Showing posts with label Sindh Situation. Show all posts
Showing posts with label Sindh Situation. Show all posts

Tuesday, 10 March 2020

سندھ کا انتخابی منظر نامہ -Apr 22, 2013

Mon, Apr 22, 2013 at 10:44 AM
سندھ کا  انتخابی منظر نامہ  
سہیل سانگی
تمام سیاسی جماعتوں نے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اور انتخابی مہم باضابطہ شروع ہوگئی ہے۔  سندھ میں پیپلز پارٹی بطور پارٹی کے ابھی تک انتخابی مہم شروع نہیں کر سکی ہے اور نہ ہی کوئی بڑا سیاسی شو کر سکی ہے۔ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ضلع سطح پر جلسے کئے جائیں گے۔ نواز شریف ٹنڈوالہیار میں انتخابی مہم کا جلسہ کر رہے ہیں۔ 
سندھ کے لیے یہ کہا جارہا تھا کہ یہاں بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے۔یہ تبدیلی کیا شکل اختیار کر رہی ہے؟ اس کے لیے انتخابی منظر نامے پر نظر ڈالتے ہیں۔حالیہ انتخابی عمل سندھ میں کسی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتا نظر نہیں آتا۔ پیپلز پارٹی ہو یا دس جماعتی اتحاد یا بشمول فنکشنل اور نواز لیگ، سب کے پاس امیدوار وڈیرے ہی ہیں۔ لہٰذا یہ  وڈیرہ بمقابلہ وڈیرہ۔
 سندھ کی قوم پرستوں میں سے سوائے تین پارٹیوں  ڈاکٹر قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی،پلیجو کی  قومی عوامی تحریک اور جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے باقی نصف درجن کے قریب پارٹیاں اور گروپ جس میں جیئے سندھ محاذ، جیئے سندھ قومی محاذ کے دونوں دھڑے، جیئے سندھ متحدہ محاذ وغیرہ انتخابات سے باہر ہیں۔یہ جماعتیں پارلیمانی سیاست کو سندھ کے دکھوں کا مداوا نہیں سمجھتی ہیں۔۔لہٰذا یہ خواب کہ سندھ کے قوم پرست مین اسٹریم سیاست کا حصہ بن پائیں گے شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ 
 حیرت انگیز بات ہے کہ سندھ کے ادیبوں کا ایک گروپ سندھ کے نام پر  دس جماعتی اتحاد کی ہی نہیں بلکہ بعض پیپلز پارٹی کے مخالف وڈیروں کی حمایت کر رہا ہے۔ماضی میں سندھ کے ادیبوں اور شاعروں کا کردار روشن خیال اور جمہوری رہا ہے۔ 
 انتخابات سیاسی کم اور ذاتی زیادہ ہوگئے ہیں۔ نہ سیاسی نعرہ موجود ہے اور نہ ہی سیاسی  جماعتیں بطور جماعت کے۔ سندھ میں متبادل کے طور پر پیش کئے جانے والے دس جماعتی اتحاد نے بھی کوئی پروگرام یا منشور کا اعلان نہیں کیا۔ اصل میں یہ سیاسی اتحاد کم اور سیٹ ایڈجٹسمنٹ کا معاملہ زیادہ ہے۔ 
مختلف گروپوں کی جانب سے کسی کی حمایت یا مخالفت کی کسوٹی بھی ذاتی تعلقات اور اثر رسوخ ہے۔عمرکوٹ میں فنکشنل لیگ تحریک انصاف کے امیدوار شاہ محمود کی حمایت کررہی ہے جبکہ یہ جماعت مسلم لیگ نون کی اتحادی ہے۔ ارباب گروپ تھر میں شام محمود کے ساتھ مقابلے میں ہے۔ مگر اس حلقے میں وہ ملتان کے پیر کی حمایت کر رہا ہے۔ 
 ایم کیو ایم نے بظاہر تو 127 نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ اور اے این پی نے قومی کے 17 اور صوبائی کے 36 حلقوں سے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن عملاایم کیو ایم اور اے این پی نے شہری علاقوں کراچی حیدرآباد اور میرپرخاص کو فوکس کیا ہے۔متحدہ کراچی کی بیس میں سے سترہ  قومی کی اور 42 صوبائی  میں سے 35 صوبائی  حلقوں کو فوکس کیا ہے۔پیپلز پارٹی کراچی میں ملیر اور لیاری کو فوکس کیا ہے۔
مسلم لیگ نون دس جماعتی اتحاد کے امیدواروں اور پی پی مخالف تمام امیدواروں کو اپنی چھتری کے نیچے قرار دے رہی ہے۔تاہم تاحال یہ اعلان نہیں کیا کہ اس پارٹی کے اپنے کتنے امیدوار میدان میں ہیں۔مجموعی طور پر فنکشنل لیگ، نواز لیگ اور قوم پرستوں پر مشتمل دس جماعتی اتحاد نے قومی کی 47 اور صوبائی کی 97نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ 
 پیپلز پارٹی ابھی بھی صوبے میں واحد پارٹی ہے جس نے تقریبا ہر حلقے میں اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔سابق حکمران اتحاد میں سے مسلم لیگ قاف کا سندھ میں صفایا ہوچکا ہے۔ اس اتحاد میں شامل باقی جماعتیں یعنی پی پی، ایم کیو ایم اور اے این پی اگرچہ بظاہر ایک دوسری کی حمایت نہیں کر رہی ہیں تاہم  ان جماعتوں نے 2008ع کے انتخابات کی پوزیشن کو تسلیم کرکے ایک دوسرے کے زیر اثر حلقے میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔صرف 137حلقوں میں پی پی اور متحدہ کے امیدوار دس جماعتی اتحاد  کے مدمقابل ہونگے۔ دس  فیصد حلقوں میں پارٹی کے ناراض امیدوار بھی کھڑے ہیں۔
دس جماعت اتحاد نے قومی کے دس اور صوبائی کے 37 حلقے خالی چھوڑے ہیں۔ جن پر مخدوم شاہ محمود قریشی،  شیرازی، اور لنڈ گروپ کے امیدوار ہیں۔ آزاد امیدوار طور انتخاب لڑنے والے صرف نام میں آزاد ہیں۔ انکو دس جماعتی اتحاد یا پھر پی پی مخالف گروپوں کی حمایت حاصل ہے۔ 
