Mon, Oct 29, 2012, 10:41 AM
کالا باغ ڈیم کارڈ
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
اصغر خان کیس میں مسلم لیگ (ن) اور مذہبی جماعتوں کو سخت جھٹکا لگا۔ نواز لیگ ہاتھ پاؤں تو مار رہی ہے مگر اس جھٹکے سے نکلنے کے لیے میاں صاحب کو کچھ وقت لگے گا۔ لاہور ہائی کورٹ کے کالا باغ ڈیم کے حق میں حالیہ ریمارکس نے ان کی کچھ مشکل آسان کردی ہے۔اب آئندہ انتخابات کے لیے نواز لیگ کو پنجاب میں ایک نیا موضوع دے دیا ہے۔جس کو اٹھا کر اپنی حریف جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ اچھا خاصا کھیل سکتی ہے۔اس سے قبل پیپلز پارٹی نے سرائیکی صوبے کے معاملے پر نواز شریف کے لیے مشکل صورتحال پیدا کردی تھی۔ پیپلز پارٹی نے سرائیکی کارڈ کے ساتھ پنجاب میں انتخابات لڑنا چاہتی ہے۔اس کے توڑ کے طور پر اب کالاباغ ڈیم کا کارڈ نواز لیگ کے پاس ہے۔
ایک مختصر مدت کے بعد ایک بار پھر کالاباغ ڈیم کی بلی تھیلی سے باہر آگئی ہے۔کالا باغ ڈیم پر پنجاب کی اشرافیہ کا جو موقف رہا ہے وہ ملک کے باقی تینوں صوبوں کے موقف سے متصادم ہے۔سندھ اور پختونخواہ اس کو اپنی زندگی اور موت کا سوال سمجھتے ہیں۔سندھ کو اس بات پر تعجب ہے کہ کوئی بھی اہل دانش واہل نظر جرئت کرکے یہ نہیں کہتا کہ یہ غلط ہو رہا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ سندھ اور خیبر پختوخوا نے کالا باغ ڈیم کو سیاسی اشو بنایا ہے۔ہائی کورٹ نے نواز شریف سے نہیں پوچھا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں کروڑوں روپے کی اشتہارات چلائے مگر اب وہ خود یہ کہہ رہے ہیں کہ کالا باغ ڈیم نہیں بننا چاہئے۔اس کے بعد جنرل مشرف نے بھی اس کے لیے مہم چلائی لیکن بعد میں انہیں بھی اس منصوبے سے ہاتھ اٹھانے پڑے۔
کالاباغ ڈیم کے حق میں فیصلہ آنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک بار پھر اس نکتے پرپنجاب میں سیاست ہونے لگے گی۔نواز لیگ یہ مطالبہ کرے گی کہ عدالت کے فیصلے کی روشنی میں اس ڈیم کے لیے کمیشن قائم کیا جائے۔سندھ اور خیبر پختونخوا شروع سے ہی اس ڈیم کے مخالف رہے ہیں وہ اس مرتبہ بھی مخالفت کریں گے۔اے این پی کے سنیٹر افراسیاب خٹک نے خبردار کیا ہے کہ کالاباغ ڈیم کوئی ّئینی یا قانونی مسئلہ نہیں کہ عدالت اس پر رائے دے یا فیصلہ دے۔ یہ خلاصتا فنی اور سیاسی معاملہ ہے، جس پر عدالت کو اپنی رائے دینے سے احتراز کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس اندیشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر پنجاب لاہور ہائی کورٹ سے فیصلہ لے سکتا ہے تو سندھ اور پختونخواہ بھی اپنی ہائی کورٹوں سے ایسا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ نتیجے میں ہائی کورٹس ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہو جائیں گی۔صوبوں کے درمیان اکتلافات اور تضادات حل کرنے کا آئینی فورم مشرتکہ مفادات کی کونسل ہے، اس فورم کو پھلانگ کرعدالتی راستہ اختیار کرنا آئین کی متعلقہ شق کو عضوومعطل قرار دینے کے مترادف ہے۔
