Showing posts with label PMLN-Sindh. Show all posts
Showing posts with label PMLN-Sindh. Show all posts

Tuesday, 10 March 2020

نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم اور سندھ -Jun 6, 2013

Thu, Jun 6, 2013 at 2:06 PM
نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم اور سندھ
میرے دل میرے مسافر
سہیل سانگی 
نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم ہوگئے ہیں۔میاں صاحب یہ تیسری باری پیپلزپارٹی کی حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد ملی ہے۔ پہلے دو اقتدار کے دور سندھ اور نواز شریف دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تلخ تجربہ رہا۔ سندھ میں وفاق نے ڈنڈے کے زور پر  جام صادق علی کی اقلیتی حکومت بنائی۔ شہری علاقوں میں ایم کیو ایم  کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ دیہی علاقوں میں ڈاکوؤں کے نام پر آپریشن کیا گیا۔  پانی کا معاہدہ بھی نواز حکومت کے پہلے دور کی پیداور ہے جس پر سندھ کو شکایت رہی کہ پنجاب اپنے ہی بنائے ہوئے معاہدے پر عمل نہیں کر رہا ہے۔ ماضی میں سندھ کے حوالے سے نواز شریف پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ متنازع کالاباغ ڈیم بنانا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ سندھ کے دو بڑے ترقیاتی منصوبے تھر کول اور کیٹی بندر ڈیپ سی پورٹ کو نواز شریف نے منسوخ کیا تھا۔
اس مرتبہ اگرچہ انہوں نے سندھ کی طرف بظاہر اپنا جھکاؤ رکھا۔ سندھ میں اپنی تنظیم سازی کے بجائے اتحادیوں پر بھروسہ کرنے کی کوشش کی۔ نتیجہ صاف ظاہر تھا۔ نہ اس کے اتحادی نشستیں حاصل کر سکے او نہ خود نوز لیگ۔ لیاقت جتوئی، ممتاز بھٹو، اسماعیل راہو،  غوث علی شاہ اپنی روایتی نشستیں ہار گئے۔ بلکہ راحیلہ مگسی بھی ہار گئیں۔ سوال یہ ہے کہ اب جب  پنجاب اور وفاق میں  نواز لیگ کی حکومت قائم ہو چکی ہے تو کیا اب وہ سندھ پر توجہ دیں گے؟ سندھ  میں ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ نواز شریف کو  اس صوبے میں پراکسی سیاست کرنے کے بجائے براہ راست سیاست کرنی چاہئے۔اور سندھ میں تبدیلی تب ممکن ہے جب نواز شریف سندھ میں خود کو اسٹیک ہولڈر بنائیگا۔ یہ بات اس وجہ سے بھی کہی جارہی ہے کہ اگر مسقتل بنیادوں پر اور ملکی سطح کی سیاست کرنی ہے تو  نواز لیگ کو  اپنی پہچان پنجاب کی پارٹی سے تبدیل کر کے ملک گیر پارٹی کی شکل دینی ہوگی۔ جب نواز لیگ ایسا کرے گی تو ملک کی دوسری پارٹیاں بھی اس نقش قدم پر چل سکتی ہیں۔
 نواز لیگ کے ساتھ سندھ سمیت ملک کی چھوٹی پارٹیوں  اقتداری اتحاد  قائم ہو چکا ہے۔ آزاد امیدواروں نے بھی اپنی پناہ گاہ نواز لیگ کیپم میں قائم کرلی ہے۔ جس سے اس جماعت کی پوزیشن مضبوط ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ 
نواز شریف انتخابات سے پہلے سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ اور ان کو مختلف قسم کی یقین دہانیاں کرا رہے تھے، اب ایم کیو ایم کی طرف  اتحاد کے لیے بڑھ رہی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے بھی وزیراعظم کے انتخاب میں نواز شریف کو ووٹ دے دیا۔ متحدہ دہری پالیسی چلنا چاہ رہی ہے۔ وہ صوبے میں اپنا  حصہ زبردستی  لینا چاہتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مرکز میں بھی اقتدار سے باہر رہنا نہیں چاہتی۔ متحدہ کو سندھ حکومت میں شمولیت کے بجائے گورنری اور پورٹ شپنگ اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت میں زیادہ دلچسپی ہے۔ 

گزشتہ پانچ سال تک پیپلز پارٹی کی  سیاسی مصالحت کی  پالیسیوں کی وجہ سے سندھ میں سیاسی  بحران کی صورتحال رہی۔ اس کا رخ دہرے بلدیاتی نظام کی مخاالفت کی وجہ سے  ایم کیو ایم  کے خلاف رہا۔ خود نواز لیگ بھی اس پوری تحریک کی حمایت کرتی رہی جو سندھ میں قوم پرست اور فنکشنل لیگ چلا رہے تھے۔ نواز شریف اگر اقتدار میں آنے کے بعد اپنے پرانے اتحادیوں کو بھول جاتے ہیں  تو یہ ایک اور سیاسی غلطی ہوگی۔ صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ 
میان صاحب کو  ایم کیو ایم  کے ساتھ تعلقات، بلدیاتی نظام وغیرہ کے بارے میں واضح موقف رکھنا پڑے گا  جو انہوں نے سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ مختلف اجلاسوں میں کیا۔ پریس کانفرنسوں اور عام جلسوں میں سندھ کے عام آدمی کے خدشات کو دور رکنے کے لیے یقین دہانی کے طور پر کیا۔ 
اس وقت بھاری منڈیٹ کے ساتھ مسلم لیگ نوں وفاقی حکومت میں آئی ہے۔ اس کو سندھ کے بنیادی اشوز کو حل کا حل تلاش کرنا پڑے گا۔ سیاسی کارکنوں کی گمشدگی صرف  بلوچستان کا مسئلہ نہیں۔ سندھ میں بھی درجنوں کارکن  پراسرار طور پر گم ہوتے رہے ہیں اور بعد میں ان کی لاشیں ملی ہیں۔ یہ سندھ کا نارض نوجوان ہے جو ملک میں موجود  نظام میں اپنے لیے یا اپنے صوبے کے لیے جگہ نہیں دیکھ رہا ہے۔ اس پر بھی سیاسی معنوں میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔  سندھ کا ناراض نسل بھی میاں صاحب کا ایجنڈا ہونا چاہئے۔ 

 سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے صدر سید جلال محمود شاہ  نے نواز شریف کو  چھ نکات یاد دلائے ہیں۔ سندھ یونائٹیڈ پارٹی سندھ کی واحد جماعت ہے جس نے  نواز لیگ کے ساتھ باقائدہ تحریری معاہدہ کیا تھا۔  اگرچہ اس معاہدے پر سندھ کے مختلٖ حلقوں نے سخت تنقید کی تھی کہ اس میں پنجاب سے ٹھوس شکل میں یقین دہانی لینی چاہئے تھے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کو سیاسی اور اخلاقی طور پر کمزورکرنے میں قوم پرستوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔بعد میں  یہ پوری تحریک فنکشنل لیگ کی گود میں چلی گئی۔ اانتخابات کے بعد صورتحال یہ ہے کہ فنکشنل لیگ نے تو  وفاق میں ایک ادھ وزارت پکی کرلی ہے۔ سید جلال محمود شاہ  اور دوسرے قوم پرست بیچ چوراہے پر رہ گئے ہیں۔ سندھ کے قوم پرستوں کا کیا ہوگا؟ جلال شاہ نے اب جلسوں میں یہ بات کہنا شروع کردی ہے۔ نواز شریف کی ایک اور اتحادی جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔ 
 معاملہ صرف سندھ کے سیاسی حلقوں یا قوم پرستوں کو  اکموڈیٹ کرنے کا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ  وہ اشوز جن پر وقتا بوقت سندھ میں احتجاج ہوتے رہے ہیں تحریکیں چلتی رہی ہیں ان پر  نواز شریف کیا موقف اختیار کرتے ہیں اور کیا عمل کرتے ہیں۔
۱۔ دریائے سندھ کی پانی کی تقسیم کا معاملہ بنیادی نوعیت کا رہا ہے۔ 1991پانی کا معاہدہ میاں صاحب کے دور حکومت میں ہوا تھا۔ سندھ کو شکایت رہی کہ پنجاب اپنی پسند کے اس معاہدے پر بھی عمل درآمد کے لیے تیار نہیں۔ اس مرتبہ اس معاہدے پر عمل درآمد میاں صاحب کی ترجیح بننا چاہئے۔  
تمام حکومتیں صوبوں کی مرضی کے بنا کوئی کینال یا ڈیم نہ تعمیر کرنے کی یقین دہانیاں کراتی رہیں۔ مگر اس کے باوجود تھل کینال تعمیر ہوگیا۔ جبکہ کہ کچھ اور کینالوں کی تعمیر بھی حکومت کے ایجنڈے پر ہیں۔ 
۲۔سندھ کے معدنی و قدرتی وسائل پر حق ملکیت کا معاملہ سندھ کے لوگوں کی جدوجہد کا مرکزی نقطہ رہاہے۔ سندھ کے ساحل پر موجود دو جزائر کی فروخت کا معاملہ پیپلزپارٹی کی گزشتہ دور حکومت میں اٹھا تھا۔ اس پر بھی نوز لیگ کو سوچ سمجھ کر موقف اختیارکرنے کی ضرورت ہے۔
۴۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد بہت سارے محکمے صوبوں کو منتقل ہوگئے ہیں۔ لیکن ان محکموں کے وسائل اور اثاثے صوبوں کو منتقل نہیں ہو سکے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں ایسا کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ پنجاب کی جانب سے اس منتقلی کی مزاحمت کی گئی تھی۔نواز شریف حکومت کے لیے یہ چلینج ہوگا کہ  وہ صوبوں اور پنجاب کے درمیاں جو خیلج موجود ہے اور کو ختم کرنے کے لیے کیا سنجیدہ کوششیں کرتے ہیں اور کس حد تک کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اگر ان کے دور حکومت میں یہ خلیج اور بڑھتی ہے تو مجموعی طور پر یہ نقصان کا سودا ہوگا۔

نواز شریف سندھ میں اسٹیک ہولڈر نہیں ہوئے Feb 7, 2013

Thu, Feb 7, 2013 at 11:56 AM
 ۷ فروری ۳۱۰۲
 نواز شریف سندھ میں اسٹیک ہولڈر نہیں ہوئے   

 میرے دل میرے مسافر۔۔۔  سہیل سانگی 
 اسلام آبادمیں اقتدار حاصل کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی جماعت کی قومی جماعت کے طور پر پہچان ضروری ہے۔یعنی  چاروں صوبوں میں حمایت ہی نہیں بلکہ پارٹی کی موثر تنظیم  اورایون میں پارٹی ٹکٹ پر منتخب اراکین از حد ضروری ہیں۔ گذشتہ انتخابات میں میاں نواز شریف کو وفاق میں حکومت بنانے کا کوئی آسرا نہیں تھا تو انہوں نے سندھ سے کوئی ایک بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔اور اسی طرح انہوں بلوچستان میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ اس مرتبہ وہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ بلوچستان میں سردار مینگل  سے غیررسمی اتحاد قائم کیا۔ جبکہ سندھ میں پارٹی کی تنظیم سازی  کے لیے کوشش ادھوری چھوڑ کر وہاں بھی اتحادی تلاش کر لیے ہیں۔ گزشتہ دو سال سے وہ گاہے بہ گاہے سندھ آتے رہے  اور اس کوشش میں رہے کہ کسی ہیوی ویٹ کو پارٹی میں شمولیت کے لئے قائل کر سکیں۔
ممتاز بھٹو اور مس ماروی میمن کے بعد اب تک سندھ میں پیپلز پارٹی سے ابھی تک تین شخصیات ظفر علی شاہ، نبیل گبول اور اسلم ابڑو نے نواز لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی جو اب پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی اور عوامی تحریک سے انکااتحاد ہوا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی وفاق میں پیپلز پارٹی کے متبادل ہونے کی پوزیشن کی وجہ سے قادر مگسی اور رسول بخش پلیجو سیاسی حکمت عملی کے طور پر نواز شریف کے اتحادی رہے ہیں۔ان دوجماعتوں سے نواز شریف کو کسی حد تک سندھ میں سیاسی طور پر تقویت مل سکتی ہے۔

 مشرف دور میں سیاسی منظر پر آنے والی ساحلی ضلع ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والی ماروی میمن  واحد سیاستدان تھی جنہوں نے سب سے پہلے نواز لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ ماروی نے مسلم لیگ (ق) کو الوداع کہنے کے بعد کچھ عرصہ عمران خان کی پیشکش پر غور کرتی رہی۔بالآخرانہوں نے رائیونڈ پہنچ کر نواز لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ماروی میمن کا اپنا کوئی بھی ووٹ بنک یا حلقہ انتخاب نہیں۔کیونکہان کا آبائی ضلع ٹھٹہ پیپلز پارٹی یا پھر شیرازیوں کے زیر اثر ہے۔ اس وقت تک انکا کنٹری بیوشن یہ ہے کہ وہ سندھ کے مختلف اشوز پر جلسے جلوس اور احتجاج رتی رہی ہیں۔ خصوصی نشست کی طلبگار ماروی سندھ میں نواز لیگ کی سیاسی مہم چلانے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔

 گھوٹکی اور شکارپور کے مہر برادران یعنی مشرف دور کے وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر اور موجودہ  وفاقی وزیر غوث بخش مہر کوبھی راضی کرکے پارٹی میں لانے کی کوششیں تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔ غوث بخش مہر مسلم لیگ (ق) کے کوٹے پر وفاقی وزیر تھے۔ جنہوں نے حال ہی میں مسلم لیگ فنکشنل میں شمولیت اختیار کر لی۔
جب کچھ اور صورتحال تبدیل ہوئی توسابق وزیر اعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا۔لیاقت جتوئی ماضی میں نواز شریف کی پارٹی میں رہے ہیں اور وزیر اعلیٰ بھی رہے۔ بعد میں انہیں ہٹا گورنر راج نافذکردیا گیا اور غوث علی شاہ کو مشیر اعلیٰ بنایا گیا۔ لیاقت جتوئی مشرف دور میں وفاقی وزیر پانی و بجلی بھی رہے۔ایک عرصے تک قوم پرستی کے لبادے میں سیاست کرنے والے لیاقت جتوئی پیپلز پارٹی کے بغیر جو بھی سندھ میں سیٹ اپ بنا اسکا حصہ رہے ہیں۔

