Monday, 9 March 2020

سیاسی کرپشن - Nov 5, 2012

Nov 5, 2012
سیاسی کرپشن
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
سیاسی کرپشن یا سیاسی خیانت وہ عمل ہے جو  وقفے کے ساتھ پاکستان میں دہرایا جاتا رہا۔ آج ہمارے پاس کوئی مستحکم سیاسی اور سماجی نظام نہیں۔ اس کی وجہ بھی سیاسی خیانت ہے۔ اصغرخان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے بڑے بڑے اہم اداروں شخصیات اور سیاستدانوں کو ایکسپوز کردیا ہے۔عدلیہ نے نہ سمجھنے والوں کو بھی سمجھا دیا ہے اور اس حقیقت پر مہر ثبت کردی ہے کہ 1990 کے انتخابات چرائے گئے تھے۔ راتوں رات وجود میں آنے والے اتحاد آئی جے آئی کی اصلیت کیا تھی۔وقت سے پہلے بینظیربھٹو کی حکومت کیونکر ختم کی گئی؟ اس ڈاکے میں وہ ادارے، شخصیات اور لوگ شامل تھے جن کے ذمے اس کے اداروں، عوام اور آئین اور قانون کا تحفظ تھا، اور انہوں نے اس بات کا  اللہ کو حاضر ناظر جان کرحلف بھی لیا ہوا تھا۔مگر ان سب نے عوام، ملک کے اداروں، آئین اور قانون کے خلاف کام کیا جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔یہ وہ عمل ہے جو سیاسی کرپشن یا خیانت کے دائرے میں آتا ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ اب آئین اور قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کو تحفظ دینے کے جواز اور بہانے تلاش کئے جا رہے ہیں۔ جو کہ اخلاقی اور سیاسی کمزوری کی علامت ہے۔ہماری عدلیہ، آج کے دانشوروں (اینکر پرسن) نے ڈھائی سال تک پورے ملک کے انتظام اور نظام کو ہلا ئے رکھا۔ معاملہ پیسوں کی کرپشن کا تھا۔جب کہ پاکستان میں اس سے بھی زیادہ کرپشن کی داستانیں موجود ہیں۔ جن کے نتیجے میں ملک دولخت ہوگیا۔ لاکھوں لوگ مارے گئے۔اور اتنے ہی لوگدر بدر ہوئے۔ حقوق سے محروم رہے۔ صوبوں کے درمیاں تلخیاں اور تضادات بڑھے کہ ہم جمہوریت اور بھائی چارے کو ترس گئے۔ مگر ان کوجان بوجھ کر کرپشن کے زمرے میں نہیں لایا جاتا۔
سیاسیات اور سماجیات کے نئے نظریوں کے مطابق عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنا بھی کرپشن ہے جس کو سیاسی کرپشن کہا جاتا ہے۔اس عمل کے ذریعے ایسے سیاسی فیصلے کئے جاتے ہیں جوعوام کی رائے یا مینڈیٹ کے خلاف ہوتے ہیں۔جن کی کوئی آئینی یا قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔یہ ایسے ہی عمل ہیں جیسے کسی کو فائدہ یا نقصان دینے کے لیے پانی کے کینالوں میں شگاف ڈالے جاتے ہیں اور جواز یہ دیا جاتا ہے کہ اس کینال کے پشتے کمزور تھے وغیرہ۔
نیا ملک وجود میں آنے کے بعد پہلا جو فیصلہ الٹ دیا گیا وہ 1940ع کی قراداد تھی جو پاکستان کی اساس یا بنیاد تھی۔اس کے بعد وعدہ خلافیوں اور آئین اور قانون کی خلاف ورزیوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔
ون یونٹ کا قیام بھی سیاسی کرپشن تھی۔ کیونکہ ون یونٹ بنانے والوں کو عوام نے ایسا کئی مینڈیٹ نہیں دیا تھا۔ جب انتخابات ہورہے تھے تب عوام کے سامنے کوئی ایسی بات نہیں رکھی گئی تھی کہ اسمبلی ملک کی وحدتوں کو ختم کرکے زبردستی  نام نہادمساوات قائم کرے گی۔یہ وحدتیں یا صوبے ہی تھے جنہوں نے پاکستان بنایا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے انتخابات جیتنے والے کسی بھی پارٹی نے نہ اپنے انتخابی منشور میں اور نہ ہی اپنی پارٹی کے منشور میں ایسی کوئی بات رکھی ہوئی تھی۔شاید ایسا ہوتا تو کسی حد تک یونٹ کے قیام کا کوئی اخلاقی جواز بن سکتا تھا۔آنے والے وقت میں سب نے دیکھا کہ کس طرح سے اسٹبلشمنٹ نے بعد از خرابی ء بسیار یہ فیصلہ واپس لیا۔
