Showing posts with label MQM. Show all posts
Showing posts with label MQM. Show all posts

Tuesday, 10 March 2020

ایم کیو ایم سے پریم کہانی ختم - Feb 18, 2013

Mon, Feb 18, 2013 at 3:09 PM
ایم کیو ایم سے پریم کہانی ختم
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی 
 متحدہ کی پیپلزپارٹی کے حکمراں اتحاد سے علحدگی حیران کن نہیں تھی۔ اس میں سب سے اہم وقت کا انتخاب ہے۔  ایک ایسے وقت پر علحدہ ہوئی ہے جب حکومت اپنی آئینی مدت پوری رکچکی ہے۔  یعنی ایم کیو ایم  چار سال گیارہ ماہ حکومت میں رہی۔ 
اب پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی میں سادہ اکثریت والی پارٹی ہوگئی ہے۔ 163 کے ایوان مین پی پی اور شیرازی گروپ کے پاس 93 ایم پی ایز ہیں۔ متحدہ، فنکشنل، ہم خیال، اے این پی، اور اے این پی کے پاس  70اراکین  کی اپوزیشن میں ایم کیا ایم کے پاس 47 اراکین ہیں لہٰذا لیڈر آف اپوزیشن  بھی اسی کا ہوگا اور نگراں سیٹ اپ  میں اپوزیشن کی پارٹی کے طور پر حصہ ملے گا۔ لہٰذا ایم کیو ایم  اپوزیشن میں گئی تو بھی فائدے میں گئی۔وفاق میں بھی تقریبا یہی صورتحال ہے۔ جہاں حکومت کی دو تہائی اکثریت ختم ہوگئی ہے۔ متحدہ کے الگ ہونے کے بعد حکمران اتحاد کے پاس 192 اراکین ہیں اور نواز لیگ، فنکشنل، جے یو آئی اور متحدہ پر مشتمل 147 اراکین کی اپوزیشن ہے۔ 
پیر پاگارا نے دو ماہ قبل حیدرآباد کے جلسے میں کہا تھا اکہ ایم کیو ایم نگراں سیٹ اپ میں شیئر لینے کے لیے منصوبہ بندی کے تھٹ حکومت سے علحدہ ہوگی۔  
ایم کیو ایم کے جانے سے سندھ میں 12 اور وفاق میں 2وزارتیں خالی ہوئی۔ 
پیپلز پارٹی سے پانچ سال کے دوران چار اتحادی الگ ہوئے۔ سب سے پہلے نواز لیگ الگ ہوئی، اس کے بعدجے یو آئی،  مسلم لیگ فنکشنل، اور اب متحدہ الگ ہوئی ہے۔ وفاق میں اب اے این پی اور قاف لیگ کے علاوہ پی پی کے ساتھ حکمراں اتحاد میں کوئی جماعت نہیں۔ 
ایم کیا ایم نے کئی مرتبہ حکومت سے علحدگی کی دھمکی دی تھی جس کا  شمار رکھنا مشکل ہے۔ تاہم یہ دوسرا موقع ہے کہ حکومت سے علحدہ ہوئی ہے۔ اس سے پہلے جب سندھ حکومت نے جنرل مشرف کا دیا ہوا بلدیاتی نظام ختم کیا تھا، تب ایم کیو ایم حکومت سے علحدہ ہوئی تھی۔ میں رہنا بھی چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ متحدہ حکومت سے باہر رہنا افورڈ ہی نہیں کر سکتی۔ 
کیا ایم کیو ایم واقعی ناراض ہے؟  ایسا نہیں لگتا۔ کیونکہ اس جماعت کا گورنر تمام اختیارات کے ساتھ موجود ہے۔ پیپلز پارٹی نے متحدہ کے سخت الزامات کے ناوجود بہت محتاط اور نرم ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اور یہ بھی کہ صلاح مشورہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت سے علحدگی سے پہلے گورنرہاؤس میں رحمان ملک، گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا اجلاس بھی ہوا تھا۔  
رحمان ملک کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم  سے رابطے میں ہیں اس کے ووٹرز کو تکلیف دینا نہیں چاہتے۔ 
اس سے پہلے نواز شریف، مشرف دور میں بھی ایم کیوا یم حکومت سے علحدگی کی دھمکیاں دیتی رہی ہے۔  اور نواز شریف اور پی پی کے دور میں حکومت سے علحدہ ہوتی رہی ہے۔ یہ جماعت بطور پریشر گروپ کے کام کرتی رہی ہے۔ کیونکہ یہ جماعت کبھی بھی اکیلے حکومت نہیں بنا سکتی۔ لہٰذا حکومت وہ حکومت میں نہ رہنا افورڈ نہیں کر سکتی۔ 
 اہم چیز یہ ہے کہ صدر زرادری جو مسلسل کہہ رہے تھے کہ آئندہ انتخابات اتحادیوں کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ اب یہ دعوا محض دعوا ہی رہ گیا ہے۔ کیونکہ ایم کیو ایم اتحاد سے ہی علحدہ ہو گئی ہے، جبکہ دو اتحادی جماعتیں اے این پی اور قاف لیگ اگرچہ حکومت میں موجود ہیں مگر انہوں نے  بھی انتخابات علحدہ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ یوں یہ جماعتیں انتخابات میں خراب کارکردگی وغیرہ  میں حصہ داری نہیں کرنا چاہ رہی ہیں۔ 
 مبصرین اور عام لوگ بھی اس بات کو دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں کہ  یہ سب جماتیں حکومت سے علحدہ ہو رہی ہیں تو کسی عوامی مسئلے یعنی مہنگائی، امن امان، صحت تعلیم وغیرہ کو بنیاد بنا کر نہیں ہو رہے ہیں بلکہ ان  کی وجہ براہ رست سیاسی ہے۔ اور سیاسی مقاصد کے لیے ہی الگ ہو رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ  یہ جماعتیں اس بات کو چھپانے کے بجائے بڑی دیدہ دلیری سے یہ بات کہہ رہی ہیں۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ عوام کے مسائل یا ایجنڈا  نعرے یا باتوں کی حد تک بھی نہیں مانا جا رہا ہے۔ 
 اسکا نقصان فنکشنل لیگ اور قوم پرستوں کی نگراں حکومت بنانے میں نہیں سنی جائے گی۔ فنکشنل لیگ جو گزشتہ سال بلدیاتی نظام کے معاملے پر حکومتی اتحاد سے الگ ہوئی تھی، اس کا خیال تھا کہ وہ اپوزیشن کی پارٹی کہلائے گی اور ایوان میں لیڈر آف اپوزیشن بھی اسی پارٹی کا  ہوگا۔یوں نگراں سیٹ اپ میں شیئر حاصل کر پائے گی۔ ایممکیو ایم کی متوقع علحدگی کو بھانپتے ہوئے  پیر پاگارا نے دو ماہ قبل حیدرآباد کے جلسے میں  ایم کیو ایم پر واضح کیا تھا کہ  وہ اس گیم سے دور رہے۔ فنکشنل لیگ نے ا پوزیشن لیڈر کے لیے اسپیکر کو درخواست بھی دے رکھی  تھی مگر اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ایم کیو ایم کی علحدگی کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے بھی کہہ دیا ہے کہ اب اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ آئندہ چند روز میں کر دیا جائے گا۔  اپوزیشن  ایم کیو ایم کی علحدگی کو ڈرامہ اور نورا کشتی قرار دے رہی ہے۔ بعض مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ اس اتحاد کا اس مرتبہ اختتام حقیقی نہیں بلکہ اس میں دونوں فریقین کی رضامندی شامل ہے۔
پیپلز پارٹی کا عام کارکن  اس علحدگی سے خوش ہے۔ کیونکہ اس اتحادی کا رویہ ان کے لیے اندرون سندھ میں مسئلہ بنا ہوا تھا۔ اور بلدیاتی نظام اور دیگر اشوز پر وہ پارٹی کا دفاع نہیں کر پا رہے تھے۔ ان کے نزدیک یہ اتحادی سہولت کے بجائے مسئلے پیدا کرنے والے تھے۔
اس علحدگی سے سیاسی طور رپ پیپلز پارٹی اور متحدہ دونوں کو فائدہ پہنچے واپس لیے ہیں۔ ہم اور حساس اتحادی کو بھی ناراض کرکے حکومت نے مقدمات گا۔یہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے ووٹرز کے پاس کچھ  کہنے کی پوزیشن میں ہونگے۔  پیپلز امن کمیٹی کے لوگوں کے مقدمات  واپس لینے سے لیاری میں پارٹی کو فائدہ پہنچے گا۔ جہاں پارٹی یہ کہنے کی پوزیشن میں آ جائے گی۔ بعض مبصرین اس صورذتحال کو ان الفاظ میں بیان کر رہے ہیں کہ انتخابات سے پہلے زرداری نے سندھ اور  الطاف حسین نے کراچی فتح کرلیا ہے۔ 
فیالحال صورتحال یہ کہ گورنر عشرت العباد  جن کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ پیپلز پارٹی کے وزراء بھی یہی کہہ رہے ہیں۔اگر یہی صورتحال رہتی ہے تو عام تثر بھی یہی رہے گا کہ ایم کیو ایم کی حکمراں اتحاد سے علھدگی محض دکھاوا ہے۔ ایم کیو ایم کے کچھ حلقوں سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ  جب وزراء کے استعیفے گورنر کے پاس پہنچیں گے تو ان کو اپنے اپنے بارے میں بھی فیصلہ کرنا اپڑے گا۔ ممکن ہے کہ اس الزام سے بچنے کے لیے گورنر بھی آئندہ چند روز میں مستعفی ہو جائیں۔ بہرحل جو کچھ بھی ہوگا وہ طے شدہ  ایجنڈے کے تحت ہوگا کیونکہ  دو ہفتے قبل گورنر لندن گئے تھے جہاں پر یہ تمام حکمت عملی ترتیب دی گئی تھی۔ 

