Sun, Jan 6, 2013 at 11:41 PM
نگراں حکومت میں علامہ قادری کا کنٹریبیوشن
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
علامہ طاہرالقادری کے غبارے سے بڑی حد تک ہوا نکل چکی ہے۔ان کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔
مرزا غالب کے الفاظ میں:
تھی خبر خبر گرم اڑیں گے پرزے غالب کے، گئے ہم بھی تھے پر تماشہ نہ ہوا۔
سو تماشہ ہونے سے پہلے ہی تماشبین تتر بتر ہو گئے ہیں۔
علامہ شیخ الاسلام نے جیسے ہی سرگرمیاں شروع کیں تو ان کو اسٹبلشمنٹ کے روایتی اتحادیوں کی حمایت ملی۔اس پر شبہ تو پیدا ہونا ہی تھا۔اس شبہے کو وہ دور نہ کر سکے۔ انہیں میڈیا سے کو کوئی مثبت ریسپانس نہیں ملا۔ بلکہ ریاست کے پانچویں ستون نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا۔میڈیا پر اگرچہ خاصی تنقید کی جاتی رہی ہے، لیکن اس کے اس مثبت کردار کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔
تعجب کی بات ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی آشیرواد والے کالم نگار بھی ان کی حمایت نہ کر سکے۔ ریٹائرڈ جرنیلوں، دفاع پاکستان کونسل، جماعت اسلامی کے علامہ کے خلاف سخت بیانات آنے لگے۔سب نے اس کو غیرجمہوری قوتوں کی چال قرار دیا۔ادھر ایٹمی سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی کچھ مذہبی جماعتوں کو اپنے گرد کٹھا کر لیا۔ یوں مذہبی جماعتوں کا ایک گروپ جو شاید علامہ کی طرف جاتا وہ بھی اپنی الگ شناخت بنا کر بیٹھ گیا۔
یہ بات بڑے زور شور سے کہی جانے لگی کہ علامہ کی اس تحریک کے پیچگے مضبوط اور خفیہ ہاتھ ہیں۔صورتحال یہاں جا کر پہنچی کہ ملک کے اہم ادارے نے بھی بیان جاری کیا علامہ قادری کو ملک کے سیکیورٹی اداروں کی حمایت حاصل نہیں۔ اگر کوئی ایسا تاثر پایا جاتا ہے ہے تو وہ کسی غلط فہمی کی بنیاد پر ہے۔ اسکے بعد شیخ الاسلام کی زبان لڑکھڑانے لگی۔ ان کی حمایت میں بیان آنا بند ہو گئے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کھل کر علامہ کے خلاف باہر آ گئے۔ پنجاب اسمبلی نے قرارداد منظور کی سنیٹ کے اجلاس میں علامہ پر تنقید کی گئی۔ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم اپنی تنہائی دور رکنے کے لیے علامہ کی کشتی میں سوار ہو رہی تھی۔ جس کو روکنے کے لیے صدر آصف زرداری نے اپنے وزیر داخلہ رحمان ملک کو الطاف حسین سے ملاقات کے لیے لندن بھیجا۔ بعد میں خود صدرزرداری نے الطاف حسین سے فون پر بھی بات چیت کی۔ ان ہنگامی رابطوں کے نتیجے میں الطاف حسین نے حکومت میں رہنے پر رضامندی ظاہر کی۔ حکومت کی ایک اور اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) بھی علامہ کے ساتھ جانے کے لیے پر تول رہی تھی، مگر اب وہ بھی واپس اپنی جگہ پر آگئی ہے۔
اب صورتحال یہ ہے ایم کیو ایم کی علامتی حمایت کے علاوہ قادری کے مارچ یں اور کوئی جماعت حمایت کے لیے موجود نہیں ہے۔
دریں اثناء امریکی نائب سفیر رچرڈ ہوگلینڈ نے کہا ہے کہ امریکہ قادری سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کر رہا ہے۔ لہٰذا اب صورتحال یہ ہے کہ علامہ کی نہ کوئی سیاسی جماعت حمایت کر رہی ہے، نہ ہی سیکیورٹی ادارے اور نہ ہی امریکہ کا یا برطانیہ۔ ورنہ یہی کہا جا رہا تھا کہ عسکری قوتیں اور علاقے میں دلچسپی رکھنے والے بعض ممالک علامہ کی اس تحریک کی پشت پر ہیں۔
اگر قادری کو حقیقی معنوں میں میدان جنگ میں اتارا گیا تھا تو ان لوگوں کا بڑا نقصان ہوا۔
طاہرالقادری کی دھمکی نے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو قریب کردیا ہے۔نواز شریف کو زیادہ شکوک تھے۔ کیونگی مسلم لیگ (ق) اور عمران خان بھی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ شیخ الاسلام کی آمد بھی پنجاب سے ہوئی۔ جو نواز شریف کی سیاست کا مرکز تھا۔ اکیلاپنجاب اتنی نشستیں رکھتا کہ حکومت بن سکے۔ یہ بات نواز شریف کو سمجھ میں آگئی۔ اور وہ پیپلز پارٹی کے قریب آنے پر مجبور ہو گئے۔علامہ قادری کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا، ان کے مدنظر ملک کی دو بڑی پارٹیوں کا متحد ہونا کوئی غیرمنطقی عمل نہیں۔ یہ دونوں جماعتیں جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے ایک نکاتی ایجنڈا پر متفق ہیں۔ اب ان کے درمیان غیر اعلانیہ مگر واضح مفاہمت ہے۔ اگر یہ دونوں مل کر طاہرالقادر کی ی تحریک کا مقابلہ کریں گی تو انتخابات وقت پر ہونگے۔ اس کے لیے دونوں فریقین نے نگراں حکومت کے لیے مشاورت شروع کردی ہے۔ اس عمل میں ان دو بڑی جماعتوں کو جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور اے این پی کی بھی حمایت حاصل ہوگی۔ کیونکہ یہ جماعتیں بھی لانگ مارچ اور انتخابات ملتوی کرنے کے بھی خلاف ہیں۔
