Showing posts with label LB system. Show all posts
Showing posts with label LB system. Show all posts

Tuesday, 10 March 2020

متنازع بلدیاتی نظام کی منسوخی - Feb 23, 2013

Sat, Feb 23, 2013 at 11:43 PM
 متنازع بلدیاتی نظام کی منسوخی 
سہیل سانگی 
بعد از خرابی بسیارسندھ اسمبلی نے متنازع بلدیاتی نظام کا قانون واپس لے لیا۔ اس قانون کے خلاف سندھ میں گزشتہ ساڑھے چار ماہ سے حتجاج ہوتے رہے۔ دو مظاہرین پولیس کے ہاتھوں مارے گئے۔ درجنوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔اس قانون کے واپس لینے پر کئی شہروں میں جشن منایا گیا اور اسے عوام کی فتح قرار دیا گیا۔ایسا کرنے سے سندھ میں موجود  ایک بے چینی  توختم ہوئی۔ لیکن مبصرین متنازع قانون کی واپسی کو ایک ڈرامہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کاکہناہے کہ پیپلز پارٹی کو سہولت دینے کے لیے سب اسکرپٹ کے تحت کیا گیا ہے۔  
یہ قانون اس وقت منسوخ کیا گیا ہے جب موجودہ حکومت کی مدت میں بمشکل تین ہفتے باقی ہیں اور اتحادی جماعت ایم کیو ایم جس کی فرمائش پر یہ نظام نافذ کیا گیا تھا، حکومتی اتحاد چھوڑ کر اپوزیشن کی بینچوں پر جا بیٹھی ہے۔ 
پیپلز پارٹی کی اس 180درجے کی قلابازی پر عوام سراپا حیرت ہیں۔ بلدیاتی نظام کا قانون واپس لینے سوالات بھی بہت ہیں تو خدشات بھی بہت۔ لوگ حکمراں جماعت کے اس اچانک تبدیلی اور اس کے مختلف رخوں پر باتیں کر رہے ہیں۔ اکثر مبصرین حکومت کے اس اقدام کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ 
پیپلز پارٹی کے وزراء پانچ ماہ تک بل کی حمایت میں تعریفوں کے پل باندھتے رہے اور یہ قرار دیتے رہے کہ اس قانون سے صوبے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ لیکن پھر ایک ہی دن میں قانون کی تمام برائیاں نظر آ گئیں۔اور جس  پر اسرار طریقے سے پہلے قانون منظور کیا گیا تھا اسی پراسراریت سے واپس لے لیا گیا۔ اگر پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس سندھ کے نقصان میں تھا تو اس لاپروائی سے اسمبلی نے منظور کیسے کیا؟ صرف اتنا ہی نہیں پیپلز پارٹی کی قیادت اس قانون کی حمایت میں تمام حدود کراس کر گئی۔ کیا اس کامطلب یہ سمجھا جائے کہ سندھ کی قیادت اور نمائندگی اتنے غیرسنجیدہ لوگوں کے پاس ہے؟ 
بلدیاتی نظام کا قانون کیوں واپس لیا گیا؟  اس کے تین امکانی اسباب بتائے جاتے ہیں۔ اول یہ کہ سندھ کے عوام کی مسلسل جدوجہد نے پیپلز پارٹی کو مجبور کردیا کہ وہ متنازع قانون واپس لے۔ اگر سندھ کے لوگ اتنا احتجاج نہیں کرتے اور دباؤ نہیں ڈالتے تویہ قانون منسوخ نہیں ہوتا۔یہ موقع اس کو ایم کیوایم کی اتحاد سے علحدگی کے بعد مل گیا۔ اس علحدگی کے بعد بظاہر پیپلزپارٹی کے پاس کوئی عذر نہیں باقی بچا تھا۔اگر ابھی بھی پارٹی ایسا نہیں کرتی تو پارٹی کے اندر دباؤ بڑھ جاتا۔    
 دوسری وجہ سپریم کورٹ میں اس قانون کیخلاف بیریسٹر ضمیر گھمرو کی زیرسماعت آئینی درخواست ہو سکتی ہے جہاں حکومت اپنا دفاع نہیں کر پارہی تھی اور عدلیہ کے ریمارکس سے لگ رہا تھا کہ مقدمہ کس طرف جا رہا ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ عدالت قانون کو مسترد کردے حکومت نے اس کو واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت کے ریمارکس بہت ہی دل لبھانے والے تھے جن سے سندھ کے عوام کی تسکین ہو رہی تھی۔بیریسٹر ضمیر گھمرو کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں مقدمی کارروائی آخری مرحلے میں تھی۔باقی صرف متحدہ کے ایک وکیل کے دلائل باقی تھی۔ عین اس وقت ”امین“ کے فیصلے سے بچنے کے لیے متحدہ نے پیپلز پارٹی کی حکومت پر دباؤ ڈالا کہ فی الحال اس قانون کو واپس لیا جائے۔ اگر عدالت  فیصلہ صادر کردیتی  تو یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔ اور متحدہ بلدیاتی نظام کو کبھی بھی تبدیل نہیں کر سکے گی۔ اگر یہ تھیوری مان لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایک اورسیاسی مصلحت ہی نہیں بلکہ کمپرومائز کیا ہے۔ اور آئندہ انتخابات جیتنے کے بعد ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی مل کر یہ نظام دوبارہ بحال کردیں گی۔ 
تیسری وجہ عام انتخابات ہو سکتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران اس قانون کے حوالے سے دباؤ بڑھ جاتا جو کہ برداشت کرنا پیپلز پارٹی کے بس میں نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار ون کے لیے ووٹرز کے پاس  جانا اور اپنی پوزیشن کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا تھا۔پارٹی کے کارکن اس پر خوش ہیں۔ بقول ایک مقامی رہنما کے اب تو صرف طنز برداشت کرنی پڑے گی۔ لیکن بات کرنے کی پوزیشن میں تو ہیں۔
 ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کو سندھ میں دہرا بلدیاتی نظام قبول نہیں تھا۔کیونکہ باقی صوبوں میں موجود  نظام سے اس کی مماثلت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ خود صوبے کے اندر یہ نظام متنازع بن گیا تھا، جو ہر وقت مسئلے کھڑا کرتا۔خاص طور پر اس وقت جب پیپلز پارٹی حکومت میں نہیں ہوتی۔یوں صوبے میں شہری دیہی کشمکش  انتظامی سطح پر جاری رہتی۔  
جس طرح سے بلدیاتی نظام کا قانون نافذکیا گیاور بعد میں واپس لیا گیا، اس سے پیپلز پارٹی کی سیاسی دانشمندی اور اسمبلی ممبران کے پر شبہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کیا وہ صرف مہرے ہیں یا عوام کے نمائندے؟ ادھر یہ بھی سوال کیا جا رہا ہے کہ قانون پاس کرنے اور اسے واپس لینے دونوں مرحلوں پر کسی بھی بھی اسٹیج پر پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اگر پارٹی نے اس قانون کے حق میں جلسہ بھی کیا تو وہ مخالفین کو دکھانے کے لیے تھا،اس سے پارٹی سطح پر کوئی مشاورت نہیں  کی گئی۔ 