ایم کیو ایم اور علامہ قادری کا اتحاد - Jan 3, 2013

Thu, Jan 3, 2013 at 12:10 PM
ایم کیو ایم اور علامہ قادری کا اتحاد

میرے دل میرے مسافر۔۔۔۔ سہیل سانگی

 علامہ طاہرالقادری کی اچانک آمد اور لاہور میں بڑے سیاسی شو نے سیاست میں ایک نئے رخ کا اضافہ کردیا ہے۔ علامہ کے تین  مطالبات اور دو  شرائط اس پر حکومت کے دو اتحادی پارٹیوں کا ان کی طرف جھکنے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ 
لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنے سال کینڈا میں رہائش پزیر  اس عالم دین کو اچانک کیا سوجھی اور وطن  یاد آگیا۔ان کے بلاوے پر  لاکھوں کا مجمع لگ گیا۔نگراں حکومت کے بننے اور انتخابات کے اعلان کے عین موقع پر ان کے پہنچنے کے کیا مقاصد اور محرکات ہیں؟  اگرعلامہ کا نظریہ اتنا مقبول ہوتا اور اور ان کی تنظیم کاری مضبوط ہوتی تو اتنے برسوں تک اس کا کوئی عوامی اظہار اور سیاسی عمل نظر کیوں نہیں آیا؟ عام خیال یہ ہے کہ اتنا بڑا جلسہ اور ان کے اس موقف کی پزیرائی  اس کے ساتھ ساتھ بعض مخصوص  جماعتوں کا ان کی طرف جانا  اکیلے علامہ قادری کا کمال نہیں بلکہ اس کے پیچھے بعض مقتدرہ ادارے  اور حلقے موجود ہیں۔ 
پاکستان کی سیاست کے نشیب وفراز اتنے آسان نہیں جتنے بظاہر نظرآتے ہیں۔ اس کے کئی رنگ اور روپ  ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر فیصلہ کن موڑ پرہرحال میں حکومت اور سیاست کی باگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں رکھنے کے خواہاں مقتدرہ حلقے جو ملک کی داخلہ خواہ خارجہ پالیسی  اپنی پسند کی رکھنا چاہتے ہیں کبھی کس شکل میں تو کبھی کس کیموفلاج میں ایک نیا مہرہ میدان میں اتارتے ہیں۔ایک سال قبل عمران خان کی سونامی آرہی تھی۔اس کو لاہور خواہ کراچی میں بڑے بڑے جلسے کر کے دیئے گئے۔مگر اس انقلابی  سے انقلاب کا پہیہ نہیں ہل سکا۔اب اس سونامی کے بادل چھٹ چکے ہیں تو علامہ کا  طوفان آرہا ہے۔ اس کا مقصد کرپٹ سیاستدانوں سے  قوم کو نجات دلانا بتایا جا رہا ہے۔
 مسئلہ یہ ہے کہ کرپشن آج کی دنیا کے سیاسی اور معاشی نظاموں کا لازمی  جز ہے۔بالکل ایسے جیسے سرمایہ کاری اور سود ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں۔ یہ نعرہ بہت ہی خوبصور ت ہے۔خاص طور پر پاکستان میں جہاں حکمرانی  اور اس کے طور طریقوں کا برا حال ہے۔ مگرکیا اس سے جان چھڑانا کسی ایک یا دو بندوں کے بس کی بات نہیں؟  
پاکستان کی سیاست اور اس کے محرک اجزاء  پرنظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک کے مقتدرہ اداروں کا  پرانے سیاستدانوں  کے حوالے سے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔کیونکہ یہ سیاستدان شاید اب اپنی الگ حیثٰیت بنا بیٹھے ہیں یا  انہوں نے ریاست، حکومت اور خارجہ امور کی مکینزم کو سمجھ لیا ہے۔لہٰذا کئی معاملات میں اپنی چلاتے ہیں یا بحث بہت کرتے ہیں۔ جس سے رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔یہ مقتدرہ حلقے چاہتے ہیں کہ ان سے جان چھڑائی جائے اور نئے سیاسی کھلاڑی میدان میں اتارے جائیں۔مگر یہ سب کچھ غیر محسوس طریقے سے کیا جائے کہ ماضی کی طرح برائی ان اداروں کے کھاتے میں نہ آئے۔

