Monday, 9 March 2020

پی پی کے جلسے کے بعد - Oct 16, 2012

Tue, Oct 16, 2012, 1:56 PM
پی پی کے جلسے کے بعد
 میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
پیپلز پارٹی کا جلسہ خیروخوبی سے ہوگیا۔ پیپلز پارٹی اور قوم پرستوں کے درمیان محاذ آرائی  اور سخت لہجے کی وجہ سے مختلف اندیشوں کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ معاملہ تصادم کی طرف نہ چلا جائے۔ کسی فریق کی معمولی سی غلطی معاملے کو بڑھا نہ دے۔ اس ضمن میں دانشوروں اوردیگر اہل دانش نے دونوں فریقن کو سمجھایا بھی اور خبردار بھی کیا کہ وہ سیاسی مفادات کے لیے آگ سے کھیلنے کی کوشش نہ کریں۔ اگرچہ سندھ بچایو کمیٹی نے صوبے بھر میں اس موقعہ پر یوم سیاہ منانے کی اپیل کی تھی۔ اگرچہ چند ایک مقامات پر  جلسے میں شرکت کے لیے جانے والوں کو سیاہ جھنڈے وغیرہ دکھائے مگر کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
 پیپلز پارٹی نے بڑا جلسہ کیا اور قوم پرستوں نے اسی دن یوم سیاہ منایا۔ معاملہ وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔
بعض مبصرین اس جلسے کو فارمولا جلسہ قرار دے رہے ہیں۔ بلکل اس طرح سے جیسے فارمولا فلمیں بنتی ہیں۔بعض تجزیہ نگار اس پیپلز پارٹی کے اس طاقت کے مظاہرے کو معمول کا جلسہ قرار دیا جا رہا ہے۔ورنہ جتنا بڑا حوالہ نئے بلدیاتی نظام کا تھااس حوالے سے ریفرینڈم کے طور طور پر بہت بڑا جلسہ ہونا چاہئے تھا مزید یہ کہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف گزشتہ دو ہفتوں سے سندھ کا  ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا مخالفت کر رہا ہے اور احتجاج کر رہا ہے۔صوبے میں جس طرح کی صورتحال تھی  اور جس طرح سے سندھ کے لوگ احتجاج کر رہے تھے اس کے مطابق  یہ جلسہ بڑا ہونا چاہئے تھا۔  اس پورے مظہر کو سمجھنتے وقت کچھ چیزیں ذہن میں رکھنی ضروری ہیں۔ پیپلز پارٹی ایک مقبول پارٹی رہی ہے۔ جس کا تنظیمی نیٹ ورک کسی اور پارٹی کے مقابلے میں وسیع بھی ہے اور مضبوط بھی۔ سماج کی دو طاقتور حصے  یعنی حکومتی مشنری اور  وڈیرہ یا بااثر شخصیات فی الحال اس پارٹی کے ساتھ ہیں۔ان دونوں کا اثر بھی ہوتا ہے اور دہشت بھی۔ اور یہ پارٹی اس وقت حکومت میں ہے جو  ذاتی طور پر کسی کوکچھ دے بھی سکتی ہے اور کچھ لے بھی سکتی ہے۔
 یہ بات بھی عام ہے کہ ہر میر پیر وڈیرے کو ٹارگٹ دیا گیا کہ وہ اپنے اپنے علاقے سے اتنی بسیں اواتنے بندے لے آئے گا۔پیپلزپارٹی خود حیدرآباد شہر کی سندھی آبادیوں میں استقبالی کیمپ قائم نہ کر سکی یہاں تک کہ قاسم آباد جیسی خلاصتا سندھ آبادی میں بھی کوئی کیمپ نہیں لگا سکی۔ پیپلز پارٹی تمام تر وڈیروں اور حکومتی مشنری کے استعمال  کے ساتھ ایک عدد جلسہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
جلسے کو پیپلز پارٹی اور اس کی حامی جماعتیں بہت بڑی کامیابی قرار دے رہی ہیں۔ اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اب سب کچھ ”اچھا ہے“۔بلدیاتی نظام کی مخالفت ختم ہوگئی ہے۔بلکہ لگ تو ایسا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے مقبول رائے کے خلاف یہ اقدا م کر کے دراصل اپنا نقصان کیا ہے۔ جس کا اسکو حساب دینا پڑے گا۔ مانے نہ مانے پی پی موجودہ صورتحال  میں اپنے لیے سیاسی خطرہ محسوس کر رہی تھی اور اس مقصد کے لیے یہ جلسہ منعقد کرکے بھرپورطاقت کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس جلسے کے حوالے سے کئی سوالات ابھر رہے ہیں: کیا پی پی اپنی ساکھ مقبولیت بحال کرا لے گی؟ سندھ کا منظرنامہ تبدیل ہو رہا؟ ایک جلسہ کرنے سے تحریک کا اثر زائل ہوگیا؟
جلسے میں  بلدیاتی نظام  کے حق میں قرار داد  مظور ہونے کے بعد یہ نظام متنازع نہیں رہا؟ سندھ کے لوگ اس کو قبول کرلیں گے؟