بل کی منظوری کے بعدگورنر سندھ عشرت العباد کے استعیفا نے بھی سوال پیدا کر دیئے ہیں کہ وہ صوبے میں صدر یا وفاقی حکومت کے نمائندے تھے یا صرف اور صرف متحدہ کے نمائندہ تھے۔ جب اسمبلی نے اکثریت رائے سے بل منظور رکر لیا تو اسے دستخط کرنے چاہئیں تھے۔ مگر انہوں نے ا س کے بجائے بیرون ملک چلے جانے کو ترجیح دی  اور استعیفا دے دیا۔ گورنر اگر اس بل کو درست نہیں سمجھتے تھے تو اس پر اعتراض ڈال کر واپس اسمبلی کو بھی بھیج سکتے تھے۔ 
 پیپلز پارٹی نے پانچ سال کے دوران جس پالیسی پر گامزن رہی ہے سندھ اس سے ناخوش ہے۔ متنازع بلدیاتی نظام کی منسوخیسے بلاشبہ پارٹی کی پوزیشن کچھ بہتر ہوئی ہے۔ شاید سندھ کے لوگ اس کو معاف بھی کر سکتے ہیں، لیکن پارٹی کو اپنا اعتماد اور ساکھ بحال کرانے کے لیے کچھ مزید اقدامات کرنے پڑیں گے۔اول یہ کہ اس شبہ کو دور کرنا پڑے گا کہ ا ّئندہ انتخابات کے نتیجے میں اگر یہ دونوں جماعتیں صوبے میں حکومت بناتی ہیں تو یہ متنازع قانون کسی دوسری شکل میں نافذ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے اندرون سندھ کے لوگوں کی کراچی کے تعلیمی اداروں میں داخلے اور صوبائی دارلحکومت  میں سندھ کے لوگوں کو ملازمت کرنے کے مساوی مواقع جیسے مطالبات کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
 مبصرین اس رائے کے ہیں کہ تمام تر مخالفت کے باوجود قوم پرست اور پیر پاگارا مطلوبہ دباؤ نہیں ڈال سکے کہ حکومت مجبور ہو جاتی کہ بل واپس لے لیتی۔در اصل ان جماعتوں نے اس اشو کو انتخابی مہم کے لیاٹھا کے رکھا۔ 
اس جدوجہد ے ہر جماعت کے لیے کئی سبق ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لیے یہ کہ عوام کی مرضی کے بغیر سیاسی مصلحت کے ساتھ بننے والا قانون زیادہ عرصہ چل نہیں سکتا۔ قوم پرستوں کے لیے یہ سبق ہے کہ ان کو اپنی جدوجہد دوسرے کی جھولی میں نہیں ڈالنی چاہئے تھی اور اپنی جدوجہد پر یقین رکھتے۔ اگر ان کی جدوجہد کی حیثیت بنے گی  تواشو حل ہوگا نہیں تو دو سرے فریق اس کو اپنے مقاصد کے لیے ہی استعمال کریں گے۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں قوم پرست جو سندھ کی تیسری قوت سمجھے جاتے تھے ان کی پوزیشن  متاثر ہوئی ہے۔

Monday, 9 March 2020

دہرا بلدیاتی نظام اور احتجاج Oct 8, 2012

Mon, Oct 8, 2012, 138 PM
دہرا  بلدیاتی نظام اور احتجاج
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
سندھ سراپا احتجاج ہے کہ پانچ منٹ کے اندر قوائد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر متنازع نیا بلدیاتی نظام نافذ کردیا گیا ہے۔ اس قانون کی ن  قوم پرستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو چھوڑ کر تمام وفاقی جماعتیں بھی مخالفت کر رہی ہیں۔ مخلوط حکومت  میں پی پی کے ساتھ چار سال تک تحادی  رہنے  والے بھی اتحاد چھوڑعلحدہ ہو کر احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں۔مگر یہ معاملہ صرف قوم پرستوں کا نہیں۔صوبے کا عام آدمی بھی اس قانون کے خلاف ہے۔ اب تو سندھ کے دانشور، ادیب اور شعراء بھی اس دوہرے نظام کے خلاف سڑکوں پر آ گئے ہیں۔
سندھ کے لوگ رنجیدہ ہیں کہ وہ اس قانون کو گزشتہ سال مسترد کر چکے تھے۔ اب دوبارہ  پیپلز پارٹی اس کو قبر سے کھود کر کیوں لے آئی؟
گزشتہ سال بھی ایسا ہی قانون لانے کی کوشش کی گئی تھی۔ جس کی سندھ کے عوام نے بھرپور مخالفت کی تھی۔ اس مرتبہ پہلے یہ قانون ایک آرڈیننس کے ذریعے  نافذ کیا گیا۔ جس پر سندھ کے سیاسی حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا اور احتجاج کیا۔پیپلز پارٹی نے یہ تاثر دیا کہ اسمبلی میں پیش کرتے وقت ان نکات کا خیال رکھا جائے گا۔ مگر جب اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اپوزیشن  چیختی رہ گئی، اس کی ایک بھی نہ سنی گئی۔اور بل پاس کردیا گیا۔ متنازع بل جس طرح سے پاس کیا گیا  وہ سیاسی خواہ  قانونی طور پر غلط ہے  بلکہ یہ ایک نامکمل قانون کے  کیونکہ اس کے کم از کم چار شیڈیول جن کا اس بل میں ذکر ہے وہ قانون میں شامل ہی نہیں ہیں۔
 سوال یہ کہ پیپلزپارٹی نیا آرڈیننس لانے میں اتنی جلد بازی کیوں کی؟  پھر اتنی ہی جلدی  میں یہ بل کیوں لے آئے؟ خیال ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونوں اپنے ووٹرز کو کچھ نہ دے سکی ہیں اور نہ ہی امن امان بحال کراسکی ہیں۔اب جب انتخابات کی بساط بچھائی جا رہی ہے ایسے میں وہ  اپنے ووٹرز کو کیا پیش کریں؟ اس کے لیے یہ لوکل گورنمنٹ قانون لایا گیا ہے۔ ان کو مطمئن کرنے  کے لیے یہ بل ایک سیاسی  نعرہ ہے اور آسرا بھی۔
 سندھ کے مختلف شہروں میں تمام مکاتب فکر کے لوگ احتجاج کر رہے ہیں یہاں تک کہ صدر زردار کا آبائی شہر نواب شاہ  ایک ہفتے تک بند رہا۔ اسی شہر میں  پولیس فائرنگ سے جیئے سندھ کا ایک کارکن  ہلاک ہوگیا۔ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔مگر جب پرامن احتجاج کو پرتشدد بنایا جائے تو اس کی معنی و مفہوم ہی بدل جاتے ہیں۔اب تک اس احتجاج میں تین انسانی جانیں ضایع ہو چکی ہیں۔درجنوں افراد کو گرفتارکئے جاچکے ہیں۔ 
لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرنا چاہتی ہے اور بزور شمشیر ان احتجاجوں کو روکنا چاہتی ہے۔ دباؤ اتنا ہے اگر لوگوں کے احتجاج کو روکا گیا تویہ احتجاج  پیچیدہ ہو جائے گا اورکچھ مشکل شکلیں اختیار کر لے گا۔ جس میں ہڑتالیں، قومی شاہراہ بند کرنا، سول نافرمانی، ریاستی اداروں سے ٹکراؤ شامل ہے۔
دنیا بھر میں سوشل میڈیا عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو  عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مگر اس متنازع قانون  کے حوالے سے سوشل میڈیا لوگوں کے  جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا کام سر انجام دے رہی ہے۔ لوگ اپنا غصہ سوشل میڈیا پر تبصرے یا رائے دے کر یا کارٹون اور تصویریں  رکھ کے  نکال رہے ہیں۔ س سے پہلے یہ ہوتا رہا ہے کہ اتنے غصے اور احتجاجی صورتحال میں یہ لوگ ا عملی طور پر سڑکوں پر آتے۔نفرت کا عنصر اتنا ہے کہ نوجوانوں کی انگلیاں موبائل فون پر چل رہی ہیں۔ جس سے نوشتہ دیوار بن رہی ہے۔آپ کو فیس بک پر بھی اس نفرت اور ناراضگی کا اظہار ملے گا۔
پیپلز پارٹی سیاسی خودکشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔کیونکہ اب لوگ اسے ووٹ دینے سے پہلے تین بار سوچیں گے۔ایسا لگتا ہے کہ اب سندھ میں متبادل قیادت ابھرے۔بلکل اسی طرح سے جیسے ون یونٹ کے خلاف تحریک میں نئی قیادت ابھر کر سامنے آئی تھی۔  بہرحال موجودہ صورتحال کا براہ راست فائدہ مسلم لیگ فنکشنل کو پہنچے گا۔ کیونکہ فنکشنل لیگ سندھی پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ جو  ہر دور میں اقتدار کے ایوانوں میں رہتی آئی ہے۔آج اس بل کی شدومد سے مخالفت بھی کر ہری ہے۔
حکومت مان نہیں رہی ہے،لہٰذا لڑائی لمبی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔یہ لڑائی نہ صرف تیز ہو رہی ہے بلکہ اس میں تشدد کا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے۔ دانش سے عاری انتظامیہ اور جاگیرداروں کی انااحتجاجوں کو پرتشدد بنا رہی ہے۔اس تحریک میں تشدد کا جو عنصر شامل ہو رہا ہے جو بہت خطرناک ہے۔
موجودہ تحریک کو بعض چیلینج بھی در پیش ہیں:
1)سندھ نے قیام پاکستان سے لے کر جمہوری جدوجہد میں رہنمایانہ کردار ادا کیا ہے۔ کیا  اب سندھ جمہوری حکومت کے خلاف تحریک چلائے گا؟بنگال کی علحدگی کے بعد تو سندھ کا کردار جمہوری جدوجہد میں ہر اول دستے کا رہا۔سندھ کے نوجوانوں، طلباء، دانشوروں نے ون یونٹ اور ایوب خان کے خلاف تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اس وقت رائے عامہ اتنی منقسم نہیں تھی۔لہذا عوام میں اس تحریک کو باآسانی پذیرائی مل گئی۔ابھی پیپلز پارٹی  بہرحال سندھ کے لوگوں کی انتخابات میں نمائندہ پارٹی ہے۔
 2)ایم آرڈی تحریک میں بھی سندھ نے بڑا کردار ادا کیا۔ لیکن اس تحریک میں بھی لوگ ضیاء الحق کے چھ سال کے بعد سڑکوں پر تب نکل آئے جب جاگیردار بھی باہر نکلے۔ یوں کسانوں کو  پشت ملی۔ آج کسی بھی سیاسی جماعت کی کسانوں میں جڑیں نہیں ہیں۔اور سندھ کا وڈیرہ  پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔ایک حصہ فنکشنل لیگ کی شکل میں فی الحال اس تحریک کا حصہ بنا ہوا ہے۔ طلباء بھی بٹے ہوئے ہیں اور پہلے سے ہی چھوٹے چھوٹے مسائل کے لیے یونیورسٹی بند کراتے رہے ہیں۔
3) پیپلز پارٹی نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے۔  جو بتدریج مزاحمت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نئے قانون کی مخالفت کرنے والوں  پر تنقید کی جارہی ہے اورپارٹی کے پانچ اراکین اسمبلی نے ایک مشترکہ بیان میں کے ذریعے اراکین کے گھروں پر احتجاج کرنے اور کالے توے ٹانگنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متنبیہ کیا گیا ہے کہ اس کے نتائج برے نکل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی نے اس گرم ماحول کے باوجود 15 اکتوبر کو حیدرآباد میں جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس طرح کا ردعمل دیا ہے۔ ورنہ گزشتہ سال جب اسی طرح کا آرڈیننس جاری کیا گیا تھا تو  احتجاجوں کی وجہ سے اراکین اسمبلی چھپ گئے تھے۔ اور 24 گھنٹے تک کوئی لیڈر میڈیا پر نہیں آیا تھا۔
 4) پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو اس بار شبہہ ہے کہ اس تحریک کے پیچھے نواز شریف ہے۔ کیونکہ احتجاج کرنے والی جماعتیں کسی نہ کسی شکل میں نواز شریف سے اتحاد میں ہیں۔ بہرحال ایک ہفتے تک  پی پی اس بات کو اٹھاتی رہی اور اس نے کسی حد تک اپنی دفاعی پوزیشن بنا لی ہے۔
5)موجودہ تحریک کے لیے سب سے بڑا  چیلینج احتجاج کی قیادت کرنے والے قوم پرست کے آپس میں اختلافات ہیں۔ سندھ بچاؤ کمیٹی  جو یہ تحریک چلانا چاہ رہی تھی وہ بقول ڈاکٹر قادر مگسی کے عملی طور پر ٹھنڈی ہو گئی ہے۔ عوامی تحریک کے ایاز لطیف پلیجو نے بھی شبہ ظاہر کیا ہے کہ سندھ بچاؤ کمیٹی کے کچھ لوگ اسمبلی کی ایک دو نشستوں کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کمیٹی میں شامل جماعتیں عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی الگ الگ سرگرمیاں کر رہی ہیں اور احتجاج کے لیے مختلف تاریخوں پر احتجاج کرنے کی اپیل کر رہی ہیں۔
  پیپلز پارٹی نے دیر سے ہی سہی، ناراض  اتحادیوں اور قوم پرستوں سے  مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سندھ میں شدیدبے چینی  کے پیش نظر اس بات کے کم امکانات ہیں کہ قوم پرست  متنازع قانون واپس لیے بغیر بات چیت کے لیے تیارہوں۔

بلدیاتی نظام: جاگیروں کی الاٹمنٹ - Sep 8, 2012

Sat, Sep 8, 2012, 9:43 AM
بلدیاتی نظام: جاگیروں کی الاٹمنٹ 
 میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
کوئی حزب اختلاف نہ ہونے کے باوجود دو اتحادی جماعتوں نے  متنازع  بلدیاتی نظام کے لیے آرڈیننس جاری کردیا ہے۔ ان دو جماعتوں نے صوبائی  اسمبلی میں  واضح اکثریت کے باوجود یہ قانو ن آرڈیننس کے ذریعے لاگو کرنا پسند کیا۔  اب اس آرڈیننس کوباقی  اتحادی جماعتوں کے ساتھ سندھ کے قوم پرستوں اور عوامی حلقوں سے مخالفت کا سامنا ہے۔ نئے نظام پر کئی اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں اور شدید تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ صوبے میں دہرا  بلدیاتی نظام نافذ کردیا گیا ہے۔بڑے شہروں میں جن کو میٹروپولیٹن کا نام دیا گیا ہے، جو کسی طور پر میٹروپولیٹن کی تعریف میں نہیں آتے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک سیاسی پارٹی کوخوش کرنے اور اس کا دائرہ اختیار و اقتدار بڑھانے کے مترادف ہے۔جبکہ پسماندہ اور دیہی علاقے اگر شہری اور ترقی یافتہ علاقوں سے جڑے رہتے تو انکو آگے بڑھنے میں آسانی ہوتی۔ مگر ان علاقوں کو کاٹ کے الگ تھلگ کردیا گیا ہے اور اب ان کو آگے بڑھنے میں زیادہ وقت،  سرمایہ اور محنت درکار ہوگی۔
نئے سیاسی نظام کا نقصان یہ بھی ہوگا کہ مشرف دور کی طرح ایک بار پھر بااثرخاندانوں کو مختلف اضلاع جاگیر کے طور پر الاٹ کرکے دیے جائیں گے۔ جس سے ذاتی اثررسوخ بڑھنے کے ساتھ ساتھ قبائلی اور برادریوں کی بنیاد پر سماج تقسیم ہو جائیگا۔قانون کی بالادستی،  عوام کی رائے اور آواز دب جائے گی۔یہ نظام جس کو سیاسی فیصلے اور مصلحت کا نام دیا جا رہا ہے اس سے پیپلز پارٹی نے ایک طرف ایم کیو ایم کو خوش کیا ہے تو دوسری طرف تمام سیاسی خاندانوں اور بااثروڈیروں کو بھی، کہ ان کو اب تین سطحوں پر حکومت میں شامل کیا جا سکتا ہے اور ان تینوں سطحوں ضلع،صوبے اور ملکی سطح پر اختیار و اقتدار بھی ہے اور پیسہ بھی۔
سندھ کا سب سے بڑا المیہ اس کی لسانی تضادات ہیں جو نہ صرف عام لوگوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ اس کی وجہ سے خوں ریزی، لاقانونیت،  سیاسی خواہ معاشی اور سماجی عدم استحکام عام ہے۔ نیا نظام  اس خلیج کو مزید بڑھائے گا۔ شہر اور دیہات ایک دوسرے پر ہر حوالے سے انحصار  اور شانہ بشانہ چلنے کے بجائے دور رہیں گے۔نظام لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور تضادات کم کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں مگر یہ نظام  تضادات کو شدید تر کردے گا۔
 بعض قانوندان  نئے بلدیاتی نظام کو آئین کی روح سے متصادم قرار دے رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ  آئین کے تحت تمام اختیارات صوبوں کو ہیں۔ بلدیاتی اداروں کو صرف میونسپل اختیارات ہیں، جو شہری سہولیات کے حوالے سے شعبے ہیں۔ باقی صوبے بلدیاتی اداروں کو دینے سے صوبوں کی حیثیت عملی طور پر ختم ہو جائے گی۔ 
گزشتہ دو سال سے سندھ میں دو بڑی اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان صوبے میں بلدیاتی نظام لانے کے لیے  اعصاب شکن  مذاکرات جاری تھے کہ کونسا بلدیاتی نظام ہو؟ وہ جو 1997ع  کے قانون کے تحت رائج تھا، یا وہ جو جنرل مشرف نے ضلع حکومتوں اور ناظموں کی شکل میں دیا تھا۔ دونوں فریقین کے درمیان کئی امور پر اختلافات تھے۔نئے بلدیاتی نظام پر بات چیت مشرف کے دیئے ہوئے ضلع حکومتوں کے نظام کو ختم کرنے کے بعد شروع ہوئی۔ چونکہ نظام کے بارے میں ہی طے نہیں ہو رہا تھا تو بلدیاتی انتخابات بھی نہیں ہو رہے تھے۔ اگرچہ سندھ کو چھوڑ کر باقی تینوں صوبوں میں مشرف کا دیا ہوا ضلع حکومت کا نظام ختم کرکے کمشنری نظام بحال کردیا گیا تھا۔ مگر سندھ میں کمشنری نظام کی بحالی  میں ایم کیوایم آڑے آرہی تھی۔
 گزشتہ سال  مختلف معاملات پر ایم کیو ایم کا دباؤ اور دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات بڑھ گئے تو پیپلز پارٹی نے صوبائی اسمبلی  سے قانون منظور کر کے کمشنری  بحال کردیا۔ جس کی سندھ بھر میں بڑی واہ واہ ہوئی۔مگر یہ معاملہ زیادہ دونوں تک نہ چل سکا۔ایم کیو ایم کو واپس منا کر لے آنا پڑا۔ پیپلز پارٹی کے سرگرم قانونی ماہر بابر اعوان نے کراچی پہنچ کر گورنر سندھ کے ساتھ پریس کانفرنس کی  اور صوبے میں دو قسم کے نظام رائج کئے گئے۔سندھ میں اس نئے قانون کی مزاحمت ہوئی عام ہڑتال کی گئی۔یہاں تک کہ پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی کو اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔صورتحال یہ تھی کہ 24 گھنٹے تک پیپلز پارٹی کا کوئی لیڈر میڈیا کے سامنے نہیں آیا۔بابر اعوان کے فارمولے کے تحت حیدرآباد اور کراچی میں مشرف کا ضلع حکومت کا نظام اور باقی صوبے بھر میں 1997ع کا نظام رکھا گیا تھا۔ایک ہی صوبے میں دو طرح کے نظام نافذ کرنے کو  قوم پرست اور دانشوروں نے سندھ کی تقسیم قرار دیا اور اس کی مخالفت کی۔
عوام کے اس سخت ردعمل کے نتیجے میں مجبور ہو کر پیپلز پارٹی کو یہ آرڈیننس واپس لینا پڑا۔سندھ میں ایم کیو ایم کے سوائے باقی تمام سیاسی جماعتیں اس قانون کے خلاف تھیں۔یوں سندھ میں بلدیاتی نظام تعطل کا شکار رہا۔
 ہمارے  ہاں بلدیاتی نظام آمروں کے ہاتھوں یرغمال بنا رہا ہے۔ایوب خان نے  بنیادی جمہوریتوں کا نظام دیا اور اس کے ذریعے خود کو صدر منتخب کرایا۔مشرف نے ایسا نظام دیا جس میں ضلع حکومتیں بنیں جو صوبائی حکومتوں کو بائے پاس کر کے براہ راست خود صدر سے جڑی ہوئی تھیں۔
 پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کے طور  پربھرپور کوشش رہی ہے کہ ہر صورت میں ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد برقرار رکھا جائے۔مگرسب سے بڑی پریشانی بلدیاتی نظام ہی ہے کیونکہ ایم کیو ایم کا اس معاملے میں بڑا سخت موقف ہے۔ اور وہ اس معاملے میں کوئی لچک نہیں دکھا رہی تھی۔ مگر پیپلز پارٹی کے لیے بھی ایم کیو ایم کا تجویز کردہ نظام جوں کا توں قبول نہیں تھا۔ اس پر طرہ یہ کہ سندھ میں اس پر شدید احتجاج ہو رہا ہتھا۔لہٰذا پیپلز پارٹی سندھ کے اس احتجاج کو مکمل طور پر مسترد کرنے کی بھی پوزیشن میں نہیں۔ اور ایم کیو ایم کو بھی ناراض کرنے کا رسک نہیں لے رہی تھی۔یہی وجہ ہے کہ ہر بار صدر آصف زرداری کو ہی بیچ میں آنا پڑا۔
 اب بلدیاتی نظام کے لیے پیش رفت یوں بھی نظرآتی ہے کہ ایم کیو ایم  عام انتخابات سے قبل بلدیاتی اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے۔اور ان اداروں ے وسائل اور اختیارات عام انتخابات میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔
پیپلز پارٹی گومگو کا شکار رہی۔کیونکہ صوبائی حکومت اس کے پاس ہونے کی وجہ سے بلدیاتی اداروں پر اسی کا کنٹرول ہے۔پیپلز پارٹی  عام انتخابات سے پہلے بلدیاتی انتخابات کراکے کسی بھی طور پر شکست یا سخت مقابلے کی صورتحال میں پڑنا نہیں چاہ رہی تھی۔ بلدیاتی انتخابات کے اثرات بہرحال عام انتخابات پر پڑتے ہیں۔پھر یہ انتخابات کے نتائج حکومت کی کارکردگی کو بھی ظاہر کریں گے۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے سے لیکر ایم کیو ایم کے دباؤ تک ایسی صورتحال بنی ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس بلدیاتی انتخابات کرانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ایم کیو ایم تعلیم، صحت، پولیس اور روینیو کے اختیارات بھی بلدیاتی اداروں کے پاس رکھنا چاہ رہی تھی۔
 مذاکرات کے دوران ایم کیو ایم کراچی میں سابق اضلاع بحال کرنے پر تیار تھی، مگر حیدرآباد ضلع کو پرانی حیثیت میں بحالی پر راضی نہیں تھی۔کیونکہ ایسا کرنے کے بعد حیدرآباد میں اس کی اکثریت نہیں رہے گی۔پولیس روینیو اور مالی اختیارات کے معاملات پر اختلافات رہے۔پیپلز پارٹی کو پورا احساس تھا کہ یہ محکمے ضلع حکومت کو دینے سے اس کے انتظامی اور مالی اختیارات پر اثر پڑے گا۔یہ بلدیاتی اداروں کو میونسپل سروسز سے زیادہ اختیارات دینے کا مطالبہ ہے ایم کیو ایم کے مطالبات تسلیم کرنے میں صوبائی حکومت کے عمل دخل اور اختیارات  میں کمی کے ساتھ ایک اور بھی پیچیدگی ہے۔ وہ یہ کہ حکومت کو دوسرے کئی قوانین میں بھی ترمیم کرنی پڑے گی۔ مزید یہ کہ مجوزہ میٹروپولیٹن کا نظام سندھ کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی دینا پڑے گا۔ تاکہ کراچی کو اختیارات دینے کا جواز پیدا ہوسکے۔
 مشرف نے حیدرآباد جیسے چھوٹے ضلع کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا۔اور اس کی کوکھ سے  تین اور اضلاع بنائے۔اگر حیدرآباد انتظامی طور پر بڑا تھا تو کراچی کو تو آٹھ دس اضلاع میں تقسیم کیا جانا چاہئے تھا۔کیونکہ کراچی میں ہی ٹارکیگٹ کلنگز، بھتہ خوری، لینڈ مافیا، منشیات، اسلحہ مافیا ہے جس کو موثر طور پر کنٹرول کرنے کے لیے مزید اضلاع بنانے کی ضرورت ہے۔مگر ایک سیاس جماعت کو فائدہ پہنچانے اور اس کی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے ایسا نہیں کیا گیا۔ دوسری زبانیں بولنے والوں کو مینڈیٹ ختم کیا گیا۔واٹر سپلائی، ڈرینینج ملیر، لیاری اور دوسرے علاقوں اور کراچی کے دیہات میں نہیں پہنچتے۔یہی صورتحال حیدرآباداور  میرپورخاص شہر کے بعض علاقوں کی ہے۔ اس پورے معاملے پر سندھ کی دوسری سیاسی جماعتیں اس معالے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ نیا مسودہ جس پر اب طویل مذاکرات ہو رہے ہیں، وہ پیپلز پارٹی نے  اپنی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل اور اے این پی کو اعتماد میں لیے حتمی شکل دی۔ ان اتحادیوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔پیر پاگارو کا کہنا ہے کہ نئے بلدیاتی نظام سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اور فنکشنل لیگ کمشنری نظام کی حامی ہے۔اے این پی کا کہنا ہے کہ اتحادی اگر پہلے ہی آپس میں معاملات طے کر کے آکر میں رسمی طور پر آتی ہیں تو  ہم سے امید نہ رکھیں اور وہ خالی ہاتھ واپس جائیں گی۔اب ملم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ (ق) اور عوامی نہشنل پارٹی نے حکومت سے علحدگی کا اعلان کردیا ہے۔ الیکشن جب نزدیک ہوں ایسے وقت میں سیاسی جماعتوں کو اپنے سیاسی کارڈ  ہوشیاری سے کھلنے چاہئے۔
 اصل میں مشترکہ بنیادیں تلاش کرنے اور ایک متوازن بلدیاتی نظام لانے کی ضرورت ہے جو کہ سیاسی مفادات اور مصلحتوں سے بالاتر ہو، اور شک وشبہہ کی گنجائش نہ۔ صرف ایسا ہی نظام مستقبل میں چل بھی سکے گا۔ہونا یہ چاہئے کہ جتنا یہ متنازع معاملہ ہے اس کے لیے آرڈیننس لانے کے بجائے میں  اسمبلی میں بل پاس کرنا چاہئے۔ اور صوبے بھر میں اتفاق رائے بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ایسا نہ کرکے سندھ کے باقی علاقوں سے احتجاج کودعوت دی جارہی ہے۔

بلدیاتی نظام پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم - Sep 7, 2012

Fri, Sep 7, 2012, 10:03 AM
بلدیاتی نظام پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم
   میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
