Showing posts with label PPP. Show all posts
Showing posts with label PPP. Show all posts

Tuesday, 10 March 2020

اور جب پی پی اپوزیشن میں ہے - Jun 13, 2013

Thu, Jun 13, 2013 at 10:58 AM
پی پی بطور اپوزیشن  اور سندھ
اور جب پی پی اپوزیشن میں ہے
میرے دل میرے مسافر     سہیل سانگی  
پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت  میں عدم موجودگی نے سندھ  کے لیے سہولت پیدا کردی ہے کہ پنجاب اور وفاق سے متعلق  متنازع معاملات زیادہ شدومد سے اٹھائے۔یہ صورتحال پہلی مرتبہ بنی ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبے میں تو حکومت ہے مگر وفاق میں نہیں۔ اور نوز لیگ کو بھی اس طرح کی صورتحال کا پہلی مرتبہ سامنا ہے۔ ورنہ ماضی میں جب نواز لیگ نے وفاق میں حکومت  بنائی تھی تو سندھ میں بھی توڑ پھوڑ کرکے اپنی پسند کی حکومت بنا لی تھی۔ 
 وفاق میں اپنی حکومت کی وجہ سے پیپلز پارٹی سندھ کے معاملات پر خاصی مصلحت پسندی اور مفاہمت کا مظاہرہ کرتی رہی، کیونکہ اس کو بہرحال ملک بھر میں حکومتی معاملات چلانے تھے۔ اب تبدیل شدہ صورتحال میں پارٹی نے نئی حکمت عملی بنائی ہے۔ سندھ اسمبلی کا افتتاحی اجلاس نئی حکمت عملی کا ماحول بنانے کی گواہی دیتا ہے۔ 
سندھ اسمبلی کے افتتاحی اجلاس ہوا تو تین ماہ قبل والی حکومت اسی ایوان میں موجود تھی۔ اکثر ممبران اور وزراء بھی وہی تھے۔ اجلاس میں سندھ کے وسائل مثلا بجلی، گیس اور پانی سے متعلق بحث کی گئی۔اس حوالے سے سندھ کو ہمیشہ شکایت رہی ہے کہ اس کو جائز حصہ نہیں ملتا۔چشمہ جہلم اور تونسہ لنک کینال جب سے تعمیر ہوئے ہیں متنازع رہے ہیں۔ پنجاب کے یہ دونوں کینالوں میں صرف سیلاب کے دنوں میں پانی چھوڑنا ہے اور وہ بھی سندھ کی منظوری سے مشروط ہے۔ عملا اس کے برعکس ہوتا رہا ہے۔ چاہے پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا جنرل ضیا کی اور پرویز مشرف کی یا نواز شریف کی یہ دونوں کینال معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چلتے رہے ہیں۔ ان کینالوں کو سیلاب کے دس روز کے دوران پانی چھوڑنے کی بات کتابوں میں موجود ہے۔ مگر 1971ع میں چشمہ جہلم لنک کینال تعمیر ہونے کے بعد کبھی بھی ایسا نہیں ہواہے۔ 2010ع میں پنجاب نے یہ متنازع کینال کھولا تو اسوقت بھی وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ تھے جنہوں نے اس عمل کو افسوسناک قرار دیا تھا۔ پنجاب کے سینئر وزیر راجا ریاض نے فرمایاتھا کہ فی الوقت پنجاب کو پانی کی ضرورت ہے۔ سندھ کو بعد میں اتنا پانی دے کر حساب برابر کیا جائے گا۔ 40کلومیٹر لمبے اس کینال میں ایک سیکنڈ میں 21700کیوسک پانی اٹھانے کی گنجائش ہے۔ 
افتتاحی اجلاس میں ایوان نے قرارداد منظور کر کے چشمہ جہلم لنک کینال سمیت سیلابی کینالوں میں پانی چھوڑنے تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ایوان کو بتایا گیا کہ سندھ میں پانی موجود نہیں ہے۔ کاشتکاروں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت نے ارسا کے پاس احتجاج ریکارڈ کرایا گیاہے۔
ایوان میں موجود مرکزی حکومت کے اتحادیوں سے اپیل کی گئی کہ سندھ میں پانی کی قلت ہے لہٰذاوہ لنک کینال بند کرانے میں مدد دیں۔ 
ایوان میں موجود فنکشنل لیگ کے ممبران کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور حکومت پیپلز پارٹی کا تھا۔ تب یہ کینال بند کیوں نہیں کرایا گیا؟جبکہ نواز لیگ کے اسمبلی ممبر حاجی شفیع محمد جاموٹ نے بھی  ممبران کے اصرار پر قرارداد کی حمایت کی۔
سندھ میں پانی کی قلت  ہے جس کے خلاف مختلف علاقوں میں کاشتکار مظاہرے اور احتجاج کر رہے ہیں۔ اس صورتحال پر قوم پرست کیوں خاموش ہیں۔وہ ابھی تک انتخابات  کے زخم چاٹ رہے ہیں۔
ملک میں سب سے زیادہ سندھ میں موجود توانائی کے وسائل یعنی گیس، تیل اور کوئلہ استعمال ہورہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 
 سندھ 70فیصد گیس فراہم کرتا ہے مگر اسکو 22 فیصد ملتا ہے۔ایوان میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے یہ معاملہ بھی اٹھایا۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ صوبے قدرتی وسائل کامعاملہ اسمبلی میں اٹھایاگیا ہے۔اس سے پہلے پانی سے متعلق بحث اور قراردادیں مظور کی جاتی رہی ہیں۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعدگیس کی پیداوار، اس کا استعمال  متعلقہ صوبے کے استعمال کے بعد دوسرے صوبوں کو دینے کی بات کی گئی ہے۔ بجلی جو اس سے پہلے کنکتنٹ لسٹ میں شامل تھی اس کو فیڈرل لسٹ نمبر 2میں رکھا گیا ہے۔ یعنی اس سے متعلق تمام فیصلے وفاقی کابینہ کے بجائے مشترکہ مفادات کی کونسل کرے گی۔ 
ایوان نے کراچی کو بجلی کی رسد چھ سو میگاواٹ کم رنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اور سنیٹ کی کمیٹی کے اس فیصلے کوقانون اور آئین کے منافی قرار دیا گیا۔  
پانی کی منصفانہ تقسیم اور اور قدرتی وسائل پرحق ملکیت کا معاملہ سندھ  میں مقبول مطالبات رہے ہیں۔سندھ کے قوم پرست اور دیگر سیاسی حلقے وقت بوقت یہ اشوز اٹھاتے رہے ہیں۔ خود وفاق کی سیاست کرنے والی جماعتیں بشمول نواز لیگ، جے یو آئی، جماعت اسلامی بھی ان مطالبات کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ اب یہ سب جماعتیں خاموش ہیں۔اور پیپلز پارٹی یہ مطالبات اٹھارہی ہے۔ اس کا سیاسی فائدہ پیپلز پارٹی اٹھارہی ہے۔ 
وفاقی حکومت میں سندھ کی کم نمائندگی  اور ترقیاتی منصوبوں میں سندھ کو نظرانداز کرنے کی بھی شکایات آنے لگی ہیں۔ وہ حلقے جو پیپلز پارٹی کی مخالفت کر رہے تھے، وہ یا تو مصلتحتا خاموش ہیں یا دبے لفظوں میں اپنی غلطی کو تسلیم کر رہے ہیں۔سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سید جلال محمود شاہ جنہوں نے نواز لیگ سے باقاعدہ تحریری معاہدہ کیا تھا وہ  اب نواز لیگ پر تنقید کر رہے ہیں۔
 یہ صحیح ہے کہ پیپلز پارٹی کا یہ موقف اس کی سندھ میں ساکھ بہتر بنانے میں مدد دے گا، لیکن یہ سب سیاسی معاملہ ہے۔ اصل معاملہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور گورننس کو عوام کی خواہشات کے مطابق بنانا ہے۔ اس پر صوبائی حکومت کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 
جس طرح کا موقف سندھ اسمبلی کے ایوان میں کیا گیا ہے یہ ایک زمانے سے سندھ کا مطالبہ رہا ہے۔ قررداد منظور کرنے کے بعدلوگوں میں پیپلز پارٹی کے لیے جگہ پیدا ہورہی ہے۔یوں سندھ میں سیاسی ماحولتبدیل ہورہا ہے۔ 
 اس موقعہ پر یہ بھی سوال اٹھایاجارہا ہے کہ سندھ کے نمانئدوں کا یہ موقف موسمی تو نہیں؟ نقادوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت گزشتہ پانچ سال کے دوران یہ حقوق حاصل نہیں کرسکی تھی۔کیا اب وہ واقعی سنجیدہ ہے؟اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ سندھ کے ان مطالبات پر جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ مشترکہ مفادات کی کونسل اور دیگر وفاقی فورموں میں پیش کئے جائیں۔ 

پیپلز پارٹی کی ازسرنو تنظیم کا سوال - Jun 10, 2013

Mon, Jun 10, 2013 at 11:23 AM
پیپلز پارٹی کی ازسرنو تنظیم کا سوال
سہیل سانگی
بعداز خرابی بسیار پیپلز پارٹی نے پارٹی  کو سرگرم اور فعال  کرنے کے لیے از سرنو تنظیم سازی کا اعلان کیا ہے۔ اچھا ہوتا  اگر یہ اعلان پارٹی کے چیئرمن بلاول بھٹو زرادری کرتے۔ مگر یہ اعلان رضا ربانی کی زبانی کرایا گیاہے۔وہ پارٹی کے سنیئر رہنما ہیں۔ ان کی ساکھ بطور اصول پرست اور پارٹی کے وفادار کے طور پر ہے۔ اچھا ہوا کہ پارٹی نے رضا ربانی کو اس مقصد کے لیے چنا اگر کوئی اور پارٹی رہنما کرتا تو شایداتنا سنجیدگی سے نہیں لیاجاتاور اسکو محض ایک سیاسی بیان ہی سمجھاجاتا۔ 
 نئی حکمت عملی میں سندھ حکومت مثالی اور رول ماڈل حکومت،  پارٹی کو نظریاتی بنیادوں پر استوارکرنا، انقلابی جوہر کو اجاگر کرنا،  وارڈ سطح پر پارٹی کی تنظیم سازی کرنا، کرپشن کامکمل خاتمہ، گڈ گورننس،  ٹریڈ یونین، نوجوانوں اور ہم خیال تنظیموں سے رابطے وغیرہ شامل ہیں۔ ایک نقطہ یہ بھی شامل ہے کہ  پارٹی کے ناراض رہنماؤں اور کارکنوں کو منایا جائے۔ سات ترجیحات کے کو بنیاد بنا کر پارٹی کا کھویا ہوا وقاربحال کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ 
اگرچہ رضا ربانی نے کھلے الفاظ میں تسلیم نہیں کیا کہ ماضی قریب میں پارٹی کی پالیسی ناکام رہی۔ تاہم جو نکات اٹھائے گئے ہیں ان سے  ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی ان شعبوں اور پہلوؤں پر توجہ نہیں دے سکی۔پیپلز پارٹی کو یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑیگی کہ سندھ میں عوام نے اس کوووٹ کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ بحالت مجبوری دیا۔کوئی متبادل موجود نہیں تھا۔ 
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پیپلز پارٹی اپنا نیا پروفائل تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے؟ پارٹی کی قیادت کو از سرنو تنظیم سازی سے پہلے تھوڑا سا ماضی کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ نئی تنظیم سازی بہتر طور پر ہوسکے۔ اور نئے زمینی حقائق کو بھی دیکھنا  اور پرکھنا ہوگا۔
 پیپلز پارٹی  کے مختلف  حالات میں مختلف روپ ہوتے ہیں۔ جب اپوزیشن ایک روپ ہوتا ہے، انتخابات میں جاتی ہے تو دوسرا اور حکومت میں آتی ہے تو تیسرا روپ سامنے آتا ہے۔ 

ماضی قریب کی باتیں: 
حالیہ انتخابات کی سیاست اور حکومت کے دنوں میں وڈیروں اور بااثر لوگوں کی پارٹی میں شمولیت سے کارکنوں کو نظرانداز کیا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں وڈیرے ہو گئے ہیں۔
رضا ربانی صاحب نیگڈ گورننس  پر خاصا زور دیا ہے۔گڈ گورننس کا نعرہ بڑادلکش ہے۔ اس کا اصل مطلب  یہ ہے کہ حکومت اور حکومتی ادارے چند افراد یا مخصوص گروہوں کی نہیں بلکہ عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری نبھائیں۔حکومت اور شہریوں کے درمیان اضاکارانہ بندھن ہو، مختلف گروہ اور علاقوں کے لوگ حکومتی فیصلوں کو اپنا سمجھ کر ان پر عمل کریں۔سیاسیات  اور ترقیات کے ماہرین گڈ گورننس  کے لیے آٹھ نکات بتاتے ہیں۔ ۱) شراکت، برابری، اور شمولیت، ۲)قانون کی حکمرانی، ۳)اختیارات کی تقسیم، ۴) حکومت کی رٹ، احتساب، شفافیت، سیاست میں پیسے  کے مضمر اثرات کو محدود کرنا۔دیکھا جائے تو  یہ آٹھ نکات ہی جمہوریت کے بنیادی اقدار کی بنیاد بنتے ہیں۔ دراصل گڈ گورننس ایک ایسا مکینزم، پروسیس اور دارے ہیں جن کے ذریعے لوگ اور مختلف گروہ اپنے مفادات کا قانونی طور پر اظہار کرتے ہیں  اور جائز قانونی حقوق حاصل کرتے ہیں۔
گڈ گورننس میں حکومت  کاذمہ دارانہ رویہ ضروری ہیتاکہ  حکومتی ادارے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مساوی طور پر خدمت کریں۔ 
 اداروں اور پروسیس کا موثر ہونا ضروری ہے۔ تاکہ لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے  نتائج دے سکیں۔ 
ریکارڈ  موجود ہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی ایسا کچھ نہیں کر پائی۔سیاسی مصلحت پسندی اور مفاہمت  اپنی جگہ پر مگر عام آدمی کو بھی رلیف نہیں مل سکا۔ تقرریوں، تبادلوں اور ترقیوں میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ اقرباپروری کے رکارڈ توڑدیئے۔ ترقیاتی منصوبوں میں اقربا پروری کی گئی اور مخصوص لوگوں اور گروہوں اور علاقوں کو ہی ترجیح دی گئی۔ لوگ تحفظ کے لیے ترس گئے۔ امن امان کی صورتحال بہتر نہ بن سکی۔ 
رضا ربانی صاحب نے  انقلابی پارٹی اور نظریاتی اساس کی بات کی ہے۔ 70ع  وہ زمانہ تھا جب میر، پیر اور وڈیرے ملامت کی علامت بنے ہوئے تھے۔ روٹی، کپڑا اور مکان مقبول نعرہ تھا۔ کسان، مزدور اور طلبا کے حقوق ترجیح بنے ہوئے تھے۔
؎پیپلز پارٹی کا عوامی رجحان تین عشروں تک ملکی سیاست خاص طور پر سندھ کی سیاست پر چھایا رہا۔ وڈیرے اور روایتی سیاستداں پیپلز پارٹی  کے دروازے قطار بنائے کھڑے رہتے تھے۔ شاید ہی کبھی پیپلز پارٹی نے میر،  پیر یا وڈیرے کے پاس چل کے گئی ہو کہ پارٹی میں آؤ وغیرہ۔پیپلز پارٹی ان وڈیروں سے بڑی تھی۔ اقتدار کے پیاسے پیپلز پارٹی کے پاس جاتے تھے۔ لیکن حالیہ دور میں پیپلز پارٹی ان میروں، پیروں اور وڈیروں کے پاس چل کر جاتی ہے۔وہ بھی ایک بار نہیں بلکہ کئی بار۔گویا پارٹی کوکارکنوں نہیں بلکہ وڈیرے معتبر ٹہرے۔

حالیہ دور میں سیاسی کھلاڑیوں، باثر افراد اور وڈیروں پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ یوں عوام اور پارٹی کارکن غیر اہم ٹہرے۔بااثر اور منتخب ہونے کے قابل افراد ضروری اور اہم ہوگئے۔وڈیروں کے خلاف نعرے دب گئے ہیں۔شاید  جو سیاست اور سیاسی کلچر جو ذوالفقار علی بھٹو نے متعارف کرائی تھی وہ آخری سانسیں لے چکا۔ اس کی جگہ روایتی یا مسلم لیگی سیاست جگہ لے رہی ہے۔یعنی سیاسی حمایت کے لیے وڈیرے، میر اور پیر ضروری ہیں۔پارٹی اس صورتحال کو صرف بیان بازی سے تبدیل نہیں کرسکتی۔ اس کے لیے  جامع حکمت عملی اور کرشماتی قیادت ضروری ہے۔ 

