Showing posts with label Elections. Show all posts
Showing posts with label Elections. Show all posts

Tuesday, 10 March 2020

انتخابی مہم کا اختتام - May 9, 2013

Thu, May 9, 2013 at 11:45 AM
انتخابی مہم کا اختتام
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی 
خوف اور غیر یقینی فضا میں انتخابی مہم بلآخر اپنے اختتام کوپہنچی۔ انتخابی مہم کے دوران جو دہشتگردی اور تشدد  واقعات ہوئے سو ہوئے مگر پولنگ کے دن بھی ایسے واقعات کوخارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔انتخابات کے اعلان سے لیکر کاغذات نامزدگی کی چھان بین اور انتخابی مہم کے دروان بھی غیریقینی چھائی رہے کہ انتخابات ہونگے یا نہیں؟۔گزشتہ ہفتے آرمی چیف جنرل کیانی کے بیان سے صورتحال بہتر ہوئی۔
 یہ انتخابات ایسے موقعے پر ہو رہے ہیں جس کے تقریبا ایک سال بعد افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی ہوگی۔مبصرین ان انتخابات کو اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اور طالبان کی انتخابی عمل میں مداخلت کو بھی اسی پس منظر میں دیکھ رہے ہیں۔ 
ملک میں دہشتگردگی اور انتہاپسندی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔مذہبی اور فرقہ وارانہ تضاد روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ امن امان کی صورتحال خراب ہورہی ہے۔ ملک کے معاشی حب کراچی میں ٹارگیٹ کلنگز کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ انتخابات ایک میلے کا سماں ہوتے ہیں لیکن یہاں سوگ  جیسی صورتحال چھائی رہی۔ انتخابات میں بعض نئے رجحانات سامنے آئے جو نہ صرف ان انتخابات پر بلکہ ملک کی آئندہ سیاست پر بھی اثرانداز ہونگے۔ 
پنجاب میں روایتی جوش خروش ہے۔ باقی تین صوبوں میں امن امان کی صورتحال ہے۔ کیا یہ انتخابات متنازع تو نہیں ہو جائیں گے؟  یہ سوال بار بار اٹھایاجارہا ہے۔

تین اہم جماعتوں اتفاق سے انکا تعلق سابق حکمران اتحاد سے ہے، انکو پہلے دھمکیاں دی گئیں کہ انتخابی عمل سے دور رہیں۔ بعد میں ان پر  دہشتگردوں کے حملے ہوئے۔ ان حملوں کی وجہ سے بدامنی کا مسئلہ بنا مگر اس کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کی ڈکٹیشن تھی کہ کس پارٹی کو آئندہ حکومت میں آنا چاہئے کس کو نہیں۔ 
بھٹو فیکٹر پاکستان کے انتخابات میں ہمیشہ اہم رہا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر 2008 تک اسٹبلشمنٹ اور پی پی مخالف  حلقے اس فیکٹر سے  تو کبھی اس کے شیڈو سے لڑتے رہے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ بھٹو فیکٹر کے بغیر انتخابات ہو رہے ہیں۔ ذائقے کے طور پر بلاول بھٹو کے ویڈیو تقاریر کو آخری ایام میں شامل کیا گیا۔ اگر پیپلز پارٹی انتخابات جیت جاتی ہے  تو یہ واقعی ثابت ہو جائے گا کہ اب یہ زرداری کی پارٹی ہے۔ 
 انتخابات میں ملکی سطح پر کوئی اتحاد نہیں بن سکا۔جو کہ پاکستان کی انتخابی تاریخ کا ایک خاصہ رہا ہے حالانکہ ایک جیسی پالیسی اور پروگرام رکھنے والی جماعتیں میدان میں موجود تھیں۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون دونوں کا جھکاؤ دائیں بازو کی طرف ہے اوربہت ساری باتوں میں ایک جیسی ہیں۔دونوں کا حلقہ انتخاب پنجاب ہے۔ مگر اتحاد نہ کر سکیں۔ ان کے اتحاد نہ کرنے کی وجہ سے پنجاب میں پہلے دو فریقی مقابلہ ہوتا تھا وہ اب سہ فریقی ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی مخالف ووٹ تقسیم ہوگیا ہے۔ پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم نے بھی کوئی اتحاد نہیں بنایا۔یہ تینوں جماعتیں حکومت میں اتحادی رہی ہیں۔ دوران حکومت صدر زرداری بارہا یہ کہتے رہے کہ اتحادی الیکشن بھی ساتھ لڑیں گے۔ انتخابی عمل شروع ہونے کے بعد تینوں جماعتوں کو دہشتگردی مشترکہ  خطرے کا سامنا رہا۔ جس نے ان تینوں کو قریب تو کیا لیکن  یہ قربت انتخابی اتحاد میں تبدیل نہ ہوسکی۔نواز شریف نے بھی مختلف جماعتوں اور گروپوں کے ساتھ ورکنگ رلیشن شپ اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ بنائی گئی۔ یہی صورتحال دوسری پارٹیوں کی بھی رہی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہورہا ہے کہ انتخابی نتائج کے بارے میں کوئی بھی قابل اعتماد پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا سیاسی گروہوں نے اپنے آپشن کھلے رکھے ہیں اور کوئی اتحاد نہیں بنایا۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم پرستوں کو میدان میں لایا گیا۔ ان کی سربراہی پیرپاگار کے ہاتھ میں دے دی گئی۔ تاکہ صورتحال قابو میں ہی رہے۔ یہ اتحاد اور پاگارا کی فنکشنل لیگ انتخابات میں کوئی زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ 

یہ بھی تاریخ کا حصہ رہے گا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندوں کے کاررویوں کی وجہ سے تین صوبوں میں عوام کے وسیع تر حلقوں کو متحرک نہیں کیا جاسکا۔خیبر پختونخوا میں اے این پی  کے امیدوار اور قیادت خطرے میں تھی تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی قیادت۔بلوچستان میں علحدگی پسندوں نے  بلوچ رہنما کی انتخابی سرگرمیاں کو بلاک کئے رکھا۔خیال کیا جاتا ہے کہ اب ان تینوں صوبوں کے سیاسی نہیں بلکہ انتظامی طور پر نمٹا جائے گا۔

پہلی مرتبہ ملک میں سیاسی ابلاغ  (پولیٹیکل کمیونیکشن) کا طریقہ کا ر تبدیل ہوا۔ اس کی ایک وجہ سیاسی مہم کو درپیش خطرات تھے تو دوسری طرف میڈیا اور کمیونیکیشن کی نئی ٹیکنالاجی کی دستیابی بھی تھا۔ ٹی وی پر ویڈیو ز، اخبارات میں اشتہارات، ویڈیو لنک سے خطاب عام رہا۔ خاص طور پر پیپلز پارٹی نے اسکا بھرپور استعمال کیا۔ کیونکہ صدر زرداری کچھ خطرات کے پیش نظر تو کچھ عدلیہ کے دباؤ کے نتیجے میں انتخابی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے پارہے تھے۔ بلاول بھٹو جن کو  پروگرام کے مطابق ان انتخابات میں بھرپور کردار ادا کرنا تھا مگر سلامتی کے خطرات کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرسکے۔انہوں نے مہم کے آخری ہفتے  میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرنا شروع کیا۔ زخمی ہونے کے بعد عمران خان نے بھی ہسپتال سے ویڈیو  کے ذریعے خطاب کیا۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف انتخابی گیم پر اثر انداز ہونے کے لیے تشریف لائے۔ مگر انہیں  اثراناداز نہیں ہونے دیا گیا۔ اگرچہ وہ قید ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ الیکشن کے بعد وہ رہا ہو جائیں گے۔ ان کو بند رکھنے کا مقصد انتخابت کی ایکوییشن پر اثرانداز ہونے سے روکنا تھا۔
عوام کی شرکت بہت ہی کم  رہی۔ بغیر ماس موبلائزیشن اور سیاسی کے نعرے کے یہ انتخابات غیر سیاسی لگ رہے تھے۔ ہر امیدوار اپنی اپنی مہم چلاتارہا۔ 

 تجزیہ نگاروں کی رائے کے برعکس عمران خان ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھرے۔ سندھ  اور بلوچستان میں عمران خان  انتخابات کے حوالے سے غیرحاضر رہے۔ ان کی موجودگی نہ صرف پنجاب میں بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی محسوس کی گئی۔وہ واقعی کتنی نشستیں لیں گے اس بارے میں تجزیہ نگاروں کی آراء میں اتنا فرق ہے کہ آسانی سے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔پاکستان میں انتخابی جیت کے لیے  ہمدردی کا ووٹ شاید لازمی ہوگیا ہے۔ عمران خان کو ان کے گرنے کے واقعے سے اب ان کو ہمدردی کا ووٹ مل سکتا ہے۔اگرچہ یہ ایک حادثہ یا اتفاقی واقعہ تھا۔اس سے مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن پر اثر پڑسکتا ہے۔ نواز شریف نے ان سے اظہار یکجہتی کے طور پر ایک روز کے لیے انتخابی مہم معطل کردی۔حالانکہ ملک کی تین بڑی پارٹیاں عملا انتخابی سرگرمیوں سے باہر رہی، لیکن نواز شریف نے ناہموار انتخابی مہم پر باقی پارٹیوں کے لیے ٹھیک سے مطالبہ بھی نہیں کیا۔  
روایتی ایلکٹ ایبل یعنی بااثر وڈیرے، چوہدری، سردار اور پیر جو عرف عام میں سیاسی خاندان کہلاتے ہیں وہی  امیدوار ہیں۔جو اس سے پہلے مختلف ادوار میں منتخب ہوتے رہے ہیں۔ 
عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ آسرا لگائے بیٹھے ہیں کہ انتخابات ان کی قسمت بدل دینگے۔ لیکن ایسا کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔سیاسی جماعتیں حکومت میں اپنی ایڈجسٹمنٹ چاہ رہی ہیں۔ بنیادی تبدیلی سے متعلق کوئی سیاسی نعرہ  فضاؤں میں نہیں گونجا۔ نظام کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی بحث نہیں چھڑی۔ انتخابی منشوراگرچہ بہت ہی مبہم تھے اپنی جگہ پر رہے ان  منشوروں پر جلسوں بہت کم بات ہوئی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ دہشتگردی  کے خطرات  اور موجودہ صورتحال میں عوام کس حد تک پولنگ اسٹیشن تک پہنچتے ہیں۔ اور اندھوں میں کانا راجا  ہی سہی، پر اپنی مرضی سے منتخب کرنے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔ 

انتخابات مزید مشکوک ہوئے تو۔May 5, 2013

Sun, May 5, 2013 at 9:30 PM
میرے دل میرے مسافر
اگر انتخابات مزید مشکوک ہوئے تو۔۔  سہیل سانگی
جیسے انتخابات کی تاریخ قریب آرہی ہے،انتخابی سرگرمیوں پر دہشتگرد حملوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا ہے کہ تحفظ فراہم کئے بغیر آزادانہ اور منصفانہ انتخاب نہیں ہوسکتے۔ صرف گزشتہ بیس روز کے دوران انتخابی سرگرمیوں پر 41 حملے کئے جا چکے ہیں جس میں  70 ارفراد ہلاک اور 400 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سیانتخابات کے انعقاد کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا جارہا تھا۔ تاہم اب آرمی چیف کے حالیہ بیان نے عوام اور امیدواروں کو ڈھارس بندھائی ہے کہ انتخابات ضرور ہونگے۔ 
 یہ تاثر عام ہے کہ انتخابی سرگرمیوں پر حملے روکنا  الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت کے بس کی بات نہیں۔ کہنے کو تو یہ بات ٹھیک ہے لیکن ان دو عہدوں پر جن دو شخصیات کا تقرر ہوا ہے اس عمل میں ملک کی تمام سیاسی جماعتیں خواہ وہ پارلیمنٹ ہوں یا پارلیمنٹ سے باہر شامل تھیں۔چیف الیکشن کمیشنر کے تقرر میں مکمل طورپرآئینی طریقہ اختیار کیا گیا۔ پارلیمنٹ میں موجود تمام پارٹیوں سے مشاورت کی گئی،یہی طریقہ نگراں وزیر اعظم کے تقرر میں بھی اختیار کیا گیا۔ بالفاظ دیگرے تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن اور نگراں وزیر اعظم کے ہاتھ اور بازو ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں اہم ریاستی اداروں کا اثبات بھی ان دو عہدوں کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ تعجب کی بات ہے کہ اس کے باوجودنگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کو کمزور کہا جارہا ہے بلکہ یہ دونوں عہدیدران خود کو کمزور سمجھ رہے ہیں۔ 
تاحال ان دونوں عہدیداران نے ریاستی اداروں اور حکومتی مشنری کو کوئی ٹھوس اور سختی سے ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ تاکہ انتخابی عمل میں   تشدد کے واقعات کم ہو سکیں۔ لگتا ہے کہ یہ دونوں اعہدیداران خود کو ریاستی اداروں سے کم سمجھ رہے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ یہ ادارے ان کے کنٹرول میں نہیں۔ یہ سوچ  صرف بچارے نگراں یا عبوری سیٹ اپ کے لوگوں کی نہیں،پکا سیٹ اپ والے بھی کچھ ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں۔فرق یہ ہے کہ پکے سیٹ اپ کے لوگ سیلف انیشیٹو  initiativeلیتے رہے ہیں۔ ان عبوری حضرات سے یہ انیشیٹو لیا نہیں جا رہا۔ 

