Showing posts with label dharna. Show all posts
Showing posts with label dharna. Show all posts

Tuesday, 10 March 2020

دھرنا سیاست کی مقبولیت - Feb 21, 2013

Thu, Feb 21, 2013 at 10:23 AM
دھرنا  سیاست کی مقبولیت
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی اور علامہ طاہرالقادری کے دھرنوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے عنصر کا اضافہ کیا ہے۔ بعض  پریشر گروپس کا خیال ہے کہ اب مسائل  دھرنے سے ہی حل ہو سکتے ہیں یا  یہ دھرنے کسی بڑی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔احتجاج کی  یہ شکل گو پرانی  ہے مگرآج بھی اس موثر ہے۔ حالیہ احتجاجوں  نے اس میں نئی جان ڈال دی ہے۔ 
 مظاہرہ وقتی طور پر احتجاج کرکے متعلقہ حکام کو مطالبات پیش کئے جاتے ہیں  یا  ان مطالبات کی طرف عام لوگوں کی توجہ دلائی جاتی ہے۔ ریلی  اور جلوس موبائل احتجاج ہے جو احتجاج کرنے والے اہم علاقوں کا گشت کرکے لوگوں کو اپنی اور اپنے مطالبات کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ دھرنے کی نوعیت  ان دو سے مختلف ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی فلسفہ کسی مطالبے پر اصرار کرنا ہے۔ یعنی یہ احتجاج کسی عمل کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مظاہرین کسی اہم جگہ پر دھرنا مار کر اس طرح بیٹھ جاتے کہ کوئی مخصوص عمل کو روک سکیں۔یا اس میں رکاوٹ بنیں۔دھرنے میں عزم اور مالکی زیادہ ہوتی ہے کہ ہم تب تک بیٹھے ہیں جب تک مطالبات منظور نہیں ہوتے۔ 
دھرنوں کی حالیہ لہر  وال اسٹریٹ پر قبضے سے شروع ہوئی۔ اس کے بعد بڑا اورکامیاب تجربہ مصر کے التحریر اسکوائر کا ہے۔ جس نے مصر کے صدر حسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہاں کی متحرک قوتوں کو اس کے نتیجے میں آنے تبدیلی کو برقرار رکھنا خاصا مسئلہ ہو رہا ہے۔
دھرنا دراصل راست قدم کی ایک شکل ہے۔ جس میں لوگ کسی جگہ پر قبضہ کر کے  احتجاج کرتے ہیں اور یہ احتجاج عدم تشدد والا ہوتا ہے۔ یہ عمل سیاسی، سماجی یا معاشی تبدیلی کے لیے ہوتا ہے۔
عام طور پر مظاہرین کسی حکمت عملی والی جگہ پر قبضہ لر لے بیٹھ جاتے ہیں۔ اور وہ  وہاں تب تک رہتے ہیں جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں ہو جاتے یا پھر انہیں زبردستی  اٹھایا نہیں جاتا یا گرفتار نہیں کیا جاتا۔ عام طور پر دھرنے احتجاج کا کامیاب ترین نسخہ رہے ہیں۔کیونکہ یہ پورے عمل میں رخنہ پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کرتے ہیں۔  اور اس طرح اپنے مسئلے کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔یہ کسی بھی علاقے کو  پرامن طریقے سے بند کرنے کا موثر طریقہ ہے۔ احتجاج کرنے والے پرامن ہوتے ہیں ایسے میں حکومت طاقت کا استعمال کرتی ہے تو بھی مصیبت میں آجاتی ہے۔ کیونکہ لوگوں کی ہمدردیاں احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ہو جاتی ہیں۔ 
دھرنے سول نافرمانی تحریک کا لازمی حصہ رہے ہیں امریکہ میں اس کے نتیجے میں شہری حقوق کا قانون منظور ہوا۔  اور اس کے بعد نسلی بنیاد پر عوامی مقامات پر علحدگی ختم ہوئی۔ اور ووٹنگ کے حق کا قانون منظور ہوا۔ 