 جنرل ضیانے نیا سیاسی کلچرمتعارف کرایا۔ سیاست میں ذاتی تعلق اور ذاتی مفاد کو نچلی سطح تک متعارف کرایا گیا۔ اس کلچر نے انتخابی سیاست کا رنگ ہی بدل دیا۔ اور اسمبلی ممبر، ووٹر یا کارکن کے بیچ میں موجود سیاسی رشتہ ختم کرکے اس کو ذاتی تعلق یا ذاتی مفاد میں تبدیل کردیا گیا۔ جب ذاتی مفاد اور تعلق ہی اہم ٹھہرے تو پھر ووٹر اورپاور بروکرزکے لیے کئی آپشنز کھل گئے۔ 

ضیا ء کے متعارف کردہ اس نطام کو بے نظیر بھٹو بھی ختم نہ کر سکی بلکہ اسے اپنے دور حکومت میں جاری رکھا۔ترقیاتی  فنڈ، ملازمتیں،بجٹ وغیرہ اسمبلی ممبران کو ذاتی طور پر ملنے لگیں اورنچلی سطح پر ان کی تقسیم بھی ذاتی طور پر ہونے لگی۔ یہ ایک خطرناک  اور غیرسیاسی رجحان  تھا جس  کے  اثرات اب بھرپور انداز سے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس رجحان کو ختم کرنے کے بجائے خود اس کا شکار ہو گئی۔اب پیپلز پارٹی اس پچ پر آگئی جو عوامی نہیں بلکہ سیاسی خاندانوں یا سیاسی کھلاڑیوں کی روایتی پچ تھی۔

 پارٹی کی قیادت اور کارکنوں خواہ  ووٹروں کے درمیان خلاء نظرآتاہے۔ انتخابات کے موقعے پر یہ خلاء کھل کر سامنے آیا۔ماضی  میں ایسا نہیں تھا۔ذوالفقار علی بھٹو ہر ماہ کہیں نہ کہیں جلسہ کرتے تھے یا پارٹی کارکنوں کا ڈویزنل یا صوبائی کنوینشن بلاتے تھے۔ بینظیر بھٹو نے اس روایت کو برقرار رکھا۔جلسے، جلوس، کارکنوں سے رسمی و غیر رسمی ملاقاتیں، ان کو سننا،  ان کو اعتماد میں لینا جاری رکھا۔ بھٹو شملہ معاہدہ  کے مذاکرات اور بنگلہ دیش منظور کرنے کے معاملات کی بھی عوام سے منظوری لیتے ہوئے نظر آتے تھے۔ 

 اب نہ جلسے جلوس ہیں نہ ہی پارٹی قیادت کی کارکنوں سے ملاقاتیں اور ڈویزنل کنوینشن۔ نتیجۃ پارٹی قیادت کارکنوں  کے درمیان رشتہ کمزور ہوا ہے۔ اب  پارٹی کارکن اہم رہے نہیں بلکہ سیاسی کھلاڑی اور پاور بروکرز اہم ہیں۔ جن سے بند کمروں میں ملاقاتیں کرنا اور ان کو خوش رکھنا پی پی ضروری سمجھنے لگی ہے۔ اس  رجحان کے بعد اسمبلی ممبران پر کارکنوں کا چیک بھی ختم ہو گیا۔ اب شکایت کرنے کا دروازہ بھی نظرنہیں آتاہے۔کیا پارٹی نئی حکمت عملی میں یہ نیا بند توڑنے جا رہی ہے؟

نئے حقائق:  
پارٹی کو نئے حقائق سمجھنا ہونگے۔گزشتہ دو دہائیوں میں نئے معاشی اور سیاسی گروہ اور طبقات وجود میں آئے ہیں۔ شہری نیم شہری آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔لوگوں کی ضروریات اور ترجیحات تبدیل ہوئی ہیں۔روزگار کے ذرائع  میں بھی تبدیلی آئی ہے۔پرانا کلاس جس کو بھٹو نے جگایا تھااور  پراناسیاسی کارکن خود بھی تبدیل ہوگیا ہے۔  ایک پورا نوجوانوں کا کلاس لاکھوں کی تعداد میں وجود میں آیا ہے۔ جس کا پرانی سیاسی تحریکوں اور سیاست سے کوئی سروکار نہیں۔ وہ صرف آج میں زندہ رہنا چاہتا ہے۔  
اب روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ شاید اتنی مقبولیت نہیں رکھتا جتنا فوڈ سیکیورٹی کا معاملہ یا یہ کہ کس طرح سے ماحولیات تباہ ہوئی جس سے روزگار کے وسائل متاثر ہوئے۔ پینے کا صاف پانی نہیں۔جب بھی کوئی بیماری پھیلتی ہے تو ایکدم وبائی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مطلب جینے کے وسائل کی زنجیر ٹوٹ چکی ہے۔جمہوریت کی تعریف میں توسیع ہوگئی ہے۔ جس میں انسانی حقوق اور صحت، تعلیم وغیرہ بھی شامل ہوگئے ہیں۔ ان سب کے لیے پرانی لفاظی کی نہیں ایک جامع اور انقلابی پروگرام کی ضرورت ہے۔

پیپلزپارٹی کے منیجرز -Apr 13, 2013

Sat, Apr 13, 2013 at 9:38 AM
پیپلزپارٹی کے منیجرز
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 
انتخابات کے اعلان سے پہلے ہی یہ چرچہ عام تھا کہ انتخابات ملتوی ہو جائیں گے۔ یہ غیر یقینی صورتحال آج تک چل رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے سے ایک بار پھر تجزیہ نگاروں اور سیاسی حلقوں میں چرچہ ہے کہ انتخابات ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے ہیں۔کاغذات نامزدگی کی بے رحمانہ جانچ پڑتال  کے دوران یہ بھی سننے کو ملا کہ ”امیدوار میدان میں ہونگے تو انتخابات ہونگے۔“بہرحال جانچ پڑتال کے دوران چار ہزار امیدواروں کو نااہل قرار دیا گیا۔ جبکہ کہ باقی  میدان میں ہیں جس میں سب بڑے نام بھی شامل ہیں۔گزشتہ روز آرمی چیف جنرل کیانی نے انکشاف کیا کہ بعض عناصر انتخابات کے مخالف ہیں۔آرمی چیف کے اس بیان سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ  بعض عناصر انتخابات کے خلاف سرگرم تھے۔لگتا ہے کہ اب یہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ 
انتخابات کے بارے میں غیریقینی  صورتحال اوراور انتخابی عمل  کے دوران بعض پیچیدگیوں کے باعث کوئی بھی پارٹی انتخابی مہم شروع نہیں کر سکی ہے۔اگرچہ اس کے لیے بڑی پارٹیوں کے بعض اندرونی اور تنظیمی معاملات بھی ہیں۔مگر اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ انتخابات کے نتائج کیا آئیں گے اور یہ بھی کہ طاقتور قوتیں کونسے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ان دونوں سوالات کے جوابات جتنے مبہم  اور غیر یقینی ہیں اتنا ہی انتخابات کا عمل بنتا  ہوادکھائی نہیں دیتا۔اس وقت انتخابات صرف میڈیا میں نظر آتے ہیں یا پھر الیکشن کمیشن کے دفاتر میں۔ووٹر اور کارکنوں تک یہ مہم تاحال پہنچ نہیں پائی ہے۔
پولنگ میں باقی ایک ماہ ہے۔اتنے مختصر مدت میں انتخابی مہم کیسے چلائی جائے گی؟ووٹر تک امیدوار اور سیاسی پارٹیاں کیسے پہنچ پائیں گی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اصل حکمران انتخابی مہم کو بالکل محدود رکھنا چاہ رہے ہیں۔اور اس مہم کو کچھ اس انداز سے رکھنا چاہ رہے ہیں کہ بڑے پیمانے پر عوام کی موبلائزیشن  نہ ہو۔انتخابی مہم میں عوامی مطالبات اور عوامی نعرے بھی نہ گونجیں۔اگر یہ دونوں چیزیں ہوئیں تو سویا ہوا عوام جاگ اٹھے گا۔ اور اس کو کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا  بلکہ وہ  کچھ نہ کچھ لے ہی لے گا۔لہٰذا بہتر ہے کہ اسے سویا ہوا ہی رہنے دیا جائے۔
عجیب بات ہے کہ الیکشن کمیشن سے لیکر سیاسی جماعتوں تک اور تجزیہ نگاروں سے لیکر اہم ریاستی اداروں تک سبھی حالیہ انتخابات کو نہایت ہی اہم قرار دے رہے ہیں۔مگر ان اہم انتخابات میں عوام کی شرکت اور موبلائزیشن  سے بچا جارہا ہے۔کیونکہ  میڈیا کی آگہی کے دور میں یہ باتیں بہت بھاری ہو جاتیں۔
انتخابات کیا نتائج دیں؟ لگتا ہے کہ  اس بارے میں کچھ تبدیل ہونے کا امکان ہے۔اسلام آباد  میں ایک سے زائد رخوں میں سوچ چل رہی ہے۔جس کا عکس نیچے بھی پڑ رہا ہے۔ اقتدار کے آسرے میں گھات لگا کر بیٹھے ہوئے حضرات  خود کو پارٹی کی پابندیوں اور فلور کراسنگ کے قانون سے بچنے کے لیے خود کو آزاد رکھ رہے ہیں۔ گھوٹکی کے سردار علی محمد مہر نے پیپلز پارٹی کے نامزد ہیں مگر انہوں نے فارم میں پارٹی کے نام کا خانہ خالی چھوڑا ہے۔ وہ آزاد امیدوار ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں  انہوں نے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ واپس کردی تھی۔ اس مرتبہ انہوں نے ایسا کرنے کے بجائے فارم میں پارٹی کا نام نہیں لکھا۔ٹھٹہ کے شیرازی اقتدار کی خوشبو سونگھنے کے ماہر ہیں۔ انہوں نے ابھی گزشتہ دنوں پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ مگر دو روز قبل پارٹی چھوڑ دی۔ اور اب وہ بھی آزاد امیدوار ہیں۔لگتا ہے کہ ان بھوتاروں (وڈیروں) کو کسی حکیم نے نسخہ بتادیا ہے کہ کوئی غیر پی پی سیٹ اپ بھی آسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ میں آجکل کم از کام پانچ وزیراعلیٰ گھوم رہے ہیں۔ ان کی مثال بارہویں کھلارٰ کی سی ہے۔ کو یہ آس لگائے بیٹھا رہتا ہے کہ ٹیم کے اصل کھلاڑیوں میں سے کسی کی آنکھ پھوٹے یا سر ٹوٹے تاکہ اسے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقعہ ملے۔ یہ سب وزیر اعلیٰ کے امیدوار غیر پی پی سیٹ اپ کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں۔ شاید ان کی دعاؤں میں اثر نہ ہو۔ 
 پیپلز پارٹی اس بات سے آگاہ تھی۔ لہٰذا اس نے سندھ میں سیاست کا ایسا جال پھیلایا کہ ہر چلنے پھرنے جیسے  یعنی بااثر شخص کو پارٹی میں لے آنے کی کوشش کی، تاکہ اگر کوئی چاہے تو بھی صوبے میں اتنی آسانی سے غیر پی پی سیٹ اپ نہ بن سکے۔حالانکہ کہ یہ سوچ غلط تھی۔یہ ضرور ہوا کہ آج بھی پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ امیدواروں کی درخواستیں ملی ہیں۔ اگر بڑوں کو غیر  پی پی سیٹ اپ لانا ہی ہے تو کسی کو بھی لا کر بٹھایا جاسکتا ہے۔ آخر ضیاء الحق نے جونیجو کو بھی ڈھونڈ نکالا تھا۔ارباب رحیم سے پیپیلز پارٹی کا رابطہ اور سید خورشید شاہ کی ملاقات اسی پس منظر میں ہے۔ سیاسی مارکیٹ میں یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ میڈم فریال تالپور اربابوں کے گاؤں جانے والی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت ارباب سے کسی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے خلاف ہے۔ مگر پارٹی قیادت ان کی مخالفت کو خاطر میں لائے بغیر آگے قدم بڑھا رہی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ پارٹی قیادت نے مہروں اور شیروزیوں کے تجربے سے نہیں سیکھا۔اور وہی تجربہ تھرپارکر میں کرنا چاہتی ہے۔ اس کا نتیجہ وہی نکلنا ہے جو گھوٹکی اور ٹھٹہ میں نکلا۔
آجکل پیپلز پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ وہاں لیڈرشپ کم اور مینجمنٹ زیادہ ہے۔لگتا ہے کہ پارٹی کو لیڈر نہیں بلکہ منیجر چلا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی سیاسی پارٹی ہے۔ اس کو چلانے کے لیے سیاستدان ہی چاہئے۔ جو عوام کو ساتھ لے کر چلے۔ اس کیر ائے کا احترام کرے۔ سیاسی لیڈر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ لوگ اس سے انسپائر ہوں اور اس کے پیچھے چلنے کو تیار ہوں۔ صدر آصف زرادری  صدر کے عہدے اور بلاول زرداری سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ سندھ میں پیپلز اپرٹی کے پاس اور کوئی لیڈر نہیں ہے جو لوگوں کو انسپائر کرے اور لوگ اس کے پیچھے چلیں۔ لوگ منیجروں کی بات اور فیصلے ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ منیجر لوگوں کو ہانک کر تو لے جا سکتے ہیں مگر  اپنے پیچھے رضاکارانہ طور پر نہیں چلا سکتے۔ 
لوگوں کی ناراضگی اک اظہار مختلف اضلاع میں وڈیروں کے گروپوں اور لابیوں کا پیدا ہونا  اور پارٹی کے فیصلوں سے خود کو بالاتر رکھنا ہمارے سامنے ہے۔ جس وڈیٰرے کو ٹکٹ نہیں ملی وہ احتجاج کر رہا ہے۔ اور احتجاج بھی پارٹی یا اس کے کسی فورم میں نہیں بلکہ سڑک پر سرعام کر رہاے ہے۔ اس سے پارٹی کے خلاف ماحول بن رہا ہے اور پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسی نشست ہو جہاں پر پارٹی اپنے نامزد امیدوار کے بارے میں کارکنوں  اور مقامی قیادت کو مطمئن کر سکی ہو،لہٰذا ٹکٹ یافتہ امیدوار پارٹی تنظیم اور کارکنوں سے بالاتر ہیں۔ یہ لوگ پارٹی کی تنظیم یا عوام کے سامنے جوابدہ ہونے کے بجائے منیجروں کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اس پورے قصے میں پارٹی بطور تنظیم گائب ہے۔ یہ سب پارٹی کی تظیم سازی نہ کرنے اور مقامی تنظیم کو اہمیت نہ دینے کا نتیجہ ہے۔
موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ پارٹی اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے۔موجودہ حکمت عملی نے پارٹی کو ایسے مقام پر کھڑا کیا ہے کہ سب کچھ اس کے ہاتھ سے ریتی کی طرح بہتا ہوا نظر آرہا ہے۔ آج پارٹی کو بڑا چیلنج ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی منیجروں کے ذریعے سیاست کرنے کے بجائے لیڈرشپ سے یہ کام کرانے کا کام کب کرتی ہے۔ وقت کم ہے اور چیلنج بڑا ہے۔ 

