Mon, Dec 24, 2012, 1207 PM
’بی بی ہم شرمندہ ہیں کہ تیرے قاتل ابھی زندہ ہیں“
۔ کالم سہیل سانگی
پیپلز پارٹی اقتدار کے پانچ سال مکمل کرنے والی ہے۔ مگر تاحال بینظیر بھٹو کے قاتل نہ گرفتار کر سکی ہے اور نہ ہی تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لا سکی ہے۔ کارکنوں کا یہ نعرہ سچا ثابت ہو رہا ہے کہ’’بی بی ہم شرمندہ ہیں کہ تیرے قاتل ابھی زندہ ہیں“۔
ابھی صرف اتنا ہی ہوا ہے کہ مشرف کو مفرور قرار دیا گیا ہے بینظیر بھٹو کے لابیئسٹ مارک سیگل کو عدالت میں بیان قملبند کرانے کے لیے طلب کیا ہے،۔جن کو بینظیر بھٹو نے بذریعہ ای میل آگاہ کیا تھا کہ ان زندنگی خطرے میں ہے۔یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ مارک سیگل بیان قملبند کرانے آتے ہیں یا نہیں۔ امریکی سیکریٹری خارجہ رائیس کونڈی جن کا بینظیر بھٹو کو وطن لانے میں اہم کردار تھا اور انہوں نے منصب چھوڑنے کے بعد اپنی کتاب میں بینظیر بھٹو کے حوالے سے بعض انکشافات بھی کئے ہیں انہیں نہ اقوام متحدہ کی کمیشن اپنا بیان دیا اور انہین نہ ہی عدالت میں لب کیا گیا۔ اسی طرح افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بینظیر بھٹو کو قاتلانہ حملوں سے آگاہ کیا تھا، ان کا بھی نہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن میں بیان نہیں ریکارڈ کیا گیا۔
حکومت نہ مقامی اور نہ ہی عالمی سازش کو بے نقاب کرسکی ہے۔اب جو شواہد سامنے آرہے ہیں وہ باتاتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے قتل میں بھی ملکی اور عالمی دونوں عناصر شامل تھے۔ مگر یہ سازش بھی تاحال منکشف نہیں ہو سکی ہے۔
حکومت اور امریکہ دونوں بیت اللہ محسود کو بینظیر کے قتل کا ذمہ دار ٹہرا رہے تھے۔ مگربعد میں امریکہ ہی نے ڈرون حملے میں محسود کو ہلاک کردیا۔ یاد رہے کہ لیاقت علی خان اور صدر کنینڈی کے قاتلوں کو بھی موقعے پر ہی قتل کردیا گیا تھا۔
قومی اسمبلی نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کی قرارداد منظور کی تھی مگر تاحال اس منتخب ایوان کو بھی تحقیقاتی رپورٹ سے آاگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس اشو پر سندھ اسمبلی کی بھی قرارداد تھی۔ مگر سندھ کے منتخب ایوان کو بھی باقاعدہ رپورٹ سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ بلکہ اراکین اسمبلی کو الگ سے میٹنگ کرکے رحمان ملک نے بریف بعض اسمبلی کو نہیں بتایا گیا۔ سندھ اسمبلی میں بھی صرف اراکین کو بتایا گیا۔
کیا ان حالات میں بے نظیر بھٹو کا قتل کا سانحہ ناگزیر تھا یا بعض حلقوں کی لاپروائی یا ظالمانہ روش کی وجہ سے ہوا۔اب اس کی ذمہ داری نہ امریکی حکام لے رہے ہیں اور نہ ہی مشرف۔
بلاشبہہ وہ وطن واپسی اور اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالنے کی خواہان تھیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ مرنا ہی چاہتی تھیں۔امریکی اداروں اور اہلکاروں کے حوالے سے وہاں کے اخبارات کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ محترمہ پر امریکی سیکریٹری خارجہ کونڈی رائیس نے دباؤ ڈالا کہ وہ واپس وطن جائیں۔اور صدر مشرف ان کی حمایت کر سکتے ہیں ان کا موقف بے نظیر کے تجزیہ کے بر عکس تھا۔