انیس سو چالیس کی دہائی میں  شہری حقوق کی دو تنظیموں نے دھرنے دیئے۔  برنیئس فشرنے جنہیں ریسٹورنٹ دھرنوں کی ماں کہا جاتا ہے ریسٹورنٹ  کے دھرنوں کی تیکنیک ایجاد کی۔1939ع میں ایک سو کے قریب لوگ ایک ریسٹورنٹ میں پہنچے اور خود کو گاہک کے طور پرپیش کر کے پانچ سینٹ کی کافی کا کپ خرید کیا اور یوں باقی گاہکوں کو جگہ ہی نہیں دی۔
 بعد میں گھیراؤ اور قبضے کی تحریک چلی وہ بھی ایک طرح سے دھرنا ہی تھا۔قبضے کی تحریک بعد میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگی لیکن یہ احتجاج کی شکل بھی مزدوروں کی جدوجہد سے شروع ہوئی جو بہتر تنخواہوں سے لیکر سرمایہ داری نظام کا خاتمہ چاہتے  تھے۔ مزدوروں کا گروہ کسی جگہ پر قبضہ کرکے بیٹھ جاتا تھا اورکارخانے کو چلنے نہیں دیتاتھا۔ صنعتی مزدوروں کی تنظیم پہلی امریکی یونین تھی جس نے  1937ع میں دھرنے یا قبضے کو بطور آلہ اپنی جدوجہد کے لیے استعمال کیا۔ سنہ2011ع میں وال اسٹریٹ پر قبضہ کی تحریک چلی۔ جو دنیا بھر میں چل رہی ہے۔گزشتہ سال اسپین میں بھی دھرنوں کی تحریک چلی۔ اس کے بعد مصر میں انقلاب  التحریر اسکوائر آیا۔
 2010  میں  لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر میں جمہوریت کا گاؤں کے نام سے خیمہ بستی لگائی گئی۔
دنیا بھر کے مزدوروں کی طرح پاکستان میں بھی مزدور یونینز مطالبات منوانے کے لیے دھرنے دیتی رہی ہیں۔ مگر پاکستان میں سیاست میں دھرنے کا تصور مولانا بھاشانی نے ساٹھ کے عشرے کے آخر میں گھیراؤ جلاؤ  کے نعرے سے کیا۔ ایک حد تک پیپلز پارٹی اور بائیں بازو کے بعض گروپ بھی اس نعرے میں بہہ گئے۔ ساٹھ اور ستر کے عشرے میں بعض مزدور ینینز نے کارخانوں کا گھیراؤ کر مطالبات منوانے کی کوشش کی۔ جس کے نتیجے میں کراچی اور لاہور مزدوروں پر گولی چلائی گئی اور کچھ مزدور شہید بھی ہوئے۔پاکستان  کی ماضی قریب کی تاریخ میں دھرنے کی سیاست لانگ مارچ کیساتھ آئی۔ نواز شریف  کے دور حکومت میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف  بینظیر بھٹو نے سندھ ہنجاب سرحد پر اور ولی خان نے اٹک کے پل پر دھرنا دیا تھا۔ یہ دھرنا اگرچہ مختصر مدت  کے لیے تھے۔ مگر موثر ثابت ہوئے۔ 
سندھ میں قوم پرست جماعتیں مختلف ادوار میں دھرنے دیتی رہی ہیں۔ مگر ان دھرنوں کے نتیجے میں ان کے مطالبات منظور نہ ہو سکے۔ 
حال ہی میں علامہ طاہرالقادری نے انتخابی قوانین اور نگراں حکومت کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دھرنا دیا۔یہ دھرنا ایک حد تک کامیاب رہا کہ حکومت کو ان کے ساتھ معاہدہ کرنا پڑا۔ انہی دنوں میں کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی نے دہشتگردی کے واقع کے خلاف دھرنا دیا۔ جس میں 83 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ حکومت کو ان کے مطالبات ماننے پڑے۔ 
اب ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔ جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے۔ ان واقعات کو ہزارہ کمیونٹی جس کا تعلق اہل تشیع  فرقے سے ہے  انہوں نے کمیونٹی کی نسل کشی کے مترادف قرار دیا  اور اس کے خلاف  پیر اور منگل کو کوئٹہ کے ساتھ ملک بھر میں دھرنے دیئے۔ تمام شاہراہیں بلاک کردی گئی۔ اور انہوں نے تب تک لاشیں دفنانے سے انکار کردیا جب تک ملازمان کی گرفتاری کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات نہیں لییی۔ گزشتہ ماہ ان کے مطالبے پر بلوچستان میں رئیسانی کی صوبائی حکومت  ختم کر کے گورنر راج نافذ کردیا گا تھا۔ اس مرتبہ  ان  کی لسٹ میں یہ مطالبہ یہ بھی شامل ہے کہ کوئٹہ کا انتظام فوج کے حوالے کیا جائے۔ 
