Monday, 9 March 2020

آدھے ووٹرز غیر سیاسی 2012-8-9

Thu, Aug 9, 2012 at 11:53 AM
 آدھے ووٹرز غیر سیاسی   
 میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی

نئی انتخابی فہرستوں کے مطابق ساڑھے آٹھ کروڑ ووٹرز میں سے چار کروڑ ووٹر نوجوان ہیں یعنی ان کی عمر 18  سے35 سال کے درمیان ہے۔ ان میں سے ایک کروڑ 62 لاکھ ووٹر کی عمر18  سے 25 سال کے درمیان ہے اور 2 کروڑ62 لاکھ کی عمر 26 اور 35 سال کے درمیان ہے۔یہ کل ووٹرز کا نصف ہے اگر انکو موبلائز کیا جائے تو یہ انتخابی نتائج پر بڑے پیمانے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔لہٰذا اس بلاک کو سمجھنا اور اس کا پروفائل جاننا ضروری ہے۔
پاکستان 65 سال کے عمر کا زیادہ تر عرصہ اقتدار فوجی آمریت کے پاس رہا ہے۔ پانچوں کی پانچوں سویلین منتخب حکومتوں کا فوج نے فوج نے تختہ الٹا۔اور اسکے پیچھے صدر کا ہاتھ شامل رہا۔ایوب خان سے لیکر فوجی آمریت کے نئے ایڈیشن جنرل مشرف تک سب نے پاکستان کو بچانے کے نام پر آمریت نافذ کی۔مگر ان کے اقدامات سے کبھی بھی نہ ملک مضبوط ہوا نہ ملک کا سیاسی نظام۔ 
18  سے35 سال کے درمیان عمر  کا مطلب یہ ہوا کہ وہ  1977اور1986کے درمیان اس دنیا میں آئے ہیں۔ عام طور پر سولہوہ عمر ہے جب انسان ہوش سنبھالتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس بلاک نے سال 1993 سے 2002 کے عرصے میں ہوش سنبھالا۔ یعنی اس گروپ نے بء نظیر بھٹو اور نوز شریف کی حکومتوں کا ایک ایک دور دیکھا۔ اور باقی اس کے حصے میں مشرف کا دور ہی آیا ہے۔
کل ووٹرز کے نصف حصے کی خوشقسمتی ہے کہ اس نے ضیاء کا سیاہ دور نہیں دیکھا۔ یہ گروپ تھوڑا بہت یہ ضرور جانتا ہے کہ جنرل ضیاء نے ملک کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا تھا اور اس کے بعد انہیں پھانسی پر چڑھا دیا تھا۔مگر اس گروپ نے یہ شاید ہی کہیں پڑھا ہو یاتفصیلی ذکر سنا ہو کہ ضیا دور میں ہزارہا سیاسی کارکنوں کو قید اور کوڑوں کی سزائیں ملیں تھیں۔ایک درجن سے زیادہ سیاسی کارکنوں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔آج کی آزاد میڈیا کے دور میں سانس لینے والے اس گروپ کو اندازہ ہی نہیں ہوگا کہ میڈیا پر سخت پابندیاں اور سنسرشپ بھی تھی۔ وہ اس بات کو محسوس بھی نہیں کرسکتا کہ جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آرڈی کی بھرپور تحریک چلی تھی۔جس کے سامنے جنرل ضیا نے گھٹنے ٹیک دیئے تھیاور وہ سویلین کو جزوی طور ہی صحیح  اور غیر جماعتیانتخابات کے ذریعے اقدار منتقل کرنے کے لیے تیار ہاگیا تھا۔
