Tuesday, 10 March 2020

دھرنا سیاست کی مقبولیت - Feb 21, 2013

Thu, Feb 21, 2013 at 10:23 AM
دھرنا  سیاست کی مقبولیت
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی اور علامہ طاہرالقادری کے دھرنوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے عنصر کا اضافہ کیا ہے۔ بعض  پریشر گروپس کا خیال ہے کہ اب مسائل  دھرنے سے ہی حل ہو سکتے ہیں یا  یہ دھرنے کسی بڑی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔احتجاج کی  یہ شکل گو پرانی  ہے مگرآج بھی اس موثر ہے۔ حالیہ احتجاجوں  نے اس میں نئی جان ڈال دی ہے۔ 
 مظاہرہ وقتی طور پر احتجاج کرکے متعلقہ حکام کو مطالبات پیش کئے جاتے ہیں  یا  ان مطالبات کی طرف عام لوگوں کی توجہ دلائی جاتی ہے۔ ریلی  اور جلوس موبائل احتجاج ہے جو احتجاج کرنے والے اہم علاقوں کا گشت کرکے لوگوں کو اپنی اور اپنے مطالبات کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ دھرنے کی نوعیت  ان دو سے مختلف ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی فلسفہ کسی مطالبے پر اصرار کرنا ہے۔ یعنی یہ احتجاج کسی عمل کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مظاہرین کسی اہم جگہ پر دھرنا مار کر اس طرح بیٹھ جاتے کہ کوئی مخصوص عمل کو روک سکیں۔یا اس میں رکاوٹ بنیں۔دھرنے میں عزم اور مالکی زیادہ ہوتی ہے کہ ہم تب تک بیٹھے ہیں جب تک مطالبات منظور نہیں ہوتے۔ 
دھرنوں کی حالیہ لہر  وال اسٹریٹ پر قبضے سے شروع ہوئی۔ اس کے بعد بڑا اورکامیاب تجربہ مصر کے التحریر اسکوائر کا ہے۔ جس نے مصر کے صدر حسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہاں کی متحرک قوتوں کو اس کے نتیجے میں آنے تبدیلی کو برقرار رکھنا خاصا مسئلہ ہو رہا ہے۔
دھرنا دراصل راست قدم کی ایک شکل ہے۔ جس میں لوگ کسی جگہ پر قبضہ کر کے  احتجاج کرتے ہیں اور یہ احتجاج عدم تشدد والا ہوتا ہے۔ یہ عمل سیاسی، سماجی یا معاشی تبدیلی کے لیے ہوتا ہے۔
عام طور پر مظاہرین کسی حکمت عملی والی جگہ پر قبضہ لر لے بیٹھ جاتے ہیں۔ اور وہ  وہاں تب تک رہتے ہیں جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں ہو جاتے یا پھر انہیں زبردستی  اٹھایا نہیں جاتا یا گرفتار نہیں کیا جاتا۔ عام طور پر دھرنے احتجاج کا کامیاب ترین نسخہ رہے ہیں۔کیونکہ یہ پورے عمل میں رخنہ پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کرتے ہیں۔  اور اس طرح اپنے مسئلے کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔یہ کسی بھی علاقے کو  پرامن طریقے سے بند کرنے کا موثر طریقہ ہے۔ احتجاج کرنے والے پرامن ہوتے ہیں ایسے میں حکومت طاقت کا استعمال کرتی ہے تو بھی مصیبت میں آجاتی ہے۔ کیونکہ لوگوں کی ہمدردیاں احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ہو جاتی ہیں۔ 