 نوز شریف نے سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہ ممتاز بھٹو کو پارٹی میں لے آئے۔ ممتاز بھٹونے ضیا دور میں پیپلز پارٹی سے علحدگی اختیار کی تھی۔اور اس کے بعدوہ پیپلز پارٹی کے کٹر مخالف رہے ہیں۔ نواز شریف کو ممتاز بھٹو سے بڑی توقعات وابستہ تھیں کہ پیپلز پارٹی شہید بھٹو سمیت سندھ کی بعض قوم پرست جماعتوں کو نواز لیگ کا اتحادی بنانے میں معاون ثابت ہونگے۔ مگر ممتاز بھٹویہ کام نہیں کر پائے۔ 
آگے چل کر  نواز شریف نے جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ کی پارٹی سندھ یونائٹیڈ پارٹی سے اتحاد کیا اور ایک اعلان نامے پر بھی دستخط کئے۔ 

نواز لیگ کے لیے سندھ میں سیاسی طور پروجود رکھنا محنت طلب کام ہے۔ سندھ کے لوگ اپنے مسائل اور مصائب کے لیے پنجاب کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اور مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کی پارٹی سمجھتے ہیں۔ اور نوز شریف ان پر کوئی واضح موقف اختیار نہیں کر سکتے۔  

پیپلز پارٹی نے جب بلدیاتی نظام کا متنازع قانون لاگو کیا تو نواز شریف کو موقع ملا کہ وہ سندھ کے لوگوں کا ساتھ دیں۔ اور اس تاثر کو کم کرنے کی کوشش کریں کہ سندھیوں کا مخالف پنجاب نہیں بلکہ ایم کیو ایم ہے۔ 

نواز شریف کے لیے سندھ میں گنجائش موجود تھی کہ وہ سندھ میں اپنی پارٹی بناتے۔ اور سندھ اور پنجاب کے اس پرانے اتحاد کو زندہ کرتے۔اس مقصد کے لیے انہیں اپنی پالیسیوں اور حکمت عملی میں تبدیلی لانی پڑتی۔ اگر وہ اپنی پالیسی میں کوئی بڑی شفٹ لے آتے ہے توسندھ کے دروازے کھل سکتے تھے۔ان کے سمانے دو سوال تھے۔ پہلا یہ کہ وہ پارٹی کو مستقل بنیادوں پر خود کوسندھ کی سیاست میں رکھنا چاہتے ہیں یا سیاسی شارٹ کٹ کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں؟اگر پہلا راستہ اختیار کرتے  توتنظیم سازی کرتے اورعام لوگوں سے رجوع کرتے۔ دوسرا یہ کہ بااثر وڈیرے جو منتخب ہو سکتے ہیں ان سے رجوع کریں۔اور چند کچھ نسشتیں حاصل کریں۔ نواز شریف نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ وہ پی پی مخالف وڈیروں کو جمع کر رہے ہیں۔اس سے نواز شریف اور ان وڈیرہ خاندانوں کو تو فائدہ مل سکتا ہے مگر سندھ کی سیاست میں کوئی نیاپن نہیں آئے گا۔مگر انہوں نے سندھ میں براہ راست اسٹیک ہولڈر بننے کے بجائے اتحادی اور حامی ڈھونڈنے کو ترجیح دی۔نواز لیگ سمجھتی ہے کہ اس کا گڑھ پنجاب ہے اور دوسرے صوبوں سے اسے صرف مدد چاہئے۔ان صوبوں کو برائے نام کچھ دینے سے کام چل جائے گا۔
سندھ میں مسلم لیگ (ن) کی تنظیمی صورتحال غیر اطمینان بخش رہی ہے۔میاں صاحب نے شروع سے ہی پارٹی کی تنظیم کاری کے بجائے ایسے لوگوں پر تکیہ کیا جو تھوڑا بہت ووٹ بنک رکھتے ہیں۔ اور انتخابات جیت اسمبلی  میں آکر ان کی حمایت کر سکتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اس صوبے میں نہ پارٹی بنائی اور نہ ہی اپنا کوئی ووٹ بنک۔ انہوں نے  ایسے بنے بنائے لوگوں پر تکیہ کیا جو اپنا حلقہ انتخاب رکھتے تھے۔یوں موقع پرست لوگ ہی ان کے گرد جمع ہوتے رہے۔ اور حکومت جانے کے بعد ان سے علحدہ ہوتے رہے۔

 یہ بھی المیہ رہا کہ جب شہباز شریف پارٹی کے سربراہ بنے تو انہوں نے پرانے لوگوں کے بجائے سردار رحیم جیسے لوگ آگے لے آئے۔ جس کی وجہ سے اختلافات بھی بڑھے اور پرانے لوگوں کی حوصلہ شکنی بھی ہوئی۔ یوں سندھ میں تنظیمی طور پر پارٹی ختم ہو کر رہ گئی۔ اضلاع تو دور کی بات ہیں ابھی تک پارٹی کی صوبائی سطح پر بھی تنظیم سازی مکمل نہیں ہے۔ممتاز بھٹو، ماروی میمن  اور لیاقت  جتوئی کی شمولیت کے بعدپارٹی کی تنظیم سازی کے لیے  ہاف ہرٹیڈلی کوشش کی  گئی مگر اس میں پہلی ترجیح الیکٹ ایبل کو پارٹی میں شمولیت کرانا تھا۔
پیر پاگارا کی فنکشنل مسلم لیگ کی حکمراں اتحاد سے علحدگی کے سندھ میں نواز شریف کے لیے سندھ میں اور گنجائش کم ہو گئی۔ پہلے مسلم لیگ ّق) ان کی راہ  میں رکاوٹ بن رہی تھی، کیونکہ الیکٹ ایبل جو پیپلز پارٹی میں کسی وجہ سے شمولیت اختیار نہیں کر پا رہے تھے وہ  قاف لیگ میں  پناہ لے رہے تھے۔ اب وہی لوگ فنکشنل میں شامل ہورہے ہیں۔دریں اثناء سندھ کے قوم پرست بھی پیر پاگارا کی چھتری میں اتحاد قائم کر چکے ہیں۔
 اب صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) تنظیمی حوالے سے جہاں پہلے تھی وہیں کھڑی ہے۔ قوم پرستوں سے اتحاد بھی  پیر پاگارا کی معرفت ہو گیا ہے۔ یعنی نواز شریف کا اتحاد پیر پاگارا سے اور پاگارا کا اتحاد قوم پرستوں سے ہے۔ تجزیہ نگار وں کا خیال ہے کہ اس طرح سندھ ایک بار پھر نواز شریف کی نچلی ترجیح میں چلا گیا ہے۔ اور سندھ  دو  معرفتوں کے بعد نواز شریف تک پہنچ پائے گا۔اس صورتحال کو سیاسی حلقے اچھا شگون  نہیں قرار دے رہے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کو براہ راست پیپلز پارٹی کے متبادل کے طور پر سندھ میں آنا چاہئے تھا،  یہ ٹاسخ مشکل ضرور تھا مگر ناممکن نہیں تھا۔اس سے سندھ میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ نواز شریف  صرف اقتدار حاصؒ کرنے کے لیے سندھ آئے ہیں، ان کی ترجیح سندھ نہیں پنجاب ہی ہے۔