پانچ سال کیسے بیتے - Mar 17, 2013

Sun, Mar 17, 2013 at 11:10 PM
پانچ سال کیسے بیتے
سہیل سانگی
ملک میں  پہلی منتخب حکومت کا آئینی مدت مکمل کرنا بڑا معجزہ ہے۔ وہ کونسے عوامل تھے جن کی وجہ سے حکومت نے آئینی مدت مکمل کی؟ تجزیہ نگار اس کے اسباب جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک حلقے کا کہنا ہے کہعدلیہ کو رول ہے جس کی فعالیت نے جمہوریت کو پٹری سے اترنے نہیں دیا۔ اور آئینی نظام کا تسلسل برقرار رکھا۔دوسرے گروپ کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ عسکری قیادت مہم جو نہیں تھی۔بعض تو یہ کریڈٹ امریکہ کو دے رہے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ ایسی ہی حکومت امریکہ کو سوٹ کر رہی تھی۔ نواز شریف کا خیال ہے کہ وہ اگر اتنا نرم گوشہ نہیں رکھتے تو حکومت کو مدت مکمل کرنا محال ہوجاتا۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ صدر آصف زرداری کی مفاہمت، الطاف، پیر پاگارا، اور اسفندیار کی (سندھ میں)  غیر مشروط حمایت کے باعث حکومت نے پانچ سال پورے کئے۔سب سے صحیح بات شاید آصف علی زرداری نے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”کوئی ہم سے پوچھے کہ پانچ سال کیسے گزارے ہیں“۔
چلو یہ معجزہ بھی ہوگیا۔اور سب کا کارنامہ بھی رہا۔ سوال یہ ہے کہ عوام کو کیا ملا؟  عوام کے خوابوں اور  امیدوں کا کیا ہوا؟
یہاں یہ بات اہم ہے کہ معاملات کا جائزہ لیتے وقت صرف پیپلز پارٹی کی کارکردگی نہیں بلکہ  1997ع سے یہ کارکردگی پرکھی جانی چاہئے۔ جس میں نواز شریف کا آخری دور اور مشرف دور کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ 
 حکومت کی رٹ کئی معاملات میں غیرموثر رہی، جس میں بہت سارے گروہوں کو بہت کچھ کرنے کو ملا۔جس سے بھی حکومت کو دوام ملا۔کیا  پاکستان میں کسی حکومت کو مدت پوری کرنے کے لیے نااہل اورغیر موثر ہونا ضروری ہے؟ یا یہ کہ اپوزیشن کو بھی مراعات دینا  ضروری ہے؟ سندھ کے درویش وتایو فقیر نے کہا تھا کہ کبھی کبھی برائی بھی کام آجاتی ہے۔ یہ بات پیپلز پارٹی  کے پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنے پر صادق آتی ہے۔
سچ یہ ہے پیپلز پارٹی نے کھینچ تان کر مدت پوری کی ہے اس کی تھک ہوئے کھلاڑی کی طرح اس کی دم بھی پھول گئی تھی۔ 
سیاسی معاملات:
 بلوچستان کے بعد سندھ دوسرے نمبر پر تھا جہاں اتنا سیاسی عدم استحکام تھا۔صوبے میں پیپلز پارٹی کی اکثریت تھی وہ بلا شرکت غیرے حکومت بنا سکتی تھی۔ لیکن اس نے مفاہمت کا فارمولا اپنایا اور پہلے ایم کیو ایم کو اور بعد میں سندھ اسمبلی میں موجود تمام پارٹیوں کو حکومت میں شامل کیا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ اس کے باجود  پورا وقت سندھ سیاسی بحران کی لپیٹ میں رہا۔ یہ سیاسی عدم استحکام آخر تک رہا پہلے دن سے آخر تک رہا۔ پیپلز پارٹی اتحادیوں کی منتیں کرتی اور اس کے مطالبات مانتی رہی۔ حکومت کی بڑی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پانچ سال میں کم از کم پانچ مرتبہ ناراض ہوئی۔
 بلدیاتی نظام ایک کھیل بنا رہا۔ پہلے اس نے مشرف کا نظام ختم کرکے79ع کا نظام بحال کیا۔ مگر چند روز کے بعد پھر مشرف کا ضلع حکومتوں کا نظام را رائج کیا، اس کے بعد ایک ایسا نظام لے آئی جس پر سندھ سراپا احتجاج رہی۔ اس نظام کو فروری میں واپس لیا  اور دوبارہ  دو مرتبہ نافذ کیا اور79ع  کا نظام بحال کیا۔ 
سندھ اسمبلی آدھی مدت تک  بغیر اپوزیشن کے رہی۔ اسمبلی میں موجود تمام پارٹیاں حکومت میں رہیں کوئی مخالفت نہیں تھی۔ اگر کچھ عرصہ اپوزیشن رہی بھی تو وہ دوستانہ اپوزیشن تھی۔سب اتحادیوں کو خوش رکھنے کے لیے کسی کو وزیر کسی کو مشیر تو کسی کو خصوصی معاون اور کسی کو کوآرڈینیٹر بنایا گیا۔ کابینہ تو بہت بڑی تھی، مگر پھر بھی آدھی درجن محکمے وزیراعلیٰ کے پاس رہے۔ جس کی وجہ سے انتظامی اور فیصلہ سازی متاثر ہوتی رہی۔صوبہ ڈھائی سال تک بغیر وزیر داخلا کے رہا۔صدر زرداری کے دوست ذوالفقار مرزا  کے استعیفے کے بعد منظور وسان وزیر داخلہ رہے مگر چند ہی ماہ بعد ان سے یہ محکمہ لے لیا گیا۔ اور صوبے کے داخلی معاملات عملا وفاق کے حوالے تھے جن کو وفاقی وزیر داخلا رحمان ملک دیکھتے تھے۔
پانچ سندھی قوم پرست رہنما قتل ہوئے۔ بشیر قریشی کی پراسرا رحالات میں موت واقع ہوئی جبکہ روپلو چالیانی اور اس کے دو ساتھیوں کو کھپرو کے قریب قتل کرکے ان کی لاشوں کو آگ لگادی گئی۔ مظفر بھٹو کی لاش اس کی پراسرار گمشدگی کے بعد ملی۔ایک مرحلے پر سندھ میں پراسرار طور پر گمشدہ افراد کی تعداد 68 تک بھی پہنچی۔ 
گورننس اور اقرباء پروری:
 صوبے میں ذاتی قسم کا طرز حکمرانی رہا۔ایک عرصے تک ذوالفقار مرزا اور سراج درانی کو وزیراعلیٰ کے برابر اختیارات حاصل تھے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات عام تھی کہ سب فیصلے صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کرتی ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ صرف ان فیصلوں پر عمل کرتے تھے۔ بعدصدر کے منہ بولے بھائی اویس ٹپی بھی سامنے آئے۔ 
سندھ سروسز ایکٹ میں ترمیم کی گئی جس کے بعد حکومت کو  یہ صوابدیدی اختیار مل گیا کہ وہ کسی بھی افسر کو ترقی دے سکتی ہے اورکسی بھی محکمہ میں تعینات کر سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ نیم سرکاری اداروں کے افسران کے ریگیولر کیڈر میں ضم کرنے کا بھی حکومت کو اختیار مل گیا۔  سندھ پبلک سروس کمیشن کو بالائے طاق رکھ کر آفیسر گریڈ میں بھرتیوں کا اختیار بھی حکومت نے حاصل کر لیا۔ نتیجے میں وزراء نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی اپنے محکمہ میں بھرتی کر کے انہیں ریگیولر افسر گریڈ میں ضم کرا دیا۔
اب صورتحال یہ ہے پیپلز پارٹی کے ہر  وزیر، ایم این اے، اور ایم پی اے کا بیٹا، بھائی، یا کوئی اور قریبی رشتہ دار کسی اچھے محکمے میں افسر ہے۔
 امن امان کی صورتحال:
خودکش  دھماکے اور دہشتگردی کے واقعات جو مشرف دور میں شروع ہوئے تھے وہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی جاری رہے۔  صوبے میں بدامنی برقرار رہی، بلکہ بڑھی۔اغوا برائے تاوان کی وارداتیں اور ہوتی رہیں۔ جبکہ قبائلی جھگڑے اور جرگے بھی جاری رہے۔
 لسانی و فرقہ وارانہ تشدد اور قتل کے واقعات  ہوتے رہے جس میں بڑی تعداد  لاسنی تشدد کے واقعات کی تھی۔
صوبے میں پہلی بار درگاہوں پر حملے ہوئے۔جن کو حکومت روک نہ سکی۔
کراچی میں ٹارگیٹ کلنگز نہیں رکی۔ یہ لسانی زیادہ تھی اور فرقہ وارنہ کم تھی۔ مختلف حکومتی اعلانات ہوتے رہے۔ وفاقی وزیر داخلا رحمان ملک نے کمیٹیاں بنائیں مگر سب فضول تھا۔ کراچی میں امن امان کی صورتحال پر سپریم کورٹ کو نوٹس لیا پڑا۔
تعلیم اور صحت:
 صوبے میں اسکولوں پر قبضے برقرار رہے۔ ہزاروں اساتذہ گھروں پر بیٹھ کر تنخواہیں لیتے رہے۔ امن وامان کے بعد اس شعبے میں بھی عدالت نے حکومت کے آخری چار ہفتوں  میں کارروائی کی کرنی پڑی۔ بند اسکول کھولنے اور غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے مقامی ججز کو چھاپے مارنے کی ہدایت کی۔سندھ یونیورسٹی  ساتذہ اور ملازمین کے احتجاج کی وجہ سے دو ماہ تک مسلسل بند رہی۔  جبکہ صوبے کی  باقی سرکاری یونیورسٹیوں میں تدریسی عمل تعطل کا شکار رہا۔
حیدرآباد، لاڑکانہ اور میرپورخاص کی ہسپتالیں میں انتظامی افسران کے تبادلے کے تنازعے ہفتوں تک طبی سہولیات دینے میں رکاوٹ بنے رہے۔صوبے میں خسرے کی بیماری کی وجہ سے دو سو سے زائد بچے پلاک ہوئے۔ حکومت اس مرض سے تحفظ اور علاج کے لیے  موثر اقدامات نہ کر سکی۔  
ؑبیچارہ عوام: 
سیلاب آیا۔ کئی حفاظتی بند غیر متوقع طور پر ٹوٹے۔ ہزاروں گاؤں زیر آب آگئے۔ 2010ع میں دریائے سندھ کے بائیں کنارے اور دوسرے سال بائیں کنارے تباہ ہوئے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ کئی علاقوں میں ابھی تک پانی کھڑا ہے۔ حکومت ان متاثرین کی بروقت امداد نہ کرسکی۔لاکھوں لوگ بغیر کسی شیلٹر کے مہینوں کیمپوں میں پڑے رہے۔ پہلے یہ اعلان کیا یا کہ متاثرین کو کراچی اور حیدرآباد میں آباد کیا جائے گا۔ لیکن بعد میں حکومت اس وعدے سے مکر گئی۔ ابھی تک لوگ دربدر ہیں۔
 تھر میں قحط آیا۔ مگر حکومت کوئی مدد نہ کرسکی۔ 
ترقیاتی اسکیمیں:
سندھ حکومت صوبے میں کوئی میگاپروجیکٹ شروع نہ کرسکی۔ چند جوبڑی ترقیاتی اسکیمیں شروع کی گئیں ان میں نابرابری رکھی گئی۔ بڑی یہ اسکیمیں بالائی سندھ تک ہی رہیں جہاں یونیورسٹیاں اور دیگر منصوبے شروع ہوتے رہے۔ 
ذوالفقارآباد اسکیم مخالفت کی وجہ سے شروع نہیں کی جاسکی۔ تھر کول پرپی پی کے وعدے مشرف کے وعدوں کی طرح ہی رہے۔ ڈاکٹر ثمرمبارک کو خطیر رقم فراہم کی گئی لیکن ان کا منصوبہ بھی تھر کول کو استعمال نہ کر سکا۔ 
وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت سے پوچھے بغیر ساحلی علاقے  میں واقع دو جزیرے دو نجی کمپنیوں کو الاٹ کئے گئے۔ بعض ممبران کی نشاندہی کے باجود سندھ اسمبلی  آخری دن بھی اس کے خلاف قرارداد منظور نہ کرسکی۔
ملازمتیں دی گئیں۔جوزیادہ  تر محکمہ تعلیم میں تھیں۔اس کے ساتھ ساتھ ملازمتیں پیسوں پر بیچنے کے الزامات بھی لگتے رہے۔ سرکاری ملازمین مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کرتے رہے۔ اساتذہ، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر سرکاری ملازمین پر لاٹھیاں برسائی گئیِ۔
اقلیتیں:
ہندو لڑکیوں کو  اغوا کر کے مذہب تبدیل کرنے کے بھی واقعات  رپورٹ ہوتے رہے۔جن کو حکومت تحفظ دینے میں ناکام رہی۔نتیجے میں ہندو آبادی کے انخلاء میں اضافہ ہوا۔ 
عوام کو کچھ ملا یا نہ ملا اسمبلی ممبران جاتے جاتے اپنے لیے عمر بھر کا سامان کر گئے۔ عوام کا اسٹیٹس تو وہی رہا۔ ان حضرات نے خود کو ایک قانون بنا کر تاحیات مراعات  یافتہ طبقہ بنا لیا۔
پروین شاکر نے شاید اس موقع کے لیے کہا تھا: 
کل رات ایک گھر میں بڑی روشنی رہی،  
تارا میرے نصیب کا تھا اور کھلا کہیں اور