 ممکن ہے کہ ووٹرز کے اس گروپ کے چند سو لوگوں  نے تاریخ کے ان صفحات کی بھی ورق گردانی کی ہو اور اسے پتہ چلا ہو کہ کس طرح جنرل ضیاء  ملک کو افگانستان میں سوویت یونین کے خلاف امریکہ کی پراکسی جنگ میں جھونک دیا تھا۔نتیجے میں ہیروئن، کلاشنکوف کلچر،  جس نے ملک کے سیاسی، سماجی، انتظامی اور معاشی فائبر کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔جرائم اور اور اسلح کا استعمال ہر جگہ پراور ہر معاملے میں ہونے لگا۔ امریکہ کے کہنے پر  بنائی گئی انتہاپسندی آج بھی پاکستان کے گلے میں ہے۔ کوششوں کے باوجود اس سے جان نہیں چھڑاپارہا ہے۔
 ووٹرز کے اس نسل کو مارشل لاء سے سویلین کو اقتدار کی لولی لنگڑی منتقلی، جونیجو دور حکومت، اوجڑی کیمپ کے دھماکے، جنیوا معاہدہ، جونیجوحکومت کو ہٹانے کے اسباب اور بعد میں جنرل ضیاء سے جان چھڑانے کے لیے ان کی ملتان کے قریب ایک حادثے میں ہلاکت کے واقعہ کے بھی تفصیلات کا پتہ نہیں۔ 
1986ع میں جب بے نظیر بھٹوجلاوطنی ختم کر کے وطن لوٹیں تو پورا ملکلاہور میں امنڈ آیا تھا۔ لاکھوں افراد جمع ہو گئے تھے۔ جس میں بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی۔یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا مجمع تھا اور سیاسی سرگرمی کا اظہار تھا۔پاکستان کے عوام نے نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد ایتنی بڑی تعداد  مین لوگوں کو ایک مقام پر دیکھا۔
تیسری دنیامیں جہاں آمریتوں کا دور دورہ ہوتا ہے، عوام جمہوریت اور حقوق کے لیے جدوجہد میں مصروف ہوتے ہیں ایے میں کمیونسٹ تحریک کا رول بڑا جرئت مندانہ اور مجاہدانہ ہوتا ہے جو نوجوانوں کو زیادہ اپیل کرتا ہے۔یہ لوگ نوجوانوں کے سامنے رول ماڈل ہوتے ہیں۔نوجوانوں کو سیاسی تعلیم اور تربیت دیتے ہیں، ٓسول پسندی، اور عوام دوستی کا درس دیتے ہیں۔ ضیا دور میں کمیونسٹوں کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ کمیونسٹ پارتی کی خفیہ دفاتر پر چھاپے مار کر دروں لیڈروں کو گرفتار کر لیا گیا۔یہ ایک ایسی ضرب کاری تھی کہ کمیونسٹ پارٹی بعد میں اپنے پیرون پر کھڑی نہ ہوسکی۔اس کیس میں کمیونسٹ رہنما نذیر عباسی کو دروان تفتیش اذیتیں دے کر شہید کردیا گیا۔کیمونسٹوں کے خلاف  پنڈی سازش کیس کے بعد کمیونسٹ پارٹی  کے خلاف دوسرا مقدمہ تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ فوج میں بغاوت پھیلاکرحکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے اور پاکستان میں سوویت یونین کی طرز پر سوشلسٹ نطام نافذ کرنا چاہتے تھے۔
 یہ ووٹرز 1988 میں انتخابی مہم دوران بے نظیر بھٹو کی ایک شہر سے دوسرے شہر تک بڑی بڑی ریلیاں سب سے بڑی سرگرمی تھی جس نے پاکستان کے نوجوان کو بھی متحرک کیا تھا۔بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک مشہور زمانہ آپریشن مڈ نائیٹ جیکال اور پھر غلام اسحاق خان کی جانب سے بی بی حکومت کو ہٹانا۔ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدہ، 1993ع کے انتخابات کے لیے پیپلز پارٹی کا پنجاب کی اشرافیہ کے ساتھ انتخابی اتحاد اور اس کو اقتدار میں حصہ دینا، مہران بنک کا اسکینڈل جس میں  ایک بنک نے سیاستدانوں کو پیسے دیئے، آئی ایس آئی کی جانب سے سیاستدانوں میں پیسوں کی تقسیم یہ سب وہ سیاسی واقعات ہیں جن کا عکس آج بھی سیاست میں ملتا ہے۔اور بہت سارے مسائل اس وقت سے چلے آرہے ہیں یا پھر انکے پس منطر میں یہی واقعات ہیں۔