Thursday, 5 March 2020

ممتاز بھٹو کی نواز لیگ میں شمولیت 2012-5-14

Mon, May 14, 2012 at 1:12 PM
ممتاز بھٹو کی نواز لیگ میں شمولیت 
میرے دل میرے مسافر   کالم  ۔۔ سہیل سانگی 
ممتاز بھٹو کا فیصلہ ملکی یا سندھ صوبہ سندھ کوئی نیاپن لے آئے گا۔ممتاز بھٹو بہت انا پرست اور تیز طبع کے مالک قوم پرست سیاستدان ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مخالفت ان کا اہم نکتہ ہے۔نواز لیگ اور پیپلز پارٹی  کے درمیان کچھ سیاسی اختلافات  یقیننا ہیں پر نواز لیگ کی پیپلز پارٹی کے ساتھ جو جنگ چل رہی ہے وہ ذاتی زیادہ ہے۔نواز شریف جب یہ کہتے ہیں کہ  پیپلز پارٹی نے پندرہ سال حکومت کی تو وہ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ انکو حکومت کرنے کا کم موقعہ کیوں دیا جا رہا ہے۔ میاں شہباز شریف نے جو زبان صدر آصف زرداری کے خلاف استعمال کی وہ بھی ابھی تک لوگوں کو یاد ہے۔ 
پیپلز پارٹی کی مخالفت وہ نکتہ ہے جس نے ممتاز علی بھٹو اور نواز لیگ کو ایک دوسرے کے قریب لا کر کھڑا کیا ہے۔اب ممتاز بھٹو کی مدد سے نواز شریف پیپلز پارٹی کے رہنماؤں خاص طور پر آصف علی زرداری کو کونے میں کھڑا کرنے کے لیے  میدان میں لایا گیا ہے۔ پنجاب میں نواز لیگ اکیلی ہی پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ نواز لیگ کو وہ شخص زیادہ اچھا لگے گا جو پیپلز پارٹی کے اندر یا باہر رہ کر پیپلز پارٹی پر کم مگر آصف علی زرداری پر زیادہ تنقید کرے گا۔ اگر کسی نے آصف علی زرداری سے وفاداری بنھانے کی کوشش کی تو وہ  وہ اس سے بڑھ کر کوئی دشمن نہیں ہوگا۔ گیلانی صدر زرداری کے وفادار ہیں تو وہ نواز لیگ کے دشمن نمبر ون بن گئے ہیں۔ ممتاز علی بھٹو صدر زرداری کے دشمن ہیں تو وہ نواز لیگ کا حصہ بن گئے ہیں۔
 نواز شریف کئی دفعہ یہ کوشش کر چکے ہیں کہ وہ صدر زرداری کی وفاداری سے باہر نکلیں مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ اب بھی نواز شریف جب بات کرتے ہیں تو  ان کی تنقید کا نشانہ پیپلز پارٹی نہیں بلکہ آصف زردار ی ہی ہوتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کی ہمدردی کا ووٹ تو انہیں ملنا چاپئے۔ وہ گزشتہ سال بینظیر کی مزار پر بھی گئے۔وہ لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ وہ پیپلز پارٹی نہیں ہے جو بھٹو کی تھی یا بینظیر کی تھی۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ نواز شریف سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں سے پیپلز پارٹی یا بھٹو کی محبت ختم نہیں کی جا سکتی۔
 یوسف رضا گیلانی جب فاروق لغاری نہیں بن سکے تو مسلم لیگ (ن) نے آصف علی زرداری کے ساتھ  انہیں بھی ٹارگیٹ بنایا۔ اور وزیر اعظم ماننے سے انکار کر دیا۔اور سپریم کورٹ کی سزا کو جواز بنا کر وزیراعظم ہٹاؤ کی تحریک شروع کردی گئی ہے۔
 مسلم لیگ (ن) مرکز خواہ صوبوں میں حکومت بنانے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ مگراسکے پاس سوائے پنجاب میں اپنی حکومت نہیں بنا سکتی۔ اس لیے ممتاز بھٹو کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سرگرم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مسلم لیگ (ن) نے انتخابات سے پہلے اقتدار حاصل کرنے کے لیے بہت تیزی سے پتے کھیلنے کی کوشش کی ہے مگر تاحال کوئی ایک بھی پتہ کارگر ثابت نہیں ہوا ہے۔
 سندھ کی سیاست میں داخل نواز شریف کو مشکل لگ رہا تھا تونواز لیگ نے پہلے بلوچستان کی صورتحال کو کیش کرانے کی کوشش کی لیکن بلوچستان بہت زیادہ گرم تھا اور عطاء اللہ مینگل کی جانب سے معذوری ظاہر کرنے کے بعد سندھ کا رخ کیا۔ وہی سندھ جہاں گذشتہ انتخابات میں ایک بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔ جیسے سندھ اس کا حلقہ انتخاب ہی نہ رہا۔
 نواز شریف نے سندھ کی تین اور قوم پرست جماعتوں یعنی قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی، رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک اور جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارٹی سے بھی رابطے کئے تھے۔مگر ممتاز بھٹو ان تینوں پارٹیوں سے سبقت لے گئے۔ممتاز بھٹو کی شمولیت کے بعد باقی قوم پرست پارٹیوں اور لیاقت جتوئی جیسے لوگوں کے لیے نواز لیگ میں کشش کم ہوگئی ہے۔کیونکہ ممتاز بھٹو کے ہوتے ہوئے ان کی بارگیننگ پوزیشن کمزور رہے گی۔ اور اگر سندھ کارڈ کے حوالے سے کچھ ملا تھا تو پہلے ممتاز بھٹو کو ہی ملے گا۔
 یوں یہ قوم پرست جونئر در جونئر شراکت دار ہو جائیں گے۔
 بشیر خان قریشی کے انتقال کے بعد اور ایم کیو ایم کی طرف پیپلز پارٹی مفاہمانہ رویے کی وجہ سے قوم پرست تیسری پارٹی یا فریق سمجھی جا رہے تھے مگرممتاز بھٹو کی نواز لیگ میں شمولیت کی وجہ سے مجموعی طور پر  قوم پرستوں کی ساکھ کو دھچکا پہنچے گا۔
ممتاز بھٹو اور نواز شریف کو ایک ساتھ کام کرنے کا اس سے پہلے بھی تجربہ ہے۔ 1996ع میں جب صدر فاروق لغاری نے اپنی ہی پارٹی سے بے وفائی کرکے بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کی تھی تو اسٹیبلشمنٹ کی انتخاب نظر ممتاز بھٹوپر پڑی اور انہیں سندھ کا نگراں وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا۔اسٹیبلشمنٹ کا منصوبہ انتخابات کے نتائج میں ہیراپھیری کرنا تھا تاکہ پیپلز پارٹی کو حکومت میں نہ آنے دیا جائے۔
اس منصوبے پر بڑی کامیابی کے ساتھ کام کیا گیا اور نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔اس وقت بھی ممتاز بھٹو کی پارٹی سندھ بھر میں صرف ایک صوبائی اسمبلی کی نشست حاصل کر پائی تھی اور وہ تھی ان کی آبائی گاؤں کی نشست جہاں سے انکے فرزند امیر بخش بھٹو منتخب ہوئے تھے۔ لیکن ان کی جیت سا سو ووٹ سے ہی ہوئی تھی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ممتاز بھٹو کی نواز لیگ میں شمولیت سے خاصا فرق پڑے گا۔نواز لیگ کو تو اس سے کام کرنے میں کچھ سہولت حاصل ہو جائے گی۔بعض مبصرین اس فیصلے کو ممتاز بھٹو یا وہ جس طرح کی سیاست کر رہے تھے اس کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔
کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے سندھ کی مجموعی سیاسی سوچ میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے کہ ایک ایسا سیاستداں جس کی بنیاد پنجاب پر ہو اس کے ساتھ مل کر قوم پرست سیاست کی جا سکتی ہے۔
 یہ تمام عرصہ ممتاز بھٹو نے کبھی ایک موقعہ بھی پیپلز پارٹی کی مخالفت کے بغیر نہیں گزارا۔ انہوں نے چند روز پہلے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ چھوٹی قومیتیں پنجاب کے کے تسلط میں ہیں مظالم کا شکار ہیں، یہ تسلط ختم کئے بغیر ان کو حقوق نہیں مل سکتے۔
ایک ایسی پارٹی میں شمولیت کرنا جس کی طاقت کا سرچشمہ پنجاب ہو کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
 جس کے جواب میں وہ یہی کہیں گے کہ نواز شریف نے انہیں سندھ کے حقوق کے لیے یقین دہانیاں کرائی ہیں۔
ماروی میمن اور لیاقت جتوئی کی شمولیت کو سیاسی حلقے زیادہ اہمیت نہیں دے رہے تھے۔ اب ممتاز بھٹو کی شمولیت کو پیپلز پارٹی کے گڑھ سندھ میں بریک تھرو قرار دیا جا رہا ہے۔ممتاز بھٹو دوسرے وڈیروں سے اتحاد بنانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں وہ پیپلز پارٹی کے مخالفین کو ایک جگہ پر کٹھا کر سکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی سے باہر سندھ کے وڈیرے ابھی تک گومگو میں ہیں کہ کیا اسٹیبلشمنٹ کا نواز شریف سے معاملات بن گئے ہیں؟ بظاہر ایسا نہیں لگتا۔ اگر ایسا ہے بھی تو اب اسی یا نوے کی دہائی نہیں ہے کہ کھل کر اسٹیبلشمنٹ ایسا کر پائے۔ 
سندھ میں فنکشنل لیگ اور مسلم لیگ (ق) کی انتخابی سطح پر موجودگی  ایسے لوگوں کے پناہ گاہ بنی ہوئی ہے جو کسی وجہ سے پیپلز پارٹی میں شمولیت نہیں کر سکتے، مگر اقتدار کے مزے لوٹ سکتے ہیں کیونکہ ان کی جماعت مرکز میں پیپلز پارٹی کی اتحادی ہے۔ایسے میں وہ کیوں نواز لیگ میں شریک ہوں یا ممتاز بھٹو جیسے انا پرست سیاستدان کے ماتحت ہو کر کام کریں۔
اسٹیبلشمنٹ کی اگر خواہش ہے کہ دیہی سندھ میں پی پی مخالف متبادل بنایا جائے۔مگر یہ بیل مونڈے چڑھتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ کیانکہ آگے بھی آصف علی زرداری ہیں۔جو مفاہمت کے نام پر اپنے ساتھ  فنکشنل لیگ اور مسلم لیگ (ق) کو بھی جوڑے ہوئے ہیں جو فلٹر کا کام کر رہے ہیں۔ جو انکی پارٹی میں نہیں آسکتے تو ان میں سے کسی پارٹی میں شامل ہو کر اقتدار میں بیٹھ سکتے ہیں۔لاڑکانہ کے سردار چانڈیو،  غلام حسین انڑ، مرتضیٰ جتوئی، خانگڑھ کے مہر، ٹھٹہ کے شیرازی جو انفرادی طور پر نشستیں جیت سکتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ اگر آصف زرداری ان کے پاس چل کر آئے تو وہ  پیپلز پارٹی میں شمولیت سے انکار کرسکیں۔