Monday, 9 March 2020

پی پی کے جلسے کے بعد - Oct 16, 2012

Tue, Oct 16, 2012, 1:56 PM
پی پی کے جلسے کے بعد
 میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
پیپلز پارٹی کا جلسہ خیروخوبی سے ہوگیا۔ پیپلز پارٹی اور قوم پرستوں کے درمیان محاذ آرائی  اور سخت لہجے کی وجہ سے مختلف اندیشوں کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ معاملہ تصادم کی طرف نہ چلا جائے۔ کسی فریق کی معمولی سی غلطی معاملے کو بڑھا نہ دے۔ اس ضمن میں دانشوروں اوردیگر اہل دانش نے دونوں فریقن کو سمجھایا بھی اور خبردار بھی کیا کہ وہ سیاسی مفادات کے لیے آگ سے کھیلنے کی کوشش نہ کریں۔ اگرچہ سندھ بچایو کمیٹی نے صوبے بھر میں اس موقعہ پر یوم سیاہ منانے کی اپیل کی تھی۔ اگرچہ چند ایک مقامات پر  جلسے میں شرکت کے لیے جانے والوں کو سیاہ جھنڈے وغیرہ دکھائے مگر کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
 پیپلز پارٹی نے بڑا جلسہ کیا اور قوم پرستوں نے اسی دن یوم سیاہ منایا۔ معاملہ وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔
بعض مبصرین اس جلسے کو فارمولا جلسہ قرار دے رہے ہیں۔ بلکل اس طرح سے جیسے فارمولا فلمیں بنتی ہیں۔بعض تجزیہ نگار اس پیپلز پارٹی کے اس طاقت کے مظاہرے کو معمول کا جلسہ قرار دیا جا رہا ہے۔ورنہ جتنا بڑا حوالہ نئے بلدیاتی نظام کا تھااس حوالے سے ریفرینڈم کے طور طور پر بہت بڑا جلسہ ہونا چاہئے تھا مزید یہ کہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف گزشتہ دو ہفتوں سے سندھ کا  ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا مخالفت کر رہا ہے اور احتجاج کر رہا ہے۔صوبے میں جس طرح کی صورتحال تھی  اور جس طرح سے سندھ کے لوگ احتجاج کر رہے تھے اس کے مطابق  یہ جلسہ بڑا ہونا چاہئے تھا۔  اس پورے مظہر کو سمجھنتے وقت کچھ چیزیں ذہن میں رکھنی ضروری ہیں۔ پیپلز پارٹی ایک مقبول پارٹی رہی ہے۔ جس کا تنظیمی نیٹ ورک کسی اور پارٹی کے مقابلے میں وسیع بھی ہے اور مضبوط بھی۔ سماج کی دو طاقتور حصے  یعنی حکومتی مشنری اور  وڈیرہ یا بااثر شخصیات فی الحال اس پارٹی کے ساتھ ہیں۔ان دونوں کا اثر بھی ہوتا ہے اور دہشت بھی۔ اور یہ پارٹی اس وقت حکومت میں ہے جو  ذاتی طور پر کسی کوکچھ دے بھی سکتی ہے اور کچھ لے بھی سکتی ہے۔
 یہ بات بھی عام ہے کہ ہر میر پیر وڈیرے کو ٹارگٹ دیا گیا کہ وہ اپنے اپنے علاقے سے اتنی بسیں اواتنے بندے لے آئے گا۔پیپلزپارٹی خود حیدرآباد شہر کی سندھی آبادیوں میں استقبالی کیمپ قائم نہ کر سکی یہاں تک کہ قاسم آباد جیسی خلاصتا سندھ آبادی میں بھی کوئی کیمپ نہیں لگا سکی۔ پیپلز پارٹی تمام تر وڈیروں اور حکومتی مشنری کے استعمال  کے ساتھ ایک عدد جلسہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
جلسے کو پیپلز پارٹی اور اس کی حامی جماعتیں بہت بڑی کامیابی قرار دے رہی ہیں۔ اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اب سب کچھ ”اچھا ہے“۔بلدیاتی نظام کی مخالفت ختم ہوگئی ہے۔بلکہ لگ تو ایسا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے مقبول رائے کے خلاف یہ اقدا م کر کے دراصل اپنا نقصان کیا ہے۔ جس کا اسکو حساب دینا پڑے گا۔ مانے نہ مانے پی پی موجودہ صورتحال  میں اپنے لیے سیاسی خطرہ محسوس کر رہی تھی اور اس مقصد کے لیے یہ جلسہ منعقد کرکے بھرپورطاقت کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس جلسے کے حوالے سے کئی سوالات ابھر رہے ہیں: کیا پی پی اپنی ساکھ مقبولیت بحال کرا لے گی؟ سندھ کا منظرنامہ تبدیل ہو رہا؟ ایک جلسہ کرنے سے تحریک کا اثر زائل ہوگیا؟
جلسے میں  بلدیاتی نظام  کے حق میں قرار داد  مظور ہونے کے بعد یہ نظام متنازع نہیں رہا؟ سندھ کے لوگ اس کو قبول کرلیں گے؟
 کیا پیپلزپارٹی نے کبھی سوچا تھا کہ انہیں اپنے ہی صوبے میں جلسہ کرنے کے لیے اتنے جتن کرنے پڑیں گے؟ اور  جلسے کے شرکاء کو لوگ روکیں گے؟ یا وڈیروں کی خدمات حاصل کرنی پڑیں گی؟  قوم پرست کارکنوں کوگرفتار کرنا پڑے گا؟ کیاایک غیر مشروط مینڈیٹ لینے والی پارٹی کو سمجھنے کے لیے یہ کافی نہیں؟ اگر دیکھا جائے تو اس پوری تحریک اور  اس کے جواب میں منعقدہ جلسے نے  صرف سندھ کے عوام اور قوم پرستوں کے لیے ہی نہیں خود پی پی کے لیے بھی بہت سبق چھوڑے ہیں۔ کہ کس طرح سے ایک مقبول پارٹی کو  جلسے کے لیے  عوام کے بجائے وڈیروں پر انحصار کرنا پڑا؟ یہ وہ نکتہ ہے  جو اس کی  شناخت تھی اور جو پی پی کو دوسری جماعتوں سے ممتاز کرتا تھا۔
جلسہ تو صرف حیدرآباد میں ہوا ہے۔ سندھ بھر میں جو احتجاج چل رہا ہے اس کا کیا ہوگا؟
پیپلز پارٹی کا قوم پرستوں کے خلاف یہ پہلا جلسہ تھا۔ ورنہ اس سے پہلے پارٹی اپنی انتخابی مہم یا عوامی رابطہ مہم کے لیے جلسے منعقد کرتی رہی ہے۔ ماضی میں قوم پرست پیپلز پارٹی کے اتحادی بھی رہے ہیں۔ اینٹی کالاباغ ڈیم مہم میں قوم پرستوں نے بے نظیر بھٹو کی قیادت میں  سندھ اور پنجاب کی سرحد پر کموں شہید کے مقام پر دھرنا دیا تھا۔ اس کے بعد گریٹر تھل کینال کے خلاف بھی قوم پرستوں کے ساتھ پی پی اتحادی رہی اورموجودہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ  اینٹی تھل کینال کمیٹی کے  صدر بھی رہ چکے ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی بعض اشوز پر پی پی قوم پرستوں کے ساتھ کام کرتی رہی ہے۔
 لیکن اس جلسے میں پارٹی کے سندھ سے تعلق رکھنے والے لیڈروں نے قوم پرستوں پر سخت تنقید کی اور انہیں آڑے ہاتھوں لیا کہ اس بڑے جلسے کے بعد اب وہ اپنے گھروں میں بیٹھیں۔ نواز لیگ بھی نشانے پر تھی۔مقررین نے نوز لیگ کے غوث علی شاہ اور مروی میمن کا نام لے کر تنقید کی۔ اور اس تحریک کے پیچھے نواز شریف کا ہاتھ ہونے کا ”انکشاف“ کیا او کر کہا کہ قوم پرستوں کوتخت لاہور سے پیسے مل رہے ہیں۔گویا سندھ  کے وسیع تر حلقے جو احتجاج کر رہے ہیں ان کا اپنا کوئی مطالبہ ہی نہیں۔ اور اس پوری تحریک کی کوئی اپنی حیثیت اور شناخت ہی نہیں۔  ایسا کہہ کے دراصل  سندھ کے لوگوں  کی عام رائے اور جذبات اور امنگوں کو negate کیا گیا۔یہ بات  سیاسی تجزیہ نگار اور خود پیپلز پارٹی بھول جاتی ہے کہ  اس  معاملے میں صرف قوم پرست ہی فریق نہیں ہیں بلکہ سندھ کا عوام براہ راست فریق ہے۔
 جلسے میں نئے بلدیاتی نظام کے حق میں بھی قرارداد منظور کی گئی۔کیا یہ قرارداد منظور کرنے سے  یہ قانون غیر متنازع نہیں رہا؟ بالکل ایسا نہیں ہے۔ سندھ میں جلسہ کے دوسرے روز بھی احتجاج ہوا۔  ویسے بھی اس ”معمول“ کے ایک دن کے  جلسے کوعوام کی راء ے نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی یہ کہ پیپلز پارٹی جیت گئی۔باقی سندھ بھر کے لوگ ہار گئے۔
چاہے پیپلز پارٹی یا  دوسرے حلقے اس جلسے کو کامیاب قرار دیں مگر اس کے باوجود یہ جلسہ بلدیاتی نظام کے لیے راہ ہموار کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔فی الحال  پی پی نے چیزوں کو manage کیا ہے۔ لیکن یہ کوئی  مستقل مظہر نہیں۔ شاید ان لوگوں کے لیے  یہ جلسہ صدمے کی بات ہو جو صورتحال سے سیاسی فائدہ لینا چاہ رہے تھے  اور اس کو انتخابات پر اثرانداز کرنا چاہ رہے تھے۔فرق صرف اتنا ہے کہ پی پی کے رویے کی وجہ سے  بات لمبے بحر میں چلی گئی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہایک مرتبہ پھر وڈیرے اور حکومتی مشنری عوام کے آگے کھڑی ہوگئی ہے۔  شاید وقتی طور پر اسٹبلشمنٹ اور وڈیرے عوام کی رائے کے سامنے بند باندھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی سندھ کے مفادات کے خلاف جو فیصلے ہوئے ان کو اگر عوام فوری طور پر رد نہ کرا سکا تو بھی خاموش ہو کر نہیں بیٹھا اور سالہا سال کی جدوجہد سے  غلط فیصلے واپس کرائے۔ ون یونٹ کے خلاف تحریک اور  ایم آرڈی کی تحریک اس کی دو تازہ مثالیں ہیں۔

پیپلز پارٹی کا نیا پروفائل - Sep 13, 2012

Thu, Sep 13, 2012, 12:50 AM
پیپلز پارٹی کا نیا پروفائل
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
70ع کے انتخابات کی مہم کے ابھی تک چشم دید گواہ موجوددہیں بلکہ اس انتخابی مہم میں حصہ لینے والے کردار بھی ابھی تک حیات کی قید میں ہیں۔ انہیں یہ انتخابی مہم اس کے نعرے، تقاریر، اور دیگر سرگرمیاں یاد ہیں۔ میر، پیر اور وڈٰرے ملامت کی نشانی بنے ہوئے تھے۔  روٹی کپڑا اور مکان مقبول نعرہ تھا۔ کسان، مزدور اور طلبا کے حقوق  تترجیح بنے ہوئے تھے۔اس حوالے سے ادب بھی بہت تخلیق ہوا اور شاعری بھی سامنے آئی۔ عام کہاوتیں، لطیفے، قصے  بھی عوام کی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے ایجاد ہوئے۔ایسا لگ رہا تھا کہ پورے ملک کا عوان نیند سے جاگ اٹھا ہے۔ہر سو عوام، عوام کے حقوق  اور نعروں کا چرچہ تھا۔ اس چرچے میں لوگوں کے جذبات، احساسات، امنگوں کا عکس  مختلف لہجوں اور رنگوں کے ذریعے جھلکتا تھا۔
 جو حلقے واقعے سمجھتے تھے کہ عوام  واقعی اہمیت رکھتا ہے یا یہ سمجھ رہے  تھے اصل مالکان جاگ اٹھے ہیں ان کے ساتھ چلنا اور اس کی بات کرنے کا علاوہ چارہ نہیں، انہوں نے ان نعروں اور پارٹیوں کا ساتھ دیا اور  ان کی طرف ہو گئے۔ یوں سیاست نے رخ تبدیل کیااور سیاسی گروپوں اور لوگوں نے بھی اس کے مطابق اپنا رخ تبدیل کیا۔
 آگے چل کر ملک میں بڑی سیاسی تبدیلیاں آئیں۔اور بالآخرجنرل ضیاء الحق نے بھی آکر میرے عزیز ہم وطنو کہا۔ پھر سیاسی جوڑ توڑ، سختیوں، انتقامی کارروائیوں اور حرفت بازیوں کے باوجود  زمینی صورتحال یہ رہی کہ پیپلز پارٹی اگر کسی کھمبے کو بھی ٹکٹ  دے رہی تھی تو اس کی کامیابی یقینی تھی۔کئی وڈیرے انتخابی جیت کے لیے پی پی سے رجوع کر رہے تھے۔وہ انتخابات میں خرچ کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی کی سیاسی مہم  پر خرچ کر ہے تھے۔کیونکہ پیپلز پارٹی کا ٹکٹ جس کے بھی ہاتھ میں ہوتا تھا  اس کی کامیابی تو یقینی تھی ہی مگر وہ انتخابی اخراجات  سے بھی بچ جاتا تھا۔ کیونکہ عوام ووٹ دینے کے لیے بے چین نظر آرہا تھا۔ یا پارٹی کراکنان اور جیالے انہیں گھروں سے نکال کر پولنگ اسٹیشنوں تک لا رہے تھے۔ یہ بھی ایک دور تھا جو آئندہ دو تین عشروں تک چلا اور ملکی سیاست خاص طور پر سندھ کی سیاست پر چھیا رہا۔ یہ عوامی سیاست کا وہ بہاؤ اور ریلا تھا جس نے 88ع کے انتخابات میں  پیر پگارا، غلام مصطفیٰ جتوئی جیسے  پہاڑوں کو بھی خش خاش کی طرح بہا دیا جبکہ ان کے مقابلے میں معمولی امیدوار تھے۔
 تب الیکشن باز اور روایتی سیاستداں پیپلز پارٹی  کے دروازے پر کھڑے تھے۔ پارٹی ٹکٹ کے لیے لائن لگی ہوئی ہوتی تھی۔ شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ 70ع، 80ع، اور 90ع  کے عشرے میں پیپلز پارٹی نے کبھی کسی ایسے میر،  پیر یا وڈیرے کے پاس چل کے گئی ہو کہ پارٹی میں آؤ یا پارٹی کی حمایت کرو۔پیپلز پارٹی ان وڈیروں سے بڑی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے پیاس کنویں کے پاس جاتا ہے نہ کہ کنواں  پیاسے کے پاس۔ اقتدار کے پیاسے پانی کے کنویں پیپلز پارٹی کے پاس جاتے تھے۔ اور یہ کنواں ان کے پاس نہیں جاتا تھا۔
 اب ایسا نہیں ہو رہا۔ سب کچھ بدل چکا ہے۔ پیپلز پارٹی ان میروں، پیروں اور وڈیروں کے پاس چل کر جاتی ہے۔  اور ایک بار نہیں بلکہ کئی بار اور لگاتار جاتی ہے۔ گھوٹکی کے مہر برادران  سے مسلسل دو سال تک مژاکرات چلتے رہے۔ ایک سال تک ٹھٹہ کے شیرازیوں کے ساتھ بات چیت ہوتی رہی۔ نوشہروفیروز کیے عالمانیوں کے پاس  صدر زرداری کی ہمشیرہ  فریال تالپورچل کر گئیں۔  دادو اور لاڑاکنہ میں موجود ایسی شخصیات  کے پاس بھی پیپلز پارٹی کو جانا پڑا۔سیاسی گادی نشین پیپلز پارٹی میں شامل تو ہوتے رہے ہیں اس مرتبہ خود پی پی ان کو بلا بلا کے شامل کر رہی ہے۔ پارٹی کارکن جو کبھی تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے تھے ان کی پارٹی کو ضرورت نہیں ہے۔ کیا یہ سب کھیل بلا مقابلہ امیدوار جتوانے کے لیے ہو رہا ہے یا اس لیے کہ سندھ میں کوئی اپوزیشن ہی نہ ہو۔
 سندھ کے لوگوں اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے پاس ایک ہی سوال ہے کہ آخر ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟  بظاہر پیپلز پارٹی کے پاس یہ دلیل ہے کہ اگر کوئی ایسا گروپ  پارٹی کے دائرے سے باہر رہ جاتا ہے  تو صوبائی سطح پر پارٹی کے مقابلے میں آجائے گا۔ علی محمد مہر اس کی ایک مثال ہیں  جنہوں نے ۲۰۰۲ کے انتخابات میں پارٹی کی ٹکٹ ٹھکرا کر آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑا اور وزیراعلی سندھ ہوئے۔ یہ دراصل دلیل سے زیادہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو ڈر ہے۔ اتنی بڑی پارٹی کو افراد سے ڈر لگتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔  اگر یہ دلیل بھی ہوتی  تو بھی کم تعجب کی بات نہیں۔ آخر یہ خوف پیپلز پارٹی میں کیوں بیٹھ گیا ہے؟
سوال یہ ہے کہ یہ افراد پارٹی کی مقبولیت اور عوام  میں موجود جڑوں  پر اثرانداز ہو سکتے ہیں؟
 دراصل اس صورتحال پیدا کرنے کے دو عوامل ہیں۔ایک یہ کہ اسٹبلشمنٹ مسلسل  نئے پاور بروکر اور سیاسی کھلاڑی میدان میں لاتی رہی ہے۔ اور ان کو اقتدار و اختیار دے کر  مضبوط کرتی رہی ہے۔ یہ کام جنرل ضیا کے دور سے لیکر مشرف کے دور تک چلتا  رہا ہے۔ ان دونوں آمروں نے سیاسی بروکرز کا ایک نیا طبقہ پیدا کیا جو اب خاصا  صحت مند ہو گیا ہے اور اب وہ پیپلز پارٹی کو آنکھیں بھی دکھا رہا ہے اور  اس مقبول جماعت کو اپنے شرائط پر لا رہا ہے۔
 اس کے ساتھ ساتھ ضیا اور جونیجو دور میں ایک نیا سیاسی کلچر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیاست میں ذاتی تعلق اور ذاتی مفاد کو نچلی سطح تک متعارف کرایا گیا۔ اس کلچر نے انتخابی سیاست کا رنگ ہی بدل دیا۔ اور اسمبلی ممبر، ووٹر یا کارکن  کے بیچ میں موجود سیاسی رشتہ ختم کرکے  اس کو ذاتی تعلق یا ذاتی مفاد میں تبدیل کردیا گیا اس بات کا تفصیلی ذکر میں اس سے پہلے ایک کالم میں کر چکا ہوں۔ اگر ذاتی مفاد اور تعلق ہی اہم ہیں  تو پھر ووٹر اور سیاسی کارکن  کے لیے کئی آپشنز کھل جاتے ہیں۔ اور نئی راہیں نکل آتی ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو نے  اپنے دونوں حکومتوں کے دور میں  اور پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت  نے بھی سیاسی کلچر میں اس رجحان کو جاری رکھا۔ بعض صورتوں تو تو اس مو مزید مضبوط کیا۔ترقیاتی کام، ملازمتیں بجیٹ وغیرہ سب اسمبلی ممبران کو ذاتی طور پر ملنے لگیں اور وہ ان کی تقسیم بھی ذاتی طور پر کرنے لگے۔ یہ ایک خطرناک رجحان  تھا جس نے اب اپنے بھرپور اثرات دھکانے شروع کئے ہیں مطلب یہ کہ پیپلز پارٹی نے اس رجحان کو ختم کرنے یا روکنے کے بجائے  خود اس کا شکار ہو گئی۔اب پیپلز پارٹی اس پچ پر آگئی  جو  عوامی نہیں بلکہ سیاسی خاندانوں یا سیاسی کھلاڑیوں کی روایتی پچ تھی۔
 یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پیپلز پارٹی کجی قیادت  اور کارکنوں خواہ  عوام  (ووٹروں)  کے درمیان  گیپ موجود ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو  حکومت میں رہتے ہوئیہر دو ہفتے بعد کہیں نہ کہیں جلسہ کرتا تھا یا پارٹی کارکنوں کا ڈویزنل یا صوبائی کنوینشن کرتا رہاتے تھے۔ بینظیر بھٹو نے بھی بڑی حد تک اس روایت کو برقرار رکھا۔جلسے، جلوس،  کارکنوں سے رسمی و غیر رسمی ملاقاتیں، ان سے ملنا، ان کو سننا،  ان کو پوچھنا، ان کو اہمیت دینا جاری رکھا۔اندازہ کریں کہ بھٹو جب شملا معاہدہ کرنے انڈیا جا رہے تھے تو انہوں نے دادو، ٹھٹہ اور دیگر مقامات پر جلسوں میں  آکر عوام سے پوچھا کہ  یہ صورتحال ہے۔آپ اگر کہو تو انڈیٰا سے معاہدہ کرکے آؤں۔۔۔
 پارٹی کارکنوں سے رابطہ  اور تعلق  اپنی جگہ پر،  پارٹی کی بلواسطہ یا براہ راست حمایت کرنے والے  دانشوروں کو بھی بھٹو اور بے نظیر بلاتے رہتے تھے ان سے مشاورت کرتے تھے۔ انہیں اہمیت دیتے تھے۔آج ایسی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔
 اب ایسا نہیں ہے۔ سب کچھ بدل گیا ہے۔ نہ جلسے جلوس ہیں نہ ہی پارٹی قیادت کی کارکنوں  سے ملاقاتیں اور ڈویزنل کنوینشن  وغیرہ ہیں۔  نتیجۃ  پارٹی قیادات کا کرکنوں سے رشتہ کمزور ہوا ہے۔ اضلاع میں  خواہ انتخابی حلقوں میں  کارکن اہم نہیں  بلکہ  سیاسی کھلاڑی اہم ہیں۔ جن کو خوش کرنا پی پی ضروری سمجھنے لگی ہے اسی کے ساتھ ساتھ اسمبلی ممبران پر کارکنوں کا چیک  وہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ اب ان کو شکایت کرنے کا دروازہ بھی نہیں مل رہا ہے۔
 پیپلز پارٹی کی قیادت اس صورتحال سے باخبر ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ  پارٹی قیادت اور عوام کے درمیان کتنا گیپ ہے۔ یہ گیپ کسی طرح سے بھرنا  اسے آسان نہیں لگتا، اس لیے سیایس کھلاڑیوں، باثر افراد اور وڈٰروں پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ یوں عوام اور پارٹی کارکن غیر اہم  ٹہرے۔باثر اور منتخب ہونے کے قابل افراد سماج ضروری اور اہم ہوگئے۔وڈیروں کے خلاف نعرے دب گئے ہیں۔۔یوں ملک میں وہ سیاست  اور سیاسی کلچر جو ذوالفقار علی بھٹو نے متعارف کرائی تھی وہ آخری سانسیں لے رہا ہے۔اس کی جگہ پر واپس روایتی یا مسلم لیگی سیاست جگہ لے رہی ہے۔جس میں سیاست کرنے، انتخابات لڑنے اور سیاسی حمایت کیے لیے یہ وڈٰیرے، میر اور پیر ضروری ہیں۔