ملک بھر میں اہل تشیع نے کوئٹہ کے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی دکھا کر عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔  ہزارہ کیمونٹی کے خلاف کاروایاں روکنے میں حکومتی اداروں کے ناکامی نے یاست کی کزوری کی پول کھول دی ہے۔ کیونکہ گزشتہ ماہ بھی اس طرح کا واقعہ ہوا تھا۔ جس پر کمیونٹی نے اسی طرح کا احتجاج کیا تھا۔ اور حکومت کی یقین دہانی کے بواجود دوبارہ واقعہ رونما ہوا۔  
سندھ کے قوم پرستوں نے متنازع بلدیاتی نظام کے خلاف حیدرآباد کے بائی پاس پر دھرنا دینے کی کوشش کی تھی، مگر پولیس نے ان  سے بائی پاس خالی کردیا۔ لیکن  علامہ قادری کے دھرنے یا سندھ سمیت ملک بھر میں منعقد ونے والے دھرنوں  کے خلاف پولیس یا  رینجرز وغیرہ استعمال نہیں کی گئی۔ یہ معاملہ اس وجہ سے بھی حساس تھا کہ کوئٹہ میں درجنوں لوگوں کی ہلاکت ہو چکی تھی۔ اور وہ مظاہرین لاشیں رکھ کر احتجاج کر رہے تھے۔ عالمی برادری  کے آواز اٹھانے کی وجہ سے معاملے کی حساسیت اور بھی بڑھ گئی تھی۔ 
دھرنے کی اثرپذیری کی وجہ سے بعض سنجیدہ حلقوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا دھرنوں کو سماجی تبدیلی یا انقلاب میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟دھرنے کے ذریعے شاید کوئی چھوٹا موٹا مطالبہ تو منوایا جاسکتا ہے لیکن سماجی تبدیلی کے لیے لگنے والا ہر دھرنا کامیاب نہیں ہوتا۔ صرف وہی دھرنے کامیابی حاصل کر پاتے ہیں جن کے پشت پر کچھ دوسری طاقتیں بھی ہوں۔ 
اگرکوئی سیاسی قوت یا کوئی پرکشش نعرہ عوام کو اتنا متحرک کر بھی دیتا ہے کہ وہ قتدار پر قبضہ کر لے، تو یہ قبضہ وقتی ہوتا ہے۔ کیونکہ اس قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے  جس تنظیم کاری کی ضرورت ہے تو پاکستان سمیت ایسے اکثر ممالک میں ناپید ہے۔ریاستی مشنری ابھی بھی اتنی طاقتور ہے کہ  وہ ایسے کسی چیلینج کا مقابلہ کرسکے۔بلاشبہ عوام میں بڑی طاقت ہے۔ لیکن  یہ طاقت  صرف اس وقت سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے جب تنظیم کاری اور بے لوث قیادت بھی موجود ہو۔   

علامہ کے دھرنے نے کیا سکھایا؟ - Jan 21, 2013

Mon, Jan 21, 2013 at 11:48 AM 
Corrected
علامہ کا مارچ بہتی گنگا:  میرے دل میرے مسافر۔۔۔سہیل سانگی 

چوہدری شجاعت حسین کی ثالثی نے بھی کام نہیں دکھایا۔ علامہ طاہرالقادری نے لانگ مارچ شروع کردیا ہے۔ شاید حکومت کے لیے لانگ مارچ کا اسلام آباد پہنچنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنی اسلام آباد کو التحریر اسکوائر بنانے کی دھمکی اہم ہے۔ حکومت کو یہ بھی پریشانی ہے کہ اگر طالبان یا کسی دوسرے ایسے عناصر نے کچھ کیا تو بڑی خوں ریزی ہوگی۔ اس صورت میں لانگ مارچ حکومت کا کچھ بگاڑ سکے یا نہ بگاڑ سکے  یہ خوں ریزی یقیننا حکومت اور پورے نظام کو ہلا کے رکھ دے گی۔ کوئٹہ میں لاشیں رکھ کے کیا جانے والا احتجاج نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک پر اثرانداز ہو رہا ہے جہاں سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ کوئٹہ میں فوج تعینات کی جائے۔ بلاشبہ کئی چیزوں میں حکومت کی ناہلی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کی ناہلی یا خراب حکمرانی کی سزا  جمہوری عمل کو دی جاسکتی ہے؟ 