1988 میں جب بے نظیر بھٹو نے جنرل ضیا کے جہاز کے حادثے میں ہلاکت کے بعد اقتدار سنبھالا، تو بظاہر یہ لگ رہا تھا کہ پاکستان اب جمہوری دور میں داخل ہو چکا ہے۔مگر ہوا یہ کہ فوج بظاہر تو پیچھے ہٹ گئی مگر اس نے کنگ میکر کا رول ادا کرنا شروع کردیا۔
 اگست  1990میں  صدر غلام اسحاق خان نے ضیا کی دی ہوئی آٹھویں ترمیم کے تحت سہارا لیا تو ایک بار پھر جمہوریت ختم ہو گئی۔
اور اکتوبر 1990 کے انتخابات  کے ذریعے نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔ 1993 میں اسی ترمیم نے پھر کام دکھایا اور صدر نے نواز شریف کی حکومت کو ہٹادیا۔بے نظیر بھٹو حکومت آئی مگر انہیں بھی  تین سال کے لیے حکومت کرنے دی گئی۔اور اس کے بعد انہیں کی پارٹی کے اہم رہنماصدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت کو ختم کردیا۔اور نواز شریف کو الیکشن کے ذریعے حکومت میں لے آئے۔
 اسلامی جمہوری اتحاد کی مشکوک انتخابات کے ذریعے جیت، نواز شریف کا وزیراعظم بننا، اس کے خلاف صدر غلام اسحاق خان کا برطرف کرنا۔کو نواز شریف کا تختہ الٹنے، انکی سعودی عرب روانگی اور بعد میں وہ سب واقعات بھی ذہن میں ہونگے جو دوسرے گروپ کو بھی ہیں۔اس گروپ کو نو ستاروں والی پاکستان قومی اتحاد، اوراسی کے عشرے میں بننے والے اسلامی جمہوری اتحاد کے بارے میں بھی زیادہ پتہ نہیں۔ اس نسل نے  صرف کتابوں پڑھا ہے کہ پاکستان بھی کبھی دو حصوں پر مشتمل تھا۔ وہ کیوں الگ ہوا یہ اسے نہیں پتہ۔ یہ سب تاریخ کا حصہ ہیں اور اپنے پاس تاریخ اور وہ بھی صحیح تاریخ نہیں۔یہ سب تازہ ماضی کے واقعات ہیں۔ جن کے بارے میں کوئی نہ تاریخ موجود ہے اور نہ کوئی باقاعدہ مواد جو ان نوجوانوں کو ان سب سے روشناس کرائے۔اس بات کا اندازہ گزشتہ سال کے اس واقع سے لگایا جاسکتا ہے۔
ایک دن سندھ یونیورسٹی میں سال آخر کی طالبہ  میرے آفیس میں آئی اور اچانک آکر پوچھا سر جلدی بتائیں ہماری شرط لگی ہوئی ہے۔ کہ کراچی شہر قیام پاکستان سے پہلے بھی شہر تھا کیا؟ میں پریشان ہو گیا۔ کیونکہ پانچویں جماعت سے لیکر مطالعہ پاکستان پڑھیا جاتا ہے اور ہر سال اس کا ایک پیپر ہوتاہے۔
1997 کے انتخابات میں  نواز شریف کو ہیوی مینڈیٹ ملا تو انہوں نیآٹھویں ترمیم کا خاتمہ کردیا جس کے ذریعے صدر حکومتیں توڑتا تھا۔