سندھ، پیپلز پارٹی اور نواز شریف 2012-4-26

Thu, Apr 26, 2012 at 10:55 AM
سندھ، پیپلز پارٹی اور نواز شریف  
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔۔۔ سہیل سانگی 
ملک میں سیاسی سرگرمیاں اب انتخابی سرگرمیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ ہوائی جہازٹیک آف  کے وقت اڑنے کی پوزیشن لیتا ہے اور جہاز کا کپتان باضابطہ ایسا اعلان بھی کرتا ہے اور عملے کو خبردار کرتا ہے اسی طرح سیاسی پارٹیاں بھی ٹیک آف کی پوزیشن لے رہی ہیں۔ملک کے دو بڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ جس کے گرد باقی سیاسی جماعتیں جمع ہوتی ہیں ان جماعتوں نے آئندہ انتخابات کے مدنظر اپنے اپنے حلقوں خواہ ایک دوسرے کے حلقوں تک پہنچنے کیکوششیں شروع کردی ہیں۔ انہیں دوجماعتوں کو کامیاب کرانے یا ہارنے کے لیے کوششیں ہوتی ہیں اور حکمت عملیاں بنائی جاتی ہیں۔ 
پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین صدر آصف علی زرداری لاہور میں پارٹی کارکنوں سے اجلاس کرنے کے بعد ملتاں اور دیگر پنجاب کے بعض شہروں کا دورہ کر چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا زور سرائیکی بیلٹ پر ہے جبکہ نواز لیگ  اپنی سیاست پیپلز پارٹی کے روایتی گڑھ سندھ میں اتار رہی ہے۔
 سندھ پیپلز پارٹی اور نواز شریف  کی سیاست کو بڑی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے تاہم پیپلز پارٹی کی طرف سندھ کے لوگوں کا رویہ دو رخی ہے۔پیپلز پارٹی سے ان کو ناراضگی بھی ہے تو  لگاؤ بھی ہے۔1970ع کے انتخابات میں پیپلز پارٹی  پنجاب کی پارٹی کے طور پر ابھری۔ کیونکہ  یہاں اس جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل تھی۔لہٰذا اس پارٹی نے آئین سازی کے وقت پنجاب کے مفادات کو بھرپور خیال رکھا۔
1979ع  میں بھٹو کی پھانسی کے بعد صورتحال کچھ تبدیل ہوئی۔پیپلز پارٹی  کو جدیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو اس نے سندھ کارڈ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔نتیجے میں وسطی پنجاب اس کے ہاتھوں سے نکل گیا۔جنرل ضیا نے سیاست میں کچھ نئے کھلاڑی پرانے سیاست کے ساتھ متعارف کرائے۔ 
مذہبی جماعتوں مسلم لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے پیپلز پارٹی کوسینٹرل پنجاب سے نکال کے باہر کیا۔وہاں  1988 کے بعد وجود میں آنے والی مسلم لیگ  نواز نے قوم پرستی بنیاد پر پنجاب کے وسطی اور پوٹوہار کے علاقوں میں اپنا گڑھ بنا لیا۔پیپلز پارٹی کو سندھ تک محدود کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے میں ضیا دور کے بعد پنجاب میں خالصتا پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں بن سکی ہے۔ پیپلز پارٹی صرف سندھ اور سرائیکی بیلٹ تک محدود ہو گئی۔ پیپلز پارٹی پنجاب کی پارٹی سے غیر پنجابی پارٹی بن گئی۔ یہ سفر بہت  دلچسپ بھی ہے اور سبق آموز بھی۔ اس کو 
سمجھے بغیر ملک کی سیاسی صف بندی کوصحیح معنوں میں سمجھا نہیں جا سکتا۔