لانگ مارچ کا سیاست میں رواج چینی کیمونسٹ رہنما  ماؤزی تنگ نے 1934 میں ڈالا تھا، جب چیانگ کائی شیک کے خلاف لڑائی میں 
 چینی کمیونسٹ پارٹی کی ریڈ آرمی نے اپنی صفوں کی از سرنو ترتیب کے لیے پیچھے ہٹی تھی۔ چینی کمیونسٹوں نے چھ ہزار میل کا سفرکرکے نقلابی مرکز جنوب سے شمال میں منتقل ہوگیا۔اور کئی کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ لانگ مارچ چین میں آمریت کے خاتمے اور سوشلسٹ نظام رائج کرنے کے لیے تھا۔
مولاناعبدالحمید بھاشانی نے مارچ  1976ع میں بگلادیش میں لانگ مارچ کیا تھا۔ بنگلادیش بننے سے  پہلے مولانا بھاشانی پاکستانی سیاست میں بڑا نام تھے۔مولانا نے یہ مارچ فر خا ڈیم کی تعمیر پر بھارت کے خلاف لانگ مارچ کیا۔ اس ڈیم کی تعمیرکے لیے بھارت دریائے پدما  سے پانی دریائے گنگا  میں ڈالنا چاہ رہی تھی،جو بنگلا دیش کوغیرآبادکردیتا۔ کہا جاتا ہے کہ بنگلادیشی حکومت اس لانگ مارچ کے پیچھے تھی۔
پاکستان کو بھی تین لانگ مارچوں کا تجربہ ہے۔ پہلا لانگ مارچ محترمہ بے نظیر بھٹو نے نومبر 1992 میں کیا تھا۔یہ نواز شریف کے خلاف تھا، جب وہ ان کو ہٹاکر حکومت میں آئے تھے اور ان کے خلاف کاررویاں شروع کردی تھیں۔پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیاں جھڑپیں ہوئیں۔اسلام آباد میں سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔ پولیس نے محترمہ کے گھر کے باہر خاردار تار بچھا دیئے تھے۔ سینکڑوں رکاوٹیں کھڑی کردی تھی، تاکہ وہ راولپنڈی میں نہ پہنچ سکیں جہاں لانگ مارچ پہنچا تھا۔ محترمہ جیالوں کی حصار میں راولپنڈی پہنچ گئیں۔ اس کے تقریبا چھ ماہ بعد نواز شریف کی حکومت ختم ہوگئی۔ 
دوسرا مارچ بینظیر بھٹو نے نواز شریف حکومت کے خلاف کالاباغ ڈیم کے مخالفت کے حوالے سے کیا تھا۔ اور سندھ پنجاب سرحد پر کموں شہید کے مقام پر قوم پرستوں کے ساتھ مل کر دھرنا دیا تھا۔ اس مارچ میں عوامی نیشنل پارٹی بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ تھی جس نے پیپلز پارٹی کے ساتھ ملکر اٹک کے پل پر اسی دن دھرنا دیا تھا۔یہ دھرنا چھوٹے صوبوں کا نواز شریف کے خلاف احتجاج تھا اور سندھ اور خیبرپختونخوا کا اتحاد تھا۔ اس دھرنے کے نتیجے میں بھی  نواز شریف حکومت کو جانا پڑا تھا۔ 
تیسراا لانگ مارچ نواز شریف نے 2008 میں مشرف کی برطرف کردہ عدلیہ کی بحالی کے لیے پیپلز پارٹی کی حالیہ حکومت پر پریشر ڈالنے کے لیے کیا تھا۔ لاہور سے شروع ہونے والا مارچ ابھی آدھے راستے میں ہی تھا کہ آرمی چیف کا انہیں ٹیلیفون کال آئی کہ ان کے مطالبات مان لیے گئے ہیں۔  لہٰذا وہ اپنا احتجاج ختم کردیں۔ پہلے دو مارچوں کا نتیجہ پانچ سات ماہ بعدسامنے آیا جبکہ تیسرے مارچ کا 24 گھنٹے کے اندر نتیجہ آیا۔ اب چوتھے کی باری ہے۔ کیا  اس کا نتیجہ ان تین سے مختلف ہوگا؟ 