 کیا پیپلزپارٹی نے کبھی سوچا تھا کہ انہیں اپنے ہی صوبے میں جلسہ کرنے کے لیے اتنے جتن کرنے پڑیں گے؟ اور  جلسے کے شرکاء کو لوگ روکیں گے؟ یا وڈیروں کی خدمات حاصل کرنی پڑیں گی؟  قوم پرست کارکنوں کوگرفتار کرنا پڑے گا؟ کیاایک غیر مشروط مینڈیٹ لینے والی پارٹی کو سمجھنے کے لیے یہ کافی نہیں؟ اگر دیکھا جائے تو اس پوری تحریک اور  اس کے جواب میں منعقدہ جلسے نے  صرف سندھ کے عوام اور قوم پرستوں کے لیے ہی نہیں خود پی پی کے لیے بھی بہت سبق چھوڑے ہیں۔ کہ کس طرح سے ایک مقبول پارٹی کو  جلسے کے لیے  عوام کے بجائے وڈیروں پر انحصار کرنا پڑا؟ یہ وہ نکتہ ہے  جو اس کی  شناخت تھی اور جو پی پی کو دوسری جماعتوں سے ممتاز کرتا تھا۔
جلسہ تو صرف حیدرآباد میں ہوا ہے۔ سندھ بھر میں جو احتجاج چل رہا ہے اس کا کیا ہوگا؟
پیپلز پارٹی کا قوم پرستوں کے خلاف یہ پہلا جلسہ تھا۔ ورنہ اس سے پہلے پارٹی اپنی انتخابی مہم یا عوامی رابطہ مہم کے لیے جلسے منعقد کرتی رہی ہے۔ ماضی میں قوم پرست پیپلز پارٹی کے اتحادی بھی رہے ہیں۔ اینٹی کالاباغ ڈیم مہم میں قوم پرستوں نے بے نظیر بھٹو کی قیادت میں  سندھ اور پنجاب کی سرحد پر کموں شہید کے مقام پر دھرنا دیا تھا۔ اس کے بعد گریٹر تھل کینال کے خلاف بھی قوم پرستوں کے ساتھ پی پی اتحادی رہی اورموجودہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ  اینٹی تھل کینال کمیٹی کے  صدر بھی رہ چکے ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی بعض اشوز پر پی پی قوم پرستوں کے ساتھ کام کرتی رہی ہے۔
 لیکن اس جلسے میں پارٹی کے سندھ سے تعلق رکھنے والے لیڈروں نے قوم پرستوں پر سخت تنقید کی اور انہیں آڑے ہاتھوں لیا کہ اس بڑے جلسے کے بعد اب وہ اپنے گھروں میں بیٹھیں۔ نواز لیگ بھی نشانے پر تھی۔مقررین نے نوز لیگ کے غوث علی شاہ اور مروی میمن کا نام لے کر تنقید کی۔ اور اس تحریک کے پیچھے نواز شریف کا ہاتھ ہونے کا ”انکشاف“ کیا او کر کہا کہ قوم پرستوں کوتخت لاہور سے پیسے مل رہے ہیں۔گویا سندھ  کے وسیع تر حلقے جو احتجاج کر رہے ہیں ان کا اپنا کوئی مطالبہ ہی نہیں۔ اور اس پوری تحریک کی کوئی اپنی حیثیت اور شناخت ہی نہیں۔  ایسا کہہ کے دراصل  سندھ کے لوگوں  کی عام رائے اور جذبات اور امنگوں کو negate کیا گیا۔یہ بات  سیاسی تجزیہ نگار اور خود پیپلز پارٹی بھول جاتی ہے کہ  اس  معاملے میں صرف قوم پرست ہی فریق نہیں ہیں بلکہ سندھ کا عوام براہ راست فریق ہے۔
 جلسے میں نئے بلدیاتی نظام کے حق میں بھی قرارداد منظور کی گئی۔کیا یہ قرارداد منظور کرنے سے  یہ قانون غیر متنازع نہیں رہا؟ بالکل ایسا نہیں ہے۔ سندھ میں جلسہ کے دوسرے روز بھی احتجاج ہوا۔  ویسے بھی اس ”معمول“ کے ایک دن کے  جلسے کوعوام کی راء ے نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی یہ کہ پیپلز پارٹی جیت گئی۔باقی سندھ بھر کے لوگ ہار گئے۔
چاہے پیپلز پارٹی یا  دوسرے حلقے اس جلسے کو کامیاب قرار دیں مگر اس کے باوجود یہ جلسہ بلدیاتی نظام کے لیے راہ ہموار کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔فی الحال  پی پی نے چیزوں کو manage کیا ہے۔ لیکن یہ کوئی  مستقل مظہر نہیں۔ شاید ان لوگوں کے لیے  یہ جلسہ صدمے کی بات ہو جو صورتحال سے سیاسی فائدہ لینا چاہ رہے تھے  اور اس کو انتخابات پر اثرانداز کرنا چاہ رہے تھے۔فرق صرف اتنا ہے کہ پی پی کے رویے کی وجہ سے  بات لمبے بحر میں چلی گئی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہایک مرتبہ پھر وڈیرے اور حکومتی مشنری عوام کے آگے کھڑی ہوگئی ہے۔  شاید وقتی طور پر اسٹبلشمنٹ اور وڈیرے عوام کی رائے کے سامنے بند باندھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی سندھ کے مفادات کے خلاف جو فیصلے ہوئے ان کو اگر عوام فوری طور پر رد نہ کرا سکا تو بھی خاموش ہو کر نہیں بیٹھا اور سالہا سال کی جدوجہد سے  غلط فیصلے واپس کرائے۔ ون یونٹ کے خلاف تحریک اور  ایم آرڈی کی تحریک اس کی دو تازہ مثالیں ہیں۔

No comments:

Post a Comment