ٹکٹ کے معاملے پر پیپلز پارٹی قیادت کو کارکنوں کی جانب سے کئی مقامات پر مزاحمت کا سامناہے۔ ہلکی پھلی بغاوت کے بھی آچار دکھائی دیئے۔ لیکن متبادل  نہ ہونے کی صورت میں یہ مزاحمت اور بغاوت کوئی زیادہ رنگ نہیں لائے گی۔ 
مہر، مزاری، ڈاہری، چانڈیو، لاڑکانہ کے انڑ کو پیپلز پارٹی نے اپنا بنایا۔ جبکہ ٹکٹ کے معاملے پر ٹھٹہ کے شیرازی، ملکانی اور گھوٹکی  کے لنڈ گروپ پی پی سے دور ہوئے۔ پیر آفتاب حسین شاہ جیلانی، سیف اللہ دھاریجو، غنی تالپور، اورمظفر شجراع کارنر ہوئے۔ عبدالواحد سومرو، زاہد بھرگڑی، میاں مٹھو، گل محمد جکھرانی، جام تماچی انڑ، پیر امجدشاہ جیلانی کو ٹکٹ نہ ملی۔ لاڑکانہ کے عباسی برادران  پیپلز پارٹی سے دور ہوگئے۔بعض سیاسی خاندان کسی بھی پارٹی میں جگہ نہ حاصل کرسکے۔ ان میں  عمرکوٹ کے پلی، میرپورخاص کے تالپور شامل ہیں۔ 
اختلافات نوز شریف کے زیر سایہ قائم دس جماعتی اتحاد میں بھی ہیں۔ جن میں سے بعض کو ٹھنڈا کیا گیا ہے لیکن نوشہروفیروز اور شکارپور وغیرہ میں یہ اکتلافات موجود ہیں۔ جس کو شہباز شریف کا گزشتہ ہفتے کا دورہ بھی ختم نہیں کرا سکا ہے۔ 
صوبے میں سیاسی طور پر پیپلز پارٹی کو سخت مخالفت کا سامنا ہے۔یہ مخالفت فی الحال رائے عامہ بنانے والے عناصر کر رہے ہیں۔ لیکن انتخاب کے حوالے سے پیپلز پارٹی نے کچھ کھویا بھی تو کچھ پایا بھی کیا کھویا کیا پایا۔ پی پی اپنی اس حکمت عملی میں کامیاب نظرآتی ہے کہ کوئی بھی اسمبلی ممبر بننے جیسا بااثر شخص پارٹی کے دائرے سے باہر نہ رہے۔یہ الگ بات ہے کہ اس کے نتیجے میں پارٹی کارکن ناراض ہوئے اور بعض جگہوں پرتنظیمی طور رپربھی پارٹی کو  نقصان پہنچا۔
سندھ  کے انتخابات کی سیاست میں آج بھی دو درجن سیاسی خاندان اور نصف درجن سجادہ نشین حاوی ہیں۔ دونوں بڑی جماعتوں نے وڈیروں کو اہمیت دینے میں ایک دوسرے سے مسابقت لے رہی تھیں، نیتجے میں نیا طبقہ کردار ادا کرنا چاہ رہا تھا اس کو اسپیس ہی نہیں ملا۔ لہٰذا  ان انتخابات  ماضی سے سے کوئی زیادہ مختلف نظر نہیں آتے۔

سندھ میں متبادل قیادت کا خواب - Apr 18, 2013

Thu, Apr 18, 2013 at 1:07 AM
سندھ میں متبادل قیادت کا خواب
سہیل سانگی
پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے سندھ میں تشکیل کردہ دس جماعتی اتحاد  سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے سوال پر اختلافات کا شکار ہو گیا ہے۔ اور کئی مقامات پر اتحاد میں شامل جماعتوں نے اپنے علحدہ امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اتحاد میں شامل جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف میڈیا میں بیان بازی بھی کر رہی ہیں۔ یہ گرانڈ الائنس پیر پاگارا کی چھتری کے نیچے قائم ہوا اور ان کا اتحاد  نواز لیگ سے ہے۔کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ نواز شریف  سے سندھ کی صورتحال نہ سنبھل سکی تو سندھ کا ٹاسک اب فنکشنل لیگ کو دے دیا گیا ہے جس کو حکومت میں اب جونئر پارٹنر کے طور پر لیا جائے گا؟ پرانے سیاسی لوگوں کا کہنا ہے کہ اب  اسلام آباد کے لیے سندھ کے قوم پرست  ترجیحات میں تیسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔ 
سندھ کی قوم پرست جماعتیں جو اپنی نوعیت میں ترقی پسند اور سیکیولر جماعتیں رہی ہیں اور پیروں، میروں  اور وڈیروں کے خلاف جدوجہد کرتی رہیں ہیں اب میروں پیروں کی قیادت میں آکر بیٹھی ہیں۔ نہ صرف اتنا بلکہ جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام جیسی مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کئے ہوئے ہیں۔
 ماضی میں بھی اس طرح کے اتحاد  بنتے رہے ہیں۔ سندھ قومی اتحاد  1988 کے اتخابات کے موقع پر بنا تھا۔ اس وقت جی ایم سید زندہ تھے۔ نوے کی دہائی میں بھی سندھ قومی اتحاد کے بینر تلے قوم پرستوں نے انتخابات میں حصہ کیا۔ دونوں موقعوں پر ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی سے تھا۔جس کا اور کسی کو فائدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو  دادو کے جتوئی خاندان کو فائدہ ہوا۔ اور وہ صوبے کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کر سکے۔ مگر اس مرتبہ قوم پرست کسی اور فائدہ دینے کے موڈ میں نہیں لگتے۔
موجودہ دس جماعتی اتحاد کی بنیاد قوم پرست تھے جنہوں  چند برس پہلے سندھ نیشنل الائنس  (سپنا)کے نام سے قومپرستوں کا اتحاد بنایا تھا۔ گزشتہ سال متنازع بلدیاتی قانون نافذ ہونے پر مسلم لیگ فنکشنل جو  چار سال تک پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل تھی وہ بھی میدان میں آگئی۔ جس کے بعدسندھ کی سیاست کچھ عرصے کے لیے فنکشنل لیگ کی قیادت میں چلی گئی تھی۔ 
نواز شریف اس مرتبہ اس سندھ میں مختلف حکمت عملی اختیار کی ہے۔ انہوں نے اپنی  پارٹی کو سندھ میں منظم کرکے براہ راست سندھ کا اسٹیک ہولڈر بننے کے بجائے اس بات کو ترجیح دی کہ الیکٹ ایبلز کے ساتھ اتحادبنایا اور سندھ دوست ہونے  کے ثبوت کے طور پر قوم پرستوں سے اتحاد کیا۔