نگراں وزیر اعظم کے طور پر نوازشریف نے بہت عرصہ پہلے عطاء اللہ مینگل کا نام فلر کے طور پر ہی سہی پیش کیا تھا،جس پرسردار مینگل نے کہا کہ یہ ان کے ساتھ بڑا مذاق ہوگا۔ نواز شریف کی اس تجویز کے پیچھے یہ خیال پنہاں تھا کہ بلوچستان کو مین اسٹریم میں لایا جائے۔ اس کے بعد انسانی حقوق کے جدوجہد کی علامت عاصمہ جہانگیراور ریٹائرڈ جسٹس سعیدالزماں کے بھی نام میڈیا میں آئے۔عاصمہ جہانگیر سخت موقف کی وجہ سے بعض حلقوں کے لیے قابل قبول نہیں ہو رہی تھیں۔ عاصمہ اپنے رویے اور طبع میں سیاستداں نہیں۔ لہٰذا ان کا تقرر سیاستدانوں کو بہت زیادہ اچھا نہیں لگتا۔سنیٹر رضا ربانی اور اسحاق ڈار کے نام بھی تجویز کئے گئے تھے۔ لیکن ان دونوں کی اپنی اپنی پارٹیوں سے طویل رفاقت اور وابستگی کے باعث ان کے نام بھی آگے نہیں برھ سکے۔
اب سینئر سیاستداں محمود خان اچکزئی کا نام سامنے آیا ہے جس پرتمام حلقے متفق ہو سکتے ہیں۔قوم پرست شناخت رکھنے والے اچکزئی سیاسی طور پر منجھے ہوئے سیاستداں ہیں وہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دونوں کے ساتھ مختلف وقتوں میں اتحادی رہ چکے ہیں۔ اچکزئی ایک عرصے تک خاموش بیٹھے تھے۔ انہوں ے غیر اعلانیہ طور پر پٹھان سیاست میں عوامی نیشنل پارٹی کو واک اوور دیا ہوا تھا۔ نگراں وزیر اعظم کے طور پر ان کے تقرر کی خاصے حلقے دلی طور پر آجیاں کریں گے۔ وہ ملک کے قوم پرستوں کے اتحاد پونم کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ ان کے سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، اور سرائیکی بیلٹ کے قوم پرستوں کے ساتھ اچھے روابط اور دوستیاں ہیں۔
اس پٹھان قوم پرست سیاستداں کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ یہ صوبہ گزشتہ دس سال سے گرم ہے جہاں عملی طور پر گوریلا جنگ لڑی جارہی ہے۔ ابھی دو روز قبل جعفر ایکسپریس پر حملے میں لیوی اہلکاروں سمیت چار افراد مارے گئے۔ مشکی میں بھی تازہ واقعہ ہوا ہے۔صدر آصف زرادری نے ذاتی طور پر بھی معافی مانگی اور بلوچستان پیکیج بھی دیا۔ لیکن یہ پیکیج بھی کوئی اثر نہیں دکھا سکا۔ کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ باقی صوبوں میں تو انتخابات کرا لیے جائیں گے، مگر اس شورش زدہ صوبے کا کیا بنے گا جس کے لیے چیف جسٹس بھی کہہ چکے ہیں کہ وہاں کوئی حکومت نہیں۔ قانون کی رٹ نہیں۔یہاں پر شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لوازمات کیسے پورے ہونگے؟ امیدوار کہاں سے آئیں گے؟ انتخابی مہم کیسے چلے گی؟ پولنگ ایجنٹ کہاں سے آئیں گے؟
بلوچستان کو کسی نہ کسی طور پر مین اسٹریم میں لانا ازحد ضروری ہے۔ سردار مینگل شاید بہتر آپشن تھا اور سیاسی جماعتوں کو اعتراض نہیں ہوتا۔ لیکن سردار مینگل حکومتی صفوں سے اقتدار میں جانا نہیں چاہ رہے ہیں۔ وہ اپوزیشن سے ہی اقتدار میں جانا چاہتے ہیں۔ ایسے میں محمود اچکزئی کی نامزدگی بڑی حد تک اس سوال کا جواب پیش کر سکتی ہے۔ یعنی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اس پٹھان قوم پرست سیاستداں کا نام پیپلز پارٹی تجویز کرے، اے این پی اس کی حمایت کرے اور نواز لیگ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اور سب کو قابل قبول ہو سکتے ہیں۔
صرف اتنا ہی نہیں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو چاہئے کہ دونوں جماعتیں مشترکہ طور پر علامیہ بھی جاری کریں کہ جمہوری نظام کو پٹری سے اتارنے نہیں دیا جائے گا اور انتخابات ہر حال میں وقت پر ہونگے۔
علامہ طاہرالقادری کا بہرحال یہ کنٹریبیوشن تاریخ میں لکھا جانا چاہئے کہ ایک مشکل وقت میں حکومت اور اپوزیشن کو کٹھا کرنے میں انہوں نے رول ادا کیا۔
No comments:
Post a Comment