اس سے قبل 80 کے عشرے میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے  والے لوگوں پر یکساں زکوات کا نظام نافذ کرنے کے خلاف لانگ مارچ کی کوشش کی تھی۔ مگر یہ لانگ مارچ کوئی زیادہ رنگ نہیں دکھا پایا۔
پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ مارچ وہی کامیاب ہوتا ہے جس کو اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ اس مارچ  کا مقصد عوام کو موٹیویٹ یا قائل اور متحرک کرنا نہیں اسٹبلشمنٹ کو موٹیویٹ کرنا ہوتا ہے؟
علامہ قادر ی آج ایسے موقع پر لانگ مارچ کر رہے ہیں جب پیپلز پارٹی اپنی آئینی مدت مکمل کرنے میں چالیس یا پینتالیس روز باقی ہیں۔ہاں یہ اور بات ہے کہ یہ پارٹی آئندہ انتخابات  میں بھی اقتدار  میں آنے کے لیے کوشاں ہے۔ملک میں دہشتگردی  کے واقعات نے  عام زندگی کو معطل کرکے رکھا ہوا ہے۔ کوئٹہ  کے حالیہ واقع اور اس پر احتجاج نے ایک نئی صورتحال پیدا کردی ہے، جس کی وجہ سے کوئٹہ کے مظاہرین  وہاں فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔  
علامہ قادری کے تین مطالبات ہیں نئے الیکشن کمیشن کی تشکیل، فوج اور عدلیہ کی مشاورت سے نگراں حکومت کا قیام، اور انتخابات میں امیدواروں کے لیے اہلیت کی شرط پر سختی سے عمل درآمد۔یہ بہت بڑی فرمائش ہے۔راتوں رات ایسا ہو جائے، آئین میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ وہ ایساکیوں کر رہے ہیں؟ علامہ خود کا دعوا ہے کہ وہ ملک کے عوام کے لیے کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی از سرنو تشکیل ملک کی کوئی بھی جماعت نہیں چاہ رہی ہے۔آج کی صورتحال میں علامہ قادری کے بیچ میں آنے سے پرامن طریقے جمہوری حکومت کی منتقلی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ کیونکہ اگر انتخابات ہو جاتے ہیں تو فوج کے بیچ میں پڑنے کے بجائے جمہوری طور پر اقتدار منتقل ہو جائے گا۔تو یہ عمل پختہ ہو جاتا۔ایسا لگتا ہے کہ یہ بازار کھیل کے نئے شرئط طے کرنے کے لیے لگاہے۔ 
 علامہ قادری کا لانگ مارچ کتنا کامیاب ہوتا ہے اور خیر خوبی سے ہو جاتا ہے، اس کے دور رس اثرات بھی مرتب ہونے ہیں۔ان تمام  باتوں سے ہٹ کر اس لانگ مارچ کے موجودہ حالات پر بھی اثرات پڑے ہیں اور سیاسی صف بندی پر بھی اثرات ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض سیاسی جماعتوں کی پوزیشن مضبوط بھی ہوئی ہے۔ اس مارچ سے علامہ طاہرالقادری کے علاوہ  باقی سب سیاسی جماعتوں کو موجودہ منظرنامے میں فائدہ ہوا۔دور رس ناتئج تو پاکستان کے سیایس کھلاڑیوں نے کونسے پہلے دیکھے تھے کہ اب دیکھیں گے؟
 ایم کیوایم  کی پوزیشن تبدیل ہوئی۔ کچھ ہی گھنٹے پہلے الطاف حسین  ڈرون حملہ کر چکے تھے اور ہر حال میں علامہ کے مارچ میں شرکت کا اعلان کرچکے تھے۔  ایم کیو ایم نے اٹھارہ گھنٹے میں یو  ٹرن لیا ہے۔ یہ کیا دانشمندی کی کمی ہے؟اس پر کئی سوالات کئے جارہے ہیں۔ کیا یہ جماعت صرف ردعمل کی سیاست کرتے ہیں۔ کیا ایک سیاسی پارٹی کے طور پر اس اعلان کے امکانی پہلو پر غور نہیں کیا تھا؟