نواز شریف نے اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کے لیے چیف جسٹس کو تبدیل کیا اور صدر پر دباؤ ڈالا کہ وہ استعیفیٰ دیں۔انہوں نے لاہور ہائی کورٹ پر دباؤ ڈالا کہ وہ بے نظیر بھٹواور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو کرپشن کے الزامات میں سزا سنائیں۔یہ گندا کھیل کا حصہ تھا۔جس میں سیادان ایک دوسرے کو تباہ کر رہے تھے۔انہوں نے سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے کے خلاف مقدمات دائر کئے۔ 
 ایک کروڑ 62 لاکھ ووٹر تو ایسے ہیں جن کی پیدائش ہی1987 کے بعد کی ہے۔ انہوں نے تو صرف مشرف کا دور ہی دیکھا ہے اور انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں جب ہوش سنبھالا تب مشرف دور تھا۔ انہوں نے صرف چند ہی بڑے واقات دیکھے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی، ان کی شہادت، ججز کی بحالی کی تحریک۔اس  نے نائین الیون کا واقعہاور اس کے بعد دہشتگردی کے خالف جنگ دیکھی ہے۔
ووٹرز کے نئے گروپ نے سیاسی تحریکوں سے زیادہ این جی اوز کو سرگرم دیکھا ہے۔وہ باقاعدہ سیاسی تحریکوں کا حصہ نہیں بن پایا۔ بعد میں میڈیا کے پھیلاؤ اور جدید ٹیکنالاجی نے اسکا سوسائٹی سے عملی رابطہ ختم کردیا۔ وہ اس پورے سیاسی، ادبی، ثقافتی، علمی کلچر سے بے بہرہ ہے جو نوجوان کو سکھاتی تھے۔
نوجوان کیا چاہتا ہے؟ تعلیمی حاصلات اور آگے بڑھنا۔تعلیم کے مساوی مواقع، ایسی تعلیم جو اس کو عملی زندگی میں کام آئے، اظہار کی آزادی،  ایسی سرگرامیں جس سے وہ سوسائٹی میں اپنا نام پیدا کر سکے۔لیکن وہ اس کو جو تعلیم ملتی ہے اس کا کوئی عملی مصرف نہیں ہوتا اور وہ بے روزگاری کا شکار ہوجاتا ہے۔نوجوانی سے بڑے پونے میں اسکو یہ چیزیں رکاوٹ بنتی ہیں۔اور وہ عملی زندگی میں ایڈجسٹ نہیں ہو پاتا یہ باتیں عمر بھر اس کے لیے مسئلہ اور پریشانیکا باعث بنی رہتی ہیں۔
 یہ وہ ووٹر ہے جس کو بائیں بازو یا دائیں بازو کا کچھ پتہ نہیں۔ اس نے کبھی کسی سیاسی تحریک میں حصہ نہیں لیا۔ اور نہ ہی اس کو تجربہ ہے۔ ایسے ووٹر کے امیدوار تو عمران خان سے لیکر سب پارٹیاں ہیں۔سوال یہ ہے کہ اس کو کیسے آمادہ کیا جائے کہ وہ متحرک ہو،  انتخابی سرگرمی میں حصہ لے اور ووٹ ڈالے۔ اس کا پورا ذہن غیر سیاسی ہے۔  اس نے تمام تبدیلیاں چور دروازے سے، سازشوں کے ذریعے ہی دیکھی ہیں۔
 وہ  ووٹ کو تبدیلی کا ذریعہ نہیں سمجھتا۔ وہ باقاعدہ کسی سیاسی پارٹی کا حصہ بھی نہیں۔ لہٰذا اس کا ذہن غیر سیاسی ہے۔
 سیاست ملک کے معاملات چلانے اور منظم کرنے کا علم اور عمل ہے جس میں نوجوان اپنی طبع، عمر، اور صلاحیتوں کی وجہ سے بھرپور کردار ادا کر سکتا ہے۔نوے کا عشرہ  دنیا بھر میں ایسا گزرا ہے کہ نوجوانوں نے مختلف ممالک میں ابھار نظر آتا ہے۔نوجوان جو سماج کی بہتری چاہتا ہے وہ سیاست کی ذمہ داری بھی لینا چاہتا ہے۔ وہ صرف سماجی کاموں کے ذریعے یہ سب کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ نہ اتنے فنڈز موجود ہوتے ہیں اور نہ یہ سماجی کام دیرپا بن کر کسی تبدیلی کا پیش خیمہ یا ذریعہ بن پائیں۔اگر اس نوجوان کو جمہوری عمل کا حصہ بنا کے پالیسی سازی اور حکومت کا حصہ بنایا جائے تو  صورتحال خاصی بدل سکتی ہے۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کو سیاست اور جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنایا جاتا اس لیے وہ تشدد کے واقعات کی طرف جاتا ہے۔
