Tuesday, 10 March 2020

تبدیلی کا ڈھول - May 13, 2013

Mon, May 13, 2013 at 10:30 AM
تبدیلی کا ڈھول
سہیل سانگی 
صاف اور شفاف انتخابات پنجاب میں یا کسی حد تک خیبرپختونخوا میں ہوئے ہونگے۔ بلوچستان کا  ٹرن آؤٹ بتا رہا ہے کہ اس شورش زدہ صوبے میں اصل صورتحال کیا رہی۔ سندھ میں دھماکے،جھگڑے اور دھاندلیاں عام رہیں۔ انتخابات نے سندھ کو ایک اور بھی تحفہ دیا ہے۔ انتخابی رنجشوں اور تصادم کے بعد دیہی علاقوں میں برادریوں کے درمیان مزید نئی دشمنیاں پیدا  ہوگئی ہیں۔ کراچی میں صورتحال یہ ٹہری کہ کئی جماعتوں نے بائکاٹ کیا جبکہ باقی کو شکایت رہی کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھندلی اور ناانصافی ہوئی ہے۔ بہت لوگوں کوان انتخابات کے پرامن، شفاف اور منصفانہ ہونے پر شک رہے گا۔
 ٹی وی چینلز کے تجزیہ نگار یہ رٹ لگا ئے بیٹھے ہیں کہ تبدیلی آگئی ہے۔نہیں معلوم  یہ دوست کس کو تبدیلی کہتے ہیں۔کیا کوئی ایسی پارٹی نے بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل کرلی ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا رخ درست کردے گی؟ملک کو جنگی زون سے نکال دے گی؟ پڑوسیوں سے دوستی کرلے گی؟ یا پاکستان کے ریاستی اداروں کی حکومت سازی، پالیسی سازی میں مداخلت ختم کرادے گی؟ زمینیں کسانوں میں بانٹ دے گی۔ زرعی اصلاحات لے آئے گی؟ دراصل ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انتخابات کے نتیجے میں ابھر کر آنے والی تین بڑی جماعتوں کے پروگراموں، پالیسیوں اور حکمت عملی میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ جس سے بالائی طبقوں کے مفادات کو آنچ پہنچے۔ یا طاقتور اداروں کے اختیارات میں کوئی کمی آئے۔ ان تمام جماعتوں کے اعلانات اور باتیں انتظام کاری کو ٹھیک کرنے کی حد تک ہیں۔وہ دراصل پالیس سازی نہیں کر سکتے۔ بلکہ مئنیجری کے لیے آرہے ہیں۔ تبدیل چہرے یا منیجر ہوئے ہیں۔
 تبدیلی کے نعرے بلند کرنے کا مقصد لوگوں سے یہی منوانا ہے کہ یہی تبدیلی ہے۔ جو کچھ پنجاب میں ہواوہ الگ قصہ ہے۔ جو سندھ میں ہوا  اس میں کیا تبدیلی ہے؟ کراچی میں اور حیدرآباد یا تھرپارکر میں ہوا؟ جہاں 2008ع سے بھی بدترین دھاندلی کی اطلاعات ملی ہیں۔ کراچی میں ہر جماعت کو یہ شکوہ ہے کہ صاف اور آزادانہ انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ اگر سب پارٹیوں کو یہ شکایت ہے تو پھر گڑبڑ کہا ں سے ہوئی؟ کس نے کی؟ ٰہاں تو آزادانہ انتخابات کی نئی معنی نکل آئی تھی کہ جس کے بازو میں جتنا بل ہو وہ اتنی نشستیں لے لے۔
ناہموار انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو ذمہ دار ٹہرایا جا رہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر مسلسل  نامکمل حفاظتی انتظامات کا گلا کرتے رہے۔پولنگ کے روزکو رکمانڈر، ڈی جی رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے رہے، ان کو بلاتے رہے، مگر کوئی ان کی مدد کو نہیں آیا۔یہ سب ادارے نہیں آئے اب کیا فخرو بھائی خود ڈنڈا لے کر ہر پولنگ اسٹیشن پر پہنچ جاتے اور پولنگوں کی حفاظت کرتے؟