امریکی صحافی روبن رائیٹ اور گلین کیسلر نے 27 دسمبر کو لکھا کہ بینظیر کی وطن واپسی کو آخری شکل وطن کے لیے روانگی سے ایک ہفتہ پہلے کونڈی لیزا سے فون پر بات کے دوران دی گئی تھی۔یہ فون کا ل ایک سال سے زائد عرصے تک جاری خفیہ ڈپلومیسی کا نتیجہ تھی۔ اور اس ڈپلومیسی کو اس وقت سامنیلایا گیا جب امریکہ نے یہ فیصلہ کیا پاکستان کی طاقتورسیاسی خاندان کی فرد واشنگٹن کے اتحادی اس ملک کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بیل آؤٹ کر سکتی ہے۔یہ بے نظیر بھٹو کے لیے ڈرامائی تبدیلی تھی۔
مارک سیگل واشنگٹن میں بینظیر کے لیے لابنگ کر رہے تھے، اور پردے کے پیچھے جاری ڈپلومیسی سے آگاہ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ یہ سمجھنے لگا کہ بینظیر بھٹو استحکام کے لیے خطرہ نہیں بلکہ وہ واحد راستہ ہیں جس کے ذریعے استحکام کی اور مشرف کو اقتدار میں رکھنے کی ضمانت مل سکتی ہے۔
نیوزویک کے مضامین سے پتہ چلے گا کہ رائیس کونڈی بینظیر اور مشرف ٹیم کو مثالی سمجھتی تھی۔ اور کنڈی نے بے نظیر بھٹو کو راضی کیا کہ وہ واپس پاکستان جائیں اور مشرف کے ساتھ ٹیم بنائے۔ مگر جب وہ وطن پہنچی تو مشرف کا عمل، بے نظیر کی چھٹی حس اور زمینی حقائق یہ تھے کہ یہ سب بش انتظامیہ کی خام خیالی تھی اور رائیس کے اقدامات دیوانے کا خواب تھے۔
رائیس اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہڈیل میں ان افواہوں کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہونے لگیں کہ مشرف صدارتی اتخابات کے بعد وردی اتارینگے۔اور وہ آرمی چیف کا عہدہ رکھنے کا ساتھ ساتھ صدرارتی اتنخاب لڑینگے۔بینظیر نے مجھے بتایا کہ جنرل مشرف ایسا نہیں کرینگے۔ اور یہ بھی کہا کہ میں یہ سمجھونگی کہ امریکی حکومت بیچ میں ضامن ہے۔ رائیس کے مطابق ڈیل کا 4 اکتوبر کو اعلان کیا گیا۔ جب 18 اکتوبر کو بینظیر بھٹو وطن لوٹیں تو ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور انکے استقبالی جلوس میں دو دھماکے ہوئے۔ان کی تو جان بچ گئی مگر 140 افراد ہلاک ہوگئے۔رائیس کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر ڈک چینی مشرف کے حق میں تھے۔
دو صحافیوں رائیٹ اور کیسلراپنی رپورٹ میں سی آئی اے اور قومی سلامی کونسل کے ایک اہلکار بروس ریڈلکے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ستمبر میں ڈپٹی سیکریٹری امور خارجہ جان نیگروپونٹے اسلام آباد کا دورہ کیا۔انہوں نے مشرف کو پیغام دیا کہ”بنیادی دی طور پر ہم آپ کے ساتھ ہیں مگر چاہتے ہیں کہ حکومت پر جمہوری لبادہ ہو، اور ہم سمجھتے ہیں اس کے لیے بینظیر کا چہرا نہایت ہی موزوں ہے۔“
مشرف بینظیر کو ناپسند کرتے تھے وہ ہچکچارہے تھے اایسا کرنے سے ان کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے۔ سی آئی اے اہلکارریڈل کے مطابق مشرف کے سامنے دوؤپشن تھے: بینظیر یا نواز شریف۔ مشرف نے ان میں کم نقصان دہ آپشن منتخب کیا۔