پہلی مرتبہ فوج سیاست میں ملوث ہوئی جب ایک حاضر سروس کمانڈر وزیر دفاع بن بیٹھا اور اس نے سویلین حکومت کے کئی فیصلے ویٹو کئے۔ ایوب خان نے پروڈا اور ایبڈو کے قانون نافذ کرکے کئی سیاستدانوں کو نااہل قراردیا۔مگر ان کو معاف کردیا گیا جو یہ وعدہ کررہے تھے کہ وہ آئنڈہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔7 ہزار لوگوں کو ایبڈو کے تحت نااہل قرار دیا گیا۔جن میں سے کئی کو گرفتار بھی کیا گیا۔ایوب کے دورحکومت کو اچھا صنعتی دور سمجھا جاتا ہے۔ مگر انہوں نے ایسا صنعتکار طبقہ پیدا کیا  جس نے کوئی بنیادی صنعت نہیں لگائی اور سرکاری سبسڈی پر لوٹتا رہا۔اسی نظام نے دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم کو جنم دیا جس سے دولت بائیس خاندانوں کے پاس سمٹ کر آگئی۔پسندکے چند لوگوں کو ہی فائدہ دایا گیا۔ ایوب خان نے ایسا معاشی ڈھانچہ بنایا جو  نہ مسابقت کی قور رکھتا تھا اور نہ ہی پائداری اور استحکام کی۔ مقابلہ ہی نہیں کر پایا۔ایسا نظام جس سے ابھی تک ملک جان نہیں چھڑا پا رہا ہے۔خود کفالت کے بجائے انحصاری معیشت کی بنیاد ڈالی۔ پاکستان کی معاشی ترقی مکمل طور پر غیر ملکی پیسے  سرمایے کے آنے سے بنی۔
1970ع میں ایک اور بڑی کرپشن کی گئی۔یہ تھی عام انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے اور اکثریتی پارٹی کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار۔اگر یہ سیاسی کرپشن  یا خیانت نہ کی جاتی تو پاکستان کا نقشہ،  نظام اورحالات کچھ اور ہوتے۔یعنی اس سیاسی بددیانتی نے ملک کی تاریخ اور جغرافیہ دونوں تبدیل کردیئے۔جنرل ضیا نے یہ اقدام اس لیے کیا کہ وہ  ضیا کا مارشل لاء نافذکرنا بھی سیاسی بدیانتی تھا۔کیونکہ انہیں یا وہ جس ادارے کے سربراہ تھے ایسا کوئی اقدام کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ضیا نے بندوق کے زور پر اقتدار پر قبضہ کیا جس کا اسے کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔ انہوں نے ایسا کر کے آئین کی خلاف ورزی کی اور اپنا حلف توڑا۔ ضیا نے ایک منتخب حکومت کو برطرف کیا عوام کی منتخب اسمبلی کو توڑا اور سیاسی جماعتوں  کے اتفاق رائے کے برعکس ملک میں مارشل لا نافذ کرکے سیاسی بددیانتی کی۔ ملک کی معیشت اور سیاست جو تباہ ہوئی سو ہوئی، ملک کا سماجی ڈھانچہ بھی تباہ ہوگیا۔  ہیروئن، کلاشنکوف کلچر، انتہا پسندی سب انہی کی دین ہیں۔
 نوے کے عشرے میں مشرف نے خاص مقاصد کے لیے سافٹ مارشل لا نافذکیا۔ مارشل لاؤں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ تمام مارشل لا خاص مقاصد کے لیے لگائے گئے۔ اور اس کے بعد ان آمریتوں کے سائے تلے ملک میں خاص قسم کا معاشی، سیاسی اور سماجی نظام متعارف کرایا گیا۔ جو بصورت دیگر نہیں ہو سکتا تھا۔ یعنی عوام کی مرضی اور منشا  کے برعکس اور آئین اور قانون کو  روندتے ہوئے یہ سب کچھ کیا گیا۔پاکستان اور دیگر ممالک کا تجربہ بتاتا ہے کہ مارشل لا  اداروں کوکمزور کرتا ہے اور احتساب کے عمل کو روکتا ہے۔
 ملک میں جب بھی سیاسی بددیانتی اور خیانت ہوتی ہے تو نچلی سطح پر مالیاتی اور دیگر قسم کی بددیانتی بھی شروع ہو جاتی ہے۔ نوکرشاہی دیکھتی ہے کہ جب حکمران خود کرپشن (بددیانتی) کر رہے ہیں تو وہ کیوں پیچھے رہیں؟اس طرح سے کرپشن کا کلچر کے پاؤں کے نشان تلاش کئے جائیں تو وہ سیاسی کرپشن پر جا کر پہنچتے ہیں۔ اگر ملک میں سیاسی کرپشن نہ ہو تو میرٹ کا احترام بھی ممکن ہے۔
سیاسی کرپشن کا یہ بھی ایک دلچسپ  پہلوہے کہ جب بھی کوئی حکمران نچلے سطح  پر کرپشن کے خلاف نعرہ لگاتا ہے تو  یقین سمجھو کہ حکمران کوئی بڑی سیاسی خیانت کرنے جا رہے ہیں۔ ایوب خان جب اقتدار میں آئے تو  انہوں نے سیاستدانوں اور نوکرشاہی کی کرپشن کا ڈھندورہ پیٹا۔ اس کو ہی ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کی وجہ بتائی۔دراصل وہ خود سیاسی کرپشن کر رہے  تھے۔
