Showing posts with label 2012. Show all posts
Showing posts with label 2012. Show all posts

Tuesday, 10 March 2020

بہت دیر کے مہمان آتے آتے - May 28, 2012

Mon, May 28, 2012 at 11:56 AM
بہت دیر کے مہمان آتے آتے
میرے دل میرے مسافر  کالم سہیل سانگی 
 بالآخر پیپلز پارٹی کو احساس ہو ہی گیا کہ اسکے ووٹر  پارٹی کی پالیسی سے خوش نہیں۔ جس طرح سے حکومت میں رہتے ہوئے پارٹی اور قیادت معاملات کو دیکھ رہی ہے اور کر رہی ہے، وہ ا سکے حلقہ انتخا ب  کے خواہشات اور امنگوں کے مطابق نہیں۔ اس بات کا احساس اچانک اوراتنی شدت سے  ہوا کہ  وفاقی کابینہ کینے خصوسی کمیٹی تشکیل دے دی۔ پاکستان میں عوام کو کمیٹیوں اور کمیشنوں کی تشکیل، ان کی کارکردگی کا ماضی میں تلخ تجربہ رہا ہے۔ عموما یہی کہا جاتا رہا ہے کہ اگر کسی مسئلے کو حل نہ کرنا ہو یا کھٹائی میں ڈالنا ہو تو کمیٹی یا کمیشن بنادو۔لہذا کمیٹی سیاست میں ڈسٹ بن کا کام دیتی ہے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء  مخدوم امین فہیم، خورشید شاہ،  نوید قمر اور مولابخش چاندیو پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے سندھ پہنچ کرکے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔کمیٹی مہاجرصوبے کے حوالے سے مختلف سرگرمیوں اور اس کے میں سندھ کی وحدت  کے لیے نکالی گئی ریلی پر فائرنگ کے واقعات  کی تحقیقات کرے گی۔کمیٹی کے اراکین نے حیدرآباد سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت میں آنے کے بعد  قوم پرستوں سے بات چیت کرے گی۔اس سے قبل اپوزیشن میں رہتے ہوئے پی پی کالاباغ ڈیم، گریٹر تھل کینال کی تعمیر وغیرہ کے اشوز پر قوم پرستوں کے ساتھ اتحاد میں رہی ہے۔ لہٰذا قوم پرست اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے جانے پہچانے اور بعض معاملات میں اتحادی بھی رہے ہیں۔
 کئی مرتبہ یہ سولات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی دنیا جہان  کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی پر چل رہی ہے۔ ان کے ساتھ بات چیت بھی ہو رہی ہے، مطالبات سنے بھی جا رہے ہیں اور تسلیم بھی کئے جا رہے ہیں مگر یہ مفاہمت سندھ اور بلوچستان میں نظر نہیں آتی۔ بلوچستان کے لیڈروں کو تو پھر بھیسچے یا جھوٹے منہ دو تین مرتبہ مذاکرات کی پیشکش کی گئی۔سند ھ جس کو پیپلز پارٹی کا گھر سمجھا جاتا ہے وہاں کے قوم پرستوں سے کبھی بھی بات کا عندیہ بھی نہیں دیا گیا۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ان کی اہمیت کو سمجھا اور مانا ہے۔ حالانکہ اس عمل میں خاصی دیر ہو چکی ہے۔ درجنوں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں،۔چلو دیر آید درست آید۔
باتت چیت کا سلسلہ اس لیے بھی شروع کیا گیا کہ نواز شریف نے سندھ میں جارحانہ انداز میں کام کرنا شروع کردیا ہے۔ چند ماہ قبل تک پیپلز پارٹی کے گڑھ اس صوبے میں نواز شریف کی پارٹی کا تنظیمی سطح پر کوئی باقاعدہ وجود نہیں تھا۔اور نواز شریف کو اپنے جلسے کرنے کے لیے  پنجاب سے رہنما لا کر بندوبست کرنا پڑ رہا تھا۔اس کے علاوہ حالیہ چند ہفتوں میں رونما ہونے والے واقعات نے بھی خاصا اہم کردار ادا کیا۔ جیئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر خان قریشی کی پراسرار حالات میں موت اور ان کے جسم کے اجزاء کی میڈیکل رپورٹ نے کئے سوالات پیدا کردیئے۔جس کو تاحال حکومت واضح نہیں کر سکی ہے۔اس کے بعد کراچی میں سندھ کو تقسیم کرنے اور مہاجر صوبہ بنانے کے لیے مظاہرے ہوئے، وال چاکنگ کی گئی۔پوسٹر لگائے گئے۔ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ پیپلز پارٹی کے گڑھ لیاری میں آپریشن کیا گیا۔ لیاری جو پیپلز پارٹی کا ذاتی حلقہ مجھا جاتا رہا ہے وہاں سے پیپلز پارٹی کے خلاف نعرے لگے۔لوگوں نے احتجاج کیا۔ 22 مئی کو کراچی میں لیاری سے سندھ کی وحدت کے خلاف اٹھنے والے نعروں اور امکانی تحریک کے خلاف  لیاری کے قدیمی باشندوں، کچھی برادری اور سندھی آبادی نے عوامی تحریک اور بعض دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر جلوس نکالا جس پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 12 افراد ہلاک ہو گئے اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے۔ اسی دن  سندھ کے ایک قوم پرست گروپ جیئے سندھ متحدہ محاذ کے جنرل سیکریٹری  مظفر بھٹو کی لاش ملی۔ جنہیں کوئی ایک سال قبل ایجنسیوں نے گرفتار کیا تھا۔ اور ان کی پارٹی اور لواحقین ان کی پراسرار گمشدگی پر احتجاج کر رہے تھے۔اور مطالبہ کر رہے تھے کہ انکو رہا کیا جائے اور اگر الزامات ہیں تو گرفتاری ظاہر کی جائے۔اور بتایا جائے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ اگرچہ سندھ سے سیاسی کارکنوں کی پراسرار گمشدگی گذشتہ دو تین سال سے جاری ہے۔ اور مختلف وقتوں میں ایک سو ے زائد کارکنان اس عمل سے گزر چکے ہیں۔ مگر اس طرح سے گرفاری کے بعد لاش ملنا سندھ میں پہلا واقعہ تھا۔
ماروی میمن کی شمولیت کے بعد مسلم لیگ (ن) کو  ایک سرگرم، موبائل لیڈر مل گیا ہے۔ یہ صورتحال اس سے پہلے کبھی بھی اس پارٹی کے ساتھ نہیں تھی۔ نواز شریف نے ممتاز بھٹو، رسول بخش پلیجو، ڈاکٹر قادر مگسی، جلال محمود شاہ سے ملاقاتیں اور رابطے کئے اور بعد میں فالو اپ کے طور پر ماروی میمن ان رہنماؤں سے رابطے میں ہے۔ ان رابطوں نے پیپلز پارٹی کو مجبور کردیا کہ وہ اپنے لوگوں سے رجوع کرے۔
 پہلے مرحلے میں کمیٹی کے اراکین نے سندھ کے بعض دانشوروں سے مالاقات کی۔ ان دانشوروں میں سے زیادہ کا تعلق این جی او سیکٹر سے ہے۔ نہیں معلوم کہ کس طرح سے ان لوگوں کو دانشور بنا کر حکومتی ٹیم کے سامنے پیش کیا گیا۔اور یہ خود ایک سوال ہے کہ این جی اوز کا بھی کوئی سیاسی رول بنتا ہے؟ یا حکومت اس یکٹر کو یہ رول دینا چاہ رہی ہے جو کہ ا س سیکٹر کا مینڈیٹ نہیں۔
 کابینہ کی کمیٹی  کے اراکین کے مطابق صرف قوم پرستوں سے ہی نہیں ملے گی بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملے گی۔تعجب کی بات ہے کہ کمیٹی کا ابھی تک نہ ٹرم آف ریفرنس آیا ہے اور نہ ہی  یہ طے ہوا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کون کون ہو سکتے ہیں۔کمیٹی کے ممبران کے مطابق ایم کیو ایم سمیت دیگر پارٹیوں سے بھی ملاقاتیں کی جائینگی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کمیٹی اس نام نہاد مہاجر صوبہ تحریک کے نمائندوں سے بھی ملاقات کرے گی۔کیونکہ مہاجر صوبے کے اشو پر ایم کیو ایم نے بلاواسطہ یہ بھی کہا ہے کہ لوگوں کی شکایات ہیں انکو سنا جائے۔اگر ایسا کیا گیا تو کمیٹی جن مقاصد کے لیے بنی ہے وہ حاصل نہیں ہو سکیں گے بلکہ پیپلز پارٹی جو سیاسی فائدہ اس کمیٹی کے ذریعے لینا چاہ رہی ہے وہ بھی نہیں لے پائیگی۔
بعض قوم پرست  جماعتیں کمیٹی کے ممبران سے  ملاقات کو اس بات سے مشروط کر رہی ہیں کہ پہلے پیپلز پارٹی یا حکومت بعض اقدامات اٹھائے اور مذاکرات کا ماحول بنائے۔سندھ کے دانشوروں نے  وفاقی کابینہ کی کمیٹی کے سامنے جو مطالبات رکھے ہیں ان میں بالواسطہ  طور پر  پرانے بلدیاتی نظام کی بحالی، گورنر سندھ کی برطرفی اورحیدرآباد ضلع کی  پرانی شکل میں بحالی کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ جن میں سے گورنر ندھ کو ہٹانا اور  حیدرآباد ضلع کی بحالی ایسے مطالبات ہیں جن کو چھیڑنے کا مطلب ایم کیو ایم  اور پیپلز پارٹی کے اتحاد میں دراڑیں ڈالنا ہے۔ 
ایسا لگتا ہے کہ کمیٹی کا کام سیاسی ماحول پیدا کرنا اورسندھ میں پیپلز پارٹی جس مشکل میں پھنسی ہے اس سے نکالنا ہے نہ کہ سندھ کے حقیقی اشوز اور شکایات کو دور کرنا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کمیٹی مزید مذاکرات میں جانے سے پہلے اپنا ٹرم آف ریفرنس بناتی ہے اور یہ طے کرتی ہے کہ کون کون سے اسٹیک ہولڈرز ہیں اور کن کن ے ملنا ہے۔ اس طے کئے بغیر کمیٹی کی پوری کوشش  ایک سیاسی مشق سے زیادہ نہیں ہو گی۔

خورشید قائمخانی سیلانی محقق - Jan 10, 2013

Thu, Jan 10, 2013 at 11:20 AM
خورشید قائمخانی ۔خانہ بدوش اور اچھوتوں کے سیلانی محقق

میرے دل میرے مسافر۔۔   سہیل سانگی

 خانہ بدوش اور اچھوت  لوگوں کی شناخت اور وطن کے متلاشی اب اس جہان میں نہیں رہے۔ آج مزید غریب ہو گئے۔۔ ان کی تاریخ، کلچر اور دکھوں کو اجاگر کرنے والی ایک موثر آواز ہمیشہ کے لیے بند ہوگئی۔ یہ آوازسیلانی اینتھروپالاجسٹ اورمنفرد محقق خورشید قائمخانی کی تھی۔ وہ بدھ کے روز کراچی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ 
فوجی افسر خورشید قائم خانی نے خود کوبدل دیا اور انسان دوست اورغریب پرور ی ان کی شناخت بن گئی۔  
خانہ بدوش قبائل پرعملی تحقیق کرنے والے خورشید قائم خانی نے 1933 ع میں بھارت کے صوبے راجستھان کے گاؤں سیکر میں ایک فوجی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ تقسیم کے بعدبعد میں ان کا خاندان ٹنڈوالہیار  سندھ میں آکر آباد ہوا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم  راجستھان  میں گاؤں کے مادھوسنگھ اسکول میں حاصل کی اور مڈل تک میونسپل اسکول ٹنڈوالہیار  سے کرنے کے بعد میٹرک نورمحمد ہائی اسکول حیدرآباد، اور انٹر گورنمنٹ کالج کالی موری حیدرآباد سے کیا۔ 

خاندانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی اور 1958 میں ملٹری اکیڈمی کاکول سے کمیشن کیا۔ مگر انہوں نے فوج میں ملازمت اپنی طبیعت کے مطابق نہیں پائی۔ اور یہ کہہ کر فوجی ملازمت سے علحدہ ہو گئے کہ اس اہم ادارے نے  پروفیشنلزم چھوڑدی ہے اور سیاست میں ملوث ہو گیا ہے۔ 1970ع میں جب بنگال میں فوجی آپریشن کیا جا رہا تھا  تو یہ وہیں پر تعینات  تھے۔ میجرخورشید نے اس آپریشن کے دوران  بنگال کے عوام کا درد نہ سہہ سکے اور استعیفا دے دیا۔ اس وقت انہیں باتیا گیا کہ اس بات پر ان کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے اور پینشن بھی نہیں ملے گی۔ ان فوائد کی پرواہ کئے بغیر وہ مستعفی ہوکر گاؤں آگئے۔ انہوں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 
ایک مرتبہ فوج کی ملازمت  سے آزاد ہونے کے بعد وہ سیاح اومحقق بن گئے۔ اور اخبارات میں کالم لکھنے لگے۔ انہوں نے بھیل، کولہی، میگھواڑ اوراوڈ قبیلوں کی نفسیات پر قلم اٹھایا جس نے انہیں منفرد بنادیا۔ان کا پہلا کالم انگریزی ایوننگر”اسٹار“ میں شایع ہوا جو کہ  ہندو  شیڈیولڈ کاسٹ  لوگوں کے روحانی پیشو  راما پیر پر تھا۔
راجستھان میں جنم لینے والے  سیلانی محقق نے اگرچہ عمرانیات یا اینتھروپالاجی کی تعلیم حاصل نہیں کی مگر جنون کی حد تک دلچسپی اورعملی طور پر بھٹکتے ہوئے قبائل کے ساتھ رہنے نے انہیں اینتھروپالاجسٹ بنا دیا۔
 جپسی اور شیڈیولڈ کاسٹ قبائل کی تاریخ، ادب  اور کلچر میں ان کا کنٹری بیوشن مسلمہ ہے۔جپسی اور دلیت ہی ان  کے موضوعات تھے۔ انہوں نے جو بھی لکھا جب بھی لکھا انہی موضوعات پر لکھا۔ خورشید قائم خانی نے خانہ بدوش اورشیڈیولڈ کاسٹ اور بھٹکتے ہوئے قبائل کی زندگی، کلچراور اینتھروپالاجی پرعملی تحقیق  کی۔ 
 سندھ کے سماجی خدمت گزار اور  لوگوں کی تنظیم سندھ گریجوئیٹس ایسوسی ایشن نے  پچھڑے ہوئے طبقات  پر نئے انداز سے تحقیق  پر انہیں ایوارڈ دیا۔ 
انہوں نے پاکستان خواہ دیگر ممالک میں کئی روز جپسیوں کے ساتھ گزارے۔ افریقی نسل کے  شیدی قبیلے کے رہنما فیضو شیدی ان کے بہترین دوست تھے۔ ایک مرتبہ ممتاز خاتون صحافی انجم نیاز نے انہیں  طعنہ دیا کہ بڑے میاں آپ بھیلوں، کولہیوں اور خانہ بدوشوں پر لکھنے سے کبھی تھکیں گے بھی یا نہیں۔ خورشید نے برجستہ جواب دیا”محترمہ آپ کبھی الیٹ کلاس  پر لکھنے سے تھکیں گی؟“
وہ تین کتابوں ”سپیاں اورپتھر“، ”بھٹکتی نسلیں“،  ”سپنوں کا دیس“  کے مصنف اوخدیجہ گوہر کی کتاب”امیدوں کی فصل“ کے مترجم تھے۔ جبکہ ایک سو سے زائد ان کے کالم انگریزی، اردو اور سندھی زبانوں میں شایع ہوچکے ہیں۔ان کا علمی اور تحقیقی خدمات کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور فرانس میں قدیم باشندوں سے متعلق عالمی کانفرنسوں میں بھی شرکت کی اور وہاں مقالے پڑھے۔ 
راجستھان سے بچھڑنے کے بعدخانہ بدوش، بھیل کولہی وغیرہ اور ٹنڈوالہیاران کے لیئے سب کچھ تھا۔  قائم خانی نے ٹنڈوالہیار کے قریب اپنے گاؤں میں ایک اچھی بھلی لائبرری بھی قائم کی ہوئی تھی جو علاقے کے کسانوں کے لیے تھی۔ کبھی صوفی منش تو کبھی سوشلسٹ  ہونے کا عکس دینے والے خورشید نے اپنی تین ایکڑ زمین کسانوں کے نام کر دی جو کہ بھیل قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔وہ انسانیت کے پروکار اور مظلوموں کے حامی تھے۔خورشید قائم خانی نے  ٹنڈوالہیار میں جوگیوں کے لیے ایک اسکول بھی کھول رکھا تھا۔
 نرم دل اور نرم گفتار قائم خانی ایک بااصول انسان تھے جو اپنی مخصوص طبع کی وجہ سے جانے بھی جاتے تھے اور مقبول بھی تھے۔ میر علی احمد تالپور سے ان کی پکی یاری تھی۔ جب تالپور صاحب جنرل  ضیا  کے دور میں وزیر دفاع ہوئے اور قائم خانی صاحب سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے پیغام بھیجا کہ میر صاحب اب آپ کے لیے میرے گھر کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔
مخصوص راجستھانی طبع کے مالک  صرف ریلوے کے ذریعے ہی سفر کرتے تھے، یہاں تک کہ پینتیس میل پر واقع حیدرآبادآنے جانے کے لیے بھی وہ بس میں سفر نہیں کرتے تھے۔  انہیں بس میں سفر کرنا عجیب لگتا تھا۔
ٹنڈوالہیار میں وہ گھر پر شاذ و ناز ہی موجود ہوتے تھے۔ ان  سے ملنے والے انہیں باگڑی کالونی، بھیل کالونی، جوی کالونی، وغیرہ  میں ڈھونڈتے تھے اور وہ وہیں ملتے تھے۔وہ اپنا وقت دانشوروں یا دوسری فضولیات میں گنوانے کے بجائے عام بھیل، کولہی لوگوں کے ساتھ گزارنا پسند کرتے تھے۔ 
عجب شخص تھا۔ سیلانی بھی تھا اور مٹی سے محبت کرنے والا بھی۔ان کی اندر سے اپنی جنم بھومی راجستھان آخر تک نہیں نکل سکا۔ اور وہ اس لیے خود کو خانہ بدوش ہی سمجھتے تھے۔ 
انہوں نے زندگی میں پچھتاوے نام کی کسی چیز کو قریب آنے نہیں دیا۔ آخری ایام میں انہوں نے لوگوں سے دور رہنے اور سکون میں وقت گزارنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت لکھا، بہت  باتیں کیں۔ اور خوب محفلیں کیں۔ اب بس کرنی چاہئے۔
انہوں نے کراچی کے ایک پبلشر کو خودنوشتہ سوانح حیات  شایع کرنے کے لیے دی۔  پبلشر نے یہ کتاب شایع کرنے کی حامی تو بھر لی، مگر ان سے کہا کہ ان کے جیتے جی یہ کتاب شایع نہیں ہوسکتی کیونکہ اس میں بعض اداروں  کے بارے میں مخالفانہ مواد ہے اس واقع کا بیان اپنی ایک کتاب  کے پیش لفظ میں یوں کرتے ہیں:  میں اردو  پبلشروں سے مایوس ہوچکا ہوں،  لہٰذا اب سندھی ناشرین سے رجوع کیا ہے جہاں میرے موضوعات کے بڑی تعداد میں قاری بھی موجود ہیں۔
 وہ کس طرح کے آدمی تھے؟ یہ بات ان کی اپنی تحریر  سے عیاں ہے۔ وہ اپنی ایک کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:  میں نے دیکھا کہ کس طرح سے  سرمایہ دار اور جاگیردار  مقبول نعروں کے ذریعے عوام سے غداری کرتے۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ آئین اور قانون کے محافظ خود آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
مرحوم قائمخانی کے سوگواروں میں دو بیٹے، ایک بیٹی، بیوہ اور ہزاروں خانہ بدوش اور اچھوت قبائل کے لوگوں کے علاہ ان کے پرستار اور چاہنے والے ادب اور انسان دوست بھی شامل ہیں۔بدھ کی شام جب میں نے ان کے بیٹے عامر خورشیدکو فون کیا۔ وہ روپڑے۔ میں نے بتایا کہ ہم اس سیلانی محقق  اور سچے انسان کے پرستار ہیں۔ یہ صرف آپ اکیلے کا دکھ نہیں۔ آج ہم سب اور خانہ بدوش، اچھوت قبیلے  سوگوار ہیں جن کے لیے خورشید صاحب شناخت اور  وطن تلاش کر رہے تھے۔ 