سندھ کے معاملات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی اس حکمت عملی پر یہ تنقید کر رہے ہیں کہ ان کو مستقل بنیادوں پر سیاست کرنی ہے تو  موقع پرستوں پرانحصار کے بجائے مکمل متبادل کے طور پر سامنے آنا چاہئے۔ صرف  نہیں کرنا چاہئے۔ موقع پرست ہرحکومت میں شامل ہوتے ہیں اور اپوزیشن میں بیٹھنے کے لیے تیار نہیں۔ مختلف بااثر لوگوں کو ملا کر وہ اپناکام نکال سکتے ہیں مگر سندھ کے لوگوں کو کچھ ڈلیور نہیں کرسکیں گے۔
لیاقت جتوئی مشرف دور میں وفاقی وزیر رہے۔ مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل حالیہ دور میں پیپلز پارٹی کی اتحادی رہی ہیں۔ان تجزیہ نگاروں کے مطابق نواز شریف کی پالیسی میں یہ نقص ہے اور وہ سندھ میں دور رس یا دیرپا سیاسی مفادات نہیں رکھنا چاہتے۔  
سندھ میں اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے کہ علامہ طاہرالقادری کے دھرنے کے موقع پر نواز شریف نے اپوزیشن پارٹیوں کا رائیونڈ میں اجلاس بلایا  اور جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچانے کے عزم کا اظہار کیا تو سندھ کی کسی بھی قوم پرست پارٹی کو نہیں بلایا۔جبکہ بلوچستان، پختونخوا یہاں تک کہ کراچی سے بھی  مختلف جماعتوں کو مدعو کیا گیا تھا۔
سندھ میں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نواز شریف براہ راست سندھ میں اپنا سیاسی اسٹیک شو کرے اور اسکے ساتھ ساتھ سندھ کے قوم پرستوں سے وہ براہ راست بات کریں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ فنکشنل لیگ کے حوالے کرنے سے باثر وڈیرے ہی آگے آئیں گے اور قوم پرستوں کی سنی نہیں جائے گی۔یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ اتحاد کسی پروگرام کے بجائے صرف پیپلز پارٹی کی مخالفت میں کیوں؟ اس اتحادکا پروگرام یا منشور کیا  ہے؟ اس کو کیوں نہیں سامنے لایا جارہا ہے۔
سندھ کے حلقوں میں یہ بات شدت سے کہی جا رہی ہے کہ اگر وڈیروں پر ہی اعتماد کا اظہار رکان ہے اور انہیں ووٹ دینا ہے تو پیپلز پارٹی  اور فنکشنل لیگ میں سے ایک کو منتخب کرنا ہے۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی میں کیا برائی ہے؟  ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فنکشنل لیگ بھی جیت کر آتی ہے تو وہ بھی ایم کیو ایم سے اتحاد کرکے حکومت بنائے گی۔ یہی کام پیپلز پارٹی پہلے سے کر رہی ہے۔ 
دس جماعتی اتحاد میں پہلا اختلاف قاسم آباد کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر ہوا جہاں پر سندھ ترقی پسندپارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی اورعوامی تحریک کے ایاز لطیف پلیجو دونوں اتخاب لڑنا چاہ رہے تھے۔بعد میں قادر مگسی اس نشست سے دستبردار ہوگئے۔  لیکن اس سے پہلے انہوں ایک جلسہ عام میں ایاز لطیف پلیجو کو خاصا لتاڑا۔
اپریل  کے دوسرے ہفتے میں اتحاد نے  مختلف نشستوں پرامیدوروں کے ناموں کو حتمی شکل دی۔ دوسرے روز جیمعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما خالد محمود سومرو نے ان حلقوں سے اپنی پارٹی کے امیدوروں کا اعلان کیا۔ اس کے بعد سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سندھ پاگارا کی نہیں ہے۔اس خام خیالی سے نکلنا پڑے گا۔اتحاد نے ہمیں اہمیت نہیں دی ہے لہٰذا ہم الگ امیدورا کھڑے کر سکتے ہیں۔ 
 جیکب آباد میں جے یو آئی کے امیدوروں نے الگ سے اپنے پارٹی کی ٹکٹ جمع کرادی ہیں۔ فنکشنل لیگ دادو کے صدر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) انہیں اہمیت نہیں دے رہی۔ نون لیگ اور لیاقت جتوئی دادو کو اپنی جاگیر سمجھ رہے ہیں۔ نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ غلام مرتضیٰ جتوئی کا کہنا ہے کہ دس جماعتی اتحاد کے فیصلے کے تحت تمام جماعتیں نوشہروفیروز سے دستبردار ہوگئی ہیں لیکن نون لیگ کے امیدوار کھڑے ہیں۔اس طرح کی صورتحال بعض اور حلقوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اتحادی جماعتوں کی انا کو دیکھتے ہوئے یہ اختلافات ناقابل حل نظر آتے ہیں۔
سندھ  میں یہ بات بھی سنائی دے رہی ہے کہ انتخابات کے نتائج کے بارے میں اسلام آباد کی رائے تبدیل ہوگئی ہے۔ پہلے یہ رائے پیپلز پارٹی کے خلاف تھی اور یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ پیپلزپارٹی مکالف سیٹ اپ وجود میں آئے گا۔ لیکن اب یہ کہا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو جڑ سے اکھاڑنے کا منصوبہ باقی نہیں ہے۔ اس کے بجائے مخلوط حکومت کے فارمولا پر کام کیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم اور قاف لیگ کے مشاہد حسین نے ایک ہی دن ایک ہی طرح کی بات کہی ہے۔ دونوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کوئی بھی پارٹی اکیلے طور رپ اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی، لہٰذا مخلوط حکومت وجود میں آئے گی۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ مرکز میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ملکر حکومت بنائیں گی جبکہ پنجاب میں نواز لیگ اور سندھ میں پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے دی جائے گی۔ 