جب پیپلز پارٹی  سندھ  کی پارٹی بن گئی تو نواز لیگ نے قوم پرستی کے نعرے جاگ پنجابی جاگ تیری پگڑی نوں لگ گیا داغ سے سیاست کا آغاز کیا۔ پارٹی کو ملک گیر  ہونے کا تاثر دینے کے لیے سندھ اور بلوچستان میں سرداروں وڈیرون کو لالچیں دیکر اپنے ساتھ ملایا۔اور مرکز کے ساتھ ساتھ جوڑ توڑ کرکے سندھ اور خیبر پختونخو ا میں بھی حکومتیں بنائیں۔ بلوچستان میں بھی کبھی اپنی تو کبھی مخلوط حکومت بنانے کے جتن کئے۔ 
نواز لیگ کی پالیسیوں کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ملک گیر پارٹی ک کے دعوؤں اور کوششوں کے باوجود نواز شریف نے مختلف مواقع پر پنجاب کی قوم پرستی کا  زبردست دفاع کیا۔پانی کا مسئلہ ہو یا این ایف سی ایوارڈ یا انتطامی یا سیاسی، نواز لیگ کی سیاست کا محور پنجاب رہا ہے۔ یہاں تک کہ سندھ اور بلوچستان میں رہنے والے آبادکاروں کو بھی اپنانے کی کوشش کی۔ تاہم صرف پنجاب اور پوٹوہار کی نشستوں کی بنیاد پریہ پارٹی ملک گیر پارٹی نہیں بن سکی ہے۔اس لیے اس پارٹی کی مجبوری ہے کہ وہ ملک گیر پارٹی کا دکھاوا دے۔اور اس مقصد ک لیے اسے دوسرے صوبوں سے مدد چاہیئے۔
 اگرچہ پیپلز پارٹی  اور نواز لیگ دونوں کو  اسٹیبلشمنٹ کی آشیرواد حاصل رہی ہے۔ جس کا ثبوت  باری باری  دونوں پارٹیوں کااقتدار میں آنا ہے۔ مگر دونوں پارٹیاں وہی کی ہو کے رہ گئی ہیں جہاں کی ان کی قیادت تھی۔اب نواز لیگ پنجاب کی اور پیپلز  پارٹی سندھ کی پارٹی ہے۔مگر دونوں میں بڑا فرق ہے۔ پیپلز پارٹی غیر پنجابی پارٹی ہونے کے باوجود سندھ کے اشوز  یا مفادات پر واضح نہیں ہے۔سندھ کے لوگ اسکا جھکاؤ پنجاب کی طرف محسوس کرتے ہیں اور اس قسم کی شکایت بھی کرتے ہیں۔اس کے برعکس نواز لیگ پنجاب کے مفادات پر واضح ہے۔اور ان مفادات کو تحفظ بھی کر رہی ہے۔سندھ کے لوگ نوز لیگ کی اس پالیسی میں کسی تبدیلی کی توقع بھی نہیں رکھتے۔اس لیے کئی حلقوں یہ کہا جاتا ہے کہ نواز لیگ کو پنجاب کے مفادات اتنے عزیز ہیں کہ دوسرے صوبوں کو  پانچ فیصد بھی حصہ دینے کو تیار نہیں۔ 
دونوں کا یہ خاصہ ہے کہ دونوں پارٹیاں 1973 کے آئین کو  ہی فیڈریشن کا سماجی معاہدہ سمجھتی ہیں۔اور سندھ اور بلوچستان میں 1940 کی قرارداد سے متعلق جو نئی بحث چلی ہیاس کے بارے میں دونوں کا موقف یکساں ہے
 پنجاب سے بے دخلی کے بعد پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ صرف سندھ کے ووٹوں پر مرکز میں حکومت نہیں بنا سکتی۔جبکہ مسلم لیگ سینٹرل پنجاب کے ووٹوں پر مرکز میں حکومت بنا لیتی ہے۔اس لیے پی پی پی  اب سرائیکی کارڈ کھیل رہی ہے۔پیپلز پارٹی سندھ کے مفادات کا تحفظ کئے بغیر دوسرے علاقوں کی طرف ہاتھ بڑھا رہی ہے۔نواز شریف نے پنجاب کے مفادات کی خاطرچارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت مرکز میں اقتدار کو خیرباد کہا۔اور پیپلز پارٹی حکومت بنانے کے لیے راضی ہو گئی۔
نواز لیگ سمجھتی ہے کہ اس کا گڑھ پنجاب ہے اور دوسرے صوبوں سے اسے صرف مدد چاہئے۔ان صوبوں کو برائے نام کچھ دینے سے کام چل جائے گا۔پیپلز پارٹی مرکز میں حکومت سندھ کی بنیاد پر  پر کرتی ہے جسکو سندھ کے قوم پرست سندھ کی قیمت پر حکومت کرنا قرار دیتے ہیں۔ سندھ کے سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ آج تک جو بھی معاہدے بشمول این ایف سی ایوارڈ، اٹھارویں ترمیم کے ہوئے ہیں وہ سب سندھ کے مفادات کے خلاف ہوئے ہیں۔بعض صورتوں میں پی پی پی 1973 کے آئین سے بھی پیچھے ہٹی ہے مگر نواز لیگ اس آئین کا تحفظ کرتے ہوئے اس آئین میں پنجاب کو حاصل برتری کو برقرار رکھا اور آگے بڑھایا۔
  صدر آصف علی زرداری  سینٹرل پنجاب اور سرائیکی بیلٹ کو حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔سینٹرل پنجاب پی پی پی کو ویسے بھی ہاتھ میں نہیں آئے گا، مگر سرائیکی کو صوبہ بنانے کا آسرا دے کر (جس کی آئین میں گنجائش نہیں) سندھ کی وحدت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔  کیونکہ اس کی وجہ سے سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ جائیگا۔
 پیپلز پارٹی اور نواز شریف دونوں کے پاس سندھ کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔نواز لیگ سرائیکی صوبے کی مخالفت کر رہی ہے لہٰذا اس سے سندھ کی وحدت کو خطرہ نہیں اس کے برعکس پیپلز پارٹی کا ووٹ بنیک سندھ ہونے کے باوجود اس سے سندھ کی وحدت کو خطرہ ہے۔
 نواز لیگ کا طرز حکمرانی بہتر ہے۔ جیسا کہ میڈیا میں بھی خاصا چرچا کیا جا رہا ہے۔اور سندھ میں اس طرز حکمرانی کو بطور ماڈل پیش کیا جارہا ہے۔چونکہ وہ  پنجاب اور وفاق کی مالک ہے لہٰذا سندھ کے سیاستداں کچھ مراعات  لینے کے لیے بے چین ہیں۔پیپلز پارٹی کے ہاتھوں میں نہ پنجاب ہے اور نہ ہی مرکز، وہ ایک مہمان اداکار ہے جب تک  اسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔اس لیے سندھ کی پارلیمانی سیاست کرے والی قوم پرست جماعتیں نواز لیگ سے مذاکرات کر ہی ہیں۔
 سندھ کے عوام پیپلز پارٹی کو اس لیے ووٹ دیتے رہے ہیں کہ وہ اسے مرکز میں نمائندگی دلائے گی دوسرا یہ کہ بہتر حکمرانی قائم کرے گی۔
 سندھ میں پیپلز پارٹی کو جو بھی ووٹ ملتا ہے وہ قوم پرست ووٹ ہے۔ جب پنجاب لاش بھیجتا ہے اور دیگر شکایات کا موقع  پیدا کرتا ہے تو ے ردعمل میں سندھ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتا ہے۔
 یہ صحیح ہے کہ پیپلز پارٹی اس بات پر پریشان ہے کہ نواز لیگ اس کے حلقہ انتخاب میں کود پڑی ہے۔نواز شریف سندھ میں کوئی اچھی پہل نہیں کرسکی ہے۔وہ عوام کے پاس نہیں وڈیروں کے پاس گئی ہے۔ 
میاں نواز شریف کا ساتھ دینے کے لیے تیار ممتاز بھٹو کا کہنا ہے کہ 26 برس تک جدوجہد کی مگر کوئی ریسپانس نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ سندھ  کے لوگوں نے کبھی بھی قومپرستوں کو ریسپانس نہیں دیا ہے ہمیشہ وفاق پرستوں کو ووٹ دیئے ہیں۔لیاقت جتوئی، ماروی میمن اور کچھ دیگر سیاستداں نواز لیگ میں شمولیت کر رہے ہیں۔جبکہ اس کے پاس سندھ کے عوام کے لیے کوئی خاص پیکیج نہیں ہے۔نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگر سندھ کے لوگ انہیں اسی طرح سے ووٹ دیں جس طرح پنجاب نے سندھ ذوالفقار علی بھٹو کو دیئے تھے تو وہ سندھ کے مفادات کا پابند ہو جائے گا۔
 سندھ آج کل عجیب موڑ سے گذر رہا ہے۔ بشیر قریشی کی موت کی تحقیقات سے متعلق خالی بیان سندھ کے لوگوں کے مرہم نہیں رکھ سکا ہے۔سندھ ر بھرپو  ر یڈیکلائیزیشن کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ 
جہاں پارلیمانی سیاست بلوچستان کی طرح پس منظر میں چلے جانے کا خدشہ ہے۔ممکن ہے کہ سندھ اور بلوچستان آئندہ انتخابات میں غیر متعلق بنے رہیں۔ اسکا فائدہ شاید اقتداری سیاست کرنے والوں کو ملے۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اب شاید سندھ میں صرف پیپلز پارٹی ہی واحد فیکٹر نہ ہو۔کیونکہ جسقم بھی میدان میں موجود ہوگی۔
نواز شریف قوم پرستوں سے بات چیت میں تو مصروف ہے مگر وہ سندھ کو کیا دے سکتا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔وہ کچھ قوم پرست سیاستدانوں کو تو اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں مگر قوم پرست سیاست کو اپنے ساتھ لے لے یہ خاصا ناممکن لگتا ہے۔سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا تعین آئندہ چند ماہ میں سندھ میں صورتحال میں تبدیلی اور قوم پرستوں خاص طور پر بشیر قیریشی کی جسقم کی حکمت عملی پر ہے۔