صدر زرداری کا دورہ سندھ 2012-7-31

Tue, Jul 31, 2012, 2:26 PM
صدر زرداری کا دورہ سندھ  
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
 اسے کیا کہا جائے؟  انتخابی مہم کا آغاز یا اکچھ اور۔ صدر آصف علی زرداری نے قوم سے وعدہ  کیا ہے کہ کہ آئندہ انتخابات وقت پر ہونگے، صاف شفاف ہونگے، کسی کو نہ دھاندلی کرنے دیں گے نہ کریں گے۔ اور یہ کہ آئندہ چاروں صوبوں میں وزراء اعلیٰ ان کی پارٹی کے ہونگے۔انہوں نے ٹی وی اسکرین کی سیاست کی بھی بات کی۔اور کہا کہ خواہ ٹی وی کے سیاستداں پیدا ہوں۔آبائی صوبے سندھ میں ضلع خیرپور کے گاؤں نواب وسان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آئندہ عام انتخابات کے بارے میں بعض اہم باتیں کی ہیں۔وہ لاڑکانہ اور نوابشاہ میں آکرلوگوں سے خطاب کرتے رہے ہیں۔لیکن ان دو مقامات کو چھوڑ کر ہونے والا یہ پہلا جلسہ ہے جس کو سیاسی حلقے اتنخابی مہم کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ 
 صدار زرداری اگرچہ خیرپور میں  وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور پیپلز پارٹی کے ایک رہنما منظور وسان کومنانے گئے تھے۔ منظور وسان  جو اپنے تئیں وزیراعلیٰ کے بھی امیدوار تھے۔ان کے پاس ڈاکٹرذولفقار مرزا کے استعیفے کے بعد وزارت داخلہ کا قلمدان تھا۔ مگر بعد میں  وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی مداخلت اور ایم کیو ایم کی مخالفت کی وجہ سے کوئی چار ماہ قبل انہیں کابینہ سے الگ کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کے پاس کوئیسرکاری ذمہ داری نہیں تھا اور وہ زیادہ تر وقت اپنے گاؤں میں گزار رہے تھے۔ منظور وسان کا تعلق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے آبائی ضلع ٰپرور سے ہی ہے۔ وہ جب سند کابینہ میں شامل  تھے تب بھی ان کی وزیراعلیٰ سندھ سے نہیں بنتی تھی۔ اور وزیراعلیٰ کی طرف سے بھی انہیں بڑا کولڈ ریسپانس ملتا تھا۔ یہاں تک کہ خیرپور میں ہونے والے پروگراموں میں نہ وسان خود شریک ہوتے تھے اور نہ ہیان کے لوگ شریک ہوتے تھے۔ بلکل اسی طرح وزیراعلٰ کے حامی وسان کے پروگراموں میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ دونوں کی کوشش ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ہوتی تھی۔سیاسی ماحول میں حالیہ تبدیلیوں اور فنکشنل لیگ کے سرگرم  ہونے کے بعد یہ ضروری ہو گیا تھا کہ منظور وسان کی ناراضگی ختم کی جائے۔اس میں یہ پیغام بھی چھپا ہوا ہے کہ صدر زرداری انتخابی مہم کس طرح سے چلائیں گے۔
ایسے میں رسم بھی تھی اورموقعہ بھی۔ صدر زرادری  صرف انتخابات کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ ان کے نتائج کے بارے میں بھی کچھ کہہ دیا۔ ٓن کے بعض نقادوں کا کہنا ہے کہ صدرچونکہ ایک پارٹی کا نہیں ہوتابلکہ ملک کا سربراہ ہوتا ہے، انکے منہ سینتائج کے بارے میں پیشگی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔انہیں پہلے سے نتائج کے بارے میں بات کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے تھاانتخابی مہم اور انتخابی سیاست میں ایسے بیانات فائدہ مند ہوتے ہیں اور مخالفین پر بھی رعب ڈالتے ہیں۔ لہٰذا سیاسی پارٹیاں ایسے مواقع کو استعمال کرتی ہیں۔ پیپلز پارٹی ملک کی بڑی پارٹی ہے۔ اسے 70ع کے بعد مسلسل انتخابات کا تجربہ ہے۔ لہٰذا اس کو پتہ ہے کہ انتخابات کے موسم میں کیسے کھیلا جاتا ہت۔ صدر نے محض اس کلچر کے تحت دعوا کی ہے۔انتخابات کے بعد کیا ہوگا اور کونسی پارٹی کس پوزیشن میں ہوگی؟ یہ پیش گوئی آج نہیں کی جاسکتی۔
 انتخابات کے بارے میں صدر کے اس وعدے کے بعد ملک میں جاری  ان افواہوں  نے دم توڑ دیا کہ صدر موجودہ اسمبلی کے ذریعے خود کو دوبارہ منتخب کرانا چاہتے ہیں اور ایم کیو ایم  کی تجویز کردہ گول میز کانفرنس  اس سلسلے کی کڑی سمجھی جارہی تھی۔اس افواہ پر نوزا لیگ نے اتنباہ بھی جاری کردیا تھا کہ انتخابات کو ٹالنے یا موجودہ سیٹ  اپ کو دوام دینے کیشدید مخالفت کی جائے گی۔
 حالیہ سیاسی بحران  کے دوران جب نتخابات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے صدر کی جانبب سے یہ بیان خاصی اہمیت کا حامل ہے۔اور ان کا یہ بیان اور دورہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کی تیاری شروع کردیں۔صدر نے یہ بات ایک ایسے ماحول میں کہی ہے جب وقت سے پہلے انتخابات کرانے اور نگران حکومت کیسی ہو کے معاملات سیاسی ماحول میں زیادہ پاپولر ہیں۔ صدر کی اس بات نے  واضح اشارہ دیا ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات کی بات نہیں ہورہی۔اور نگراں سیٹ اپ والا معاملا بھی اتنا کوئی پیچیدہ نہیں۔انہوں نے یہ کہہ کر واضح کردیا ہے کہ پیپلز پارٹی انتخابات کے لیے تیار ہے۔
پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے عدلیہ کے پارلیمنٹ سے متعلق ریمارکس نے ایک بار پھر پارلیمنٹ کوrelevant بنا دیا ہے۔ اور اسکے ساتھ یہ بھی کہ سیاسی قوتیں  اگر کسی نقطے پر متفق ہو جاتی ہیں تو اس کے نتائج بہرحال سیاست پر مثبت ہی پڑتے ہیں۔ اس پس منظر میں سپریم کورٹ کیپیر کے روز کے ریمارکس خاصی اہمیت کے حامل ہیں جس مین عدلیہ کا رویہپارلیمنٹ اور اراکین کی جانب مثبت اور نرم تھا۔
ایسا لگتا ہے کہ  پورے ملک میں ایک سیاسی ماحول بننے جا رہا ہے جس میں ماضی کی تمام حکمت عملیاں غیر ضروری ہو جائیں گی۔سیاسی پارٹیوں کو نئے سرے سے منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔
 اس اعلان کے بعدایم کیو ایم کی گول میزسے متعلق تجویز میں بھی لمبا چوڑادم باقی نہیں رہتا۔ کیونکہاب الیکشن کا ماحول ہوگا۔ اور یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ ملک کو درپیش مسائل انتخابات کے ذریعے حل کئے جاسکتے ہیں۔
صدر کے اس بیان  کے دوسرے دن الیکشن کمیشن نے بھی سرگرمی دکھائی۔ اور اعلان کیا کہ ابتدائی انتخابی فہرستیں جاری کی جا رہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ یہ انتخابات پرانی حلقہ بندیوں پر ہونگے۔کیونکہ نئی مردم شماری نہیں ہو سکی ہے۔اس وقت ملک میں 1998 کی ہی مردم شماری پر حلقہ بندیاں  بنی ہوئی ہیں۔ اگرچہ اس پر کئی سیاسی پارٹیوں کو اعتراضات بھی ہیں۔ سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ  ملک میں آبادی کی  ایک علاقے سے دوسرے میں منتقلی ہوئی ہے اس کو تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔ اس کو لحاظ میں لائے بغیر حلقہ بندیاں اور انتخابات  ماضی کے انتخابات سے مخلتف نتائج نہیں دیں گے۔ تاہم یہ الگ بحث ہے۔ الیکشن کمیشن کے ان دو اعلانات نے صدر کی بات کو مستند بنا دیا ہے۔
اگرچہ ابھی تک نگراں سیٹ اپ اور دیکگر کچھ امور سے متعلق کچھ چیزیں ضرور ہیں جو آڑے آسکتی ہیں۔
 خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ  اب ملک میں انتخابی ماحول اور سیاست چلنے لگے گی۔اگر واقعی ایسا ہو جاتا ہے تو تمام پارٹیاں اپنی تمامتر توانائیاں حکومت کو کسی اور طریقے سے ہٹانے یا تحریک چلانے پر صرف کرنے کے بجائیانتخابات پر ہی صرف کرنے لگیں گی۔ جو کہ کسی بھی حکومت کو ہتابنے کا آئینی اور قانونی طریقہ ہے۔اس پر اگر حکومت نے مزید کچھ پیشرفت کی توموجودہ بحران سے نکنے میں یہ بات اسے خاصی مدد
 دے گی۔

