Tuesday, 10 March 2020

نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم اور سندھ -Jun 6, 2013

Thu, Jun 6, 2013 at 2:06 PM
نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم اور سندھ
میرے دل میرے مسافر
سہیل سانگی 
نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم ہوگئے ہیں۔میاں صاحب یہ تیسری باری پیپلزپارٹی کی حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد ملی ہے۔ پہلے دو اقتدار کے دور سندھ اور نواز شریف دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تلخ تجربہ رہا۔ سندھ میں وفاق نے ڈنڈے کے زور پر  جام صادق علی کی اقلیتی حکومت بنائی۔ شہری علاقوں میں ایم کیو ایم  کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ دیہی علاقوں میں ڈاکوؤں کے نام پر آپریشن کیا گیا۔  پانی کا معاہدہ بھی نواز حکومت کے پہلے دور کی پیداور ہے جس پر سندھ کو شکایت رہی کہ پنجاب اپنے ہی بنائے ہوئے معاہدے پر عمل نہیں کر رہا ہے۔ ماضی میں سندھ کے حوالے سے نواز شریف پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ متنازع کالاباغ ڈیم بنانا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ سندھ کے دو بڑے ترقیاتی منصوبے تھر کول اور کیٹی بندر ڈیپ سی پورٹ کو نواز شریف نے منسوخ کیا تھا۔
اس مرتبہ اگرچہ انہوں نے سندھ کی طرف بظاہر اپنا جھکاؤ رکھا۔ سندھ میں اپنی تنظیم سازی کے بجائے اتحادیوں پر بھروسہ کرنے کی کوشش کی۔ نتیجہ صاف ظاہر تھا۔ نہ اس کے اتحادی نشستیں حاصل کر سکے او نہ خود نوز لیگ۔ لیاقت جتوئی، ممتاز بھٹو، اسماعیل راہو،  غوث علی شاہ اپنی روایتی نشستیں ہار گئے۔ بلکہ راحیلہ مگسی بھی ہار گئیں۔ سوال یہ ہے کہ اب جب  پنجاب اور وفاق میں  نواز لیگ کی حکومت قائم ہو چکی ہے تو کیا اب وہ سندھ پر توجہ دیں گے؟ سندھ  میں ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ نواز شریف کو  اس صوبے میں پراکسی سیاست کرنے کے بجائے براہ راست سیاست کرنی چاہئے۔اور سندھ میں تبدیلی تب ممکن ہے جب نواز شریف سندھ میں خود کو اسٹیک ہولڈر بنائیگا۔ یہ بات اس وجہ سے بھی کہی جارہی ہے کہ اگر مسقتل بنیادوں پر اور ملکی سطح کی سیاست کرنی ہے تو  نواز لیگ کو  اپنی پہچان پنجاب کی پارٹی سے تبدیل کر کے ملک گیر پارٹی کی شکل دینی ہوگی۔ جب نواز لیگ ایسا کرے گی تو ملک کی دوسری پارٹیاں بھی اس نقش قدم پر چل سکتی ہیں۔
 نواز لیگ کے ساتھ سندھ سمیت ملک کی چھوٹی پارٹیوں  اقتداری اتحاد  قائم ہو چکا ہے۔ آزاد امیدواروں نے بھی اپنی پناہ گاہ نواز لیگ کیپم میں قائم کرلی ہے۔ جس سے اس جماعت کی پوزیشن مضبوط ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ 
نواز شریف انتخابات سے پہلے سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ اور ان کو مختلف قسم کی یقین دہانیاں کرا رہے تھے، اب ایم کیو ایم کی طرف  اتحاد کے لیے بڑھ رہی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے بھی وزیراعظم کے انتخاب میں نواز شریف کو ووٹ دے دیا۔ متحدہ دہری پالیسی چلنا چاہ رہی ہے۔ وہ صوبے میں اپنا  حصہ زبردستی  لینا چاہتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مرکز میں بھی اقتدار سے باہر رہنا نہیں چاہتی۔ متحدہ کو سندھ حکومت میں شمولیت کے بجائے گورنری اور پورٹ شپنگ اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت میں زیادہ دلچسپی ہے۔ 