بلاشبہ آرمی چیف کے بیان نے انتخابات کے بارے میں غیریقینی فضا ختم کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوا ہے۔ مگر یہ بیان انتخابت سے صرف نو روز پہلے آیا ہے۔ جیسا کہ سیاسی جماعتیں اس بیان کو مؤثر سمجھ رہی ہیں اس لحاظ سے یہ بیان پہلے آنا چاہئے تھا۔ بیان اپنی جگہ پر اہم سہی مگر انگریزی زبان میں کہاوت ہے کہ actions speak louder than words یعنی عمل کی آواز الفاظ سے زیادہ اونچی ہوتی ہے۔ یہاں پر بھی ریاستی اداروں کو اس عزم کا عملی مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ انتخابات کے پرامن، منصفانہ اور آزادانہ  انعقاد میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشتگردی کے واقعات ہیں جو تین مخصوص پارٹیوں کے خلاف ہو رہے ہیں۔ دہشتگردی کو روکنا ویسے بھی ریاستی اداروں کا فریضہ ہے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ ادارے اس رخ میں کوئی پیش رفت کریں۔ 
الیکشن کمیشن  اور نگراں حکومت کو اس بات کا نوٹس لینا چاہئے تھا کہ انتخابی عمل منصفانہ طور پر نہیں ہو رہا ہے۔ انتہاپسند گروہوں نے تین پارٹیوں کی مہم کو بلکل بلاک کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کا مقصد ان جماعتوں کو انتخابی عمل سے ہی نہیں بلکہ حکومت میں آنے سے بھی روک دیا جائے۔ یہ المیہ ہے کہ الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت نے اس ناہموار انتخابی مقابلے کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ اور نہ ہی ریاستی اور حکومتی اداروں کو اس ضمن میں کوئی ٹھوس ہدایات جاری کیں۔ 
المیہ یہ بھی ہے کہ انتہا پسندوں کی پسندیدہ پارٹیاں بڑے جوش و خروش کے ساتھ انتخابی مہم چلارہی ہیں۔ وہ دہشتگردی کے واقعات سے آنکھیں موند لیتی ہیں یا پھر نہایت ہی ملتجانہ انداز میں کچھ کہہ رہی ہیں۔ ان کا یہ موقف انتخابات اور اس جمہوری عمل کے لیے نقصاندہ ہے۔ جس جمہوری عمل کا یہ جماعتیں خود بھی حصہ بن رہی ہیں۔ ان پارٹیوں کو سمجھنا چاہئے کہ آج اگر انتہا پسندوں کے دباؤ کے نتیجے میں بعض پارٹیاں انتخابی عمل سے باہر رہ جاتی ہیں تو کل ان منظور نظر پارٹیوں کو انتہا پسندوں سے کوئی دوسری ڈکٹیشن ملے گی تب وہ کیا کریں گی؟ اس صورتحال میں ان جماعتوں کا سیاسی یا جمہوری ہونا مشکوک ہوجاتا ہے۔ 
بات اتنی آسان نہیں جتنی یہ منظور نظر پارٹیاں سمجھ رہی ہیں۔ اگر وہ اس نابرابری کے مقابلے میں جیت بھی جاتی ہیں کیا لوگ ان کو تسلیم کرلیں گے؟  عملا ان کی قانونی  و سیاسی حیثیت کیا ہوگی؟ یہ بات وہ بھی سمجھتی ہیں۔ 
 یہ بھی ممکن تھا کہ دہشتگردی کا ٹارگیٹ جماعتیں انتخابات کا بائکاٹ کردیتیں۔ ان بڑی پارٹیوں کی عدم موجودگی میں انتخابات کی حیثیت کیا رہ جاتی؟ بڑا خطرہ یہ بھی تھا کہ یہ پارٹیاں 85 کا تلخ تجربہ دہرانا نہیں چاہتی تھیں۔ مزید یہ کہ بائکاٹ می صورت میں دہشتگرد وں کا واک اوور مل جاتا۔ دہشتگردی کا نشانہ بننے کے باوجود یہ پارٹیاں میدان میں کھڑی ہیں۔ جو قابل تحسین بات ہے۔ ان کا یہ موقف ملک کی جمہوری تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ ایم کیو ایم بائکاٹ کی طرف جارہی تھی۔ مگر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے اس کو ایسا کرنے سے روکا۔  اور کھینچ کر اپنے ساتھ کھڑا کیا۔ 
بھرپور انتخابی مہم میں مصروف پارٹیاں یہ ذہن نشین کر لیں کہ اگر انتخابات کسی وجہ سے مزید مشکوک ہوجاتے ہیں تو  بات دور تک چلی جائے گی۔ مثال کے طور پر پنجاب اکیلا صوبہ ہے جہاں انتخابی سرگرمیوں کا جوش و خروش ہے۔ باقی تین صوبے اس  سے محروم ہیں۔ یہاں  انتخابی مہم میڈیا تک محدودہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انتخابات عملا ایک ہی صوبے میں ہورہے ہیں۔ کیا ایک صوبے کے نتائج  دوسرے صوبوں پر ٹھونس دیئے جائیں گے؟ آخر یہ تین صوبے بھی پاکستان کا حصہ ہیں۔دوئم یہ اپنے اپنے مراکز میں مضبوط پارٹیاں نابرابری کے مقابلے اور امکانی ہیراپھیری کی صورت میں کم ووٹ لیتی ہیں تو کیا وہ ان انتخابات کو تسلیم کرلیں گی؟ اے این پی ایسا عندیہ دے چکی ہے۔ اس طرح کے کئی سوالات ہیں اور معاملہ نئے انتخابات کی طرف چلا جائے گا۔ اس پر مزید سوالات ہیں کہ نئے انتخابات کب اور کیسے ہوں گے؟یوں ہم ایک ایسے تجربے کی طرف چلے جائیں گے جس کا بوجہ عوام برداشت نہیں کر سکتا۔
 سو باتوں کی ایک بات  یہ ہے کہ انتخابات کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کا اعتماد تب بحال ہوگا جب ریاستی ادارے اس وارداتوں کو کم کرنے میں کامیاب ہونگے۔اس معاملے میں سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر عوام ہیں۔ عوام کو خود سامنے آنا پڑے گا۔ اور انتہاپسندی کی مہم کو ”نہیں“ کہنا پڑگا۔ وہ ایسا دو طریقوں سے کر سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ لوگ متعلقہ اداروں کو پابند بنائیں کہ وہ اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا کریں۔ اسطرح کے مطالبات اور اظہار مختلف ذرائع سے ہونا چاہئے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ عوام تمام خطرات اور خوف کو پھلانگ کر زیادہ سے زیادہ تعداد میں پولنگ اسٹیشن تک پہنچ کر اپنا ووٹ کاسٹ کریں اور انتہاپسندی کی مہم کا نہیں میں عملی جواب دیں۔ 

الیکشن کمیشن کی چھنی - Apr 4, 2013

Thu, Apr 4, 2013 at 10:35 AM
میرے دل میرے مسافر۔۔۔۔ سہیل سانگی
الیکشن کمیشن کی چھنی
 آئندہ انتخابات میں عدلیہ کا رول بڑھ گیا ہے۔  سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال بے رحمانہ طریقے سے کی جائے۔معاملہ شفاف انتخابات کے ساتھ ساتھ شفاف امیداروں کا انتخاب بھی ہے۔پورے انتخابی عمل کی وہ خود مانیٹرنگ کر رہی ہے۔ اس بڑھے ہوئے رول پر کئی حلقوں کو اعتراض ہے۔ تاہم  ابھی تک صرف عاصمہ جہانگیر نے کھل کر بات کی ہے اور کہا ہے کہ عدلیہ اگر اتنی ہی مداخلت کر رہی ہے تو الیکشن کمیشن کو گھر بھیج دے۔ ریٹائرڈ جنرل مشرف نے آئین توڑا تھا مگر وہ سر عام گھوم رہے ہیں۔ مگر آئین کیآرٹیکل 62اور 63 پر الیکشن کمیشن اور عدلیہ دونوں پورے الفاظ کے ساتھ عمل کرانے پر کمر بستہ ہیں۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ جنرل کو سزا دینا عدلیہ کا کام نہیں۔
الیکشن کمیشن نے چھنی لگائی ہے جس میں سے جو بھی چھن کر صاف ہوکر آئے گا، صرف وہی انتخابات میں حصہ لے سکے گا۔ ابھی تک 54 اراکین اسمبلی کی ڈگریاں جعلی پائی گئی ہیں۔ ان میں سے بعض کو سزائیں بھی سنائی گئی ہیں جبکہ 189 کی ڈگریاں ہائر ایجوکیشن کو تصدیق کے لیے بھیج دی گئی ہیں۔اور بعض اراکین کو  رٹرنگ افسران اور الیکشن کمیشن نے وضاحت کے لیے طلب کیا ہے۔
بعض سابق اراکین اسمبلی جو کہ اب بھی امیدوار ہیں انکو قرضوں، اور دیگر سرکاری واجبات کی باقیداری کی وجہ سے نااہل قراردیا جائے گا۔ دو  درجن سے زائد دہری شہریت کی زد میں آرہے ہیں۔ کچھ پر کرپشن کے الزامات ہیں اور ان پر مقدمات چل رہے ہیں۔لگتا ہے کہایک سو سے زیادہ سیاستداں جو اس سے پہلے منتخب ہوتے رہے ہیں میدان سے ہٹ جائیں گے۔اس صورتحال پر بعض حلقے سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ سیاسی جماعتوں کو مضبوط کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یا انہیں کمزور رکنے کے لیے۔الیکشن کمیشن کی طرف سے  کسی کو ووٹ نہ دینے کا خانہ شامل کرنا بھی سیاسی جماعتوں پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے اور یہ تاثر دیتا ہے کہ  الیکشن کمیشن  پہلے سے یہ طے کر کے بیٹھا ہے کہ لوگ کی بڑی اکثریت سیاسی پارٹیوں سے بیزار ہے۔ شیاد ایسا کیا جاسکتا ہے مگر اس کے لیے غیرجانبدارانہ ریسرچ اور پارلیمان سے قانون منظور کرانے کی ضرورت ہے۔ یہ کام الیکشن کمیشن کا نہیں بلکہ اسمبلی کا ہے۔ یہ تو انیس بیس وہی فارمولا ہے جو  علامہ قادری نے پیش کیا تھا۔
انتخابات تو امتحان ہوتے ہی ہیں مگر انتخابات  میں حصہ لینے کے لیے اہلیت ثابت کرنا بھی ایک امتحان کے طور پر سامنے آیا ہے۔حکمران پارٹی کے کئی لوگوں کے نام مختلف مقدمات میں ہیں۔ الیکشن کمیشن کے پاس تمام تفصیلات موجود ہیں کہ کس کے خلاف کیا کیس ہے اور کون کس انکوائری میں ہے۔بعض مقدمات ایسے ہیں جن کی سماعت خود سپریم کورٹ کر رہی ہے۔الیکشن کمیشن ان امیدواروں کے لیے سپریم کورٹ کی طرف دیکھے گی۔ 
 امین فہیم، پرویز اشرف، ڈاکٹر عاصم اور مخدوم شہاب پر تلوار لٹک رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نااہل قرار دیئے جا چکے ہیں۔ ان کے دو بیٹوں کے خلاف بھی مقدمات ہیں۔ سینکڑون امیدوراوں کی ڈگریاں جعلی یا مشکوک ہیں۔جن کی ڈگریاں جعلی ہیں وہ نااہل قرار پائیں گے۔اگر وہ مقررہ مدت میں ڈگریوں کی تصدیق نہیں کراپاتے تو نااہل ہو جائیں گے۔ اس طرح سے سینکڑوں امیدوار نااہل ٹہریں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 62 اور 63 کی شق کو یہ شکل جنرل ضیا ء الحق نے دی تھی۔ جو  پیپلز پارٹی اور دیگر مخالفین کو دور رکھنا چاہتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ  ملکی سیاست کو مکمل طور پر مذہبی رنگ میں رنگنا چاہ رہے تھے۔گریجوئشن کی شرط جنرل مشرف نے لگائی تھی۔لہٰذا ان دو آمروں کا بھوت اب ملکی سیاست پر آسیب کی طرح منڈلا رہا ہے۔ اور ہمارے ادارے اس پر سختی سے عمل کرنا چاہ رہے ہیں۔اگرچہ گزشتہ پارلیمنٹ نے یہ شرط ختم کردی تھی۔ گزشتہ انتخابات میں ڈگری کی شرط نہ ہونے کے باوجود جس جس نے بھی ڈگری کے معاملے میں غلط بیانی کی ہے وہ آئندۃ انتخابات میں نااہل ٹہرے گا۔ 
یہ بڑا پیچیدہ سوال بن گیا ہے اورباشعور لوگوں کے لیے بھی امتحان ہے کہ یہ اقدامات جو کہ اپنے جوہر میں جمہوری نہیں ہیں ان کی مخالفت کرتے ہیں تو  یہ کرپٹ اور نااہل ممبران دوبارہ عوام کے نمائندے بن جاتے ہیں۔ اور حمایت کرتے ہیں تو دو سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلا یہ کہ الیکشن قوانین کیسے ہوں وغیرہ یہ پارلیمان کا کام ہے۔ الیکشن کمیشن کا رول اس معاملے میں محدود ہوتا ہے۔ دوسرا یہ پورا عمل مخصوص لوگ منتخب کرانا چاہتا ہے اور نئے پاور بروکرز پیدا کرنا چاہ رہا ہے۔ پرانے سیاتدانوں سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ جیسے ضیا اور مشرف نے بھی کیا تھا۔دونوں صورتوں میں اصل فیصلہ یا مرضی عوام کی نہیں بلکہ اوپر کے اداروں کی ہو جاتی ہے۔  
پاکستان کے معاشی اور سماجی سیٹ اپ میں ایسا ممکن نہیں جس سے کوئی بڑی تبدیلی کی توقع کی جا سکے۔قبائلی اورخاندانی سیاست، برادری سسٹم ابھی تک مضبوط ہے۔ فرض کرو کہ الیکشن کمیشن کی چھانی یہ صفائی کر بھی دیتی ہے تو ان کی جگہ پر کون آئے گا؟موجودہ  ان کے بھائی، بیٹے، بھانجے بھتیجے اور دوسرے رشتہ دار۔ ایک ہی خاندان سے آنے والے بڑی حد تک اپنے بڑوں پر ہی  انحصار رکریں گے۔
دوسروں کو بھی موقعہ ملے، نئے لوگ آئیں یہ اچھی خواہش ہے۔ اگر واقعی ایسا ہو جائے کہ کسی کے مسلط کئے ہوئے نمائندوں کے بجائے لوگوں کی مرضی کے نمائندے آجائیں تو اس سے لوگوں کی آواز مضبوط ہو سکتی ہے۔ اور جو سیاسی خاندان مورچہ بند ہو کر بیٹھے ہیں ان کو نکالنے میں مدد ملے گی۔ مگر ہمارا معاشرتی ڈھانچہ کچھ ایسا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں۔ ہماری خوش فہمیاں کو دلی خواہشات کچھ بھی ہو سکتی ہیں۔ زمینی حقائق مختلف ہیں۔
متوسط طبقے کی شدید خواہش ہے کہ اشو کی بنیاد پر ووٹ دیئے جائیں۔ مگر متوسط طبقہ نہ خود کو ٹھیک سے define کرسکا ہے اور نہ ہی اپنا رول موثر طورپر ادا کرسکا ہے۔
امیدواروں سے اسلام سے متعلق بھی سوالات کئے جا رہے ہیں کسی امیدوار کی پرہیزگاری کو ناپنے کا عجیب طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کچھ غیر ضروری ذمہ داریاں اپنے سر پر لے لی ہیں۔ خاص طور پر تب جب کسی امیدوار کا مخالف اس کی اہلیت کو چیلینج کرتا ہے۔ یہ طے کرنا خاصا مشکل ہے کہ کون بہتر مسلمان ہے اور کون نہیں ہے۔یہ ایک ایسی بحث ہے  جو بہت ساری چیزوں کو متنازع بنا دے گی۔ اور نای پپیڈورہ باکس کھلے گا جس میں انتخابات کے نعرے، بحث کے موضوع اور مقاصد ہی تبدیل ہوجائیں گے۔
اس صورتحال  میں یہ  سوال پیدا ہو رہا ہے کہ عوام کے سامنے مخصوص امیدوار ہی پیش کئے جارہے ہیں اور عوام سے پوچھا جائے گا کہ وہ ان
 میں سے ہی کسی کو اپنا نمائندہ منتخب کریں۔