عدالت کو یہ بتانا کہ اگر کالاباغ ڈیم ہوتا تو سندھ اور پنجاب میں سیلاب نہیں آتا، فنی طور پر غیر منطقی دلیل ہے۔اس دلیل کی بنیاد پر فیصلہ بھی عجیب ہوگا۔کالاباغ ڈیم کوئی فلڈ کینال نہیں ہے جس میں صرف سیلاب کے دنوں میں پانی ڈالا جائے گا۔یہ ایک مستقل اور بڑا ڈیم ہے جس کو ریگیولر بنیادوں پر پانی چاہئے۔ مشرف دور میں اے این جی عباسی کی سربراہی میں قائم کردہ کمیشن بھی اس ڈیم کو مسترد کر چکی ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کے لیے جتنا پانی چاہئے اتنا پانی دریائے سندھ میں موجود ہی نہیں ہے۔ سندھ میں ویسے ہی پانی کی زبردست کمی ہے۔خریف اور ربیع کے دونوں موسم میں سندھ کو حصے سے کم پانی ملتا ہے۔قلت کے باعث ڈاؤن اسٹریم کوٹری پانی نہ چھوڑنے باعث بڑی تباہی آئی ہے۔ لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین سمندر نگل گیا ہے۔لہٰذا کالا باغ ڈیم کی مخالفت صرف سیاسی ہی نہیں بلکہ فنی بنیادوں پر بھی ہے۔تمام حکومتیں کالاباغ ڈیم کو مردہ گھوڑا قرار دے چکی ہیں۔اب اس مردہ گھوڑے کی قبر کھود کر نیا پینڈورا باکس کھولا جا رہا ہے۔
سندھ میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اصغرخان کیس میں نوز شریف کو جو شکست ملی تھی اس کا حساب لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برابر کر دے گا۔
اس آبی منصوبے کو سیاسی پنجاب بنا رہا ہے۔جس کو بعض سیاسی جماعتیں سرائیکی صوبے کے لیے بلیک میلنگ اورپیپلز پارٹی کو ایکسپوز کرنے کے لیے استعمال کریں گی۔پیپلز پارٹی کی کالاباغ ڈیم کی مخالفت کے باوجود پنجاب میں پارٹی کے اندر ایک عنصر موجود ہے جو ڈیم کا حامی ہے۔ اسی طرح سے سرائیکی بیلٹ میں بھی کچھ لوگ اس ڈیم کے حامی ہیں۔اس کے مقابلے میں سندھ مکمل طور پر اس ڈیم کا مخالف ہے۔قوم پرستوں کے ساتھ ساتھ چاہے وفاق پرست جماعتیں ہوں یا مذہبی جماعتیں سب کی سب اس ڈیم کی مخالف ہیں۔ سندھ کی سیاسی جماعتوں نے نواز شریف کے دور حکومت میں بینظیر بھٹو کی قیادت میں سندھ پنجاب سرحد پر کموں شہید کے مقام پر اور پختونخواہ کے عوام نے ولی خان کی قیادت میں اٹک کے پل پر تاریخی دھرنے دیئے تھے، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔
کالاباغ ڈیم کو قومی مفاد قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا سندھ، بلوچستان اور خیبرپخونخواہ کے مفادت قومی مفادات نہیں؟ اگر نہیں تو کس قوم کے مفادات کو قومی قرار دیا جا رہاے ہے؟ ملک کی چار میں سے تین اسمبلیاں ایک سے زائد مرتبہ مسترد کر چکی ہیں۔مگر اس کے باوجود اس ڈیم کے حامی اس کو قومی مفادات کی مطابق قرار دے رہے ہیں۔سندھ کو 1991 کے پانی کے معاہدے پر بھی تحفظات ہیں مگر اس پر بھی پورے طور پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔پنجاب سے چھوٹے صوبوں کو ویسے ہی بہت شکایات ہیں۔اس تناظر میں عدلیہ کو سوچنا چاہئے کہ ایک اور ناخوشگوار بات پنجاب کے کھاتے میں کیوں ڈالی جائے۔
اگر لاہور ہائی کورٹ فیصلہ دے بھی دیتی ہے تو بھی یہ ڈیم نہیں بن پائے گا۔عدالت خوامخواہ خود کو ایک سیاسی اشو میں الجھایا جارہا ہے۔ملک میں ویسے ہی بہت سارے اشوز ہیں ایک اور اشو کھڑا ہوگا جس کا بظاہر عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہونا ہے۔ فیصلہ کے بعد تو نواز لیگ یہی کہے گی کہ صرف اصغرخان کیس کے فیصلے پر عمل کیوں، لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا۔
