Tuesday, 10 March 2020

انتخابات کودرپیش خطرات - Dec 6, 2012

Thu, Dec 6, 2012, 11:02 AM
 انتخابات کودرپیش خطرات
    میرے دل میرے مسافر۔سہیل سانگی
 ملک میں منتخب حکومت اپنی آئینی مدت پورے کرنے جا رہی ہے۔ جس کو سیاسی تاریخ میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔اس کے بعد عام انتخابات  ہونے ہیں جن کی بھی تیاریاں نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ سیاسی جماعتوں نے بھی شروع کردی ہیں۔ 
سیاسی جماعتیں ایک دوسر کے ووٹ بینک ہر اثرانداز ہونے کے طریقے اختیار کر رہی ہیں۔کون کس کا اتحادی بن سکتا ہے اور کس سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ممکن ہے؟ اس کی راہیں تلاش کی جارہی ہیں۔ 

نواز شریف نے تو بہت پہلے اس پر کام شروع کردیا تھا اور سندھ میں قوم پرستوں سے اتحاد بنا لیا تھا۔حال ہی میں  پیر پاگارا سے مولانا فضل الرحمان  اور شیخ رشید نے ملاقاتیں کی ہیں۔بعض رہنما  حکمران جماعت پی پی کی  اتحادی ایم کیو ایم سے بھی رابطے میں ہیں۔

موجودہ حکومت کی آئینی مدت  مارچ کے دوسرے ہفتے میں ختم  ہو رہی ہے اور حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ سال مئی میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔یہ انتخابات نگراں سیٹ اپ کے تحت ہونے ہیں۔ لہٰذا آئندہ دو ہفتے نگراں سیٹ اپ پر ہی سیاست ہوگی۔تاہم مختلف جماعتوں کی مرکزی قیادت  کے پاس ابھی بھی انتخابات سی کے ساتھ ساتھ نگران وزیر اعظم  اور سیٹ اپ کی بھی باتیں ہورہی ہیں۔  مبصرین یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا انتخابات کے لیے نگراں سیٹ اپ کویں ضروری ہے؟ دنیا میں کہیں بھی اس طرح کا رواج نہیں ہے۔ 

امریکہ ہو یا برطانیہ یا کوئی اور ملک وہاں ایک حکومت اپنی مدت پوری کرتی ہے تو دوسری منتخب حکومت اسی سے آکر چارج لیتی ہے۔ جمہوری ممالک میں ایسا کہیں بھی انتظام نہیں کیا جاتا۔ موجودہ حکومت عوام کا مینڈیٹ لیکر آئی ہے اور اس کے منڈیٹ میں ہر جمہوری حکومت کی طرح انتخابات کرانا بھی شامل ہے۔صرف پاکستان واحدملک ہے جہاں انتخابات کے لیے نگراں سیٹ اپ کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور اس کے ساتھ عدلیہ کو بھی بیچ میں لایا گیا ہے جس نے  پورا طریقہ کار بنا دیا ہے کہ نگراں سیٹ کس طرح کا ہوگا اور اس کا تقرر کس طرح سے کیا جائے گا۔ 

انتخابات کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ ملک میں بعض واقعات اور تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں۔صدر آصف علی زرداری  نے عام انتخابات کا عندیہ دیا ہے اور اپنی پارٹی کو اس کی تیاری کے یے ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ دوسری جانب فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر پاگارا سے شیخ رشید کی  ملاقات ہوئی ہے۔ شیخ رشید جس طرح کی باتیں کرتے رہے ہیں اور جو سیاست کرتے رہے ہیں  وہ کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ  پیر پگارا اور ایم کیا ایم کو مقتدرہ حلقوں کا پیغام لے کر آئے تھے۔شیخ صاحب ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے خلاف ہیں۔ اس طرح کی باتیں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی کرتے رہے ہیں۔ مگر شیخ صاحب کا ایجنڈا سیاستدانوں کے ہی خلاف سمجھا جاتا رہا ہے۔

پیر پاگارا  تین ماہ قبل سندھ میں حکمراں اتحاد سے الگ ہوئے ہیں اور سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ ملکر  متنازع بلدیاتی نظام کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں۔ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ سندھ میں  وہ پیپلز پارٹی کا متبادل ہو سکتے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد پگارانے کہا ہے کہ موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں انتخابات ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت  ملک میں امن امان کی صورتحال خراب ہے۔ کوئی بھی شہری محفوظ نہیں۔ ایسے میں کیسے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ پیر پاگارا نے یہ بھی  خدشہ  ظاہر کیا کہ انتخابات نہ ہونے کی صورت میں ملک ایک بہت بڑے بحران کی لپیٹ میں آجائے گا۔
پیر صاحب کی یہ پیش گوئی اس وجہ سے بھی وزن رکھتی ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل جو واقعات رونما ہو رہے ہیں اور جو منظرنامہ بن رہا ہے وہ سب ایسے نہیں جن میں انتخابات  نہیں کرائے جا سکتے۔ ملک میں مردم شماری ہونی تھی تاکہ ملک میں آبادی کی زمینی حقائق کو آبادی کی منتقلی وغیرہ  کے حوالے سے ریکارڈ کیا جا سکے اور اسی کی روشنی میں اسمبلیوں کی نشستوں کی تقسیم اور حلقہ بندیاں مکمل ہو سکیں۔ اس کے بعد مرحلہ  درست اور اطمینان بخش انتخابی فہرستوں کی تیاری ہے۔
 جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ  مردم شماری کے پہلے مرحلے کے طور پر گھرشماری کو بھی نااقص بنایا گیا۔جس پر شیدید اعتراضات ہوئے نتیجے میں گھر شماری روک دی گئی اور مردم شماری بھی منسوخ کرنی پڑی،چونکہ مردم شماری نہیں ہو پائی ہے لہٰذا  ملک میں نئی حلقہ بندیاں بھی معمول کے مطابق نہیں ہو سکیں۔دوسرا مرحلہ ووٹرزکا اندراج ہے۔