آئندہ انتخابات کا ایجنڈا کیا ہے؟۔ - Mar 7, 2013

Thu, Mar 7, 2013 at 11:48 AM

آئندہ انتخابات کا ایجنڈا کیا ہے؟۔۔
 میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
انتخابات خواہ غیر جماعتی ہوں یا  جماعتی، دھاندلی والے ہوں یا کسی اور نمونے بازی والے ان کے اثرات سیاست اور عوام پر پڑنا  ناگزیر ہوتا ہے۔انتخابات کبھی کسی آمر اور اس کے غیرآئینی اقدامات کوتحفظ دینے یا اقتدارکو طول دینے کے لیے ہوتے رہے۔ تو کبھی یہ اقتدار میں شراکت کے فارمولے میں ردوبدل کے لیے۔انتخابات کے اثرات اس وجہ سے بھی  لازما  ہوتے ہیں کہ پاکستان میں انتخابات کوئی معمول نہیں،  کیونکہ صرف غیر معمولی حالات  ہی انتخابات کا باعث بنتے ہیں۔ نوے سے ستانوے تک کے انتخابات کو چھوڑ کر باقی تمام انتخابات زیادہ اہم رہے ہیں۔کیونکہ یہ انتخابات یا ماضی کو برقرار کھنے یا اس سے دور جانے کی کوشش تھے۔
طویل مدت تک آمریت کی تاریخ رکھنے والے ملک میں وقفے وقفے سے انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ اکثر اوقات  پہلے سے طے شدہ فیصلوں پر عوام سے مہر لگوائی جاتی رہی۔ کونسے انتخابات کس پس منظر میں ہوئے؟ اس کے اثرات اور محرکات کیا تھے؟ انتخابات کیوں کرائے گئے اور اس سے کیا حاصل کیا گیا؟ مختلف انتخابات صرف انہی سوالات کی رشنی میں سمجھے جاسکتے ہیں۔آئندہ انتخابات سیاسی عمل اور جمہوری پریکٹس میں کوئی تبدیلی لے آئیں گے؟  ہم ان سوالات کے جوابات 70ع کے  بعد ہونے والے انتخابات میں تلاش کرتے ہیں۔
70ع کے انتخابات:
 ایوب خان کی دس سالہ آمریت عوام کو سڑکوں پر لے آئی۔ ایوب کے خلاف تحریک کے بنیادی طور رپر تین اسباب تھے۔ (۱) مغربی اور مشرقی پاکستان کی مساوات والی اسکیم، اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ کی عدم موجودگی (۲) چھوٹے صوبوں کا ون یونٹ پر احتجاج (۳) ایوب دور میں ہونے والی زرعی اور صنعتی ترقی  کے باوجود مزدور، کسان اور عوام آدمی  ترقی کے ان ثمرات  سے محرومی۔ ان میں سے پہلے دو کا تعلق پنجاب کی بالادستی سے تھا۔تیسری وجہ ملک میں معاشی نظام میں تبدیلی سے متعلق تھی۔ان تینوں وجوہات کا نتیجہ یہ نکلا کہ بنگال کے عوام کی تحریک عروج پرچلی گئی۔مغربی پاکستان کے تین صوبے ون یونت توڑنے سے کم پر راضی ہونے کو تیار نہیں تھے۔جبکہ صنعتی اور زرعی پیداوار اور پیداوار کے وسائل کی از سرنو تقسیم کے لیے ملک میں سوشلسٹ تحریکیں مضبوط ہورہی تھیں۔اور سوشلزم کا نعرہ مقبول ہو چکا تھا۔مظلوم طبقات کی تنظیم کاری موجود تھی۔اور مظلوم قوموں اور طبقات کا آپس میں اتحاد مضبوط ہو رہا تھا۔ ملک تبدیلی کے دہانے کھڑا تھا۔
 اقتداری حلقوں نے اس بات کو بھانپ لیا۔بجائے اس کے کہ ایوب خان عوام کے سامنے گھٹنے ٹیکتے اور مطالبات مان لیے جاتے مگرایسا نہیں کیا گیااور عوام کا یہ واراسٹبلشمنٹ پی گئی۔کیونکہ اس صورت میں ہار صرف ایوب خان کی نہیں، بلکہ یہ ہار اسٹبلشمنٹ کی بھی تھی۔ لہٰذا جنرل یحیٰ خان نے ایوب خان کو برطرف کردیا اور خود معتبر بن کر بیٹھے۔پھر جب ایوب خان ہی نہیں رہا  تو عوام کے غصہ میں کچھ کمی آئی۔بعد میں عوام کے اس غصے، ابھار اور مطالبات کو دو طریقوں سے وینٹی لیٹ ventilateکیا گیا۔پہلا یہ کہ ون یونٹ توڑنے کا اعلان کیا گیا۔ دوسرا یہ کہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کرائے گئے۔ یہ انتخابات دراصل مہا نظریاتی جنگ  تھے۔ بھٹو سوشلزم کا نعرہ لگا رہے تھے۔سوشلزم کا نعرہ لگانے والی نیشنل عوامی پار ٹی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مضبوط تھی۔ اور سندھ میں خاصی فعال تھی۔اس کے ساتھ ساتھ صوبوں کے حقوق کی بھی بات کر رہی تھی۔بنگال میں عوامی لیگ سیکولر سیاست کے ساتھ چھ نکات کی صورت میں بنگال کے لیے اختیارات مانگ رہی تھی۔یعنی سوشلسٹ اور قومی حقوق کا ایجنڈا رکھنے والی پارٹیاں ایک طرف تھیں تو اسٹبلشمنٹ اور اس کی اتحادی جماعتیں جماعت اسلامی سے لیکر مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں تک دوسری طرف تھیں۔نعپ کو شبہ تھا کہ بھٹوپنجاب کی بالادستی کی وکالت کر رہے ہیں اور کسی نئی شکل میں اسکو دوبارہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔بھٹو کو شک تھا کہ نعپ اور عوامی لیگ کا ایجنڈا(اصوبوں کو زیادہ حقوق دلانا)  ایک ہی ہے۔لہٰذا  نعپ اور پی پی ایک دوسر کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔
 ان انتخابات کے نتائج خلاف توقع نکلے۔عوامی لیگ بنگال میں سویپ کر کے ملکی کی اکثریتی جماعت بن گئی۔بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں نعپ نے اکثریت حاصل کر لی۔پنجاب میں پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہو گئی۔سندھ میں پیپلز پارٹی کو اکثریت تو حاصل نہیں تھی تاہم  اکیلی بڑی پارٹی کے طور پر ابھری۔ اس مرحلے پر اسٹبلشمنٹ نے اکثریت سے جیت کر آنے والی پارٹی عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار دیا۔یوں ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ ون  یونٹ ختم ہونے کے باوجود پنجاب اپنی بالادستی ہر حال میں برقرار رکھنا چاہ رہا ہے۔اس پر بنگالیوں نے بغاوت کا اعلان کیا اور جنگ لڑی۔اور آزادی حاصل کرلی۔
دراصل 70ع کے انتخابات بڑے نظریاتی جنگ کے طور پر لڑے گئے۔ ایک طرف”اسلام خطرے میں ہے“  تو دوسری طرف سوشلزم اور قومی حقوق کا نعرہ لگایا گیا۔ اس مرتبہ بائیں بازو کے نظریات کی جیت ہوئی۔ان انتخابات کے بعد ملک کا سیاسی نظام پورے طور پر تو تبدیل نہیں ہوا۔البتہ اس کی شکل تبدیل ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ اس کوشش میں ملک کی بھی شکل تبدیل ہوگئی۔بھٹو نے معاشی نظام کو تبدیل کرنے کی بات زیادہ اور عمل یا سنجیدہ کوشش کم کی۔یوں ملک میں سرخ سویرا آنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ بھٹو کے نام نہاد سوشلزم کی وجہ سے سوشلزم ناکام ہو گیا۔بھٹو کے اس رویے کے دو بڑے نقصانات ہوئے۔پہلا یہ کہ سوشلسٹ تحریک کا دھچکا لگا۔ اور کئی سرخیل سوشلسٹ جو پیپلز پارٹی کو اصلی سوشلسٹ پارٹی سمجھ بیٹھے تھے ان کو مایوسی ہوئی۔ وہ یا تو خود مایوس ہو کر پارٹی سے نکل آئے یا انہیں نکال دیا گیا۔دوسرا نقصان یہ ہو ا کہ سوشلسٹ مخالف لابی ہوشیار ہو گئی۔یہ لابی بھٹو حکومت کو سوشلزم لانے کے لیے عبوری دور سمجھ رہی تھی۔ انہیں ڈر تھا کہ اب کسی بھی وقت سوشلسٹ ریاستی مشنری پر قبضہ کر لیں گے۔اس خوف کی وجہ سے صنعتکار، بڑے تاجر، مذہبی حلقے، نوکرشاہی اور اسٹبلشمنٹ کٹھے ہوگئے۔یوں تو ستاروں والا پاکستان قومی اتحاد وجود میں آیا۔نظام مصطفےٰ کا نعرہ لگایا۔ایک بار پھر ملک میں نظریاتی کشمکش تیز ہوگئی۔
1977ع کے انتخابات: نظریاتی کشمکش: 
بھٹو نے 77ع میں دائیں بازو اور اسٹبلشمنٹ کو یہ دکھانے کے لیے  انتخابات کرائے کہ پیپلز پارٹی  ابھی تک مقبول پارٹی ہے، کئی انتخابی حلقوں میں دھاندلی کرائی گئی۔ گویا  پی این اے کو احتجاج کی دعوت مل گئی۔انہوں نے نظام مصطفےٰٰ کا نعرہ بلند کرکے بھٹو کی حکومت پرسوشلسٹ اور سیکولرہونے کا الزام لگایا۔ اس مرتبہ بھٹو اکیلے تھے۔ کیونکہ وہ کمیونسٹوں، ترقی پسندوں اور  نعپ کے خلاف اقدامات کر چکے تھے۔اور انہیں پی پی دور بھگا چکے تھے۔نعپ پی این اے کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ اس نظریاتی کشمکش کا نتیجہ دائیں بازو یعنی مذہبی جماعتوں کے حق میں آیا۔ضیاء الحق ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے اقتدار پر قبضہ کرکے بیٹھ گئے۔انہوں نے اپنے برانڈ کا اسلامائزیشن شروع کردیا۔یہ تھا 77ع کے انتخابات کا اثر۔ حالانکہ یہ انتخابات دھاندلی والے قرار دیئے جاتے ہیں۔
