Tuesday, 10 March 2020

قادری کا مقدمہ - Feb 14, 2013

Thu, Feb 14, 2013 at 11:53 AM 
قادری کا مقدمہ 
 (فروری ۴۱۔۳۱۰۲ع)
 میرے دل میرے مسافر۔۔۔سہیل سانگی 
 علامہ طاہر القادری بنیادی حقوق کی خلاف ورزی، حق دعویٰ اور نیک نیتی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔جس کے بعدسپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق ان کی درخواست خارج کردی ہے۔ڈاکٹر قادری نے اپنی درخواست میں نہ صرف چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کو چیلنج کیا تھا بلکہ کمیشن کے چار ارکان پر بھی اعتراض کیا تھا۔ان کا اصرار تھا کہ یہ تقرریاں آئین کے آرٹیکل213 اور 218 کے تحت نہیں ہوئیں۔عدالت کا کہنا تھا کہ حقائق کی روشنی میں ان کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ اور یہ بھی کہ وہ اپنا حق دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
سماعت کے دوران طاہرالقادری کی طرف سے جارحانہ رویہ دیکھنے میں آیا۔علامہ قادری اور ججوں کے درمیان تلخ کلامی کے بعد انہیں دلائل دینے سے روک دیا گیا۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ طاہر القادری نے سماعت کے دوران جو زبان استعمال کی اس پر توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے تاہم عدالت تحمل کا مظاہرہ کرے گی۔ اگر علامہ کی عدالت میں زبان توہین عدالت کے مترادف تھی تو عدلیہ کو اس پر کاررائی کرنی چاہئے تھی۔ کیونکہ عدلیہ تو یہ کہتی رہی ہے کہ چاہے آسمان گرے  وہ کسی ی پرواہ کئے بغیر  اپنا فیصلہ دیتی رہے گی۔ ملکی تاریخ میں حال ہی میں تین توہیں عدالت کے ہائی پروفائل معاملات رونما ہوئے ہیں۔ پہلا وزیر اعظم گیلانی  کو کیس ہے جس میں انہوں نے سوئس حکام کو خط لکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ تو عدالت نے انہیں سزا دی۔ جبکہ اسی کیس میں دوسرے وزیر اعظم راجا پرویز اشرف سزا لگتے لگتے بچ گئے۔ دوسرا کیس ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کا تھا۔جنہیں نے عدلیہ کے خلاف س توہین آمیززبان استعمال کرنے پر عدلات میں طلب کیا گیا تھا، مگر وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔ اور عدلیہ نے ان کے تحریری بیان پر انہیں معاف کردیا تھا۔ اب  توہین عدالت سے متعلق تیسرا معاملہ علامہ قادری کا سامنے آیا ہے۔ اور ان کے معاملے میں عدلیہ نے تحمل کا مظاہرہ کیا  اور ان کے خلاف کارروائی نہیں کی۔  

طاہرالقادری نے عدالت میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سابق صدر پرویز مشرف سے حلف لینے والی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ ملکہ برطانیہ کی وفاداری اور ڈکٹیٹر سے حلف لینے میں کیا فرق ہے۔اس پر  اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ یہ دونوں برابر کے گناہ ہیں۔اس سے پہلے علامہ قادری عدلیہ کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے اور اسلام آباد کے دھرنے کے موقع پر بھی انہوں نے  عدلیہ سے بہت امیدیں وابستہ کی ہوئیں تھی۔ انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ موجودہ سپریم کورٹ میں موجود بعض ججز  اس کے شاگرد یا حامی ہیں۔ واقعی ایسا تھا  یا وہ  عوام  کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے بااثر ہونا دکھانے کے لیے یہ جتن کر رہے تھے۔ 