دھرنے سول نافرمانی تحریک کا لازمی حصہ رہے ہیں امریکہ میں اس کے نتیجے میں شہری حقوق کا قانون منظور ہوا۔  اور اس کے بعد نسلی بنیاد پر عوامی مقامات پر علحدگی ختم ہوئی۔ اور ووٹنگ کے حق کا قانون منظور ہوا۔ 
انیس سو چالیس کی دہائی میں  شہری حقوق کی دو تنظیموں نے دھرنے دیئے۔  برنیئس فشرنے جنہیں ریسٹورنٹ دھرنوں کی ماں کہا جاتا ہے ریسٹورنٹ  کے دھرنوں کی تیکنیک ایجاد کی۔1939ع میں ایک سو کے قریب لوگ ایک ریسٹورنٹ میں پہنچے اور خود کو گاہک کے طور پرپیش کر کے پانچ سینٹ کی کافی کا کپ خرید کیا اور یوں باقی گاہکوں کو جگہ ہی نہیں دی۔
 بعد میں گھیراؤ اور قبضے کی تحریک چلی وہ بھی ایک طرح سے دھرنا ہی تھا۔قبضے کی تحریک بعد میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگی لیکن یہ احتجاج کی شکل بھی مزدوروں کی جدوجہد سے شروع ہوئی جو بہتر تنخواہوں سے لیکر سرمایہ داری نظام کا خاتمہ چاہتے  تھے۔ مزدوروں کا گروہ کسی جگہ پر قبضہ کرکے بیٹھ جاتا تھا اورکارخانے کو چلنے نہیں دیتاتھا۔ صنعتی مزدوروں کی تنظیم پہلی امریکی یونین تھی جس نے  1937ع میں دھرنے یا قبضے کو بطور آلہ اپنی جدوجہد کے لیے استعمال کیا۔ سنہ2011ع میں وال اسٹریٹ پر قبضہ کی تحریک چلی۔ جو دنیا بھر میں چل رہی ہے۔گزشتہ سال اسپین میں بھی دھرنوں کی تحریک چلی۔ اس کے بعد مصر میں انقلاب  التحریر اسکوائر آیا۔
 2010  میں  لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر میں جمہوریت کا گاؤں کے نام سے خیمہ بستی لگائی گئی۔
دنیا بھر کے مزدوروں کی طرح پاکستان میں بھی مزدور یونینز مطالبات منوانے کے لیے دھرنے دیتی رہی ہیں۔ مگر پاکستان میں سیاست میں دھرنے کا تصور مولانا بھاشانی نے ساٹھ کے عشرے کے آخر میں گھیراؤ جلاؤ  کے نعرے سے کیا۔ ایک حد تک پیپلز پارٹی اور بائیں بازو کے بعض گروپ بھی اس نعرے میں بہہ گئے۔ ساٹھ اور ستر کے عشرے میں بعض مزدور ینینز نے کارخانوں کا گھیراؤ کر مطالبات منوانے کی کوشش کی۔ جس کے نتیجے میں کراچی اور لاہور مزدوروں پر گولی چلائی گئی اور کچھ مزدور شہید بھی ہوئے۔پاکستان  کی ماضی قریب کی تاریخ میں دھرنے کی سیاست لانگ مارچ کیساتھ آئی۔ نواز شریف  کے دور حکومت میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف  بینظیر بھٹو نے سندھ ہنجاب سرحد پر اور ولی خان نے اٹک کے پل پر دھرنا دیا تھا۔ یہ دھرنا اگرچہ مختصر مدت  کے لیے تھے۔ مگر موثر ثابت ہوئے۔ 
سندھ میں قوم پرست جماعتیں مختلف ادوار میں دھرنے دیتی رہی ہیں۔ مگر ان دھرنوں کے نتیجے میں ان کے مطالبات منظور نہ ہو سکے۔ 
حال ہی میں علامہ طاہرالقادری نے انتخابی قوانین اور نگراں حکومت کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دھرنا دیا۔یہ دھرنا ایک حد تک کامیاب رہا کہ حکومت کو ان کے ساتھ معاہدہ کرنا پڑا۔ انہی دنوں میں کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی نے دہشتگردی کے واقع کے خلاف دھرنا دیا۔ جس میں 83 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ حکومت کو ان کے مطالبات ماننے پڑے۔ 