ایم کیو ایم اور علامہ قادری کا اتحاد - Jan 3, 2013

Thu, Jan 3, 2013 at 12:10 PM
ایم کیو ایم اور علامہ قادری کا اتحاد

میرے دل میرے مسافر۔۔۔۔ سہیل سانگی

 علامہ طاہرالقادری کی اچانک آمد اور لاہور میں بڑے سیاسی شو نے سیاست میں ایک نئے رخ کا اضافہ کردیا ہے۔ علامہ کے تین  مطالبات اور دو  شرائط اس پر حکومت کے دو اتحادی پارٹیوں کا ان کی طرف جھکنے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ 
لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنے سال کینڈا میں رہائش پزیر  اس عالم دین کو اچانک کیا سوجھی اور وطن  یاد آگیا۔ان کے بلاوے پر  لاکھوں کا مجمع لگ گیا۔نگراں حکومت کے بننے اور انتخابات کے اعلان کے عین موقع پر ان کے پہنچنے کے کیا مقاصد اور محرکات ہیں؟  اگرعلامہ کا نظریہ اتنا مقبول ہوتا اور اور ان کی تنظیم کاری مضبوط ہوتی تو اتنے برسوں تک اس کا کوئی عوامی اظہار اور سیاسی عمل نظر کیوں نہیں آیا؟ عام خیال یہ ہے کہ اتنا بڑا جلسہ اور ان کے اس موقف کی پزیرائی  اس کے ساتھ ساتھ بعض مخصوص  جماعتوں کا ان کی طرف جانا  اکیلے علامہ قادری کا کمال نہیں بلکہ اس کے پیچھے بعض مقتدرہ ادارے  اور حلقے موجود ہیں۔ 
پاکستان کی سیاست کے نشیب وفراز اتنے آسان نہیں جتنے بظاہر نظرآتے ہیں۔ اس کے کئی رنگ اور روپ  ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر فیصلہ کن موڑ پرہرحال میں حکومت اور سیاست کی باگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں رکھنے کے خواہاں مقتدرہ حلقے جو ملک کی داخلہ خواہ خارجہ پالیسی  اپنی پسند کی رکھنا چاہتے ہیں کبھی کس شکل میں تو کبھی کس کیموفلاج میں ایک نیا مہرہ میدان میں اتارتے ہیں۔ایک سال قبل عمران خان کی سونامی آرہی تھی۔اس کو لاہور خواہ کراچی میں بڑے بڑے جلسے کر کے دیئے گئے۔مگر اس انقلابی  سے انقلاب کا پہیہ نہیں ہل سکا۔اب اس سونامی کے بادل چھٹ چکے ہیں تو علامہ کا  طوفان آرہا ہے۔ اس کا مقصد کرپٹ سیاستدانوں سے  قوم کو نجات دلانا بتایا جا رہا ہے۔
 مسئلہ یہ ہے کہ کرپشن آج کی دنیا کے سیاسی اور معاشی نظاموں کا لازمی  جز ہے۔بالکل ایسے جیسے سرمایہ کاری اور سود ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں۔ یہ نعرہ بہت ہی خوبصور ت ہے۔خاص طور پر پاکستان میں جہاں حکمرانی  اور اس کے طور طریقوں کا برا حال ہے۔ مگرکیا اس سے جان چھڑانا کسی ایک یا دو بندوں کے بس کی بات نہیں؟  
پاکستان کی سیاست اور اس کے محرک اجزاء  پرنظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک کے مقتدرہ اداروں کا  پرانے سیاستدانوں  کے حوالے سے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔کیونکہ یہ سیاستدان شاید اب اپنی الگ حیثٰیت بنا بیٹھے ہیں یا  انہوں نے ریاست، حکومت اور خارجہ امور کی مکینزم کو سمجھ لیا ہے۔لہٰذا کئی معاملات میں اپنی چلاتے ہیں یا بحث بہت کرتے ہیں۔ جس سے رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔یہ مقتدرہ حلقے چاہتے ہیں کہ ان سے جان چھڑائی جائے اور نئے سیاسی کھلاڑی میدان میں اتارے جائیں۔مگر یہ سب کچھ غیر محسوس طریقے سے کیا جائے کہ ماضی کی طرح برائی ان اداروں کے کھاتے میں نہ آئے۔

 اس کا پسندیدہ بنگلادیش ماڈل ہے۔،گر اس میں کچھ ترمیم کے ساتھ تاکہ پرانے سیاستدانوں سے جان چھڑائی جاسکے۔ اور نئے لوگوں کو سامنے لایا جائے۔ اب مصری ماڈل کی بھی باتیں ہو رہی ہیں۔ایسے میں علامہ طاہرالقادری کا کرداراہمیت اختیار کر جاتا ہے جو یہ تجویز کر رہے ہیں کہ انتخابی عمل سے  تب تک گریز کیا جائے  جب تک مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوتے۔یعنی ایسی اصلاحات جو پرانے سیاستدانوں کا راستہ روک سکیں۔

اگر ایسا واقعی ہے، جس پر اکثر تجزیہ نگار مصر ہیں، تو۔ اس میں صرف ملکی طاقتور قوتیں ہی شامل نہیں بلکہ اس کے پیچھے مغربی قوتیں بھی ہونگی  جن کے پاس مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے لیے  ایک جامع پلان ہے۔ جو ان براعظموں کی معیشت اور سیاست کو اپنے ماتحت اور اپنے منافع کے لیے رکھنا چاہتے ہیں۔ اور یہاں ہر طرح کی بالادستی چاہتے ہیں۔خیال رہے کہ امریکی پالیسی ساز ادارے اکیسویں صدی کو ایشیا اور پیسفک کی صدی قرار دیتے رہے ہیں۔

آج پاکستان کی صورتحال وہی ہے جو 1977ع میں یا 89 کی دہائی کے شروع میں تھی۔ یعنی دائیں بازو کے لوگ اور شہری سیکٹر ایک طرف تھا تو باقی لوگ دوسری طرف تھے۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں پاکستان میں مذہبی سیاست اور سیاسی کلچر کو پروان چڑھا رہے تھے۔ مگر اس مرتبہ روایتی مذہبی  جماعتیں اس منظر سے آؤٹ ہیں۔ کچھ ماڈریٹ اور ماڈرن قسم کی مذہبی جماعتیں اور لوگ شامل ہیں۔جو سیاسی اور ثقافت لحاظ سے مغرب کو بھی قابل قبول ہیں۔ان ممالک کا خیال ہے کہ پاکستان میں مذہبی رجحان زیادہ ہے۔ جس کو وہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ان کا یہ اندازہ غلط ہے۔ کیوں کہ جب کبھی بھی ملک کے لوگوں کو موقعہ ملا تو انہوں نے مذہبی جماعتوں کو نہیں چنا۔رسول پاک صلعم کے شان میں گستاخی کے حوالے سے کارٹون اور فلم  بننا اور اس کے خلاف احتجاج کو جب آج کے منظر نامے میں دیکھا جائے  تو خاصا عجیب سا لگتا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سب کچھ آج کی صورتحال کے لیے ہی کرایا گیا تھا۔عجیب بات ہے کہ عالمی قوتیں  ایک بار پھر مذہب کا نام استعمال کرنا چاہتی ہیں، وہ یہ بھول گئی ہیں کہ ماضی میں اس آئیڈیا کو عمل میں لانے سے افغان جنگ کے دوران اور اس کے بعد کیا کیا ہوا؟ ایک ایسی جنگ جس سے جان نہیں چھڑائی جا رہی ہے۔

علامہ کا کہنا ہے کہ کہنا ہے کہ وہ اسمبلی ممبران کی اہلیت سع متعلق آئین کی شقوں پر مکمل عمل درآمد سے پہلے انتخابات نہیں ہونے دیں گے۔  چاہتے ہیں۔انہوں نے دسمبر کے آخر میں بیرون ملک سے لاہور پہنچنے پر سترہ دن کی ڈیڈ لائن اور الٹیمیٹم دیا ایک طرف آئین کی شقوں پر مکمل عمل درآمد کی بات کی جارہی ہے تو دوسری طرف بعض شقوں پر عمل درآمد کو روکا جارہا ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد حکمراں جماعت اور حزب مخالف کو متفقہ طور پر نگراں سیٹ اپ بنانا ہے۔مگرعلامہ کا کہنا ہے کہ اس باہمی مشورے میں عدلیہ اور فوج کو بھی شامل کرلیا جائے۔ آئین میں کہیں بھیایسا ذکر نہیں کہ فوج اورعدلیہ کو حکومت اور سیاسی معاملات میں گھسیٹا جائے۔ بلکہ ایسا کرنا خلاف آئین ہے۔ اگر واقعی علامہ ان دو ریاستی ادراوں کا کوئی سیاسی رول چاہتے ہیں تو برہ راست 1973 کے آئین ختم کرکے نیا آئین بنانے کی بات کیوں نہیں کرتے۔  وہ ایسا مطالبہ کرکے دیکھیں تو پتہ چل جائے گا کہ کونسا پینڈورا باکس کھلتا ہے۔

علامہ کے مطابق 90 دن میں انتخابات کرانا ضروری نہیں۔ یہ فارمولا کوئی نیا نہیں۔جنرل  ایوب خان نے بھی  عام انتخابات سے بھاگنے اور سیاست کو ”پاک“ کرنے کے نام ہر سیاستدانوں کے خلاف مہم چلائی،”ایبڈو“  اور”پروڈا“ جیسے قوا  نین نافذ کئے۔ ملک میں بنیادی جمہوریتوں کے نام پر نیا نظام لانے کی کوشش کی۔ مگر اسے واپس انہی سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھنا پڑا۔ فرق یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے لیے جگہ بنالی۔ قوم کے پورے گیارہ سال ضایع ہوگئے۔ اور پھر جب عوام کو موقعہ ملا تو انہوں نے ایوب خان اور اس کے نظام دونوں کو اتار کر پھینک دیا۔

 جنرل یحیٰ خان بھی سیاست کو ٹھیک کرنے کے”نیک خیالات“کے ساتھ آئے۔انہوں نے انتخابات بھی کرائے۔ چونکہ نتائج  ان کی مرضی کے مطابق نہیں تھے تو ان کو تسلیم کرنے اور  اقتدار منتقل کرنے سے انکار کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم آدھا ملک کھو بیٹھے۔ 

 جولائی 1977 میں جنرل ضیاء الحق اسلام کے سپاہی کی دعوا کرتے ہوئے آئے۔ نوے دن میں انتخابات کرانے کا وعدہ کرکے وہ گیارہ سال تک مسلط رہے۔ اور انہوں نے بھی ملکی سیاست کو درست کرنے کے نام پر پہلے احتساب پھر انتخاب کا نعرہ لگایا۔ پھر نہ انتخاب ہوئے اور نہ احتساب۔ انہوں نے بھی غیر جماعتی انتخابات کرائے۔ مقصد یہی تھا کہ نئے پاور بروکر پیدا کئے جائیں۔ انتخابی قوانین میں  ترامیم کی گئی۔ ملکی نظام کا نقشہ بگاڑ دیا گیا۔ قوم کو اس وقت ان سے نجات ملی جب وہ ہوئی جہاز کے حادثے میں فوت ہوگئے۔دو جنرلوں  ایوب خان،  ضیا نے ملک کی اندرونی نظام اور خارجہ پالیسی کے ساتھ وہ حشر کیا کہ کئی عشرے گزرنے کے بعد بھی ملک سیدھے پیروں پر کھڑا نہیں ہوسکا ہے۔ 

ان کے بعد آدھا تیتر آدھا بٹیر والی جہمویرت رہی۔ مگر اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ سرگرم رہے۔ کسی  منتخب حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری نہ کی۔ اس  پر اکتفا نہیں کیا گیا اور جنرل مشرف ملک اور اور ان کے نمائندوں کو ٹھیک کرنے کے لیے میدان میں آگئے۔ان کے سیاسی”اصلاحات“ کا  فائدہ تو کوئی نہیں ہوا، بلکہ اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی کے نام پر قوم کو برادریوں میں تقسیم کردیا گیا۔انہوں نے ملک کی دو بڑی پارٹیوں کو اقتدارسے  اوران کی قیادت کوملک سے باہر رکھنے کا  فارمولا چلایا۔عوام اپنی مقبول لیڈر بے نظیر بھٹو سے محروم ہوگئے۔ 

