Showing posts with label Sindh. Show all posts
Showing posts with label Sindh. Show all posts

Wednesday, 11 March 2020

سندھ میں انتظامی افراتفری - Jul 4, 2013

Thu, Jul 4, 2013 at 7:40 AM
سندھ میں انتظامی افراتفری
میرے دل میرے مسافر 
 سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا پہلا مہینہ سخت گزرا اس سے لگ رہا ہے کہ گزشتہ دور  حکومت پارٹی کو گلے پڑا ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مئی کو عہدے کا حلف اٹھایا۔ اور اس کے بعد سات رکنی کابینہ تو تشکیل دی مگروزراء کو قلمدان نہیں حوالے کئے گئے۔ تین ہفتے تک  ساتوں وزراء بے قلمدان رہے۔ اس بارے میں سندھ حکومت اور پارٹی دونوں کوئی قابل  فہم توضیح نہیں دے سکے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی حکومت میں شمولیت کا انتظار کر رہی تھی۔ بلکہ ابھی تک بھی کررہی ہے۔ جبکہ دوسری رائے یہ تھی کہ پارٹی اندرونی اختلافات کی وجہ سے نہ کابینہ مکمل کر سکی ہے اور نہ ہی کئی ہفتوں تک وزراء کو قلمدان دے سکی ہے۔ پارٹی نے کسی اندرونی اختلافات کی تردیدکی۔ اس عرصے کے دوران  پچاس سے زائد محکمے وزیر اعلیٰ  سندھ کی زیر نگرانی رہے۔ جس کی وجہ سے انتظامی امور اور روز مرہ کی فیصلہ سازی تعطل کا شکار رہی۔صوبے میں انتظامی افراتفری قابل دید تھی۔ یہ صورتحال بڑی حد ابھی بھی جاری ہے۔ صرف سات محکموں کو وزراء مل سکے ہیں باقی تمام محکمے بغیر وزیر کے چل رہے ہیں۔  
اگرچہ پیپلز پارٹی اکثریت میں تھی مگر اس کے باوجود  پہلے روز ہی سے پارٹی نے ایم کیو ایم  حکومت کو حکومت میں شمولیت دی۔ جس کا تاحال یہ جماعت کوئی مثبت جواب نہیں دے سکی ہے۔ سندھ حکومت میں شامل ہو یا نہ ہو؟ متحدہ قومی موومنٹ ابھی تک یہ فیصلہ نہ کر سکی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ  ایم کیو ایم حکومت میں شمولیت سے متعلق فیصلہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے نہیں کر سکی ہے۔ اس حکومت میں شامل ہو یا نہ ہو اس سوال پر ایم کیو ایم نے  پارٹی میں ریفرینڈم بھی کرایا۔ جس کے نتائج کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔ سابق اتحادی جماعت نے معاملہ التوا میں ڈال دیا اور اسکے بجائے مسلم لیگ (ن) سے کچھ حاصل کرنے کی کوشش کی۔خاص طور پر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات جس رخ میں جارہی تھی کہ اس میں پارٹی کے سربراہ الطاف حسین کو ملوث کیا جا رہا  ہے، اس میں وہ حکومت پاکستان کی مدد چاہتی تھی۔ ایم کیو ایم قیادت کا خیال تھا  چونکہ نواز لیگ کو سنیٹ میں اکثریت حاصل نہیں اور سندھ میں وفاقی حکومت کو پیپلز پارٹی کی حکومت پر چیک رکھنے کے لیے کسی آلے کی ضرورت پڑے گی۔ لہٰذا وہ یہ کام آسانی سے کر سکتی ہے۔ مزید یہ بھی کہ آئندہ چند ماہ بعد ہونے والے صدارتی انتخاب میں بھی  ایم کیو ایم  نواز لیگ کے کام آسکتی ہے۔ 
پیپلز پارٹی ابھی تکحکومت میں شمولیت کے لیے اپنی سابق اتحادی کی راہ دیکھ رہی ہے۔ اور گاہے بگاہیاپنی پیشکش کو دہرا رہی ہے۔ بلدیاتی نظام ایم کیو ایم  اپنے لیے زندگی اور موت کا معاملہ قرار دیتی رہی ہے۔دونوں اتحادی جماعتوں نے صوبے میں نیا بلدیاتی نظام دیاجس کی سندھ کے وسیع تر حلقوں نے شدید مخالفت کی۔ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی گیا۔ اس اثناء میں پیپلز پارٹی کا دور حکومت بھی ختم ہونے کو آیا۔ بالکل آخری دنوں میں  پیپلز پارٹی نے یہ نظام ختم کیا جس نے ایم کیو ایم کے لیے راہ بنائی کہ وہ اپوزیشن کی بینچوں پر بیٹھے۔ لہٰذا ایم کیو ایم نے آخری چند ہفتے اپوزیشن میں گزارے۔دوبارہ حکومت بنانے کے بعد پیپلز پارٹی نے مشرف کا بلدیاتی نظام  ختم کرکے 1979ع کا بلدیاتی نظام رائج کرنے کی بات کی لیکن اس کے ساتھ ایم کیو ایم کے لیے دروازہ کھلا رکھا کہ اس قانون میں اتحادی جماعت کی ایماء پر ترامیم کی جا سکتی ہیں۔ اب گزشتہ ہفتے  باقاعدہ  1979 کا بلدیاتی نظام رائج کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم اس کے باوجود   صوبائی حکومت میں آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی اس پیشکش کا سیاسی جواب دینے کے بجائے اس حکومتی فیصلے کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کیا ہے۔ سندھ کے معاملات سیاسی طور پر خواہ انتظامی طور پر تعطل کا شکار ہیں۔ نہ ایم کیو ایم حکومت میں آئی ہے اور نہ کابینہ مکمل ہو سکی ہے۔
