Showing posts with label Qadri. Show all posts
Showing posts with label Qadri. Show all posts

Tuesday, 10 March 2020

قادری کا مقدمہ - Feb 14, 2013

Thu, Feb 14, 2013 at 11:53 AM 
قادری کا مقدمہ 
 (فروری ۴۱۔۳۱۰۲ع)
 میرے دل میرے مسافر۔۔۔سہیل سانگی 
 علامہ طاہر القادری بنیادی حقوق کی خلاف ورزی، حق دعویٰ اور نیک نیتی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔جس کے بعدسپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق ان کی درخواست خارج کردی ہے۔ڈاکٹر قادری نے اپنی درخواست میں نہ صرف چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کو چیلنج کیا تھا بلکہ کمیشن کے چار ارکان پر بھی اعتراض کیا تھا۔ان کا اصرار تھا کہ یہ تقرریاں آئین کے آرٹیکل213 اور 218 کے تحت نہیں ہوئیں۔عدالت کا کہنا تھا کہ حقائق کی روشنی میں ان کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ اور یہ بھی کہ وہ اپنا حق دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
سماعت کے دوران طاہرالقادری کی طرف سے جارحانہ رویہ دیکھنے میں آیا۔علامہ قادری اور ججوں کے درمیان تلخ کلامی کے بعد انہیں دلائل دینے سے روک دیا گیا۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ طاہر القادری نے سماعت کے دوران جو زبان استعمال کی اس پر توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے تاہم عدالت تحمل کا مظاہرہ کرے گی۔ اگر علامہ کی عدالت میں زبان توہین عدالت کے مترادف تھی تو عدلیہ کو اس پر کاررائی کرنی چاہئے تھی۔ کیونکہ عدلیہ تو یہ کہتی رہی ہے کہ چاہے آسمان گرے  وہ کسی ی پرواہ کئے بغیر  اپنا فیصلہ دیتی رہے گی۔ ملکی تاریخ میں حال ہی میں تین توہیں عدالت کے ہائی پروفائل معاملات رونما ہوئے ہیں۔ پہلا وزیر اعظم گیلانی  کو کیس ہے جس میں انہوں نے سوئس حکام کو خط لکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ تو عدالت نے انہیں سزا دی۔ جبکہ اسی کیس میں دوسرے وزیر اعظم راجا پرویز اشرف سزا لگتے لگتے بچ گئے۔ دوسرا کیس ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کا تھا۔جنہیں نے عدلیہ کے خلاف س توہین آمیززبان استعمال کرنے پر عدلات میں طلب کیا گیا تھا، مگر وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔ اور عدلیہ نے ان کے تحریری بیان پر انہیں معاف کردیا تھا۔ اب  توہین عدالت سے متعلق تیسرا معاملہ علامہ قادری کا سامنے آیا ہے۔ اور ان کے معاملے میں عدلیہ نے تحمل کا مظاہرہ کیا  اور ان کے خلاف کارروائی نہیں کی۔  

طاہرالقادری نے عدالت میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سابق صدر پرویز مشرف سے حلف لینے والی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ ملکہ برطانیہ کی وفاداری اور ڈکٹیٹر سے حلف لینے میں کیا فرق ہے۔اس پر  اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ یہ دونوں برابر کے گناہ ہیں۔اس سے پہلے علامہ قادری عدلیہ کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے اور اسلام آباد کے دھرنے کے موقع پر بھی انہوں نے  عدلیہ سے بہت امیدیں وابستہ کی ہوئیں تھی۔ انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ موجودہ سپریم کورٹ میں موجود بعض ججز  اس کے شاگرد یا حامی ہیں۔ واقعی ایسا تھا  یا وہ  عوام  کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے بااثر ہونا دکھانے کے لیے یہ جتن کر رہے تھے۔ 

قادری کا کہنا ہے کہ عدالت نے ان کی نیک نیتی اورحلف وفاداری کی وجہ سے انہیں مشکوک بنا دیا۔حکومت کا اس درخواست پر عجیب موقف سامنے آیا۔ اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ طاہر القادری کا حق دعویٰ بنتا ہے اور نیک نیتی کا تعین کرنے کے لیے بدنیتی ثابت کرنا ہوگی۔عدلیہ میں پہلی مرتبہ  درخواست گزار  کی کریڈینشل کا سوال اٹھا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ دہری شہریت رکھنے والے پاکستانی اپنے بنیادی حقوق کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں یا نہیں؟ 
 چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کایہ کہنا امید افزا بات ہے کہ پاکستان میں سو سے زیادہ رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں ہیں جبکہ قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس منتخب ارکان ہیں لیکن طاہرالقادری کے سوا ان میں سے کسی کو بھی الیکشن کمیشن پر تحفظات نہیں۔یہ بات کہہ کر چیف جسٹس نے سیاسی جماعتوں کی پوزیشن کو تسلیم کیا ہے۔ 
ایک لحاظ سے یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ علامہ اس مطالبے کو بجائے اس کے کہ دھرنوں اور احتجاجوں میں لے جاتے، عدلیہ میں لے آئے ہیں جو ایک مثبت بات ہے۔ کیونکہ یہ ایک آئینی معاملہ ہے جس کی تشریح عدلیہ  ہی کر سکتی ہے۔ اگر دھرنوں اور احتجاجوں میں لے جاتے تو حکومت اور سیاسی جماعتوں کی پوزیشن نہیں تھی کہ وہ اس معاملے کا  تحفظ کر پاتیں۔ لانگ مارچ اور اس کے بعد دھرنے کی مثال ہمارے سامنے ہے۔بہرحال یہ بھی حقیقت ہے کہ اس فیصلے کے بعد  علامہ نے لانگ مارچ دھرنے اور بعد میں حکومت سے معاہدے کے ذریعے جو اخلاقی  حمایت حاصؒ کی تھی وہ ختم ہو گئی ہے۔ 
عدلیہ نے دہری شہریت رکھنے والے ایک درجن سے زائد اراکین اسمبلی کی رکنیت ختم کردی تھی۔اگر عدالت علامہ قادری کی درخواست منظور کر لیتی تو اس کو اپنے پہلے فیصلے ہٹنا پڑتا۔ 
الیکشن کمیشن کو گزشتہ  دو ہفتوں سے متنازع بنایا جا رہا تھا،عدلیہ کے اس فیصلے سے یہ تکرار ختم ہوگئی ہے۔ اور اس کے ساتھ وہ افواہیں بھی دم توڑ گئی ہیں کہ دباؤ کی وجہ سے چیف الیکشن کمشنر  اپنی طبع اور عمر کی وجہ سے استعیفا دے یں گے۔ اور یوں پہلے نگراں حکومت کی تقرری جس میں بھی  الیکشن کمیشن کا رول ہے اور بعد میں خود انتخابات خطرے میں پڑ جائیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر  فخرالدین جی ابراہیم نے علامہ قادری کی درخواست مسترد کرنے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے پر دونوں آئینی ادارے یکساں سوچ رکھتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان پارٹیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا جو جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔تاہم درخواست مسترد ہونے پر  تحریک انصاف، قاف لیگ  اور ایم کیو ایم کو افسوس ہوگا۔ کیونکہ یہ جماعتیں اس مطالبے پر علامہ کی حمایت کر رہی ہیں۔ تحریک انصاف اور قاف لیگ اپنے پچھلے موقف سے ہٹی ہیں۔ اور بظاہر  ان  جماعتوں نے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔  
سپریم کورٹ نے اقتداری دائرے میں اپنی جو جگہ بنائی ہے وہ چھورنے کے لیے تیار نہیں۔ 
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جب  ملک کی سیاسی فضا میں تبدیلی آئی تو حکومت کے تیور بھی بدل گئے۔ وہ علامہ قادری سے مزید بات چیت کرنے اور اس کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے حکومت کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ تاہم  یہ بات اپنی جگہ پر ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعت قاف لیگ ابھی تک زور دے رہی ہے کہ علامہ قادری سے کئے گئے معاہدے پر عمل درآمد کیا جائے۔ 
اگرچہ نیا الیکشن کمیشن تشکیل دینا ایک دو ہفتوں کا عمل بتایا جاتا ہے پر ا پر اتفاق رائے ہونا مشکل ہ جاتا۔ علامہ کی درخواست پر سیاسی حلقے خاصے پریشان تھے کہ اگر ان کا موقف مان لیا جاتا ہے تو انتخابات یقیننا ملتوی ہوتے۔ اب کوئی نیا پینڈورا باکس نہیں کھل رہا ہے تو سیایس جماعتوں کو چاہئے کہ وہ انتخابات کی تیاری کریں اور حکومت کو چاہئے کہ وہ نگران سیٹ اپ کا اعلان کرے اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے۔