پیپلز پارٹی کے خلاف وسیع تر اتحاد کی کوششوں میں سب سے بڑا نقصان قوم پرستوں کو ہوا  جو متبادل قیادت سمجھے جاتے تھے اور اپنی الگ  شناخت رکھتے تھے۔ لیکن اب یہ دونوں چیزیں ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہیں۔ اس سے بہتر یہ تھا کہ وہ قوم پرست شناخت کے ساتھ الگ انتخاب لڑتے۔ اس کے علاوہ  پیپلز پارٹی کے خلاف محاذ بنانے کا خواب بھی ادھورا دکھائی دیتا ہے۔

سندھ میں تبدیل کیا ہوا؟ Mar 3, 2013

Sun, Mar 3, 2013 at 10:38 PM
سندھ  میں تبدیل کیا ہوا؟ 
سہیل سانگی 
گزشتہ ڈیڑھ سال سے نواز شریف کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اپنی پارٹی کو ملک گیر پارٹی کے طور پر منوائے۔لیکن  پنجاب کو چھوڑ کرر باقی صوبوں میں یہ کام وہ  پارٹی کی مخصوص پالیسیوں، تنظیمی رکاوٹوں او ر ٹیم  میں بااعتماد ساتھیوں کی کمی کے باعث نہ کرسکے۔سندھ میں انہوں کچھ تجربے کرنے کی کوشش کی۔ممتاز بھٹو اور لیاقت جتوئی کی شمولیت اس سلسلے کی کڑی ہیں۔اس کے علاوہ ماروی میمن نے عوامی سطح پر جانے کی بھرپور کوشش کی۔مگر پارٹی مرکزی قیادت اور صوبے میں موجود بااثر شخصیات نے انہیں مزید کام کرنے سے روک دیا۔یہ کوئی اتنا خاص کامیاب تجربہ بھی نہیں تھا جسے دوسرے صوبوں میں بھی دہرایا جاسکے۔ 
اس صورتحال کے پیش نظر نواز شریف نے ملک بھر میں پارٹی کو منظم کرنے کے بجائے اتحادوں کی سیاست پر انحصار کیا۔ بلوچستان میں سردار مینگل سے عملی مفاہمت پیدا کی۔جس کے بعد اسلام آباد اور لاہور کے دانشوروں نے سرادار اختر مینگل کے بیانات کووفاق کی طرف بڑھایا ہوا آخری ہاتھ اور آخری آواز قرار دیا۔
نواز شریف کی کوششوں سے ابھی سندھ میں 22 جماعتوں نے پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابی اتحاد بنایا ہے۔ جس سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ پیپلزپارٹی اکیلی ہو گئی ہے۔ اور آئندہ انتخابات میں اس پارٹی کی جیت مشکوک ہوگئی ہے۔ 
 نواز شریف نے جب اس مرتبہ سیاست شروع کی تو  انہوں نے سندھ میں مختلف گروپوں کے ساتھ الگ الگ انڈر اسٹینڈنگ بنائی۔ انہوں نے سندھ ترقی پسند پارٹی کے ڈاکٹر قادر مگسی، عوامی تحریک کے ایاز لطیف پلیجو  اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے جلال محمود شاہ سے الگ الگ رابطے کیے۔ 
 ان رابطوں کے بعد جلال محمود شاہ نے بھانپ لیا کہ نواز شریف کے اشتراک سے سندھ میں حکومت مخالف جو گروپ ابھر رہا ہے۔ اور نوز شریف کے پاس ان کی پارٹی میں خواہ اتحادیوں میں کوئی ایسی شخصیت موجود نہیں ہے جو سندھ میں اس لابی کو قابل قبول ہو۔  انہوں نے باقی اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر  نواز شریف سے تحریری طور پر معاہدہ کرلیا۔یوں وہ دوسرے قوم پرستوں کے مقابلے میں نواز شریف سے زیادہ قریب ہو گئے۔ ایسا کرکے جلال محمود شاہ نے لیاقت جتوئی کے نمبر کم کردیئے۔ جو سندھ میں نواز شریف کی لابی کی سندھ میں سربراہی کے خواہان تھے۔ لیاقت جتوئی نے حال ہی میں منعقد ہونے والے سیوہن کے ضمنی انتخابات میں جلال محمود شاہ پر اپنا غصہ یوں نکالا کہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں سامنے اپنے میداور کو نہیں ہٹایا۔ایسا کرکے لیاقت جتوئی نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ جلال محمود شاہ کی پوزیشن خود اپنے آبائی حلقے میں بھی کوئی خاص نہیں ہے۔ 
بعد میں جب متنازع بلدیاتی نظام کے خلاف تحریک چلی تو جلال محمود شاہ بآسانی  سندھ بچایو کمیٹی کے سربراہ بن گئے۔آگے چل کر جب بلدیاتی نظام کے خلاف تحریک چلی تو مسلم لیگ فنکشنل سندھ میں حکومت مخالف تحریک کی قیادت کی دعویدار کے طور پر سامنے آئی۔ پیر پاگارا نے قوم پرستو ں جماعتوں اور دیگر گروپوں کو اپنی چھتری کے نیچے جمع کرلیا۔ 
حکومت مخالفدھڑے کے کھڑا ہونے کے بعد سندھ کے حوالے سے نواز شریف یا کسی اور کو بات کرنے کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے نہ قوم پرستوں سے  یاجلال محمود شاہ سے بات کرنے  کے بجائے پیرپاگارا سے ہی بات کی۔ ادھر نواز شریف کی ڈاکٹر قادر مگسی اور ایاز لطیف پلیجو کے ساتھ انڈراسٹینڈنگ اور جلال محمود شاہ کا نواز شریف سے کیا گیا تحریری معاہدہ دھرا دھر رہ گیا۔ اب پیر پاگارا اور نواز شریف کے درمیان ہونے والے فیصلے اہم بن گئے۔ پیر پاگارا نے اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے گزشتہ ہفتے نواز شریف سے ہونے والی بات چیت کی توثیق قوم رستوں یعنی سندھ بچایو کمیٹی  سے ایک میٹنگ میں کرالی۔ 
سندھ میں نواز شریف کی سیاست اس مرتبہ قوم پرستوں سے بات چیت سے شروع ہوئی۔ جس میں قوم پرست جماعتوں نے سندھ کے مطالبات رکھے۔ اور پنجاب اور نواز شریف کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا اور بعض یقین دہانیاں بھی مانگی۔ یوں سندھ کے مطالبات کا رخ پنجاب مخالف یا پنجاب سے کچھ لینے کے بارے میں تھا۔ 