ضیاے نے بھی 90 دن میں انتخابات کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن بعد میں پہلے احتساب بعد میں انتخاب کا نعرہ لگایا۔ جب وہ احتساب کا نعرہ لگا رہا تھا تو وہ دراصل سیاسی کرپشن کرنے جا رہے تھے۔
آج پیپلز پارٹی اپنے مینڈیٹ کا بہت ذکر کر رہی ہے۔ لیکن اس کے فیصلوں کو  حقیقی معنوں میں مینڈیٹ حاصل نہیں۔ پیپلز پارٹی نے جو  انتخابی  منشور دیا تھا  اور  عوام نے جس منشور کو ووٹ دیئے اس میں کراچی کے پانچ اضلاع اور حیدرآباد کی پرانی حیثیت میں بحالی  کا واضح طور پر ذکر تھا۔ منشور میں کسی بھی ایسے نظام کا ذکر نہیں ملتا  جو اس پارٹی نے سندھ میں نافذ کیا۔
سیاسیات اورعمرانیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ سیاسی کرپشن  اچھی حکمرانی کے خلاف اور عوام کو ان کی رائے اور حق سے محروم کرنے کے برابر ہے۔ اس کرپشن کے نتیجے میں سیاسی اور معاشی نظام، تسلیم شدہ اصولوں اور قوائد کو  بالاتر رکھ کر  بنایا گیا۔ جس کو عوام غیر قانونی اور غیر آئینی سمجھتا ہے۔ یہ سیاسی کرپشن ہی ہے جو کرپشن کلچر کو جنم دیتی ہے اور پرواں چڑھاتی ہے جو بعد میں عوام سے بھی لڑنے لگتا ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جو آج کل ہم پاکستانی بھگت رہے ہیں۔ مفکرین  مطابق سیاسی کرپشن سے مراد ہے کوئی غلط کام کوئی بااختیار یا طاقتور پارٹی  ایسے ذرائع  جو غیر قانونی، غیراخلاقی ہوں یا اخلاقی معیار کے مطابق نہ ہو۔ اختیار یا اقتدار میں موجود لوگوں کا بدیانتی اور دھوکہ دہی کے ذریعے کیا گیا عمل، کوئی ایسا عمل جو کسی کو اس کے قانونی یا جائز حق محروم کرے۔کرپشن صرف رشور ت دینا نہیں، یہ صرف کاروباری تعلق نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی بھی ہے۔کسی غیر قانونی چیز کو قانونی لبادہ پہنانا بھی بددیانتی اور کرپشن ہے۔
کرپشن کے مضراثرات  دور رس ہوتے ہیں۔کرپشن میں  ناجائز طور پر کسی کو فائدہ دیا جاتا ہے۔اور میرٹ کو کچلا جاتا ہے ہے۔ ایک کم اہلیت والی کمپنی کو ٹھیکہ دیا جائے اور اہلیت رکھنے والی کمپنی محروم ہو جائے تو یہ کرپشن ہی ہے۔ٹھیک اسی طرح سے اگر کوئی امیدوار ووٹرز کو پیسے دیکر حکومت آئے یہ بھی کرپشن ہے۔کرپشن کے قومی نفسیات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جو کہ حکمرانی کے پورے نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں۔جب کرپشن سسٹم کا حصہ ہو جائے تو لوگوں میں بھی غلط اور صحیح کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔یوں کرپشن سماجی طور طور قبولیت حاصل کر لیتی ہے۔کئی لوگ اپنی تمام صلاحیتیں اس پر صرف کرتے ہیں کہ کسی طرح سے سرکاری عہدہ حاصل کریں اور کرپشن میں حصیداری کرلیں۔
سیاست میں کرپشن کی ایک اور بھی شکل ہے۔ پاور بروکرزکے پاس سیاسی طاقت ہوتی ہے، جو خود کو اور اپنے حلقہ احباب کو  اپنے اثررسوخ کے ذریعے مضبوط کرتے ہیں۔ اور اس کے بدلے مزید پاور حاصل کرتے ہیں۔اس کی اچھی مثال بڑے زمیندار یا باثر لوگ ہیں۔
کرپشن اور اچھی حکمرانی دو متضاد اور متصادم عمل ہیں۔اور دونوں کے دوسرے کے مدمقابل ہی رہتے ہیں۔حکومت  کاذمہ مفاد عامہ میں کام کرنا ہے۔جبکہ کرپشن حکومتی عہدے اور وسائل کو ایک محدود تعداد  میں لوگوں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔
 اب جب انتخابات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ایسے میں تمام متعلقہ حلقوں کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ جو کرپشن پورے معاشرے کو ناسور کی طرح لگ رہی ہے اس کی بنیاد سیاسی کرپشن یا سیاسی خیانت ہے۔لہٰذا یسی کسی خیانت سے دور رہا جائے۔ یہی قوم اور ملک کا مستقبل ہے اور اسی میں بہتری ہے۔

No comments:

Post a Comment