قادری کا کہنا ہے کہ عدالت نے ان کی نیک نیتی اورحلف وفاداری کی وجہ سے انہیں مشکوک بنا دیا۔حکومت کا اس درخواست پر عجیب موقف سامنے آیا۔ اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ طاہر القادری کا حق دعویٰ بنتا ہے اور نیک نیتی کا تعین کرنے کے لیے بدنیتی ثابت کرنا ہوگی۔عدلیہ میں پہلی مرتبہ  درخواست گزار  کی کریڈینشل کا سوال اٹھا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ دہری شہریت رکھنے والے پاکستانی اپنے بنیادی حقوق کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں یا نہیں؟ 
 چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کایہ کہنا امید افزا بات ہے کہ پاکستان میں سو سے زیادہ رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں ہیں جبکہ قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس منتخب ارکان ہیں لیکن طاہرالقادری کے سوا ان میں سے کسی کو بھی الیکشن کمیشن پر تحفظات نہیں۔یہ بات کہہ کر چیف جسٹس نے سیاسی جماعتوں کی پوزیشن کو تسلیم کیا ہے۔ 
ایک لحاظ سے یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ علامہ اس مطالبے کو بجائے اس کے کہ دھرنوں اور احتجاجوں میں لے جاتے، عدلیہ میں لے آئے ہیں جو ایک مثبت بات ہے۔ کیونکہ یہ ایک آئینی معاملہ ہے جس کی تشریح عدلیہ  ہی کر سکتی ہے۔ اگر دھرنوں اور احتجاجوں میں لے جاتے تو حکومت اور سیاسی جماعتوں کی پوزیشن نہیں تھی کہ وہ اس معاملے کا  تحفظ کر پاتیں۔ لانگ مارچ اور اس کے بعد دھرنے کی مثال ہمارے سامنے ہے۔بہرحال یہ بھی حقیقت ہے کہ اس فیصلے کے بعد  علامہ نے لانگ مارچ دھرنے اور بعد میں حکومت سے معاہدے کے ذریعے جو اخلاقی  حمایت حاصؒ کی تھی وہ ختم ہو گئی ہے۔ 
عدلیہ نے دہری شہریت رکھنے والے ایک درجن سے زائد اراکین اسمبلی کی رکنیت ختم کردی تھی۔اگر عدالت علامہ قادری کی درخواست منظور کر لیتی تو اس کو اپنے پہلے فیصلے ہٹنا پڑتا۔ 
الیکشن کمیشن کو گزشتہ  دو ہفتوں سے متنازع بنایا جا رہا تھا،عدلیہ کے اس فیصلے سے یہ تکرار ختم ہوگئی ہے۔ اور اس کے ساتھ وہ افواہیں بھی دم توڑ گئی ہیں کہ دباؤ کی وجہ سے چیف الیکشن کمشنر  اپنی طبع اور عمر کی وجہ سے استعیفا دے یں گے۔ اور یوں پہلے نگراں حکومت کی تقرری جس میں بھی  الیکشن کمیشن کا رول ہے اور بعد میں خود انتخابات خطرے میں پڑ جائیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر  فخرالدین جی ابراہیم نے علامہ قادری کی درخواست مسترد کرنے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے پر دونوں آئینی ادارے یکساں سوچ رکھتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان پارٹیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا جو جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔تاہم درخواست مسترد ہونے پر  تحریک انصاف، قاف لیگ  اور ایم کیو ایم کو افسوس ہوگا۔ کیونکہ یہ جماعتیں اس مطالبے پر علامہ کی حمایت کر رہی ہیں۔ تحریک انصاف اور قاف لیگ اپنے پچھلے موقف سے ہٹی ہیں۔ اور بظاہر  ان  جماعتوں نے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔  
سپریم کورٹ نے اقتداری دائرے میں اپنی جو جگہ بنائی ہے وہ چھورنے کے لیے تیار نہیں۔ 
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جب  ملک کی سیاسی فضا میں تبدیلی آئی تو حکومت کے تیور بھی بدل گئے۔ وہ علامہ قادری سے مزید بات چیت کرنے اور اس کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے حکومت کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ تاہم  یہ بات اپنی جگہ پر ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعت قاف لیگ ابھی تک زور دے رہی ہے کہ علامہ قادری سے کئے گئے معاہدے پر عمل درآمد کیا جائے۔ 
اگرچہ نیا الیکشن کمیشن تشکیل دینا ایک دو ہفتوں کا عمل بتایا جاتا ہے پر ا پر اتفاق رائے ہونا مشکل ہ جاتا۔ علامہ کی درخواست پر سیاسی حلقے خاصے پریشان تھے کہ اگر ان کا موقف مان لیا جاتا ہے تو انتخابات یقیننا ملتوی ہوتے۔ اب کوئی نیا پینڈورا باکس نہیں کھل رہا ہے تو سیایس جماعتوں کو چاہئے کہ وہ انتخابات کی تیاری کریں اور حکومت کو چاہئے کہ وہ نگران سیٹ اپ کا اعلان کرے اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے۔

No comments:

Post a Comment