 کراچی جہاں پر سیاسی بالادستی کی جنگ ہتھیاروں کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے وہاں تیس لاکھ ووٹر ز جن میں زیادہ تعداد ملک کے بالائی علاقوں سے تھی مستقل پتے پر منتقل کردیئے۔ یہ منتقلی دور رس نتائج کی حامل ہے،اب عدلیہ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ کراچی  کی ووٹر لسٹیں بوگس ہیں ووٹروں کی تصدیق اور تحقیقات کے کیے ہدایت کی ہے کہ فوج گھر گھر جا کر یہ کام کرے۔ایم کیو ایم نے فوج کی گھر گھر جا کر تصدیق کرنے اور نئی حلقہ بندی کی مداخلت کی ہے۔ یہاں تک کہ عدلیہ کا خلاف بہت سخت موقف اختیار کیا ہے۔ کسی بھی جماعت کا عدلیہ کے خلاف اس طرح کا سرعام موقف  پہلا واقعہ ہے۔ 

دوسری جانب دوسری سب جماعتیں ووٹروں کی واپس منتقلی، مشرف دور کی حلقہ بندیوں کے بجائے نمائندہ اور منصفانہ حلقہ بندی کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔عدلیہ کے خلاف ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے ریمارکس  سے پتہ چلتا ہے کہ متحدہ ایسے کسی عمل کی مزاحمت کرے گی۔بعض حلقے  فوج کویہ ذمہ داری دینے پر سیاسی حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان حلقوں کی تشویش ایم کیو ایم کی تشویش سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے  یہ عمل فوج کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
 حکومت کے لیے حلقہ بندی اور کراچی کی انتخابی فہرستیں ہڈی بن گئی ہے جو نہ نکل سکتی اور  نہ نگل سکتی۔ اگر حکومت حلقہ بندیاں کرنے جارہی ہے توایم کیو ایم حکمراں اتحا دے باہر نکل آئے گی۔ اس بات کا اشارہ شیخ رشید نے پیر پاگارا سے ملاقات بعد بھی دیا ہے کہ ایم کیو ایم انتخابات سے پہلے پیپلز پارٹی سے اتحاد ختم کر دے گی۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوسرا معرکہ کراچی میں ہوگا۔ 

عدلیہ کے کراچی کے حوالے سے زیر سماعت  درخواستوں  پرفیصلے دے رہی ہے۔اس  پرایم کیو ایم  مزاحمت  کے موڈ میں نظر آتی ہے۔ کورٹ کے یہ ریمارکس کہ کراچی کی حد تک آپریشن کر کے کراچی میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ یوں فوج اور عدلیہ کا کردار بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ 

 سابق صدر جنرل مشرف کا تازہ بیان  اہم ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کراچی
 میں کچھ عرصے تک مارشل لاگو کر کے امن امان قائم کیا جا سکتا ہے۔اس پر بھی متحدہ کو مایوسی ہوئی ہے۔ کہونکہ ایم کیو ایم کراچی میں ہر طرح کی فوجی مداخلت سے دور ہیں سیاسی جماعتیں  فوج کے ذریعے مجرموں کے خلاف کارروائی کے حق میں ہیں مگر مارشل لا کے حق میں نہیں۔

مختلف حلقے یہ معاملہ بھی اٹھا رہے ہیں کہ پختونخوا اور بلوچستان کے حالات بھی خاصے کراب ہیں یہ حالات عام انتخابات کے حق میں نہیں۔
یہ سب واقعات  ایک ایسی صورتحال پیش کرتے ہیں  جس میں آئندہ انتخابات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ان حالات اور واقعات کے پیش نظر حکومت اور سیاسی جماعتوں کو  اپنابھرپور سیاسی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اور ایک دوسرے کو اعتماد میں لے کر انتخابات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔تاکہ انتخابات وقت پر اور منصفانہ ہو سکیں۔ 
بعض فریقین  خاص طور پر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی، اے این پی اور ایم کیو ایم کا خاص طور پر اس ضمن میں کلیدی کردار بنتا ہے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جن کو آج بھی اسمبلیوں نمائندگی حاصل ہے اورانتخابات کی صورت میں انہی  جماعتوں کی دوبارہ اسمبلیوں میں نمائندگی آنی ہے۔ ان جماعتوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر انتخابات سے ہٹ کر کوئی انتظام ہوتا ہے تو ان جماعتوں کے بجائے کچھ اور سیاسی و غیر سیاسی  حلقے سامنے آئیں گے۔

No comments:

Post a Comment