تیسرے آپشن کی طرف بڑھتے ہوئے قدم 2012-6-25


Mon, Jun 25, 2012 at 10:18 AM
تیسرے آپشن کی طرف بڑھتے ہوئے قدم 
 میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔سہیل سانگی 
جب قومی اسمبلی میں نئے وزیراعظم کا انتخاب ہورہا تھا تو اس انتخاب سے  بے نیاز ملک کی دو بڑی اپوزیشن پارٹیوں  کے سربراہ یعنی میاں نواز شریف اور عمران خان سندھ میں جلسوں سے خطاب کر رہے تھے۔تحریک انصاف کی تو خیر قومی اسمبلی میں موجودگی نہیں، پر نواز لیگ  ایوان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ ان دونوں کی طرف سے وزیراعظم کے انتخاب میں اتنی عدم دلچسپی معنیٰ خیزلگتی ہے۔کییہ کوئی حسن اتفاق نہیں تھا۔ا اس کی یہ معنی لی جائیں کہ ان پارٹیوں کے نزدیک پارلیمنٹ غیر متعلق ہو گئی ہے یا بنادی گئی ہے؟ یا اس منتخب ادارے کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ کے بغیر بھی معاملات چل سکتے ہیں؟ ایسے حالات میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کہتے ہیں کہ جمہوری اداروں کے خلاف سازشیں بند کی جائیں  تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں کام کریں۔ سیاسی جماعتیں آنے والت انتخابات کا انتظار کریں  ایسا نہ ہو کہ جھگڑے میں ملک اور جمہوریت تباہ ہو جائے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ سب کا احتساب ہوگا۔
عمران خان پھر ایکشن میں آگئے ہیں۔ ایک وقفے کے بعدان کی سرگرمیوں کومبصرین بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے جنوبی سندھ کا دورہ کیا۔ حیدرآباد میں جلسہ سے خطاب کیا، میرپورخاص، سانگھڑ، ٹنڈومحمدخان، کا بھی دورہ کیا کچھ لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ کراچی میں چیمبر آف کامرس کے عشائیے میں شرکت کی۔ان کا  انداز گفتگو اور طریقہ کار ووٹ مانگنے کا نہیں بلکہ عام مقبولیت حاصل کرنے کا تھا۔
حیدرآباد میں نیاز اسٹیڈیم کے قریب واقع ایس آر ٹی سی گراؤنڈ پر  دس بارہ ہزار لوگ جمع ہو گئے۔ اسٹیج پر سندھی قوم پرستی کے گیت بار بار بجائے جارہے تھے۔ نوجوان رقص کر رہے تھے۔حالانکہ سندھ کے لوگ جن چیزوں کو کور اشوز سمجھتے ہیں  ان پر عمران خان  نے کوئی موقف ظاہر نہیں کیا۔اس تضاد کے علاوہ یہ تضاد بھی  ناقابل فہم ہے کہ رقص اور گیت کے مخالف طالبان کے حامی  خان نے اپنے جلسوں جلوسوں میں گیت اور رقص کی اجازت دی۔سندھ کے سیاسی حلقے اس رویے کودکھاوا قرار دے رہے ہیں۔ان کے مطابق پھر اسٹیج پر نماز پڑہنا ان کی نمائشی طبیعت کا خاصہ ہے۔ وہ ایک روز پہلے حیدرآباد میں آئے تھے۔ سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے اور خود کو ڈسپلن اور قاعدے کا پابند ہونے کے دعویدارخان سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادمگسی کے عشائیہ میں شرکت کی۔ حیدرآباد میں موجودگی کے باوجودوہ جلسہ گاہ ساڑھے تین گھنٹے دیر سے آئے۔
بمشکل دس بارہ ہزار افراد۔حیدرآباد میں سونامی بس اتنی ہی تھی۔ شرکاء کی اکثریت پشون تھی، کو کوٹری، حیدرآباد کے علاوہ سندھ کے دوسرے شہروں سے آئی ہوئی تھی۔ پشتونوں کا یہ وہ حصہ ہے جو ابھی تک خود کو ای این پی سے کسی نہ کسی وجہ سے جوڑ نہیں پایا ہے۔تحریک انصاف کے لیے حیدرآباد میں اتنے لوگ جمع کرنا بڑی بات ہے۔ ورنہ حیدرآباد میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم یا پھر قوم پرست ہی بڑا جلسہ کر پاتی ہیں۔
بہرحال عمران خان کا سونامی سندھ کے روایتی سیاستدانوں کو اپنی طرف کھینچ نہیں سکا۔ ویسے اس مرتبہ عمران خان کی کوشش بھی ان روایتی سیاستدانوں کو اپنی طرف لانے کی کم لگ رہی تھی۔ عمران خان کا زور سندھ کے مسائل کے بجائے ڈرون حملوں کی طرف زیادہ تھا۔
 عمران خان کی حکمت عملی پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دونوں کو نشانہ بنانے ولی ہی تھی۔ ان کی تقریر میں نئے انتخابات کی جھلک نہیں نظر آرہی تھی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، نواز لیگ اور اے این پی پر تنقید کی۔وہ پورے نظام کی بساط لپیٹنے کی بات کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر آصف زرداری کے ہوتے ہوئے شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے۔اب ان کو انتخابات  کے لیے کسی حلقہ انتخابات میں مقبولیت یا وہاں امیدوار نہیں چاہئے۔صرف جنرل قسم کی مقبولیت چاہئے۔جو معاشرے میں انہیں قبولیت اور legitmacy دے۔ حکومتی معاملات چلانے کے لیے ان کے پاس ٹیکنوکریٹس ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ملکی معیشت اور سیاست پر الیٹ کلاس یا بااثر طبقہ حاوی ہے۔دراصل یہ طبقہ ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔میڈیا جسکا رول دنیا بھر میں مانا جاتا ہیوہ ایک طاقت کے طور پر تھی ہی، مگر گزشتہ چند برسوں سے ملک میں ہونے والی سرگرمیوں کے بعداب وکیل بھی طاقتور ہو گئے ہیں۔قانون کے محافظ قانون کو اپنی مرضی کے مطابق بنانا اور چلانا چاہ رہے ہیں۔ملک کی سیاست اور معاملات میں اب یہ  نیا قبیلہ بن گیا ہے۔لاہور میں منعقدہ آل پاکستان وکلاء کنوینشن نے وزیر اعظم کی تقرری مسترد کردی ہے۔27جون کو مہنگائی، لوڈشیڈنگ، لاقانونیت اورکرپشن کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ان بات سے ہٹ کر کہ یہ معاملات ملک کے لیے خاصے اہم ہیں، خودوکلاء برادری کے دائرہ اختیار میں عوام کو سستا اور جلدیانصاف فراہم کرنا ہے انس کو یقینی بنانے کے بجائے ایسے مسائل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو  ان کادائرہ اختیار نہیں۔اسکو کہتے ہیں اپنی حدود سے تجاوز کرنا۔
ایک اور صورتحال بھی ہے۔ مختلف سرکاری ادارے اور خود سرکار عوام سے پیسے تو لیتی ہے مگر اس کا حساب دینے کے لیے تیار نہیں۔یہ ادارے اور وہ سرکار لی ملازم ہے مگر سرکار کا حکم ماننے کے لیے تیار نہیں۔ یہی حال عدلیہ کا ہے۔ اس پر اب عام لوگ بھی بحث کر رہے ہیں کہ یہ ایک برادری بن گئے ہیں۔ پولیس اور بیوروکریسی ایک دوسرے کو تحفظ دیتی ہیں۔عجیب بات ہے کہ سیاستداں واحد قبیلہ ہیں جن کی آپس میں نہیں بنتیوہ ایک دوسرے کی مخالفت میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔
عدلیہ اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر قومی اسیمبلی کے ممبر اور پوری پارلیمنٹ سے منتخب وزیر اعظم کو  توہین عدالت کے جرم میں قومی اسمبلی کی رکنیت اور وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیتی ہے۔ اس سے عدلیہ کی تو یقیننا بالادستی قائم ہو گئی مگر اس کے نتیجے میں جمہوریت کو کوئی استحکام نہیں ملا۔ عوام کو کوئی سہولت مسیر نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ کو نظرثانی کا اختیار ہے۔
 ایک ادارے نے انتہا پسندی کی سزا نواز شریف کو دی گئی جب انہوں نے اپنی پسند کا آرمی چیف مقرر کرنا چاہا۔وہ بھی ملک کے منتخب وزیراعظم تھے۔ اب دوسرے ادارے نے انتہا پسندی کر کے وزیر اعظم کو سزا دے ہے۔ جیسے نواز شریف کے خلاف کارروائی کر کے ملک میں بحران میں دھکیل دیا گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق ملک میں ایسی ہی صورتحال دوبارہ بننے جا رہی ہے۔ صرف ایک دو دو ادارے ہی نہیں سیاسی جماعتیں بھی انتہا پسندی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
باقی انتخابات میں دن کتنے رہ گئے ہیں؟ مگر احالات اور واقعات بتاتے ہیں کہ ملک سے پارلیمنٹ کو نکالا جا رہا ہے۔اس آپشن پرکام ہورہا ہے کہ تین سال تک  فوج اور عدلیہ اپنی پسند کی ٹیکنوکریٹ حکومت لانا چاہتی ہیں۔ جوجارہ رہے گی۔ اس کے لیے آئیں میں گنجائش نکالنااب اتنا مشکل نہیں رہاکیونکہ اس وقت آئین کی حتمی تشریح کا اختیار صرف عدلیہ کے پاس ہے۔ ایسا ایک تجربہ بنگلادیش میں کیا گیا تھا۔ مگرمشکل یہ ہے کہ ہمارے پاس تو دو اہم اداروں پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں۔ہونا یہ چاہیے کہ اداروں کی ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت بند ہو۔ انتہا پسندی کے اسبابکا خاتمہ ہونا چاہئے۔معاشرے میں مجموعی طور پر  رواداری اور برداشت  کے رجحان پروان چڑھایا جائے۔اپنے عقائد سے وفاداری کے ساتھ ساتھ دوسروں کے عقائدکے احترم کو بھی  اپنے عمل کا حصہ بنانا چاہئے۔ 
ملکی بحران بڑی تیزی سے طے شدہ یا منطقی  نتیجے کی طرف بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے مطابق  حکومت اور اپوزیشن مل کر صوبوں اور مرکز میں نگراں حکومت قائم کریں گی۔ اختلاف کی صورت میں الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا۔مگر تاحال الیکشن کمشنر پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔اور اس بات کا امکان بھی نظر نہیں آتا۔ لہٰذا چیف جسٹس نے جسٹس شاکراللہ جان کو نگراں الیکشن کمشنر مقرر کردیا ہے۔ملطب نگراں حکومت کا قیام حکومت الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس کے مشورے سے ہی عمل میں لائے گی۔اگر نگراں حکومت سمجھے گی کہ معاشی صورتحال، یا خاجہ پالیسی، اجیسے معاملات کوپہلے نمٹنا ضروری ہیں تو ایک پٹیشن ڈالنے سے ہی کام ہوجائے گا۔ بنگلادیش میں بھی کرپشن  کے خاتمے کے لیے ایک عبوری حکومت وجود میں لائی گئی تھی۔ویسے ہی عمران خان سب کا احتساب کا نعرہ لگا چکے ہیں 

لیاری میں کیوں گولیاں چل رہی؟ 2012-5-3

Thu, May 3, 2012 at 2:43 AM
لیاری میں کیوں گولیاں چل رہی؟
کالم  میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
گزشتہ چند روز سے کراچی کی قدیمی اور گنجان آدبادی والی بستی لیاری میدان جنگ بنی ہوئی ہے۔  بغیر وقفے کے گولیاں چل رہی ہیں۔ جب گولیوں کی آواز تھم جاتی ہے تو اس کی جگہ پر راکٹ لانچرز یا گرنیڈ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ایک درجن سے زائد افراد ہلاک اور کئی ایک زخمی ہو چکے ہیں۔ لیاری کے باشندے قیدی اور یرغمال بن کر رہ رہے ہیں۔ لیاری کے تمام علاقوں میں بارود کی بوپھیل گئی ہے پانی اور بجلی غائب ہیں۔ تین روز تک پانی بند رہا۔کھانے پینے کی اشیا ختم ہوگئی۔ بچے دودھ کے لیے بلک رہے ہیں کیونکہ اب تو اس علاوے میں دکانیں ہی نہیں کھلتی۔ ایسے میں زیر آپریشن  علاقے میں رہنا ناممکن ہو گیا ہے۔ کئی خاندان نقل مکانی کرکے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ رائے عامہ انتظامیہ کے مقابلے میں سخت ہوتی جا رہی ہے۔ اب تویہ کہا جا رہا ہے کہیہ آپریشن ان لوگوں کو خوش کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے جو پیپلز پارٹی کو  ووٹ دینے والی قدیمی بستی  کے رہائشیوں کے دشمن ہیں۔ جو لیاری میں عوامی حمایت نہ رکھنے کے باوجود لیاری پر حکم چلا رہے ہیں۔یوں یہ رائے رکھنے والے یہ آپریشن کو ایک سازش  قرار دے  رہے ہیں۔اور وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آپریشن کی وجہ سے لیاری میں پیپلز پارٹی کی عوامی حمایت ختم ہوتی جا رہی ہے۔دوسری طرف احتجاج شدید تر ہو گیا ہے۔آئی سی آئی پل سے لیکر برنس روڈ تک پہنچنے والے لیاری کے احتجاج  اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی کے ووٹرز اب اس سے مایوس ہو رہے ہیں۔
 اگر ہم کراچی میں جرائم کے منظر کا تجزیہ کریں کئی علاقے لیاری سے زیادہ بدامنی کا شکار ہیں۔مگر تشدد کراچی کی اس قدیم اور غربت میں گھری ہوئی آبای کی مستقل علامت بن چکا ہے۔  جیسے لیاری میں بسنے والی پندرہ لاکھ سے زائد سب کی سب آبادی جرائم پیشہ ہو۔لیاری کا وہ تعارف کہیں کھو گیا ہے جس میں لال بخش رند، رحیم بخش آزاد، گاجیان بلوچ جیسے سچے اور پر خلوص سیاسی کارکن یا صدیق بلوچ اور غلام علی جیسے بے باک صحافی بھی ہوا کرتے تھے۔میر غوث بخش بزنجو  جیسے رہنما اس بستی کا  باقاعدگی سے دورہ کیا کرتے تھے۔ لیاری برسہا برس تک نے نڈر، محنتی اور اپنے کاز سے وفادارسیاسی کارکنوں کی کھیپ پیدا کرتی رہی ہے۔لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ کیا لیاری کی کوکھ بانجھ ہوگئی ہے؟ لیاری کا یہ نیا تعارف کہاں سے آیا؟
 لیاری میں اب سیاسی جلسے یا سیاسی لیکچر پروگرام نہیں ہو رہے ہیں بلکہ گزشتہ چند برسوں سے گینگ وار یا مافیا کی جنگ ہو رہی ہے۔ جس کے پاؤں تلے لاکھوں افراد روندے جا رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما ملک مخمدخان کو اٹھ چوک پر قتل کیا گیا جب وہ وزیر اعظم کی سزا کے خلاف ایک جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کا الزام کالعدم پیپلز امن کیٹی پر عائد کیا ہے۔ یہ تنظیم کبھی پیپلز پارٹی کے ساتھ الحاق میں تھی۔کیا یہ سمجھا جائے گا کہ اس تنظیم کے افراد  پر مشتمل تنظیم نے اپنے بڑوں پر بندوق تان لی۔یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ کمیٹی یا وہ گروہ جو گزشتہ کئی روز سے کراچی شہر کے سب سے بڑے بھتہ خور گروپ سے تضاد میں تھا ملک محمدخان اس کا شکار ہوا ہو۔
امن کمیٹی کے ہمدردوں کا کہنا ہے کہ تنظیم کا ایک گروپ جس کی قیادت بابا لاڈلا کر رہے ہیں اس کو آپریشن میں مستثنیٰ حاصل ہے۔جبکہ ارشد پپو گینگ کے جرائم پیشہ افراد کو امن کمیٹی کے لڑاکو کارکنوں کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ٹارگٹیڈآپریشن نے پیپلز امن کمیٹی کو پیپلز پارٹی سے دور کردیا۔ بعض مقامی رہنما پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا سوچ رہے ہیں۔ نواز لیگ کے رہنما سید غوث علی شاہ کا دورہ اس سلسلے کی کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ پارٹی سے بیگانگی اور دوری کا معاملہ صرف امن کمیٹی تک محدود نہیں بلکہ اس نے لیاری کی تمام آبادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ کیونکہ آپریشن کے دوران یہ آبادی بری طرح سے صائب کا شکار ہوئی ہے۔
 انتظامی حلقوں میں یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ ایس پی اسلم چوہدری نے اپنی پرائیویٹ آرمی آپریشن میں استعمال کی ہے جس کا تعلق نہ پولیس سے ہے نہ ہی کسی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سے۔انکا کہنا ہے کہ اسلم چوہدری رحمان ڈکیت سے انتقام لینا چاہتا تھا۔ کیونکہ امن کمیٹی جب اس کی قیادت میں چل رہی تھی تو انہیں خاصی بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
 گزشتہ تین روز تک سندھ میں نہ وزیر اعلیٰ موجود تھے نہ کوئی اور اعلیٰ حکومتی اہلکار۔ کیونکہ وزیرداخلہ منظور وسان مستعفی ہو کے ہیں۔ یہ آپریشن صرف آئی جی سندھ سید مشتاق شاہ چلا رہے تھے۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، اور وزیر داخلہ منظور وسان کا کہنا تھا کہ یہ بھتہ خوروں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن ہے۔واقعی اگر ایسا ہے تو شہر کے دوسرے علاقوں میں جہاں بڑے پیمانے پر بھتہ وصول یا جاتا ہے وہاں کیوں نہیں شروع کیا جا رہا ہے۔۔ لیاری میں  چھوٹے دکانداروں  یا ٹرانسپورٹروں سے بھتہ لینے والے جب  بھتہ خوری کے لیے کھارادر، جوڑیا بازار، اور ٹاور کی طرف بڑھے، تو ا لوگوں کو اعتراض ہوا جن کی اس دھندے پر اجارہ داری تھی۔ اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ لیاری کے ان جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے  جو اپنا دھندے میں توسیع کر رہے تھے۔ 
یہ امر بھی خاصی دلچسپی کا حامل ہے کہ جب پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت اقتدار میں آئی۔تو رحمان ڈکیت نے مستقبل میں سیاست کرنے کی ٹھانی۔ پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندوں کی جانب سے سستی،  اور لاتعلقی  وجہ سے امن کمیٹی نے اس کی جگہ لینا شروع کردی۔اور اپنی تنظیم کو سماجی تنظیم یا کمیونٹی کی تنظیم کے طور پر اپنا نیا تعارف کرایا۔ یہاں کے منتخب نمائندے کبھی کبھا ہی اپنے حلقے کا رخ کرتے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے لیاری کو نظرانداز کیا ہے۔ امن کمیٹی نے علاقے کی ترقی کے لیے کام کرنا شروع کیا  اور اپنا امیج بنانا شروع کیا۔
لیاری میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے اپنے ووٹرز کو اس طرح سے کوئی اہمیت نہیں دی تو  خود بلاول بھٹو زرداری کے لیے بھی لیاری کی قومی اسمبلی کی نشست جیتنا مشکل ہو جائے گا۔یہ دعوا خواہ سو فیصد صحیح نہ ہو مگر خو پیپلز پارٹی کے لوگ بھی یہ مانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں مگر یہ یقینی بات ہے کہ آئندہ انتخابات میں  پارٹی کا ووٹ بینک سکڑے گا۔
ابھی چند ہی برس پہلے کا قصہ ہے کہ لیاری کو جمہوریت پسند احتجاجوں میں ہراول دستہ سمجھا جاتا تھا۔مگر یہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جب سیاسی طبقے نے عام آدمی اور ووٹرز کو کی بری طرح سے نظرانداز کیا تو مقامی گینگسٹروں کو کھلااسٹیج مل گیا۔ان میں سے کئی  جومقامی طور پر اڈے چلانے میں بھی ملوث ہیں۔انہوں نے سماجی اور فلاحی کاموں میں ہاتھ ڈال کر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنا لی ہے۔آگے چل کر جنگجو گروپوں کے درمیاں علاقوں کی حد بندی کے سوال پر  جھگڑے پھوٹ پڑے جو خود کو سیاستداں اور سماجی کارکن کے طور پر پوز کر رہے تھے۔اس تمام قصے میں پیپلز پارٹی کی مقامی اور مرکزی قیادت کاموش تماشائی بنی رہی۔ کئی پرانے پارٹی کے کارکن شکایت کرتے ہیں۔
اب لگتا ہے کہ یہ ایک سیاسی جنگ ہے  جو پیپلز پارٹی ہار رہی ہے۔کیونکہ کہ پارٹی کی قیادت نے دوسروں کو خوش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صرف کراچی ہی نہیں سندھ مین بھی لیاری کی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے۔ سندھ کے مختلف شہروں میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے کسی ایسے اقدام کے خلاف سندھ میں لوگ باتیں کر رہے ہیں مگر مقامی قیادت حکومت کے اس قدام کا دفاع نہیں کر پا رہی ہے۔