1985ع کے انتخابات: 
ضیاء مارشل لا ء  نے ملک کے فکری، سیاسی، معاشی اور سماجی فیبرکس کو تہس نہس کردیا،۔ مخالفین کو پھانسی، کوڑوں اور قید کی سزائیں آئیں۔پاکستان نے افغانستان میں امریکہ کی پراکسی جنگ لڑی۔مارشل لاء کے خلاف لاوا پکنے لگا۔ضیا پی این اے کی تحریک سے حاصل شدہ عوام کی حمایت کنزیوم کر چکا تھا۔ 83ع میں ایم آرڈی کی تحریک چلی جس نے ضیا کو سیاسی طور پر اور کھوکھلا کردیا۔اب انہیں ضرورت پیش آئی کہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے وہ عوام سے مینڈیٹ لیں۔لہٰذا پہلے انہوں نے اپنے حق میں ریفرنڈم کرایا  ور اس کے بعد غیر جماعتی انتخابات۔ اس کے ذریعے انہوں نے آٹھویں آئینی ترمیم کی صورت میں اپنے غیرآئینی اقدامات کو تحفظ حاصل کرلیا۔
وزیراعظم جونیجو کے دور میں ملٹری اور سویلین مکسڈ حکومت کے دوران سویلین سائیڈ دن بدن مضبوط ہوتی جارہی تھی۔ ملک کی سیاسی جماعتیں سویلین پلڑے میں اپناوزن ڈال رہی تھیں۔بالآخر ضیا سے بیزارحلقوں کو بڑی قربانی دینی پڑی۔جس میں جنرل اسلم بیگ مرزا کو چھوڑ کرجنرل ضیا سمیت باقی تمام اہم عہدوں پر فائز جنرل اور امریکی سفیر بہاولپور کے قریب ہوائی حاثے میں مارے گئے۔
1988ع کے انتخابات: 
 ان انتخابات کے ذریعے ملک کے عوام  ضیا کی باقیات سے دور ہونا چاہتے تھے۔1988ع کے انتخابات عوام میں مقبول سیاسی قوتوں کی واپسی تھی۔ جنہیں 77ع میں زبردستی ہٹادیا گیاتھا۔ لیکن نواز شریف کی قیادت میں بنائی گئی آئی جے آئی (جس کی پشت پر اسٹبلشمنٹ تھی)نے اتنی نشستیں حاصل کرلیں کہ منتخب حکومت کو غیر مستحکم کر سکے۔مزید یہ کہ اسٹبلشمنٹ پنجاب اپنے پاس رکھنے میں کامیاب ہوگئی۔جہاں آئی جے آئی نے حکومت بنالی۔ گیارہ سال کی آمریت کے بعد وجود میں آنے والی جمہوری حکومت عوام کی زیادہ امیدوں اور اسٹبلشمنٹ کی سیاست کا بوجہ نہ اٹھاسکی۔ اور دو سال کے اندر صدر غلام اسحاق خان نے بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔
ضیاء کے جانے کے بعد سیاسی یا جمہوری قوتوں اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور اور بالادستی پر کشمکش شروع ہوئی جو کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے۔ 90 سے لیکر97ع تک یہ کشمکش میوزیکل چیئر کی صورت میں رہی۔ جس میں دو بڑی جماعتیں باری باری حکومت میں آئیں اور اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں ایکدوسرے کے خلاف استعمال ہوتی رہیں۔ 
90ع سے لیکر 2002 تک منعقدہ انتخابات کسی پروگرام یا منشور اور عوامی نعرے کی بنیاد پر نہیں ہوئے۔ سیاسی پارٹیوں نے منشور پیش بھی کئے تو وہ صرف خانہ پری کے لیے تھے۔ اصل ایجنڈا وہ نہیں تھا جو منشوروں میں لکھا گیا تھا۔ اصل ایجنڈا یہ رہا کہ فلاں پارٹی اقتدار میں آئے یا فلاں پارٹی نہ آئے۔ اس سے پہلے والے انتخابات کسی نعرے یا پروگرام کے تحت تھے۔ 70ع کے انتخابات معاشی نظام میں تبدیلی اور قومی حقوق کے لیے تھے۔ 88ع کے انتخابات ضیا کی باقیات کے خاتمے کے لیے تھے۔ مشرف کے منعقد کردہ  2002 کے انتخابات ضیاء کے 85ع والے انتخابات کی طرح تھے۔ جس میں کوئی سیاسی تبدیلی ایک نعرہ نہیں تھا۔ بلکہ صرف ا ن آمروں کے غیرآئینی اقدامات کو تحفظ دینے یا انہیں قانونی لباس پہنانے کے لیے تھے۔ 
2013 کے انتخابات کا ایجنڈا کیاہے؟  اس کے اثرات کیا ہونگے؟ یہ ایجنڈا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں نہ آئے یا زرداری حکومت میں نہ ہوں؟ اگر یہی مختصر ایجنڈا ہے تو یہ صرف اقتداری حلقوں کا ہوسکتا ہے۔ جو شاید ریس میں شریک گھوڑا تبدیل کرنا چاہ رہے ہوں گے۔ 
ملک کا اصل ایجنڈا دہشتگردی، لاقانونیت، مہنگائی کا خاتمہ، اچھی حکمرانی وغیرہ ہیں۔ یہ سب ایجنڈے یا نعرے کی شکل میں سامنے نہیں آرہے ہیں۔ کیا یہ صرف اقتداری حلقوں کا کھیل ہوگا جس میں عوام غائب ہوگا۔

انتخابات کودرپیش خطرات - Dec 6, 2012

Thu, Dec 6, 2012, 11:02 AM
 انتخابات کودرپیش خطرات
    میرے دل میرے مسافر۔سہیل سانگی
 ملک میں منتخب حکومت اپنی آئینی مدت پورے کرنے جا رہی ہے۔ جس کو سیاسی تاریخ میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔اس کے بعد عام انتخابات  ہونے ہیں جن کی بھی تیاریاں نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ سیاسی جماعتوں نے بھی شروع کردی ہیں۔ 
سیاسی جماعتیں ایک دوسر کے ووٹ بینک ہر اثرانداز ہونے کے طریقے اختیار کر رہی ہیں۔کون کس کا اتحادی بن سکتا ہے اور کس سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ممکن ہے؟ اس کی راہیں تلاش کی جارہی ہیں۔ 

نواز شریف نے تو بہت پہلے اس پر کام شروع کردیا تھا اور سندھ میں قوم پرستوں سے اتحاد بنا لیا تھا۔حال ہی میں  پیر پاگارا سے مولانا فضل الرحمان  اور شیخ رشید نے ملاقاتیں کی ہیں۔بعض رہنما  حکمران جماعت پی پی کی  اتحادی ایم کیو ایم سے بھی رابطے میں ہیں۔

موجودہ حکومت کی آئینی مدت  مارچ کے دوسرے ہفتے میں ختم  ہو رہی ہے اور حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ سال مئی میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔یہ انتخابات نگراں سیٹ اپ کے تحت ہونے ہیں۔ لہٰذا آئندہ دو ہفتے نگراں سیٹ اپ پر ہی سیاست ہوگی۔تاہم مختلف جماعتوں کی مرکزی قیادت  کے پاس ابھی بھی انتخابات سی کے ساتھ ساتھ نگران وزیر اعظم  اور سیٹ اپ کی بھی باتیں ہورہی ہیں۔  مبصرین یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا انتخابات کے لیے نگراں سیٹ اپ کویں ضروری ہے؟ دنیا میں کہیں بھی اس طرح کا رواج نہیں ہے۔ 

امریکہ ہو یا برطانیہ یا کوئی اور ملک وہاں ایک حکومت اپنی مدت پوری کرتی ہے تو دوسری منتخب حکومت اسی سے آکر چارج لیتی ہے۔ جمہوری ممالک میں ایسا کہیں بھی انتظام نہیں کیا جاتا۔ موجودہ حکومت عوام کا مینڈیٹ لیکر آئی ہے اور اس کے منڈیٹ میں ہر جمہوری حکومت کی طرح انتخابات کرانا بھی شامل ہے۔صرف پاکستان واحدملک ہے جہاں انتخابات کے لیے نگراں سیٹ اپ کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور اس کے ساتھ عدلیہ کو بھی بیچ میں لایا گیا ہے جس نے  پورا طریقہ کار بنا دیا ہے کہ نگراں سیٹ کس طرح کا ہوگا اور اس کا تقرر کس طرح سے کیا جائے گا۔ 

انتخابات کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ ملک میں بعض واقعات اور تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں۔صدر آصف علی زرداری  نے عام انتخابات کا عندیہ دیا ہے اور اپنی پارٹی کو اس کی تیاری کے یے ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ دوسری جانب فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر پاگارا سے شیخ رشید کی  ملاقات ہوئی ہے۔ شیخ رشید جس طرح کی باتیں کرتے رہے ہیں اور جو سیاست کرتے رہے ہیں  وہ کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ  پیر پگارا اور ایم کیا ایم کو مقتدرہ حلقوں کا پیغام لے کر آئے تھے۔شیخ صاحب ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے خلاف ہیں۔ اس طرح کی باتیں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی کرتے رہے ہیں۔ مگر شیخ صاحب کا ایجنڈا سیاستدانوں کے ہی خلاف سمجھا جاتا رہا ہے۔

