Monday, 9 March 2020

اسلحہ سے پاک: مگر .. Nov 22, 2012

Thu, Nov 22, 2012, 10:36 AM
اسلحہ سے پاک: مگر گھنٹی کون باندھے
 میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
پیر کے روز سنیٹ نے کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے قراداد کی منظوری کی جس کی ایم کیو ایم نے مخالفت کی۔ دوسرے روز قومی اسمبلی  نے ایم کیو ایم  کی پورے ملک میں اسلحے کے خلاف آپریشن کی قرادردمنظور کی۔   حال ہی میں ایک مرحلہ پر ایم کیو ایم بھی کراچی میں آپریشن کا مطالبہ کر چکی ہے۔مگر اب مخالفت کر رہی ہے۔
 ایک عرصے سے کراچی بدامنی کی  اور دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ جہاں حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود تارگیٹ کلنگز بند نہیں ہو سکی ہیں۔کراچی صرف سندھ کا دارلحکومت ہی نہیں بلکہ ملک کی سب سے بڑی بحری بندرگاہ اور صنعتی و تجارتی حب ہے۔اس شہر میں پر تجارتی سرگرمیاں ختم ہو چکی ہیں۔اسٹریٹ کرائیم، بھتہ خوری  انتہا پر ہے۔ جس کے خلاف تاجر تنظیمیں احتجاج اور ہڑتال کی دھمکیاں دیتی رہی ہیں۔ سپریم کورٹ بھی اس بڑے شہر کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کا حکم دے چکی ہے۔دہشتگردی کی حالیہ لہر گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔گزشتہ چند ہفتوں سے ملک کے سیاسی و انتظامی حلقوں میں کراچی میں آپریشن کی باتیں چل رہی ہیں۔ اب ایوان بالا نے اس شہر میں قرارداد منظور کی ہے۔ایوان بالا کی قرارداد کے جواب میں قومی اسمبلی نے پورے ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کی قرارداد منظور کی ہے۔    کراچی  بھی ملک کا حصہ ہے۔ تو پھر کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی قرارداد اور ایسی کارروائی پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔اور نہ ہی جوابی قرارداد منظور کرانی چاہئے۔ بلاشبہہ پورے ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے سے سنیٹ کی قرارداد پر بھی عمل ہو جائے گا اور قومی اسمبلی کی قرارداد پر بھی۔ آخر کہیں سے تو شروعات کرنی ہے۔
 کیا واقعی پورے ملک کو ہتھیاروں سے پاک  یا جا سکتا ہے؟ ہمارے منتخب نمائندے بھی سمجھتے ہیں کہ ملک کو اسلحہ سے پاک کرنا اتنا آسان  نہیں۔  نہ صرف اتنا بلکہ  یہ سوال بھی اتنا ہی اہم ہے کہ کیا موجودہ حکومت ایسا کرے گی؟  ہمیں نہیں لگتا۔ کیونکہ حکومت کی مدت مکمل کرنے میں باقی چند ماہ ہی۔ لہٰذا وہ ایسا کرنے سے گریزاں ہے۔
عدلیہ، انتظامی مشنری اور سیاستداں اس بات  سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ جرائم  اور بدامنی کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں۔اسلح کا سیاسی  مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جرائم بھی زیادہ ہوتے ہیں اور انتظامیہ کو  روزمرہ کے معاملات میں بھی  عمل کرنے میں دقت ہوتی ہے۔  اور اسی وجہ سے کسی بڑی کارروائی کرنے میں بھی دقت ہوتی ہے۔ کراچی  کی صورتحال پر ملک کے اکثر حلقوں کا  اتفاق ہے کہ یہاں پر امن امان کے لیے زیادہ مؤثر اقادمات کرنے کی ضرورت ہے۔اس بات پر بھی خاصا اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ میں کسی سیاسی فریق کی پسند ناپسند سے ہٹ کر کارروائی ہونی چاہئے۔ اصولی بات تو یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اس بات کا احساس کریں اور حکومت سب کو اعتماد میں لے۔ ان جماعتوں سے کہا جائے کہ وہ اپنی مسلحہ ونگ ختم کریں اور ہتھیار سرینڈر کردیں۔ مگر یہ تب ہو سکے گا جب تمام جماعتوں کو یقین ہوگا کہ سب فریق ایسا کر رہے ہیں۔اگر سیاسی جماعتیں ایسا کرنے پر راضی ہو جاتی ہیں اور اس طرح کی کارروائی کی جاتی ہے تو بعد میں بعد جرائم میں ملوث مافیاؤں میں آسانی سے ہاتھ ڈالاجا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے اور سنیٹ کی قرارداد کے بعد حکومت ایسی کارروائی کرنے کی پابند ہے۔مگر اس میں تھوڑی سی فنکاری یہ کی گئی ہے کہ قومی اسمبلی سے  پورے ملک کے لیے قرارداد منظور کرا لی گئی ہے۔ اس معاملے میں پیپلز پارٹی اپنی اتحادی ایم کیو ایم کے ساتھ کھڑی ہوئی نظرآتی ہے۔