جان ریڈؒ کے مطابق خارجہ پالیسی کے کئی کہنہ مشق ماہرین کو اس امریکی پلان کے بارے میں شبہ تھا۔امریکی انتظامیہ، وزارت خارجہ اور محکمہ دفاع میں کئی لوگ تھے جن کا خیال تھا کہ اس آئیڈیا میں آغاز سے ہی برائی ہے۔ کیونکہ یہ دونوں لیڈوں کے ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کے امکانات صفر ہیں۔
ڈیل کے حصے کے طور پر پیپلز پارٹی نے مان لیا کہ وہ مشرف کے تیسری مدت کے لیے صدر کے انتخابات پر احتجاج نہیں کرے گی۔ اس کے بدلے مشرف بینظیر کے خلاف کرپشن کے الزامات واپس لے لیں گے۔ مگر بینظیر نے واشنگٹن سے ایک ضمانت مانگی کہ مشرف آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائیں گے جس کے نتیجے میں سویلین حکومت وجود میں آئے گی۔
سیگل کے مطابق رائیس اس ڈیل کو آخری شکل دینے میں مصروف تھی بینظیر بھٹو کودبئی میں فون کرکے بتایا کہ واشنگٹن اس پروسیس پر عمل ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔ ایک ہفتے بعد یعنی 18 اکتوبر کو بینظیر واپس وطن آئیں۔اس کے دس ہفتے بعد انہیں قتل کردیا گیا۔
حکمت عملی کے طور پر رائیس کا آئیڈیا یہ تھا علامتی قسم کے انتخابات کرکے دنیا کو دکھائیں گے کہ پاکستان میں جمہوریت آگئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کونڈی اپنے اس آئیڈیا پر مصر تھیں کہ مشرفاس کھیل میں پہل کرے گا اور اس کے بعد وہ ان تمام سگنلز کو نظرانداز کرے گا جو اس کے عقیدے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ دراصل مشرف بے نظیر بھٹو کے ساتھ چلنا نہیں چاہ رہا تھا۔ اس لئے وہ ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔
28 دسمبر کو مائیکل ہرش نیوزویک میں لکھا کہ رائیس کے زور بھرنے پر بینظیر بھٹو انتخابات میں حصہ لینے پر راضی ہوئیں اس شرط کے ساتھ کہ وہ بینظیر بھٹو کو تیسرے مرتبہ وزیراعظم بننے کی اجازت دیں گے۔ مگر مشرف نے اس قانون کو تبدیل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔بلکہ ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاس فیصلے کی فوری طور پر صدر بش مذمت نہ کر سکے۔اور نہ ہی امریکیوں نے معاہدے کے دوسری پوائنٹ پر زوردیا جو بینظیر بھٹوکی تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے سے متعلق تھی۔ امریکیوں نے اس معاملے کو لٹکا ہوا چھوڑا۔ پی پی کے ذرائع کے مطابق امریکی اپنے وعدے سے مکر گئے۔
اس رپورٹ کے مطابق کونڈی نے ایک مرتبہ پھر بینظیر کو حفاظت کی یقین دہانی کرائی اور مشرف کو اپنا وعدہ ایفا کرنے کے لیے سرگرم ہوگئیں کہ بینظیر کی حفاظت ضروری ہے۔ وطن پہنچنے کے بعد بینظیر نے رائیس کو آگاہ کیا کہ وہ خطرے میں ہیں۔ان کی وطن واپسی پر استقبالی جلوس میں ان پر خودکش بمبار نے قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ نیوزویک نے لکھا کہ سانحہ کارساز کے بعد بینظیر نے مشرف پر سیکیورٹی فراہم نہ کرنے کا الزام لگایا۔ واشنگٹن میں انتظامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ رائیس نے ذاتی طور پر مشرف پر زور دیا کہ وہ بینظیر کو کم از کم ایسی سیکیورٹی فراہم کریں جو ان کے وزیراعظم کو حاصل ہے۔