پیر پاگارا  تین ماہ قبل سندھ میں حکمراں اتحاد سے الگ ہوئے ہیں اور سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ ملکر  متنازع بلدیاتی نظام کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں۔ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ سندھ میں  وہ پیپلز پارٹی کا متبادل ہو سکتے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد پگارانے کہا ہے کہ موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں انتخابات ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت  ملک میں امن امان کی صورتحال خراب ہے۔ کوئی بھی شہری محفوظ نہیں۔ ایسے میں کیسے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ پیر پاگارا نے یہ بھی  خدشہ  ظاہر کیا کہ انتخابات نہ ہونے کی صورت میں ملک ایک بہت بڑے بحران کی لپیٹ میں آجائے گا۔
پیر صاحب کی یہ پیش گوئی اس وجہ سے بھی وزن رکھتی ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل جو واقعات رونما ہو رہے ہیں اور جو منظرنامہ بن رہا ہے وہ سب ایسے نہیں جن میں انتخابات  نہیں کرائے جا سکتے۔ ملک میں مردم شماری ہونی تھی تاکہ ملک میں آبادی کی زمینی حقائق کو آبادی کی منتقلی وغیرہ  کے حوالے سے ریکارڈ کیا جا سکے اور اسی کی روشنی میں اسمبلیوں کی نشستوں کی تقسیم اور حلقہ بندیاں مکمل ہو سکیں۔ اس کے بعد مرحلہ  درست اور اطمینان بخش انتخابی فہرستوں کی تیاری ہے۔
 جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ  مردم شماری کے پہلے مرحلے کے طور پر گھرشماری کو بھی نااقص بنایا گیا۔جس پر شیدید اعتراضات ہوئے نتیجے میں گھر شماری روک دی گئی اور مردم شماری بھی منسوخ کرنی پڑی،چونکہ مردم شماری نہیں ہو پائی ہے لہٰذا  ملک میں نئی حلقہ بندیاں بھی معمول کے مطابق نہیں ہو سکیں۔دوسرا مرحلہ ووٹرزکا اندراج ہے۔

 کراچی جہاں پر سیاسی بالادستی کی جنگ ہتھیاروں کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے وہاں تیس لاکھ ووٹر ز جن میں زیادہ تعداد ملک کے بالائی علاقوں سے تھی مستقل پتے پر منتقل کردیئے۔ یہ منتقلی دور رس نتائج کی حامل ہے،اب عدلیہ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ کراچی  کی ووٹر لسٹیں بوگس ہیں ووٹروں کی تصدیق اور تحقیقات کے کیے ہدایت کی ہے کہ فوج گھر گھر جا کر یہ کام کرے۔ایم کیو ایم نے فوج کی گھر گھر جا کر تصدیق کرنے اور نئی حلقہ بندی کی مداخلت کی ہے۔ یہاں تک کہ عدلیہ کا خلاف بہت سخت موقف اختیار کیا ہے۔ کسی بھی جماعت کا عدلیہ کے خلاف اس طرح کا سرعام موقف  پہلا واقعہ ہے۔ 

دوسری جانب دوسری سب جماعتیں ووٹروں کی واپس منتقلی، مشرف دور کی حلقہ بندیوں کے بجائے نمائندہ اور منصفانہ حلقہ بندی کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔عدلیہ کے خلاف ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے ریمارکس  سے پتہ چلتا ہے کہ متحدہ ایسے کسی عمل کی مزاحمت کرے گی۔بعض حلقے  فوج کویہ ذمہ داری دینے پر سیاسی حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان حلقوں کی تشویش ایم کیو ایم کی تشویش سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے  یہ عمل فوج کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
 حکومت کے لیے حلقہ بندی اور کراچی کی انتخابی فہرستیں ہڈی بن گئی ہے جو نہ نکل سکتی اور  نہ نگل سکتی۔ اگر حکومت حلقہ بندیاں کرنے جارہی ہے توایم کیو ایم حکمراں اتحا دے باہر نکل آئے گی۔ اس بات کا اشارہ شیخ رشید نے پیر پاگارا سے ملاقات بعد بھی دیا ہے کہ ایم کیو ایم انتخابات سے پہلے پیپلز پارٹی سے اتحاد ختم کر دے گی۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوسرا معرکہ کراچی میں ہوگا۔ 

عدلیہ کے کراچی کے حوالے سے زیر سماعت  درخواستوں  پرفیصلے دے رہی ہے۔اس  پرایم کیو ایم  مزاحمت  کے موڈ میں نظر آتی ہے۔ کورٹ کے یہ ریمارکس کہ کراچی کی حد تک آپریشن کر کے کراچی میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ یوں فوج اور عدلیہ کا کردار بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ 

 سابق صدر جنرل مشرف کا تازہ بیان  اہم ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کراچی
 میں کچھ عرصے تک مارشل لاگو کر کے امن امان قائم کیا جا سکتا ہے۔اس پر بھی متحدہ کو مایوسی ہوئی ہے۔ کہونکہ ایم کیو ایم کراچی میں ہر طرح کی فوجی مداخلت سے دور ہیں سیاسی جماعتیں  فوج کے ذریعے مجرموں کے خلاف کارروائی کے حق میں ہیں مگر مارشل لا کے حق میں نہیں۔

مختلف حلقے یہ معاملہ بھی اٹھا رہے ہیں کہ پختونخوا اور بلوچستان کے حالات بھی خاصے کراب ہیں یہ حالات عام انتخابات کے حق میں نہیں۔
یہ سب واقعات  ایک ایسی صورتحال پیش کرتے ہیں  جس میں آئندہ انتخابات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ان حالات اور واقعات کے پیش نظر حکومت اور سیاسی جماعتوں کو  اپنابھرپور سیاسی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اور ایک دوسرے کو اعتماد میں لے کر انتخابات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔تاکہ انتخابات وقت پر اور منصفانہ ہو سکیں۔ 
بعض فریقین  خاص طور پر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی، اے این پی اور ایم کیو ایم کا خاص طور پر اس ضمن میں کلیدی کردار بنتا ہے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جن کو آج بھی اسمبلیوں نمائندگی حاصل ہے اورانتخابات کی صورت میں انہی  جماعتوں کی دوبارہ اسمبلیوں میں نمائندگی آنی ہے۔ ان جماعتوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر انتخابات سے ہٹ کر کوئی انتظام ہوتا ہے تو ان جماعتوں کے بجائے کچھ اور سیاسی و غیر سیاسی  حلقے سامنے آئیں گے۔

Monday, 9 March 2020

انتخابات کے دہلیز پر محاذ آرائی - Nov 11, 2012

Sun, Nov 11, 2012 at 11:41 AM
   انتخابات  کے دہلیز  پر  محاذ آرائی
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
آرمی چیف جنرل کیانی کے بہت زیادہ سیاسی بیان  اورعدلیہ کے چیف کے جوابی ریمارکس کہ سپریم کورٹ ہی سب سے سپریم ادارہ ہے پاکستان کے 65 سالہ طاقت کے مراکز کی ترتیب کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ جنرل کیانی کا اشارہ کس کی طرف ہے؟ ہر ادارہ اپنی طرف سمجھ رہا ہے۔ میڈیا اپنی طرف اور عدلیہ اپنی طرف سمجھ رہی ہے۔ جب کہ کچھ حلقے یہ اشارہ نواز لیگ کی طرف قراردے رہے ہیں کیونکہ نواز شریف سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت کی کھلے عام مخالف کرتے رہے ہیں۔ کیا واقعی پنڈی اور رائیونڈ کے راستے اتنے الگ الگ ہو چکے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پاکستان میں سیاسی محوروں میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی ہے۔ اصغر خان کیس کا فیصلہ اگرچہ ابھی تک شمہ دار قرار پائے جانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی تو نہیں کر پایا ہے مگر اتنا ضرور ہوا ہے کہ سیاسی فضا میں لہریں پیدا کر چکا ہے جس کے اثرات ملک کی سیاست پر دوررس ہونگے۔
عدلیہ سے عسکری حلقوں کی ناراضگی سمجھ میں آتی ہے۔ کیونکہ عدالت نے سابق آرمی چیف  جنرل اسلم بیگ اور  ملک کے اہم خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ  جنرل اسد درانی کے لیے کہا ہے کہ وہ  90ع کے انتخابی عمل پراثرانداز ہوئے اور من پسند نتائج حاصل کرنے،  اپنے آئینی اختیارات سے تجاوزکرنے پر ان کے خلاف کارروائی تجویز کی ہے۔سپریم کورٹ کے بلوچستان کی صورتحال اور وہاں دفاعی  اداروں کی کارروایوں س سے متعلق رویے پر بھی  ان اداروں کو تحفظات ہیں۔وزیراعظم نے سیاسی پریس رلیز جاری کردی ہے کہ اداروں میں ٹکراؤ نہیں۔ مگر شواہد، حالات اور واقعات  اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔
 کیا اس ٹکراؤ کا عوام کو بھی کوئی فائدہ پہنچے گا؟ یا ایک بار پھر وہ مزید گھاٹے میں جائیں گے؟ سوال  تو بہت اہم ہے،مگر ایسا ہونے کی امید کم  ہے۔طاقت کے اہم مراکز کی  لابیاں کی موجود ہیں۔جو ان کے نقط نظر کوپیش کرتی اآگے بڑھاتی رہتی ہیں۔پاکستان میں منظم طریقے سے انتہاپسندی کو پروان چڑھایاگیا ہے او دقیانوسی سوچ کی جڑیں مضبوط کی گئیں۔ اس مکتبہ فکر  کے لوگوں کی ہر حوالے سے مدد  اور اعانت کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ انہی کی سوچ کوعام لوگوں کے ذہنوں میں بٹھایا گیا۔حال ہی میں ایک ’جید‘ قسم کے صحافی نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ فرمایا کہ روشن خیال پاکستان کا مطلب ہے کہ فوج نہ رہے اور اس کو ختم کردیا جائے۔ اس آئیڈیا کو  بیچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کمال یہ ہے کہ ماضی  میں کاشت کئے گئے اس طرح کے تصورات کی وجہ سے برانڈ کی مارکیٹ ابھی تک ہے۔
پاکستان کی اقتداری غلام گردش ااورپراسرار محل میں جنوں بھوتوں کی کئی کہانیاں ہیں۔جہاں ہر واقعہ حیرت انگیز ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں عدلیہ اور سول سوسائٹی کا نیا جنم ہوا۔ میڈیا بھی حیرت انگیز طور پر اس تحریک میں شامل ہوگئی۔یہ سب معجزہ ہی لگ رہا تھا۔کیونکہ عدلیہ ماضی میں ایسے بحرانوں کے موقعے پر عضوو معطل رہی ہے۔ویسے روایتی تعریف میں عدلیہ خود اسٹیٹسکو ہے۔ مگر چیف جسٹس کے اشو پریہ عدلیہ نئے جوہر کے ساتھ نمودار ہوئی ہے۔
آج تاریخ نے سب کے سامنے ایک نیا سوال پیش کردیا ہے کہ سیاسی قوتیں میڈیا اور سول سوسائٹی عدلیہ کی جانب ہے یا اس تقسیم  میں دوسری جانب؟ اس معاملے میں پیپلز پارٹی کو زیادہ واضح  ہونا پڑے گا کہ وہ موجودہ عدلیہ کے ساتھ اسکور سیٹل کرتی یا عسکری اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرتی ہے۔اسٹبلشمنٹ سے مزاحمت اور جمہوریت پسندی کی دعویدار اس پارٹی کو عدلیہ کی طرف کھڑا ہونا پڑے گا۔یہ درست ہے کہ یہ کوئی اتنا آسان فیصلہ نہیں۔اگر پی پی اپوزیشن میں ہوتی تو چوائس میں کوئی مشکل نہیں تھی۔مگر اقتدار میں ہونا اور اور عام انتخابات کا دہلیز پرہونامعاملے کو پیچیدہ بنادیتی ہے۔ ایسے میں مصلحت پسندی سے بالاتر ہو کر چوائس کرنا کٹھن آزمائش ہے۔ مگر طویل مدت کی سیاست کرنے کی خواہشمند پی پی کو سمجھنا چاہئے کہ ایسا موقعہ بار بار نہیں آئے گا۔ لہٰذا اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں۔اداروں کے درمیاں جب بھی ٹکراؤ ہوا ہے اس کا نشنہ حکومت ہی بنی ہے۔عدلیہ اس سے قبل فوج کے کہنے میں رہی ہے۔ بعض مبصرین ابھی بھی اندشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کیا پتہ کسی بھی وقت عدلیہ پھر فوج کا ساتھ دے۔
عدلیہ کی طرف پیپلز پارٹی کا رویہ اس وجہ سے بھی اچھا نہیں کہ اس پارٹی کو عدلیہ سے کبھی انصاف نہیں ملا۔ حال ہی میں اصغرخان کیس کے   تفصیلی فیصلے میں عدلیہ نے ملٹری انٹیلیجنس سندھ کے سابق سربراہ ریٹائرڈ برگیڈیئر حامد سعید کا بیان شامل کیا ہے جس میں بے نظیر بھٹو کے خلاف زہر بھرا ہوا ہے۔اس موقعہ پر عدلیہ کی جانب سے موجودہ پارلیمنٹ کو خراج تحسین پیش کرنے کے ریمارکس امید کی کرن بن سکتے ہیں۔
 نوازلیگ کے لیے عدلیہ کے موقف کے ساتھ کھڑا ہونا آسان ہے۔بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کی راہ میں میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی رکاوٹ ہیں۔میاں شہباز شریف نوجوانوں اور تبدیلی پسندوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا سہارا لینا چاہ رہے ہیں۔ اس لیے تبدیلی کی علامت حبیب جالب کے شعر پڑھ رہے ہیں۔ جبکہ چوہدری نثار کا خیال ہے کہ پاکستان میں اقتدار تک رسائی اسٹبلشمنٹ کے سہارے بغیرممکن نہیں۔لہٰذا نواز لیگ درحقیقت گومگو کا شکار ہے۔ عمران خان عدلیہ کے بہت حامی رہے ہیں انکا اس پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
 اب ہم سب کو اس حقیقت کااعتراف کرنا چاہئے کہ 65 سال کا آدھا وقت فوج براہ راست اقتدار میں رہی جب کہ باقی عرصہ بھی سیاست سمیت تمام اہم معاملات میں حاوی رہی۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے دور اقتدار میں ٹرائیکا کی اصطلاح اسی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اور یہ بھی کہ جب بھی منتخب حکومت اقتدار میں آئی اس کے دوسرے دن ہی اس کو ہٹانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔
 موجودہ حکومت جو اپنی آئین مدت پوری کر نے جا رہی ہے اس میں موجودہ آرمی چیف کی اچھائی کے ساتھ ساتھ بعض اور اندرونی و بیرونی حلقوں کا  ہاتھ ہے۔ مگر اس کے باوجود کیری لوگر بل، میمو گیٹ، ججز کی بحالی کی تحریک، ایبٹ آباد آپریشن، سوئس حکام کو خط لکھنا کچھ ایسے اشوز تھے کہ وقتا فوقتا اٹھتے رہے۔
اگرچند سابق جنرلوں سے سوالات ہی کئے گئے ہیں۔اس  کو ملک اور قوم کے مفاد میں برداشت کران چاہئے۔چیزیں اس حد تک خراب ہوچکی ہیں کہ واپسی کا راستہ ہی گم ہے۔ یہ بھی ادارک نہیں کہ ہم کہاں جا کر پہنچے ہیں اور چاہتے کیا ہیں؟  جب انتخابات کی بساط بچھائی جا رہی ہے ایسے موقعے پر  طاقت کے  محوروں کی پرانی ترتیب میں ٹکراؤ ناخوشگوار تاثر چھوڑ رہا ہے۔ ایسا تو نہیں کہ یہ تضاد نئے انتخابات کے عمل کو بہا کر لے نہ جائے؟  بڑی آسانی سے یہ کہا جا رہا ہے کہ کہیں بھی عسکری اداروں کے خلاف یوں کھل کر نہیں لکھا جاتا۔ ممکن ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوتا ہوگگا۔ مگر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ یہ عسکری ادارے دوسرے ممالک میں ایسا بھی نہیں کرتے ہونگے جیسا مسلسل ہمارے ملک میں ہوتا رہا ہے۔
 ملک کے منتخب وزیر اعظم کو دو سال تک کال کوٹھری میں بند رکھ کر پھانسی چڑھایا گیا۔ دوسرے وزیراعظم کو نظربند کیا گیا جلاوطن کیا گیا کردار کشی کی گئی۔ تیسرے وزیراعظم کو عدالتی فیصلے کے ذریعے گھر روانہ کیا گیا۔ چوتھے وزیر اعظم کو ہتھکڑیاں ڈال کر جدہ بھیج دیا گیا۔ اور ان چاروں مواقع پر عوام کی منتخب پارلیمنٹ توڑی گئی، آئین کو لتاڑا گیا۔کیا یہ سب ملکی مفاد میں کیا گیا؟ اب جب سوالات  اٹھائے جا رہے ہیں تو ان کو برداشت بھی کرنا پڑے گا اور اہم سوالات کے جوابات بھی دینے پڑیں گے۔۔
 طاقتور اداروں کو جرئت سے کام لے کر کہنا چاہئے کہ”بہت ہوچکا“ اور رویے میں تبدیلی لانی چاہئے۔انہیں ثابت کرنا چاہئے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اس میں واقعی بعض افراد یا گروہ شامل تھے ادارے نہیں۔پاکستان کو نیا رخ دینے کے لیے ملک کی سیاسی اور ملٹری قیادت یہ فیصلہ کریں کہ آنے والی نسلوں کو وہ کیا سونپ رہی ہیں۔اب یہ احساس پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اور لوگوں کے پاس  تبدیلی کے ذرائع بھی بہت ہیں  اور لوگ باہر کی دنیا سے رابطے میں بھی زیادہ ہیں۔