عوام کے اس”نجات دہندہ“نے  تب جان چھوڑی جب ملک کی معیشت، سیاست، اور ادارے تباہ ہو چکے تھے۔  دہشتگردی کا راج تھا۔ اور ملک عالمی قوتوں کی ماتحتی میں چلا گیا تھا۔ دیکھا جائے تو ملک کی تاریخ کا بڑا حصہ ملک پر فوجی جنرلوں نے حکومت کی ہے۔لہذا ملک کی آج جو سیاست ہے اس کی خرابی ذمہ داری بھی انہی فوجی اورنیم فوجی حکومتوں پر آتی ہے۔ مگرعلامہ اس معاملے پرخاموش ہیں۔ 
اب ان حضرات کون سمجھائے کہ حکومتی معاملات چلانا سیاستدانوں کا کام ہے۔ اور سیاست کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ دنیا کا بڑا جمہوریت پسند چرچل  نے تو یہ تک کہا تھا کہ جنگ ایک ایسی سنجیدہ چیز ہے جس کو صرف جنرلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

 ابھی تک صرف وہی جماعتیں  علامہ کے ساتھ کھڑی ہو پائی ہیں جن کی سیاست اسٹبلشمنٹ کی سیاست کے طورپر پہچانی جاتی ہے۔ علامہ کے مطالبات اور حکمت عملی  سے یہی اشارے مل رہے ہیں کہاس کے عسکری اسٹبلشمنٹ  ہے۔ یہ بات اتنے زور پکڑ گئی کہ بالآخر فوجی ترجمان کو تردید کرنی پڑی کہ علامہ کی سیاست سے فوج کا کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی تعجب کی بات ہے کہ ایم کیو ایم جس نے پی پی سے کبھی جدا نہ ہونے کے وعدے کئے تھے وہ بھی  نظام کو درست کرنے کے لئے علامہ کے ساتھ ہو گئی ہے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ یہ مارچ جاگیرداروں کے خلاف ہے۔ جاگیردار کون ہیں؟  ایم کوی ایم تو 1988 کے بعد بننے والی ہر حکومت  کے ساتھ رہی ہے۔ 

مشرف اور موجودہ حکومت میں تو عملی طور پر اس کی مؤثر شراکت رہی ہے۔ اٹھارویں ترمیم جس کے تحت حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے باہمی اتفاق سے بگراں حکومت قائم ہونی ہے وہ ایم کیو ایم کے اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی۔ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر بھی اس کے مشورے سے ہوا تھا۔ راتو رات یہ کیا ہو گیا کہ وہ بدل گئی۔ اب اٹھارویں ترمیم بھی غلط اورباتیں بھی غلط۔ 

اصل میں ایم کیوایم جو کراچی کے مینڈٰٹ کی دعویدار رہی ہے اور کسی بھی سیاسی و غیر سیاسی ادارے کو کراچی میں داخل نہ ہونے دے رہی تھی۔ وہ کراچی میں امن قائم کرنے، بھتہ خوری روکنے، دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگز روکنے میں ناکام رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے کراچی کو الگ جزیرہ بنانے کی کوشش کی۔ 

جب اس صورتحال کو  ووٹر فہرستوں کو درست کرنے، نئی اور منطقی حلقہ بندی  کے ذریعے سیاسی اقدامات ہونے لگے تو اس نے مزاحمت شروع کردی۔ اس موقف نے ایم کیو ایم کو سیاسی تننہائی میں دھکیل دیا۔ اس کو ”کونسا پاکستان چاہئے“ اور عدلیہ کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے کی کال واپس لینی پڑی۔ کیوںکہ کوئی  بھی سیاسی جماعت  یا ریاستی ادارہ اس کی حمایت نہیں کررہا تھا۔ علامہ طاہرالقادری ایم کیو ایم کی ضمانت کرائی ہے۔ اور وہ ایک حد تک  بڑے دھارا  میں جگہ بنا رہی ہے۔

اکثر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم واقعتا  اسلام آباد لانگ مارچ میں شریک نہیں ہوگی۔ کیونکہ یہ جماعت ماضی میں بھی بظاہر جس کے لیے احتجاج کر رہی ہوتی ہے، اس کے اصل مطالبات کچھ اور ہوتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے ابھی یہ مطالبات ہیں  سپریم کورٹ کی ہدایت پر جاری ووٹر فہرستوں کی درستگی اور نئی حلقہ بندی کاکام بند کیا جائے۔بلدیاتی نظام جیسا وہ چاہ رہی ہے وہ نافذ کیا جائے۔ ایک حد تک حکومت اس کے یہ مطالبات مان بھی سکتی ہے۔

بہرحال یہ وقت ہے کہ ملک کی دو بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اورنواز لیگ جو پارلیمنٹ اور جمہوری عمل کا حصہ ہیں  وہ اس صورتحال کو سمجھیں کہ یہ تمام بندوبست انکو نکالنے کے لیے ہو رہا ہے۔ اور یہ جمہوری عمل کو لپیٹنے کا اشارہ ہے۔ لہٰذا وہ الگ الگ سیاست بازی کے بجائے مشترکہ لائحہ عمل بنائیں۔   

پیپلز پارٹی کے فریم میں بلاول کی تصویر - Dec 31, 2012

Mon, Dec 31, 2012, 10:15 AM
پیپلز پارٹی کے فریم میں بلاول کی تصویر
میرے دل میرے مسافر۔۔سہیل سانگی
 بالآخر صدر آصف علی زرداری ترپ کا پتہ نکال لیا۔ گڑھی خدابخش میں باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات بلاول بھٹو زرادری کی قیادت میں لڑے گی۔بلاول نے پارٹی کی سربراہی کا منصب باقاعدہ سنبھال لیا ہے۔ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرادری نے والدہ کی پانچویں برسی کے موقعے پر جلسہ عام سے خطاب سے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز کیاہے۔ بینظیر کے قتل کے بعداگرچہ بلاول کو پارٹی کا چیئرمین بنایا گیاتھا، مگر تمام معاملات ان کے والد آصف علی زرداری ہی دیکھ رہے تھے جن کے پاس پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ تھا۔ اب انتخابات ہونے جارہے ہیں تو ووٹ لینے کے لیے بلاول بھٹو کو آگے لایا گیا ہے۔ یوں آکسفرڈ یونیورسٹی سے جدید تاریخ اور سیاست میں گریجوئیشن کرنے والے صدر زرادری کے بیٹے نے بھٹو فیکٹر کی سیاسی میراث سنبھال لی ہے اور سیاسی کریئر کا آغاز کردیا ہے۔
وہ آکسفرڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے جب والدہ کا قتل ہوا  تو انہیں پارٹی کا چیئرمین بنایا گیا تب سے ملکی سیاست میں دلچسپی لینے لگے۔ گزشتہ ایک دو سال سے پاکستان میں قیام کے دوران والد آصف علی زرداری  کے پاس زیر تربیت رہے۔ 
بلاول بھٹو کے سیاسی کریئر کے بارے میں امیدیں بھی ہیں اور خدشات بھی۔ مجموعی طور پر ملے جلے تاثرات ہیں۔اسٹبلشمنٹ جو کہ بھٹو فوبیا کا شکار ہے اب اس کو بلاول کی شکل میں نئے چلینج کا سامناہے۔ تاہم  ایک حلقہ ایسا بھی ہے جو سمجھتا ہے کہ سندھ اب تبدیل ہو چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کو اچھا ریسپانس نہیں ملے گا۔ 
 پیپلز پارٹی کے کارکنان خوش ہیں کہ آصف علی زرادری جن کو وہ ”بحالت  مجبوری“ پارٹی کا سربراہ مانے ہوئے تھے ان سے پارٹی کی قیادت بینظیر کے بیٹے کے پاس آگئی ہے۔لیکن اس پر بھی سوالات ہیں کہ کیا پارٹی کی لیڈرشپ واقعی بلاول کے پاس آگئی ہے اور تمام فیصلے وہی کریں گے؟ ان فیصلوں میں ان کے والد آصف علی زرادری کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا؟ ایسا ہونا  ناممکنات میں ہے۔ صدر زرداری بہرحال موجود ہیں انہوں نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا ہے۔
 بلاول بھٹو کی تقریر اچھی تھی جو کہ پوری تیاری کیساتھ کی۔ تقریر کا آغاز نعرہ تکبیر سے کیا۔ یہ نعرہ کبھی بھی پیپلز پارٹی کا سیاسی نعرہ نہیں رہا۔یہ نعرہ  مذہبی جماعتیں سیاسی نعرے کے طور پر لگاتی رہی ہیں۔ شاید بلاول نے ملک میں مذہبی ماحول کو کچھ زیادہ اثرلیا اور مذہبی جماعتوں کا سیاسی نعرہ لگایا۔ بلاول کی تقریر جذبات سے خالی اور سنجیدہ تھی۔ جبکہ بعض مبصرین تقریر کو جارحانہ بھی قرار دے رہے ہیں کیونکہ انہوں اپنی والدہ کے قتل کیس کے حوالے سے  عدلیہ کو نشانہ بنایا۔  
انہوں نے اپنی تقریر میں ذوالفقار علی بھٹو کا ”روٹی کپڑا اور مکان“ کا بھی نعرہ دہرایا۔یہ درست ہے کہ ملک میں انتہا درجے کی غربت ہے۔ لاکھوں لوگ ان تینوں بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ مگرآج کے دور میں گورننس، سروس ڈلیوری، انسانی حقوق زیادہ اہم اشوزہیں۔ یہ وہ نکات ہیں جو جمہوریت کی نئی تعریف کے دائرے میں شامل ہیں۔ اور لوگوں کی دلچسپی اور توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔”روٹی کپڑا اور مکان“اس دور کا نعرہ ہے جب سوشلزم اور سرمایہ داری کے درمیان مقابلہ عروج پر تھا۔ دولت کی پیداوار کے ساتھ ساتھ اسکی تقسیم کا سوال ایجنڈا پر تھا۔آج یہ نعرہ خود پارٹی کے اندر بھی کوئی جوش و خروش پیدا نہیں کر پائے گا۔کیونکہ آج کی پیپلز پارٹی میں نہ مبشرحسن ہیں نہ معراج محمد خان اور نہ ہی شیخ رشید جیسے سوشلسٹ جو ملک میں پیپلز پارٹی کے ذریعے سوشلزم بپا کرنا چاہ رہے تھے۔
بھٹو کی میراث سنبھالنے والے نوجوان کا آغاز تو اچھا ہوا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں بینظیر کے بیٹے کے طور پر ان کے لیے عزت ہے۔ لوگ انہیں دیکھنے اور سننے بھی آئیں گے۔ اس کا اندازہ گڑھی خدابخش میں نعروں ”دیکھو دیکھو کون آیا“سے لگایا جاسکتا ہے۔
 بلاول کی سیاست میں آمد سے سندھ میں سیاسی بحث اور گفتگو کے موضوعات تبدیل ہوگئے ہیں۔چند ہفتوں سے پیرپاگارا اور قوم پرستوں کی سرگرمیاں موضوع بحث تھیں۔اب موضوع بلاول بھٹو ہیں۔مگربلدیاتی نظام اور کراچی کی سیاست اور صورتحال ابھی بھی سندھ کے لوگوں کے لیے باعث تشویش ہیں۔ تاہم سندھ کے لوگ ملک کے باقی لوگوں کی طرح معجزوں میں یقین رکھنے والے ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بلاول بھٹو اسٹیئرنگ  والی سیٹ پر بیٹھے گا تو سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا۔
 وہ لوگ جو مستقبل قریب میں ملک میں کسی عوامی جمہوری تبدیلی رونما ہوتی نہیں دیکھ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہایسے میں پیپلز پارٹی ہی کوئی جمہوری کردار ادا کرسکتی ہے۔ اور چاہتے ہیں کہ پارٹی میں اور ملک کی سیاست میں تبدیلی آئے۔ ان کے نزدیک  بلاول ابھرتے ہوئے سیاستدان ہیں پی پی ملک کی بڑی پارٹی ہے لہٰذا اس کی ہی قیادت سے یہ توقع کی جارہی ہے۔
اکثر لوگ بلاول کو بینظیر بھٹو کی طرح ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ ان کا موازنہ بھی والدہ سے ہی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلاول نے تقریر بھی والدہ کے انداز میں کی۔ بینظیر کے لیے یہ نعرہ لگا تھا  ”بھٹو کی تصویر بینظیر“۔ بالکل اسی طرح لوگ بلاول کو بھی سمجھتے ہیں۔ اوران میں بینظیر کا ہی عکس تلاش کررہے ہیں۔24سالہ بلاول بھٹو جن کی عمر انتخابات لڑنے  کی عمر سے ایک سال کم ہے ان کو ماں کی طرح مجمعے کٹھا کرنے اور تقریر کرنے کا فن وراثت میں ملا، مگر بینظیر کے مقبول ہونے کی صرف یہ وجہ نہیں تھی۔وہ غضب کا ویزن اور قائدانہ صلاحیتیں رکھتی تھی۔
سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ گواہی دیتاہے کہ نوے کے عشرے میں سول و ملٹری نوکرشاہی نے محترمہ کو شکست دینے اور انہیں اقتدار سے دور رکھنے کے لیے کتنی گہری سازش کی تھی۔  
بینظیر بھٹو جب سیاست میں داخل ہوئیں تو اس کے مخالفین بہت تھے۔ طاقتور اسٹبلشمنٹ سے لیکردائیں بازو کا جھکاؤ رکھنے والی میڈیا، اور اس کے انکلز تھے۔ انہوں نے ہر وہم و گمان کو غلط ثابت کیا اور بیس سال تک پاکستان کی آمریت کی دلیری کے ساتھ مزاحمت کرتی رہی۔ اور تیس سال تک ملک کی سیاست پر چھائی رہی۔
 دونوں کا موازنہ شاید ممکن نہیں۔ دونوں کے حالات میں فرق ہے۔ بینظیر بھٹو نے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز ضیاء الحق کے بدترین مارشل لاء دور میں کیا۔جب ان کے والدذوالفقار علی بھٹواڈیالہ جیل کی کال کوٹھری میں پھانسی کا انتظار رکرہے تھے۔ جبکہ بلاول بھٹو اپنی سیاست کا آغاز ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب ان کی پارٹی کی حکومت ہے۔
بینظیر نے سیاسی کریئر کاآغاز اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو کی سرپرستی میں کیا۔جس پر عوامی سیاست کا رنگ حاوی تھاجلسے، جلوس،احتجاج اورپارٹی کارکن تھے۔بلاول بھٹوسیاسی کریئر کا آغاز والد کے سائے میں کر رہے ہیں۔ جن کی سیاست پر عوامی رنگ کم اور بادشاہ گری کا رنگ زیادہ جھلکتا ہے۔ 
بینظیر کو آتے ہی اپنے انکلز کا سامنا کرنا پڑا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی غیر موجودگی میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا خیال تھا کہ وہ ایک”لاوارث سی بچی“ ہے۔ جس کو سیاست وغیرہ کا کوئی تجربہ یازیادہ پتہ نہیں۔ اور اس کو آسانی کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں۔ بلاول بھٹوکے لیے یہ صورتحال نہیں۔انکے والد آصف علی زرداری سرپرستی، رہنمائی اور مدد کے لیے موجود ہیں۔ یہ ان کے لیے اضافی مارکس ہیں، مگر لوگ اس کو منفی مارکس میں شمار کر رہے ہیں کہ بھٹو کی سیاسی میراث سنبھالنے کے لیے آنے والے نوجوان کو اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے یا آزادانہ سیاست کرنے کا موقعہ نہیں مل پائے گا۔
بینظیر بھٹو نے ضیاء کے مارشل لاء، اسٹبلشمنٹ اور مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر موجود مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کٹھن حالات میں جدوجہد، اور سیاسی ویزن کے ذریعے اپنی جگہ بنائی اور صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یوں وہ ایک سیاسی پروسیس کے ذریعے ابھری۔بلاول بھٹو نے یہ سیاسی پروسیس نہیں دیکھا۔ انہیں اس پورے جھمیلے تجربہ ہے۔
  بینظیر کو سیاسی عمل میں جانے سے انہیں یہ بھی فائدہ ہوا کہ وہ کارکنوں سے زیادہ قریب رہیں۔ کارکن انہیں جانتے تھے اور بینظیر کارکنوں کو جانتی تھی۔ یوں پارٹی کی نچلی سطح  اور اوپری قیادت کے درمیان کوئی خلیج نہیں تھی۔اس کے مقابلے میں بلاول بھٹو کارکنوں سے کٹے ہوئے نظرآتے ہیں۔ بینظیر کے زمانے میں کارکنوں کی اعلیٰ قیادت تک آسانی سے رسائی تھی، اور کارکن وزراء اور اراکین اسمبلی یا پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو دھمکی بھی دے دیتے تھے کہ وہ بی بی کو شکایت کردیں گے۔
خاندانی سیاسی وراثت کی ایک مثال گاندھی خاندان کی بھی ہے۔ وہاں راجیو کاندھی کے بیٹے راہول گاندھی کو ایک سیاسی پروسیس میں ڈالا گیا ہے۔ ان کو پارٹی کی یوتھ ونگ کا جنرل سیکریٹری بنایا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے پارٹی کے فریم میں بلاول کی تصویر کا اضافہ تو کیا ہے۔ قیادت کی سطح پر نوجوان اور نیا خون دیا ہے۔ کیا  باقی سطحوں پر بھی پارٹی تبدیلی لے آئے گی یا پرانے سامان کے ساتھ چلتی رہے گی؟
بلا ل نے بولڈتقریر میں عدلیہ کو چیلینج کیا ہے۔ بینظیر بھٹو نے فوجی آمریت کو چیلینج کیا۔ دنیا بھر میں آمریت کے خلاف جدوجہدکو بڑے پیمانے پر پزیرائی ملتی ہے۔ جبکہ عدلیہ اور عدالتی فعالیت کو چیلینج کرنے کو مقبولیت ملنا ذرا مشکل کام ہوتا ہے۔ لہٰذا بلاول بھٹو کو والدہ سے مختلف قسم کے چیلنجز ہیں۔ 
 دیکھنا یہ ہے کہ بلاول اپنی سیاست کا انداز اور رنگ ڈھنگ والدہ کا رکھتے ہیں یاوالد کی سیاست کا طریقہ اپناتے ہیں۔