 اس کا پسندیدہ بنگلادیش ماڈل ہے۔،گر اس میں کچھ ترمیم کے ساتھ تاکہ پرانے سیاستدانوں سے جان چھڑائی جاسکے۔ اور نئے لوگوں کو سامنے لایا جائے۔ اب مصری ماڈل کی بھی باتیں ہو رہی ہیں۔ایسے میں علامہ طاہرالقادری کا کرداراہمیت اختیار کر جاتا ہے جو یہ تجویز کر رہے ہیں کہ انتخابی عمل سے  تب تک گریز کیا جائے  جب تک مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوتے۔یعنی ایسی اصلاحات جو پرانے سیاستدانوں کا راستہ روک سکیں۔

اگر ایسا واقعی ہے، جس پر اکثر تجزیہ نگار مصر ہیں، تو۔ اس میں صرف ملکی طاقتور قوتیں ہی شامل نہیں بلکہ اس کے پیچھے مغربی قوتیں بھی ہونگی  جن کے پاس مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے لیے  ایک جامع پلان ہے۔ جو ان براعظموں کی معیشت اور سیاست کو اپنے ماتحت اور اپنے منافع کے لیے رکھنا چاہتے ہیں۔ اور یہاں ہر طرح کی بالادستی چاہتے ہیں۔خیال رہے کہ امریکی پالیسی ساز ادارے اکیسویں صدی کو ایشیا اور پیسفک کی صدی قرار دیتے رہے ہیں۔

آج پاکستان کی صورتحال وہی ہے جو 1977ع میں یا 89 کی دہائی کے شروع میں تھی۔ یعنی دائیں بازو کے لوگ اور شہری سیکٹر ایک طرف تھا تو باقی لوگ دوسری طرف تھے۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں پاکستان میں مذہبی سیاست اور سیاسی کلچر کو پروان چڑھا رہے تھے۔ مگر اس مرتبہ روایتی مذہبی  جماعتیں اس منظر سے آؤٹ ہیں۔ کچھ ماڈریٹ اور ماڈرن قسم کی مذہبی جماعتیں اور لوگ شامل ہیں۔جو سیاسی اور ثقافت لحاظ سے مغرب کو بھی قابل قبول ہیں۔ان ممالک کا خیال ہے کہ پاکستان میں مذہبی رجحان زیادہ ہے۔ جس کو وہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ان کا یہ اندازہ غلط ہے۔ کیوں کہ جب کبھی بھی ملک کے لوگوں کو موقعہ ملا تو انہوں نے مذہبی جماعتوں کو نہیں چنا۔رسول پاک صلعم کے شان میں گستاخی کے حوالے سے کارٹون اور فلم  بننا اور اس کے خلاف احتجاج کو جب آج کے منظر نامے میں دیکھا جائے  تو خاصا عجیب سا لگتا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سب کچھ آج کی صورتحال کے لیے ہی کرایا گیا تھا۔عجیب بات ہے کہ عالمی قوتیں  ایک بار پھر مذہب کا نام استعمال کرنا چاہتی ہیں، وہ یہ بھول گئی ہیں کہ ماضی میں اس آئیڈیا کو عمل میں لانے سے افغان جنگ کے دوران اور اس کے بعد کیا کیا ہوا؟ ایک ایسی جنگ جس سے جان نہیں چھڑائی جا رہی ہے۔

علامہ کا کہنا ہے کہ کہنا ہے کہ وہ اسمبلی ممبران کی اہلیت سع متعلق آئین کی شقوں پر مکمل عمل درآمد سے پہلے انتخابات نہیں ہونے دیں گے۔  چاہتے ہیں۔انہوں نے دسمبر کے آخر میں بیرون ملک سے لاہور پہنچنے پر سترہ دن کی ڈیڈ لائن اور الٹیمیٹم دیا ایک طرف آئین کی شقوں پر مکمل عمل درآمد کی بات کی جارہی ہے تو دوسری طرف بعض شقوں پر عمل درآمد کو روکا جارہا ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد حکمراں جماعت اور حزب مخالف کو متفقہ طور پر نگراں سیٹ اپ بنانا ہے۔مگرعلامہ کا کہنا ہے کہ اس باہمی مشورے میں عدلیہ اور فوج کو بھی شامل کرلیا جائے۔ آئین میں کہیں بھیایسا ذکر نہیں کہ فوج اورعدلیہ کو حکومت اور سیاسی معاملات میں گھسیٹا جائے۔ بلکہ ایسا کرنا خلاف آئین ہے۔ اگر واقعی علامہ ان دو ریاستی ادراوں کا کوئی سیاسی رول چاہتے ہیں تو برہ راست 1973 کے آئین ختم کرکے نیا آئین بنانے کی بات کیوں نہیں کرتے۔  وہ ایسا مطالبہ کرکے دیکھیں تو پتہ چل جائے گا کہ کونسا پینڈورا باکس کھلتا ہے۔