علامہ قادری کی آمد ان کا ساتھ دینے اعلان  کے نتیجے میں سودے بازی ہوئی ہے۔ ایم کیو ایم  نے لانگ مارچ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان گورنر ہاؤس میں اعلان کیا ہے اس کا مطلب یہ کہ موجودہ گورنر برقرار رہیں گے۔ نگراں سیٹ اپ میں بھی تبدیل نہیں ہوگا۔ٰیہ الگ بات ہے کہ گزشتہ انتخابات میں گورنر کے کردار پرمختلف باتیں ہوتی رہی ہیں۔کراچی میں ووٹرز کی تصدیق اور حلقہ بندی کا معاملہ بھی لٹک گیا۔ ووٹروں کی تصدیق کے عمل میں فوج کا کردار صرف تحفظ فراہم کرنا  اور پیٹرولنگ تک محدود کردیا گیا ہے۔ اس صورتحال پر اے این پی کا کہنا ہے کہ ان دو انتخابی مراحل کو مفاہمت کھا گئی۔ایم کیوایم اور مسلم لیگ  (ق)کو موقعہ ملا کہ وہ اپنے اپنے معاملات نمٹائیں اور صورتحال سے فائدہ اٹھائیں۔مسلم لیگ (ق) نے پنجاب میں سیٹ ایڈجسمنٹ کرالی۔حکومت نے سندھ میں بلدیاتی نظام  پر ایم کیو ایم کی بات مان لی ہے۔ یہ نظام فی الحال سپریم کورٹ کے سہارے پر کھڑا ہے جس کے لیے عدالت نے حکم امتناعی جاری کیاہوا ہے۔ نگراں سیٹ اپ کے لیے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے درمیان بات چیت ہوگئی ہے۔ یہ اپنی سیاست کو آگے بڑھانے کے لیے اب ایک دوسرے پر تنقید نہیں کر رہی ہیں ان دونوں جماعتوں کے پاس ٹارگیٹ کرنے کے لیے اب علامہ قادری موجود ہے۔ علامہ تو خیر دوسروں کا فائدہ کرنے  ہی آئے ہیں۔ اور اس بہتی گنگا میں ہماری سیاسی جماعتوں نے بھی ہاتھ  دھو لیے تو کوئی مضاحقہ ہے کیا؟

=====================

علامہ کے دھرنے نے کیا سکھایا؟

سہیل سانگی
وقت کے ساتھ علامہ طاہرالقادری کی لانگ مارچ کا قصہ پارینہ ہو جائے گا۔ لیکن اس دھرنے کی پراسراریت برقرار رہے گی۔لانگ مارچ کے پیچھے کونسی طاقتیں تھیں؟ درحقیقت مقاصد کیا تھے؟دھرنے کو روکنے کے بارے میں پلان کس طرح سے تبدیل ہوا اور پھر حکومت مذاکرات کیسے ہوئے؟ اسلام آباد کے نامہرباں موسم نے علامہ کی بھی عزت بچالی اور حکومت کا بھی کام ہو گیا۔معاملہ لمبا کھچ گیا تو علامہ کو یہ فکرہوگئی۔کسی سیاسی جماعت نے ساتھ نہیں دیا اس پر طرہ یہ کہ حکمراں خواہ  اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں لانگ مارچ کے خلاف کٹھی ہو گئیں۔ اور کوئی مداخلت کار بھی مدد کو نہیں پہنچا۔وہ تنہائی  کے عالم میں تھے۔ اگراس سردی میں موسم مزید نامہرباں ہوگیا تو اتنے سارے لوگوں کو کہاں ٹھکانہ ملے گا؟ حکومت کو ڈر تھا کہ خراب موسم کی وجہ لوگ بیمار پڑنایا مرنا شروع ہوئے تو فلم گلے پڑ جائے گی۔لہٰذادھرنے کا پرامن اختتام حکومت کی بھی ضرورت تھی۔کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ مذاکرات کے لیے بھی حکومت کے دو اتحادی جماعتوں کا زور تھا۔ بہرحال جو بھی ہوا وہ خوب ہوا۔
 مذاکرات ہوئے اور معاہدہ بھی طے پا گیا۔ اس پر بھی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔صورتحال جوں کی توں ہے۔معاہدے اور لانگ مارچ کی”کامیابی“کے باوجود حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔وہی الیکشن کمیشن موجودہے۔ نگراں سیٹ اپ کے لیے فوج اور عدلیہ کو اسٹیک ہولڈر بنانے کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔ علامہ کے مطالبات آئین سے بالاتر تھے۔ کچھ طے ہوا اس کی نہ آئینی اور قانونی پوزیشن ہے اور نہ ہی کوئی مکینزم بنایاگیاہے۔سیاسی جماعتیں سمجھ رہی ہیں کہ اب یہ ڈرامہ ختم ہو گیا۔بظاہریہ درست بھی لگتا ہے ان تمام چیزوں کے باوجوداس لانگ مارچ کی اہمیت  سے اور اس کے اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ 