گزشتہ دو سال سے سندھ میں دو بڑی اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان صوبے میں بلدیاتی نظام لانے کے لیے  اعصاب شکن  مذاکرات جاری ہیں۔بات اس پر ہو رہی ہے کہ کونسا بلدیاتی نظام ہو؟ وہ جو 1997ع  کے قانون کے تحت رائج تھا، یا وہ جو جنرل مشرف نے ضلع حکومتوں اور ناظموں کی شکل میں دیا تھا۔ دونوں فریقین کے درمیان کئی امور پر اختلافات ہیں۔نئے بلدیاتی نظام پر بات چیت مشرف کے دیئے ہوئے ضلع حکومتوں کے نظام کو ختم کرنے کے بعد شروع ہوئی۔ چونکہ نظام کے بارے میں ہی طے نہیں ہو رہا تھا تو بلدیاتی انتخابات بھی نہیں ہو رہے تھے۔ اگرچہ سندھ کو چھوڑ کر باقی تینوں صوبوں میں مشرف کا دیا ہوا ضلع حکومت کا نظام ختم کرکے کمشنری نظام بحال کردیا گیا تھا۔ مگر سندھ میں کمشنری نظام کی بحالی  میں ایم کیوایم آڑے آرہی تھی۔
 گزشتہ سال  مختلف معاملات پر ایم کیو ایم کا دباؤ اور دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات بڑھ گئے تو پیپلز پارٹی نے صوبائی اسمبلی  سے قانون منظور کر کے کمشنری  بحال کردیا۔ جس کی سندھ بھر میں بڑی واہ واہ ہوئی۔مگر یہ معاملہ زیادہ دونوں تک نہ چل سکا۔ایم کیو ایم کو واپس منا کر لے آنا پڑا۔ پیپلز پارٹی کے سرگرم قانونی ماہر بابر اعوان نے کراچی پہنچ کر گورنر سندھ کے ساتھ پریس کانفرنس کی  اور صوبے میں دو قسم کے نظام رائج کئے گئے۔سندھ میں اس نئے قانون کی مزاحمت ہوئی عام ہڑتال کی گئی۔یہاں تک کہ پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی کو اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔صورتحال یہ تھی کہ 24 گھنٹے تک پیپلز پارٹی کا کوئی لیڈر میڈیا کے سامنے نہیں آیا۔بابر اعوان کے فارمولے کے تحت حیدرآباد اور کراچی میں مشرف کا ضلع حکومت کا نظام اور باقی صوبے بھر میں 1997ع کا نظام رکھا گیا تھا۔ایک ہی صوبے میں دو طرح کے نظام نافذ کرنے کو  قوم پرست اور دانشوروں نے سندھ کی تقسیم قرار دیا اور اس کی مخالفت کی۔
عوام کے اس سخت ردعمل کے نتیجے میں مجبور ہو کر پیپلز پارٹی کو یہ آرڈیننس واپس لینا پڑا۔سندھ میں ایم کیو ایم کے سوائے باقی تمام سیاسی جماعتیں اس قانون کے خلاف تھیں۔یوں سندھ میں بلدیاتی نظام تعطل کا شکار رہا۔
 ہمارے پاس بلدیاتی نظام کی تاریخ بڑی عجیب رہی ہے۔ یہ نظام آمروں کے ہاتھوں یرغمال بنا رہا ہے۔ایوب خان نے  بنیادی جمہوریتوں کا نظام دیا اور اس کے ذریعے خود کو صدر منتخب کرایا۔مشرف نے ایسا نظام دیا جس میں ضلع حکومتیں بنیں جو صوبائی حکومتوں کو بائے پاس کر کے براہ راست خود صدر سے جڑی ہوئی تھیں۔
 پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کے طور  پربھرپور کوشش رہی ہے کہ ہر صورت میں ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد برقرار رکھا جائے۔مگرسب سے بڑی پریشانی بلدیاتی نظام ہی ہے کیونکہ ایم کیو ایم کا اس معاملے میں بڑا سخت موقف ہے۔ اور وہ اس معاملے میں کوئی لچک نہیں دکھا رہی تھی۔ مگر پیپلز پارٹی کے لیے بھی ایم کیو ایم کا تجویز کردہ نظام جوں کا توں قبول نہیں تھا۔ اس پر طرہ یہ کہ سندھ میں اس پر شدید احتجاج ہو رہا ہتھا۔لہٰذا پیپلز پارٹی سندھ کے اس احتجاج کو مکمل طور پر مسترد کرنے کی بھی پوزیشن میں نہیں۔ اور ایم کیو ایم کو بھی ناراض کرنے کا رسک نہیں لے رہی تھی۔یہی وجہ ہے کہ ہر بار صدر آصف زرداری کو ہی بیچ میں آنا پڑا۔
 اب بلدیاتی نظام کے لیے پیش رفت یوں بھی نظرآتی ہے کہ ایم کیو ایم  عام انتخابات سے قبل بلدیاتی اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے۔اور ان اداروں ے وسائل اور اختیارات عام انتخابات میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔
پیپلز پارٹی گومگو کا شکار ہے۔کیونکہ صوبائی حکومت اس کے پاس ہونے کی وجہ سے بلدیاتی اداروں پر اسی کا کنٹرول ہے۔پیپلز پارٹی  عام انتخابات سے پہلے بلدیاتی انتخابات کراکے کسی بھی طور پر شکست یا سخت مقابلے کی صورتحال میں پڑنا نہیں چاہ رہی تھی۔ بلدیاتی انتخابات کے اثرات بہرحال عام انتخابات پر پڑتے ہیں۔پھر یہ انتخابات کے نتائج حکومت کی کارکردگی کو بھی ظاہر کریں گے۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے سے لیکر ایم کیو ایم کے دباؤ تک ایسی صورتحال بنی ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس بلدیاتی انتخابات کرانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ایم کیو ایم تعلیم، صحت، پولیس اور روینیو کے اختیارات بھی بلدیاتی اداروں کے پاس رکھنا چاہ رہی ہے۔
 مذاکرات کے دوران ایم کیو ایم کراچی میں سابق اضلاع بحال کرنے پر تیار تھی، مگر حیدرآباد ضلع کو پرانی حیثیت میں بحالی پر راضی نہیں تھی۔کیونکہ ایسا کرنے کے بعد حیدرآباد میں اس کی اکثریت نہیں رہے گی۔پولیس روینیو اور مالی اختیارات کے معاملات پر اختلافات رہے۔پیپلز پارٹی کو پورا احساس تھا کہ یہ محکمے ضلع حکومت کو دینے سے اس کے انتظامی اور مالی اختیارات پر اثر پڑے گا۔یہ بلدیتی اداروں کو میونسپل سروسز سے زیادہ اختیارات دینے کا مطالبہ ہے ایم کیو ایم کے مطالبات تسلیم کرنے میں صوبائی حکومت کے عمل دخل اور اختیارات  میں کمی کے ساتھ ایک اور بھی پیچیدگی ہے۔ وہ یہ کہ حکومت کو دوسرے کئی قوانین میں بھی ترمیم کرنی پڑے گی۔ مزید یہ کہ مجوزہ میٹروپولیٹن کا نظام سندھ کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی دینا پڑے گا۔ تاکہ کراچی کو اختیارات دینے کا جواز پیدا ہوسکے۔