اقلیتیں اور سیاست - Dec 28, 2012

Fri, Dec 28, 2012, 12:50 AM
اقلیتیں اور سیاست
میرے دل میرے مسافر
سہیل سانگی
 پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ انتخابات میں میاں مٹھو کو پارٹی ٹکٹ نہیں دی جائے گی۔گھوٹکی ضلع میں واقع بھرچونڈی  کے گدی نشین پیر عبدالحق عرف  میاں مٹھو پر الزام ہے کہ وہ نوجوان ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کرنے اور ان کی مسلمان  نوجوانوں سے شادی کرانے میں ملوث ہیں۔ میاں مٹھو کا نام رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں میڈیا اور سیاسی حلقوں میں زیادہ زیربحث رہا۔ 

جب تین ہندو لڑکیوں رینکل کماری، ڈاکٹر لتا اور آشا کے اغوا پر بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے  اور سپریم کورٹ نے بھی ان مقدمات کی سماعت کی۔ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی زبردست تنقید  کے بعد ملک کی بڑی  اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی  پردباؤ  بڑھ گیا۔ سے مطالبہ کیا جانے لگا کہ پارٹی اقلیتوں کے حوالے سے  اپنی پالیسی واضح کرے۔بصورت دیگرے اس کی مقبولیت اور پالیسی پرمنفی اثرات پڑیں گے۔ 

انسانی حقوق کی تنظیمیں اورباشعور حلقے مظاہروں اور اجتماعا ت میں پیپلز پارٹی سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ میاں عبدالحق مٹھو سے قومی اسمبلی کی سیٹ خالی کرائی جائے۔اور انہیں پارٹی سے خارج کیا جائے۔پیپلز پارٹی کچھ عرصے تک میاں مٹھو کا دفاع کرتی رہی۔لیکن ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ وہ خوددفاع کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ جب پانی سر سے چڑھ گیا تو خاموشی اختیار کرلی اور اس عمل کو میاں مٹھو کا ذاتی فعل قرار دیا۔

 اقلیتی برادری اور سندھ کے اہل دانش کے مطالبات کے باوجود پیپلز پارٹی کو جرئت نہیں ہوئی کہ وہ میاں مٹھو کے خلاف کارروائی کرے یا ان کی پارٹی رکنیت یا اسمبلی کی رکنیت ختم کرے۔ حال ہی میں میاں مٹھونے تصدیق کی ہے کہ پیپلز پارٹی ان کو ٹکٹ نہیں دے رہی ہے۔ کا کہنا ہے کہ  رینکل کے معاملے پر پارٹی ناراض ہے اور انہیں ٹکٹ نہیں دی جارہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیرمسلم کا مسلمان کرنا ان کا مذہبی فرض ہے۔ ٹکٹ کے لیے ایمان کا سودا نہیں کرسکتے۔

 میاں مٹھو کا کہنا ہے کہ پیرپاگارا کی مسلم لیگ فنکشنل،  نواز لیگ اور تحریک انصاف نے ان سے رابطے کئے ہیں۔ 

فنکشنل لیگ حال ہی میں صوبے میں زیادہ سرگرم ہوئی ہے اور زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا چاہتی ہے۔ میاں مٹھو آسانی سے اس پارٹی میں جگہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اگرچہ پیر پاگارا چند ماہ پہلے یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی پارٹی اور ان کے مریدوں کی حر جماعت اقلیتوں کے تحفظ کے لیے اقدات کرے گی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق  پیر صاحب نے مریدوں کو ایسی ہدایات بھی جاری کردی تھیں۔

سندھ میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے رائے عامہ تو موجودہ ہے اور تمام سیاسی پارٹیاں بیانات اور  باتوں میں ان کے حقوق اور تحفظ کا اعادہ کرتی رہی ہیں۔مگر ان پارٹیوں میں سیاسی ارادے کی مضبوطی  خال خال نظر آتی ہے۔ اور وہ سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔سیاسی جماعتیں بااثر لوگوں کے زیر اثر ہیں  اور انہیں اتخابات میں نہ صرف مضبوط امیدواروں کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ووٹوں کی بھی۔ جو صرف یہ وڈیرے اور بااثر لوگ ہی دلا سکتے ہیں۔ ویسے بھی ان کا کلاس ایک ہی ہے۔ لہٰذا وہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں جاسکتے۔

عمرکوٹ ضلع کے شہر غلام نبی شاہ میں پانچ سالہ معصوم بچی وجینتی کو ہوس کا نشانہ بنایا گیا تھا۔بچی کے ساتھ زیادتی کے ملزمان  بااثر تھے اور پولیس انہیں گرفتار نہ کر سکی۔ تین ہفتے تک وجنتی کے ورثاء اور انسانی حقوق کی تنظیمیں عمرکوٹ سے لیکر کراچی تک  ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتی رہیں۔ 

وجنتی کے کے ساتھ زیادتی کی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مذمت کی ہے اورکراچی کے لیاری ہسپتال میں زیر علاج وجنتی کو گلدستہ بھیجا۔ بلاول بھٹونے وجنتی کا درد تومحسوس کیا،ان کے اس اقدام سے مظلوم  وجنتی کو انصاف نہیں ملا۔

گزشتہ ہفتے پیر پاگارا کی تشکیل کردہ کمیٹی کے سامنے  وجینتی کے لواحقین اور زیرالزام مگریا برادری کے لوگ پیش ہوئے۔ مگریا برادی پیر پاگارا کی مرید ہے۔ زیر الزام شخص رفیق مگریہ کے قریبی عزیز سچو مگریہ نے ساکھ دی کہ رفیق مگریہ واقعے میں ملوث نہیں۔ یہ ساکھ (معززین کے سامنے حلفیہ بیان) متاثرہ فریق نے قبول کرلی۔ لہٰذا ملزم کو الزامات سے بری کردیاگیا۔وجنتی پر ظلم کے پہاڑ گرانے وا لے آسانی  سے انصاف سے بچ نکلے۔
وجینتی کے والدین آخر اس ساکھ کو کیوں نہیں قبول کرتے۔ آخر ان کو بھی ادھر رہنا ہے۔

 وجینتی کے ساتھ زیادتی کے خلاف مختلف تنظیمیں احتجاج کرتی رہیں ہیں۔ واقعے کے خلاف کا سندھ کے انسانی حقوق ایم کیو ایم سے وابستہ مشیر نادیہ گبول نے بھی نوٹس لیا تھا۔ اور ملزمان کو تین روز کے اندر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔مگر دو ہی دن بعد جرگہ ہوا۔ 

یاد رہے کہ سردار علی محمد مہر کے وزارت اعلیٰ کے دور میں شائستہ عالمانی کے کیس میں ایم کیو ایم نے حکومت سے علحدہ ہونے کی دھمکی دی تھی۔ شائستہ عالمانی کیس ایک جوڑے کی مرضی کی شادی کا معاملہ تھا۔اور ایم کیو ایم کو وزیراعلیٰ علی محمد مہر سے ناراضگی تھی۔لیکن اس مرتبہ شاید حکومت سے ایم کیو ایم  کی کوئی سیاسی ناراضگی نہیں تھی یا وہ اس کا اظہار اس طرح سے کرنا نہیں چاہ رہی تھی۔

 وجینتی کے،معاملے میں ایک بار پھر سیاستداں اور بااثر لوگ  حاوی ہوگئے اور وجینتی انصاف سے محروم ہی رہی۔ سوال یہ ہے کہ جب مقدمہ درج ہوا تھا، میڈیکل رپورٹ بھی جنسی زیادتی کی تصدیق کر رہی تھیں۔ ملزم کی بھی شناخت ہو گئی تھی۔ تو یہ فیصلہ کیسے ہوگیا؟ کیا ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں تھا؟

گزشتہ  ہفتے تھرپارکر میں مبارک رند گاؤں  میں چودہ سالہ بھیل خاندان کی  ایک اقلیتی عورت لڑکی نتھوبائی کو دو افراد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے پیپلز پارٹی تحصیل چھاچھرو کے جنرل سیکریٹری کے ایک قریبی رشتہ دار ملوث بتائے جاتے ہیں۔ لہٰذا پیپلز پارٹی کے مقامی عہدیداران  ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی  اتنے دباؤ  کے باوجود  میاں مٹھو کے خلاف کارروائی نہ کر سکی۔ اب جب بعد از خرابیء  بسیار  ان کو آئندہ انتخابات میں ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے تو دوسری جماعتیں تیار ہیں کہ وہ  پیر آف بھرچونڈی کو ٹکٹ دیں۔ وجینتی کے کیس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی مذمت  بظاہر ایک خوش آئند بات نظر آتی ہے، مگر انہوں نے ایسا قدم رینکل، ڈکٹر لتا اور آشا کے کیس میں نہیں کیا۔ وجینتی کے کیس میں اس وجہ سے کیا کہ ملزم کا تعلق پیر پاگارا کی پارٹی فنکشنل لیگ سے تھا۔ ایم کیو ایم کی ناراضگی پارٹی سے وابستہ مشیرکے بیان جاری کرنے کی حد تک تھی۔ تھر سے تعلق رکھنے والی مبارک رند گاؤں کی رہائشی نتھوبائی کا معاملہ اس وجہ سے دب جائے گا کہ واقعے میں مبینہ طور پیپلزپارٹی کے عہدیدار ملوث ہیں۔

سیاست عوام کی خدمت کرنے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنے کا نام ہے۔یہ ضرور سنا ہے کہ سیاست میں حرف آخر نہیں ہوتا۔ مگر کیاس سیاست اتنی بیدرد بنا دی گئی ہے کہ انسانی حقوق  اور لڑکی کے ساتھ زیادتی کے معاملے پر بھی سیاست کی جاتی ہے۔