اس اثناء میں پیپلز پارٹی پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس لے آئی۔ اس متنازع قانون نے سندھ میں تحریک کو جنم دیا۔ اور سندھ کے سیاسی حلقے اس قانون کو سندھ کی وحدت پر حملہ قرار دے رہے تھے۔ اس قانون نے جدوجہد کا رخ اور جدوجہد کی قایدت کو بدل ڈالا۔ اب جدوجہد کا رخ پنجاب مخالف نہیں بلکہ ایک کیو ایم مخالف ہوگیا۔ اس جدوجہد میں نواز شریف بھی قوم پرستوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ اس بات نے نواز شریف اور پنجاب دونوں کو سوالات اور یقین دہانیوں سے بری کرلیا۔ 
نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ فنکشنل لیگ سندھ کا کیس تب تک نہیں اٹھایا جب تک اس کا رخ پنجاب مخالف تھا۔وہ ایسے وقت میں سامنے آئی جب تضاد سندھیوں اور ایم کیوایم کے درمیان تھا۔ 
 سندھ میں نیا منظرنامہ متنازع بلدیاتی نظام لاگو کرنے کے بعد ہی بنا۔ اس چکر میں سندھ کا اصل ایجنڈا گم ہوگیا۔ اور صرف ایک ہی مطالبہ ہونے لگا کہ بلدیاتی قانون واپس لیا جائے۔ اب جب حکومت نے یہ قانون واپس لے لیا ہے۔ اور ایم کیو ایم حکومت سے علحدہ ہوگئی ہے۔ تو عملی طور پربلدیاتی نظام کی مخالفت کا ایک نکاتی ایجنڈا ہی ختم ہو گیا ہے۔ البتہ یہ شبہ اپنی جگہ پر ہے کہ انتخابات جیتنے کے بعد پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اس قانون کو دوبارہ نافذ کر سکتی ہیں۔ 
 پیپلز پارٹی نے ماضی کے تجربے سے یہ سیکھا ہے کہ اس کے پاؤں تب تک نہیں اکھیڑے جا سکتے ہیں جب تک شہری علاقے اس کے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہوں۔1977ع کی پی این اے کی تحریک، بینظیر بھٹو کی دو حکومتوں کا جانا یہی بتاتے ہیں کہ شہری علاقوں کی مخالفت کے  بعدیہ سب کچھ ہوسکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی ایم کیوایم کو ہاتھ نکلنے نہیں دے رہی ہے۔ اور ہر حال میں اسے ساتھ رکھنا چاہ رہی ہے۔ 
جہاں تک الیکشن اور سندھ میں ووٹ بنک کا سوال ہے ان دونوں پیپلز پارٹی اس طرح سے نہیں دیکھتی جس طرح سے مخالفین دیکھ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی خلاصتا وڈیروں کے اسٹائل سے انتخابی عمل کو دیکھتی ہے۔ وہ اس طرح کہ”فلاں وڈیرے یا رئیس کے پاس اتنے ووٹ ہیں۔ اس کو اس طرح یا اس طرح اپنے ساتھ ملالیا جائے گا۔ باقی کچھ ووٹ پارٹی کے ہیں۔ کوئی کوئی مضبوط مدوار میدان میں نہیں لہٰذا یہ سیٹ پکی ہے۔“
یہ صحیح ہے کہ سندھ میں سیاسی یا فکری حوالے سے پیپلز پارٹی کمزور ہوئی ہے۔ کیونکہ یہ دونوں حلقے اس کے خلاف کھڑے ہیں۔تاہم عملی طور پر یا الیکشن کے حوالے سے پیپلز پارٹی اتنی کمزور نہیں ہوئی ہے۔ نواز شریف، فنکشنل لیگ یا ان کے اتحادی قوم پرست کسی بھی حلقے میں اس کو نہیں چبھتے۔ سندھ میں فنکشنل لیگ کے پاس صوبائی اسمبلی کی 7نشستیں ہیں۔سیاسی فضا میں تبدیلی اور تمام زور لگانے کے بعد فنکشنل لیگ ایک دو نشستوں کا اضافہ کر سکیی ہے۔ اس کے علاوہ ایک دو نشستوں پر پیپلز پارٹی کو دقت درپیش آسکتی ہے۔ مگر مجموعی طور سندھ میں اس پارٹی کی نشستوں پر اثر نہیں پڑ رہا ہے اورموجودہ صورتحال میں اس کو کوئی بڑا سیٹ بیک نہیں ہے۔ 

Monday, 9 March 2020

سندھ میں گورننس کا سوال 2012-7-16

Jul 16- 2012 Question of governance in Sindh
سندھ میں گورننس کا سوال
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
پیپلز پارٹی کے گڑھ سندھ میں حکومت صرف پیپلز پارٹی کی ہی نہیں، ایم کیو ایم، مسلم لیگ فنکشنل، اے این پی اور این پی پی کی بھی ہے۔ یہ مخلوط حکومت ساڑھے چار سال مکمل کر چکی ہے اور آئینی مدت پوری ہونے میں باقی چھ ماہ ہیں۔ساڑھے چار سال کی مدت میں جو ہوا، اب وہ  چھ ماہ میں ٹھیک کرنا چاہتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ہدایت جاری کی ہیں کہ ہمارے پاس وقت کم ہے (شاید مقابلہ سخت بھی) لہٰذا سرکاری افسران قانون کی رٹ بحال کرائیں۔
 سندھ میں بھتہ خوری، اغوا، ڈاکے،  ٹارگیٹ کلنگز، ہندوؤں کے خلاف کاروائیاں عام ہیں۔دوسری طرف بیروزگاری اور بدحالی ہے ان مسائل کا دور دور تک حل نظر نہیں آتا۔گورننس نظر ہی نہیں آتی۔سندھ میں اقتدار اور اختیار کس کے پاس ہے؟پیپلز پارٹی اور اس کے وزیراعلیٰ کے پاس؟ اس کے اتحادیوں کے پاس؟ گورنر کے پاس؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ اقتدار و اختیار کا مرکز کونسا ہے۔
 سیاسی مفاہمت یا حکومت میں شراکت داری کا عجب عالم ہے۔ سندھ جہاں سب حکومت میں ہیں کوئی بھی اپوزیشن میں نہیں ہے، کیونکہ یہاں اپوزیشن بطور ذائقے یا علامت کے بھی موجود نہیں۔ مسائل ہیں کہ حل ہو کے نہیں دیتے۔اگر اس شراکت داری کو حکمرانی نہیں کاروبار کے طور پر بھی لیا جائے تو بھی اس کے شراکت دار اپنے اپنے حصہ کا کام کرتے۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ لگتا ہے کہ سب کے سب  واقعتاکاروبار کر رہے ہیں۔یہ سب فنڈز، ملازمتوں، ترقیاتی اسکیموں اور دیگر مراعات کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔اس کو بطور حق لے رہے ہیں۔ حکمرانی کے معاملات میں سب کی سب جماعتیں اپنا کوئی کردار ادا نہیں کر رہی ہیں۔ حکومت مجبور ہو کر ان کے تمام نخرے اٹھا رہی ہے۔