علامہ کے مطابق 90 دن میں انتخابات کرانا ضروری نہیں۔ یہ فارمولا کوئی نیا نہیں۔جنرل  ایوب خان نے بھی  عام انتخابات سے بھاگنے اور سیاست کو ”پاک“ کرنے کے نام ہر سیاستدانوں کے خلاف مہم چلائی،”ایبڈو“  اور”پروڈا“ جیسے قوا  نین نافذ کئے۔ ملک میں بنیادی جمہوریتوں کے نام پر نیا نظام لانے کی کوشش کی۔ مگر اسے واپس انہی سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھنا پڑا۔ فرق یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے لیے جگہ بنالی۔ قوم کے پورے گیارہ سال ضایع ہوگئے۔ اور پھر جب عوام کو موقعہ ملا تو انہوں نے ایوب خان اور اس کے نظام دونوں کو اتار کر پھینک دیا۔

 جنرل یحیٰ خان بھی سیاست کو ٹھیک کرنے کے”نیک خیالات“کے ساتھ آئے۔انہوں نے انتخابات بھی کرائے۔ چونکہ نتائج  ان کی مرضی کے مطابق نہیں تھے تو ان کو تسلیم کرنے اور  اقتدار منتقل کرنے سے انکار کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم آدھا ملک کھو بیٹھے۔ 

 جولائی 1977 میں جنرل ضیاء الحق اسلام کے سپاہی کی دعوا کرتے ہوئے آئے۔ نوے دن میں انتخابات کرانے کا وعدہ کرکے وہ گیارہ سال تک مسلط رہے۔ اور انہوں نے بھی ملکی سیاست کو درست کرنے کے نام پر پہلے احتساب پھر انتخاب کا نعرہ لگایا۔ پھر نہ انتخاب ہوئے اور نہ احتساب۔ انہوں نے بھی غیر جماعتی انتخابات کرائے۔ مقصد یہی تھا کہ نئے پاور بروکر پیدا کئے جائیں۔ انتخابی قوانین میں  ترامیم کی گئی۔ ملکی نظام کا نقشہ بگاڑ دیا گیا۔ قوم کو اس وقت ان سے نجات ملی جب وہ ہوئی جہاز کے حادثے میں فوت ہوگئے۔دو جنرلوں  ایوب خان،  ضیا نے ملک کی اندرونی نظام اور خارجہ پالیسی کے ساتھ وہ حشر کیا کہ کئی عشرے گزرنے کے بعد بھی ملک سیدھے پیروں پر کھڑا نہیں ہوسکا ہے۔ 

ان کے بعد آدھا تیتر آدھا بٹیر والی جہمویرت رہی۔ مگر اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ سرگرم رہے۔ کسی  منتخب حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری نہ کی۔ اس  پر اکتفا نہیں کیا گیا اور جنرل مشرف ملک اور اور ان کے نمائندوں کو ٹھیک کرنے کے لیے میدان میں آگئے۔ان کے سیاسی”اصلاحات“ کا  فائدہ تو کوئی نہیں ہوا، بلکہ اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی کے نام پر قوم کو برادریوں میں تقسیم کردیا گیا۔انہوں نے ملک کی دو بڑی پارٹیوں کو اقتدارسے  اوران کی قیادت کوملک سے باہر رکھنے کا  فارمولا چلایا۔عوام اپنی مقبول لیڈر بے نظیر بھٹو سے محروم ہوگئے۔ 

عوام کے اس”نجات دہندہ“نے  تب جان چھوڑی جب ملک کی معیشت، سیاست، اور ادارے تباہ ہو چکے تھے۔  دہشتگردی کا راج تھا۔ اور ملک عالمی قوتوں کی ماتحتی میں چلا گیا تھا۔ دیکھا جائے تو ملک کی تاریخ کا بڑا حصہ ملک پر فوجی جنرلوں نے حکومت کی ہے۔لہذا ملک کی آج جو سیاست ہے اس کی خرابی ذمہ داری بھی انہی فوجی اورنیم فوجی حکومتوں پر آتی ہے۔ مگرعلامہ اس معاملے پرخاموش ہیں۔ 
اب ان حضرات کون سمجھائے کہ حکومتی معاملات چلانا سیاستدانوں کا کام ہے۔ اور سیاست کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ دنیا کا بڑا جمہوریت پسند چرچل  نے تو یہ تک کہا تھا کہ جنگ ایک ایسی سنجیدہ چیز ہے جس کو صرف جنرلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

 ابھی تک صرف وہی جماعتیں  علامہ کے ساتھ کھڑی ہو پائی ہیں جن کی سیاست اسٹبلشمنٹ کی سیاست کے طورپر پہچانی جاتی ہے۔ علامہ کے مطالبات اور حکمت عملی  سے یہی اشارے مل رہے ہیں کہاس کے عسکری اسٹبلشمنٹ  ہے۔ یہ بات اتنے زور پکڑ گئی کہ بالآخر فوجی ترجمان کو تردید کرنی پڑی کہ علامہ کی سیاست سے فوج کا کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی تعجب کی بات ہے کہ ایم کیو ایم جس نے پی پی سے کبھی جدا نہ ہونے کے وعدے کئے تھے وہ بھی  نظام کو درست کرنے کے لئے علامہ کے ساتھ ہو گئی ہے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ یہ مارچ جاگیرداروں کے خلاف ہے۔ جاگیردار کون ہیں؟  ایم کوی ایم تو 1988 کے بعد بننے والی ہر حکومت  کے ساتھ رہی ہے۔ 

مشرف اور موجودہ حکومت میں تو عملی طور پر اس کی مؤثر شراکت رہی ہے۔ اٹھارویں ترمیم جس کے تحت حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے باہمی اتفاق سے بگراں حکومت قائم ہونی ہے وہ ایم کیو ایم کے اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی۔ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر بھی اس کے مشورے سے ہوا تھا۔ راتو رات یہ کیا ہو گیا کہ وہ بدل گئی۔ اب اٹھارویں ترمیم بھی غلط اورباتیں بھی غلط۔ 