Thursday, 5 March 2020

سندھ، پیپلز پارٹی اور نواز شریف 2012-4-26

Thu, Apr 26, 2012 at 10:55 AM
سندھ، پیپلز پارٹی اور نواز شریف  
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔۔۔ سہیل سانگی 
ملک میں سیاسی سرگرمیاں اب انتخابی سرگرمیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ ہوائی جہازٹیک آف  کے وقت اڑنے کی پوزیشن لیتا ہے اور جہاز کا کپتان باضابطہ ایسا اعلان بھی کرتا ہے اور عملے کو خبردار کرتا ہے اسی طرح سیاسی پارٹیاں بھی ٹیک آف کی پوزیشن لے رہی ہیں۔ملک کے دو بڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ جس کے گرد باقی سیاسی جماعتیں جمع ہوتی ہیں ان جماعتوں نے آئندہ انتخابات کے مدنظر اپنے اپنے حلقوں خواہ ایک دوسرے کے حلقوں تک پہنچنے کیکوششیں شروع کردی ہیں۔ انہیں دوجماعتوں کو کامیاب کرانے یا ہارنے کے لیے کوششیں ہوتی ہیں اور حکمت عملیاں بنائی جاتی ہیں۔ 
پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین صدر آصف علی زرداری لاہور میں پارٹی کارکنوں سے اجلاس کرنے کے بعد ملتاں اور دیگر پنجاب کے بعض شہروں کا دورہ کر چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا زور سرائیکی بیلٹ پر ہے جبکہ نواز لیگ  اپنی سیاست پیپلز پارٹی کے روایتی گڑھ سندھ میں اتار رہی ہے۔
 سندھ پیپلز پارٹی اور نواز شریف  کی سیاست کو بڑی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے تاہم پیپلز پارٹی کی طرف سندھ کے لوگوں کا رویہ دو رخی ہے۔پیپلز پارٹی سے ان کو ناراضگی بھی ہے تو  لگاؤ بھی ہے۔1970ع کے انتخابات میں پیپلز پارٹی  پنجاب کی پارٹی کے طور پر ابھری۔ کیونکہ  یہاں اس جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل تھی۔لہٰذا اس پارٹی نے آئین سازی کے وقت پنجاب کے مفادات کو بھرپور خیال رکھا۔
1979ع  میں بھٹو کی پھانسی کے بعد صورتحال کچھ تبدیل ہوئی۔پیپلز پارٹی  کو جدیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو اس نے سندھ کارڈ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔نتیجے میں وسطی پنجاب اس کے ہاتھوں سے نکل گیا۔جنرل ضیا نے سیاست میں کچھ نئے کھلاڑی پرانے سیاست کے ساتھ متعارف کرائے۔ 
مذہبی جماعتوں مسلم لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے پیپلز پارٹی کوسینٹرل پنجاب سے نکال کے باہر کیا۔وہاں  1988 کے بعد وجود میں آنے والی مسلم لیگ  نواز نے قوم پرستی بنیاد پر پنجاب کے وسطی اور پوٹوہار کے علاقوں میں اپنا گڑھ بنا لیا۔پیپلز پارٹی کو سندھ تک محدود کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے میں ضیا دور کے بعد پنجاب میں خالصتا پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں بن سکی ہے۔ پیپلز پارٹی صرف سندھ اور سرائیکی بیلٹ تک محدود ہو گئی۔ پیپلز پارٹی پنجاب کی پارٹی سے غیر پنجابی پارٹی بن گئی۔ یہ سفر بہت  دلچسپ بھی ہے اور سبق آموز بھی۔ اس کو 
سمجھے بغیر ملک کی سیاسی صف بندی کوصحیح معنوں میں سمجھا نہیں جا سکتا۔

جب پیپلز پارٹی  سندھ  کی پارٹی بن گئی تو نواز لیگ نے قوم پرستی کے نعرے جاگ پنجابی جاگ تیری پگڑی نوں لگ گیا داغ سے سیاست کا آغاز کیا۔ پارٹی کو ملک گیر  ہونے کا تاثر دینے کے لیے سندھ اور بلوچستان میں سرداروں وڈیرون کو لالچیں دیکر اپنے ساتھ ملایا۔اور مرکز کے ساتھ ساتھ جوڑ توڑ کرکے سندھ اور خیبر پختونخو ا میں بھی حکومتیں بنائیں۔ بلوچستان میں بھی کبھی اپنی تو کبھی مخلوط حکومت بنانے کے جتن کئے۔ 
نواز لیگ کی پالیسیوں کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ملک گیر پارٹی ک کے دعوؤں اور کوششوں کے باوجود نواز شریف نے مختلف مواقع پر پنجاب کی قوم پرستی کا  زبردست دفاع کیا۔پانی کا مسئلہ ہو یا این ایف سی ایوارڈ یا انتطامی یا سیاسی، نواز لیگ کی سیاست کا محور پنجاب رہا ہے۔ یہاں تک کہ سندھ اور بلوچستان میں رہنے والے آبادکاروں کو بھی اپنانے کی کوشش کی۔ تاہم صرف پنجاب اور پوٹوہار کی نشستوں کی بنیاد پریہ پارٹی ملک گیر پارٹی نہیں بن سکی ہے۔اس لیے اس پارٹی کی مجبوری ہے کہ وہ ملک گیر پارٹی کا دکھاوا دے۔اور اس مقصد ک لیے اسے دوسرے صوبوں سے مدد چاہیئے۔
 اگرچہ پیپلز پارٹی  اور نواز لیگ دونوں کو  اسٹیبلشمنٹ کی آشیرواد حاصل رہی ہے۔ جس کا ثبوت  باری باری  دونوں پارٹیوں کااقتدار میں آنا ہے۔ مگر دونوں پارٹیاں وہی کی ہو کے رہ گئی ہیں جہاں کی ان کی قیادت تھی۔اب نواز لیگ پنجاب کی اور پیپلز  پارٹی سندھ کی پارٹی ہے۔مگر دونوں میں بڑا فرق ہے۔ پیپلز پارٹی غیر پنجابی پارٹی ہونے کے باوجود سندھ کے اشوز  یا مفادات پر واضح نہیں ہے۔سندھ کے لوگ اسکا جھکاؤ پنجاب کی طرف محسوس کرتے ہیں اور اس قسم کی شکایت بھی کرتے ہیں۔اس کے برعکس نواز لیگ پنجاب کے مفادات پر واضح ہے۔اور ان مفادات کو تحفظ بھی کر رہی ہے۔سندھ کے لوگ نوز لیگ کی اس پالیسی میں کسی تبدیلی کی توقع بھی نہیں رکھتے۔اس لیے کئی حلقوں یہ کہا جاتا ہے کہ نواز لیگ کو پنجاب کے مفادات اتنے عزیز ہیں کہ دوسرے صوبوں کو  پانچ فیصد بھی حصہ دینے کو تیار نہیں۔ 
دونوں کا یہ خاصہ ہے کہ دونوں پارٹیاں 1973 کے آئین کو  ہی فیڈریشن کا سماجی معاہدہ سمجھتی ہیں۔اور سندھ اور بلوچستان میں 1940 کی قرارداد سے متعلق جو نئی بحث چلی ہیاس کے بارے میں دونوں کا موقف یکساں ہے
 پنجاب سے بے دخلی کے بعد پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ صرف سندھ کے ووٹوں پر مرکز میں حکومت نہیں بنا سکتی۔جبکہ مسلم لیگ سینٹرل پنجاب کے ووٹوں پر مرکز میں حکومت بنا لیتی ہے۔اس لیے پی پی پی  اب سرائیکی کارڈ کھیل رہی ہے۔پیپلز پارٹی سندھ کے مفادات کا تحفظ کئے بغیر دوسرے علاقوں کی طرف ہاتھ بڑھا رہی ہے۔نواز شریف نے پنجاب کے مفادات کی خاطرچارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت مرکز میں اقتدار کو خیرباد کہا۔اور پیپلز پارٹی حکومت بنانے کے لیے راضی ہو گئی۔
نواز لیگ سمجھتی ہے کہ اس کا گڑھ پنجاب ہے اور دوسرے صوبوں سے اسے صرف مدد چاہئے۔ان صوبوں کو برائے نام کچھ دینے سے کام چل جائے گا۔پیپلز پارٹی مرکز میں حکومت سندھ کی بنیاد پر  پر کرتی ہے جسکو سندھ کے قوم پرست سندھ کی قیمت پر حکومت کرنا قرار دیتے ہیں۔ سندھ کے سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ آج تک جو بھی معاہدے بشمول این ایف سی ایوارڈ، اٹھارویں ترمیم کے ہوئے ہیں وہ سب سندھ کے مفادات کے خلاف ہوئے ہیں۔بعض صورتوں میں پی پی پی 1973 کے آئین سے بھی پیچھے ہٹی ہے مگر نواز لیگ اس آئین کا تحفظ کرتے ہوئے اس آئین میں پنجاب کو حاصل برتری کو برقرار رکھا اور آگے بڑھایا۔
  صدر آصف علی زرداری  سینٹرل پنجاب اور سرائیکی بیلٹ کو حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔سینٹرل پنجاب پی پی پی کو ویسے بھی ہاتھ میں نہیں آئے گا، مگر سرائیکی کو صوبہ بنانے کا آسرا دے کر (جس کی آئین میں گنجائش نہیں) سندھ کی وحدت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔  کیونکہ اس کی وجہ سے سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ جائیگا۔
 پیپلز پارٹی اور نواز شریف دونوں کے پاس سندھ کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔نواز لیگ سرائیکی صوبے کی مخالفت کر رہی ہے لہٰذا اس سے سندھ کی وحدت کو خطرہ نہیں اس کے برعکس پیپلز پارٹی کا ووٹ بنیک سندھ ہونے کے باوجود اس سے سندھ کی وحدت کو خطرہ ہے۔
 نواز لیگ کا طرز حکمرانی بہتر ہے۔ جیسا کہ میڈیا میں بھی خاصا چرچا کیا جا رہا ہے۔اور سندھ میں اس طرز حکمرانی کو بطور ماڈل پیش کیا جارہا ہے۔چونکہ وہ  پنجاب اور وفاق کی مالک ہے لہٰذا سندھ کے سیاستداں کچھ مراعات  لینے کے لیے بے چین ہیں۔پیپلز پارٹی کے ہاتھوں میں نہ پنجاب ہے اور نہ ہی مرکز، وہ ایک مہمان اداکار ہے جب تک  اسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔اس لیے سندھ کی پارلیمانی سیاست کرے والی قوم پرست جماعتیں نواز لیگ سے مذاکرات کر ہی ہیں۔
 سندھ کے عوام پیپلز پارٹی کو اس لیے ووٹ دیتے رہے ہیں کہ وہ اسے مرکز میں نمائندگی دلائے گی دوسرا یہ کہ بہتر حکمرانی قائم کرے گی۔
 سندھ میں پیپلز پارٹی کو جو بھی ووٹ ملتا ہے وہ قوم پرست ووٹ ہے۔ جب پنجاب لاش بھیجتا ہے اور دیگر شکایات کا موقع  پیدا کرتا ہے تو ے ردعمل میں سندھ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتا ہے۔
 یہ صحیح ہے کہ پیپلز پارٹی اس بات پر پریشان ہے کہ نواز لیگ اس کے حلقہ انتخاب میں کود پڑی ہے۔نواز شریف سندھ میں کوئی اچھی پہل نہیں کرسکی ہے۔وہ عوام کے پاس نہیں وڈیروں کے پاس گئی ہے۔ 
میاں نواز شریف کا ساتھ دینے کے لیے تیار ممتاز بھٹو کا کہنا ہے کہ 26 برس تک جدوجہد کی مگر کوئی ریسپانس نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ سندھ  کے لوگوں نے کبھی بھی قومپرستوں کو ریسپانس نہیں دیا ہے ہمیشہ وفاق پرستوں کو ووٹ دیئے ہیں۔لیاقت جتوئی، ماروی میمن اور کچھ دیگر سیاستداں نواز لیگ میں شمولیت کر رہے ہیں۔جبکہ اس کے پاس سندھ کے عوام کے لیے کوئی خاص پیکیج نہیں ہے۔نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگر سندھ کے لوگ انہیں اسی طرح سے ووٹ دیں جس طرح پنجاب نے سندھ ذوالفقار علی بھٹو کو دیئے تھے تو وہ سندھ کے مفادات کا پابند ہو جائے گا۔
 سندھ آج کل عجیب موڑ سے گذر رہا ہے۔ بشیر قریشی کی موت کی تحقیقات سے متعلق خالی بیان سندھ کے لوگوں کے مرہم نہیں رکھ سکا ہے۔سندھ ر بھرپو  ر یڈیکلائیزیشن کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ 
جہاں پارلیمانی سیاست بلوچستان کی طرح پس منظر میں چلے جانے کا خدشہ ہے۔ممکن ہے کہ سندھ اور بلوچستان آئندہ انتخابات میں غیر متعلق بنے رہیں۔ اسکا فائدہ شاید اقتداری سیاست کرنے والوں کو ملے۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اب شاید سندھ میں صرف پیپلز پارٹی ہی واحد فیکٹر نہ ہو۔کیونکہ جسقم بھی میدان میں موجود ہوگی۔
نواز شریف قوم پرستوں سے بات چیت میں تو مصروف ہے مگر وہ سندھ کو کیا دے سکتا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔وہ کچھ قوم پرست سیاستدانوں کو تو اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں مگر قوم پرست سیاست کو اپنے ساتھ لے لے یہ خاصا ناممکن لگتا ہے۔سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا تعین آئندہ چند ماہ میں سندھ میں صورتحال میں تبدیلی اور قوم پرستوں خاص طور پر بشیر قیریشی کی جسقم کی حکمت عملی پر ہے۔

