازہ کریں کہ بھٹو جب شملا معاہدہ کرنے انڈیا جا رہے تھے تو انہوں نے دادو، ٹھٹہ اور دیگر مقامات پر جلسوں میں  آکر عوام سے پوچھا کہ  یہ صورتحال ہے۔آپ اگر کہو تو انڈیٰا سے معاہدہ کرکے آؤں۔۔۔
 پارٹی کارکنوں سے رابطہ  اور تعلق  اپنی جگہ پر،  پارٹی کی بلواسطہ یا براہ راست حمایت کرنے والے  دانشوروں کو بھی بھٹو اور بے نظیر بلاتے رہتے تھے ان سے مشاورت کرتے تھے۔ انہیں اہمیت دیتے تھے۔آج ایسی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔
 اب ایسا نہیں ہے۔ سب کچھ بدل گیا ہے۔ نہ جلسے جلوس ہیں نہ ہی پارٹی قیادت کی کارکنوں  سے ملاقاتیں اور ڈویزنل کنوینشن  وغیرہ ہیں۔  نتیجۃ  پارٹی قیادات کا کرکنوں سے رشتہ کمزور ہوا ہے۔ اضلاع میں  خواہ انتخابی حلقوں میں  کارکن اہم نہیں  بلکہ  سیاسی کھلاڑی اہم ہیں۔ جن کو خوش کرنا پی پی ضروری سمجھنے لگی ہے اسی کے ساتھ ساتھ اسمبلی ممبران پر کارکنوں کا چیک  وہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ اب ان کو شکایت کرنے کا دروازہ بھی نہیں مل رہا ہے۔
 پیپلز پارٹی کی قیادت اس صورتحال سے باخبر ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ  پارٹی قیادت اور عوام کے درمیان کتنا گیپ ہے۔ یہ گیپ کسی طرح سے بھرنا  اسے آسان نہیں لگتا، اس لیے سیایس کھلاڑیوں، باثر افراد اور وڈٰروں پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ یوں عوام اور پارٹی کارکن غیر اہم  ٹہرے۔باثر اور منتخب ہونے کے قابل افراد سماج ضروری اور اہم ہوگئے۔وڈیروں کے خلاف نعرے دب گئے ہیں۔۔یوں ملک میں وہ سیاست  اور سیاسی کلچر جو ذوالفقار علی بھٹو نے متعارف کرائی تھی وہ آخری سانسیں لے رہا ہے۔اس کی جگہ پر واپس روایتی یا مسلم لیگی سیاست جگہ لے رہی ہے۔جس میں سیاست کرنے، انتخابات لڑنے اور سیاسی حمایت کیے لیے یہ وڈٰیرے، میر اور پیر ضروری ہیں۔

No comments:

Post a Comment