Mon, Aug 13, 2012, 8:47 AM
قیام پاکستان اور 66 سال کا سفر
سہیل سانگی
برصغیر کے مسلمانوں نے آزادی حاصل کرنے کے لیے اس خطے کے دوسرے لوگوں کی طرح طویل اور کٹھن جدوجہدکی ہے۔آزادی کی کیا شکل ہو؟ اسکے لیے باضابطہ 23 مارچ 1940کو آزاد وطن کا خاکہ پیش کیا گیا۔یہ قراردادلاہور کی شکل میں تھا اور یہی قرارداد نئے وطن کی بنیاد بنی۔اس قرارداد کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا اسکا اندازہ اس ے لگایاجاسکتا ہے کہ سرکاری تقریبات میں اس قرارداد کے متن کا حوالہ دیئے بغیر یہ دن منایا جاتا ہے۔بلکہ ایسی چیزوں کو ابھارا جاتا ہے جو پاکستانی قوم پرستی کے اجزاء کو ظاہر نہیں کرتیں اور صوبوں کے حقوق کو غیر محب وطن چیز سمجھتے ہیں۔جب کہ صوبوں میں موجود قوم پر ست قرارداد کے بنیادی نکات پر زور دیتے ہیں اور جو سرکاری سطح پر بات ہو رہی ہوتی ہے اس کو چیلینج کرتے ہیں۔لہٰذا سندھ کے لوگ اس کو ایک ایسا وعدہ سمجھتے ہے جو پورا نہیں ہوا۔۔اس قرارداد کے متن کا اہم حصۃ یہ تھا۔ ”۔۔۔وہ علاقے جہاں عددی لحاظ سے مسلمان اکثریت میں ہیں جیسے شمال مغربی اور مشرقی علاقے، ان کی گروپنگ اس طرح سے کی جائے کہ اس میں شامل وحدتیں آزاد اور خودمختار ریاستوں کے طور پر رہیں۔۔۔۔۔“
یعنی شامل ہونے والے صوبوں یا وحدتوں کی مقتدرہ اور خودمختار حیثیت کا مانا گیا ہے۔1941ع کو مسلم لیگ نے اس قرارداد کو اپنے آئین کا حصہ بھی بنایا
یوم آزادی پر حکمران اور سیاستدان عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یوم آزادی پر جوشوخروش دکھائیں۔ وجہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جو حکومتیں قائم ہوئیں وہ عوام کو آزادی سے متعلق کئے گئے وعدوں کے حوالے سے کچھ نہیں دے سکیں۔
قرارداد لاہورمسلم لیگ نے برصغیر کے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے 23 مارچ1940 ع کواپنے اجلاس میں پیش کی جسے دوسرے دن یعنی 24 مارچ کو منظورکرلیاگیا۔اس قرارداد میں مسلم اکثریتی صوبوں پر مشتمل ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا گیاتھا۔لاہور کی یہ قرارداد ہی آگے چل کر قرارداد پاکستان کہلائی اور پاکستان کا سنگ بنیاد بنی۔اس قرارداد میں خودمختار صوبوں کا وعدہ کیا گیا تھا۔اور کہیں بھی اسلام کا ذکر نہیں تھا۔جس طرح سے آج قیام پاکستان کی بعض حلقے توضیح اور تشریح کر رہے ہیں۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کی انڈیا کی مذہبی جماعتوں نے نہ صرف حمایت نہیں کی تھی بلکہ مخالفت کی تھی۔قائداعظم کی تقاریر اور تصورات ایک روادری، جمہوری، ملک کے قیام کے تھے۔ لیکن قیام پاکستان اور قائداعظم کی وفات کے بعد ہم نے ان سب کا بالائے طا ق رکھا بلکہ انکے برعکس کام کیا۔بھر پور طریقے سے غیر جمہوری، غیررواداری، مرکزیت پسندی کو پروان چڑھایا۔
قیام پاکستان کے بعد دو تضادات کا سمامنا کرنا پڑا۔ ایک صوبوں اور مرکز کے درمیان تھا دوسرا ریاست کے نمائندہ اور غیر نمائندہ اداروں کے درمیان۔جہموری سوال اوقومیتوں کے حقوق کا سوال۔ پنجاب اور ہجرت کرکے آنے والی اشرافیہ ملک کا کنٹرول بنگالی ہاتھوں میں دینا نہیں چاہ رہی تھی۔دوسرے تضاد کے نتیجے میں سویلین حکمرانوں کا آنا جانا لگا رہا (جو آج بھی جاری ہے)۔جب کہ پہلے تضاد کا نتیجہ زیادہ بھیانک تھا کی بنگال الگ ہو گیا۔ آج بلوچستان میں بیگانگی اور سندھ میں بے چینی بھی اسی وجہ سے ہے۔