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اصل حکمراں دراصل یہی چاہ رہے تھے کہ اصل انتخابات صرف پنجاب میں ہوں جو ہر حوالے سے اقتدار کا مرکز ہے اور  وہاں کا فیصلہ باقی صوبوں پر مسلط کردیا جائے۔عجیب بات ہے کہ دھماکے، تشدد، دھاندلیوں اور دیگر ناانصافیوں کے واقعات صرف سندھ میں ہی کیوں ہوئے؟ سندھ میں انتخابات کا رنگ دوسرا کیوں؟ 
انتخابات نے سیاسی جماعتوں کے لیے کئی سوالات اور سبق چھوڑے ہیں۔پیپلز پارٹی سندھ تک محدود ہوگئی۔ کوئی پارٹی ملک گیر پارٹی نہیں رہی۔ عمران خان کا زور پنجاب میں زیادہ دکھایا جارہا تھا۔ مگر انہوں نے خیبرپختونخوا میں زیادہ نشستیں لیں۔
 پنجاب میں پیپلز پارٹی ستر اور اسی کی دہائی والی سوچ میں ہی پھنسی رہی۔اس نے اس کے بعد رونماہونے والے حقائق اور طبقوں یا گروہوں کو حساب میں نہیں لیا۔ نتیجے میں پہلا وار نواز شریف  کے ابھرنے سے ہوا۔ یوں پیپلز پارٹی شہروں سے نکل کر اور سکڑ کر دیہی علاقوں تک رہ گئی۔ اور اس نے جاگیرداروں پر انحصار کرنا شروع کردیا۔شہری علاقوں میں اکھڑتے ہوئے پیر مضبوط کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ 
نوا شریف کا تمام زور کاروباری طبقے کے مفادات پر تھا۔دیہی علاقوں سے بھی پیر جمائے رکھے۔ان دونوں پارٹیوں متوسط طبقے اور ایسا طبقہ جو اپر کلاس میں شمار ہوتا ہے جس کو عام لفظوں میں ”پڑھا لکھا طبقہ“ کہا جاتا ہے، ان دو حصوں کو نظرانداز کیا۔ ان میں سے کوئی ایک یا دونوں پارٹیوں اس نئے طبقے سے رجوع نہیں کیا گیا۔ ان دونوں پارٹیوں نے خود کوپرانے طبقوں اور گروہوں تک محدود رکھا، اور ان کی حمایت حاصل کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے رہی تھیں۔ 
عمران خان نے اس طبقے کو آواز دی، اورمتحرک کرنے کی کوشش کی۔ دراصل عمران خان نے پوش علاقوں کے نوجوان کو سیاست دی۔ عام نوجوان جس طرح سے پوش علاقوں کے لوگوں کا فیشن وغیرہ کو بھی اپناتا ہے اسی طرح سے باقی نوجوانوں نے بھی اس رجحان کو اپنا لیا۔
 دونوں پرانی پارٹیاں یہ سمجھ رہی تھیں کہ خیر ہے۔ ان کے حامی عمران خان کی طرف نہیں جارہے ہیں۔ (ایک حد تک یہ درست بھی تھا) مگر نئے طبقے  میں جگہ پیدا کرنے سے عمران خان آگے آگئے۔ 
 تبدیلی کی خواہش نئے طبقے میں ہی ہوتی ہے۔ اور وہی تبدیلی کے نعرے کو فالو کرتا ہے۔ لہٰذا نئے طبقے کو متحرک کرنے سے ہی کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا یہ کمال تھا کہ انہوں نے سماج کے ان طبقوں کو متحرک کیا  جن کو کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا، جن کا سیاست میں کوئی رول ہی نہیں سمجھا جاتا تھا،یا دیا جاتا تھا۔جب یہ طبقہ جاگ اٹھا تو اسٹبلشمنٹ کے لیے پی پی سے جان چھڑانا مشکل ہوگیا تھا۔ یہ طبقہ آج بھی پی پی کے ساتھ کھڑا ہوا نظر آتا ہے۔ 