ملک میں اسلحے کا بیج افغان جنگ میں بویا گیا تھا۔ اور پرائی جنگ خود پر مسلط کرنے کے سبب دنیا کے مختلف ممالک سے انتہا پسند یہاں آئے اور اسلحے کی ریل پیل بھی ہوئی۔ اس اسلحہ کی وجہ سے ہر طرح کے جرائم، قبائل جھگڑوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی اسلحہ کا استعمال بڑھ گیا۔ یہاں تک کہ اب کراچی وغیرہ میں کسی سیاسی جماعت کی حیثیت ناپی ہی اسی بنیاد پرجاتی ہے کہ اس کے پاس گن پاور کتنا ہے؟ پاکستان میں  اب تو  اسلح کا کلچر پیدا ہو چکا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ شدت پسندی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔لہٰذا تھوڑی بہت حیثیت والا شخص بھی اپنے ساتھ اسلحہ رکھنا چاہتا ہے اور یہ بات اب فیشن اور نماء میں بھی شامل ہو چکی ہے۔اگر اسلحہ ہوگا تو استعمال بھی ضرور ہوگا۔اور یہی ہتھیار ملک میں شدت پسندی کو پراون چڑھانے اور رواداری کو ختم کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
 مختلف گروہوں اور سیاسی تنظیموں نے اپنے مفادات کے لیے کراچی کو  میدان جنگ بنا رکھا ہے۔ اس وقت کراچی بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ہر دور میں حکومت کی خواہش رہی ہے کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کیا جائے۔مگر کوئی بھی اتنی جرئت نہیں کر پا رہا ہے۔ نتیجے میں اس میٹرپولیٹن شہر میں اسلحہ کے ذخیرے بڑھتے جا رہے ہیں۔آج کی دنیا  اسلحہ کی نہیں قلم اور سیاسی جرئت  عوام دوست پالیسیوں کی بڑی اہمیت ہے۔اور ہتھیاروں کے استعمال کو نحوست سمجھتا ہے۔
کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے مختلف حلقے وقت بوقت مطالبے اور کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ مگر بعض فریق اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا شہر میں امن قائم نہیں ہو سکا ہے۔آپریشن بلیوفاکس کے نام سے نواز شریف کے دور حکومت میں 1992 میں آپریشن کیا گیا۔یہ آپریشن میجر کلیم کو اغوا کر کے اذیتیں دینے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔اس آپریشن کے نتائج بھی دیرپا ثابت نہ ہوئے۔دوسرا آپریشن بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں جنرل نصیراللہ بابر نے کیا تھا۔کراچی کی تاریخ میں یہ دو بڑے آپریشن تھے۔ مگر مشرف دور اور بعد میں پیپلز پارٹی کے دور میں کراچی کو پرامن رکھنے کے لیے کسی ایسے آپشن پر غور نہیں کیا گیا۔ان ادوار میں ایک بار پھر حکومت کی کوشش رہی کہ اس معاملات کو سیاسی طور پر نمٹا جائے۔ مگر اس سیاسی حل  ڈھونڈنے کے باوجود  کراچی میں  دہشتگردی اور قتل و غارگری بند نہ ہو سکی۔ایک آپریشن لیاری میں کیا گیا تھا۔ مگر اس کے نتائج بھی سب کے سامنے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ آپریشن ایک سیاسی جماعت کی ایما ء پر کیا گیا تھا۔
اب انتخابات قریب ہیں ایسے میں ہر سیاسی فریق  اپنی طاقت کا مظاہرہ ہتھیاروں سے ہی کرے گا۔ ایسے میں جب کراچی میں بڑے پیمانے پر اسلحہ موجود ہو  اور لسانی و فرقہ وارانہ کشیدگی بھی ہو تو پھر اس بڑے شہر میں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے۔اسلحہ سے پاک کرنے کا نعرہ جتنا جاذب اور پرکشش نظر آتا ہے اتنا آسان نہیں۔ اس میں سیاسی حلقوں اور عدلیہ کو ہی اپنا اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ یہی دو قوتیں ہیں جوہ اگر اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا کریں۔ مسئلہ اسی وقت خراب ہوتا ہے جب  اسلحہ کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوتا ہے۔ سب کو مل کر سوچنا چاہئے اور حل نکالنا چاہئے کہ کس طرح سے اس استعمال کو مؤثر طور پر روکا جا سکتا ہے۔اگر یہ حل نکالا گیا تو جرائم اور دہشت گردی سے بڑے حد تک نمٹا جاسکتا ہے۔

No comments:

Post a Comment