انتخابات سے پہلے - Sep 27, 2012

Thu, Sep 27, 2012, 11:46 AM
انتخابات سے پہلے کی صورتحال
میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی۔۔
پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی مدت مکمل کرنے کو ہے۔آئینی طور پر نئے سال کی پہلی سہ ماہی میں انتخابات کا انعقاد ہونا ہے۔واقعات اور سرگرمیاں بتاتی ہیں کہ کوئی بھی پارٹی انتخابات کی تیاری نہیں کر رہی۔ اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ مقرر وقت پر انتخابات نہیں ہو رہے ہیں۔دوسرا یہ کہ بعض جماعتیں یا مقتدرہ حلقے  انتخابات سے پہلے یہ طے کرانا چاہ رہے ہیں کہ اقتدار کس کو اور کن شرائط پر دینا ہے۔
ابھی تک عام پاکستانی کے مسائل سیاسی جماعتوں کے بحث اور ایجنڈے کا حصہ نہیں بن پائے ہیں۔ جب کہ ملکی صورتحال معاشی،  خواہ امن وامان اور گورننس کے حوالے سے خاصی خراب ہے۔ تیل ہو یا  بجلی کی قیمتیں یا آٹا اور دیگر اشیائے خوردنی سب کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور معیار گر رہا ہے۔ ایک طوفان بدتمیزی ہے کہ لوگوں کو ادائگی کے باوجود  معیاری  اشیاء اور سہولیات حاصل نہیں۔ملکی معیشت شدید بحران کا شکار ہے۔وہ ایک ایسی تنگ گلی میں پھنس چکی ہے۔ جس کے تمام  ترقی کے اشاریئے  بدترین ہیں۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق  اگر خوراک کی قیمتوں میں تیس فیصد اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان میں  ایک کروڑ افراد کی غربت میں اضافہ ہوگا۔معاشی حالات بہتر نہ ہونے کی صورت میں کساد بازاری بڑھ سکتی ہے۔اس کساد بازاری سے یورپ کے کئی ممالک اسپین اٹلی وغیرہ متاثر ہوئے ہیں۔2011-10 میں ملک میں 43 فیصد گھروں کے معاشی حالات خراب ہوئے اور سولہ فیصد کے بہتر ہوئے۔
 روزگار کے مواقع سکڑ رہے ہیں۔نتیجے میں ملکی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔معاشی حالات روز بروز بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔جس کی بحالی کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔
 ملک کے کئی علاقے میں حکومت کا کنٹرول نہیں۔لوگوں کو بے دردی سے مارا جا رہا ہے۔ جن کی نہ کوئی داد ہے نہ فریاد۔اس پر طرہ یہ کہ لسانی و فرقیوارانہ تشدد بھی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ایسے میں حکومتی مشنری کی ناکامی صاف نظر آتی ہے۔
حضور پاک کے شان میں گستاخی  والی فلم  پر احتجاج کے دوران  جوہونے والے  واقعات اور ان کے سیاسی نظام پر  مرتب ہونیوالے اثرات کو بھی ماہرین اہم قرار دے رہے ہیں۔
پاک امریکہ تعلقات براہ راست ملکی سیاست پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔امریکہ  افغانستان سے 2014 میں فوجوں کی واپسی کا پروگرام  بنائے ہوئے تھا۔ لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس کے بعد اس علاقے میں  صورتحال اس کے ہاتھوں سے نکل نہ جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ  امریکہ کے صدراتی انتخابات بھی سر پر ہیں، جس میں صدر اباما  کی جماعت اپنے حصے میں کچھ کارنامے دکھانا چاہتی ہے۔ان دو اہداف نے بھی پاکستان کی سیاست پر اثرات ڈالے ہیں۔
یہ ہے وہ منظر نامہ جس میں آئندہ انتخابات منعقد ہونے ہیں۔ انتخابات ان حالات کی وجہ سے ملک اوریہاں کے باشندوں  کے لیے اہم ہیں۔یہ انتخابات فیصلہ کرینگے کہ مکل دلدل سے باہر آئیگا یا اسی میں پھنسا رہے گا۔
اسٹبلشمنٹ اور اور اس کے  مددگاروں نے ملک کے عوام کی مخصوص  ذہنی، سیاسی ساخت، اور کلچر دیا ہے۔جو حقائق  اور ترقی سے دور  ہے۔ اور عوام کو خوابوں کے ساتھ ساتھ ہواؤں میں لے جاتا ہے۔ معاملہ افواہوں پر چلتا ہے۔جدید میڈیا بھی اس صورتحال کو تھیک نہیں کر سکی ہے، بلکہ اکثر صورتوں میں جدید میڈیا نے اس رجحان کو بڑھایا ہے اور اس کو پختہ کرنے میں رول ادا کیا ہے۔ لہٰذا کئی معاملات پر پھر حکومت کی  مخالفت ہو یا کسی پارٹی کی حمایت  یا کوئی اور واقعہ عوام کی رائے اور ردعمل  بغیر سوچے سمجھے ہوتا ہے۔
ملک کی معاشی اور سیاسی استحکام ہی  ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتی ہے۔ پاکستان میں نہایت ہی پیچیدہ معاشی اور سیاسی نظام رائج ہے۔جہاں فوجی مداخلت کی اطلاع  ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈال دیتی ہے۔تاہم اس بار اس کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔ خاص طور پر سپریم کورٹ کے اس اعلان کے بعد کہ کوئی بھی غیر آئین مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔سیاسی حلقے تقریبا اس پر متفق ہیں کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اس قسم کی مہم جوئی میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
  پیپلز پارٹی کی ناقص کارکردگی اور اسکی اورمخالفت کی وجہ سے مختلف آپشن بنے۔ ان میں سے زیادہ  ترآپشنزگراس روٹ سے نہیں آئے تھے بلکہ  ماضی کی طرح  بنائے گئے۔ یہ فضا بنی کہ آئندہ حکومت دائیں بازو کی ہونی ہے۔ نواز شریف پرملک کے بعض مقتدرہ حلقوں کو تحفظات ہیں۔  لہٰذادوسرا سیاسی آپشن عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف ہے۔ یہ تاثر بھی دیا گیا کہ اگر  آئندہ انتخابات  کے نتیجے میں منقسم پارلیمنٹ اور اسمبلیاں آنی ہیں تو تحریک انصاف تیسرا برا آپشن بن کر ابھر سکتی ہے۔ یعنی مشرف کا فارمولہ کہ ملک پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے بغیر بھی چلایا جا سکتا ہے۔ مگر عمران کی غلطیوں کی وجہ سے وہ عوام میں اپنی مقبولیت کھو بیٹھے ہیں۔دیکھا جائے تو عمران خان کء پاس ملک ک ودرپیش پیچیدہ مسائل  کا کوئی حل نہیں ہے۔اب یہ تاثر بن رہا ہے کہ تحریک انصاف کا تجربہ کچھ اور تو ہو سکتا ہے مگر متبادل نہیں۔  ویسے بھی پاکستان اب تجربوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔یہاں یہ  بات قابل ذکر ہے کہ اپوزیشن میں سے مسلم لیگ (ن) واحد پارٹی ہے  جو نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔جبکہ تحریک انصاف  ایک عرصے تک  التوا چاہ رہی ہے، بظاہر  اس کا یہ موقف ہے کہ جب تک نئی نسل اس کے لیے تیار ہو جائے۔مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت 1990 کی دہائی میں دو مرتبہ حکومت میں رہ چکی ہے۔ اس جماعت کی کیا خوبیاں اور خامیاں ہیں لوگ اس بات سے اچھی طرح باخبر ہیں۔
 آئندہ حکومت دائیں بازو کی ہوگی کے تاثر کو مسلسل  پختہ کرتے رہنے  اور گزشتہ جمع کے واقعات کے باوجودملک کی فضا  بالکل ایسی بھی نہٰن بنی ہے کہ لازمی طور پر دایاں بازو  اور اس کے تصورات حاوی ہو جائیں اور آئندہ حکومت بھی اس مکتبہ فکر کی بنے۔ اصل میں ان  واقعات  نے اعتدال پسند اور روشن خیال مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ چاہے وہ کسی بھی جگہ پر ہوں، ان کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ معاملات کسی اور ڈگر پر جارہے ہیں۔یہ ڈگر کہیں ملک اور عوام کی بہتری میں نہیں جاتی۔کیا  اس کا مطلب  پیپلز پارٹی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں؟بظاہر تو ایسا ہی لگ رہا ہے۔اگر کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے تو اس کے لیے بھی مقتدرہ حلقے ہی ذمہ دار ہیں جنہوں نے کوئی دوسرا جمہوری اور اعتدال پسند آپشن بننے نہیں دیا۔ اور ہر حوالے سے ملک کی سیاست اور سوچ کو  انہی دو دائروں میں پھنسائے رکھا۔اس صورتحال میں پیپلز پارٹی کو تبدیل کرنا پڑے گا۔اس کو  کلوزڈ کلب کے بجائے ایک جمہوری پارٹی بنانا پڑے گا۔ جس میں نئے لوگ، نئے رجحانات  کے لیے بھی جگہ ہو۔ پارٹی کو سماج میں ہ گزشتہ  دو دہائیوں میں  رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ادراک کرنا پڑے گا۔اس کے بعد کہیں جا کر سماج میں موجود  روشن خیال لوگوں کا رول بنتا ہے۔ورنہ موجودہ حالات میں  اس حلقے کے لیے  پارٹی میں کوئی جگہ ہی نہیں  ہے۔نوشتہ دیوار سب کو پڑھ لینی چاہئے۔یہ تبدیلی خود پیپلز پارٹی کی قیادت شاید ہی  لے۔ اس لیے  بااثر حلقے  وہ خواہ ملک کے اندر ہوں یا باہراس تبدیلی کے لیے اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