ابھی پاکستان بیوروکریسی کے ہاتھوں کنٹرول والے عمل سے گزر رہا تھا تو کہ عسکری قوتیں بھی اس میں شال ہو گئیں۔ شروع میں بوقت ضرورت فوج کو بھی بلایا جاتا رہا۔تاکہ ملک میں امن امان یا دیگر معاملات کو منہ دے جو سویلین انتظامیہ کے اختیار میں تھے۔قیام پاکستان کے فورا بعد فوج کے حوالے مہاجروں کی آبادکاری کا معاملہ تھا۔اس کے بعد امن مان وغیرہ یا بنگال میں جب زبان کے مسئلہ پر ہنگامے ہوئے ان سے نمٹنے کے لیے بلایا گیا۔1953 میں قادیانیوں کے خلاف تحریک کے مسئلے پر محدود مارشل لا نافذکیا گیا۔سیلاب میں امدادی کاموں میں بھی بڑے پیمانے پر فوج استعمال کی گئی۔اس کے ساتھ ساتھ فوج بعض سماجی کام تعلیم، صنعتیں لگانے میں بھی مصروف رہی۔ان کاموں نے فوج کا امیج بطور ایک اچھے ادارے کے بھی ابھارا جو مختلف کام کر رہاتھا۔لیکن وہ بھی کرنے لگی جو خالصتاسویلینکی ذمہ داری تھی۔
گورنر جنرل غلام محمد نے 1954ع میں ایوب خان کو وزیردفاع بنایا۔یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس کی کوئی پہلے مثال موجود نہیں تھی۔اس نے اسٹبلشمنٹ پر فوجی بالادستی کو تسلیم کرلیا۔ حکومت نے انہیں یہ ذمہ بھی دیا کہ وہ ملک کے موجودہ اور مستقل کے مسائل کے بارے میں تجزیہ پیش کرے جو کہ انہوں نے کیا۔اب جنرل حکومت کو نہ صرف انتظامی بلکہ سیاسی اور معاشی حوالے سے بھی رہنمائی پیش کرنے لگا۔جنرل نے دوسری باتوں کے ساتھ ساتھ ملک میں پیئرٹی لاگو کرنے کا بھی فارمولا پیش کیا۔
ایسے میں پاکستان کی دفاع کے حوالے سے بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر پاکستان کے وسائل خرچ کرنے میں فوجی اخراجات ترجیح بن گئے۔انڈیا سے مسابقت کا معاملہ آیا تو ہاتھ غیر ملکی امدا دتک چلا گیا۔اور پاکستان امریکہ کی گود میں چلا گیا۔
مرکز میں غیرنمائندہ اداروں اور دوسرے تضاد کے حامیوں نے گٹھ جوڑ کرلیا۔ اور وہ ملک کے سیاسی، اقتصادی، سماجی اور انتظامی معاملات پر قابض ہو گئے۔ صوبوں کو ان وسائل سے محروم کردیا اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو حق بالغ رائے دہی سے محروم کردیا۔یہاں پر جمہوری اور قومی سوال ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گیا۔اور سیاسی پارٹیوں اور سویلین انتظامیہ کا رول گھٹتا گیا۔
مسلم لیگ بحیثیت پارٹی کے اتنی منظم اور مضبوط نہیں تھی کہ وہ پاکستان میں انتظامی اتھارٹی پر کنٹرول رکھتی۔لہٰذا اشرافیہ نے غیرنمائندہ اداروں پر انحصار کیا۔یوں یہ غیر منتخب ادارے نمائندہ اداروں کی قیمت پر پلے بڑھے اور مضبوط ہوئے۔
قرارداد لاہورجو پاکستان کی بنیاد بنی تھی اسے بعد میں سندھ اور بنگال کی صوبائی اسمبلیوں نے بھی منظور کیا۔ اس قرارداد میں خودمختار صوبوں کا وعدہ کیا گیا تھا۔ مگر جب پاکستان بنا تو نہایت ہی مرکزیت والی ریاست وجود میں آ گئی۔ کانگریس جو صوبائیت یا علاقائیت کے بارے میں حساس تھی اس نے صوبوں کے ان مطالبات کو سمجھ لیا۔اور انڈیانے 50کے عشرے میں ہی صوبے زبان اور ثقافت وغیرہ کی بنا پر صوبوں کی ازسرنو تشکیل کرلی۔مگر مسلم لیگ نے اس کے الٹ کام کیا۔ اسی عشرے میں صوبوں کی حیثیت ختم کرکیوں یونٹ مسلط کردیا۔اور مشرقی پاکستان سے زبردستی پیئرٹی (مساوات)قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔
پاکستان اپنی مختصر تاریخ میں تین آئین بنا چکا ہے جس پر حکمرانوں نے عمل کرنے کی کوشش کی انہوں نے اس کو توڑا، مسخ کیا، بگاڑا یا معظل کردیا ۔آئین کو کوئی مقدس حیثیت حاصؒ نہیں رہی۔ضیاء الحق نے اسے ردی کاغذ کا ٹکڑا کہا۔جب آئین کا تقدس نہیں رہا توہ یہ آئین عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہا۔
جناح کا پاکستان اسلام کے حوالے سے اتنا ہی تھا جتنی بوسینیا کی آزاد ریاست ہے۔پاکستان اکثریتی مسلمانوں کی فلاح کے لیے قائم کیا گیاتھا۔بالکل ایسے جیسے یوگوسلویہ کی مسلم اکثریتی علاقے بوسینیا کے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد ریاست بنائی گئی۔انڈیا کے بٹوارے کے بعد جناح نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ملک کے ساتھ وفادار رہیں۔انہوں نے تو جناح کی بات مان لی مگر ایک ہم ہیں کہ بابائے قوم کے نظریات اور خیالات کو مسخ کر رہے ہیں اور ان کے ان تصورات کے خلاف چل رہے ہیں۔
آج کی بدامنی والی صورت جس سے پاکستان گزر رہا ہے۔ جس میں اندرونی طور پر دہشتگردی کے واقعات ہیں شدت پسندی اور انتہا پسندی ہے جس کا مقصد ملک کو کمزور رکرنا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مقاصد پر نظر ڈالی جائے جن کے لیے پاکستان بنا تھا۔
انڈیا کے مسلمانوں نے تو ایک مختلف وطن کا خواب دیکھا تھا اور مختلف مقاصد کے لیے جدوجہد کی۔ قائداعظم کے بھی نظریات و خیالات مختلف تھے۔ یہ سب کچھ وہ نہیں تھا جس کے لیے برسہا برس تک برصغیر کے لوگ جدوجہد کرتے رہے۔ایسا لگتا ہے کہ ہم وہیں کھڑے ہیں یا بعض معنوں میں اور پیچھے گئے ہیں کہ نہ اپنا معاشی نظام اور نہ ہی سیاسی نظام بنا سکے ہیں۔جس میں نہ عوام کے مختلف طبقوں کو حقوق حاصل ہیں نہ صوبوں کو۔ضرورت اس بات کی ہے کہ زمینی حقاءئق کو تسلیم کریں اور ملک میں ایک ایسا سیاسی و معاشی نظام رائج کریں جس میں عوام اور صوبوں کو حقوق کو یقینی بنایا جاسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ:
یہ پیراگراف صفحہ اول پر پیر نمبر 3 کے طور پر یعنی اس پیرا سے پہلے تھا ”قیام پاکستان کے بعد دو تضادات کا۔۔۔۔“ لیکن میں نے فی الحال نکلا دیا ہے۔ ؑعطا صاحب سے مشورہ کر لیں۔۔۔
ہم غلط تصورات کی پیروی کرتے اور حقائق کو چھپاتے رہے ہیں اس کی ایک چھوٹی سی مثال درج ذیل دو واقعات ہیں۔تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ برصغیر کے آخری وائسراء ماؤنٹ بیٹن کو اپنی 14 اگست کی تقریر میں رسمی طور پر پاکستان کی آزادی کا اعلان کرنا تھا اگر وہ خود بیک وقت دو نئی ریاستوں کے قیام کے موقعے پر کراچی اور دہلی میں موجود ہوتے۔ ڈاکٹر مبارک علی خان لکھتے ہیں کہ انڈین انڈپینڈنس ایکٹ کے مطابق ان دو ریاستوں کو 14 اور15 اگست کی درمیانی شب کو آزاد ہوناتھا۔ یہی وجہ ہے کہ اور 15 اگست کی صبح کو یونین جیک اتار دیا گیا پاکستان کا جھنڈا ایک تقریب کے موقعہ پر گورنر جنرل ہاؤس کے لان میں لگا دیا گیا۔بعد میں جناح نے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا۔
بڑی دلچسپ بات ہے کہ ہم پاکستان کا یوم آزادی آئندہ چھ سال تک 15 اگست کو ہی مناتے رہے اور 1954میں فیصلہ کیا گیا کہ یوم آزادی تبدیل کردیا جائے اور وہ 14اگست کو منایا جائے۔ویسے صرف پاکستان ہی اکیلا ملک نہیں ہے جس نے اپنی تاریخ پیدائش تبدیل
کی ہے۔ چند برس پہلے فلپائن نے بھی ایسا کیا تھا۔
No comments:
Post a Comment