 نواز شریف نے فون کر کے غیرمشروط تعاون کا یقین دلایا۔ یہ وہ وقت تھا جب حکومت کی اپنی اتحادی جماعتیں علامہ قادری سے جوڑ رہی تھی۔پیپلز پارٹی کے ہاتھ سے انیشیٹو نکل گیا۔ نواز شریف نے اپوزیشن کی جماعتوں کا اجلاس بلالیا۔ علامہ میں غضب کا اعتماد تھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ اعتماد کہاں سے آیا؟ 
بعض سیاستدں  اور جمہوریت پسند حلقے ڈرے ہوئے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ قادری کے اس لانگ مارچ کے ٹھس ہونے کے بعد کو بھی قوتیں یہ سب چاہ رہی تھیں خاموش نہیں بیٹھیں گی، ان کے ترکش میں اور بھی تیر ہیں۔ قادری  کے اس تحرک کو فوجی اسٹبلشمنٹ اور امریکہ سے جوڑا جا رہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے فوجوں کی واپسی کے بعد یہاں پر غیرسیاسی اور ٹیکنوکریٹ حکومت جو  ان دونوں کی وفادار ہو قائم ہو، اور اس طرح سے صفائی کرے جس طرح سے بنگلادیش میں سپریم کورٹ اور فوج نے  2007 سے 2009 تک کی تھی جس میں دونوں بڑی جماعتیں عوامی لیگ اور  باہر تھی۔ سانحہ یہ ہے کہ دو سال کے بعد واپس جب انتخابی عمل شروع ہوا تو یہی دو بڑی جماعتوں کی شکل میں میدان میں تھیں۔ اور اس تجربے ہی تجربے میں بنگلادیش کے دو سال ضایع ہو گئے۔وہ قوتیں جو  اس پلان پر عمل کر رہی ہیں ان سے صرف اتنا ہی پوچھناہے کے کہ کیا اس تجربے کو پاکستان میں دہرانے کی گنجائش نکلتی ہے؟
یہ درست ہے کہ علامہ قادری انقلاب تو نہیں آیا، مگر یہ لانگ مارچ اور تحریک سیاسی منظر نامے پرکئی اثرات چھوڑ گئی ہے اور کئی سبق سکھا گئی ہے۔
1) سیاسی قوتیں اگر متحد ہوجائیں تو بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ 
2)  صرف ایک منتخب حکومت کے پانچ سال مکمل کرنے  بعد یہ بات سامنے آئی کہ سیاسی قوتیں اتنی بالغ ہو گئی ہیں کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے میدان میں آگئیں۔ یہ سوال ابھی تک باقی ہے کہاسٹبلشمنٹ سیاسی جماعتیں  پر ان کے گروہی مفادات کی  وجہ سے غالب رہی ہے، یہ جماعتیں کتنا عرصہ اس موقف پر کھڑی رہیں گی؟کیا ان جماعتوں کو خاص کر مذہبی جماعتوں کو جمہوری نظام عملا سوٹ کرتا ہے؟یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتیں خود جمود کا شکار ہیں۔ ایسے وہ اس اصولی موقف پر کھڑی ہوسکتی ہیں؟ یا اپنے اندر ایسی تنظیمی  و پالیسی کے حوالے سے تبدیلی لا سکتی ہیں کہ واقعی ایسے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں؟
3)اس لانگ مارچ نے ایک بار پھریہ ثابت کیا کہ پاکستان میں کوئی جامع سیاسی نظام موجود نہیں ہے۔ایسا جامع نظام نہ ہونے کے مخلتف توضیحات اور اسباب ہو سکتے ہیں، مختلف حلقوں کو اس کے لیے ذمہ دار ٹہرایا جا سکتا ہے۔ اوراسباب اور ذمہ داران کا تعیین کرنے کے بعد  آئندہ کے لیے  بندوبست کئے جا سکتے ہیں۔
4)کیااب مثال قائم ہوچکی ہے کہ چند ہزار لوگ وفاقی دارالحکومت جمع ہوکر حکومت کو مفلوج کر دیں گے؟ 
5) لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ خراب حکمرانی نے موقعہ فراہم کیا اور ماحول پیدا کیا کہ یہ مارچ کامیاب ہو۔
6)پاکستانی قوم کسی مسیحا کی تلاش میں ہے، جو آکر ان کی جان چھڑائے۔وہ اکیسویں صدی میں بھی معجزے کی منتظر ہے۔لہٰذا کوئی بھی مداری آکر تماشہ دکھا سکتا ہے۔