 وزیر اعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ اب ملازمتیں ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں تشکیل کردہ کمیٹیوں کے ذریعے دی جائیں گی۔ فوری طور پر سینئر اور وزیر تعلیم پیر مظہرالحق نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔ان کا کہنا تھا کہ بطور سینئر وزیر ان سے نہیں پوچھا گیا اور نہ ہی کابینہ کو اعتماد میں لیا گیا۔ اس کے بعد کابینہ کے دو اجلاس ہو چکے ہیں۔ مگر حکومت کی طرف سے کوئی وضاحت نہیں آئی ہے۔
 وزیر اعلی سید قائم علی شاہ نے اعلان کیا کہ اب ہر ہفتے مختلف ضلع ہیڈکوارٹرز میں کابینہ کے اجلاس ہونگے، پہلا اجلاس جیکب آباد میں ہوا، جس میں 8 وزراء اور16 افسران نے شرکت کی۔حکومتی ذرائع کہتے یہ کیسا کابینہ کا اجلاس تھا  اتحادیوں کے تحفظات ظاہر کرنے پر وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ اس اجلاس میں صرف سکھر اور لاڑکانہ اضلاع کے وزراے شرکت کریں،  باقی بھلے نہ کریں۔اب دوسرا اجلاس تھرپارکر کے شہر مٹھی میں ہوا۔ان اجلاسوں کے اثرات اور نتائج  نکلنا باقی ہیں۔ ان اجلاسوں سے ہر ضلع کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو ایک بڑا فائدہ ہوگا۔ کیونکہ اس سے ان کی کارکردگی پر پردہ آ جائے گا۔ ویسے لوگوں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ عوام سے نہیں ملتے، حلقے میں نہیں جاتے، کام نہیں کراتے وغیرہ وغیرہ۔ مگر اب وہ لوگوں کو کہہ سکیں گے اور دکھا سکیں گے کہ مسائل حل کرنا ان کے بس میں نہیں۔ وہ تو وزیراعلیٰ اور پوری کابینہ کو  لے آئے تھے۔ اصل میں وزیر اعلیٰ سندھ چاچا قائم علی شاہ جو بہت ہی شریف آدمی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، پوری ذمہ داری ان کے سر پر آجائے گی۔ 
صوبے میں کچھ اختیارات جو کہ وزیراعلیٰ کے ہیں وہ ابھی تک گورنر کے پاس ہیں جس میں صوبے کی سرکاری شعبے میں چلنے والی یونیورسٹیاں اور تعلیمی بورڈ شامل ہیں سندھ کی مختلف یونرورسٹیوں میں خاص طور پر بڑی یونیورسٹی سندھ  میں گزشتہ کئی ماہ سے بحران چل رہا ہے جہاں اساتذہ  وائیس چانسلر کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، اس بناء پر دو ماہ تک یونورسٹی بند بھی رہی اور تدریسی عمل بھی بند رہا۔ مگر گورنر نے نہ احتاج کو تسلیم کیا اور نہ ہی احتجاج کرنے والے اساتذہ سے ملاقات یا مذاکرات کئے۔ بعد میں نوابشاہ میں حال ہی میں قائم ہونے والی یونیورسٹی میں بھی بحران پیدا ہوگیا جہاں وائیس چانسلر نے پوری فیکلٹی کو ملازمتوں سے فارغ کردیا اور یہ یونیورسٹی بغیر اساتذہ کے چل رہی ہے۔ اس بارے میں جب اساتذۃ کے  وفد نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم الی شاہ سے ملاقات کی تو  انہوں نے کہا کہ انہیں ان چیزوں کے بارے میں  کچھ بھی علم نہیں ہے۔شاہ صاحب ایسے بھی نہیں ہیں کہ جھوٹ بولتے، اور یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ صوبے کے چیف ایگزیکیٹو ہیں انہیں صوبے میں ہونے والے اتنے بڑے احتجاج کا بھی پتہ نہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ چونکہ یہ سب کچھ گورنر کا دائرہ اختیار ہے لہٰذا وزیراعلیٰ نے اس بارے میں کچھ پتہ رکھنا اپنے لیے درد سر سمجھا۔ لیکن یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ وزیراعلیٰ کا اور اس کی کابینہ اور پارٹی کا حلقہ انتخاب تو سندھ ہے۔ وہیں کے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ وہیں کے اساتذہ احتجاج کر رہے ہیں۔
سندھ کے تین سینئر وزیر تھے۔ ذوالفقار مرزا چند ہفتوں تک گرجنے کے بعد بغیر برسے لاپتہ ہیں۔ پیر مظہرالحق وزیراعلیٰ سے اختلاف رکھ رہے ہیں۔منظور وسان وزیر داخلہ تھے آج کل اپنے آبائی گاؤں میں گوشہ نشین ہیں۔کبھی کوئی بھولے بھٹکے کوئی بیان آتا ہے تووہ بھی ان کا ذاتی موقف ہوتا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے رواں سال ہی انتخابات ہونے کا خواب دیکھا ہے۔ان کا یہ موقف پارٹی کی لائین سے ہٹ کرہے۔
فنکشنل لیگ، اور ایم کیو ایم کبھی خوش کبھی ناراض کے مرحلوں سے گزر رہی ہیں۔ 
 سندھ میں بیوروکریسی کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔سیکریٹری اور اعلیٰ افسران کی ایک خاصی تعداد وزراء  کے عزیز رشتہ داروں کی ہے۔مثلا وزیراعلیٰ کی بیٹی سیکریٹری ہیں۔ دو ایس ایس پیز ایم پی ایز کے بیٹے یا بھتیجے ہیں۔ مخدوم خاندان کے ایک افسر سیکریٹری گریڈ میں ہیں۔ فی الحال ڈپٹی کمشنر ہیں مگر کسی بھی وقت سیکریٹری لگ سکتے ہیں۔ کچھ سیکریٹریوں کی آپس میں رشتہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ کے ایک سیکریٹری کی بیگم  ایک محکمہ کی سیکریٹری ہیں ایسے میں، صوبے کا نظام چل رہا ہے۔