انتخابی منظر نامہ میں غیر سیاسی پہلو 2012-8-6

Mon, Aug 6, 2012, 9:08 AM
انتخابی منظر نامہ میں غیر سیاسی پہلو
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی 
چیف الیکشن کمشنر فخرالدین ابراہیم نے کہا ہے کہ ملک کا مستقبل آزاداہ اور منصفانہ انتخابات میں مضمر ہے۔لوگوں کی بھی خواہش ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات ہوں۔ کیا ایسا ممکن ہے؟  عملی طور پرایسی شفاف انتخابات سے تمام جماعتیں  بمع اسٹبلشمنٹ کے بھاگتی ہیں۔ ہر جماعت اپنے پسند کے وقت اور مرضی کے یا اپنی شرائط پر انتخابات چاہتی ہے۔پیپلز پارٹی مدت پوری کرنا چاہتی ہے اور انتخابات2013 تک لے جانا چاہتی ہے۔ 
نواز شریف عمران خان کو ٹائیم نہیں دینا چاہتے  اور وقت سے پہلے انتخابات چاہتے ہیں مگر صدر زرداری کی موجودگی میں نہیں۔وہ عدلیہ سے آس لگائے بیٹھے ہیں وہ یا تو صدر زرادری کو روانہ کرے یا پھر اتنا کمزور کردے کہ پیپلز پارٹی نواز لیگ کے تمام شرائط مان لے۔ 
نواز شریف کا مسئلہ ہے کہ صدر زرادری بھی جائیں اور مارشل لا بھی نہ لگے۔مطلب انکو سیدھا اقتدار کی ٹکٹ ملے۔ عمران خان جو دونوں بڑی پارٹیوں کے مخالف ہیں وہ چاہتے ہیں کہ نہ  صرف زرداری جائے بلکہ حکومت میں اسٹبلشمنٹ کا بھی کردار ہو۔ سندھ میں دو تہائی آبادی  شہروں خواہ دیہات میں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ ایسے انتخابات جو بلاخوف کے ہوں اور ووٹر اپنا ووٹ اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ اور ڈر کے استعمال کریں یہ ایک خواب ہی نظر آتا ہے۔
 مشرف، شیخ رشید اور ایم کیو ایم کا خیال ہے کہ ملک خطرات میں گھرا ہوا ہے لہٰذا انتخابات نہ کرائے جائیں۔ مشرف اور شیخ رشید بیان دے چکے ہیں کہ آئین نہیں بلکہ ملک اہم اور بالاتر ہے۔الطاف حسین کا کہنا ہے کہ ملک خطرات میں گھرا ہوا ہے اور سیاستدان اقتدار کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ آئین سے بالاتر قدم اٹھانے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ اسٹبلشمنٹ کا ایک بڑا حصہ بھی یہی چاہتا ہے کہ انتخابات نہ ہوں اور اگر ہوں تو اس کی مرضی کے ہوں۔
اس پس منظرکے باوجودالیکشن کمیشن کی سرگرمی نے انتخابات کا ماحول بنا دیا ہے۔ اس کے بعد عمران خان اور نواز لیگ کے درمیان سیاسی مناظرہ بازی بھی شروع ہوچکی ہے۔ 
میڈیا اور سیاسی محلفوں میں یہ بھی آئندہ انتخابات موضوع بحث ہیں۔ بحث کا بڑا نقطہ یہ ہے کہ کونسی پارٹی جیتے گی؟ کس پارٹی کا ووٹ بینک بڑھا ہے، کس کا کم ہوا ہے؟  زیادہ تر بحث پیپلز پارٹی اور نواز لیگ پر ہی  مرکوزہے۔ یہ دونوں ملک کی دو بڑی پارٹیاں سمجھی جاتی ہیں اور ماضی میں باری باری اقتدار میں آچکی ہیں۔ ذائقے کے طور پر تحریک انصاف کا بھی ذکرہوتا ہے۔ کیونکہ اس پارٹی کی انتخابی حاضری نہیں۔اس پارٹی کو بطور سرپرائز رکھا جا رہا ہے۔ کیا پتہ یہ سرپرائز کا عنصر پنجاب  یا پختونخوا میں کوئی بڑا سیٹ بیک پیدا کردے، اور اگر سیٹ بیک نہیں تو  ووٹ خراب کرنے کا کام کرے جس سے پہلے والے کسی صورتحال کو تبدیل کردے۔
مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس مرتبہ انتخابات غیر سیاسی بن جائیں گے۔ کیونکہ ملک میں مسلسل غیر سیاسی حکومتویں رہنے کی وجہ سیاست بھی اجتماعی ہونے کے بجائے انفرادی ہوگئی ہے ایسے میں انتخابات کی نوعیت غیر سیاسی ہونا عام فہم بات لگتی ہے۔
 ملک میں بڑا ووٹ بینک رکھنے والی جماعتیں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ہی ہیں۔ کیڈر کا کبھی ان  جماعتوں سے جذباتی اور رومانس کا رشتہ تھا۔ جس کو سیاسی زبان میں سیاسی رشتہ کہا جاتا ہے۔ وہ اب وہ نہیں رہا۔ لہٰذا اس بار کسی جذباتی یا سیاسی نعرے پر انتخابات کا ماحول بنتا ہوا نظر نہیں آتا۔کوئی پارٹی باقاعدہ کوئی منشور یا تبدیلی کا پروگرام پیش نہیں کر رہی ہے۔ لے دے کر ایک ہی تبدیلی کا نعرہ ہے کہ حکومت تبدیل ہو۔ اور اب ہماری باری ہے۔ یعنی بات نظام کی تبدیلی کی نہیں چہروں کی تبدیلی کی ہو رہی ہے۔ 
 انتخابات ایک  ایسی مشق ہے۔جس میں آزادی سے اور مرضی سے نمائندے  منتخب کرنے کے بجائے زیادہ تر زور جوڑتوڑ، پیسے اور ڈنڈے کا ہوگا۔اگرچہ یہ تینوں عناصر پہلے بھی استعمال ہوتے تھے، مگر رومانس اور جذباتی لگاؤ والا ووٹ  جو سیاسی وابستگی  والا ہوتا تھا، نہ پیسے سے ہلتا تھا اور نہ ہی ڈنڈے سے۔ ماضی  کے الیکشن بتاتے ہیں کہ شخصیت اور جذباتی لگاؤ اس سیاسی پاپولر ووٹ کو کھینچ کر  پولنگ اسٹیشن تک لاتا تھا۔مگر اس مرتبہ سردست ان دونوں بڑی پارٹیوں کے پاس کوئی ایسا جذباتی نعرہ وغیرہ نہیں نظر آتا جو اس ووٹ بینک کو گھر سے نکال سکے۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ یہ سیاسی ووٹ گھروں سے باہر نہ نکلے اور اسٹے بیک  (stay back)کرے۔
 آج جذباتی نعرے کی عدم موجودگی میں اور کونسے فیکٹر ہو سکتے ہیں جو پاپولر ووٹ کو متحرک کر سکیں گے۔غور سے دیکھا جائے توپاکستان میں ایسے تین فیکٹرز ہو سکتے ہیں۔ (۱)  قوم پرستی (۳) کارکردگی (۳)  انتخابات لڑنے  والے فریقین میں موجود کشیدگی اور مقابلہ۔ یہ کشیدگی جو عام آدمی کو متاثر کر سکے۔

 جہاں تک قوم پرستی کا تعلق ہے یہ فیکٹر نواز لیگ کسی حد تک فائدہ دے سکتا ہے۔کیونکہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ1999ع کے بعد کوئی بھی پنجابی بولنے والا وزیراعظم نہیں ہوا ہے۔چوہدری شجاعت حسین صرف دو ماہ کے لیے قائم مقام وزیر اعظم ہوئے تھے۔اس کی یہ معنی بھی نکالی جا سکتی ہیں کہ پنجاب 13 سال تک اسلام آباد کے اقتدار سے محروم رہا ہے۔اگر کوئی ایسی لہر چلی تو نواز لیگ کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔ مگر آدھے پنجاب میں یعنی سرائیکی بیلٹ میں سرائیکی صوبے کا نعرہ پیپلز پارٹی کو فائدہ دے سکتا ہے۔
 سندھ میں پیپلز پارٹی کے پاس قوم پرستی کے حوالے سے کچھ خاص نہیں ہے جو پاپولر ووٹ کو متحرک کر سکے۔بعض قوم پرست پارٹیوں کے پارلیمانی سیاست  کے اعلان کے بعدایک اور فریق بھی قوم پرستی کے دعویداربن گیا ہے جو اسلام آباد کی سیاست کرنے کا خواہاں ہے۔ 
اگرچہ 1988  میں بھی پیپلز پارٹی نے قوم پرستوں کے ایسے اتحاد کا مقابلہ کیا ہے۔مگرتب محترمہ بے نظیر بھٹو کی کرشمہ ساز شخصیت زندہ  تھیں اور ضیا کی پرچھائیں ابھی ملک پر منڈلا رہی تھیں۔
کارکردگی کا فیکٹر میں نواز لیگ کو اضافی نمبر مل سکتے ہیں۔ کیونکہ اس پارٹی نے کچھ کیا ہے باقی ایک تصور پیدا کیا ہے کہ پنجاب میں گڈ گورننس ہے۔وہ ایک حد تک انتخابی مہم کا حصہ بھی  بنا سکتی ہے جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی گورننس قابل تعریف نہیں رہی ہے۔ 
دنیا کے مہذب ممالک میں معیاری تبدیلی انتخابات کے ذریعے ہی آتی ہے۔جہاں عوام ووٹ کے ذریعے بہتر سے بہتر پارٹی کو منتخب کرتا ہے اور اس سے بہتر سے بہتر کارکردگی لے لیتا ہے۔ وہاں سیاسی جماعتیں اور انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومتیں اجتماعی ترقی، اجتماعی بہتری کے لیے کام رکتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں معاملہ مختلف ہے۔ اگر حکومت کوئی اچھا کام بھی کرتی ہے تو مینگنیاں ڈال دیتی ہے۔ ایم  پی اے اگر پانچ سو نوجوانوں کو اپنے بنگلے پر بلاکر ملازمت کے ارڈر دیتا بھی ہے تو یہ اس کا ان نوجوانوں پر ذاتی احسان کے طور پر رہتا ہے۔
ایک اور بھی۔ ایک اور بھی فرق آیاہے۔ ہر حلقہ انتخاب میں ایسے چھوٹے چھوٹے معززین کی تعداد بڑھ گئی ہے جن کے ہاتھ میں پانچ سات سو ووٹر ہوتے ہیں۔لہٰذا اب ایم پی اے صاحب اب براہ راست عام لوگوں سے رابطے میں رہنے کے ان چھوٹے چھوٹے صاحبوں سے رابطے میں رہتا ہے۔یہ چھوٹے صاحبان تھانے، آبپاشی روینیو محکموں میں بڑے صاحب کے  نام پر  لوگوں کے مسائل حل کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ چھوٹا صاحب  پانچ سو ہزار لوگوں کو اپنے رعب اور دائرہ اثر میں رکھتا ہے۔یوں ہر حلقے میں ایک گروہ ذاتی مفادات کا سرکل بناتا ہے۔لہٰذا معاملات کو سیاسی بنانے کے بجائے انفرادی بنادیا گیا ہے۔
 جہاں تک کشیدگی کا تعلق ہے کشیدگی جو سیاسی طور پر موجود نظر آتی ہے و ہ پیپلز پارٹی اور ریاست کے بعض اداروں کے درمیان ہے۔ ایسا کوئی معاملہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے درمیان نظر نہیں آتا۔ہاں البتہ عمران خان نواز لیگ کو ضرور اس  pitch پر لے آیا ہے۔ اور ”جواب دو، اور جواب لو“ شروع کیا۔
کچھ عرصے تک نواز لیگ بھی مرکز میں پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں رہی۔ پنجاب میں  خاصے عرصے تک پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی مخلوط حکومت رہی۔ آگے چل کر بھی دونوں جماعتیں اعلانیہ و غیر اعلانیہ طور پر ایک دوسرے سے مفاہمت میں رہی ہیں۔ لہٰذا آج معاملہ ماضی کے اسلامی جمہوری اتحاد اور پیپلز پارٹی کے درمیان مقابلے اور مسابقت والا نہیں ہے۔ 
ایسا ووٹر جو سیاسی ووٹر ہے اور پارٹی سے وابستگی کی بناء پر بلا کسی دھونس اور ڈنڈے کے یا پیسے کے ووٹ کاسٹ کرنے جاتا تھا  اور کبھی کبھی برادریوں  کے فیصلوں کو بھی بالائے تاک رکھ کر کو اور اپنی مرضی سے ووٹ کاسٹ کرتا تھا، اس ووٹ کے ٹرن آؤٹ کے امکانات کم ہیں۔اس سے نواز لیگ کو پنجاب میں اور پیپلز پارٹی کو سندھ میں نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔کیونکہ دونوں پارٹیوں کو اپنے پانے علاقے میں پچاس فیصد سے زیادہ ایسا ہی ووٹ ملتا ہے۔اگر  پاپولر ووٹ کا ٹرن آؤٹ گھٹتا ہے تو اس کا فائدہ مضبوط آزاد امیدواروں  یا روایتی طور پر مقابلہ کرنے والی پارٹیوں کی لاٹری نکل آئے گی۔ ایسے امیدوار اپنے ووٹرز کا انگلیوں پر حساب رکھتے ہیں۔ 
لگتا ہے کہ پاپولر ووٹ کا ٹرن آؤٹ گھٹنے سے خود مجموعی طور پر ٹرن آؤٹ بھی کم ہونے کا امکان ہے۔ٹرن آؤٹ اس وجہ سے بھی کم ہوگا کہ کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں کے بعد جعلی ووٹ ختم ہو جائیں گے۔کم ٹرن آؤٹ خود انتخابات اور موجود بڑی پارٹیوں اور ان کی قیادت  پرعدم اعتماد کا اظہار ہوگا۔