 مشرف نے حیدرآباد جیسے چھوٹے ضلع کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا۔اور اس کی کوکھ سے  تین اور اضلاع بنائے۔اگر حیدرآباد انتظامی طور پر بڑا تھا تو کراچی کو تو آٹھ دس اضلاع میں تقسیم کیا جانا چاہئے تھا۔کیونکہ کراچی میں ہی ٹارکیگٹ کلنگز، بھتہ خوری، لینڈ مافیا، منشیات، اسلحہ مافیا ہے جس کو موثر طور پر کنٹرول کرنے کے لیے مزید اضلاع بنانے کی ضرورت ہے۔مگر ایک سیاس جماعت کو فائدہ پہنچانے اور اس کی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے ایسا نہیں کیا گیا۔ دوسری زبانیں بولنے والوں کو مینڈیٹ ختم کیا گیا۔واٹر سپلائی، ڈرینینج ملیر، لیاری اور دوسرے علاقوں اور کراچی کے دیہات میں نہیں پہنچتے۔ اس پورے معاملے پر سندھ کی دوسری سیاسی جماعتیں اس معالے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔  نیا مسودہ جس پر اب طویل مذاکرات ہو رہے ہیں، وہ پیپلز پارٹی نے  اپنی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل اور اے این پی کو اعتماد میں لیے حتمی شکل دی۔ ان اتحادیوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔پیر پاگارو کا کہنا ہے کہ نئے بلدیاتی نظام سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اور فنکشنل لیگ کمشنری نظام کی حامی ہے۔اے این پی کا کہنا ہے کہ اتحادی اگر پہلے ہی آپس میں معاملات طے کر کے آکر میں رسمی طور پر آتی ہیں تو  ہم سے امید نہ رکھیں اور وہ خالی ہاتھ واپس جائیں گی۔ الیکشن جب نزدیک ہوں ایسے وقت میں سیاسی جماعتوں کو اپنے سیاسی کارڈ  ہوشیاری سے کھلنے چاہے۔
 اصل میں مشرکہ بنیاد تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک متوازن بلدیاتی نظام لانے کی ضرورت ہے جو کہ سیاسی مفادات اور مصلحتوں سے بالاتر ہو، اور شک وشبہہ کی گنجائش نہ۔ صرف ایسا ہی نظام مستقبل میں چل بھی سکے گا۔ہونا یہ چاہئے کہ جتنا یہ متنازع معاملہ ہے اس کے لیے آرڈیننس لانے کے بجائے میں  اسمبلی میں بل پاس کرنا چاہئے۔ اور صوبے بھر میں اتفاق رائے بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ایسا نہ کرکے سندھ کے باقی علاقوں سے احتجاج کودعوت دی جارہی ہے۔

Thursday, 5 March 2020

پہلے نظام کا تو تعین ہو۔ 2012-5-21

Mon, May 21, 2012, 10:25 AM
 پہلے نظام کا تو تعین ہو۔۔
  کالم  ۔۔۔ سہیل  سانگی 
 سندھ ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے سندھ حکومت کو 90دن کے اندر بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیااور کہا ہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 140 A، 132 اور 17 کے تحت صوبہ بلدیاتی انتخابات کرانے کا پابند ہے۔حکومت سندھ کا یہ موقف ہے کہ اس مدت میں یہ انتخابات کرانا ممکن نہیں۔ اور وہ  وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔
 عدالت عالیہ یہ فیصلہ سابق ڈسٹرکٹ ناظم سکھر کے ناصر شاہ اور سابق ضلع ناظمہ ٹنڈوالہیار راحیلہ مگسی کی درخواست پردیا ہے۔لیکن اس فیصلے سے مستفید ہونے والوں میں کچھ اورحلقے بھی شامل ہیں۔خاص طور پر کراچی کے معاملات اور پی پی ایم کیو ایم  اتحاد پر اس فیصلے کے گہرے اثرات پڑینگے۔
یہ فیصلہ اتنا سادہ بھی نہیں جیسے بظاہر نظر آتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک کئی ایک سیاسی و آئینی بحرانوں سے دو چارہے۔ خود سندھ کے اندر بھی ایک چھپا ہوا سیاسی اور آئینی بحران پل رہا تھاجو اس فیصلے کے بعد شدت کے ساتھ سامنے آنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ سندھ میں ایک عرصے سے بلدیاتی نظام پر کشمکش جاری تھی۔حکمران اتحاد کی جماعت ایم کیوایم کا زور تھا کہ فوری طور پر اور جنرل مشرف کے فارمولے کے تحت بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ پیپلز پارٹی کا موقف اس کے برعکس رہا ہے، وہ پرانا بلدیاتی نظام چاہتی ہے۔مگر اس فیصلے نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس طرف دھکیل دیا گیا ہے کہ وہ نظام کا بھی اور انتخابات منعقد کرانے کا جلد فیصلہ کرے۔
 عام انتخابات سے قبل بلدیاتی انتخابات  کے عدالتی فیصلے نے پیپلز پارٹی کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اور پیپلز پارٹی کو مخلوط حکومت برقرار رکھنے کے لیے ایم کیو ایم کی شرائط کو ماننے کے لیے دباؤ بڑھ جائے گا۔اس سے قبل کوٹا سسٹم اورحال ہی میں الگ مہاجر صوبے کے نعرے نے معاملات مزید خراب کردیئے ہیں۔
اس فیصلے کے سیاسی محرکات اپنی جگہ پر مگر بعض تیکنیکی پہلو بھی ہیں۔ اگر عدالتی حکم کے مطابق مختصر مدت میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے توکئی حوالوں سے یہ بلدیاتی انتخابات متنازع بن سکتے ہیں۔ابھی تک نئی حلقہ بندیاں نہیں ہوئی ہیں۔ کیونکہ موجودہ حلقہ بندیاں دس سال سے زیادہ پرانی ہیں اور کئی حلقوں پر سیاسی حلقوں کو اعتراضات ہیں۔
 انتخابی فہرستیں بھی ابھی مکمل نہیں ہیں۔ ان انتخابی فہرستوں پر کئی اعتراضات ہیں سپریم کورٹ اعتراض کر چکی ہے اور ان کے تحت منعقدہ انتخابات کو جائز نہیں سمجھ رہی ہے۔نئی انتخابی فہرستوں پر دو طرح کے اعتراضات ہیں۔ایک یہ کہ کئی ووٹرز کا اندراج غلط علاقوں میں کیا گیا ہے۔ جس کی درستگی کا کام نادرا کر رہی ہے۔ اور اندازہ ہے کہ ایک ماہ سے زائد مدت درکار ہے۔ درستگیاں مکمل ہونے کے بعد ایک بار پھر یہ فہرستیں ڈسپلے کی جائیں گی۔ووٹر لسٹوں میں اندراج  کے حوالے سے دوسرا اعتراض یہ ہے کہ کراچی حیدرآباد یا دیگر شہروں میں برسوں سے آباد دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نیاپنا اندراج شہری علاقوں میں کرایا تھا۔مگر الیکشن کمیشن اور نادرا نے ان کے ووٹ کا اندراج ان کے مستقل پتے کردیا ہے۔جبکہ ان لوگوں نے اپنا اندراج رضاکارانہ طور پر شہری علاقوں میں کریا تھا۔بعض قانوندانوں کے مطابق الیکشن کمیشن کا یہ اقدام آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے، جس میں ہر شہری کو اپنی پسند کی جگہ پر رہنے کی بلامتیاز آزادی ہے۔کراچی اورحیدرآباد کے حوالے سے یہ بات زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کی آبادی کا تناسب گزشتہ پندرہ سال میں تبدیل ہوا ہے اور ان زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئی یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تبدیلی انتخابی ناتئج پر بھی اثرانداز ہوگی۔