جب انتخابات قریب آتے ہیں تو سیاسی جماعتیں نئے نئے اشوز زیر بحث لاتی ہیں اور انتخابات میں اپنے پوائنٹ اسکورکرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
کالاباغ کی بحث چھڑنے سے پیپلز پارٹی کو سندھ میں ایک نیا گراؤنڈ ملے گا، جس کو ابھی بلدیاتی نظام کے معاملے پر سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مگر پنجاب میں اسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس پر دباؤ ہوگا کہ وہ سرائکی صوبے کے نعرے سے ہاتھ اٹھائے۔
اسے اتفاق کہئے یا کچھ اور گزشتہ دو تین سال میں سیاست عدلیہ کے گرد ہی گھومتی رہی ہے۔ کیا لاہور کی عدلیہ بھی آئندہ انتخابات کے لیے ایک نیا موضوع دینے جارہی ہے۔اصغرکان کیس، شہید بے نظیر بھٹو کیس، میمو گیٹ اسکینڈل، سرائیکی صوبہ، سندھ کا بلدیاتی نظام، سندھ میں امن امان کا مسئلہ، بلوچستان کی صورتحال، صدر کے دو عہدے رکھنے کا معاملہ وغیرہ وغیرہ۔یہ سب وہ اشوز ہیں جو آئندہ انتخابات میں سیاسی نعرے ہونگے۔شایدآئندہ تین ماہ کے دوران چند مزید فیصلے آئیں۔ این آر او کیس ابھی زندہ ہے۔لگتا ہے کہ اس مرتبہ انتخاباب سے پہلے تمام گائیڈ لائن بھی عدلیہ ہی دے گی۔
اس تمام پس منظر میں کالا باغ ڈیم کا اشو سامنے آیا ہے۔ عدلیہ کے ذریعے ایک بند کتاب دوبارہ کھولی گئی ہے۔جس کا پنجاب میں سب سے زیادہ اثر ہوگا۔کالاباغ ڈیم توکبھی بھی نہیں بننا ہے مگر اس پر سیاست ہوتی رہے گی۔
کالا باغ ڈیم کارڈ
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
اصغر خان کیس میں مسلم لیگ (ن) اور مذہبی جماعتوں کو سخت جھٹکا لگا۔ نواز لیگ ہاتھ پاؤں تو مار رہی ہے مگر اس جھٹکے سے نکلنے کے لیے میاں صاحب کو کچھ وقت لگے گا۔ لاہور ہائی کورٹ کے کالا باغ ڈیم کے حق میں حالیہ ریمارکس نے ان کی کچھ مشکل آسان کردی ہے۔اب آئندہ انتخابات کے لیے نواز لیگ کو پنجاب میں ایک نیا موضوع دے دیا ہے۔جس کو اٹھا کر اپنی حریف جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ اچھا خاصا کھیل سکتی ہے۔اس سے قبل پیپلز پارٹی نے سرائیکی صوبے کے معاملے پر نواز شریف کے لیے مشکل صورتحال پیدا کردی تھی۔ پیپلز پارٹی نے سرائیکی کارڈ کے ساتھ پنجاب میں انتخابات لڑنا چاہتی ہے۔اس کے توڑ کے طور پر اب کالاباغ ڈیم کا کارڈ نواز لیگ کے پاس ہے۔
ایک مختصر مدت کے بعد ایک بار پھر کالاباغ ڈیم کی بلی تھیلی سے باہر آگئی ہے۔کالا باغ ڈیم پر پنجاب کی اشرافیہ کا جو موقف رہا ہے وہ ملک کے باقی تینوں صوبوں کے موقف سے متصادم ہے۔سندھ اور پختونخواہ اس کو اپنی زندگی اور موت کا سوال سمجھتے ہیں۔سندھ کو اس بات پر تعجب ہے کہ کوئی بھی اہل دانش واہل نظر جرئت کرکے یہ نہیں کہتا کہ یہ غلط ہو رہا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ سندھ اور خیبر پختوخوا نے کالا باغ ڈیم کو سیاسی اشو بنایا ہے۔ہائی کورٹ نے نواز شریف سے نہیں پوچھا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں کروڑوں روپے کی اشتہارات چلائے مگر اب وہ خود یہ کہہ رہے ہیں کہ کالا باغ ڈیم نہیں بننا چاہئے۔اس کے بعد جنرل مشرف نے بھی اس کے لیے مہم چلائی لیکن بعد میں انہیں بھی اس منصوبے سے ہاتھ اٹھانے پڑے۔