نواز لیگ کو سندھ میں کیا چاہئے؟ 2012-3-29

Thu, Mar 29, 2012 at 2:50 PM
نواز لیگ کو سندھ میں کیا چاہئے؟ 
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کو بعد دیر بعد پتہ چلا کہ اسلام آاباد کا اقتدار حاصل کرنے کے لیے سندھ کی حمایت بہت ضروری ہے۔ورنہ گذشتہ انتخابات میں انہیں وفاق میں حکومت بنانے کا کوئی آسرا نہیں تھا تو انہوں نے سندھ میں کوئی ایک بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔ حال ہی میں انہوں نے ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور قوم پرستوں کے مضبوط گڑھ سندھ کا دورہ کیا۔وہ سال میں جتنی بار لندن جاتے ہیں اتنی ہی بار سندھ کا دورہ بھی کرتے ہیں۔مگر گذشتہ ڈیڑھ دو سال سے وہ گاہے بہ گاہے سندھ آتے رہے ہیں اس کوشش میں ہیں کسی ہیوی ویٹ کو پارٹی میں شمولیت کے لئے قائل نہ کر سکے ہیں۔
وہ ان تمام کوششوں کے باوجود سندھ میں کوئی بڑا جلسہ نہیں کر پائے ہیں۔ جبکہ ان  کے رقیب عمران خان گھوٹکی، کراچی اور عمرکوٹ میں سیاسی شو کر چکے ہیں۔
 سندھ میں پیپلز پارٹی سے کسی ہیوی ویٹ کی نواز لیگ میں شمولیت یا حمایت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ لے دے کے قوم پرست اور کچھ آزاد گروپ جو”بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹے“ کے منتظر ہیں وہ نواز لیگ میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں یا اتحاد یا سیاسی حمایت کر سکتے ہیں۔مگر اس میں بھی بہت سارے اگر مگر ہیں۔اگرچہ پنجاب میں پارٹی کے بعض حلقے سندھ کو اہمیت دینے کے مخالف ہیں مگراس کے باوجود  میاں صاحب نے سندھ میں قوم پرستوں اور دیگر سیاسی گروپوں سے رابطہ کیا ہے۔انہوں نے  
حالیہ برسوں میں بہت محنت کے بعد کچھ کامیابیاں میاں صاحب کے حصے میں آئی ہیں۔ چند ماہ قبل  انہوں نے سندھ کی ایک قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی جو اب پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی ہیاس کے دفتر”ترقی پسند ہاؤس“گئے اور اس جماعت کے چیئرمین قادر مگسی سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں ڈاکٹرقادر مگسی نے انہیں کچھ یقین دہانیاں بھی کرائی۔ مگر ان یقین دہانیوں پر قوم پرست حلقوں میں سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔میاں صاحب نے اسی دن عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو سے بھی ملاقات کی۔ان ملاقاتوں کا مقصد چند یقین دہانیاں پیپلز پارٹی کی حکومت سے جان چھڑانا کے لیے تعاون حاصؒ کرنا تھا۔ جس سے وہ خود نہیں جان چھڑا سکے ہیں۔
سندھ کی ان دو پارٹیوں نے تا حال مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دینے کا واضح اشارہ نہیں دیا ہے۔تاہم مسلم لیگ (ن) کی وفاق میں پیپلز پارٹی کے متبادل ہونے کی پوزیشن کی وجہ سے قادر مگسی اور رسول بخش پلیجو سیاسی حکمت عملی کے طور پر نواز شریف کے اتحادی ہیں۔یہ دونوں جماعتیں نواز شریف کے ساتھ عملی طور پر اتحاد کرتی ہیں یا صرف سیاسی حمایت تک محدود رہتی ہیں؟ اس بات کا تعین اس بات پر ہوگا کہ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو ہی اپناتی ہے یا کوئی اور مہرہ میدان میں لے آتی ہے؟ اور یہ بھی کہ واقعی پیپلز پارٹی کو ااقتدار سے دور کرنا چاہتی ہے؟ اگر یہ دونوں جماعتیں نواز شریف کا سہارا بنتی ہیں تو کسی حد تک انکو سندھ میں سیاسی طور پر تقویت مل سکتی ہے۔مگر اس کے لئے نواز شریف کو سندھ کے حوالے سے کچھ وعدے وعید کرنے پڑیں گے۔ مثال کے طور پر نواز لیگ اقتدار میں آکر سندھ کی پانی، مالی معاملات،  قدرتی وسائل وغیرہ کے لیے کیاقدامات کرے گی؟ اور حکومت میں آنے کے بعد انکو کیا ملے گا۔
ابھی تک ماروی میمن واحد شخصیت ہیں جنہوں نے میاں صاحب کو عزت بخشی۔ مشرف دور میں سیاسی منظر پر آنے والی ساحلی ضلع ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والی ماروی میمن نے مسلم لیگ (ق) کو الوداع کہنے کے بعد کچھ عرصہ سندھ میں تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والے گروپ کے ساتھ گذارا۔ بعد میں عمران خان کی پیشکش پر غور کرتی رہی۔بالآخرانہوں نے رائیونڈ پہنچ کر نواز لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ماروی میمن کا اپنا کوئی بھی ووٹ بنک یا حلقہ انتخاب نہیں۔کیونکہ ٹھٹہ پیپلز پارٹی یا پھر شیرازیوں کے زیر اثر ہے۔ اس وقت تک انکا کنٹری بیوشن یہ ہے کہ وہ سندھ کے مختلف اشوز پر جلسے جلوس اور احتجاج رتی رہی ہیں۔ خصوصی نشست کی طلبگار ماروی سندھ میں نواز لیگ کی سیاسی مہم چلانے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔

 گھوٹکی اور شکارپور کے مہر برادران یعنی مشرف دور کے وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر اور موجودہ  وفاقی وزیر غوث بخش مہر کوبھی راضی کرکے پارٹی میں لانے کی کوششیں تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔ غوث بخش مہر اس وات مسلم لیگ (ق) میں ہیں اور گھوٹکی کے علی محمد مہرسے پیپلز پارٹی کا بھی رابطہ ہے۔انہوں نے اگر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار نہ کی تو وہ انتخابات جیت کر بعد میں ماحول دیکھنے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ کس کا ساتھ دیا جائے۔قوی امکان ہے کہ وہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے یا پھر اس کے اتحادی بنیں گے۔مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور وفاقی وزیر غوث بخش مہر مسلم لیگ (ن) کے اتحادی ہیں۔
تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی اور ہیوی ویٹ پارٹی میں شمولیت نہ کرسکا ہے۔اب سابق وزیر اعلیٰ لیاقت جتوئی نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا۔لیاقت جتوئی ماضی میں نواز شریف کی پارٹی میں رہے ہیں اور وزیر اعلیٰ بھی رہے۔ بعد میں انہیں ہٹا گورنر راج نافذ کیا گیا اورکر غوث علی شاکہ کو  مشیر اعلیٰ بنایا گیا۔ بعد میں لیاقت جتوئی مشرف دور میں وفاقی وزیر پانی و بجلی بھی رہے، اس سے پہلے وہ قوم پرستی کے لبادے میں سیاست کرنے والے لیاقت جتوئی پیپلز پارٹی کے بغیر جو بھی بھی سندھ میں سیٹ اپ بنا اسکا حصہ رہے ہیں۔لیاقت جتوئی کی نظر ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی کرسی پر ہے۔
 نوز شریف نے جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ سے اور سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہ ممتاز بھٹو سے بھی رابطہ کیا ہے۔ ممتاز بھٹونے ضیا دور میں پیپلز پارٹی سے علحدگی اختیار کی تھی۔اور اس کے بعدوہ پیپلز پارٹی کے کٹر مخالف رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر وہ اپنے فرنٹ کو نواز لیگ میں ضم کرتے ہیں،  پیپلز پارٹی شہید بھٹو سمیت سندھ کی بعض قوم پرست جماعتوں کو نوز لیگ کا اتحادی بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو انکو صدارت کا عہدہ دیا جائیگا۔مگر سندھ کے قوم پرستوں کو نواز شریف کی حمایت کرنے پرقائل کرنا میں مشکل کام ہے۔ شایدممتاز بھٹوایسا نہ کر پائیں۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جلال محمود شاہ اور ممتاز بھٹو نے نوز شریف سے دو معاملات یعنی کالا باغ ڈیم اور 1940 کی لاہور قرارداد  پر عمل کرنے کی پر یقین دہانی مانگی ہے۔لیکن نوز شریف ان دونوں مطالبات کو لمبی فرمائش سمجھتے ہیں۔
مشرف دور کے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم پیپلز پارٹی کے مخالف صف بندی کا حصہ ہیں۔ مگر انہوں نے نواز شریف کے بجائے عمران خان کو منتخب کیا ہے جہاں سندھ میں تاحال کوئی اور ہیوی ویٹ
 موجود نہیں ہے۔اس کے علاوہ تھر کے علاقے میں جہاں کے تین نشستوں کی بنیاد پر وہ سیاست کرتے رہے ہیں تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کے مرید موجود ہیں اور مقامی سیاست میں وہ ان کی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ارباب غلام رحیم اور مخدوم شاہ محمود قریشی کے درمیان رابطہ ہے اور شاہ محمود قریشی نے تھرپارکر کے ایک نشست سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔
سندھ میں سیاسی طور  وجود رکھنا نوز شریف کے لیے بہت مشکل کام ہے۔ اول یہ کہ سندھ کے لوگ اور سیاسی حلقے سمجھتے ہیں کہ انکی مسائل اور مصائب کے لیے ذمہ دار پنجاب ہے۔ اور یہ مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کی پارٹی سمجھتے ہیں۔لہٰذا سندھ میں جو اشوز اٹھائے جاتے رہے ہیں جن کو سندھ کے کور اشوز کا نام دیا جاتا ہے ان کافوکس پنجاب مخالفت پر مبنی ہے۔اور نوز شریف ان پر کوئی واضح موقف اختیار نہیں کر سکتے کہ یہاں کے سیاسی حلقوں اور لوگوں کو اپنی طرف لے آ پائیں۔دوسرے یہ کہ سندھ میں ان کی پارٹی کی تنظیمی صورتحال غیر اطمینان بخش رہی ہے۔
میاں صاحب نے شروع سے ہی پارٹی کی تنظیم کاری کے بجائے ایسے لوگوں پر تکیہ کیا جو تھوڑا بہت ووٹ بنک رکھتے ہیں۔ اور انتخابات جیت کر انکی سیاسی حمایت کر سکتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اس صوبے میں نہ پارٹی بنائی اور نہ ہی اپنا کوئی ووٹ بنک۔ لہٰذا  ایسے بنے بنائے لوگوں پر تکیہ کیا جو اپنا حلقہ انتخاب رکھتے تھے۔ابن الوقت اور موقع پرست لوگ ہی ان کے گرد جمع ہوتے رہے۔ اور حکومت جانے کے بعد یا برے وقت میں ان سے علحدہ ہوتے رہے۔ماضی میں یہ بھی المیہ رہا کہ جب شہباز شریف پارٹی کے سربراہ بنے تو انہوں نے پرانے لوگوں کے بجائے سردار رحیم جیسے لوگ آگے آئے۔ جس کی وجہ سے اختلافات بھی بڑھے اور پرانے لوگوں کی حوصلہ شکنی بھی ہوئی۔ یوں سندھ میں تنظیمی طور پر پارٹی ختم ہو کر رہ گئی۔ اضلاع تو دور کی بات ہیں ابھی تک پارٹی کی صوبائی سطح پر بھی تنظیم سازی مکمل نہیں ہے۔
پارٹی میں موجود سندھ کے لوگوں پر عدم اعتمادی کا یہ عالم رہا ہے کہ پارٹی کے صوبائی چیف خوآرڈینیٹر مشہود صاحب پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ہیں۔اگر آپ لوگوں پر اعتماد نہیں کرتے تو لوگ آپ پر کیوں کریں؟اب دیکھنا یہ ہے کہ میاں صاحب سندھ کو واقعے اپنا حلقہ انتخاب بنا رہے ہیں یا صرف فوری ضرورتوں کے لیے اپنا رہے ہیں۔