Tuesday, 10 March 2020

سندھ کا انتخابی منظر نامہ -Apr 22, 2013

Mon, Apr 22, 2013 at 10:44 AM
سندھ کا  انتخابی منظر نامہ  
سہیل سانگی
تمام سیاسی جماعتوں نے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اور انتخابی مہم باضابطہ شروع ہوگئی ہے۔  سندھ میں پیپلز پارٹی بطور پارٹی کے ابھی تک انتخابی مہم شروع نہیں کر سکی ہے اور نہ ہی کوئی بڑا سیاسی شو کر سکی ہے۔ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ضلع سطح پر جلسے کئے جائیں گے۔ نواز شریف ٹنڈوالہیار میں انتخابی مہم کا جلسہ کر رہے ہیں۔ 
سندھ کے لیے یہ کہا جارہا تھا کہ یہاں بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے۔یہ تبدیلی کیا شکل اختیار کر رہی ہے؟ اس کے لیے انتخابی منظر نامے پر نظر ڈالتے ہیں۔حالیہ انتخابی عمل سندھ میں کسی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتا نظر نہیں آتا۔ پیپلز پارٹی ہو یا دس جماعتی اتحاد یا بشمول فنکشنل اور نواز لیگ، سب کے پاس امیدوار وڈیرے ہی ہیں۔ لہٰذا یہ  وڈیرہ بمقابلہ وڈیرہ۔
 سندھ کی قوم پرستوں میں سے سوائے تین پارٹیوں  ڈاکٹر قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی،پلیجو کی  قومی عوامی تحریک اور جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے باقی نصف درجن کے قریب پارٹیاں اور گروپ جس میں جیئے سندھ محاذ، جیئے سندھ قومی محاذ کے دونوں دھڑے، جیئے سندھ متحدہ محاذ وغیرہ انتخابات سے باہر ہیں۔یہ جماعتیں پارلیمانی سیاست کو سندھ کے دکھوں کا مداوا نہیں سمجھتی ہیں۔۔لہٰذا یہ خواب کہ سندھ کے قوم پرست مین اسٹریم سیاست کا حصہ بن پائیں گے شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ 
 حیرت انگیز بات ہے کہ سندھ کے ادیبوں کا ایک گروپ سندھ کے نام پر  دس جماعتی اتحاد کی ہی نہیں بلکہ بعض پیپلز پارٹی کے مخالف وڈیروں کی حمایت کر رہا ہے۔ماضی میں سندھ کے ادیبوں اور شاعروں کا کردار روشن خیال اور جمہوری رہا ہے۔ 
 انتخابات سیاسی کم اور ذاتی زیادہ ہوگئے ہیں۔ نہ سیاسی نعرہ موجود ہے اور نہ ہی سیاسی  جماعتیں بطور جماعت کے۔ سندھ میں متبادل کے طور پر پیش کئے جانے والے دس جماعتی اتحاد نے بھی کوئی پروگرام یا منشور کا اعلان نہیں کیا۔ اصل میں یہ سیاسی اتحاد کم اور سیٹ ایڈجٹسمنٹ کا معاملہ زیادہ ہے۔ 
مختلف گروپوں کی جانب سے کسی کی حمایت یا مخالفت کی کسوٹی بھی ذاتی تعلقات اور اثر رسوخ ہے۔عمرکوٹ میں فنکشنل لیگ تحریک انصاف کے امیدوار شاہ محمود کی حمایت کررہی ہے جبکہ یہ جماعت مسلم لیگ نون کی اتحادی ہے۔ ارباب گروپ تھر میں شام محمود کے ساتھ مقابلے میں ہے۔ مگر اس حلقے میں وہ ملتان کے پیر کی حمایت کر رہا ہے۔ 
 ایم کیو ایم نے بظاہر تو 127 نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ اور اے این پی نے قومی کے 17 اور صوبائی کے 36 حلقوں سے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن عملاایم کیو ایم اور اے این پی نے شہری علاقوں کراچی حیدرآباد اور میرپرخاص کو فوکس کیا ہے۔متحدہ کراچی کی بیس میں سے سترہ  قومی کی اور 42 صوبائی  میں سے 35 صوبائی  حلقوں کو فوکس کیا ہے۔پیپلز پارٹی کراچی میں ملیر اور لیاری کو فوکس کیا ہے۔