کچھ معاملات صوبے میں بلدیاتی نظام کا فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ معاملہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیاں اختلافات کی وہ سے اٹکا ہوا ہے اور صوبے میں نہ پرویز مشرف والا  ناظمی سسٹم ہے اور نہ ہی پرانا بلدیاتی نظام۔ بلکہ دونوں ہیں بھی اور نہیں بھی۔ معاملات عبوری حکمنامے پر چل رہے ہیں۔
صوبے میں محکمہ آبپاشی کی کارکردگی پرحکومت  اور  خود کابینہ کے اراکین اور اسمبلی ممبران بھی خوش نہیں ہیں۔ دو سال قبل سیلاب کی وجہ سے نۃروں میں جو شگاف پڑے تھے انکی اطمینان بخش مرمت نہیں کرا سکا ہے یا پھر گذشتہ سال کی بارشوں کا پانی جو پانچ اضلاع میں کھڑا ہو گیا تھا۔ اس کی نکاسی نہیں کر پایا ہے۔ اس دونوں معاملات پر متعلقہ محکموں اور حکومت کے موقف الگ الگ ہیں۔ ابھی دوبارہ بارش کا موسم شروع ہو چکا ہے جس میں زبردست بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ گزشتہ دو برسوں کی طرح امسال بھی کہیں تباہی نہ آئے۔اطلاعات ہیں کہ حکومت بیانات کچھ بھی دے مگر حفاظتی اقدامات سے مطمئن نہیں ہے۔یہ ہے سندھ میں مجموعی طور پر گورننس کی صورتحال۔جس میں خاصی افراتفری اور اتحادی جماعتوں، خود حکمراں جماعت کے اندر رابطے اور تعاون کا فقدان ہے۔ حکومت میں شامل جماعتیں اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کو ہی دیکھ رہی ہیں۔ عام آدمی  کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔حکومت کو اس بات کا نوکب نوٹس لے گی اور کچھ اقدامات کرے گی؟ یہ بھی کسی کو نہ سمجھ میں آرہا ہے نہ یقین ہو رہا ہے۔

سب حکومت میں، اپوزیشن نایاب۔۔۔ 2012-6-28

Thu, Jun 28, 2012, 10:30 AM
 سب حکومت میں،  اپوزیشن  نایاب۔۔۔
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ کالم۔۔ سہیل سانگی 
ایوان کے اندر اپوزیشن، سڑکوں پر اپوزیشن۔بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے۔ پریہ سب کہنے کی باتیں ہیں در اصل کوئی بھی اپوزیشن میں نہیں ہے۔ سب کے سب حکومت میں ہیں۔بس ایک رویہ ایک انداز یہاپنایا ہوا ہے کہ اپوزیشن ہے بھی اور نہیں بھی۔ کہاوت مشہور ہے کہ شتر مرغ سے کہا گیا کہ اڑ کے دکھاؤ۔ تو وہ بولا کہ جانور کبھی اڑتے ہیں۔ جب کہا گیا کہ دوڑ لگاؤ تو جواب دیا کہ پرندے کبھی دوڑتے ہیں۔ ہمارے پاس بھی سیاسی جماعتوں کا شتر مرغ والا معاملہ ہے۔ وہ  نہ اپوزیشن میں ہیں نہ حکومت میں۔
آپ ہی بتائے۔ کونسی پارٹی ہے جو حکومت سے باہر ہے؟پیپلز پارٹی تو حکومت میں ہے ہی۔ کیا ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے دعویدار کیا واقعی اپوزیشن میں ہے؟ کیسے؟ نوازلیگ کی ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت ہے جو کل آبادی کا  57 فیصد ہے۔ کیا 57 فیصد آبادی پر راج کرنے والا بھی اپوزیشن میں کہلائے گا؟ کس کس جماعت کی بات کی جائے؟ فنکشنل لیگ، قائد لیگ، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، جمیعت علمائے اسلام دیگر مذہبی جماعتیں یہاں تک کہ فاٹا سے اسمبلی ممبران بھی حکومت میں ہیں۔ اگر کوئی اپوزیشن میں ہے تو اسے بھی کسی نہ کسی طرح سیفائدہ مل رہا ہے۔ ہر ایک کو حصہ بقدر جسہ دیا ہوا ہے۔سب سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہیں۔ مگرعوام  ہیں کہ جن کے مسائل جوں کے توں ہیں حل ہو کے نہیں دے رہے۔ بلکہ ان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ذمہ داری سے بھاگنے کے لیے جواز اور دلائل کا انبار ہے۔ویسے بھی دنیا میں اتنے فلسفے اور تصورات موجود ہیں کہ بری سے بری بات کے لیے بھی دلیل مل جاتی ہے۔ نواز لیگ کی یہ دلیل ہے کہ مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، لہٰذا تمام مسائل حل کرنا اسی کی ذمہ داری ہے۔ اس کے جواب میں پی پی پی کا یہ استدلال ہے کہ پنجاب میں نواز لیگ کی حکومت ہے ملک کے بڑے صوبے کے مسائل صوبائی حکومت حل کرے۔ خاص طور پر اٹھارویں ترمیم کے بعد سب اختیارات صوبائی حکومتوں کے پاس ہیں۔ جو پارٹی  ایک صوبے  کے مسائل حل نہیں کرسکتی وہ پورے ملک کے مسائل کیسے حل کرے گی؟سندھ کا معاملہ اور بھی مختلف ہے۔ یہاں تو برائے نام بھی اپوزیشن نہیں۔ کراچی میں بدامنی پر اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم کہتی ہے کہ ان کے پاس وزارت داخلہ تو ہے نہیں کہ وہ امن وامان کی صورتحال ٹھیک کرے۔ جن کے پاس یہ وزارت ہے  یہ اسی کا کام اور ذمہ داری ہے۔ یہی ڈائلاگ ہر جماعت کے پاس ہے۔ عجب صورتحال ہے کہ ہر جماعت ذمہ دار ہے مگر کوئی بھی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں۔اس پر سندھی کی کہاوت صحیح لاگو ہوتی ہے۔ ایک بندے سے نام پوچھا گیا تو بتایا کہ نام بینگن ہے۔ جواب ملا واہ واہ نام کا نام ہے اور سبزی کی سبزی۔