کالاباغ ڈیم کے حق میں فیصلہ آنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک بار پھر اس نکتے پرپنجاب میں سیاست ہونے لگے گی۔نواز لیگ یہ مطالبہ کرے گی کہ عدالت کے فیصلے کی روشنی میں اس ڈیم کے لیے کمیشن قائم کیا جائے۔سندھ اور خیبر پختونخوا شروع سے ہی اس ڈیم کے مخالف رہے ہیں وہ اس مرتبہ بھی مخالفت کریں گے۔اے این پی کے سنیٹر افراسیاب خٹک نے خبردار کیا ہے کہ کالاباغ ڈیم کوئی ّئینی یا قانونی مسئلہ نہیں کہ عدالت اس پر رائے دے یا فیصلہ دے۔ یہ خلاصتا فنی اور سیاسی معاملہ ہے، جس پر عدالت کو اپنی رائے دینے سے احتراز کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس اندیشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر پنجاب لاہور ہائی کورٹ سے فیصلہ لے سکتا ہے تو سندھ اور پختونخواہ بھی اپنی ہائی کورٹوں سے ایسا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ نتیجے میں ہائی کورٹس ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہو جائیں گی۔صوبوں کے درمیان اکتلافات اور تضادات حل کرنے کا آئینی فورم مشرتکہ مفادات کی کونسل ہے، اس فورم کو پھلانگ کرعدالتی راستہ اختیار کرنا آئین کی متعلقہ شق کو عضوومعطل قرار دینے کے مترادف ہے۔
عدالت کو یہ بتانا کہ اگر کالاباغ ڈیم ہوتا تو سندھ اور پنجاب میں سیلاب نہیں آتا، فنی طور پر غیر منطقی دلیل ہے۔اس دلیل کی بنیاد پر فیصلہ بھی عجیب ہوگا۔کالاباغ ڈیم کوئی فلڈ کینال نہیں ہے جس میں صرف سیلاب کے دنوں میں پانی ڈالا جائے گا۔یہ ایک مستقل اور بڑا ڈیم ہے جس کو ریگیولر بنیادوں پر پانی چاہئے۔ مشرف دور میں اے این جی عباسی کی سربراہی میں قائم کردہ کمیشن بھی اس ڈیم کو مسترد کر چکی ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کے لیے جتنا پانی چاہئے اتنا پانی دریائے سندھ میں موجود ہی نہیں ہے۔ سندھ میں ویسے ہی پانی کی زبردست کمی ہے۔خریف اور ربیع کے دونوں موسم میں سندھ کو حصے سے کم پانی ملتا ہے۔قلت کے باعث ڈاؤن اسٹریم کوٹری پانی نہ چھوڑنے باعث بڑی تباہی آئی ہے۔ لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین سمندر نگل گیا ہے۔لہٰذا کالا باغ ڈیم کی مخالفت صرف سیاسی ہی نہیں بلکہ فنی بنیادوں پر بھی ہے۔تمام حکومتیں کالاباغ ڈیم کو مردہ گھوڑا قرار دے چکی ہیں۔اب اس مردہ گھوڑے کی قبر کھود کر نیا پینڈورا باکس کھولا جا رہا ہے۔
سندھ میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اصغرخان کیس میں نوز شریف کو جو شکست ملی تھی اس کا حساب لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برابر کر دے گا۔