 کسی بھی سیاسی کلچر کی بلوغت کا اندازہ عوامی شرکت سے ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ملک میں جہاں اآدھے ووٹر نوجوان ہوں وہاں یہ آبادی سیاست  یا سیاسی عمل میں حصہ نہ لے تو یہ کسی المیے سے کم نہیں۔حکومت کی پالیسیوں اور ملک میں موجود کلچر،  معاشی ماحول کی وجہ سے نوجوان اس میں حصۃ نہیں لیتا۔اس کی والدین، اساتذہ اور دیگر لوگ حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اسکو بے ایمانی سمجھتے ہیں تو کچھ لوگ اس کو بہت کٹھن کام قرار دیتے ہیں۔اس کی بڑی مثال طلبہ تنظیموں پر پابندی ہے۔ یہ پابندی جو ضیاء الحق نے 1984 میں یونیورسٹیوں میں پرتشدد واقعات کے بعد ڈالی تھی آج تک بڑوں کی نشانی کے طور پر چلی آرہی ہے۔مزیدار بات یہ ہے کہ اٹھائیس سال گزرنے کے بعد بھی تعلیمی اداروں میں تشدد کے واقعات بڑھے ہیں کم نہیں ہوئے ہیں۔اگرچہ تمام سیاسی پارٹیوں کی طلبہ تنظیمیں ہیں مگر ان کی طلبہ تک رسائی بہت ہی محدود ہے۔اور جو طلبہ تنظیمیں ہیں ان کے پاس نہ تعلیم ہے نہ  تربیت۔ایک سروے کے مطابق ملک کی 70 فیصد نوجوانوں نے کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا۔
 ابھی تک جو سروے کئے گئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت سیاست میں شرکت یا شمولیت سے لاتعلق ہے۔ سیاست کو یہ لوگ فرصت کا یا بڑے لوگوں کا کھیل سمجھتے ہیں۔جب فوجی جنرل اور بیوروکریٹ ریٹائر ہو کے سیاست کرتے ہیں۔
 نوجوانوں میں نئے نئے آئیڈیا، قوت اور جوش وخروش ہوتا ہے۔وہ کئی ایک رضاکارانہ کاموں میں حصہ بھی لینا چاہتے ہیں۔
زمینی حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں، حکومت اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان خلاء ہے۔ کو پر کرنے کے لیے سخت اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔سیاسی اسکل سیکھنے کے لیے کسی باقاعدہ پلیٹ فارم  کی عدم موجودگی میں پاکستان میں ایک غیر سیاسی نسل پیدا کی ہے، جو ماضی کے  ان واقعات سے بے بہرہ ہے۔ جس کی سیاسی تربیت کی اشد ضرورت تھی۔ مختلف سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو ٹارگیٹ کرہی ہیں۔ لیب ٹاپ، روزگار اسکیموں، نوجوانوں کو ملازمتیں، مختلف ٹیکنالوجیز کی ٹریننگ وغیرہ سب اس سلسلے کی کڑی ہیں۔مگر کسی نے بھی ٹھوس پالیسی نہیں بنائی ہوئی ہے۔ یہ سب روایتی چیزیں ہیں۔ان پارٹیوں کو ووٹروں کے اس نئے بلاک کی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

No comments:

Post a Comment