 سندھ میں بلدیاتی انتخابات کوئی اس طرح کے نہیں بلکہ بہت بڑا سیاسی اور معاشی مسئلہ ہے۔بلدیاتی نظام کونسا ہو ابھی یہ بھی طے نہیں۔
 مئی کے وسط میں عدالتی فیصلے کے مطابق یہ انتخابات اگست کے وسط میں منعقد ہونے ہیں۔ اگست کا وسط مون سون کا عروج ہوگا۔جبکہ ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی اور محکمہ موسمیات یہ پیشگوئی کر چکے ہیں کہ سال رواں میں گزشتہ سال جیسی بارشیں ہونے کا امکان ہے۔اس صورتحال میں بلدیاتی انتخابات کا انعقادمشکل نظر آتا ہے۔
کئی معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ لگتا ہے کہ عدالت عالیہ نے نہ خود سے اور نہ ہی فریقین کی جانب سے تمام پہلوؤں پر غور کیا گیا ہے۔
 اگر بلدیاتی انتخابات کرائے بھی جائیں تو کونسے نظام کے تحت؟
 گزشتہ دو روز سے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں دو اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بلدیاتی نظام پر بات چیت چل رہی ہے۔اس ضمن میں دونوں جماعتوں کی جانب سے باضابطہ کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے تاہم اخباری اطلاعات اور بعض اخباری بیانات کی بنیاد پر ان کے موقف سامنے آئے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ نے پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں پرویز مشرف کا ضلع حکومت کا نظام نافذ کیا جائے۔کراچی میں پانچ اضلاع ختم کر کے ایک ضلع قائم کرنے، صوبائی حکومت کے ماتحت پانچ خود مختیار ادارے بشمول  ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی،  لیاری ڈولپمنٹ اتھارٹی، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، کراچی ڈولپمنٹ اتھارٹی اور کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھار ٹی کراچی میونسپل کارپوریشن کے حوالے کئے جائیں۔
 میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ یہ بھی چاہتی ہے کہ پولیس اور کمشنر یا ڈپٹی کمشنر بھی میئر کے ماتحت ہوں۔ کراچی ڈولپمنٹ اتھارٹی،  ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی، لیاری ڈولپمنٹ اتھارٹی کے علاقوں میں موجود سرکاری زمین کو لیز کرنے کے اختیارات حکومت سندھ سے لے کر میئر کے حوالے کئے جائیں، اور کراچی میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن یا کونسل کے بجائے کراچی میٹروپولیٹن گورنمنٹ اور حیدرآباد میں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے نام سے ادارے بنائے جائیں۔
 پیپلز پارٹی ابھی تک ان مطالبات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کا یہ کہنا ہے کہ ملیر، لیاری، کراچی ڈولپمنٹ اتھارٹیز، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ صوبائی حکومت کے ماتحت ہیں۔اور زمین لیزکرنے کے اختیارات میونسپل کارپوریشن کو نہیں دیئے جا سکتے۔
 مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں جس سے اور بے چینی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی کہ بالآخر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان کونسے معاہدے ہو رہے ہیں۔جن کو نہ پیپلز پارٹی نہ ہی ایم کیو ایم عام کر رہی ہے۔
 حکومت سندھ ترامیم کے ساتھ 1979 کے بلدیاتی نظام اسمبلی سے منظور کرچکی ہے اور قانونی طور پر یہی نظام نافذ ہے۔ لیکن اس قانون کے برعکس کراچی اور حیدرآباد میں انتظام ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے چلایا جا رہاہے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مشرف دور میں کراچی اور حیدرآباد کے ناظموں نے کبھی بھی خود کو سندھ حکومت کے ماتحت نہیں سمجھا۔کبھی بھی صوبائی حکومت کے احکامات کو نہیں مانا۔
 اگر اسمبلی بل منظور کر چکی ہے اور گورنر سندھ اس پر دستخط کر چکے ہیں تو 1979 کا بلدیاتی نظام بحال ہے کی۔ اور اس پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جاتا۔ سنجیدہ حلقے اس کو اکثریت کے فیصلے پر اقلیت کا فیصلہ مسلط کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ اچھی بات ہے کہ بلدیاتی ادارے لوگوں کی خدمت اور بنیادی شہری سہولیات کے لیے کام کریں مگربلدیاتی اداروں کو گورنمنٹ قرار دیا گیا تو ایک نیا تکرار جنم لے گا۔ 
 صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو عندیہ دے چکے ہیں اور وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس میں ہونے والے اجلاسوں سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی نیا نظام لیا جا رہا ہے۔ جو کہ 1979 کے نظام سے مختلف ہوگا۔
 اگر پیپلز پارٹی نے سندھ کے لوگوں کے مینڈیٹ کے خلاف ہوا تو لوگ قبول نہیں کرینگے۔ اور ایسا فیصلہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے بلدیاتی نظام کے بارے میں جو فیصلہ ہو عوام کو آگاہ آگاہ کیا جائے۔