Thursday, 5 March 2020

سنیٹ انتخابات سے عام انتخابات تک - 2012-02-06

Mon, Feb 6, 2012, 11:17 AM
سنیٹ  انتخابات سے عام انتخابات تک ۔۔  سہیل سانگی  
ُ وزیر اعظم کی توہین عدالت میں مقدمہ میں طلبی اپنی جگہ پہ، پیپلز پارٹی نے  2 مارچ کو  سنیٹ کے انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے مفاہمت کے ایک فارمولے پر کام کر رہی ہے۔ فارمولے کے اہم بات یہ ہے کہ سنیٹ کے انتخابات بلا مقابلہ کرائے جائیں۔یہ تحرک  اس پس منظر میں ہے کہ مختلف جماعتوں کو اسمبلیوں میں عددی حمایت موجود ہے اس کو تسلیم کرتے ہوئے  اس کے مطابق ہی  نشستیں دی جائیں اور بعض اتحادی  جماعتوں کو ایکموڈیٹ کرکے سیاسی حمایت حاصل کی جائے۔ حکمرن جماعت نے اس مقصد کے لئے اتحادی جماعتوں کے علاوہ سب سے بڑی مخالف جماعت مسلم لیگ (ن) سے بھی مذاکرات کئے ہیں۔ اس فارمولے کے تحت مسلم لیگ (ق) کو دو نشستیں دی جائیں، جس کی ایوان بالا میں نمائندگی بالکل ختم ہو رہی تھی۔مبصرین  کا کہنا ہے کہ وسیم سجاد کے لئے اسلام آباد کی نشست اور سید مشاہد حسین کو پنجاب سے نشست دینے  پر رضامندی کا اظہار کیا گیا ہے۔  
وفاقی دارالحکومت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے سنیٹ کے انتخابات بلامقابلہ کرانے کے ساتھ بعض دیگر معاملات بھی نتھی کررہی ہے، جس کوحل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔پیپلز پارٹی کا یہ موقف ہے کہ فی الحال سنیٹ کے انتخابات ہوجائیں باقی معاملات کو بعد میں دیکھا جا سکتا ہے۔ 
سندھ میں اس فارمولے پر عمل درآمدزیادہ مشکل نظر نہیں آتا۔ بڑے سیاسی فریق پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور فنکشنل لیگ ہیں۔ باقی تیں اتحادی یعنی مسلم لیگ (ق)، نیشنل پیپلز پارٹی اور اے این پی چھوٹے گروپ ہیں۔ جن کو عددی اثر  کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاسی ذائقے کے طور پر حکمران اتحاد میں شامل کیا گیا ہے۔صوبائی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کے مطابق ایم کیو ایم ک کو سنیٹ کی دو نشستیں ملتی ہیں لیکن اس فارمولے کے تحت اسے ایک نشست زیادہ ملے گی۔ مسلم لیگ فنکشنل کو بھی ایک نشست دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم  بخوشی سنیٹ کے انتخابات بلامقابلہ کرانے پر تیا رہو جائیگی۔ اس ضمن میں بابر غوری عندیہ دے چکے ہیں۔ 
یہ فارمولہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی قابل عمل نظرآتا ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) مان جاتی ہے تو تمام انتخابات بلامقابلہ ہوجائیں گے۔
سیاسی مبصرین اس فارمولے کی کامیابی کو سیاسی قوتوں کی بڑی فتح قرار دے رہے ہیں۔سنیٹ میں بلا مقابلہ امیدوار لانے سے مجموعی طور پر اتحاد کا مظاہرہ ہوگا۔ جس کے ملک کے موجودہ بحران پر بھی مثبت اثرات پڑینگے۔ اول یہ کہ کوئی سنیٹ  انتخابات کے حوالے سے کوئی نئی جوڑ توڑ نہیں ہوگی،اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ سیاسی قوتوں کے اتحاد کا مظاہرہ غیر سیاسی قوتوں کو کمزور کریگا۔ اگر یہ انتخابات بلا مقابلہ ہو جاتے  ہیں تو جو پارٹیاں اور لوگ اسمبلیوں میں ہیں ان کا ایک طرح سے غیررسمی اتحاد بن گیا گیا ہے اور یہ جماعتیں ایک سسٹم کا حصہ بن جائیں گی آئندہ انتخابات میں بھی کسی اور قوت کے بجائے ایک دوسری کی بلاواسطہ ایک دوسرے کی خیرخواہ ربن سکتی ہیں۔ یہ صورتحال نئے سیاسی ایکٹرز بشمول عمران خان کی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی  وغیرہ کا دروازہ بند کردے گی اور اس کے ساتھ ساتھ نئی سیاسی صف بندی کی بھی پیش بندی کردے گی۔
  یہ فارمولہ مسلم لیگ (ن) کو بھی سوٹ کرتا ہے جسکو پنجاب میں عمران خان کا سامنا ہے، جس کی مقبولیت کو نواز شریف نے بھی بھانپ لیا ہے اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بڑے پیمانے پر انٹری کو اگر چیک نہیں کی گیا تو باقی تینوں صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی منقسم مینڈیٹ آئے گا اور  وہاں پر مخلوط حکومت بنے گی۔ جبکہ پیپلز پارٹی کو بھی سرائیکی بیلٹ میں یہ غیر رسمی اتحاد فائدہ  دے سکتا ہے جہاں کچھ ہیوی ویٹ تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ ان ہیوی ویٹز کی شمولیت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پنجاب میں عمران خان سے زیاداہ خطرہ پیپلز پارٹی کو ہی ہے۔ کیونکہ تاحال پنجاب کے بالائی حصے سے کسی ہیوی ویٹ کی شمولیت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ 
سندھ میں یہ غیر رسمی اتحادعام انتخابات میں بھی زیادہ قابل عمل ہے۔کیونکہ اس کے نتیجے میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فارمولہ پر عمل درآمد میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں۔ یعنی جو سیٹ جس پارٹی کے پاس ہے وہ اسی کے پاس رہنے دی جائے۔کوئی بھی فریق زیادہ لالچ نہ کرے اور مفاہمت کا جذبہ رکھے توکراچی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بمشکل دو تین نشستوں پر تنازع ہے۔ ورنہ ہر ایک جانتا ہے کہ کونسی نشست کس جماعت کی ہے۔
 اندرون سندھ میں تھرپارکر میں ارباب، ٹھٹہ کے شیرازی، گھوٹکی کے مہر، دادو سے لیاقت جتوئی پیپلز پارٹی کے فولڈ سے باہر ہیں۔جبکہ اندرون سندھ کی باقی نمائندگی یا پیپلز پارٹی کے پاس ہے یا پھر فنکشنل لیگ اور اور جتوئی گروپ کے پاس ہے۔
سندھ میں جو فورسز اس فولڈ سے باہر رہتی ہیں وہ ہاتھ پاؤں ما ر رہی ہیں کہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں انکو بھی کچھ شیئر ملے۔ شیرازی اور مہر جب تک کوئی ”بڑا اشارہ“نہیں ملتا پوزیشن تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔یہ تینوں گروپ لیاقت جتوئی کی طرح انتخابی نتائج کے بعد اور براہ راست اسلام آباد ے ڈیل کرنے کے آسرے میں ہیں۔تاہم ارباب نے شاہ محمود قریشی سے ورکنگ رلیشن شپ بنانے کی کوشش کی ہے۔تھر کے علاقے میں شاہ محمود قریشی کے ووٹر تو موجود ہیں مگر اس کو ووٹ بنک میں تبدیل کرنے کا سیٹ اور مقامی طور پر لیڈرشپ موجود نہیں۔ ارباب گروپ شاہ محمود قریشی کی اس کمزوری کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔لہذاانہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت کے بجائے انتخابات میں اور ا سکے بعد ساتھ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
  شاہ محمود قریشی کے عمرکوٹ میں ہونے والے جلسے کے لئے بڑے پیمانے پر کوششیں کی جا رہی ہیں کہ سندھ سے کوئی ہیوی ویٹ تحریک انصاف کی جھولی میں آئے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ارباب گروپ کے علاوہ لاڑکانہ کے الطاف انڑ اور پیپلز پارٹی کے دو رہنماؤں یوسف تالپور اور میرپورخاص کے سید قربان علی شاہ سے مذاکرات کئے۔ الطاف انڑ جو مشرف دور میں صوبائی وزیر رہ چکے ہیں اور عام حالات میں اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست جیت جاتے ہیں، وہ بھی ان غیر یقینی حالات میں عمران خان کی پارٹی میں شمولیت کے لئے تیار نہیں۔ سابق وفاقی وزیر نواب یوسف تالپور کو پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت نے کھڈے لائن لگایا ہوا ہے اور مقامی سطح پر بھی انکو زیادہ اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔ یوسف تالپور پیپلز پارٹی سے پہلے ممتاز بھٹو کے سندھ نیشنل فرنٹ میں رہے ہیں اور قربان علی شاہ بھی کبھی ممتاز بھٹو کے قریب تھے۔ بعد میں وہ کچھ عرصہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ رہے اور ایم این اے بھی منتخب ہوئے۔ا ن سے بھی شاہ محمود قریشی نے رابطہ کیا تھا۔ قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کامیاب رہے لیکن  چند ہی دنوں میں پیپلز پارٹی نے انہیں منا لیا۔  
اس فارمولے کے سندھ میں اثرات کچھ اس طرح سے بھی ہونگے کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور فنکشنل لیگ کا رسمی یا غیر رسمی اتحاد اندرون سندھ میں کسی اور پارٹی یا گروپ کے لئے کوئی بڑی جگہ نہیں چھوڑتا۔لہذا چھوٹے گروپوں کو اپنی اہمیت کو مزید کم ہوتے ہوئے دیکھ کر سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ ووٹ پیپلز پارٹی یا اس کے اتحادی فولڈ میں آجائیں۔اپوزیشن جماعتیں اس فارمولے کے لئے تیار نہیں ہوتی ہیں تو سندھ میں اس فارمولے پر عمل کیا جائے گا۔