عوام کی کیا حالت ہے؟ الگ الگ شہروں میں رونما ہونے کے باوجود بعض واقعات کی نوعیت، اسباب ایک جیسے ہیں، اذیتیں اور ذلتیں بھی ایک جیسی ہیں۔بالکل لوگوں کی حالت دوستووسکی کے ناول  ”ذلتوں کے مارے لوگ“ جیسی ہے۔ لوگ بیروزگاری، بھوک اور افلاس کے ہاتھوں زندگی سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اس غربت کا کئی مقامات پر مقامی آئی ایم ایف یعنی سود پر پیسہ چلانے والے افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بڑے کاروباری شہر کراچی اور ملکی پیداوار میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے والے شعبے زراعت اور دیہات سے وابستہ لوگ بھی ان سود خوروں کے ہاتھوں لوٹے جارہے ہیں۔ قرضہ واپس نہ کرنے کی صورت میں خودسوزی یا خود کشی کر لیتے ہیں۔ یہاں پر تو کسی کے آنکھوں میں دید نہیں۔ ملک اور عوام کے نام لیوا ان حضرات کو نظر نہیں آتا۔نہ لوگ نہ لوگوں کی اذیتیں۔لوگ زندگی پر موت کو ترجیح دے رہے ہیں۔لوگ اپنے جسم کو آگ لگانے کے لیے تیار ہیں اور خودسوزی کر لیتے ہیں۔اس تمام صورتحال کے پیچھے ظالم حالات ہیں۔
تاریخ پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیے ایسا آئیڈیل دور پہلے کبھی بھی نہیں آیا تھا۔ اس سے قبل کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ سب کی سب جماعتیں حکومت میں ہوں۔یہ سب مفاہمت کا کمال ہے۔پیپلز پارٹی اور س مسلم لیگ (ق) ایک دوسرے کی مخالف تھیں مگر آج  قریبی اتحادی ہیں کہ مسلم لیگ (ق) کو ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ اور 15وزارتیں دی ہوئی ہیں۔ دلیل یہ دی جارہی ہے کہ چونکہ ملک ایک مشکل اور بدترین دور سے گزر رہا ہے، لہٰذا مفاہمت  ضروری ہے۔تمام جماعتیں اختلافات بھول کر اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ اس مفاہمت کو اب پانچ سال ہونے کو ہیں مگر سنگین دور کا خاتمہ ہوکے نہیں دے رہا۔
ہر حکومت یہ رونا روتی ہے کہ اسے مسائل ورثے میں ملے ہیں۔ابھی بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔ چار سال کے بعد اس وراثت میں کچھ کمی ہونی چاہئے۔ مگر ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔شاید حکومت نے اس کو واقعی ماضی کا ورثہ سمجھ کر جوں کا توں سنبھال کے رکھا ہوا ہے۔ اور دوسری جماعتیں اس ورثے اور اثاثے میں اضافہ ہی کر رہی ہیں۔مانا کہ بجلی کی کمی مشرف دور سے ہے اور لوڈ شیڈنگ کا آغاز بھی انہیں کے دور سے ہوا۔اس حقیقت کو کیوں نہیں مانا جاتا کہ گزشتہ بیس سال کے دوران ایک بھی  نیا بجلی گھر قائم نہیں کیا گیا۔ ہمارے موجودہ بجلی گھر تقریبا اپنی میعاد پوری کر چکے ہیں، جس کے باعث نہ صرف یہ بجلی گھر  پیداوار کم دے رہے ہیں بلکہ پرانے بجلی گھروں مین بجلی تیار کرنے سے بجلی کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ یہ بھی کہ اسی عرصے میں خود بجلی کی کے استعمال میں تیس فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔اگر اس میں کمی نہیں کی جا سکتی تو کم از کم اس میں اضافہ بھی تو نہیں ہونا چاہئے۔ تیل کی قیمتیں ہوں یا بجلی کا ریٹ، عام  ضروری اشیاء کی قیمتیں مہنگائی کا گراف روزبروز اوپر جارہا ہے۔  
آمر وں سے کیاشکوہ۔ وہ نہ عوام کی مرضی سے آتے ہیں اور نہ عوام کی مرضی رکھتے۔ انہیں عوام کے پاس جانا بھی نہیں ہوتا۔جمہوری حکومتیں عوام کی متخب ہوتی ہیں انہیں دوبارہ عوام سے ہی رجوع کرنا ہوتا ہے کسی آمر کی طرح ملک چھوڑ کے نہیں جانا ہوتا۔لہٰذا سیاسی جماعتوں کو مفاہمت صرف اس لیے نہیں کرنی چاہئے کہ انہیں اقتدار میں رہنا ہے۔جب عوام کے مسائل اور مصائب کم نہیں ہوتے تو کیسے سمجھا جائے کہ سیاسی جماعتیں  جوملک کو سنگین حالات سے نکالنے کے لیے جمع ہوئی ہیں اور صوبے یا مرکز میں حکومت کر رہی ہیں وہ واقعی ملک کو سنگین صورتحال سے نکال نکال بھی پائیں گی۔
 ایک مفاہمت اس پر بھی ہونی چاہئے کہ عوام کے مسائل حل کرنے ہیں۔ اس لیے کہ ملک سنگین حالات جس کا جواز ہر حاکم وقت دیتا ہے مگربھگتنا سب سے زیادہ عوام کو ہی پڑتا ہے۔
 نقصان صرف عوام کا نہیں ہوتا، دراصل سیاسی جماعتیں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہی ہیں۔اب جب انتخابات ہونگے وہی جماعتیں  ووٹ لینے کے لیے عوام کے پاس پہنچ جائیں گی۔ ایک بار پھر ووٹ یہ جماعتیں انتخابات جیت کر دوبارہ ایوانوں میں پہنچ جائیں۔ سیاسی جماعتوں کی خراب کارکردگی اور ناہلی ایک دوسرا دروازہ کھولتی ہے ایک تو ووٹوں کا ٹرن آؤٹ کم ہوگا۔دوسرا یہ کہ سیاسی جماعتوں کے بارے میں غیرجمہوری قوتوں کے اس خیال کو تقویت ملے گی کہ سیاسی قوتوں کے پاس عوام کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں۔لہٰذا ان کوحکومتی سیاسی نظام سے ہٹایاجائے اور انکے بغیر کام چلایا جائے۔پھر ایک ایسا نظام وجود میں آتا ہے جس میں سیاسی جماعتیں  فاضل پرزہ بن کے رہ جاتی ہیں۔کیا سیاسی جماعتیں ایسا فاضل پرزہ بننے کے لیے تیار ہیں؟