مسلم لیگ نون دس جماعتی اتحاد کے امیدواروں اور پی پی مخالف تمام امیدواروں کو اپنی چھتری کے نیچے قرار دے رہی ہے۔تاہم تاحال یہ اعلان نہیں کیا کہ اس پارٹی کے اپنے کتنے امیدوار میدان میں ہیں۔مجموعی طور پر فنکشنل لیگ، نواز لیگ اور قوم پرستوں پر مشتمل دس جماعتی اتحاد نے قومی کی 47 اور صوبائی کی 97نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ 
 پیپلز پارٹی ابھی بھی صوبے میں واحد پارٹی ہے جس نے تقریبا ہر حلقے میں اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔سابق حکمران اتحاد میں سے مسلم لیگ قاف کا سندھ میں صفایا ہوچکا ہے۔ اس اتحاد میں شامل باقی جماعتیں یعنی پی پی، ایم کیو ایم اور اے این پی اگرچہ بظاہر ایک دوسری کی حمایت نہیں کر رہی ہیں تاہم  ان جماعتوں نے 2008ع کے انتخابات کی پوزیشن کو تسلیم کرکے ایک دوسرے کے زیر اثر حلقے میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔صرف 137حلقوں میں پی پی اور متحدہ کے امیدوار دس جماعتی اتحاد  کے مدمقابل ہونگے۔ دس  فیصد حلقوں میں پارٹی کے ناراض امیدوار بھی کھڑے ہیں۔
دس جماعت اتحاد نے قومی کے دس اور صوبائی کے 37 حلقے خالی چھوڑے ہیں۔ جن پر مخدوم شاہ محمود قریشی،  شیرازی، اور لنڈ گروپ کے امیدوار ہیں۔ آزاد امیدوار طور انتخاب لڑنے والے صرف نام میں آزاد ہیں۔ انکو دس جماعتی اتحاد یا پھر پی پی مخالف گروپوں کی حمایت حاصل ہے۔ 
ٹکٹ کے معاملے پر پیپلز پارٹی قیادت کو کارکنوں کی جانب سے کئی مقامات پر مزاحمت کا سامناہے۔ ہلکی پھلی بغاوت کے بھی آچار دکھائی دیئے۔ لیکن متبادل  نہ ہونے کی صورت میں یہ مزاحمت اور بغاوت کوئی زیادہ رنگ نہیں لائے گی۔ 
مہر، مزاری، ڈاہری، چانڈیو، لاڑکانہ کے انڑ کو پیپلز پارٹی نے اپنا بنایا۔ جبکہ ٹکٹ کے معاملے پر ٹھٹہ کے شیرازی، ملکانی اور گھوٹکی  کے لنڈ گروپ پی پی سے دور ہوئے۔ پیر آفتاب حسین شاہ جیلانی، سیف اللہ دھاریجو، غنی تالپور، اورمظفر شجراع کارنر ہوئے۔ عبدالواحد سومرو، زاہد بھرگڑی، میاں مٹھو، گل محمد جکھرانی، جام تماچی انڑ، پیر امجدشاہ جیلانی کو ٹکٹ نہ ملی۔ لاڑکانہ کے عباسی برادران  پیپلز پارٹی سے دور ہوگئے۔بعض سیاسی خاندان کسی بھی پارٹی میں جگہ نہ حاصل کرسکے۔ ان میں  عمرکوٹ کے پلی، میرپورخاص کے تالپور شامل ہیں۔ 
اختلافات نوز شریف کے زیر سایہ قائم دس جماعتی اتحاد میں بھی ہیں۔ جن میں سے بعض کو ٹھنڈا کیا گیا ہے لیکن نوشہروفیروز اور شکارپور وغیرہ میں یہ اکتلافات موجود ہیں۔ جس کو شہباز شریف کا گزشتہ ہفتے کا دورہ بھی ختم نہیں کرا سکا ہے۔ 
صوبے میں سیاسی طور پر پیپلز پارٹی کو سخت مخالفت کا سامنا ہے۔یہ مخالفت فی الحال رائے عامہ بنانے والے عناصر کر رہے ہیں۔ لیکن انتخاب کے حوالے سے پیپلز پارٹی نے کچھ کھویا بھی تو کچھ پایا بھی کیا کھویا کیا پایا۔ پی پی اپنی اس حکمت عملی میں کامیاب نظرآتی ہے کہ کوئی بھی اسمبلی ممبر بننے جیسا بااثر شخص پارٹی کے دائرے سے باہر نہ رہے۔یہ الگ بات ہے کہ اس کے نتیجے میں پارٹی کارکن ناراض ہوئے اور بعض جگہوں پرتنظیمی طور رپربھی پارٹی کو  نقصان پہنچا۔
سندھ  کے انتخابات کی سیاست میں آج بھی دو درجن سیاسی خاندان اور نصف درجن سجادہ نشین حاوی ہیں۔ دونوں بڑی جماعتوں نے وڈیروں کو اہمیت دینے میں ایک دوسرے سے مسابقت لے رہی تھیں، نیتجے میں نیا طبقہ کردار ادا کرنا چاہ رہا تھا اس کو اسپیس ہی نہیں ملا۔ لہٰذا  ان انتخابات  ماضی سے سے کوئی زیادہ مختلف نظر نہیں آتے۔

No comments:

Post a Comment