اصل میں ایم کیوایم جو کراچی کے مینڈٰٹ کی دعویدار رہی ہے اور کسی بھی سیاسی و غیر سیاسی ادارے کو کراچی میں داخل نہ ہونے دے رہی تھی۔ وہ کراچی میں امن قائم کرنے، بھتہ خوری روکنے، دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگز روکنے میں ناکام رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے کراچی کو الگ جزیرہ بنانے کی کوشش کی۔ 

جب اس صورتحال کو  ووٹر فہرستوں کو درست کرنے، نئی اور منطقی حلقہ بندی  کے ذریعے سیاسی اقدامات ہونے لگے تو اس نے مزاحمت شروع کردی۔ اس موقف نے ایم کیو ایم کو سیاسی تننہائی میں دھکیل دیا۔ اس کو ”کونسا پاکستان چاہئے“ اور عدلیہ کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے کی کال واپس لینی پڑی۔ کیوںکہ کوئی  بھی سیاسی جماعت  یا ریاستی ادارہ اس کی حمایت نہیں کررہا تھا۔ علامہ طاہرالقادری ایم کیو ایم کی ضمانت کرائی ہے۔ اور وہ ایک حد تک  بڑے دھارا  میں جگہ بنا رہی ہے۔

اکثر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم واقعتا  اسلام آباد لانگ مارچ میں شریک نہیں ہوگی۔ کیونکہ یہ جماعت ماضی میں بھی بظاہر جس کے لیے احتجاج کر رہی ہوتی ہے، اس کے اصل مطالبات کچھ اور ہوتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے ابھی یہ مطالبات ہیں  سپریم کورٹ کی ہدایت پر جاری ووٹر فہرستوں کی درستگی اور نئی حلقہ بندی کاکام بند کیا جائے۔بلدیاتی نظام جیسا وہ چاہ رہی ہے وہ نافذ کیا جائے۔ ایک حد تک حکومت اس کے یہ مطالبات مان بھی سکتی ہے۔

بہرحال یہ وقت ہے کہ ملک کی دو بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اورنواز لیگ جو پارلیمنٹ اور جمہوری عمل کا حصہ ہیں  وہ اس صورتحال کو سمجھیں کہ یہ تمام بندوبست انکو نکالنے کے لیے ہو رہا ہے۔ اور یہ جمہوری عمل کو لپیٹنے کا اشارہ ہے۔ لہٰذا وہ الگ الگ سیاست بازی کے بجائے مشترکہ لائحہ عمل بنائیں۔   