علامہ کے دھرنے نے کیا سکھایا؟ - Jan 21, 2013

Mon, Jan 21, 2013 at 11:48 AM 
Corrected
علامہ کا مارچ بہتی گنگا:  میرے دل میرے مسافر۔۔۔سہیل سانگی 

چوہدری شجاعت حسین کی ثالثی نے بھی کام نہیں دکھایا۔ علامہ طاہرالقادری نے لانگ مارچ شروع کردیا ہے۔ شاید حکومت کے لیے لانگ مارچ کا اسلام آباد پہنچنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنی اسلام آباد کو التحریر اسکوائر بنانے کی دھمکی اہم ہے۔ حکومت کو یہ بھی پریشانی ہے کہ اگر طالبان یا کسی دوسرے ایسے عناصر نے کچھ کیا تو بڑی خوں ریزی ہوگی۔ اس صورت میں لانگ مارچ حکومت کا کچھ بگاڑ سکے یا نہ بگاڑ سکے  یہ خوں ریزی یقیننا حکومت اور پورے نظام کو ہلا کے رکھ دے گی۔ کوئٹہ میں لاشیں رکھ کے کیا جانے والا احتجاج نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک پر اثرانداز ہو رہا ہے جہاں سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ کوئٹہ میں فوج تعینات کی جائے۔ بلاشبہ کئی چیزوں میں حکومت کی ناہلی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کی ناہلی یا خراب حکمرانی کی سزا  جمہوری عمل کو دی جاسکتی ہے؟ 
لانگ مارچ کا سیاست میں رواج چینی کیمونسٹ رہنما  ماؤزی تنگ نے 1934 میں ڈالا تھا، جب چیانگ کائی شیک کے خلاف لڑائی میں 
 چینی کمیونسٹ پارٹی کی ریڈ آرمی نے اپنی صفوں کی از سرنو ترتیب کے لیے پیچھے ہٹی تھی۔ چینی کمیونسٹوں نے چھ ہزار میل کا سفرکرکے نقلابی مرکز جنوب سے شمال میں منتقل ہوگیا۔اور کئی کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ لانگ مارچ چین میں آمریت کے خاتمے اور سوشلسٹ نظام رائج کرنے کے لیے تھا۔
مولاناعبدالحمید بھاشانی نے مارچ  1976ع میں بگلادیش میں لانگ مارچ کیا تھا۔ بنگلادیش بننے سے  پہلے مولانا بھاشانی پاکستانی سیاست میں بڑا نام تھے۔مولانا نے یہ مارچ فر خا ڈیم کی تعمیر پر بھارت کے خلاف لانگ مارچ کیا۔ اس ڈیم کی تعمیرکے لیے بھارت دریائے پدما  سے پانی دریائے گنگا  میں ڈالنا چاہ رہی تھی،جو بنگلا دیش کوغیرآبادکردیتا۔ کہا جاتا ہے کہ بنگلادیشی حکومت اس لانگ مارچ کے پیچھے تھی۔
پاکستان کو بھی تین لانگ مارچوں کا تجربہ ہے۔ پہلا لانگ مارچ محترمہ بے نظیر بھٹو نے نومبر 1992 میں کیا تھا۔یہ نواز شریف کے خلاف تھا، جب وہ ان کو ہٹاکر حکومت میں آئے تھے اور ان کے خلاف کاررویاں شروع کردی تھیں۔پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیاں جھڑپیں ہوئیں۔اسلام آباد میں سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔ پولیس نے محترمہ کے گھر کے باہر خاردار تار بچھا دیئے تھے۔ سینکڑوں رکاوٹیں کھڑی کردی تھی، تاکہ وہ راولپنڈی میں نہ پہنچ سکیں جہاں لانگ مارچ پہنچا تھا۔ محترمہ جیالوں کی حصار میں راولپنڈی پہنچ گئیں۔ اس کے تقریبا چھ ماہ بعد نواز شریف کی حکومت ختم ہوگئی۔ 
دوسرا مارچ بینظیر بھٹو نے نواز شریف حکومت کے خلاف کالاباغ ڈیم کے مخالفت کے حوالے سے کیا تھا۔ اور سندھ پنجاب سرحد پر کموں شہید کے مقام پر قوم پرستوں کے ساتھ مل کر دھرنا دیا تھا۔ اس مارچ میں عوامی نیشنل پارٹی بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ تھی جس نے پیپلز پارٹی کے ساتھ ملکر اٹک کے پل پر اسی دن دھرنا دیا تھا۔یہ دھرنا چھوٹے صوبوں کا نواز شریف کے خلاف احتجاج تھا اور سندھ اور خیبرپختونخوا کا اتحاد تھا۔ اس دھرنے کے نتیجے میں بھی  نواز شریف حکومت کو جانا پڑا تھا۔ 
تیسراا لانگ مارچ نواز شریف نے 2008 میں مشرف کی برطرف کردہ عدلیہ کی بحالی کے لیے پیپلز پارٹی کی حالیہ حکومت پر پریشر ڈالنے کے لیے کیا تھا۔ لاہور سے شروع ہونے والا مارچ ابھی آدھے راستے میں ہی تھا کہ آرمی چیف کا انہیں ٹیلیفون کال آئی کہ ان کے مطالبات مان لیے گئے ہیں۔  لہٰذا وہ اپنا احتجاج ختم کردیں۔ پہلے دو مارچوں کا نتیجہ پانچ سات ماہ بعدسامنے آیا جبکہ تیسرے مارچ کا 24 گھنٹے کے اندر نتیجہ آیا۔ اب چوتھے کی باری ہے۔ کیا  اس کا نتیجہ ان تین سے مختلف ہوگا؟ 
اس سے قبل 80 کے عشرے میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے  والے لوگوں پر یکساں زکوات کا نظام نافذ کرنے کے خلاف لانگ مارچ کی کوشش کی تھی۔ مگر یہ لانگ مارچ کوئی زیادہ رنگ نہیں دکھا پایا۔
پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ مارچ وہی کامیاب ہوتا ہے جس کو اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ اس مارچ  کا مقصد عوام کو موٹیویٹ یا قائل اور متحرک کرنا نہیں اسٹبلشمنٹ کو موٹیویٹ کرنا ہوتا ہے؟
علامہ قادر ی آج ایسے موقع پر لانگ مارچ کر رہے ہیں جب پیپلز پارٹی اپنی آئینی مدت مکمل کرنے میں چالیس یا پینتالیس روز باقی ہیں۔ہاں یہ اور بات ہے کہ یہ پارٹی آئندہ انتخابات  میں بھی اقتدار  میں آنے کے لیے کوشاں ہے۔ملک میں دہشتگردی  کے واقعات نے  عام زندگی کو معطل کرکے رکھا ہوا ہے۔ کوئٹہ  کے حالیہ واقع اور اس پر احتجاج نے ایک نئی صورتحال پیدا کردی ہے، جس کی وجہ سے کوئٹہ کے مظاہرین  وہاں فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔  
علامہ قادری کے تین مطالبات ہیں نئے الیکشن کمیشن کی تشکیل، فوج اور عدلیہ کی مشاورت سے نگراں حکومت کا قیام، اور انتخابات میں امیدواروں کے لیے اہلیت کی شرط پر سختی سے عمل درآمد۔یہ بہت بڑی فرمائش ہے۔راتوں رات ایسا ہو جائے، آئین میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ وہ ایساکیوں کر رہے ہیں؟ علامہ خود کا دعوا ہے کہ وہ ملک کے عوام کے لیے کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی از سرنو تشکیل ملک کی کوئی بھی جماعت نہیں چاہ رہی ہے۔آج کی صورتحال میں علامہ قادری کے بیچ میں آنے سے پرامن طریقے جمہوری حکومت کی منتقلی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ کیونکہ اگر انتخابات ہو جاتے ہیں تو فوج کے بیچ میں پڑنے کے بجائے جمہوری طور پر اقتدار منتقل ہو جائے گا۔تو یہ عمل پختہ ہو جاتا۔ایسا لگتا ہے کہ یہ بازار کھیل کے نئے شرئط طے کرنے کے لیے لگاہے۔ 
 علامہ قادری کا لانگ مارچ کتنا کامیاب ہوتا ہے اور خیر خوبی سے ہو جاتا ہے، اس کے دور رس اثرات بھی مرتب ہونے ہیں۔ان تمام  باتوں سے ہٹ کر اس لانگ مارچ کے موجودہ حالات پر بھی اثرات پڑے ہیں اور سیاسی صف بندی پر بھی اثرات ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض سیاسی جماعتوں کی پوزیشن مضبوط بھی ہوئی ہے۔ اس مارچ سے علامہ طاہرالقادری کے علاوہ  باقی سب سیاسی جماعتوں کو موجودہ منظرنامے میں فائدہ ہوا۔دور رس ناتئج تو پاکستان کے سیایس کھلاڑیوں نے کونسے پہلے دیکھے تھے کہ اب دیکھیں گے؟
 ایم کیوایم  کی پوزیشن تبدیل ہوئی۔ کچھ ہی گھنٹے پہلے الطاف حسین  ڈرون حملہ کر چکے تھے اور ہر حال میں علامہ کے مارچ میں شرکت کا اعلان کرچکے تھے۔  ایم کیو ایم نے اٹھارہ گھنٹے میں یو  ٹرن لیا ہے۔ یہ کیا دانشمندی کی کمی ہے؟اس پر کئی سوالات کئے جارہے ہیں۔ کیا یہ جماعت صرف ردعمل کی سیاست کرتے ہیں۔ کیا ایک سیاسی پارٹی کے طور پر اس اعلان کے امکانی پہلو پر غور نہیں کیا تھا؟