’بی بی ہم شرمندہ ہیں ... - Dec 24, 2012

Mon, Dec 24, 2012, 1207 PM
’بی بی ہم شرمندہ ہیں کہ تیرے قاتل ابھی زندہ ہیں“ 
۔ کالم  سہیل سانگی
پیپلز پارٹی اقتدار کے پانچ سال مکمل کرنے والی ہے۔ مگر تاحال  بینظیر بھٹو کے قاتل نہ گرفتار کر سکی ہے اور نہ ہی تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لا سکی ہے۔ کارکنوں کا یہ نعرہ سچا ثابت ہو رہا ہے کہ’’بی بی ہم شرمندہ ہیں کہ تیرے قاتل ابھی زندہ ہیں“۔ 
ابھی صرف اتنا ہی ہوا ہے کہ مشرف کو مفرور قرار دیا گیا ہے بینظیر بھٹو کے لابیئسٹ مارک سیگل کو عدالت میں بیان قملبند کرانے کے لیے طلب کیا ہے،۔جن کو  بینظیر بھٹو نے  بذریعہ ای میل آگاہ کیا تھا کہ ان زندنگی خطرے میں ہے۔یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ مارک سیگل بیان قملبند کرانے آتے ہیں یا نہیں۔ امریکی سیکریٹری خارجہ رائیس کونڈی جن کا بینظیر بھٹو کو وطن لانے میں اہم کردار  تھا  اور انہوں نے منصب چھوڑنے کے بعد اپنی کتاب میں بینظیر بھٹو کے حوالے سے بعض انکشافات بھی کئے ہیں انہیں نہ  اقوام متحدہ کی کمیشن اپنا بیان دیا اور انہین  نہ ہی عدالت میں  لب  کیا گیا۔ اسی طرح افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بینظیر بھٹو کو  قاتلانہ حملوں سے آگاہ کیا تھا، ان کا بھی نہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن میں بیان نہیں ریکارڈ کیا گیا۔ 
حکومت نہ مقامی اور نہ ہی عالمی سازش کو بے نقاب کرسکی ہے۔اب جو شواہد سامنے آرہے ہیں وہ باتاتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے قتل میں بھی ملکی اور عالمی دونوں عناصر شامل تھے۔ مگر یہ سازش بھی تاحال منکشف نہیں ہو سکی ہے۔ 
 حکومت اور امریکہ دونوں بیت اللہ محسود کو  بینظیر کے قتل کا ذمہ دار ٹہرا  رہے  تھے۔ مگربعد میں امریکہ ہی نے ڈرون حملے میں محسود کو ہلاک کردیا۔ یاد رہے کہ لیاقت علی خان  اور صدر کنینڈی کے قاتلوں کو بھی موقعے پر ہی قتل کردیا گیا تھا۔
قومی اسمبلی نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کی قرارداد منظور کی تھی مگر تاحال اس منتخب ایوان کو بھی تحقیقاتی رپورٹ سے آاگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس اشو پر سندھ اسمبلی کی بھی قرارداد تھی۔ مگر سندھ کے منتخب ایوان کو بھی باقاعدہ رپورٹ سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ بلکہ اراکین اسمبلی کو  الگ سے میٹنگ کرکے رحمان ملک نے بریف بعض اسمبلی کو نہیں بتایا گیا۔ سندھ اسمبلی میں بھی صرف اراکین کو بتایا گیا۔ 
کیا  ان حالات میں بے نظیر بھٹو کا قتل کا سانحہ ناگزیر تھا یا  بعض حلقوں کی لاپروائی یا ظالمانہ روش کی وجہ سے ہوا۔اب اس کی ذمہ داری نہ امریکی حکام لے رہے ہیں اور نہ ہی مشرف۔
 بلاشبہہ وہ وطن واپسی اور اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالنے کی خواہان تھیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ مرنا ہی چاہتی تھیں۔امریکی اداروں اور اہلکاروں کے حوالے سے وہاں کے اخبارات  کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ محترمہ پر امریکی سیکریٹری خارجہ کونڈی رائیس نے دباؤ ڈالا کہ وہ واپس وطن جائیں۔اور  صدر مشرف ان کی حمایت کر سکتے ہیں ان کا موقف بے نظیر کے تجزیہ کے بر عکس تھا۔
امریکی صحافی روبن رائیٹ اور گلین کیسلر نے 27 دسمبر کو لکھا کہ بینظیر کی وطن واپسی کو آخری شکل وطن کے لیے روانگی سے ایک ہفتہ پہلے کونڈی لیزا سے  فون پر بات کے دوران  دی گئی تھی۔یہ فون کا ل ایک سال سے زائد عرصے تک  جاری خفیہ ڈپلومیسی کا نتیجہ تھی۔ اور اس ڈپلومیسی کو اس وقت سامنیلایا گیا جب امریکہ نے یہ فیصلہ کیا پاکستان کی طاقتورسیاسی خاندان کی فرد واشنگٹن کے اتحادی اس ملک کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بیل آؤٹ کر سکتی ہے۔یہ بے نظیر بھٹو کے لیے  ڈرامائی تبدیلی تھی۔
 مارک سیگل واشنگٹن میں بینظیر کے لیے لابنگ کر رہے تھے، اور پردے کے پیچھے جاری ڈپلومیسی سے آگاہ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ یہ سمجھنے لگا کہ بینظیر بھٹو استحکام کے لیے خطرہ نہیں بلکہ وہ واحد راستہ ہیں جس کے ذریعے استحکام کی اور مشرف کو اقتدار میں رکھنے کی ضمانت مل سکتی ہے۔
 نیوزویک  کے مضامین سے پتہ چلے گا کہ رائیس کونڈی بینظیر اور مشرف ٹیم کو مثالی سمجھتی تھی۔ اور کنڈی نے بے نظیر بھٹو کو راضی کیا کہ وہ واپس پاکستان جائیں اور مشرف کے ساتھ ٹیم  بنائے۔ مگر جب وہ وطن پہنچی تو  مشرف کا عمل،  بے نظیر کی چھٹی حس اور زمینی حقائق یہ تھے کہ یہ سب بش انتظامیہ کی خام خیالی تھی اور رائیس  کے اقدامات دیوانے کا خواب تھے۔ 
رائیس اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہڈیل میں ان افواہوں کی وجہ سے  پیچیدگیاں پیدا  ہونے لگیں کہ مشرف صدارتی اتخابات کے بعد وردی اتارینگے۔اور وہ آرمی چیف کا عہدہ رکھنے کا ساتھ ساتھ صدرارتی اتنخاب لڑینگے۔بینظیر نے مجھے بتایا کہ جنرل مشرف ایسا نہیں کرینگے۔ اور یہ بھی کہا کہ میں یہ سمجھونگی کہ امریکی حکومت  بیچ میں  ضامن ہے۔ رائیس کے مطابق ڈیل کا 4 اکتوبر کو اعلان کیا گیا۔ جب 18 اکتوبر کو بینظیر بھٹو وطن لوٹیں تو ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور انکے استقبالی جلوس میں دو دھماکے ہوئے۔ان کی تو جان بچ گئی مگر 140 افراد ہلاک ہوگئے۔رائیس کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر ڈک چینی مشرف کے حق میں تھے۔ 
 دو صحافیوں رائیٹ اور کیسلراپنی رپورٹ میں سی آئی اے اور قومی سلامی کونسل کے ایک اہلکار بروس ریڈلکے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ستمبر میں ڈپٹی سیکریٹری امور خارجہ جان نیگروپونٹے اسلام آباد کا دورہ کیا۔انہوں نے مشرف کو  پیغام دیا کہ”بنیادی دی طور پر ہم آپ کے ساتھ ہیں مگر چاہتے ہیں کہ حکومت پر جمہوری لبادہ ہو، اور ہم سمجھتے ہیں اس کے لیے بینظیر کا چہرا نہایت ہی موزوں ہے۔“ 
مشرف بینظیر کو ناپسند کرتے تھے وہ ہچکچارہے تھے اایسا کرنے سے ان کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے۔ سی آئی اے اہلکارریڈل کے مطابق مشرف کے سامنے دوؤپشن تھے: بینظیر یا نواز شریف۔ مشرف نے ان میں کم نقصان دہ آپشن منتخب کیا۔
جان ریڈؒ کے مطابق خارجہ پالیسی کے کئی کہنہ مشق ماہرین کو اس امریکی پلان کے بارے میں شبہ تھا۔امریکی انتظامیہ، وزارت خارجہ اور محکمہ دفاع میں کئی لوگ تھے جن کا خیال تھا کہ اس آئیڈیا میں آغاز سے ہی برائی ہے۔ کیونکہ یہ دونوں لیڈوں کے ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کے امکانات صفر ہیں۔
ڈیل کے حصے کے طور پر پیپلز پارٹی  نے مان لیا کہ وہ مشرف کے تیسری مدت کے لیے  صدر کے انتخابات پر احتجاج نہیں کرے گی۔ اس کے بدلے مشرف بینظیر کے خلاف کرپشن کے الزامات واپس لے لیں گے۔ مگر بینظیر نے واشنگٹن سے ایک ضمانت مانگی کہ مشرف آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائیں  گے جس کے نتیجے میں سویلین حکومت وجود میں آئے گی۔
سیگل کے مطابق رائیس اس ڈیل کو آخری شکل دینے میں مصروف تھی بینظیر بھٹو کودبئی میں فون کرکے بتایا کہ واشنگٹن اس پروسیس پر عمل ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔ ایک ہفتے  بعد یعنی 18 اکتوبر کو  بینظیر واپس وطن آئیں۔اس کے دس ہفتے بعد انہیں قتل کردیا گیا۔
حکمت عملی کے طور پر رائیس کا آئیڈیا یہ تھا  علامتی قسم کے انتخابات کرکے دنیا کو دکھائیں گے کہ پاکستان میں جمہوریت آگئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کونڈی  اپنے اس آئیڈیا پر مصر تھیں کہ مشرفاس کھیل میں پہل کرے گا  اور اس کے بعد وہ ان تمام سگنلز کو نظرانداز کرے گا جو اس کے عقیدے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ دراصل مشرف بے نظیر بھٹو کے ساتھ چلنا نہیں چاہ رہا تھا۔ اس لئے وہ ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔
28 دسمبر کو مائیکل ہرش نیوزویک میں لکھا کہ رائیس کے زور بھرنے پر بینظیر بھٹو انتخابات میں حصہ لینے پر راضی ہوئیں اس شرط کے ساتھ کہ وہ  بینظیر بھٹو کو تیسرے مرتبہ وزیراعظم بننے کی اجازت دیں گے۔ مگر مشرف نے اس قانون کو تبدیل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔بلکہ ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاس فیصلے کی فوری طور پر صدر بش مذمت نہ کر سکے۔اور نہ ہی امریکیوں نے معاہدے کے دوسری پوائنٹ پر  زوردیا جو بینظیر بھٹوکی تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے سے متعلق تھی۔ امریکیوں نے اس معاملے کو لٹکا ہوا چھوڑا۔ پی پی کے ذرائع کے مطابق امریکی اپنے وعدے سے مکر گئے۔
اس رپورٹ کے مطابق کونڈی نے ایک مرتبہ پھر بینظیر کو حفاظت کی یقین دہانی کرائی اور مشرف کو اپنا وعدہ  ایفا کرنے کے لیے سرگرم ہوگئیں کہ بینظیر کی حفاظت ضروری ہے۔ وطن پہنچنے کے بعد بینظیر نے رائیس کو آگاہ کیا کہ وہ خطرے میں ہیں۔ان کی وطن واپسی پر استقبالی جلوس  میں ان پر خودکش بمبار نے قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ نیوزویک نے لکھا کہ سانحہ کارساز کے بعد بینظیر نے مشرف پر سیکیورٹی فراہم نہ کرنے کا  الزام لگایا۔ واشنگٹن میں انتظامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ رائیس نے ذاتی طور پر  مشرف پر  زور دیا کہ وہ  بینظیر کو کم از کم ایسی سیکیورٹی فراہم کریں جو  ان کے وزیراعظم کو حاصل ہے۔
ایک مرتبہ پاکستان پہنچنے کے بعدوہ واپس نہیں جاسکتی تھیں۔انہوں نیاپنی سیاسی مہم شروع کردی۔ اگرچہ اکتوبر کے وسط  میں انہیں پتہ چل گیا  تھا وہ موت کے جال میں ہے۔ اس طرح کے اشارے ہر طرف سے مل رہے تھے۔
 بینظیر بھٹو نے27دسمبر کو مارک سیگل کو ای میل بھیجی گئی جس میں انہوں نے اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے شکایت کی تھی۔ انہوں لکھا کہ”مجھے محسوس کرایا جا رہا ہے کہ میں غیر محفوظ ہوں  مجھے نجی کاریں، یا کاروں سیاہ  شیشے استعمال کرنے، جیمرز فراہم کرنے یا چار پولیس گاڑیاں فراہم کرنے سے روکا جا رہا ہے۔“۔اس سے زیادہ وہ کیا لکھتیں۔
امریکی صحافی لکھتے ہیں کہ محکمہ خارجہ کی یہ ناہلی تھی کہ وہ  بینظیر بھٹو کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ اس بات کو تحقیقات میں کیوں نہیں لایا جا  رہا ہے؟ کونڈی اور ان کی ٹیم کی بڑی دلچسپی تھی کہ وہ القاعدہ یا دوسرے  ایسے دہشتگردوں پر الزام عائد کریں  تاکہ انتظامیہ کے اس فیصلے  سے توجہ ہٹا سکیں کہ انہوں نے بینظیر کو بھیڑیوں کے نرغے میں ڈال دیا ہے۔
 بہرحال ہر مرتبہ بینظیر بھٹو اور ان کے مشیر امریکی انتظامیہ کو سیکیورٹی بڑھانے کے لیے کہتے رہے۔امریکیوں نے  بینظیر کو مشورہ دیا کہ وہ پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کریں۔مگر بینظیر اور ان کے شوہر آصف زرداری اس تجویز کو رد کرتے رہے۔کیونکہ انہیں شبہ تھاکہ پاکستان کی  اچھے سے اچھی سیکیورٹی ایجنسی میں بھی دہشتگرد گھسے ہوئے ہو سکتے ہیں۔
 یہ واقعات بتاتے ہیں کہ کس طرح سے امریکی وزارت خارجہ قتل کے واقع کے لیے  مقتولہ کو ہی ذمہ دار ٹہراتی رہی۔تعجب کی بات ہے کہ رائیس کونڈی اور اسکی ٹیم مشرف پراپنا اثر استعمال کرنے میں ناکام ہو رہی تھی اور  پرائیویٹ فرم کی خدمات کے لیے زور دے رہی تھی۔ مشرف بینظیر بھٹو کو سیکیورٹی فراہم کرنے  کے لیے تیار نہیں تھا جو کہ آئندہ انتخابات میں ان کی پارٹنر قرار دی جارہی تھی۔ جب کراچی سانحہ  میں 136جیالے ہلاک ہوئے تو نیویارک ٹائیمز نے رپورٹ دی کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بینظیر کوملک چھوڑنے سے روک دیا ہے۔
اس طرح سے بینظیر بھٹوامریکی سیکریٹری رائیس کونڈی کے وعدے اور امریکہ کی یقین دہانیوں کی بھینٹ چڑھ گئیں۔اگر امریکہ واقعی بینظیر کی سیکیورٹی چاہتا تھا اور مشرف کو بھی ہرحال میں بچانا اور اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا تو اس سے  بینظیر کی سیکیورٹی کیوں نہ حاصل کر سکے۔ اور بیت اللہ محسود یا کسی اور دہشتگرد  کا نشانہ بنی۔ یہ بڑے اہم سوال ہیں۔جن کے جواب میں ہی قتلکا سراغ موجود ہے۔ موجودہ پی پی حکومت ابھی تک ملکی وعالمی سازش کو بے نقاب کرنے میں ناکام رہی ہے یا کترا رہی ہے۔ اس کے باوجود اسی بنیاد پر ووٹ کی طلبگار ضرور ہے۔

افغانستان سے امریکی واپسی کا سوال - Dec 20, 2012

Thu, Dec 20, 2012 at 4:36 PM
 افغانستان سے امریکی واپسی کا سوال 
میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی 
افغانستان  سے امریکی فوجوں کی واپسی اور اس کے بعد کی صورتحال پاکستان کے لیے نہایت ہی اہم ہے۔ نہ صرف اس وجہ سے ہی نہیں کہ  ملک کی خارجہ پالیسی اس کی تابع رہی ہے بلکہ ملک کی تین سالہ  تاریخ میں ندرونی پالیسی بھی اس کی تابع ہی رہی ہے۔ ضیاء الحق نے  ملک میں مارشل لا بھی افغانستان کی وجہ سے کیا تھا کہ وہاں امریکہ پاکستان کے ذریعے روس کے خلاف لڑنا چاہتا تھا۔

 امریکہ افغانستان کے لیے جنیوا معاہدہ کرنا چاہتا تھا، ضیا ء الحق ایسا نہیں چاہتے
تھے۔ اور جب معاہدہ ہو گیا تو اس سے جنرل ضیاء بھاگنا چاہتے تھے۔ تو جہاز کا حادثہ پیش آیا۔ اور اس حادثے  کے بعدملک میں عام اتنخابات ہوئے اور  جمہوریت اور سویلین حکومت شروع ہوئی۔ لہٰذا افغان صورتحال کل پاکستان کی اندرونی سیاست کے لیے اہم تھی۔ آج بھی اتنی ہی اہم ہے۔

افغانستان کی وجہ سے ہی ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر۔ تیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین موجود ہیں۔ ملک دہشت گردی، سنگین جرائم میں بھی اس صورتحال کا ہاتھ ہے۔ ہماری سیاست میں موجود انتہا پسندی اور سیاست میں اسلحے کا استعمال بھی ہمیں اسی صورتحال سے ملا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ نے روس سے جنگ جیتنے کے لیے نہ صرف پاکستان میں بلکہ پورے علاقے میں مذہبی انتہا پسندی کو ہوا دی اور اس کو مسلح بھی کیا۔ آج جس انتہاپسندی سے امریکہ لڑرہا ہے اور پاکستان کو بھی اس آگ میں جھونک رہا ہے وہ دراصل اس کی اپنی ہی بنائی ہوئی ہے۔

 پاکستان میں بظاہر عام انتخابات ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اور مختلف جماعتیں اور ادارے  اس کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ تاہم  بعض واقعات اور  اور بعض حلقوں کے اشارے انتخابات  کے انعقاد کو مشکوک قرار دے رہے ہیں۔
فرض کریں کہ آج اگر افغان مسئلہ نہ ہو،  مذہبی سدت پسند نہ ہوں تو کیا ملک کی سیاسی صورتحال ایسی ہوگی جس سے ہم دو چار ہیں؟ کیا  سیاسی صف بندی بھی یہ ہوگی؟  اس کا جوب ہر ایک کے پاس نفی میں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو بہت کچھ تبدیل ہوتا۔

 لہٰذا پاکستان  میں اتخابات ہوں گے یا نہ ہونگے؟ کس طرح کا سیٹ اپ بنے گا؟ کس طرح کا سیاسی و معاشی نظام ہوگا؟ اس کامحور ابھی تک افغان اشو ہی ہے۔اس لیے یہ اشو کس شکل میں ہے اور کس طرح سے حل ہو رہا ہے؟  وہ صرف پاکستان حکومت کا ہی نہیں بلکہ ہر جمہوریت پسند، باشعور شخص کا بھی درد سر ہے۔

2014 ع میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء  کے بعد افغانستان کی اور پورے خطے کی صورتحال کیا بنتی اس صورتحال کے لیے امریکہ نے کیا پلان بنایا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ تیس ہزار فوجی افغان حکومت کی مدد کے لیے موجود  ہونگے۔ مگر خود ان فوجیوں کے تحفظ کے لیے بھی امریکہ بندوبست کر رہا ہے۔ ٰہ خیال غالب ہے کہ امرکی فوجوں کے انخلاء کے بعد طالبان  ضرور حملے کرینگے۔ کوینکہ طالبان اپنی اپنی طاقت کی آزمائش کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو یہ باور رکانے  کی کوشش کریں گے کہ جدید ٹیکنالاجی سے لیس امریکی فوج کا  مقابلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ اب اس فوج کے نکل جانے کے بعد کرزئی حکومت کھڑی نہیں ہو سکتی۔

پیپلز پارٹی کی حکومت ماضی میں  خارجہ پالیسی  میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ اگر کسی کو ایسا لگا تو یہ ٹوپی ڈرامہ تھا۔ ادھر امریکہ پاکستان پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے کہ کابل میں امریکی فوجیوں کو کچھ  ہوا تو اس کی ذمہ داری پاکستان پر ہوگی۔اس ضمن میں پاکستان نے روس کی طرف جانے کی کوشش کی تو امریکہ کی ایک ہی وراننگ نے  اس کے قدم روک دیئے۔ 

ملک میں حالیہ واقعات  مزید صورتحال کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔کراچی اور پختونخواہ میں پولیو کارکنوں کا قتل اس پر عاملی برادری کا رد عمل،پشاور ایئر پورٹ پر حملہ، کراچی میں چیف جسٹس  افتخار چوہدری کے خلاف احتجاج،  اور طاہر القادری کی وطن واپسی سازشی تھیوری منسلک کی جا رہی ہے۔ پاکستان کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ  2014 کے بعد کی صورتحال سے وہ کیسے نمٹے گا۔

 امریکہ کے لیے یہ بات ساز گار ہوسکتی ہے کہ فوجوں کے انخلاء کے بعد  علاقے میں استحکام ہو۔ علاقائی استحکام کے لیے  پاکستان میں استحکام انتہائی اہم ہے۔امریکہ کسی طور پر نہیں چاہتا کہ اس نے گزشتہ برسوں میں جو حاصلات کی ہیں  وہ کسی طور پر بھی  ضایع ہوں۔ اس کے لیے وہ  افغانستان کی سطح پر طالبان  کے مخلتف گروپوں سے مذاکرات کی راہ ڈھونڈ رہا ہے۔ او ر شمالی افغانستان کے گروپوں سے بھی رابطے میں ہے۔مگر  اس کو پاکستان پر شبہ ہے کہ پاکستان کی سرزمین، اس کے ریاستی ادارے کسی نہ کسی طور پر اس کے لیے مسئلہ پیدا کریں گے۔ یہ وہ شبہ ہے جس کی بنیاد پر وہ مشرف دور سے لیکر آج تک زوردیتا رہا ہے۔