ایم کیو ایم تہنائی کی طرف - Dec 11, 2012

Tue, Dec 11, 2012, 10:28 AM

ایم کیو ایم تہنائی کی طرف۔۔۔ میرے دل میرے مسافر۔۔۔سہیل سانگی

Tue, Dec 11, 2012 at 10:44 PM
MQM Isolation-
ایم کیو ایم کی تنہائی۔۔۔ میرے دل میرے مسافر۔۔۔سہیل سانگی
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے گزشتہ ہفتے ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ان کے مطابق پنجاب میں حصول اقتدار کے لیے ملک کو داؤ پر لگانے کی تیاری کی جارہی ہے۔انہوں نے شکوہ کیا کہ سیاسی و مذہبی جماعتیں کراچی میں اسلحے کی نمائش پر تو بیانات دیتی ہیں مگر پنجاب میں حالیہ ضمنی انتخابات میں ہونے والے اسلحے کی نمائش پر سب خاموش ہیں۔ڈاکٹر فاروق نے یہ بھی سوال کیاکہ سپریم کورٹ نے کراچی کے حالات اور حلقہ بندیوں کا تو نوٹس لیا مگرپنجاب میں ضمنی انتخابات کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں کا نوٹس نہیں لیا۔ایم کیو ایم کایہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ یہ جماعت ایک طرف ہے ملک کی سیاسی پارٹیاں دوسری طرف ہیں۔اس سے قبل گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے کراچی کی حلقہ بندیوں اور بدامنی کے حوا لے سے جو فیصلہ دیا تھا تب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے بھی برہمی کا اظہار کیا تھا۔ 
ایم کیو ایم کا سیاسی جماعتوں سے شکوہ کیا اس کی سیاسی تنہائی کی عکاسی کرتا ہے؟ 
 یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں کہ ایم کیو ایم کو اس قسم کی تنہائی کا احساس ہوا ہے۔ پرویزمشرف دور  میں جب چارٹر آف ڈیموکریسی پر  دستخط ہوئے تھے اور اس کے فورابعد نواز شریف نے  جب لندن میں سیاسی جماعتوں کی کانفرنس بلائی تھی اس وقت بھی  ایم کیو ایم کو ایسی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جب اکثر سیاسی جماعتوں نے کسی قسم کا اتحاد اور رابطہ نہ رکھنے کا  اعلان کیا تھا۔  بعد میں پیپلز پارٹی نے  اس وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایم کیو ایم سے اتحاد کای اور اسے سیاسی تنہائی سے نکلنے میں مدد کی۔ کمشنری نظام کی بحالی اورصوبائی وزیر داخلہ ذولفقار مرزا کے سنگین نوعیت کے الزامات نے بھی ایم کیو ایم کو تنہائی تک تنہائی کا شکار کئے رکھا۔
یہ کل ہی کی بات ہے کہ وہ سندھ میں سفید و سیاہ کی مالک نظر آتی تھی۔ سیاسی جماعتیں کراچی اور سندھ کے حوالے سے اس سے بات کرتی تھیں۔ ااور اس کی رائے کو اہمیت دیتی تھیں۔ یوں ایم کیو ایم فیصلہ سازی میں بھی اثر انداز ہونے لگی تھی۔ کراچی پر گرفت رکھنے کی دعویدار یہ جماعت نواز شریف اور جنرل مشرف کے دور کے بعد موجودہ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی حکومت میں رہی ہے۔ اس جماعت کا تینوں سطحوں یعنی وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومتوں میں بھرپور شرکت رہی ہے۔ خاص کر صوبائی اور ضلعی سطح پر فیصلے اسی کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہوتے رہے ہیں۔اگر نہ بھی ہوں وہ کمال خوبصورتی سے یہ فیصلے اپنے حق میں کرتی رہی۔کراچی کی صنعت و تجارت اور ترقی کا پہیہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کے پیش نظر اس جماعت کواقتدار میں بڑا حصہ دیا گیا۔جس کی گواہی موجودہ صدر آصف علی زرداری کے اس بیان سے بھی ملتی ہے۔ جس میں متحدہ سے اتحاد کے حوالے سے کہا تھا کہ انہوں نے کراچی کا امن خریدکیا ہے۔ 
صوبے اور کراچی میں ایک بڑا حصہ ملنے کے باوجود کراچی  میں امن امان  اور کاروبار کی صورتحال بہتر نہ ہو سکی۔کراچی کا ملک کی آمدنی کا 60 سے 70 فیصدفراہم کرتا ہے۔ جس میں سے دفاعی اداروں کے بجٹ میں میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہاں کی تالہ بندی  نے بھی ان اداروں میں بھی صورتحال کو از سرنو غور کرنے پر مجبور کیا۔
جماعت اسلامی جو ایم کیو ایم سے پہلے کراچی کی نمائندگی کی دعویدار رہی ہے اس کے 2008 کے عام انتخابات سے جماعت اسلامی کو کوئی فائدہ پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو، مگر ایم کیو ایم کو شہر کی اکیلی بڑی پارٹی کا اعزاز ضرور ملا۔سیاسی مبصرین اس بات کو بھی بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں کہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے بائکاٹ نے ایک دوسرے کو ہی فائدہ پہنچایا ہے۔سانحہ 12مئی 2007  کے بعد ایم کیو ایم اور اے این پی ایک دوسری کی کٹر مخالف کے طور پر سامنے آئیں۔ مگر پیپلز پارٹی کی مفاہمت کی پالیسی  ان دونوں مخالفین کو ایک ہی میز پر لا بٹھایا۔
کراچی اب تبدیل ہے۔ جس کو ایم کیو ایم سمیت  مختلف  سیاسی جماعتیں سمجھنے اور تسلیم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔یعنی زمینی حقائق تبدیل ہو چکے ہیں۔ کچھ نئی قوتیں ابھر کر آئی ہیں۔ جن کی حقیقت کو تسلیم کئے بغیر معاملہ سلجھایا نہیں جا سکتا۔اور یہ حقائق تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ کراچی کے  سیاسی معاملات میں ان نئے پاوربروکرز کی شراکت۔ اور ایم کیو ایم دراصل یہ شراکت نہیں چاہتی۔ جس کے جواب میں  ان نئے پاور بروکرز نے  ایم کیو ایم کا ہی اسٹائل اختیار کر لیا ہے۔ نتیجے میں سیاسی بالادستی کی جنگ سیاسی سرگرمیوں کے بجائے ہتھیاروں سے لڑی جا رہی ہے۔
کیا سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے ایم کیو ایم کی ڈاؤن سائزنگ چاہتی ہیں؟ جس کو عرف عام میں یہ کہا جا رہا ہے کہ جس جماعت کی جو حقیقی سیاسی حیثیت ہے وہ اسکو ملنی چاہئے۔ ورنہ اس سے پہلے کے دو انتخابات میں بھی اسی طرح کی انتخابی فہرستیں تھیں  اور یہی حلقہ بندی تھی۔ مگر اب یہ سب جماعتیں انتخابی فہرستوں میں درستگی چاہتی ہیں۔ نئی حلقہ بندی چاہتی ہیں۔شاید یہی بات  ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے محسوس کرلی ہے  اور کراچی میں نئی حلقہ بندی پر مزاحمت کرنے کا اشارہ  دے چکے ہیں۔
کراچی میں قیام امن کے لیے جو مختلف حکمت عملیاں بنائی جا رہی ہیں کیا یہ کوششیں بارآورہو سکیں گی؟ کراچی میں فوجی آپریشن کے مطالبات کیے جارہے تھے تو  خود آرمی چیف  جنرل پرویز کیانی کویہ وضاحت کرنی پڑی کہ کراچی میں فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں۔ مگر سپریم کورٹ نے فوج کوایک کردار انتخابی ن فہرستوں کی تصدیق کے نام سے دے دیا ہے۔جس میں فوجی جوانوں کو گھر گھر جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔فوج یہ کردار قبول کرے گی یا ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے معاملات طے پا جائیں گے۔ 
 ایم کیو ایم کو بطور سیاسی پارٹی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ ہو اس وقت تین طرف سے دباؤ میں ہے۔ یہ دباؤ لندن سے لیکرکراچی تک ہے۔ لندن میں ڈاکٹر عمران  کے قتل کیس کے حوالے سے  دباؤ ہے تودوہری شہریت کی وجہ سے حیدر عباس رضوی، رضاہارون  جیسے متحرک ارکان اسمبلی  سے محروم  ہونے کی وجہ سے پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں سیاسی تنہائی کی صورت میں پارٹی مزید دباؤ میں آسکتی ہے۔ ہر بار کمال فن سے صورتحال کو پارٹی اپنے حق میں کر تی رہی ہے کیا وہ اس مرتبہ وہ بے لگام صورتحال اس کے بس میں نظر نہیں آتی۔پارٹی کی قیادت کو عملی طور پرسیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنا پڑے گا اور کراچی کے زمینی حقائق  اور نئے  پاور بروکرز کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو  اسپیس دینا ہوگا جس کی کبھی  وہ خود طلب گارر ہی ہے۔ 
=================================
ایم کیو ایم  رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے کہا ہے کہ پنجاب  میں حصول اقتدار کے لیے ملک کو داؤ پر لگانے کی تیاری کی جارہی ہے۔انہوں نے شکوہ کیا کہ سیاسی و مذہبی جماعتیں کراچی میں اسلحے کی نمائش پر تو بیانات دیتی ہیں مگر پنجاب میں حالیہ ضمنی انتخابات میں ہونے والے اسلحے کی نمائش پر سب خاموش ہیں۔ڈاکٹر فاروق کے مطابق ایم کیا ایم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ نے کراچی  کے حالات اور حلقہ بندیوں کا تو نوٹس لیا مگرپنجاب میں ضمنی انتخابات کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں کا نوٹس نہیں لیا۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ متحدہ (ایم کیو ایم) ایک طرف ہے تو  ملک کی سیایس پارٹیاں دوسری طرف ہیں۔اس سے قبل گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے کراچی کی حلقہ بندیوں اور بدامنی کے حوا لے سے جو فیصلہ دیا تھا تب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے بھی برہمی کا اظہار کیا تھا۔ 
ایم کیو ایم کا سیاسی جماعتوں سے شکوہ اس کی سیاسی تنہائی کی عکاسی کرتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ صورتحال کوئی ایک روز میں پیدا نہیں ہوئی ہے۔ اس پر ایم کیو ایم کو سوچنا چاہئے۔کراچی کی نمائندگی کی دعویدار یہ جماعت  جنرل مشرف کے دور سے لیکر آج تک حکومت میں رہی ہے۔ اس جماعت کا تینوں سطحوں یعنی وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومتوں میں بھرپور شرکت رہی ہے۔ خاص کر صوبائی اور ضلعی سطح پر فیصلے  اسی کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہوتے رہے ہیں۔اس جماعت کو  حکومتی معاملات میں  یہ حیثیت صوبے شہری علاقوں میں دہشتگردی اور بدامنی کی بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد دی گئی۔ اس سیاسی شرکت اور مفاہمت کے پیچھے  یہ مقصد کر فرما تھا کہ شہری علاقوں کی دعویدار پارٹی کو مین اسٹریم میں شامل کر لیا جائے۔ 