پیپلز پارٹی کا سندھ میں امتحان -2012-01-26

Thu, Jan 26, 2012, 11:56 AM
پیپلز پارٹی  کا  سندھ میں امتحان 
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
بیسویں آئینی ترمیم  کے ذریعے نئے صوبوں کی تشکیل کا طریقہ کار تبدیل کرنے کے بل نے سندھ میں پیپلز پارٹی کے لئے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ سندھ اسمبلی میں اس آئینی ترمیم کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی کوشش اور قوم پرستوں نے ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ نیشنل پیپلز پارٹی کے رہنما اوراعتدال پسند سیاستداں مرحوم غلام مصطفی جتوئی کے بیٹے مسرور جتوئی سندھ اسمبلی میں سندھ کی موجودہ جغرافیائی سرحدوں کے آئینی تحفظ کے لئے ایک قراردد پیش کرنا چاہ رہے ہیں۔ لیکن تین مرتبہ ایسی کوشش کے باوجود انہیں قرارداد پیش نہیں کرنے دی گئی۔
نئے صوبے بنانے یا صوبوں کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی کے لئے آئین میں طریقہ کار موجود ہے۔ آرٹیکل239  کی شق4 کے تحت ایسی کسی تقسیم یا تبدیلی کے لئے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت لازمی ہے۔ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پیش کردہ بل میں نئے صوبوں کے قیام کے لئے متعلقہ صوبائی اسیمبلی کی دو تہائی اکثریت کے بجائے ریفرینڈم کے ذیعے فیصلہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جس کی سندھ کے سیاسی حلقے مخالفت کر رہے ہیں۔
اگرچہ یہ قرارداد نیشنل پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز پیش کررہے تھے مگراس پر پیپلز پارٹی  وزراء کے علاوہ دو اور اتحادی جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل اور اے این پی کے ایم پی ایز نے بھی دستخط کئے تھے۔ دستخط کرنے والے پیپلز پارٹی کے اکثریت ان ممبران کی ہے جو کبھی سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے قریبی سمجھے جاتے تھے۔ سندھ اسمبلی اگر یہ قرارداد منظور کرلیتی ہے تو ا قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی پیش کی گئے بیسویں ترمیم منظور کرانا محال ہو جائے گا اور یہ بل سیاسی اور اخلاقی حمایت سے محروم ہو جائیگا۔ لہذا ایم کیو ایم کے لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ  اس قرارداد کو سندھ اسمبلی میں روکنے کے لئے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی پر دباؤ ڈالے۔ایم کیو ایم جو اپنے کارڈز بڑے احتیاط اور سلیقے سے کھیلنے کے لئے مشہور ہے اس کے آئینی ترمیم کے بل کا راستہ بلاک کیا جا رہا تھا۔
  اس صورتحال کو دیکھ کرمتحدہ کے ایک رہنمانے وزیر داخلہ رحمان ملک کو فون کرکے بتایا کہ پیپلز پارٹی ان کی بیسویں آئینی ترمیم کے خلاف سندھ اسیمبلی میں قرارداد منظور کرانا چاہ رہی ہے۔جسے روکا جائے۔ وزیراعلی سندھ نے  اتحادیوں کی شکایت کا فوری نوٹس لیا اور اس قرارداد پر دستخط کرنے والے پی پی پی کے اراکین اسمبلی کو چیف منسٹر ہاؤس طلب کیا۔ اس اجلاس میں 30 میں سے 10 ایم پی ایز نے شرکت نہیں کی۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے اراکین سے وزیر اعلی نے پوچھ گوچھ کی کہ انہوں نے کس کی اجازت سے ایم کیو ایم کی بیسویں ترمیم کے خلاف قرارداد پر دستخط کئے۔اور انہیں بتایاگیا کہ یہ عمل پارٹی پالیسی کے خلاف ورزی ہے۔ اراکین نے بتایا کہ انہوں نے ووٹروں کے مطالبے پر دستخط کئے ہیں اور اگر وہ اپنی دستخطوں سے دستبردار ہوئے تو اپنے حلقہ انتخاب میں نہیں جا سکیں گے۔تاہم وزیراعلی نے انہیں اب خاموش رہنے کی تلقین کی۔
نیشنل پیپلز پارٹی سندھ میں حکمران اتحاد میں شامل ہے۔صوبائی کابینہ میں ایک وزیر بھی شامل ہے۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے نیشنل پیپلز پارٹی  نے سنیٹ کی ایک سیٹ کی فرمائش کی تھی، اور انکار پر پیپلز پارٹی کو امتحان میں ڈالا ہے۔
  نیشنل پیپلز پارٹی کے ایم پی اے مسرور جتوئی کی مجوزہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں پیش کردہ بیسویں آئینی ترمیم کے بل پر سندھ کے عوام کو شدید تحفظات اور خدشات ہیں۔ یہ اسمبلی آئین کے آرٹیکل239 کی شق 4 میں ترمیم کی مخالفت کرتی ہے۔اس آئین  پر بانیان نے دستخط کئے تھے جس میں سندھ کی سرحدوں کو تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔یہ اسمبلی اور سندھ کے عوام ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جو مستقبل میں سندھ کی تقسیم میں معاون و مددگار بنے۔اسپیکر نثار کھڑو نے اپنی صفائی پیش کی کہ ان کا کوئی قصور نہیں، ایم کیو ایم بھی ایک ایسی قرارداد لانا چاہ رہی ہے۔
اگرچہ ایم کیو ایم کی رابطہ کیمٹی کے فاروق ستاراندرون سندھ کے دورے کے دوران اور پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد سندھ اسمبلی میں یہ کہ چکے ہیں کہ وہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔ مگر سندھ کے مختلف حلقوں کی ان یقین دہانیوں سے تشفی نہیں ہو سکی۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی تمام تر سیاست کا محور کراچی اور سندھ ہے۔ خدشہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس بنیاد پر سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ میں نئے صوبوں کی تشکیل کا طریقہ کارتبدیل کرنے کے خلاف تحفظات کا کھل کر اظہار کیا جا رہا ہے۔ دانشور حلقوں کی جانب سے مباحثے اور کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں۔  تاہم ایم کیو ایم سکھر میں جلسہ کر رہی ہے جس میں خوشحال سندھ کا نعرہ دے کر ان خدشات اور تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تاریخ سے واقف قانوندانوں کا کہنا ہے کہ بہاولپور ریاست کو ایک ایگزیکیوٹو آرڈر کے تحت مغربی پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔ اور یہ ایگزیکیوٹو آرڈ واپس لینے سے  بہاولپور ریاست  بحال ہو جائے گی۔  جس کو سرائیکی صوبہ بنایا جا سکتا ہے۔بعض حلقوں نے پیپلز پارٹی کو تجویز دی ہے کہ وہ فی الحال سرائیکی صوبے کی تجویز سے دستبردار ہو جائے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے ایک ایسا پنڈورا باکس کھلے گا  اور وہ قوتیں جو سندھ کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں وہ سندھ کا معاملہ بھی سرائیکی صوبے سے نتھی کریں گی۔ جس میں سب سے زیادہ نقصان سندھ کا ہوگا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کا ترمیمی بل خود سرائیکی صوبے کی راہ روک دے گا۔اور پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیاں اختلافات کی ایک  اور وجہ بن جائے گا۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی، جیئے سندھ قومی محاذ،  جیئے سندھ محاذ،عوامی تحریک، سندھ نیشنل فرنٹ اور دیگر پارٹیوں پر مشتمل سندھ بچاؤ کمیٹی نے بیسویں ترمیم کا آئینی بل واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔اورا28 جنوری کو بیسویں آئینی ترمیم کے بل کے خلاف صوبے بھر میں ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ایم کیو ایم کے سکھر والے جلسے کے ایک دن بعد یہ ہڑتال کی جا رہی ہے۔ قوم  پرست  لیڈروں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے بعدبھی بیسویں آئینی ترمیم کا بل واپس نہ لیا گیا تو لانگ مارچ، ہڑتالوں کے ذریعے حکمرانوں کا چلنا دوبھر کردیں گے۔ چند ماہ قبل صوبے میں دو طرح کے بلدیاتی نظام رائج کرنے کے خلاف سندھ بھر میں کامیاب ہڑتال ہو چکی ہے۔
پتہ چلا ہے کہ اب پیپلز پارٹی اس اشو پرصوبائی اسمبلی میں نئی قرارداد لانا چاہتی ہے۔ مگر اس میں آئین کے آرٹیکل  239کی شق4میں ترمیم کاذکر نہیں ہوگا۔یوں پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی ناراضگی سے بھی بچنا چاہتی ہے اور سندھ میں موجود بے چینی کو بھی ٹھنڈا کرنا چاہتی ہے۔ لیکن نیشنل پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہناہے کہ پیپلز پارٹی کی تجویز کردہ قرارداد میں مسرور جتوئی کی قرارداد کی روح شامل نہیں ہوگی۔
 پیپلز پارٹی اپنی جانب سے کوئی قرارداد پیش کرکے اسمبلی کے اندرجو سیاسی پیش رفت ہوئی تھی اس سے تو بچ سکتی ہے اور اپنی اتحادی جماعت کا بھی تحفظ کرسکتی ہے مگر سڑکوں پر احتجاج کا کیا کرے گی؟ اور صوبے بھر میں موجود رائے عامہ کو کیسے بدل دے گی؟ یہ اس کے لئے ایک
 امتحان ہے۔

Wednesday, 4 March 2020

سیاسی کشمکش کا مرکز اب سندھ 2011- 11-21

Mon, Nov 21, 2011 at 4:15 PM
سیاسی کشمکش کا مرکز اب سندھ
میرے دل میرے مسافر 
سہیل سانگی  
گذشتہ ماہ  سیاسی رسہ کشی کا مرکز پنجاب تھا۔ مگر ماہ رواں میں یہ مرکزواپس سندھ منتقل ہو گیا ہے جو حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کی سرزمین ہے۔سندھ میں روایتی طور پر ایم کیو ایم کے ساتھ  ان بن رہتی ہے۔ پر اس بار یہ ان بن اور رسہ کشی حکمراں اتحاد کی جماعت کے بجائے  خود پیپلز پارٹی کے اندرہے۔ اس بحرانی کیفیت کے دوران پتہ چلا کہ سندھ اسیمبلی میں بیس کے لگ بھگ اراکین مرزا کے حامی ہیں۔ تاہم کم از کم چار ایسے لوگ ہین جنہوں نے کسی پارٹی ایکشن کی پرواہ کئے بغیرکھلے عام ڈاکٹر مرزا کی حمایت  کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال سے عیاں ہوا کہ  خود سندھ میں پارٹی کے اندر  توڑ پھوڑ اور بحران موجود ہے۔ 
 مسلم لیگ پاکستان کی مدر پارٹی ہے۔ یہ نیا ملک بنا بھی اور ٹوٹ بھی گیا۔ بالکل جس طرح سے ملک ٹوٹنے کے باوجود قائم ہے اسی  طرح مسلم لیگ کئی حصوں میں تقسیم ہونے کے باوجود  اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔  مسلم لیگ،  مسلم لیگ نواز، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ قیوم  بقول زرداری کے مسلم لیگ قاتل کے ناموں سی کئی ایک گروپ موجود ہیں۔ 
کہتے ہیں کہ بڑی پارٹیاں میلے کی طرح ہوتی ہیں۔جس میں کچھ لوگ جاتے رہتے ہیں تو دوسرے آتے رہتے ہیں۔ سندھی کے مشہور کہاوت ہے کہ ایک دیہاتی میلہ دیکھنے گیا تو اسکی پگڑی کسی نی چرا لی۔ جب اس سے کسی دواست نے میلے کا حال احوال پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ میلہ  لگا ہی اسکے پگڑی چرانے کے لئے تھا۔ پیپلز پارٹی بھی ایک ایسا ہی میلہ ہے۔چوالیس پینتالیس سال گذرنے کے بعد ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ آخر یہ میلہ لگا کس کی پگڑی چورانے کے لئے تھا۔۔ان چار عشروں کے دوران کئی لوگوں کی پگڑیاں چوری ہو ئیں۔ کئی ایک نے اس پارٹی کے میلے میں آکر نئی پگڑیاں پہنی۔ 
سندھ سے ذوالفقار مرزا پہلے شخص ہیں جو اسیمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوئے۔ اور اب شاہ محمود قریشی نے بھی قومی اسیمبلیی کی رکنیت سے استعیفا دیا ہے۔ مستقبل میں وہ کون سی پگڑی پہنیں گے۔یہ وقت بتائے گا۔ نصف صدی تک بڑی بڑی آمریتیں جس پارٹی کو توڑ نہ سکیں۔لگتا ہے کہ اس کی پگڑی اس کے اپنے ہی لوگ اتار رہے ہیں۔گولاڑچی میں سابق وزیر داخلہ اور موجودہ  وزیر داخلہ کے ایک دوسرے کے گریبان میں ہاتھ یہی کہانی  سناتی ہے۔  
زرداری سیاستداں نہ ہونے کے باوجود گذشتہ دو ڈھائی عشروں سے ملک کی سیاست کے اہم اور متحرک کردار رہے ہیں۔ انہوں نے کئی تکلیفیں بھی دیکھی پر اس سے زیادہ مزے لئے۔ ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ پر اسے طرح سے ان کے مخالفین بھی لاتعداد ہیں۔انکو محبتیں بھی بہت ملی ہیں تو نفرتیں بھی ان گنت ہیں۔نوابشاہ سی نودیرو تک کا سفر کرنے والے زرداری کی قسمت میں وزیر اعظم ہاوس آیا، تو جیل بھی ان کے لئے ناگزیر بنا رہا۔ انکے لئے مشہور ہے کہ وہ یاروں کے یار ہیں۔ پر وہ دشمنوں کے کتنے دشمن ہیں، یہ بات ابھی مفاہمت کے پردے میں چھپی ہوئی ہے۔جب یہ پردہ اٹھے گا تب اصل حقیقت سامنے آئے گی۔ 
 قریشی صاحب کے پارٹی چھوڑنے پر پیپلز پارٹی کا ردعمل ایک تو وہی روایتی ہے کہ کسی کے جانے سی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس جس نے پارٹی چھوڑی وہ خود ختم ہوگئے۔ذوالفقار مرزا نے جب پارٹی چھوڑی تو انکا ٹارگٹ  ایم کیو ایم اوردوسرے وزراء تھے پر قریشی صاحب نے پارٹی چھوڑی ہے تو انکا ٹارگٹ زرداری صاحب خود ہیں۔
ذوالفقار مرزا اور شاہ محمود قریشی میں ایک اور بھی فرق ہے۔  ڈاکٹر مرزا کی مخالفت کا بنیادی نکتہ ایم کیو ایم ہے۔ ایم کیو ایم کے مخالفت سندھ کے اندر ایک مقبول رجحان ہے۔ جس کی وجہ سی نہ صرف مرزا کوعام لوگوں میں پزیرائی ملی بلکہ خود پیپلز پارٹی کے صفوں میں  ان کے حامی موجود ہیں۔ صدر آصف زرداری سے اراکین اسیمبلی کی ملاقاتوں  اور بعض مرزا کے حامیوں کے خلاف کارروایوں کے باوجود پیپلز پارٹی کی دو اراکین اسیمبلی ڈاکٹر امداد پتافی اورشرجیل میمن جن کے پاس وزارت اطلاعات کا قلمدان تھا، دونوں لندن تک ڈاکٹر مرزا کے 
 ساتھ گئے یہ اور بات ہے کہ اس کے عوض انکو اسیمبلی کی نشست سے ہاتھ دھونا پڑا۔ صرف اتنا ہی نہیں ان تمام واقعات رونما ہونے کے باوجود اٹھارہ نومبر کے سندھ اسمبلی کے اجلاس  کے موقع پر خاتون رکن اسیمبلی عائشہ کھوسو نے بہ بانگ دہل ڈاکٹر مرزا  کی حمایت کی۔ اور کہا کہ وہ اور کئی اراکین اسیمبلی ڈاکٹر مرزا کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ موقعہ ایم کیو ایم کے قرارداد نے فراہم کیا جس کے ذریعے وہ پارٹی کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف بد زبان استعنال کرنے والوں کے مذمت کرنا چاہ رہے تھے۔
اصل میں ایم کیو ایم کو اس بات پر بہت غصہ تھا کہ ڈاکٹر مرزا، ملک کی اندر ایم کیو ایم اور اسکے سربراہ کے خالف سخت زبان استعمال کرنے کے بعد اب لندن میں بھی وہ یہی کام کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم نے موقعہ غنیمت جانا اور  ایوان میں  ڈاکٹر مرزا کا نام لے کر مذمتی  قرارداد پیش کردی۔ اس قرارداد نے پیپلز پارٹی کو اپنے اتحادیوں کے ہاتھوں تقریبا بے بس کر ڈالا۔  تاہم پیپلز پارٹی کے بعض سنجیدہ رہنماوں نے صورتحال کو بھانپ لیا اور ایم کیو ایم کے قرارداد  کو تبدیل کیا اور ڈاکٹر مرزا کا نام اس سے خارج کرایا۔ اس کے کئے اثرات مرتب ہوئے۔ ایک یہ کہ  ڈاکٹر مرزا کو پیپلز پارٹی کی حمایت مل گئی۔ دوسرے یہ کہ پیپلزپارٹی اگر یہ قرارداد منظر کر لیتی تو آئندہ بھی ایسی قراردادوں کا راستہ کھل کھل جاتا۔
فی الحال اس قرارداد نے سندھ میں پیپلز پارٹی کے اندر گروہ بندی کو ظاہر کردیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ جنہوں نے پارٹی چھوڑی وہ خود ختم ہو گئے۔مگر اس پہلے پارٹی چھوڑنے والوں کے مقابلے میں بھٹوز تھے۔ اور اب زرداری ہیں۔کیا زرداری کی مخالفت کرنے والے اس طرح ختم ہو سکتے ہیں جیسے بھٹوز کی مخالفت کرنے والے۔لگتا تو مشکل ہے۔ دیکھیں مخالفت کا یہ جو میلہ لگا ہے اس میں کس کے پگڑی اترتی ہے۔