اس آبی منصوبے کو سیاسی پنجاب بنا رہا ہے۔جس کو بعض سیاسی جماعتیں سرائیکی صوبے کے لیے بلیک میلنگ اورپیپلز پارٹی کو ایکسپوز کرنے کے لیے استعمال کریں گی۔پیپلز پارٹی کی کالاباغ ڈیم کی مخالفت کے باوجود پنجاب میں پارٹی کے اندر ایک عنصر موجود ہے جو ڈیم کا حامی ہے۔ اسی طرح سے سرائیکی بیلٹ میں بھی کچھ لوگ اس ڈیم کے حامی ہیں۔اس کے مقابلے میں سندھ مکمل طور پر اس ڈیم کا مخالف ہے۔قوم پرستوں کے ساتھ ساتھ چاہے وفاق پرست جماعتیں ہوں یا مذہبی جماعتیں سب کی سب اس ڈیم کی مخالف ہیں۔ سندھ کی سیاسی جماعتوں نے نواز شریف کے دور حکومت میں بینظیر بھٹو کی قیادت میں سندھ پنجاب سرحد پر کموں شہید کے مقام پر اور پختونخواہ کے عوام نے ولی خان کی قیادت میں اٹک کے پل پر تاریخی دھرنے دیئے تھے، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔
کالاباغ ڈیم کو قومی مفاد قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا سندھ، بلوچستان اور خیبرپخونخواہ کے مفادت قومی مفادات نہیں؟ اگر نہیں تو کس قوم کے مفادات کو قومی قرار دیا جا رہاے ہے؟ ملک کی چار میں سے تین اسمبلیاں ایک سے زائد مرتبہ مسترد کر چکی ہیں۔مگر اس کے باوجود اس ڈیم کے حامی اس کو قومی مفادات کی مطابق قرار دے رہے ہیں۔سندھ کو 1991 کے پانی کے معاہدے پر بھی تحفظات ہیں مگر اس پر بھی پورے طور پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔پنجاب سے چھوٹے صوبوں کو ویسے ہی بہت شکایات ہیں۔اس تناظر میں عدلیہ کو سوچنا چاہئے کہ ایک اور ناخوشگوار بات پنجاب کے کھاتے میں کیوں ڈالی جائے۔
اگر لاہور ہائی کورٹ فیصلہ دے بھی دیتی ہے تو بھی یہ ڈیم نہیں بن پائے گا۔عدالت خوامخواہ خود کو ایک سیاسی اشو میں الجھایا جارہا ہے۔ملک میں ویسے ہی بہت سارے اشوز ہیں ایک اور اشو کھڑا ہوگا جس کا بظاہر عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہونا ہے۔ فیصلہ کے بعد تو نواز لیگ یہی کہے گی کہ صرف اصغرخان کیس کے فیصلے پر عمل کیوں، لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا۔
جب انتخابات قریب آتے ہیں تو سیاسی جماعتیں نئے نئے اشوز زیر بحث لاتی ہیں اور انتخابات میں اپنے پوائنٹ اسکورکرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
کالاباغ کی بحث چھڑنے سے پیپلز پارٹی کو سندھ میں ایک نیا گراؤنڈ ملے گا، جس کو ابھی بلدیاتی نظام کے معاملے پر سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مگر پنجاب میں اسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس پر دباؤ ہوگا کہ وہ سرائکی صوبے کے نعرے سے ہاتھ اٹھائے۔
اسے اتفاق کہئے یا کچھ اور گزشتہ دو تین سال میں سیاست عدلیہ کے گرد ہی گھومتی رہی ہے۔ کیا لاہور کی عدلیہ بھی آئندہ انتخابات کے لیے ایک نیا موضوع دینے جارہی ہے۔اصغرکان کیس، شہید بے نظیر بھٹو کیس، میمو گیٹ اسکینڈل، سرائیکی صوبہ، سندھ کا بلدیاتی نظام، سندھ میں امن امان کا مسئلہ، بلوچستان کی صورتحال، صدر کے دو عہدے رکھنے کا معاملہ وغیرہ وغیرہ۔یہ سب وہ اشوز ہیں جو آئندہ انتخابات میں سیاسی نعرے ہونگے۔شایدآئندہ تین ماہ کے دوران چند مزید فیصلے آئیں۔ این آر او کیس ابھی زندہ ہے۔لگتا ہے کہ اس مرتبہ انتخاباب سے پہلے تمام گائیڈ لائن بھی عدلیہ ہی دے گی۔
اس تمام پس منظر میں کالا باغ ڈیم کا اشو سامنے آیا ہے۔ عدلیہ کے ذریعے ایک بند کتاب دوبارہ کھولی گئی ہے۔جس کا پنجاب میں سب سے زیادہ اثر ہوگا۔کالاباغ ڈیم توکبھی بھی نہیں بننا ہے مگر اس پر سیاست ہوتی رہے گی۔
No comments:
Post a Comment