Sat, Dec 1, 2012, 9:26 AM
کالا باغ ڈیم کورٹ میں
کالم ۔۔۔سہیل سانگی
کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق لاہور ہائی کورٹ نے چونکا دینے والا فیصلہ دیا ہے۔عدالت نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک اس متنازع آبی منصوبے کے بارے میں پٹیشن کی سماعت کی۔ جس منصوبے کو صوبوں کی اکثریت نے کئی بارمسترد کیا تھا بڑے صوبے کی عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ یہ بڑا صوبہ اس منصوبے کا حامی رہا ہے اوت وقت بوقت اس کی وکالت کرتا رہا ہے۔ کورٹ کے فیصلے کے فورا بعد مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور مطالبہ کیا کہ ڈیم کی تعمیر شروع کی جائے۔ مسلم لیگ (ن) خود کو پنجاب کی نمائندہ پارٹی سمجھتی ہے اور فی الحال اس کے پاس پنجاب میں اسمبلی کی زیادہ نشستیں حاصل ہیں۔لہٰذا پنجاب کا موقف سامنے آگیا ہے۔
یہ منصوبہ سالہا سال سے التوا میں ہے۔ اور کہ اس کے خلاف تقریبا روزانہ احتجاج ہوتا رہا ہے۔چونکہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے۔ لہٰذا اس پر لوگ رائے زنی کرتے رہیں گے۔ عدالت کو ایسے معاملے سے احتراز کرنا چاہئے تھا۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اب اس عدالتی فیصلے کے بارے میں رائے زنی ہوگی لہٰذا عدلیہ کو دیہ اختلافی نقط نظر اور تنقید سننی پڑے گی۔
سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا تازہ موقف بھی پنجاب کے موقف کے برعکس ہے۔ ان صوبوں کے نمائندوں نے عدالت کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور متنازع ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کی ہے۔سندھ کے قائم مقام گورنر اور اسپیکر سندھ اسمبلی نثار احمد کھڑو اس ہ کہ فیصلے کو آمریت کی راہ ہموار کرنے اور ملکی وحدت پر وار کے متراسمجھتے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کا کہنا ہے کہ تین صوبوں کی اسمبلیاں اس منصوبے کو مسترد کر چکی ہیں۔ کیا ڈیم قومی وحدت سے زیادہ اہم نہیں؟ بلوچستان کے وزیر آبپاشی اسلم بزنجو کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اگر کشیدگی بڑھی تو ذمہ دار لاہور ہائی کورٹ ہوگی۔ اے این پی کا موقف ہے کہ کالاباغ ڈیم سیاسی معاملہ ہے اور عدالتیں سیاسی معاملات نہ چھیڑیں۔ لاہور ہائی کورٹ سے تین صوبوں کے مسترد کردہ ڈیم کی تعمیر کا حکم صوبوں کے درمیان فاصلے اور بڑھائے گا۔
آئین کی اٹھارویں ترمیم کہاں گئی جس کی پاسداری پنجاب کی ہائی کورٹ نہ کر سکی کہ دوسرے صوبوں کے بارے میں فیصلہ سنادیا۔اب اگر باقی تین صوبوں کی عدالتیں بھی اس ڈیم کے بارے میں فیصلہ دے دیں تو کیا صورتحال بنے گی؟یعنی ہائی کورٹیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ جائیں گی۔ یہ اس لیے بھی ممکن ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے باقی تینوں صوبوں کا موقف سنا ہی نہیں۔
سندھ دریائے سندھ پرواقع آخری صوبہ ہے۔ لہٰذا اس ڈیم کی تعمیر کے سب سے زیادہ منفی اثرات بھی اسی صوبے پر مرتب ہونگے۔ مگر ایسا فیصلہ دیتے وقت سندھ کو سنا ہی نہیں گیا جو فطری انصاف کے خلاف ہے۔ سندھ کے آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ فیصلہ دیتے وقت ایسا محسوس کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی طرح یہ ڈیم تعمیر کی جائے۔
1991کے آبی معاہدے کے دو اہم کردار اس وقت کے سیکریٹری آبپاشی ادریس راجپوت اور وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری امتیاز شیخ کا کہنا ہے کہ پانی کے معاہدے میں کالا باغ ڈیم کا کوئی براہ راست یا بلواسطہ طور پر کئی ذکرنہیں تھا۔
لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ میں یہ موقف اختیار کیا کہ 1991ع اور 1998ع میں مشترکہ مفادات کی کونسل کالاباغ ڈیم کی منظوری دی تھی۔ ملک میں موجود پانی کے تنازع سے واقف ماہرین کو تعجب ہوا کہ فیصلے کی بنیاد جن دو اجلاسوں کے فیصلوں پر کیا گیا ہے وہ فیصلے در حقیقت بہت مختلف ہیں۔اگر واقعی 1991 اور 1998 میں مشترکہ مفادات کی کونسل میں تجویز پیش کی گئی تھی اور اس کی منظوری بھی دی گئی تھی تو پھر ان اجلاسوں کے منٹس عدالت میں کیوں پیش نہیں کئے؟ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ 1991 میں پانی کے معاہدے کے بعد مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ جس کی صدارت اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے کی تھی۔ اس اجلاس میں 10 ڈیلیز کے معاملے پر پنجاب نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ٹین ڈیلیز کو نئے ذخائر کیساتھ نتھی کیا جائے۔سندھ کے نمائندوں کا اس اجلاس میں یہ موقف رہا جو منٹس کا حصہ ہے۔ وہ کچھ اس طرح سے تھا: ”حکومت سندھ سمجھتی ہے کہ سسٹم وائیز بنیادوں پر 10 ڈیلیز تحت اوسط پانی کی فراہمی کے ا عداد و شمار کا اندرونی حصہ ہیں۔ یہ مناسب نہیں ہوگا کہ دیگر اشوز مثلا مستقبل کے ذخائر وغیرہ کو معاہدے کی اس شق کے ساتھ مشروط کیا جائے۔ اس ضمن میں شفافیت کو برقرار رکھا جائے۔ سندھ اور پنجاب کا موقف سننے کے بعد مشترکہ مفادت کی کونسل نے پنجاب کا موقف مسترد کردیاتھا۔ اور فیصلہ دیا تھا کہ”مشترکہ مفادات کی کونسل 10 ڈیلیز کی منظوری دیتی ہے مگر اس میں سے سیلاب کے پانی اور مستقبل کے ذخائر کو خارج کردیا۔ان چار الفاظ میں دیئے گئے منٹس کو یہ معنی پہنائی گئیں کہ کونسل نے کالاباغ ڈیم منصوبے کی منظوری دی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہاہے کہ 1998ع میں مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس نے بھی کالاباغ ڈیم کی حمایت کی تھی۔اگر ایسا ہے تو یہ دستاویزات ظاہر کیوں نہیں کئے جاتے؟ چیف جسٹس نے خاص طور پر پٹیشنر کی اس دلیل کا کا حوالہ دیا ہے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے آئین کی شق نمبر 14 اور 9 کومد نظر رکھا جائے۔ آئین کی شق نمبر9 میں کہا گیا ہے کہ”کسی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا سوائے جبکہ قانون اس کی اجازت دے۔“اس شق میں ایسی کوئی بات نہیں جس سے کالاباغ ڈیم کی تعمیرکی توضیح نکالی جاسکے۔
آئین کی شق نمبر 14 میں کہا گیا ہے کہ”کسی بھی شخص کے وقار اور قانون مطابق گھر کے پردے کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی۔ اور یہ کہ گواہی لینے کے لیے کسی بھی شخص پر تشدد نہیں کیا جا سکتا۔“ قانون کی یہ شقیں پڑھنے کے بعد ہر ذی شعور انسان حیران ہوگا کہ ان شقوں کا کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے کیا تعلق؟
اس ے برعکس آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کی شق 155 کے تحت خاص طور پر اس کے ذیلی دفعہ 6 کے تحت عدالتیں پانی سے متعلق معاملات کی سماعت نہیں کر سکتیں۔دفعہ میں واضح ہے کہ”کسی ایسے معاملے کے بارے میں جو کونسل کے سامنے زیر بحث ہویا رہا ہو، معاملے کے کسی فرقی کی تحریک پر، یا کسی ایسے معاملے کے باے میں جو اس شق کے تحت کونسل کے سامنے شکایت کا مناسب موضوع فی الواقع ہو، یا رہا ہو یا ہو سکتا ہو یاہونا چاہئے، کسی بھی شخص کی تحریک پر کسی عدالت کے سامنے کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔“ آئین کی اس شق کے تحت لاہور ہائی کورٹ کالاباغ سے متعلق مقدمہ کی سماعت کی مجاز ہی نہیں۔لیکن اس کے باوجودعدالت نے مقدمہ سنا اور ڈیم کے حق میں بھی فیصلہ دیا۔
سندھ اور پختونخواہ تین تین مرتبہ اور بلوچستان اسمبلی دو مرتبہ کالا باغ ڈیم کے خلاف قردادیں منظور کیں۔ دو مرتبہ نواز شریف حکومت میں آئے اور بعد میں جنرل مشرف بھی بارہ سال تک حکومت کرتے رہے مگر وہ کالاباغ ڈیم نہ بنا سکے۔یہ منصوبہ اب سیاسی بن چکا ہے۔ جس کی تعمیر کسی بھی طور پر نظر نہیں آتی تاہم مختلف سیاسی جماعتیں اور حلقے اس کے ذریعے پوائنٹ اسکور رکر سکتے ہیں۔اس فیصلے سے پنجاب میں پیپلز پارٹی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ نے سندھ میں ایک لحاظ سے پیپلز پارٹی کی ضمانت کرادی ہے، کیونکہ اس صوبے میں پیپلز پارٹی کو بلدیاتی نظام کے حوالے سے سخت مخالفت کا سامنا تھا۔اور وہ مخا لفین اور قوم پرستوں کی توبوں کی زد میں تھی۔
کیا اس معاملے کو پنجاب کی ہائی کورٹ کو اٹھانا چاہئے تھا اور ایک ایسا فیصلہ دے دینا چاہئے تھا جس سے دوسرے صوبے بھی متاثر ہوں۔ اس فیصلے کے بارے میں یہ بھی کہا جائے گا کہ وفاقی حکومت نے کوئی مددل کیس نہیں بنایا۔ بہرحال ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاق اپیل میں جائے۔
No comments:
Post a Comment