  7)علامہ قادری اور عمران خان کے حامیوں کی خاصی تعدا د تیس سال سے کم عمر نوجوانوں کی ہے۔ جو فوری طور پر اور بڑی تبدیلی چاہتے ہیں۔ ان کی نہ سیاسی تربیت ہے نہ تجربہ اور نہ ہی سیاسی کمٹمنٹ۔ نوجوان تبدیلی کے خواہان ہیں بہرحال انہیں نقلی مسیحاؤں سے بچنا چاہئے۔
8)عوام انتخابی قوانین میں تبدیلی چاہتے ہیں۔
لانگ مارچ کے ان  دوررس  اثرات ک؎ے ساتھ ساتھ بعض فوری سیاسی اثرات بھی ہوئے ہیں اور بعض جماعتوں کو اسکا  براہ راست  فائدہ پہنچا:
1۔عمران خان کا  تبدیلی پسندی کا اور پنجاب میں مقبولیت کا حصہعلامہ  قادری لے گئے۔
 2۔نواز شریف کا پلڑا پیپلز پارٹی کے مقابلے میں بھاری ہوگیا۔ان کا خیال ہے کہ اب ان کی باری آوے ہی آوے۔
3۔ اس دھرنے سے تمام سیاسی  جماعتوں نے فائدہ اٹھایا۔ایم کیو ایم سندھ میں اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوئی۔ مسلم لیگ (ق) کو پنجاب میں پیپلز پارٹی نے سیٹ ایڈجسمنٹ کی۔
دھرنے کی بعض خصوصیات بھی تھیں۔(الف)دھرنے میں شرکاء صرف ایک ہی صوبے یعنی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ سندھ، بلوچستان اور پختونخوا سے شرکت نہیں تھی۔(ب)یہ سب شہری لوگ تھے۔ دیہی علاقوں کے لوگوں یا مزدوروں کو موبلائز نہیں کیا جسکا جن کی نجات کا دعاہ کیاجارہا تھا۔(ت)یہ نیا مظہر ہے کہ شہری مڈل کلاس تبدیلی لانے اور انقلاب کے نعرے سے متاثر ہو رہا ہے۔ اس مرتبہ یہ تبدیلی مذہبی رنگ میں ہے۔
یہ صحیح ہے کہ لوگوں کی تعداد اعلان کے مطابق لاکھوں میں نہیں تھی، تاہم اتنی تھی جو متاثر کر سکے۔ ان کا ایجنڈا واضح نہیں ہے۔
، تاہم وہ بار بار فوج اور عدلیہ کی حمایت مانگ رہا ہے اور ان دو اہم اداروں کی تعریف بھی کر رہا ہے۔ 
لگتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ پاکستان کی مذہبی قوتوں کا سافٹ امیج  پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ جن کے لیے پہلے یہ تاثر ہے کہ وہ تشدد اور بے چینی چاہتی ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ عدلیہ اور فوج بھی قادری کے ساتھ ہیں کہ وہ حکومت کو مجبور کرے کہ ایک ایسا نگران سیٹ اپ قائم ہو جو  سیاسی لوگوں اور پارلیمانی رکاوٹوں سے بالاتر ہو اور اسٹبلشمنٹ کا وفادار ہو۔ عاصمہ جہانگیر اور دیگر لوگوں کا خیال ہے کہ ابھی تب خطرہ باقی ہے۔ گیم از ناٹ اوور۔معاملہ کسی بھی وقت واپس پلٹ سکتا ہے۔
ملک میں پائی جانے والی بے چینی کسی بھی نعرہ بازی اور تقریر اور موبلائزیشن کے فن سے کھڑا کیا جا سکتا ہے۔علامہ کا فن تقریر اور مہارت اپنی جگہ پر، مگر  لوگوں کو یہ آسرا بڑا تھا کہ اس کے پیچھے کوئی طاقت ہے جو نظام کو بدل سکتی ہے۔ 
ایسا لگتا ہے کہ مطالبات میں وزن تھا  اور علامہ  نے اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرلیا۔ اگر زمینی حقائق یہ نہ ہوتے تو قادری کیا کوئی اور ایسا نہیں کر سکتا بلکہ اب تو صورتحال  یہ ہے کہ اگر حالات کو ٹھیک نہیں کیا گیا تو کوئی دوسرا قادری بھی آسکتا ہے۔ 
  اب سیاسی بحث کے موضوعات بدل گئے ہیں۔پاکستان کے سیاسی نظام میں یقیننا تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ مگر کیسے؟ جمہوری عمل کو ایک طرف رکھ کر ایسا نہیں کیا جاسکتا۔