پاکستان ان شبہات کو دور کرنے کے لیے کیا کر سکتا ہے؟ وہ خود بدترین معاشی، سیاسی، سماجی عدم استحکام کی صورتحال سے گزر رہاہے۔دہشت گردی کے واقعات قابو میں نہیں آرہے ہیں۔گورننس کا اشو کی بات ہی کیا؟  ملک میں جس طرح کی دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ایسا ہے جو موجودہ حکومت تو کیا کوئی سویلین حکومت کنٹرول نہیں کرسکتی۔ 

مسلح شدت پسندی  کو صرف دو طریقوں سے نمٹا جاسکتا ہے۔ ایک یہ کہ عسکری ذرائع اور دوسرا سیاسی طریقہ۔ اگر عسکری طریقے کا مطلب  لازمی طور پر مارشل لاء نہیں ہے۔ بلکہ عسکری ذرائع کا استعمال ہے۔ 

خالص سیاسی طریقہ اس لیے استعامل نہیں ہو سکتا کہ  ملک کی سیاسی قوتیں بٹی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں ایک مثبت اشارہ ملا ہے کی  دو بڑیسیاسی جماعتیں نگراں سیٹ اپ کے لیے متفقہ نام تجویز کریں گی۔  لیکن  شدت پسندی  کے خلاف متفقہ طور پر کھڑا ہونا سیاسی جماعتوں کے بس کی بات نہیں لگتی۔ ان جماعتوں کے اپنے اپنے سیاسی مفادات ہیں اور اس کے لیے چھوٹی چھوٹی صف بندیاں  ہیں۔ جس سے باہر نکلنے سے ڈرتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کی سیاسی موت واقع ہو جائے گی۔

ایک اور بات بھ اہم ہے کہ  مشرف دور کے بعد  ملک میں سیاست کا جھکاؤدائیں بازو کی طرف بڑھا ہے۔یہ مشرف کی پالیسیوں کا بھی نتیجہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دائیں بازو کی قوتیں جنہیں ضہاء دور میں بالادستی حاصل تھی وہ  سمجھتی ہیں کہ اگر وہ کوشش کریں تو ایک بار پھر  یہ مقام حاصل کر سکتی ہیں۔ 
ان قوتوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بعض علاقوں میں مذہبی جماعتوں کے ابھار کے بعد ان کے لیے راہ ہموار ہوئی ہے۔ مگر یہ خام خیالی ہے۔ کیونکہ یہ قوتیں مسلسل سیاسی عمل کا حصہ رہی ہیں۔ ان کی سیاست، حکمت عملیوں، پالیسیوں اور تنظیم کاری سے عوام واقف ہیں۔ اور ہمارے ملک کی  ان مذہبی جماعتوں کے پاس کچھ نیا نہیں ہے جو وہ عوام کو پیش کرسکیں۔ اس کے برعکس یہ بھی ہے کہ  یہ قوتیں دس سال تک اس پوزیشن میں رہیں کہ اگر کچھ کرنا چاہتیں تو  بہت کچھ کر سکتی تھیں۔

 لہٰذا یہ وقت ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے سوچیں اور مشترکہ حکمت عملی بنائیں کہ کس طرح سے ملک کی سیاست، معیشت کو خارجہ پالیسی کے اثر سے نکالا جا سکتا ہے اور کس طرح سے آزاد کارجہ پالیسی بنائی جا سکتی ہے  جس سے ملک کا تشخص اور پہچان الگ سے بنے۔یہ وہ سوال ہے  بتائے گا کہ ہمارے سیاسی رہنما  اسٹیٹسمین ہیں یا صرف سیاستداں۔

بھیج پگارا اورسندھ - Dec 17, 2012

Mon, Dec 17, 2012, 11:03 AM
بھیج پگارا  اورسندھ 
سہیل سانگی
پیر پاگارا کی سربراہی میں مسلم لیگ فنکشنل نے سندھ  میں جس نئی سیاست کا آغاز کیا ہے اس کے اظہار کے طور پر صوبے کے دوسرے نمبر پر بڑے شہر حیدرآباد میں بڑا منعقد کیا گیا۔ جلسے اور فنکشنل لیگ کی سیاست سے بعض حلقے بڑی توقعات باندھ رہے ہیں۔ سندھ تین خصوصیات کے باعث  پاکستان کے ریاستی ڈھانچے اور سیاست میں بڑی اہمیت کا حامل ہے،  یہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کا  ہوم گراؤنڈ ہے۔  یہاں پر قوم پرست  سیاست  کے اثرات گہرے ہیں۔ شہری اور دیہی آبادی لسانی بنیادوں پر بٹی ہوئی ہے۔ جس کے اثرات نہ صرف صوبے  اور ملک کی سیاست  پر بلکہ معیشت پر بھی  پڑتے ہیں۔ 

گزشتہ برسوں سے حکمرانوں کی موقع پرستی،سیاسی سودے بازی،  خراب حکمرانی، کرپشن، صحت، تعلیم کی بدترین صورتحال، روزگار کے سکڑتے ہوئے مواقع، مہنگائی وغیرہ جیسے اہم معاملات  کے بیچ میں سندھ راہ تلاش کر رہا ہے۔کیا  فنکشنل لیگ کی تازہ سرگرمی سندھ کے سیاسی منظر کو تبدیل کر دے گا؟ سندھ کئی ایک مسائل میں گھرا ہوا۔کیا کوئی ایسی راہ بن رہی ہے کہ عام  لوگوں کوچھٹکارہ ملے؟

فنکشنل لیگ نے نئی سیاست کا آغاز  متنازع بلدیاتی نظام کی مخالفت سے شروع کیا۔پرویز مشرف  اور جنرل ضیا ء الحق کے بلدیاتی انتخابات سے مستفید ہونے والی مسلم لیگ کے اس دھڑے نے قوم پرستوں کے ساتھ ملکر نئے بلدیاتی نظام کے خلاف تحریک چلائی۔ فنکشنل لیگ متنازع بلدیاتی قانون کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

 خیال ہے کہ حیدرآبادجلسے کے شرکاء سیاسی مقصد سے زیادہ اپنے مذہبی عقیدے کے طور پر شریک ہوئے تھے۔جلسے میں اکثریت پیر پاگاراکے مریدوں کی تھی۔ جس میں سے کئی نے سفید ٹوپیاں پہن رکھی تھی۔ جب کہ پیر پاگارا نے انہیں سندھی ٹوپی پہننے کی اجازت دی تھی۔اس سے پہلے پیر پاگارا کے مرید یہ ٹوپی نہیں پہنتے تھے۔

پیر پاگارا کے خطاب  کے بعض نکات سندھ کے مقبول گفتگو اور سمجھ کے انداز سے متصادم تھا۔ جس سے بعض کنفیوزن پیدا ہو رہے ہیں۔ جلسے میں غلام مصطفےٰ کھر کی موجودگی  سندھ کے لوگوں کے لیے باعث حیرت رہی۔وہ بینظیر بھٹو دور حکومت کے  وزیر پانی و بجلی کالاباغ ڈیم کے زبردست حامی رہے ہیں۔  پیر پاگار نے اپنی تقریر میں کہا کہ انہیں کالاباغ ڈیم کا علاوہ باقی ڈیم منظور ہیں۔

اس وقت اسٹیج پر  پیر پاگارا کے نئے اتحادی  اورقوم پرست رہنما  جلال محمود شاہ۔ قادر مگسی۔ ایاز لطیف پلیجو بھی موجود تھے جن کا یہ موقف رہا ہے کہ دریائے سندھ پر کوئی بھی ڈیم قابل قبول نہیں۔مزید یہ کہ پیر پاگارا نے کالا باغ ڈیم کا اشو کا پس منظر جس طرح سے بیان کرکے پی پی کے گلے میں ڈال دیا ہے۔ جس پر وہ خاصا وقت وضاحتوں میں صرف کرے گی۔ اس سے نیا پینڈورا باکس کھل گیا ہے۔

 پیر پاگارا سید صبغت اللہ شاہ راشدی نے”متحد سندھ“ اور”متحد پاکستان“ کا نعرہ بھی لگایا، مگر ان کے جلسے میں جیئے سندھ کے کارکن اور ہمدرد بھی موجود تھے جوکہ علحدگی کے خواہشمند رہے ہیں۔ سابق پیر پاگارا  پیر علی مراداں شاہ خود کو فخریہ طور پر پاکستانی فوج کا بندہ کہتے تھے۔ان کے انتقال کے بعد موجودہ پیر پاگارا  بھی خود کو  فوج کا بندہ کہتے ہیں۔

 ماضی میں سندھ میں پیروں، وڈیروں اور سرداروں کے سیاسی غلبے کے خلاف سرگرم جماعتوں کے نمائندے اور  ادیب بھی موجود تھے۔ یہ ان لوگوں کی جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ 1988ع کے انتخابات میں پیر پاگارا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس کے بعد پیر پاگارا کبھی بھی بطور امیدوار سامنے نہیں آئے۔

 پیر گوٹھ میں سال میں دو مرتبہ مریدوں کو دیدار کراتے ہیں مگر گزشتہ چار ہائیوں کے بعد یہ پہلا اجتماع تھا جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم بعد سندھ میں وہ تیسری بڑی قوت ہیں۔

 بھٹو اور پیر پاگارا سندھ میں ایک دوسرے کے پرانے حریف رہے ہیں۔ بھٹو تبدیلی کے مقبول نعرے کے ساتھ میدان میں آئے تو انہوں نے گفتگو اور سمجھنے کا انداز اور سیاسی بحث کا موضوع ہی بدل دیا تھا۔ اور عوام میں موجود تبدیلی کی خواہش کی عکاسی کرتے ہوئے مقبول رہنما بن گئے۔ کئی روایتی سیاستدان الجھاوے کا شکار ہو گئے۔ اور انہوں نے مشترکہ طور پر بھٹومخالف کیمپ بنا لیا۔مگر پیروں کے زیر اثر علاقوں سے یہ نعرہ بھی سننے میں آیا کہ”سر  مرشد کا ووٹ بھٹو کا۔“ 
بھٹو کے بعد بے نظیر بھٹو کی بھی کبھی  پیر پاگارا سے صلح نہ ہو سکی۔

پیپلز پارٹی کی عدم موجودگی کے ہر سیٹ اپ میں پیر پاگارا بادشاہ گر رہے۔ وہ جس پر بھی ہاتھ رکھتے تھے  وہ پارس بن جاتا تھا۔جنرل ضیا دور میں محمد خان جونیجو وزیر اعظم بن گئے۔ غوث علی شاہ  اور جام صادق وزیراعلیٰ بن گئے۔ 1988ع کے انتخابات میں ایک بار پھر پیر پاگارا اور بھٹو آمنے سامنے آگئے۔مگر پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر سیاسی طور پربچے پرویز علی شاہ نے پیر پاگارا کو شکست دی۔ 

 پیر پاگارا ماضی میں سندھ  میں چلنے والی  مقبول اور بڑی تحریکوں کا حصہ نہیں تھے، ون یونٹ کے خلاف بھر پور تحریک چلی،کالاباغ ڈیم  وغیرہ کے خلاف تحریک قابل نظر ہیں۔ بلکہ وہ ایم آرڈی تحریک کے خلاف تھے۔پیر پاگارا نواز شریف کی دو حکومتوں اور بعد میں مشرف کے بھی اتحادی رہے۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو کے داماد آصف علی زرداری نے پتہ نہیں کیا گیدڑ سنگھی دکھائی کہ پیر پاگارا کو مفاہمت کے دھاگے میں جوڑ دیا۔ 

کہا جا رہا ہے کہ موجودہ پیر پاگارا نے فنکشنل لیگ کی سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر میدان میں لے آئے۔پر اس کی توضیح یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ بہرحال عوام کی کامیابی ہے کہ آنکھ کے اشارے سے ووٹ  لینے والوں کو بھی عوام سے رجوع کرنا پڑا ہے۔

فنکشنل لیگ کی نئی سیاست پر سندھ  میں دو آراء پائی جاتی ہیں۔ پہلا گروپ فنکشنل لیگ کوکسی بنیادی تبدیلی کی علامت نہیں سمجھتا  تاہم اس کے مطابق  یہ پیپلز پارٹی کے لیے چیلینج ہے۔ 
سیاسی دانشورجامی چانڈیو  جو اس جلسے میں بھی شریک ہوئے تھے، ان کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں عوامی پارلیمانی قیادت کے ابھرنے کا کوئی امکان نہیں۔ فنکشنل لیگ بھی پارلیمانی سیاست کی کھلاڑی ہے، جو پیپلز پارٹی کو سندھ میں واک اوور سے روک سکتی ہے۔ سندھ میں پی پی کی پارلیمانی سیاست پر اجارہ داری نے سندھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

 اس کے برعکس تجزیہ نگار شہاب استوسمجھتے ہیں کہ سندھ کے لوگ پیپلز پارٹی کی نالائقی کی وجہ سے تنگ ہیں لہٰذا  اسٹبلشمنٹ وہ اس صورتحال کواپنے حق میں استعمال کرنا چاہتی  ہے۔ سندھ کی دیہی آبادی کو  واپس فرسودہ  ڈھانچے میں دھکیلنا چاہتی ہے۔انہوں نے سوال کیا فنکشنل لیگ، نیشنل پیپلز پارٹی وغیرہ کس طرح سے راتو رات الٹرا قوم پرست ہو گئے؟ کیا یہ اسی طرح سے پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کو استعمال نہیں کر رہے ہیں جس طرح سے پیپلز پارٹی کالاباغ ڈیم جیسے اشوز کو استعمال کرتی رہی ہے؟

 ایک حلقے کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیپلز پارٹی اور فنکشنل لیگ کی سیاست میں کوئی فرق نہیں ہے۔مگر یک طرفہ توازن کو تبدیل کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ یہ پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی ذہنیت کو تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی کو چلینج  توکیا گیا ہے، کیا اس سے گفتگو کے موضوع اور سمجھنے کا انداز بھی تبدیل ہو گیا ہے یا یہ سب انتخابی مہم کا حصہ ہے جس کا عام آدمی سے کوئی تعلق نہیں؟ 

 یہ سوچ بھی موجود ہے کہ الیکشن سے تین ماہ قبل یہ جلسہ ہوا ہے جس سے مسلم 
لیگ (ن) اور قوم پرستوں کو دھچکا لگا ہے۔ نواز شریف سندھ میں اپنا سیاسی گراؤنڈ بنانے کی کوشش کررہے تھے۔ مگر فنکشنل لیگ نے یہ خلا پر کردیا ہے۔ 
 تجزیہ نگار دستگیر بھٹی کے مطابق  پیر پاگارا کی نئی سیاست نے  قوم پرستوں کو بھی ایک ساتھ جوڑ دیا ہے۔ سندھ کے قوم پرستوں سے یہ شکوہ تھا کہ وہ آپس میں اتحاد نہیں کرتے، ایک چھتری کے نیچے جمع ہونے کے بجائے الگ الگ کیمپ لگاتے ہیں۔ 

 مقتدرہ حلقے جو سندھ کا اسٹیک ہولڈر صرف حکمران جماعت یا اس کی اتحادی جماعت کو سمجھ رہے تھے، یقیننا ان کواپنی رائے پر نظر ثانی کرینگی۔ بڑے پیر پاگارا کے انتقال کے بعد کیاگر کوئی غلط فہمی ہوئی تھی تو وہ بھی دور ہو گئی ہوگی۔
 اگرچہ فنکشنل لیگ ماضی میں ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد میں رہی ہے۔تاہم  ایم کیوایم کو پیر کا مشورہ بھی معنی خیز ہے کہ وہ پی پی کے ہاتھوں کھلونا نہ بنے۔ ایم کیو ایم اسلح کی زبان بولتی ہے۔ پاگارا کے پاس جیالے حر موجود ہیں۔ 

بہرحال پیر پاگارا کا یہ جلسہ آئندہ انتخابات کی تیاری کے ساتھ ساتھ آئندہ سیٹ اپ میں فنکشنل لیگ کے رول، اور پاور شیئرنگ کے معاملات بھی طے کرے گا۔