علامہ قادری کی آمد ان کا ساتھ دینے اعلان  کے نتیجے میں سودے بازی ہوئی ہے۔ ایم کیو ایم  نے لانگ مارچ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان گورنر ہاؤس میں اعلان کیا ہے اس کا مطلب یہ کہ موجودہ گورنر برقرار رہیں گے۔ نگراں سیٹ اپ میں بھی تبدیل نہیں ہوگا۔ٰیہ الگ بات ہے کہ گزشتہ انتخابات میں گورنر کے کردار پرمختلف باتیں ہوتی رہی ہیں۔کراچی میں ووٹرز کی تصدیق اور حلقہ بندی کا معاملہ بھی لٹک گیا۔ ووٹروں کی تصدیق کے عمل میں فوج کا کردار صرف تحفظ فراہم کرنا  اور پیٹرولنگ تک محدود کردیا گیا ہے۔ اس صورتحال پر اے این پی کا کہنا ہے کہ ان دو انتخابی مراحل کو مفاہمت کھا گئی۔ایم کیوایم اور مسلم لیگ  (ق)کو موقعہ ملا کہ وہ اپنے اپنے معاملات نمٹائیں اور صورتحال سے فائدہ اٹھائیں۔مسلم لیگ (ق) نے پنجاب میں سیٹ ایڈجسمنٹ کرالی۔حکومت نے سندھ میں بلدیاتی نظام  پر ایم کیو ایم کی بات مان لی ہے۔ یہ نظام فی الحال سپریم کورٹ کے سہارے پر کھڑا ہے جس کے لیے عدالت نے حکم امتناعی جاری کیاہوا ہے۔ نگراں سیٹ اپ کے لیے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے درمیان بات چیت ہوگئی ہے۔ یہ اپنی سیاست کو آگے بڑھانے کے لیے اب ایک دوسرے پر تنقید نہیں کر رہی ہیں ان دونوں جماعتوں کے پاس ٹارگیٹ کرنے کے لیے اب علامہ قادری موجود ہے۔ علامہ تو خیر دوسروں کا فائدہ کرنے  ہی آئے ہیں۔ اور اس بہتی گنگا میں ہماری سیاسی جماعتوں نے بھی ہاتھ  دھو لیے تو کوئی مضاحقہ ہے کیا؟