ملک کی تمام سیاسی جماعتیں کراچی میں امن امان کے لیے ایم کیو ایم کو ذمہ دار ٹہرا رہی ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات، بھتہ خوری، ٹارگیٹ کلنگز انتخابی فہرستوں میں درستگی چاہتی ہیں۔ نئی حلقہ بندی چاہتی ہیں۔ طرح کا اظہار پارٹی کے سربراہ الطاف حسین  کے سپریم کورٹ کے
کراچی  ملک کا معاشی دارلخلافہ ہے تو اس کو اسی طرح رہنا چاہئے۔ صنعت اور کاروبار امن اور آزادی چاہتا ہے۔
 فوج  بھی تنگ ہے۔ عدلیہ بھی کچھ کرنا چاہتی ہے۔
ایم کیو ایم ورکرز کنوینشن  بلا کر کارکنوں سے  براہ راست یا بلواسطہ  رائے لیتی ہے۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ ایک رائے شرکت نہ کرنے والوں کے پاس بھی ہوتی ہے۔ اور اس طرح کے بحران  یا پارٹی کی حیثیت  خراب ہونے کی صورت میں خاصی اہم ہو جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو سیاسی زبان میں رینک اینڈ فائیل کہا جاتا ہے جب کہ  ایک حصہ ایسا بھی ہوتا ہے جو  ووٹرز کہلاتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ یہ دونوں اتنی آسانی سے تبدیل بھی نہیں ہوتے مگر  ان  کے ذہن میں سوالات ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔

Thursday, 5 March 2020

ایم کیوایم کی بڑھتی ہوئی فرمائشیں 2012-3-20

Tue, Mar 20, 2012 at 10:20 AM
ایم کیوایم کی بڑھتی ہوئی فرمائشیں 
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی 
متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں بھتہ خوری کے خلاف غیر معمولی ردعمل کا اظہار کیا  جس پر بعد میں معذرت کا  ا ظہار بھی کیا۔یہ دونوں عمل سوچ سمجھ کر کئے گئے یا ایک غیر دانستہ عمل پر دانستہ طور پر  معذرت کی گئی۔ اس سوال پرمبصرین کی رائے منقسم ہے۔ بھتہ خوری ایک پرانا مرض ہے جس میں چندے کی چٹھیوں سے لیکر فطرے، زکوات، اور قربانی کے کھالوں تک کی جبری وصولی کے طریقے شامل ہیں۔