ایک مرتبہ پاکستان پہنچنے کے بعدوہ واپس نہیں جاسکتی تھیں۔انہوں نیاپنی سیاسی مہم شروع کردی۔ اگرچہ اکتوبر کے وسط میں انہیں پتہ چل گیا تھا وہ موت کے جال میں ہے۔ اس طرح کے اشارے ہر طرف سے مل رہے تھے۔
بینظیر بھٹو نے27دسمبر کو مارک سیگل کو ای میل بھیجی گئی جس میں انہوں نے اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے شکایت کی تھی۔ انہوں لکھا کہ”مجھے محسوس کرایا جا رہا ہے کہ میں غیر محفوظ ہوں مجھے نجی کاریں، یا کاروں سیاہ شیشے استعمال کرنے، جیمرز فراہم کرنے یا چار پولیس گاڑیاں فراہم کرنے سے روکا جا رہا ہے۔“۔اس سے زیادہ وہ کیا لکھتیں۔
امریکی صحافی لکھتے ہیں کہ محکمہ خارجہ کی یہ ناہلی تھی کہ وہ بینظیر بھٹو کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ اس بات کو تحقیقات میں کیوں نہیں لایا جا رہا ہے؟ کونڈی اور ان کی ٹیم کی بڑی دلچسپی تھی کہ وہ القاعدہ یا دوسرے ایسے دہشتگردوں پر الزام عائد کریں تاکہ انتظامیہ کے اس فیصلے سے توجہ ہٹا سکیں کہ انہوں نے بینظیر کو بھیڑیوں کے نرغے میں ڈال دیا ہے۔
بہرحال ہر مرتبہ بینظیر بھٹو اور ان کے مشیر امریکی انتظامیہ کو سیکیورٹی بڑھانے کے لیے کہتے رہے۔امریکیوں نے بینظیر کو مشورہ دیا کہ وہ پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کریں۔مگر بینظیر اور ان کے شوہر آصف زرداری اس تجویز کو رد کرتے رہے۔کیونکہ انہیں شبہ تھاکہ پاکستان کی اچھے سے اچھی سیکیورٹی ایجنسی میں بھی دہشتگرد گھسے ہوئے ہو سکتے ہیں۔
یہ واقعات بتاتے ہیں کہ کس طرح سے امریکی وزارت خارجہ قتل کے واقع کے لیے مقتولہ کو ہی ذمہ دار ٹہراتی رہی۔تعجب کی بات ہے کہ رائیس کونڈی اور اسکی ٹیم مشرف پراپنا اثر استعمال کرنے میں ناکام ہو رہی تھی اور پرائیویٹ فرم کی خدمات کے لیے زور دے رہی تھی۔ مشرف بینظیر بھٹو کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا جو کہ آئندہ انتخابات میں ان کی پارٹنر قرار دی جارہی تھی۔ جب کراچی سانحہ میں 136جیالے ہلاک ہوئے تو نیویارک ٹائیمز نے رپورٹ دی کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بینظیر کوملک چھوڑنے سے روک دیا ہے۔
اس طرح سے بینظیر بھٹوامریکی سیکریٹری رائیس کونڈی کے وعدے اور امریکہ کی یقین دہانیوں کی بھینٹ چڑھ گئیں۔اگر امریکہ واقعی بینظیر کی سیکیورٹی چاہتا تھا اور مشرف کو بھی ہرحال میں بچانا اور اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا تو اس سے بینظیر کی سیکیورٹی کیوں نہ حاصل کر سکے۔ اور بیت اللہ محسود یا کسی اور دہشتگرد کا نشانہ بنی۔ یہ بڑے اہم سوال ہیں۔جن کے جواب میں ہی قتلکا سراغ موجود ہے۔ موجودہ پی پی حکومت ابھی تک ملکی وعالمی سازش کو بے نقاب کرنے میں ناکام رہی ہے یا کترا رہی ہے۔ اس کے باوجود اسی بنیاد پر ووٹ کی طلبگار ضرور ہے۔
No comments:
Post a Comment