=====================

علامہ کے دھرنے نے کیا سکھایا؟

سہیل سانگی
وقت کے ساتھ علامہ طاہرالقادری کی لانگ مارچ کا قصہ پارینہ ہو جائے گا۔ لیکن اس دھرنے کی پراسراریت برقرار رہے گی۔لانگ مارچ کے پیچھے کونسی طاقتیں تھیں؟ درحقیقت مقاصد کیا تھے؟دھرنے کو روکنے کے بارے میں پلان کس طرح سے تبدیل ہوا اور پھر حکومت مذاکرات کیسے ہوئے؟ اسلام آباد کے نامہرباں موسم نے علامہ کی بھی عزت بچالی اور حکومت کا بھی کام ہو گیا۔معاملہ لمبا کھچ گیا تو علامہ کو یہ فکرہوگئی۔کسی سیاسی جماعت نے ساتھ نہیں دیا اس پر طرہ یہ کہ حکمراں خواہ  اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں لانگ مارچ کے خلاف کٹھی ہو گئیں۔ اور کوئی مداخلت کار بھی مدد کو نہیں پہنچا۔وہ تنہائی  کے عالم میں تھے۔ اگراس سردی میں موسم مزید نامہرباں ہوگیا تو اتنے سارے لوگوں کو کہاں ٹھکانہ ملے گا؟ حکومت کو ڈر تھا کہ خراب موسم کی وجہ لوگ بیمار پڑنایا مرنا شروع ہوئے تو فلم گلے پڑ جائے گی۔لہٰذادھرنے کا پرامن اختتام حکومت کی بھی ضرورت تھی۔کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ مذاکرات کے لیے بھی حکومت کے دو اتحادی جماعتوں کا زور تھا۔ بہرحال جو بھی ہوا وہ خوب ہوا۔
 مذاکرات ہوئے اور معاہدہ بھی طے پا گیا۔ اس پر بھی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔صورتحال جوں کی توں ہے۔معاہدے اور لانگ مارچ کی”کامیابی“کے باوجود حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔وہی الیکشن کمیشن موجودہے۔ نگراں سیٹ اپ کے لیے فوج اور عدلیہ کو اسٹیک ہولڈر بنانے کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔ علامہ کے مطالبات آئین سے بالاتر تھے۔ کچھ طے ہوا اس کی نہ آئینی اور قانونی پوزیشن ہے اور نہ ہی کوئی مکینزم بنایاگیاہے۔سیاسی جماعتیں سمجھ رہی ہیں کہ اب یہ ڈرامہ ختم ہو گیا۔بظاہریہ درست بھی لگتا ہے ان تمام چیزوں کے باوجوداس لانگ مارچ کی اہمیت  سے اور اس کے اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ 
 نواز شریف نے فون کر کے غیرمشروط تعاون کا یقین دلایا۔ یہ وہ وقت تھا جب حکومت کی اپنی اتحادی جماعتیں علامہ قادری سے جوڑ رہی تھی۔پیپلز پارٹی کے ہاتھ سے انیشیٹو نکل گیا۔ نواز شریف نے اپوزیشن کی جماعتوں کا اجلاس بلالیا۔ علامہ میں غضب کا اعتماد تھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ اعتماد کہاں سے آیا؟ 
بعض سیاستدں  اور جمہوریت پسند حلقے ڈرے ہوئے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ قادری کے اس لانگ مارچ کے ٹھس ہونے کے بعد کو بھی قوتیں یہ سب چاہ رہی تھیں خاموش نہیں بیٹھیں گی، ان کے ترکش میں اور بھی تیر ہیں۔ قادری  کے اس تحرک کو فوجی اسٹبلشمنٹ اور امریکہ سے جوڑا جا رہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے فوجوں کی واپسی کے بعد یہاں پر غیرسیاسی اور ٹیکنوکریٹ حکومت جو  ان دونوں کی وفادار ہو قائم ہو، اور اس طرح سے صفائی کرے جس طرح سے بنگلادیش میں سپریم کورٹ اور فوج نے  2007 سے 2009 تک کی تھی جس میں دونوں بڑی جماعتیں عوامی لیگ اور  باہر تھی۔ سانحہ یہ ہے کہ دو سال کے بعد واپس جب انتخابی عمل شروع ہوا تو یہی دو بڑی جماعتوں کی شکل میں میدان میں تھیں۔ اور اس تجربے ہی تجربے میں بنگلادیش کے دو سال ضایع ہو گئے۔وہ قوتیں جو  اس پلان پر عمل کر رہی ہیں ان سے صرف اتنا ہی پوچھناہے کے کہ کیا اس تجربے کو پاکستان میں دہرانے کی گنجائش نکلتی ہے؟
یہ درست ہے کہ علامہ قادری انقلاب تو نہیں آیا، مگر یہ لانگ مارچ اور تحریک سیاسی منظر نامے پرکئی اثرات چھوڑ گئی ہے اور کئی سبق سکھا گئی ہے۔
1) سیاسی قوتیں اگر متحد ہوجائیں تو بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ 
2)  صرف ایک منتخب حکومت کے پانچ سال مکمل کرنے  بعد یہ بات سامنے آئی کہ سیاسی قوتیں اتنی بالغ ہو گئی ہیں کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے میدان میں آگئیں۔ یہ سوال ابھی تک باقی ہے کہاسٹبلشمنٹ سیاسی جماعتیں  پر ان کے گروہی مفادات کی  وجہ سے غالب رہی ہے، یہ جماعتیں کتنا عرصہ اس موقف پر کھڑی رہیں گی؟کیا ان جماعتوں کو خاص کر مذہبی جماعتوں کو جمہوری نظام عملا سوٹ کرتا ہے؟یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتیں خود جمود کا شکار ہیں۔ ایسے وہ اس اصولی موقف پر کھڑی ہوسکتی ہیں؟ یا اپنے اندر ایسی تنظیمی  و پالیسی کے حوالے سے تبدیلی لا سکتی ہیں کہ واقعی ایسے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں؟
3)اس لانگ مارچ نے ایک بار پھریہ ثابت کیا کہ پاکستان میں کوئی جامع سیاسی نظام موجود نہیں ہے۔ایسا جامع نظام نہ ہونے کے مخلتف توضیحات اور اسباب ہو سکتے ہیں، مختلف حلقوں کو اس کے لیے ذمہ دار ٹہرایا جا سکتا ہے۔ اوراسباب اور ذمہ داران کا تعیین کرنے کے بعد  آئندہ کے لیے  بندوبست کئے جا سکتے ہیں۔
4)کیااب مثال قائم ہوچکی ہے کہ چند ہزار لوگ وفاقی دارالحکومت جمع ہوکر حکومت کو مفلوج کر دیں گے؟ 
5) لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ خراب حکمرانی نے موقعہ فراہم کیا اور ماحول پیدا کیا کہ یہ مارچ کامیاب ہو۔
6)پاکستانی قوم کسی مسیحا کی تلاش میں ہے، جو آکر ان کی جان چھڑائے۔وہ اکیسویں صدی میں بھی معجزے کی منتظر ہے۔لہٰذا کوئی بھی مداری آکر تماشہ دکھا سکتا ہے۔
  7)علامہ قادری اور عمران خان کے حامیوں کی خاصی تعدا د تیس سال سے کم عمر نوجوانوں کی ہے۔ جو فوری طور پر اور بڑی تبدیلی چاہتے ہیں۔ ان کی نہ سیاسی تربیت ہے نہ تجربہ اور نہ ہی سیاسی کمٹمنٹ۔ نوجوان تبدیلی کے خواہان ہیں بہرحال انہیں نقلی مسیحاؤں سے بچنا چاہئے۔
8)عوام انتخابی قوانین میں تبدیلی چاہتے ہیں۔
لانگ مارچ کے ان  دوررس  اثرات ک؎ے ساتھ ساتھ بعض فوری سیاسی اثرات بھی ہوئے ہیں اور بعض جماعتوں کو اسکا  براہ راست  فائدہ پہنچا:
1۔عمران خان کا  تبدیلی پسندی کا اور پنجاب میں مقبولیت کا حصہعلامہ  قادری لے گئے۔
 2۔نواز شریف کا پلڑا پیپلز پارٹی کے مقابلے میں بھاری ہوگیا۔ان کا خیال ہے کہ اب ان کی باری آوے ہی آوے۔
3۔ اس دھرنے سے تمام سیاسی  جماعتوں نے فائدہ اٹھایا۔ایم کیو ایم سندھ میں اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوئی۔ مسلم لیگ (ق) کو پنجاب میں پیپلز پارٹی نے سیٹ ایڈجسمنٹ کی۔
دھرنے کی بعض خصوصیات بھی تھیں۔(الف)دھرنے میں شرکاء صرف ایک ہی صوبے یعنی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ سندھ، بلوچستان اور پختونخوا سے شرکت نہیں تھی۔(ب)یہ سب شہری لوگ تھے۔ دیہی علاقوں کے لوگوں یا مزدوروں کو موبلائز نہیں کیا جسکا جن کی نجات کا دعاہ کیاجارہا تھا۔(ت)یہ نیا مظہر ہے کہ شہری مڈل کلاس تبدیلی لانے اور انقلاب کے نعرے سے متاثر ہو رہا ہے۔ اس مرتبہ یہ تبدیلی مذہبی رنگ میں ہے۔
یہ صحیح ہے کہ لوگوں کی تعداد اعلان کے مطابق لاکھوں میں نہیں تھی، تاہم اتنی تھی جو متاثر کر سکے۔ ان کا ایجنڈا واضح نہیں ہے۔
، تاہم وہ بار بار فوج اور عدلیہ کی حمایت مانگ رہا ہے اور ان دو اہم اداروں کی تعریف بھی کر رہا ہے۔ 
لگتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ پاکستان کی مذہبی قوتوں کا سافٹ امیج  پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ جن کے لیے پہلے یہ تاثر ہے کہ وہ تشدد اور بے چینی چاہتی ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ عدلیہ اور فوج بھی قادری کے ساتھ ہیں کہ وہ حکومت کو مجبور کرے کہ ایک ایسا نگران سیٹ اپ قائم ہو جو  سیاسی لوگوں اور پارلیمانی رکاوٹوں سے بالاتر ہو اور اسٹبلشمنٹ کا وفادار ہو۔ عاصمہ جہانگیر اور دیگر لوگوں کا خیال ہے کہ ابھی تب خطرہ باقی ہے۔ گیم از ناٹ اوور۔معاملہ کسی بھی وقت واپس پلٹ سکتا ہے۔
ملک میں پائی جانے والی بے چینی کسی بھی نعرہ بازی اور تقریر اور موبلائزیشن کے فن سے کھڑا کیا جا سکتا ہے۔علامہ کا فن تقریر اور مہارت اپنی جگہ پر، مگر  لوگوں کو یہ آسرا بڑا تھا کہ اس کے پیچھے کوئی طاقت ہے جو نظام کو بدل سکتی ہے۔ 
ایسا لگتا ہے کہ مطالبات میں وزن تھا  اور علامہ  نے اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرلیا۔ اگر زمینی حقائق یہ نہ ہوتے تو قادری کیا کوئی اور ایسا نہیں کر سکتا بلکہ اب تو صورتحال  یہ ہے کہ اگر حالات کو ٹھیک نہیں کیا گیا تو کوئی دوسرا قادری بھی آسکتا ہے۔ 
  اب سیاسی بحث کے موضوعات بدل گئے ہیں۔پاکستان کے سیاسی نظام میں یقیننا تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ مگر کیسے؟ جمہوری عمل کو ایک طرف رکھ کر ایسا نہیں کیا جاسکتا۔