گزشتہ پانچ سال تک پیپلز پارٹی کی  سیاسی مصالحت کی  پالیسیوں کی وجہ سے سندھ میں سیاسی  بحران کی صورتحال رہی۔ اس کا رخ دہرے بلدیاتی نظام کی مخاالفت کی وجہ سے  ایم کیو ایم  کے خلاف رہا۔ خود نواز لیگ بھی اس پوری تحریک کی حمایت کرتی رہی جو سندھ میں قوم پرست اور فنکشنل لیگ چلا رہے تھے۔ نواز شریف اگر اقتدار میں آنے کے بعد اپنے پرانے اتحادیوں کو بھول جاتے ہیں  تو یہ ایک اور سیاسی غلطی ہوگی۔ صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ 
میان صاحب کو  ایم کیو ایم  کے ساتھ تعلقات، بلدیاتی نظام وغیرہ کے بارے میں واضح موقف رکھنا پڑے گا  جو انہوں نے سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ مختلف اجلاسوں میں کیا۔ پریس کانفرنسوں اور عام جلسوں میں سندھ کے عام آدمی کے خدشات کو دور رکنے کے لیے یقین دہانی کے طور پر کیا۔ 
اس وقت بھاری منڈیٹ کے ساتھ مسلم لیگ نوں وفاقی حکومت میں آئی ہے۔ اس کو سندھ کے بنیادی اشوز کو حل کا حل تلاش کرنا پڑے گا۔ سیاسی کارکنوں کی گمشدگی صرف  بلوچستان کا مسئلہ نہیں۔ سندھ میں بھی درجنوں کارکن  پراسرار طور پر گم ہوتے رہے ہیں اور بعد میں ان کی لاشیں ملی ہیں۔ یہ سندھ کا نارض نوجوان ہے جو ملک میں موجود  نظام میں اپنے لیے یا اپنے صوبے کے لیے جگہ نہیں دیکھ رہا ہے۔ اس پر بھی سیاسی معنوں میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔  سندھ کا ناراض نسل بھی میاں صاحب کا ایجنڈا ہونا چاہئے۔ 

 سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے صدر سید جلال محمود شاہ  نے نواز شریف کو  چھ نکات یاد دلائے ہیں۔ سندھ یونائٹیڈ پارٹی سندھ کی واحد جماعت ہے جس نے  نواز لیگ کے ساتھ باقائدہ تحریری معاہدہ کیا تھا۔  اگرچہ اس معاہدے پر سندھ کے مختلٖ حلقوں نے سخت تنقید کی تھی کہ اس میں پنجاب سے ٹھوس شکل میں یقین دہانی لینی چاہئے تھے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کو سیاسی اور اخلاقی طور پر کمزورکرنے میں قوم پرستوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔بعد میں  یہ پوری تحریک فنکشنل لیگ کی گود میں چلی گئی۔ اانتخابات کے بعد صورتحال یہ ہے کہ فنکشنل لیگ نے تو  وفاق میں ایک ادھ وزارت پکی کرلی ہے۔ سید جلال محمود شاہ  اور دوسرے قوم پرست بیچ چوراہے پر رہ گئے ہیں۔ سندھ کے قوم پرستوں کا کیا ہوگا؟ جلال شاہ نے اب جلسوں میں یہ بات کہنا شروع کردی ہے۔ نواز شریف کی ایک اور اتحادی جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔ 
 معاملہ صرف سندھ کے سیاسی حلقوں یا قوم پرستوں کو  اکموڈیٹ کرنے کا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ  وہ اشوز جن پر وقتا بوقت سندھ میں احتجاج ہوتے رہے ہیں تحریکیں چلتی رہی ہیں ان پر  نواز شریف کیا موقف اختیار کرتے ہیں اور کیا عمل کرتے ہیں۔
۱۔ دریائے سندھ کی پانی کی تقسیم کا معاملہ بنیادی نوعیت کا رہا ہے۔ 1991پانی کا معاہدہ میاں صاحب کے دور حکومت میں ہوا تھا۔ سندھ کو شکایت رہی کہ پنجاب اپنی پسند کے اس معاہدے پر بھی عمل درآمد کے لیے تیار نہیں۔ اس مرتبہ اس معاہدے پر عمل درآمد میاں صاحب کی ترجیح بننا چاہئے۔  
تمام حکومتیں صوبوں کی مرضی کے بنا کوئی کینال یا ڈیم نہ تعمیر کرنے کی یقین دہانیاں کراتی رہیں۔ مگر اس کے باوجود تھل کینال تعمیر ہوگیا۔ جبکہ کہ کچھ اور کینالوں کی تعمیر بھی حکومت کے ایجنڈے پر ہیں۔ 
۲۔سندھ کے معدنی و قدرتی وسائل پر حق ملکیت کا معاملہ سندھ کے لوگوں کی جدوجہد کا مرکزی نقطہ رہاہے۔ سندھ کے ساحل پر موجود دو جزائر کی فروخت کا معاملہ پیپلزپارٹی کی گزشتہ دور حکومت میں اٹھا تھا۔ اس پر بھی نوز لیگ کو سوچ سمجھ کر موقف اختیارکرنے کی ضرورت ہے۔
۴۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد بہت سارے محکمے صوبوں کو منتقل ہوگئے ہیں۔ لیکن ان محکموں کے وسائل اور اثاثے صوبوں کو منتقل نہیں ہو سکے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں ایسا کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ پنجاب کی جانب سے اس منتقلی کی مزاحمت کی گئی تھی۔نواز شریف حکومت کے لیے یہ چلینج ہوگا کہ  وہ صوبوں اور پنجاب کے درمیاں جو خیلج موجود ہے اور کو ختم کرنے کے لیے کیا سنجیدہ کوششیں کرتے ہیں اور کس حد تک کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اگر ان کے دور حکومت میں یہ خلیج اور بڑھتی ہے تو مجموعی طور پر یہ نقصان کا سودا ہوگا۔

No comments:

Post a Comment