انتخابات نے سندھ کے قوم پرستوں کے لیے ویسے تو بہت سبق چھوڑے ہیں۔ جس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ مگر دو نقطے یہاں بیان کرنا ضروری ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر قوم پرست مل کر الگ شناخت سے انتخابات لڑتے تو  کوئی سیٹ جیت پاتے یا نہیں مگرآج سب کو بتا سکتے تھے کہ ہمارے چار یا پانچ لاکھ ووٹر موجود ہیں۔ موجودہ صورتحال میں کچھ پتہ نہیں کتنے ووٹر قوم پرستوں کے ہیں۔ اس معاملے میں بلوچ اور پختون قوم پرست اپنا حساب کتاب ٹھیک رکھتے ہیں۔ وہ پارلیمانی سیاست اپنی الگ شناخت کے ساتھ کرتے ہیں اس لیے اسلام آباد ہو یا لاہور، یا پھر واشنگٹن یا کوئی اور، انہیں ایک فریق کے طور پر اور نمائندے کے طورپر تسلیم کیا جاتا ہے۔
سیاسی حکمت عملی میں یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ کن گروہوں یا طبقات کو آواز دی جائے اور متحرک کیا جائے۔ قوم پرستوں نے حالیہ دنوں میں پوری تحریک بلکہ پوری سیاست اس رخ  پر چلائی کہ وہ پرانے طبقات یا گروہوں کو آواز دیتے رہے انہی پر کام کرتے رہے۔ یہ سب لوگ پہلے سے سیاست میں تھے اور اپنا رول ادا کر چکے تھے یا کر رہے تھے یا کسی نہ کسی سیاسی وابستگی کے ساتھ تھے۔ اگر قوم پرست عمران خان کی حکمت عملی کو اختیار کرتے (اس سے مرادپوش علاقوں کے نوجوانوں کو متحرک کرنا نہ لیا جائے)  تو صورتحال مختلف ہوتی۔یعنی قوم پرستوں نے نہ صحیح طریقے سے متبادل دیا اور نہ صحیح حلقوں کو اپروچ کیا۔
پنجاب کے نتائج بتاتے ہیں کہ پنجاب اپنی نمائندگی یا پارٹی تبدیل کرنا چاہتا ہے۔اگرچہ تحریک انصاف  بہت زیادہ نشستیں جیت نہیں پائی تاہم اکثر حلقوں میں دوسرے نمبر پر ہی۔ یہ بات قابل دید ہے کہ یہ تبدیلی وہ نہایت پرامن طریقے سے کر رہا ہے۔ پنجاب نواز لیگ سے ہٹ رہا ہے اور تحریک انصاف کی طرف جارہا ہے۔پنجاب یہ تبدیلی کیوں چاہ رہا ہے؟ بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ ”پڑھے لکھے طبقے یا نوجوان کا معاملہ ہے جو خود کو اکموڈیٹ نہیں سمجھتے یہ اپ سیٹ اس وجہ سے ہے۔ایسا نہیں اصل معاملہ اس سے آگے کا لگتا ہے۔ 
ابھی عمران خان کو پائلٹ پروجیکٹ کے طور رپر خیبرپختونخوا دیا گیا ہے۔ جہاں آج کے دور میں متحدہ مجلس عمل تو نہیں بنائی جاسکتی تھی۔اگر یہ پروجیکٹ کامیابی سے چلا پائے تو مزید کچھ دینے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔
انتخابات ہو گئے کون جیتا کون ہارا، کس نے کتنے ووٹ لیے؟ یہ سب عارضی باتیں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا انتخابات سے جمہوریت کو کوئی فائدہ پہنچے گا؟ کوئی ایسی راہ نکلے گی کہ ان انتخابات میں نہ سہی آنے والے وقت میں لوگوں کو اپنی مرضی سے نمائندے چننے کا اختیار مل جائے گا؟ کیا لوگوں کے دکھوں کا کوئی درمان ہوگا؟ پاکستان جس معاشی اور سیاسی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اس میں سے نکل سکے گا۔ 
 جمہوریت کا مطب صرف انتخابات نہیں۔ انتخابات جمہوریت کا دروازہ ہیں۔ جس کا کھلا ہوا رہنا بہت ضروری ہے۔ پاکستا ن کا المیہ یہ بھی ہے کہ یہ دروازہ ہی کھلا ہوا نہیں ہوتا۔ لہٰذا لوگ یا تو اس دروازے کو کھولنے پر اپنی تمام صلاحیتیں صرف کر رہے ہوتے ہیں یا پھر صرف
 دروازہ کھلنے کو ہی آخری منزل سمجھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ چلے چلو کہ منزل ابھی نہیں آئی۔

No comments:

Post a Comment