نگراں حکومت میں علامہ قادری کا کنٹریبیوشن - Jan 6, 2013

Sun, Jan 6, 2013 at 11:41 PM
نگراں حکومت میں علامہ قادری کا کنٹریبیوشن
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
علامہ طاہرالقادری کے غبارے  سے بڑی حد تک ہوا نکل چکی ہے۔ان کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔ 
مرزا غالب کے الفاظ میں: 
تھی خبر خبر گرم اڑیں گے پرزے غالب کے،  گئے ہم بھی تھے پر تماشہ نہ ہوا۔
سو  تماشہ ہونے سے پہلے ہی تماشبین تتر بتر ہو گئے ہیں۔ 
علامہ شیخ الاسلام نے جیسے ہی سرگرمیاں شروع کیں تو  ان کو اسٹبلشمنٹ کے روایتی اتحادیوں کی حمایت ملی۔اس پر شبہ تو پیدا ہونا ہی تھا۔اس شبہے کو وہ دور نہ کر سکے۔ انہیں میڈیا سے کو کوئی مثبت  ریسپانس نہیں ملا۔ بلکہ ریاست کے پانچویں ستون نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا۔میڈیا  پر اگرچہ خاصی تنقید کی جاتی رہی ہے، لیکن اس کے اس مثبت کردار کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔ 
تعجب کی بات ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی آشیرواد  والے کالم نگار بھی  ان کی حمایت نہ کر سکے۔ ریٹائرڈ جرنیلوں، دفاع پاکستان کونسل، جماعت اسلامی  کے علامہ کے خلاف سخت بیانات آنے لگے۔سب نے اس کو غیرجمہوری قوتوں کی چال قرار دیا۔ادھر ایٹمی سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی کچھ مذہبی جماعتوں کو اپنے گرد کٹھا کر لیا۔ یوں مذہبی جماعتوں کا ایک گروپ جو شاید علامہ کی طرف جاتا وہ بھی  اپنی الگ شناخت بنا کر بیٹھ گیا۔
یہ بات بڑے زور شور سے کہی جانے لگی کہ علامہ کی اس تحریک کے پیچگے مضبوط اور خفیہ ہاتھ ہیں۔صورتحال یہاں جا کر پہنچی کہ ملک کے اہم ادارے  نے بھی بیان جاری کیا  علامہ قادری کو ملک کے سیکیورٹی اداروں کی حمایت حاصل نہیں۔ اگر کوئی ایسا تاثر پایا جاتا ہے ہے تو وہ کسی غلط فہمی کی بنیاد پر ہے۔  اسکے بعد شیخ الاسلام کی زبان لڑکھڑانے لگی۔  ان کی حمایت میں بیان آنا بند ہو گئے۔ 
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کھل کر علامہ کے خلاف باہر آ گئے۔ پنجاب اسمبلی نے قرارداد منظور کی سنیٹ کے اجلاس میں علامہ پر تنقید کی گئی۔ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم اپنی تنہائی دور رکنے کے لیے علامہ کی کشتی میں سوار ہو رہی تھی۔ جس کو روکنے کے لیے  صدر آصف زرداری نے اپنے وزیر داخلہ رحمان ملک کو الطاف حسین سے ملاقات کے لیے لندن بھیجا۔ بعد میں خود صدرزرداری نے الطاف حسین سے فون پر بھی بات چیت کی۔ ان ہنگامی رابطوں کے نتیجے میں الطاف حسین نے حکومت میں رہنے  پر رضامندی ظاہر کی۔ حکومت کی ایک اور اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق)  بھی علامہ کے ساتھ جانے کے لیے پر تول رہی تھی، مگر اب وہ بھی واپس اپنی جگہ پر آگئی ہے۔ 
اب صورتحال یہ ہے ایم کیو ایم کی علامتی حمایت کے علاوہ  قادری کے مارچ یں اور کوئی جماعت حمایت کے لیے موجود نہیں ہے۔ 
دریں اثناء امریکی نائب سفیر رچرڈ ہوگلینڈ نے کہا ہے کہ امریکہ قادری سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کر رہا ہے۔ لہٰذا اب صورتحال یہ ہے کہ علامہ کی نہ کوئی سیاسی جماعت حمایت کر رہی ہے، نہ ہی سیکیورٹی ادارے اور نہ ہی امریکہ کا یا برطانیہ۔ ورنہ یہی کہا جا رہا تھا کہ عسکری قوتیں اور علاقے میں دلچسپی رکھنے والے بعض ممالک  علامہ کی اس تحریک کی پشت پر ہیں۔ 
 اگر قادری کو حقیقی معنوں میں میدان جنگ میں اتارا گیا تھا تو  ان لوگوں کا بڑا نقصان ہوا۔ 
طاہرالقادری کی دھمکی نے  پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو قریب کردیا ہے۔نواز شریف کو زیادہ شکوک تھے۔ کیونگی مسلم لیگ (ق) اور عمران خان بھی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ شیخ الاسلام کی آمد بھی پنجاب سے ہوئی۔ جو نواز شریف کی سیاست کا مرکز تھا۔ اکیلاپنجاب اتنی نشستیں رکھتا کہ حکومت بن سکے۔ یہ بات نواز شریف کو سمجھ میں آگئی۔ اور وہ پیپلز پارٹی کے قریب آنے پر مجبور ہو گئے۔علامہ قادری کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا، ان کے مدنظر ملک کی دو بڑی پارٹیوں کا متحد ہونا کوئی غیرمنطقی عمل نہیں۔ یہ دونوں جماعتیں جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے ایک نکاتی ایجنڈا پر متفق ہیں۔ اب ان کے درمیان غیر اعلانیہ مگر واضح مفاہمت  ہے۔ اگر یہ دونوں مل کر طاہرالقادر کی ی تحریک کا مقابلہ کریں گی تو انتخابات وقت پر ہونگے۔ اس کے لیے دونوں فریقین نے نگراں حکومت کے لیے مشاورت شروع کردی ہے۔ اس عمل میں ان دو بڑی جماعتوں کو جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور اے این پی کی بھی حمایت حاصل ہوگی۔ کیونکہ یہ جماعتیں  بھی لانگ مارچ اور انتخابات ملتوی کرنے کے بھی خلاف ہیں۔ 
 نگراں وزیر اعظم کے طور پر نوازشریف نے  بہت عرصہ پہلے عطاء اللہ مینگل کا نام  فلر کے طور پر ہی سہی پیش کیا تھا،جس پرسردار مینگل نے کہا کہ یہ ان کے ساتھ بڑا مذاق ہوگا۔ نواز شریف کی اس تجویز کے پیچھے یہ خیال پنہاں تھا کہ بلوچستان کو مین اسٹریم میں لایا جائے۔ اس کے بعد انسانی حقوق کے جدوجہد کی علامت عاصمہ جہانگیراور ریٹائرڈ جسٹس سعیدالزماں کے بھی نام میڈیا میں آئے۔عاصمہ جہانگیر سخت موقف کی وجہ سے بعض حلقوں کے لیے قابل قبول نہیں ہو رہی تھیں۔ عاصمہ  اپنے رویے اور طبع میں سیاستداں نہیں۔ لہٰذا  ان کا تقرر سیاستدانوں کو  بہت زیادہ اچھا نہیں لگتا۔سنیٹر رضا ربانی اور اسحاق ڈار کے نام بھی تجویز کئے گئے تھے۔ لیکن ان دونوں کی اپنی اپنی پارٹیوں سے طویل رفاقت اور وابستگی کے باعث  ان کے نام بھی آگے نہیں برھ سکے۔ 
اب سینئر سیاستداں محمود خان اچکزئی کا نام سامنے آیا ہے جس پرتمام حلقے متفق ہو سکتے ہیں۔قوم پرست  شناخت رکھنے والے اچکزئی سیاسی طور پر منجھے ہوئے سیاستداں ہیں وہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دونوں کے ساتھ مختلف وقتوں میں اتحادی رہ چکے ہیں۔ اچکزئی ایک عرصے تک خاموش بیٹھے تھے۔ انہوں ے غیر اعلانیہ طور پر پٹھان سیاست میں عوامی نیشنل پارٹی کو واک اوور دیا ہوا تھا۔ نگراں وزیر اعظم  کے طور پر ان کے تقرر کی خاصے حلقے دلی طور پر آجیاں کریں گے۔ وہ ملک کے قوم پرستوں کے اتحاد پونم کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ ان کے سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا،  اور سرائیکی بیلٹ کے قوم پرستوں کے ساتھ  اچھے روابط  اور دوستیاں ہیں۔ 
اس پٹھان قوم پرست سیاستداں کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ یہ صوبہ گزشتہ دس سال سے گرم ہے جہاں عملی طور پر گوریلا جنگ لڑی جارہی ہے۔ ابھی دو روز قبل جعفر ایکسپریس پر حملے میں لیوی اہلکاروں سمیت چار افراد مارے گئے۔ مشکی میں بھی تازہ واقعہ ہوا ہے۔صدر آصف زرادری نے ذاتی طور پر بھی معافی مانگی اور بلوچستان پیکیج بھی دیا۔ لیکن یہ پیکیج بھی کوئی اثر نہیں دکھا سکا۔ کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ باقی صوبوں میں تو انتخابات کرا لیے جائیں گے، مگر اس شورش زدہ صوبے کا کیا بنے گا جس کے لیے چیف جسٹس بھی کہہ چکے ہیں کہ وہاں کوئی حکومت نہیں۔ قانون کی رٹ نہیں۔یہاں پر شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لوازمات کیسے پورے ہونگے؟ امیدوار کہاں سے آئیں گے؟ انتخابی مہم کیسے چلے گی؟ پولنگ ایجنٹ کہاں سے آئیں گے؟
 بلوچستان کو کسی نہ کسی طور پر مین اسٹریم میں لانا ازحد ضروری ہے۔ سردار مینگل شاید بہتر آپشن تھا اور سیاسی جماعتوں کو اعتراض نہیں ہوتا۔ لیکن سردار مینگل حکومتی صفوں سے اقتدار میں جانا نہیں چاہ رہے ہیں۔ وہ اپوزیشن سے ہی اقتدار میں جانا چاہتے ہیں۔ ایسے میں محمود اچکزئی کی نامزدگی بڑی حد تک اس سوال کا جواب پیش کر سکتی ہے۔ یعنی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اس پٹھان قوم پرست سیاستداں کا نام پیپلز پارٹی تجویز کرے، اے این پی اس کی حمایت کرے اور نواز لیگ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اور سب کو قابل قبول ہو سکتے ہیں۔
صرف اتنا ہی نہیں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو چاہئے کہ دونوں جماعتیں مشترکہ طور پر علامیہ بھی جاری کریں کہ جمہوری نظام کو پٹری سے اتارنے نہیں دیا جائے گا اور انتخابات ہر حال میں وقت پر ہونگے۔
علامہ طاہرالقادری کا بہرحال یہ کنٹریبیوشن تاریخ میں لکھا جانا چاہئے کہ ایک مشکل وقت میں حکومت اور اپوزیشن کو کٹھا کرنے میں انہوں نے رول ادا کیا۔ 