سنیچر کے روزایم کیو ایم کا  بھتہ خوری پر اس قدر شدید ردعمل سامنے آیا جو کئی نیوز چینلز پر یہ فتوے جاری ہونے لگے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ اس سے پہلے سینیٹ کے انتخابات کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھی کہ انتخابات سے پہلے حکومت کو چلتا کیا جائے گا۔ مگرایوان بالاکے انتخابات معمول کے مطابق منعقد ہوئے جس کے بعد متحدہ کے اس عمل نے تجزیہ نگاروں کو اپنے تجزیے نئے ایندھن سے روشن کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔ متحدہ کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما  حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے مسائل کا حل صدر زرداری کے پاس ہے۔اور ان کی یہ بات بعد میں درست ثابت ہوئی۔ صدر زرداری نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جس کے بعد متحدہ نے صدر کے  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو خطاب کے موقع پر بائکاٹ کا فیصلہ واپس لے لیا۔ مگر کراچی سمیت دیگر شہروں میں ہڑتال کافیصلہ برقرار رکھا۔وزیر اعلی سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو کچھ غلط فہمیاں  ہو گئی تھیں جو صدر زرداری نے دور کردی ہیں۔مگریہ غلط فہمیاں کیا تھیں لاکھوں لوگ ایک مرتبہ پھر سننے اور سمجھنے سے محروم رہے۔ ہاں ا تنا ضرور ہوا کہ ایک مرتبہ پھر رحمان ملک کراچی پہنچ گئے۔ صوبائی سبجیکٹ ہونے کے باوجود کراچی میں امن امان کے بارے میں اجلاس کی صدارت کی اور ایک مرتبہ پھر مخصوص علاقوں میں آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے جب کراچی کی صورتحال کا از خود نوٹس لیا تھا تو عدالت میں پیش کی گئی بھتہ خوری لینے والوں کی لسٹ میں سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے ساتھ بعض مین اسٹریم پارٹیوں کے نام بھی شامل تھے۔ عدالت نے کراچی کی صورتحال کو مانیٹر کرنے کے لئے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو کہا تھا۔ یوں امن امان کی ذمہ داری بھی عدلیہ کو دی گئی۔ عدالت کی اس ہدایت کے بعد آئی جی سندھ پولیس اور رینجرز وقتا فوقتا سندھ ہائی کورٹ کو رپورٹ پیش کرتے رہے ہیں۔ 
جہاں تک بھتہ خوری  یا بدامنی کا تعلق ہے، وہ صرف کراچی میں ہی نہیں سندھ بھر میں ہے۔ کراچی میں ایم کیو کے پاس مضبوط نیٹ ورک ہے۔اسے میں کون بھتہ خوری ی اسٹریٹ کرائیم کر سکتا ہے۔
جمع کے روز  ایم کیو ایم  کے اراکین کے احتجاج کی وجہ سے اسمبلی کی کارروائی معطل ہو گئی۔ اس دوران نیشنل پیپلز پارٹی کے رکن  عارف مصطفی  جتوئی سے  ایم کیوایم کے اراکین کی جھڑپ بھی ہوئی۔ جس کے خلاف سندھ کے مختلف شہرو میں احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ  عارف جتوئی کو اس وجہ سے ٹارگٹ کیا گیا کیونکہ انہوں نے سندھ کی وحدت کے حوالے سے صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کی تھی جو ایم کیو ایم کی قومی اسمبلی میں نئے صوبوں کے حوالے سے پیش کردہ آئینی ترمیمی بل کے خلاف تھی۔اس سے پہلے کراچی میں مہاجر صوبے کی قیام کی چاکنگ اور وال پوسٹر کے خلاف فنکشنل لیگ کی خاتون رکن نصرت عبای نے  مذمتی قرارداد پیش کی تھی جس کے بعد انکو دھمکی آمیز فون اور موبائل پر میسجز آنے لگے۔ 
جمع کے روز ایم کیو ایم نے نہ صرف سندھ اسمبلی کے اندر احتجاج کیا بلکہ کارکنوں کو  اسمبلی باہر جمع ہو کر احتجاج کرنے کو کہا۔ جس پر ریڈ زون قرار دیئے گئے اس علاقے میں ہزاروں کارکن پہنچ گئے اور اس ایریا میں گھومتے رہے۔اور یوں اراکین اسمبلی ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کی لپیٹ میں آگئے۔
  آخر ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے ایم کیو ایم یہ سب کر رہی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت امریکہ کے دباؤ ہی نہیں اپنے اتحادیوں کی اس فرمائش پر خاصی پریشان ہے۔ اسی طرح ایم کیو بھی اس سے Do more کے فارمولے پر کام کر رہی ہے۔
اس وقت ایم کیو ایم کے پاس وفاق میں دو وزارتیں یعنی بابر غوری کے پاس شپنگ اینڈ پورٹس اور فاروق ستار کے پاس سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت ہے۔ سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ بازگشت ہے کہ اب ایم کیو ایم نو منتخب سینیٹر مصطفی کمال کے لئے بھی وزارت لینا چاہتی ہے۔صدر زرداری خاصے فراخدل نظر آتے ہیں کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے  ایم کیو ایم کو سینیٹ میں ایک اضافی نشست دیدی تھی۔تو اس مرتبہ تیسری وزارت بھی دے سکتے ہیں۔
 مگر ایک کیو ایم کا دوسرا مطالبہ ذرا سخت ہے۔وہ چاہتی ہے کہ ایم کیو ایم حقیقی آزادانہ طور پر کام نہ کر سکے۔شاید اس جماعت پر پابندی بھی چاہتی ہے۔ایسا کرنا حکومت کے لئے ناممکن ہے کیونکہ حکمراں جماعت سے لیکر مختلف اداروں تک اس خیال کے ہیں کہ حقیقی کو بھی اسپیس دیا جائے۔Do more کے مطالبے پر  صدر زرداری کے لئے یہ تو آسان ہے کہ کسی کو ایڈجسٹ کریں مگر بندش ڈالیں توکس بنیاد پر؟ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم حقیقی پر دہشتگردی کا کوئی بھی الزام تاحال ثابت نہیں ہوا۔ مگر اتحادی  جماعت کا کہنا ہے کہ اللہ اکبر اللہ اکبر گروپ کی بنیاد پر حقیقی پر پابندی عائد کی جائے۔ گذشتہ دنوں صوبائی وزارت داخلہ نے حقیقی کے چیئرمین آفاق احمد کو ایم پی او کے تحت نظربند کردیا تھا۔یہ دلچسپ امر ہے کہ کالعدم سپاہ صحابہ اور حقیقی کے کارکنوں پر مشتمل ایک گروپ کو اللہ اکبر گروپ قرار دیا جاتا ہے جس پر تخریب کاری کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ الزامات تاحال ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔ 
سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ چونکہ حقیقی ایم کیو ایم کی ہی صفوں سے نکلی ہوئی ہے اس لئے متحدہ اس
 کو اپنے لئے چیلینج سمجھتی ہے۔ اردوداں حلقوں میں یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ ایم کیو ایم حقیقی کا راستہ روکنے کیلیے کراچی کی دیواروں کو مہاجر صوبے کے نعروں سے رنگا گیا۔ 
حقیقی اس وقت  لانڈھی تک محدود ہے اور خاموشی  سے اپنے سیاسی ساتھی تلاش کرنے میں مصروف ہے۔  
اس حوالے سیایم کیو ایم حقیقی کے عوامی نیشنل پارٹی اور امن کمیٹی کے ساتھ روابط قابل ذکر ہیں۔ یہ تینوں گروہ یا جماعتیں تین مختلف قومیتوں یعنی مہاجر، بلوچ اور پٹھان لسانی گروہوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔مستقبل میں یہ تینوں ایک دوسرے کی مدد کر سکتی ہیں۔ آئندہ انتخابات میں ان تینوں گروہوں کے الحاق سے ایم کیو ایم مخالف لابی بن سکتی ہے۔شاید یہ بات متحدہ نے بھانپ لی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کا دعوا ہے کہ وہ کراچی کی واحدنمائندہ جماعت ہے اور وہ یہ دعوا کسی کے ساتھ شیئر کرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس اے این پی کے نو منتخب سینیٹر شاہی سیدنے ان خطوط پر کام کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ شہر سب کا ہے۔کسی ایک پارٹی کے پاس یرغمال بننے نہیں دیں گے۔ ایم کیو ایم حقیقی کے چیئرمین آفاق احمد کا موقف بھی اس سے ملتا جلتا ہے جن کا دعوا ہے کہ کراچی میں عوام کا مینڈیٹ یرغمال ہے۔
بعض گروپ اپنا سیاسی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو دوسرے اپنا  دائرہ اثر بڑھانے کے لیے بضد ہیں۔ جس کی وجہ سے صورتحال کشیدہ رہتی ہے۔ کراچی کے مینڈیٹ کی حالت بھی آنے والے انتخابات میں کچھ ایسی ہی ہونی ہے جیسی عیدالاضحی کے موقعے پر قربانی کی کھالوں کی ہوتی ہے۔ جس کے بازؤں میں جتنا دم ہوگا اتنا ہی اس کو مینڈیٹ ملے گا۔