ایم کیو ایم تہنائی کی طرف - Dec 11, 2012

Tue, Dec 11, 2012, 10:28 AM

ایم کیو ایم تہنائی کی طرف۔۔۔ میرے دل میرے مسافر۔۔۔سہیل سانگی

Tue, Dec 11, 2012 at 10:44 PM
MQM Isolation-
ایم کیو ایم کی تنہائی۔۔۔ میرے دل میرے مسافر۔۔۔سہیل سانگی
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے گزشتہ ہفتے ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ان کے مطابق پنجاب میں حصول اقتدار کے لیے ملک کو داؤ پر لگانے کی تیاری کی جارہی ہے۔انہوں نے شکوہ کیا کہ سیاسی و مذہبی جماعتیں کراچی میں اسلحے کی نمائش پر تو بیانات دیتی ہیں مگر پنجاب میں حالیہ ضمنی انتخابات میں ہونے والے اسلحے کی نمائش پر سب خاموش ہیں۔ڈاکٹر فاروق نے یہ بھی سوال کیاکہ سپریم کورٹ نے کراچی کے حالات اور حلقہ بندیوں کا تو نوٹس لیا مگرپنجاب میں ضمنی انتخابات کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں کا نوٹس نہیں لیا۔ایم کیو ایم کایہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ یہ جماعت ایک طرف ہے ملک کی سیاسی پارٹیاں دوسری طرف ہیں۔اس سے قبل گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے کراچی کی حلقہ بندیوں اور بدامنی کے حوا لے سے جو فیصلہ دیا تھا تب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے بھی برہمی کا اظہار کیا تھا۔ 
ایم کیو ایم کا سیاسی جماعتوں سے شکوہ کیا اس کی سیاسی تنہائی کی عکاسی کرتا ہے؟ 
 یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں کہ ایم کیو ایم کو اس قسم کی تنہائی کا احساس ہوا ہے۔ پرویزمشرف دور  میں جب چارٹر آف ڈیموکریسی پر  دستخط ہوئے تھے اور اس کے فورابعد نواز شریف نے  جب لندن میں سیاسی جماعتوں کی کانفرنس بلائی تھی اس وقت بھی  ایم کیو ایم کو ایسی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جب اکثر سیاسی جماعتوں نے کسی قسم کا اتحاد اور رابطہ نہ رکھنے کا  اعلان کیا تھا۔  بعد میں پیپلز پارٹی نے  اس وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایم کیو ایم سے اتحاد کای اور اسے سیاسی تنہائی سے نکلنے میں مدد کی۔ کمشنری نظام کی بحالی اورصوبائی وزیر داخلہ ذولفقار مرزا کے سنگین نوعیت کے الزامات نے بھی ایم کیو ایم کو تنہائی تک تنہائی کا شکار کئے رکھا۔
یہ کل ہی کی بات ہے کہ وہ سندھ میں سفید و سیاہ کی مالک نظر آتی تھی۔ سیاسی جماعتیں کراچی اور سندھ کے حوالے سے اس سے بات کرتی تھیں۔ ااور اس کی رائے کو اہمیت دیتی تھیں۔ یوں ایم کیو ایم فیصلہ سازی میں بھی اثر انداز ہونے لگی تھی۔ کراچی پر گرفت رکھنے کی دعویدار یہ جماعت نواز شریف اور جنرل مشرف کے دور کے بعد موجودہ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی حکومت میں رہی ہے۔ اس جماعت کا تینوں سطحوں یعنی وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومتوں میں بھرپور شرکت رہی ہے۔ خاص کر صوبائی اور ضلعی سطح پر فیصلے اسی کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہوتے رہے ہیں۔اگر نہ بھی ہوں وہ کمال خوبصورتی سے یہ فیصلے اپنے حق میں کرتی رہی۔کراچی کی صنعت و تجارت اور ترقی کا پہیہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کے پیش نظر اس جماعت کواقتدار میں بڑا حصہ دیا گیا۔جس کی گواہی موجودہ صدر آصف علی زرداری کے اس بیان سے بھی ملتی ہے۔ جس میں متحدہ سے اتحاد کے حوالے سے کہا تھا کہ انہوں نے کراچی کا امن خریدکیا ہے۔ 
صوبے اور کراچی میں ایک بڑا حصہ ملنے کے باوجود کراچی  میں امن امان  اور کاروبار کی صورتحال بہتر نہ ہو سکی۔کراچی کا ملک کی آمدنی کا 60 سے 70 فیصدفراہم کرتا ہے۔ جس میں سے دفاعی اداروں کے بجٹ میں میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہاں کی تالہ بندی  نے بھی ان اداروں میں بھی صورتحال کو از سرنو غور کرنے پر مجبور کیا۔
جماعت اسلامی جو ایم کیو ایم سے پہلے کراچی کی نمائندگی کی دعویدار رہی ہے اس کے 2008 کے عام انتخابات سے جماعت اسلامی کو کوئی فائدہ پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو، مگر ایم کیو ایم کو شہر کی اکیلی بڑی پارٹی کا اعزاز ضرور ملا۔سیاسی مبصرین اس بات کو بھی بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں کہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے بائکاٹ نے ایک دوسرے کو ہی فائدہ پہنچایا ہے۔سانحہ 12مئی 2007  کے بعد ایم کیو ایم اور اے این پی ایک دوسری کی کٹر مخالف کے طور پر سامنے آئیں۔ مگر پیپلز پارٹی کی مفاہمت کی پالیسی  ان دونوں مخالفین کو ایک ہی میز پر لا بٹھایا۔
کراچی اب تبدیل ہے۔ جس کو ایم کیو ایم سمیت  مختلف  سیاسی جماعتیں سمجھنے اور تسلیم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔یعنی زمینی حقائق تبدیل ہو چکے ہیں۔ کچھ نئی قوتیں ابھر کر آئی ہیں۔ جن کی حقیقت کو تسلیم کئے بغیر معاملہ سلجھایا نہیں جا سکتا۔اور یہ حقائق تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ کراچی کے  سیاسی معاملات میں ان نئے پاوربروکرز کی شراکت۔ اور ایم کیو ایم دراصل یہ شراکت نہیں چاہتی۔ جس کے جواب میں  ان نئے پاور بروکرز نے  ایم کیو ایم کا ہی اسٹائل اختیار کر لیا ہے۔ نتیجے میں سیاسی بالادستی کی جنگ سیاسی سرگرمیوں کے بجائے ہتھیاروں سے لڑی جا رہی ہے۔
کیا سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے ایم کیو ایم کی ڈاؤن سائزنگ چاہتی ہیں؟ جس کو عرف عام میں یہ کہا جا رہا ہے کہ جس جماعت کی جو حقیقی سیاسی حیثیت ہے وہ اسکو ملنی چاہئے۔ ورنہ اس سے پہلے کے دو انتخابات میں بھی اسی طرح کی انتخابی فہرستیں تھیں  اور یہی حلقہ بندی تھی۔ مگر اب یہ سب جماعتیں انتخابی فہرستوں میں درستگی چاہتی ہیں۔ نئی حلقہ بندی چاہتی ہیں۔شاید یہی بات  ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے محسوس کرلی ہے  اور کراچی میں نئی حلقہ بندی پر مزاحمت کرنے کا اشارہ  دے چکے ہیں۔
کراچی میں قیام امن کے لیے جو مختلف حکمت عملیاں بنائی جا رہی ہیں کیا یہ کوششیں بارآورہو سکیں گی؟ کراچی میں فوجی آپریشن کے مطالبات کیے جارہے تھے تو  خود آرمی چیف  جنرل پرویز کیانی کویہ وضاحت کرنی پڑی کہ کراچی میں فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں۔ مگر سپریم کورٹ نے فوج کوایک کردار انتخابی ن فہرستوں کی تصدیق کے نام سے دے دیا ہے۔جس میں فوجی جوانوں کو گھر گھر جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔فوج یہ کردار قبول کرے گی یا ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے معاملات طے پا جائیں گے۔ 
 ایم کیو ایم کو بطور سیاسی پارٹی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ ہو اس وقت تین طرف سے دباؤ میں ہے۔ یہ دباؤ لندن سے لیکرکراچی تک ہے۔ لندن میں ڈاکٹر عمران  کے قتل کیس کے حوالے سے  دباؤ ہے تودوہری شہریت کی وجہ سے حیدر عباس رضوی، رضاہارون  جیسے متحرک ارکان اسمبلی  سے محروم  ہونے کی وجہ سے پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں سیاسی تنہائی کی صورت میں پارٹی مزید دباؤ میں آسکتی ہے۔ ہر بار کمال فن سے صورتحال کو پارٹی اپنے حق میں کر تی رہی ہے کیا وہ اس مرتبہ وہ بے لگام صورتحال اس کے بس میں نظر نہیں آتی۔پارٹی کی قیادت کو عملی طور پرسیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنا پڑے گا اور کراچی کے زمینی حقائق  اور نئے  پاور بروکرز کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو  اسپیس دینا ہوگا جس کی کبھی  وہ خود طلب گارر ہی ہے۔ 
=================================
ایم کیو ایم  رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے کہا ہے کہ پنجاب  میں حصول اقتدار کے لیے ملک کو داؤ پر لگانے کی تیاری کی جارہی ہے۔انہوں نے شکوہ کیا کہ سیاسی و مذہبی جماعتیں کراچی میں اسلحے کی نمائش پر تو بیانات دیتی ہیں مگر پنجاب میں حالیہ ضمنی انتخابات میں ہونے والے اسلحے کی نمائش پر سب خاموش ہیں۔ڈاکٹر فاروق کے مطابق ایم کیا ایم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ نے کراچی  کے حالات اور حلقہ بندیوں کا تو نوٹس لیا مگرپنجاب میں ضمنی انتخابات کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں کا نوٹس نہیں لیا۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ متحدہ (ایم کیو ایم) ایک طرف ہے تو  ملک کی سیایس پارٹیاں دوسری طرف ہیں۔اس سے قبل گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے کراچی کی حلقہ بندیوں اور بدامنی کے حوا لے سے جو فیصلہ دیا تھا تب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے بھی برہمی کا اظہار کیا تھا۔ 
ایم کیو ایم کا سیاسی جماعتوں سے شکوہ اس کی سیاسی تنہائی کی عکاسی کرتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ صورتحال کوئی ایک روز میں پیدا نہیں ہوئی ہے۔ اس پر ایم کیو ایم کو سوچنا چاہئے۔کراچی کی نمائندگی کی دعویدار یہ جماعت  جنرل مشرف کے دور سے لیکر آج تک حکومت میں رہی ہے۔ اس جماعت کا تینوں سطحوں یعنی وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومتوں میں بھرپور شرکت رہی ہے۔ خاص کر صوبائی اور ضلعی سطح پر فیصلے  اسی کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہوتے رہے ہیں۔اس جماعت کو  حکومتی معاملات میں  یہ حیثیت صوبے شہری علاقوں میں دہشتگردی اور بدامنی کی بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد دی گئی۔ اس سیاسی شرکت اور مفاہمت کے پیچھے  یہ مقصد کر فرما تھا کہ شہری علاقوں کی دعویدار پارٹی کو مین اسٹریم میں شامل کر لیا جائے۔ 

ملک کی تمام سیاسی جماعتیں کراچی میں امن امان کے لیے ایم کیو ایم کو ذمہ دار ٹہرا رہی ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات، بھتہ خوری، ٹارگیٹ کلنگز انتخابی فہرستوں میں درستگی چاہتی ہیں۔ نئی حلقہ بندی چاہتی ہیں۔ طرح کا اظہار پارٹی کے سربراہ الطاف حسین  کے سپریم کورٹ کے
کراچی  ملک کا معاشی دارلخلافہ ہے تو اس کو اسی طرح رہنا چاہئے۔ صنعت اور کاروبار امن اور آزادی چاہتا ہے۔
 فوج  بھی تنگ ہے۔ عدلیہ بھی کچھ کرنا چاہتی ہے۔
ایم کیو ایم ورکرز کنوینشن  بلا کر کارکنوں سے  براہ راست یا بلواسطہ  رائے لیتی ہے۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ ایک رائے شرکت نہ کرنے والوں کے پاس بھی ہوتی ہے۔ اور اس طرح کے بحران  یا پارٹی کی حیثیت  خراب ہونے کی صورت میں خاصی اہم ہو جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو سیاسی زبان میں رینک اینڈ فائیل کہا جاتا ہے جب کہ  ایک حصہ ایسا بھی ہوتا ہے جو  ووٹرز کہلاتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ یہ دونوں اتنی آسانی سے تبدیل بھی نہیں ہوتے مگر  ان  کے ذہن میں سوالات ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔

انتخابات کودرپیش خطرات - Dec 6, 2012

Thu, Dec 6, 2012, 11:02 AM
 انتخابات کودرپیش خطرات
    میرے دل میرے مسافر۔سہیل سانگی
 ملک میں منتخب حکومت اپنی آئینی مدت پورے کرنے جا رہی ہے۔ جس کو سیاسی تاریخ میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔اس کے بعد عام انتخابات  ہونے ہیں جن کی بھی تیاریاں نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ سیاسی جماعتوں نے بھی شروع کردی ہیں۔ 
سیاسی جماعتیں ایک دوسر کے ووٹ بینک ہر اثرانداز ہونے کے طریقے اختیار کر رہی ہیں۔کون کس کا اتحادی بن سکتا ہے اور کس سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ممکن ہے؟ اس کی راہیں تلاش کی جارہی ہیں۔ 

نواز شریف نے تو بہت پہلے اس پر کام شروع کردیا تھا اور سندھ میں قوم پرستوں سے اتحاد بنا لیا تھا۔حال ہی میں  پیر پاگارا سے مولانا فضل الرحمان  اور شیخ رشید نے ملاقاتیں کی ہیں۔بعض رہنما  حکمران جماعت پی پی کی  اتحادی ایم کیو ایم سے بھی رابطے میں ہیں۔

موجودہ حکومت کی آئینی مدت  مارچ کے دوسرے ہفتے میں ختم  ہو رہی ہے اور حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ سال مئی میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔یہ انتخابات نگراں سیٹ اپ کے تحت ہونے ہیں۔ لہٰذا آئندہ دو ہفتے نگراں سیٹ اپ پر ہی سیاست ہوگی۔تاہم مختلف جماعتوں کی مرکزی قیادت  کے پاس ابھی بھی انتخابات سی کے ساتھ ساتھ نگران وزیر اعظم  اور سیٹ اپ کی بھی باتیں ہورہی ہیں۔  مبصرین یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا انتخابات کے لیے نگراں سیٹ اپ کویں ضروری ہے؟ دنیا میں کہیں بھی اس طرح کا رواج نہیں ہے۔ 

امریکہ ہو یا برطانیہ یا کوئی اور ملک وہاں ایک حکومت اپنی مدت پوری کرتی ہے تو دوسری منتخب حکومت اسی سے آکر چارج لیتی ہے۔ جمہوری ممالک میں ایسا کہیں بھی انتظام نہیں کیا جاتا۔ موجودہ حکومت عوام کا مینڈیٹ لیکر آئی ہے اور اس کے منڈیٹ میں ہر جمہوری حکومت کی طرح انتخابات کرانا بھی شامل ہے۔صرف پاکستان واحدملک ہے جہاں انتخابات کے لیے نگراں سیٹ اپ کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور اس کے ساتھ عدلیہ کو بھی بیچ میں لایا گیا ہے جس نے  پورا طریقہ کار بنا دیا ہے کہ نگراں سیٹ کس طرح کا ہوگا اور اس کا تقرر کس طرح سے کیا جائے گا۔ 

انتخابات کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ ملک میں بعض واقعات اور تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں۔صدر آصف علی زرداری  نے عام انتخابات کا عندیہ دیا ہے اور اپنی پارٹی کو اس کی تیاری کے یے ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ دوسری جانب فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر پاگارا سے شیخ رشید کی  ملاقات ہوئی ہے۔ شیخ رشید جس طرح کی باتیں کرتے رہے ہیں اور جو سیاست کرتے رہے ہیں  وہ کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ  پیر پگارا اور ایم کیا ایم کو مقتدرہ حلقوں کا پیغام لے کر آئے تھے۔شیخ صاحب ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے خلاف ہیں۔ اس طرح کی باتیں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی کرتے رہے ہیں۔ مگر شیخ صاحب کا ایجنڈا سیاستدانوں کے ہی خلاف سمجھا جاتا رہا ہے۔