ایم کیو ایم اور علامہ قادری کا اتحاد - Jan 3, 2013

Thu, Jan 3, 2013 at 12:10 PM
ایم کیو ایم اور علامہ قادری کا اتحاد

میرے دل میرے مسافر۔۔۔۔ سہیل سانگی

 علامہ طاہرالقادری کی اچانک آمد اور لاہور میں بڑے سیاسی شو نے سیاست میں ایک نئے رخ کا اضافہ کردیا ہے۔ علامہ کے تین  مطالبات اور دو  شرائط اس پر حکومت کے دو اتحادی پارٹیوں کا ان کی طرف جھکنے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ 
لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنے سال کینڈا میں رہائش پزیر  اس عالم دین کو اچانک کیا سوجھی اور وطن  یاد آگیا۔ان کے بلاوے پر  لاکھوں کا مجمع لگ گیا۔نگراں حکومت کے بننے اور انتخابات کے اعلان کے عین موقع پر ان کے پہنچنے کے کیا مقاصد اور محرکات ہیں؟  اگرعلامہ کا نظریہ اتنا مقبول ہوتا اور اور ان کی تنظیم کاری مضبوط ہوتی تو اتنے برسوں تک اس کا کوئی عوامی اظہار اور سیاسی عمل نظر کیوں نہیں آیا؟ عام خیال یہ ہے کہ اتنا بڑا جلسہ اور ان کے اس موقف کی پزیرائی  اس کے ساتھ ساتھ بعض مخصوص  جماعتوں کا ان کی طرف جانا  اکیلے علامہ قادری کا کمال نہیں بلکہ اس کے پیچھے بعض مقتدرہ ادارے  اور حلقے موجود ہیں۔ 
پاکستان کی سیاست کے نشیب وفراز اتنے آسان نہیں جتنے بظاہر نظرآتے ہیں۔ اس کے کئی رنگ اور روپ  ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر فیصلہ کن موڑ پرہرحال میں حکومت اور سیاست کی باگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں رکھنے کے خواہاں مقتدرہ حلقے جو ملک کی داخلہ خواہ خارجہ پالیسی  اپنی پسند کی رکھنا چاہتے ہیں کبھی کس شکل میں تو کبھی کس کیموفلاج میں ایک نیا مہرہ میدان میں اتارتے ہیں۔ایک سال قبل عمران خان کی سونامی آرہی تھی۔اس کو لاہور خواہ کراچی میں بڑے بڑے جلسے کر کے دیئے گئے۔مگر اس انقلابی  سے انقلاب کا پہیہ نہیں ہل سکا۔اب اس سونامی کے بادل چھٹ چکے ہیں تو علامہ کا  طوفان آرہا ہے۔ اس کا مقصد کرپٹ سیاستدانوں سے  قوم کو نجات دلانا بتایا جا رہا ہے۔
 مسئلہ یہ ہے کہ کرپشن آج کی دنیا کے سیاسی اور معاشی نظاموں کا لازمی  جز ہے۔بالکل ایسے جیسے سرمایہ کاری اور سود ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں۔ یہ نعرہ بہت ہی خوبصور ت ہے۔خاص طور پر پاکستان میں جہاں حکمرانی  اور اس کے طور طریقوں کا برا حال ہے۔ مگرکیا اس سے جان چھڑانا کسی ایک یا دو بندوں کے بس کی بات نہیں؟  
پاکستان کی سیاست اور اس کے محرک اجزاء  پرنظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک کے مقتدرہ اداروں کا  پرانے سیاستدانوں  کے حوالے سے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔کیونکہ یہ سیاستدان شاید اب اپنی الگ حیثٰیت بنا بیٹھے ہیں یا  انہوں نے ریاست، حکومت اور خارجہ امور کی مکینزم کو سمجھ لیا ہے۔لہٰذا کئی معاملات میں اپنی چلاتے ہیں یا بحث بہت کرتے ہیں۔ جس سے رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔یہ مقتدرہ حلقے چاہتے ہیں کہ ان سے جان چھڑائی جائے اور نئے سیاسی کھلاڑی میدان میں اتارے جائیں۔مگر یہ سب کچھ غیر محسوس طریقے سے کیا جائے کہ ماضی کی طرح برائی ان اداروں کے کھاتے میں نہ آئے۔