اب ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔ جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے۔ ان واقعات کو ہزارہ کمیونٹی جس کا تعلق اہل تشیع  فرقے سے ہے  انہوں نے کمیونٹی کی نسل کشی کے مترادف قرار دیا  اور اس کے خلاف  پیر اور منگل کو کوئٹہ کے ساتھ ملک بھر میں دھرنے دیئے۔ تمام شاہراہیں بلاک کردی گئی۔ اور انہوں نے تب تک لاشیں دفنانے سے انکار کردیا جب تک ملازمان کی گرفتاری کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات نہیں لییی۔ گزشتہ ماہ ان کے مطالبے پر بلوچستان میں رئیسانی کی صوبائی حکومت  ختم کر کے گورنر راج نافذ کردیا گا تھا۔ اس مرتبہ  ان  کی لسٹ میں یہ مطالبہ یہ بھی شامل ہے کہ کوئٹہ کا انتظام فوج کے حوالے کیا جائے۔ 
ملک بھر میں اہل تشیع نے کوئٹہ کے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی دکھا کر عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔  ہزارہ کیمونٹی کے خلاف کاروایاں روکنے میں حکومتی اداروں کے ناکامی نے یاست کی کزوری کی پول کھول دی ہے۔ کیونکہ گزشتہ ماہ بھی اس طرح کا واقعہ ہوا تھا۔ جس پر کمیونٹی نے اسی طرح کا احتجاج کیا تھا۔ اور حکومت کی یقین دہانی کے بواجود دوبارہ واقعہ رونما ہوا۔  
سندھ کے قوم پرستوں نے متنازع بلدیاتی نظام کے خلاف حیدرآباد کے بائی پاس پر دھرنا دینے کی کوشش کی تھی، مگر پولیس نے ان  سے بائی پاس خالی کردیا۔ لیکن  علامہ قادری کے دھرنے یا سندھ سمیت ملک بھر میں منعقد ونے والے دھرنوں  کے خلاف پولیس یا  رینجرز وغیرہ استعمال نہیں کی گئی۔ یہ معاملہ اس وجہ سے بھی حساس تھا کہ کوئٹہ میں درجنوں لوگوں کی ہلاکت ہو چکی تھی۔ اور وہ مظاہرین لاشیں رکھ کر احتجاج کر رہے تھے۔ عالمی برادری  کے آواز اٹھانے کی وجہ سے معاملے کی حساسیت اور بھی بڑھ گئی تھی۔ 
دھرنے کی اثرپذیری کی وجہ سے بعض سنجیدہ حلقوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا دھرنوں کو سماجی تبدیلی یا انقلاب میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟دھرنے کے ذریعے شاید کوئی چھوٹا موٹا مطالبہ تو منوایا جاسکتا ہے لیکن سماجی تبدیلی کے لیے لگنے والا ہر دھرنا کامیاب نہیں ہوتا۔ صرف وہی دھرنے کامیابی حاصل کر پاتے ہیں جن کے پشت پر کچھ دوسری طاقتیں بھی ہوں۔ 
اگرکوئی سیاسی قوت یا کوئی پرکشش نعرہ عوام کو اتنا متحرک کر بھی دیتا ہے کہ وہ قتدار پر قبضہ کر لے، تو یہ قبضہ وقتی ہوتا ہے۔ کیونکہ اس قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے  جس تنظیم کاری کی ضرورت ہے تو پاکستان سمیت ایسے اکثر ممالک میں ناپید ہے۔ریاستی مشنری ابھی بھی اتنی طاقتور ہے کہ  وہ ایسے کسی چیلینج کا مقابلہ کرسکے۔بلاشبہ عوام میں بڑی طاقت ہے۔ لیکن  یہ طاقت  صرف اس وقت سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے جب تنظیم کاری اور بے لوث قیادت بھی موجود ہو۔   

No comments:

Post a Comment