پیر پاگارا  تین ماہ قبل سندھ میں حکمراں اتحاد سے الگ ہوئے ہیں اور سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ ملکر  متنازع بلدیاتی نظام کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں۔ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ سندھ میں  وہ پیپلز پارٹی کا متبادل ہو سکتے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد پگارانے کہا ہے کہ موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں انتخابات ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت  ملک میں امن امان کی صورتحال خراب ہے۔ کوئی بھی شہری محفوظ نہیں۔ ایسے میں کیسے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ پیر پاگارا نے یہ بھی  خدشہ  ظاہر کیا کہ انتخابات نہ ہونے کی صورت میں ملک ایک بہت بڑے بحران کی لپیٹ میں آجائے گا۔
پیر صاحب کی یہ پیش گوئی اس وجہ سے بھی وزن رکھتی ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل جو واقعات رونما ہو رہے ہیں اور جو منظرنامہ بن رہا ہے وہ سب ایسے نہیں جن میں انتخابات  نہیں کرائے جا سکتے۔ ملک میں مردم شماری ہونی تھی تاکہ ملک میں آبادی کی زمینی حقائق کو آبادی کی منتقلی وغیرہ  کے حوالے سے ریکارڈ کیا جا سکے اور اسی کی روشنی میں اسمبلیوں کی نشستوں کی تقسیم اور حلقہ بندیاں مکمل ہو سکیں۔ اس کے بعد مرحلہ  درست اور اطمینان بخش انتخابی فہرستوں کی تیاری ہے۔
 جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ  مردم شماری کے پہلے مرحلے کے طور پر گھرشماری کو بھی نااقص بنایا گیا۔جس پر شیدید اعتراضات ہوئے نتیجے میں گھر شماری روک دی گئی اور مردم شماری بھی منسوخ کرنی پڑی،چونکہ مردم شماری نہیں ہو پائی ہے لہٰذا  ملک میں نئی حلقہ بندیاں بھی معمول کے مطابق نہیں ہو سکیں۔دوسرا مرحلہ ووٹرزکا اندراج ہے۔

 کراچی جہاں پر سیاسی بالادستی کی جنگ ہتھیاروں کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے وہاں تیس لاکھ ووٹر ز جن میں زیادہ تعداد ملک کے بالائی علاقوں سے تھی مستقل پتے پر منتقل کردیئے۔ یہ منتقلی دور رس نتائج کی حامل ہے،اب عدلیہ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ کراچی  کی ووٹر لسٹیں بوگس ہیں ووٹروں کی تصدیق اور تحقیقات کے کیے ہدایت کی ہے کہ فوج گھر گھر جا کر یہ کام کرے۔ایم کیو ایم نے فوج کی گھر گھر جا کر تصدیق کرنے اور نئی حلقہ بندی کی مداخلت کی ہے۔ یہاں تک کہ عدلیہ کا خلاف بہت سخت موقف اختیار کیا ہے۔ کسی بھی جماعت کا عدلیہ کے خلاف اس طرح کا سرعام موقف  پہلا واقعہ ہے۔ 

دوسری جانب دوسری سب جماعتیں ووٹروں کی واپس منتقلی، مشرف دور کی حلقہ بندیوں کے بجائے نمائندہ اور منصفانہ حلقہ بندی کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔عدلیہ کے خلاف ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے ریمارکس  سے پتہ چلتا ہے کہ متحدہ ایسے کسی عمل کی مزاحمت کرے گی۔بعض حلقے  فوج کویہ ذمہ داری دینے پر سیاسی حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان حلقوں کی تشویش ایم کیو ایم کی تشویش سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے  یہ عمل فوج کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
 حکومت کے لیے حلقہ بندی اور کراچی کی انتخابی فہرستیں ہڈی بن گئی ہے جو نہ نکل سکتی اور  نہ نگل سکتی۔ اگر حکومت حلقہ بندیاں کرنے جارہی ہے توایم کیو ایم حکمراں اتحا دے باہر نکل آئے گی۔ اس بات کا اشارہ شیخ رشید نے پیر پاگارا سے ملاقات بعد بھی دیا ہے کہ ایم کیو ایم انتخابات سے پہلے پیپلز پارٹی سے اتحاد ختم کر دے گی۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوسرا معرکہ کراچی میں ہوگا۔ 

عدلیہ کے کراچی کے حوالے سے زیر سماعت  درخواستوں  پرفیصلے دے رہی ہے۔اس  پرایم کیو ایم  مزاحمت  کے موڈ میں نظر آتی ہے۔ کورٹ کے یہ ریمارکس کہ کراچی کی حد تک آپریشن کر کے کراچی میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ یوں فوج اور عدلیہ کا کردار بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ 

 سابق صدر جنرل مشرف کا تازہ بیان  اہم ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کراچی
 میں کچھ عرصے تک مارشل لاگو کر کے امن امان قائم کیا جا سکتا ہے۔اس پر بھی متحدہ کو مایوسی ہوئی ہے۔ کہونکہ ایم کیو ایم کراچی میں ہر طرح کی فوجی مداخلت سے دور ہیں سیاسی جماعتیں  فوج کے ذریعے مجرموں کے خلاف کارروائی کے حق میں ہیں مگر مارشل لا کے حق میں نہیں۔

مختلف حلقے یہ معاملہ بھی اٹھا رہے ہیں کہ پختونخوا اور بلوچستان کے حالات بھی خاصے کراب ہیں یہ حالات عام انتخابات کے حق میں نہیں۔
یہ سب واقعات  ایک ایسی صورتحال پیش کرتے ہیں  جس میں آئندہ انتخابات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ان حالات اور واقعات کے پیش نظر حکومت اور سیاسی جماعتوں کو  اپنابھرپور سیاسی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اور ایک دوسرے کو اعتماد میں لے کر انتخابات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔تاکہ انتخابات وقت پر اور منصفانہ ہو سکیں۔ 
بعض فریقین  خاص طور پر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی، اے این پی اور ایم کیو ایم کا خاص طور پر اس ضمن میں کلیدی کردار بنتا ہے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جن کو آج بھی اسمبلیوں نمائندگی حاصل ہے اورانتخابات کی صورت میں انہی  جماعتوں کی دوبارہ اسمبلیوں میں نمائندگی آنی ہے۔ ان جماعتوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر انتخابات سے ہٹ کر کوئی انتظام ہوتا ہے تو ان جماعتوں کے بجائے کچھ اور سیاسی و غیر سیاسی  حلقے سامنے آئیں گے۔

کالا باغ ڈیم کورٹ میں - Dec 1, 2012

Sat, Dec 1, 2012, 9:26 AM
کالا باغ ڈیم کورٹ میں 
کالم ۔۔۔سہیل سانگی
 کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق لاہور ہائی کورٹ  نے چونکا دینے والا فیصلہ دیا ہے۔عدالت نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک اس متنازع آبی منصوبے  کے بارے میں پٹیشن کی سماعت کی۔ جس منصوبے کو صوبوں کی اکثریت نے کئی بارمسترد کیا  تھا بڑے صوبے کی عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ یہ بڑا صوبہ اس منصوبے کا حامی رہا ہے اوت وقت بوقت  اس کی وکالت کرتا رہا ہے۔ کورٹ کے فیصلے کے فورا بعد مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور وزیراعلیٰ  پنجاب شہباز شریف نے  عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور مطالبہ کیا کہ ڈیم کی تعمیر شروع کی جائے۔ مسلم لیگ (ن) خود کو پنجاب کی نمائندہ پارٹی سمجھتی ہے اور فی الحال اس کے پاس پنجاب  میں اسمبلی کی زیادہ نشستیں حاصل ہیں۔لہٰذا پنجاب کا موقف سامنے آگیا ہے۔ 
 یہ منصوبہ سالہا سال سے التوا میں ہے۔ اور کہ اس کے خلاف تقریبا روزانہ احتجاج ہوتا رہا ہے۔چونکہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے۔ لہٰذا اس پر لوگ رائے زنی کرتے رہیں گے۔ عدالت کو ایسے معاملے سے احتراز کرنا چاہئے تھا۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اب اس عدالتی فیصلے کے بارے میں رائے زنی ہوگی لہٰذا عدلیہ کو دیہ اختلافی نقط نظر اور تنقید سننی پڑے گی۔
 سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا  تازہ موقف بھی پنجاب کے موقف کے برعکس ہے۔ ان صوبوں کے نمائندوں نے  عدالت کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور متنازع ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کی ہے۔سندھ کے قائم مقام گورنر اور اسپیکر سندھ اسمبلی نثار احمد کھڑو اس ہ کہ  فیصلے کو آمریت کی راہ ہموار کرنے اور ملکی وحدت پر وار کے متراسمجھتے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان  کا کہنا ہے کہ تین صوبوں کی اسمبلیاں اس منصوبے کو مسترد کر چکی ہیں۔ کیا ڈیم قومی وحدت سے زیادہ اہم نہیں؟ بلوچستان کے وزیر آبپاشی اسلم بزنجو کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اگر کشیدگی بڑھی تو ذمہ دار لاہور ہائی کورٹ ہوگی۔  اے این پی کا موقف ہے کہ کالاباغ ڈیم سیاسی معاملہ ہے اور عدالتیں سیاسی معاملات نہ چھیڑیں۔ لاہور ہائی کورٹ سے تین صوبوں کے مسترد کردہ ڈیم کی تعمیر کا حکم صوبوں کے درمیان فاصلے اور بڑھائے گا۔
آئین کی اٹھارویں ترمیم کہاں گئی جس کی پاسداری پنجاب کی ہائی کورٹ نہ کر سکی کہ دوسرے صوبوں کے بارے میں فیصلہ سنادیا۔اب اگر باقی تین صوبوں کی عدالتیں بھی اس ڈیم کے بارے میں فیصلہ دے دیں تو کیا صورتحال بنے گی؟یعنی ہائی کورٹیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ جائیں گی۔ یہ اس لیے بھی ممکن ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے  باقی تینوں صوبوں کا موقف سنا ہی نہیں۔
 سندھ دریائے سندھ  پرواقع آخری صوبہ ہے۔ لہٰذا اس  ڈیم کی تعمیر کے سب سے زیادہ منفی اثرات بھی اسی صوبے پر مرتب ہونگے۔ مگر ایسا فیصلہ دیتے وقت سندھ کو سنا ہی نہیں گیا جو فطری انصاف کے خلاف ہے۔ سندھ کے آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ فیصلہ دیتے وقت ایسا محسوس کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی طرح یہ ڈیم تعمیر کی جائے۔
 1991کے آبی معاہدے کے دو اہم کردار  اس وقت کے سیکریٹری آبپاشی ادریس راجپوت اور وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری امتیاز شیخ کا کہنا ہے کہ پانی کے معاہدے میں کالا باغ ڈیم کا کوئی براہ راست یا بلواسطہ طور پر کئی ذکرنہیں تھا۔  
 لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ میں یہ موقف اختیار کیا کہ 1991ع اور 1998ع میں مشترکہ مفادات کی کونسل کالاباغ ڈیم کی منظوری دی تھی۔ ملک میں موجود پانی کے تنازع سے واقف ماہرین کو تعجب ہوا کہ فیصلے کی  بنیاد جن دو اجلاسوں   کے فیصلوں پر کیا گیا ہے وہ فیصلے در حقیقت بہت مختلف ہیں۔اگر واقعی  1991  اور 1998 میں مشترکہ مفادات کی کونسل میں تجویز پیش کی گئی تھی اور اس کی منظوری بھی دی گئی تھی تو پھر ان اجلاسوں کے منٹس عدالت میں کیوں پیش نہیں کئے؟  ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ 1991 میں پانی کے معاہدے کے بعد مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ جس کی صدارت اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے کی تھی۔ اس اجلاس میں 10 ڈیلیز کے معاملے پر پنجاب نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ٹین ڈیلیز کو نئے ذخائر کیساتھ نتھی کیا جائے۔سندھ کے نمائندوں کا اس اجلاس میں یہ موقف رہا  جو منٹس کا حصہ ہے۔ وہ کچھ اس طرح سے تھا: ”حکومت سندھ سمجھتی ہے کہ سسٹم وائیز بنیادوں پر 10 ڈیلیز تحت اوسط پانی کی فراہمی کے ا عداد و شمار کا اندرونی حصہ ہیں۔ یہ مناسب نہیں ہوگا کہ دیگر اشوز مثلا مستقبل کے ذخائر وغیرہ کو معاہدے کی اس شق کے ساتھ مشروط کیا جائے۔ اس ضمن میں شفافیت کو برقرار رکھا جائے۔ سندھ اور پنجاب کا موقف سننے کے بعد  مشترکہ مفادت کی کونسل نے پنجاب کا موقف مسترد کردیاتھا۔ اور فیصلہ دیا تھا کہ”مشترکہ مفادات کی کونسل 10 ڈیلیز  کی منظوری دیتی ہے مگر اس میں سے سیلاب کے پانی اور مستقبل کے ذخائر کو خارج کردیا۔ان چار الفاظ  میں دیئے گئے منٹس کو  یہ معنی پہنائی گئیں کہ کونسل نے کالاباغ ڈیم منصوبے کی منظوری دی ہے۔
 لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے  کہاہے کہ 1998ع میں مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس نے بھی کالاباغ ڈیم کی حمایت کی تھی۔اگر ایسا ہے تو یہ دستاویزات ظاہر کیوں نہیں کئے جاتے؟  چیف جسٹس نے خاص طور پر پٹیشنر کی اس دلیل کا  کا حوالہ دیا ہے کالاباغ ڈیم کی تعمیر  کے حوالے سے آئین کی شق نمبر 14 اور 9  کومد نظر رکھا جائے۔ آئین کی شق  نمبر9  میں کہا گیا ہے کہ”کسی شخص کو زندگی یا آزادی  سے محروم نہیں کیا جا سکتا سوائے جبکہ قانون اس کی اجازت دے۔“اس شق میں ایسی کوئی بات نہیں جس سے کالاباغ ڈیم کی تعمیرکی توضیح نکالی جاسکے۔
آئین کی شق نمبر 14 میں کہا گیا ہے کہ”کسی بھی شخص کے وقار اور قانون  مطابق گھر کے پردے کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی۔ اور یہ کہ گواہی لینے کے لیے کسی بھی شخص پر تشدد نہیں کیا جا سکتا۔“ قانون کی یہ شقیں پڑھنے کے بعد ہر ذی شعور انسان  حیران ہوگا کہ ان شقوں کا  کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے کیا تعلق؟ 
اس ے برعکس آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کی شق 155 کے تحت  خاص  طور پر اس کے ذیلی دفعہ 6  کے تحت عدالتیں پانی سے متعلق معاملات کی سماعت نہیں کر سکتیں۔دفعہ میں واضح ہے کہ”کسی ایسے معاملے کے بارے میں جو کونسل کے سامنے زیر بحث ہویا رہا ہو، معاملے کے کسی فرقی کی تحریک پر، یا کسی ایسے معاملے کے باے میں جو اس شق کے تحت کونسل کے سامنے شکایت کا مناسب موضوع  فی الواقع ہو، یا رہا ہو یا  ہو سکتا ہو یاہونا چاہئے، کسی بھی شخص کی تحریک پر کسی عدالت کے سامنے کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔“ آئین کی اس شق کے تحت لاہور ہائی کورٹ کالاباغ سے متعلق مقدمہ کی سماعت کی مجاز ہی نہیں۔لیکن اس کے باوجودعدالت نے مقدمہ سنا اور ڈیم کے حق میں بھی فیصلہ دیا۔
 سندھ اور پختونخواہ تین تین مرتبہ اور بلوچستان اسمبلی دو مرتبہ کالا باغ ڈیم کے خلاف قردادیں منظور کیں۔ دو مرتبہ نواز شریف حکومت میں آئے اور  بعد میں جنرل مشرف بھی  بارہ سال تک حکومت کرتے رہے مگر وہ کالاباغ ڈیم نہ بنا سکے۔یہ منصوبہ اب سیاسی بن چکا ہے۔ جس کی تعمیر کسی بھی طور پر نظر نہیں آتی تاہم مختلف سیاسی جماعتیں اور حلقے اس کے ذریعے پوائنٹ اسکور رکر سکتے ہیں۔اس فیصلے سے پنجاب میں پیپلز پارٹی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم  لاہور ہائی کورٹ نے سندھ میں ایک لحاظ سے پیپلز پارٹی کی ضمانت کرادی ہے، کیونکہ اس صوبے میں پیپلز پارٹی کو بلدیاتی نظام کے حوالے سے سخت مخالفت کا سامنا تھا۔اور وہ مخا لفین اور قوم پرستوں کی توبوں کی زد میں تھی۔
کیا اس معاملے کو پنجاب کی ہائی کورٹ کو اٹھانا چاہئے تھا اور ایک ایسا فیصلہ دے دینا چاہئے تھا جس سے دوسرے صوبے بھی متاثر ہوں۔ اس فیصلے  کے بارے میں یہ بھی کہا جائے گا کہ وفاقی حکومت نے کوئی مددل کیس نہیں بنایا۔ بہرحال ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاق اپیل میں جائے۔