 اس کا پسندیدہ بنگلادیش ماڈل ہے۔،گر اس میں کچھ ترمیم کے ساتھ تاکہ پرانے سیاستدانوں سے جان چھڑائی جاسکے۔ اور نئے لوگوں کو سامنے لایا جائے۔ اب مصری ماڈل کی بھی باتیں ہو رہی ہیں۔ایسے میں علامہ طاہرالقادری کا کرداراہمیت اختیار کر جاتا ہے جو یہ تجویز کر رہے ہیں کہ انتخابی عمل سے  تب تک گریز کیا جائے  جب تک مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوتے۔یعنی ایسی اصلاحات جو پرانے سیاستدانوں کا راستہ روک سکیں۔

اگر ایسا واقعی ہے، جس پر اکثر تجزیہ نگار مصر ہیں، تو۔ اس میں صرف ملکی طاقتور قوتیں ہی شامل نہیں بلکہ اس کے پیچھے مغربی قوتیں بھی ہونگی  جن کے پاس مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے لیے  ایک جامع پلان ہے۔ جو ان براعظموں کی معیشت اور سیاست کو اپنے ماتحت اور اپنے منافع کے لیے رکھنا چاہتے ہیں۔ اور یہاں ہر طرح کی بالادستی چاہتے ہیں۔خیال رہے کہ امریکی پالیسی ساز ادارے اکیسویں صدی کو ایشیا اور پیسفک کی صدی قرار دیتے رہے ہیں۔

آج پاکستان کی صورتحال وہی ہے جو 1977ع میں یا 89 کی دہائی کے شروع میں تھی۔ یعنی دائیں بازو کے لوگ اور شہری سیکٹر ایک طرف تھا تو باقی لوگ دوسری طرف تھے۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں پاکستان میں مذہبی سیاست اور سیاسی کلچر کو پروان چڑھا رہے تھے۔ مگر اس مرتبہ روایتی مذہبی  جماعتیں اس منظر سے آؤٹ ہیں۔ کچھ ماڈریٹ اور ماڈرن قسم کی مذہبی جماعتیں اور لوگ شامل ہیں۔جو سیاسی اور ثقافت لحاظ سے مغرب کو بھی قابل قبول ہیں۔ان ممالک کا خیال ہے کہ پاکستان میں مذہبی رجحان زیادہ ہے۔ جس کو وہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ان کا یہ اندازہ غلط ہے۔ کیوں کہ جب کبھی بھی ملک کے لوگوں کو موقعہ ملا تو انہوں نے مذہبی جماعتوں کو نہیں چنا۔رسول پاک صلعم کے شان میں گستاخی کے حوالے سے کارٹون اور فلم  بننا اور اس کے خلاف احتجاج کو جب آج کے منظر نامے میں دیکھا جائے  تو خاصا عجیب سا لگتا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سب کچھ آج کی صورتحال کے لیے ہی کرایا گیا تھا۔عجیب بات ہے کہ عالمی قوتیں  ایک بار پھر مذہب کا نام استعمال کرنا چاہتی ہیں، وہ یہ بھول گئی ہیں کہ ماضی میں اس آئیڈیا کو عمل میں لانے سے افغان جنگ کے دوران اور اس کے بعد کیا کیا ہوا؟ ایک ایسی جنگ جس سے جان نہیں چھڑائی جا رہی ہے۔

علامہ کا کہنا ہے کہ کہنا ہے کہ وہ اسمبلی ممبران کی اہلیت سع متعلق آئین کی شقوں پر مکمل عمل درآمد سے پہلے انتخابات نہیں ہونے دیں گے۔  چاہتے ہیں۔انہوں نے دسمبر کے آخر میں بیرون ملک سے لاہور پہنچنے پر سترہ دن کی ڈیڈ لائن اور الٹیمیٹم دیا ایک طرف آئین کی شقوں پر مکمل عمل درآمد کی بات کی جارہی ہے تو دوسری طرف بعض شقوں پر عمل درآمد کو روکا جارہا ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد حکمراں جماعت اور حزب مخالف کو متفقہ طور پر نگراں سیٹ اپ بنانا ہے۔مگرعلامہ کا کہنا ہے کہ اس باہمی مشورے میں عدلیہ اور فوج کو بھی شامل کرلیا جائے۔ آئین میں کہیں بھیایسا ذکر نہیں کہ فوج اورعدلیہ کو حکومت اور سیاسی معاملات میں گھسیٹا جائے۔ بلکہ ایسا کرنا خلاف آئین ہے۔ اگر واقعی علامہ ان دو ریاستی ادراوں کا کوئی سیاسی رول چاہتے ہیں تو برہ راست 1973 کے آئین ختم کرکے نیا آئین بنانے کی بات کیوں نہیں کرتے۔  وہ ایسا مطالبہ کرکے دیکھیں تو پتہ چل جائے گا کہ کونسا پینڈورا باکس کھلتا ہے۔

علامہ کے مطابق 90 دن میں انتخابات کرانا ضروری نہیں۔ یہ فارمولا کوئی نیا نہیں۔جنرل  ایوب خان نے بھی  عام انتخابات سے بھاگنے اور سیاست کو ”پاک“ کرنے کے نام ہر سیاستدانوں کے خلاف مہم چلائی،”ایبڈو“  اور”پروڈا“ جیسے قوا  نین نافذ کئے۔ ملک میں بنیادی جمہوریتوں کے نام پر نیا نظام لانے کی کوشش کی۔ مگر اسے واپس انہی سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھنا پڑا۔ فرق یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے لیے جگہ بنالی۔ قوم کے پورے گیارہ سال ضایع ہوگئے۔ اور پھر جب عوام کو موقعہ ملا تو انہوں نے ایوب خان اور اس کے نظام دونوں کو اتار کر پھینک دیا۔

 جنرل یحیٰ خان بھی سیاست کو ٹھیک کرنے کے”نیک خیالات“کے ساتھ آئے۔انہوں نے انتخابات بھی کرائے۔ چونکہ نتائج  ان کی مرضی کے مطابق نہیں تھے تو ان کو تسلیم کرنے اور  اقتدار منتقل کرنے سے انکار کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم آدھا ملک کھو بیٹھے۔ 

 جولائی 1977 میں جنرل ضیاء الحق اسلام کے سپاہی کی دعوا کرتے ہوئے آئے۔ نوے دن میں انتخابات کرانے کا وعدہ کرکے وہ گیارہ سال تک مسلط رہے۔ اور انہوں نے بھی ملکی سیاست کو درست کرنے کے نام پر پہلے احتساب پھر انتخاب کا نعرہ لگایا۔ پھر نہ انتخاب ہوئے اور نہ احتساب۔ انہوں نے بھی غیر جماعتی انتخابات کرائے۔ مقصد یہی تھا کہ نئے پاور بروکر پیدا کئے جائیں۔ انتخابی قوانین میں  ترامیم کی گئی۔ ملکی نظام کا نقشہ بگاڑ دیا گیا۔ قوم کو اس وقت ان سے نجات ملی جب وہ ہوئی جہاز کے حادثے میں فوت ہوگئے۔دو جنرلوں  ایوب خان،  ضیا نے ملک کی اندرونی نظام اور خارجہ پالیسی کے ساتھ وہ حشر کیا کہ کئی عشرے گزرنے کے بعد بھی ملک سیدھے پیروں پر کھڑا نہیں ہوسکا ہے۔ 

ان کے بعد آدھا تیتر آدھا بٹیر والی جہمویرت رہی۔ مگر اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ سرگرم رہے۔ کسی  منتخب حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری نہ کی۔ اس  پر اکتفا نہیں کیا گیا اور جنرل مشرف ملک اور اور ان کے نمائندوں کو ٹھیک کرنے کے لیے میدان میں آگئے۔ان کے سیاسی”اصلاحات“ کا  فائدہ تو کوئی نہیں ہوا، بلکہ اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی کے نام پر قوم کو برادریوں میں تقسیم کردیا گیا۔انہوں نے ملک کی دو بڑی پارٹیوں کو اقتدارسے  اوران کی قیادت کوملک سے باہر رکھنے کا  فارمولا چلایا۔عوام اپنی مقبول لیڈر بے نظیر بھٹو سے محروم ہوگئے۔ 

عوام کے اس”نجات دہندہ“نے  تب جان چھوڑی جب ملک کی معیشت، سیاست، اور ادارے تباہ ہو چکے تھے۔  دہشتگردی کا راج تھا۔ اور ملک عالمی قوتوں کی ماتحتی میں چلا گیا تھا۔ دیکھا جائے تو ملک کی تاریخ کا بڑا حصہ ملک پر فوجی جنرلوں نے حکومت کی ہے۔لہذا ملک کی آج جو سیاست ہے اس کی خرابی ذمہ داری بھی انہی فوجی اورنیم فوجی حکومتوں پر آتی ہے۔ مگرعلامہ اس معاملے پرخاموش ہیں۔ 
اب ان حضرات کون سمجھائے کہ حکومتی معاملات چلانا سیاستدانوں کا کام ہے۔ اور سیاست کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ دنیا کا بڑا جمہوریت پسند چرچل  نے تو یہ تک کہا تھا کہ جنگ ایک ایسی سنجیدہ چیز ہے جس کو صرف جنرلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

 ابھی تک صرف وہی جماعتیں  علامہ کے ساتھ کھڑی ہو پائی ہیں جن کی سیاست اسٹبلشمنٹ کی سیاست کے طورپر پہچانی جاتی ہے۔ علامہ کے مطالبات اور حکمت عملی  سے یہی اشارے مل رہے ہیں کہاس کے عسکری اسٹبلشمنٹ  ہے۔ یہ بات اتنے زور پکڑ گئی کہ بالآخر فوجی ترجمان کو تردید کرنی پڑی کہ علامہ کی سیاست سے فوج کا کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی تعجب کی بات ہے کہ ایم کیو ایم جس نے پی پی سے کبھی جدا نہ ہونے کے وعدے کئے تھے وہ بھی  نظام کو درست کرنے کے لئے علامہ کے ساتھ ہو گئی ہے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ یہ مارچ جاگیرداروں کے خلاف ہے۔ جاگیردار کون ہیں؟  ایم کوی ایم تو 1988 کے بعد بننے والی ہر حکومت  کے ساتھ رہی ہے۔ 

مشرف اور موجودہ حکومت میں تو عملی طور پر اس کی مؤثر شراکت رہی ہے۔ اٹھارویں ترمیم جس کے تحت حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے باہمی اتفاق سے بگراں حکومت قائم ہونی ہے وہ ایم کیو ایم کے اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی۔ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر بھی اس کے مشورے سے ہوا تھا۔ راتو رات یہ کیا ہو گیا کہ وہ بدل گئی۔ اب اٹھارویں ترمیم بھی غلط اورباتیں بھی غلط۔ 

اصل میں ایم کیوایم جو کراچی کے مینڈٰٹ کی دعویدار رہی ہے اور کسی بھی سیاسی و غیر سیاسی ادارے کو کراچی میں داخل نہ ہونے دے رہی تھی۔ وہ کراچی میں امن قائم کرنے، بھتہ خوری روکنے، دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگز روکنے میں ناکام رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے کراچی کو الگ جزیرہ بنانے کی کوشش کی۔ 

جب اس صورتحال کو  ووٹر فہرستوں کو درست کرنے، نئی اور منطقی حلقہ بندی  کے ذریعے سیاسی اقدامات ہونے لگے تو اس نے مزاحمت شروع کردی۔ اس موقف نے ایم کیو ایم کو سیاسی تننہائی میں دھکیل دیا۔ اس کو ”کونسا پاکستان چاہئے“ اور عدلیہ کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے کی کال واپس لینی پڑی۔ کیوںکہ کوئی  بھی سیاسی جماعت  یا ریاستی ادارہ اس کی حمایت نہیں کررہا تھا۔ علامہ طاہرالقادری ایم کیو ایم کی ضمانت کرائی ہے۔ اور وہ ایک حد تک  بڑے دھارا  میں جگہ بنا رہی ہے۔

اکثر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم واقعتا  اسلام آباد لانگ مارچ میں شریک نہیں ہوگی۔ کیونکہ یہ جماعت ماضی میں بھی بظاہر جس کے لیے احتجاج کر رہی ہوتی ہے، اس کے اصل مطالبات کچھ اور ہوتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے ابھی یہ مطالبات ہیں  سپریم کورٹ کی ہدایت پر جاری ووٹر فہرستوں کی درستگی اور نئی حلقہ بندی کاکام بند کیا جائے۔بلدیاتی نظام جیسا وہ چاہ رہی ہے وہ نافذ کیا جائے۔ ایک حد تک حکومت اس کے یہ مطالبات مان بھی سکتی ہے۔

بہرحال یہ وقت ہے کہ ملک کی دو بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اورنواز لیگ جو پارلیمنٹ اور جمہوری عمل کا حصہ ہیں  وہ اس صورتحال کو سمجھیں کہ یہ تمام بندوبست انکو نکالنے کے لیے ہو رہا ہے۔ اور یہ جمہوری عمل کو لپیٹنے کا اشارہ ہے۔ لہٰذا وہ الگ الگ سیاست بازی کے بجائے مشترکہ لائحہ عمل بنائیں۔