بعض وفاقی وزراء کے بیانات  سے یہ تاثر ملا کہ وفاقی حکومت امن و امان  کی آڑ میں صوبے میں مداخلت کرنا چاہتی ہے۔ ان بیانات نے صوبائی حکومت کی سیاسی طور پر پوزیشن مضبوط کی۔اس کے علاوہ  سندھ ہائی کورٹ کے ایک بینچ کے ریمارکس  نے بھی اس تاثر کو مضبوط کیا۔ اور پیپلز پارٹی یہ کہنے لگی کہ گورنرراج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں  اور ابھی پارٹی نے حکومت بنائی ہے تو ابھی سے اس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ وفاق کا یہ رویہ کسی طور پر بھی قابل تحسین نہیں تھا۔ جس کو سندھ کے مختلف حلقے تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبے میں پانی کی شدید قلت رہی۔ پنجاب اس قلت کے باوجود چشمہ جہلم لنک کینال  سے پانی لیات رہا۔ جبکہ  معاہدے کے مطابق یہ کینال صرف مون سون میں تب چلانا ہے جب سیلابی صورتحال ہوگی اور سندھ  کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ صوبائی حکومت اس معاملے کو موثر طور پر  پانی کی تقسیم کے ذمہ دار ادارے ارسا اور وفاقی حکومت کے پاس نہیں اٹھا سکی۔ 
 وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے حلف اٹھانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں  حکومت کا ایجنڈا دیتے ہوئے کہا تھا کہکشمور سے لیکر کراچی تک امن قائم کیا جائے گا۔ بدامنی کا خاتمہ کیا جائیگا۔ جبکہ صحت اور تعلیم حکومت کی ترجیحات ہیں۔ امن وامان  کی یہ صورتحال ہے کہ کراچی میں ٹارگیٹ کلنگز جاری ہیں،اندرون سندھ ڈاکے، اغوا کی وارداتیں عام ہیں۔ بلکہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ان وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 
صوبائی بجٹ بھی قابل ستائش نہیں۔ اس بجٹ میں غیر مساوی ترقیاتی منصوبے رکھنے کی وجہ سے پسماندہ علاقے نظرانداز کئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اتنے بڑے ترقیاتی پروگرام کے لیے  صوبے کے پاس نہ وسائل ہیں اور نہ ہی صوبائی مشنری میں صلاحیت۔ صوابئی مشنری کی صلاحیت کایہ عالم ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران سلانہ ترقیاتی منصوبوں کی نصف رقم بھی خرچ نہیں ہوپائی۔
ؓپیپلز پارٹی نے گزشتہ دور حکومت کے آخری ایام میں  نئی بھرتیوں کی دیگ چڑھائی تھی۔ چالیس ہزار بھرتیاں قوائد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی تھیں۔ اب حکومت کے پاس  ان ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے ہی نہیں۔گزشتہ مرتبہ صوبائی حکومت نے نہ صرف بڑے پیمانے پر اور غیر قانونی طریقے سے بھرتیاں کیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آؤٹ آف ٹرن  ترقیاں بھی دیں۔ نان کیڈر افسران کو کیڈر میں ضم کیا گیا۔  وزراء اور اسمبلی ممبران کے رشتہ داروں کو ضوابط توڑ کر اچھے محکموں میں ملازمتیں دی گئیں۔ اب یہ دونوں معاملات  سپریم کورٹ کے پاس زیر سماعت ہیں۔ جہاں حکومت سندھ کچھ وقت کی مہلت مانگ رہی ہے۔ 
 اعلیٰ عدلیہ  کی جاب سے صوبے کے انتظامی امور یعنی گزشتہ دور کی بھرتیوں، ترقیوں اور تقرریوں پر احکامات اور ریمارکس پر سندھ حکومت پریشان ہے۔۔اس  عدالتی کارروائی سے ایک تاثر یہ ملتا ہے کہ عدلیہ پہلے وفاق میں اور اب سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف  فیصلے سنا رہی ہے۔  لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ  پیپلز پارٹی  کے گزشتہ دور حکومت کے فیصلے ایسے تھے جو میرٹ پر پورے نہیں اترتے تھے۔ اب حکومت سندھ اپنا پورا  وقت  ان غلط فیصلوں کا تحفظ کرنے میں صرف کر رہی ہے۔ اور صوبے کے عوام کو تاحال کچھ نہیں مل سکا ہے۔ 

سندھ بجٹ:نہ ویزن بدلا نہ منیجرز - Jun 21, 2013

Fri, Jun 21, 2013 at 12:15 PM
سندھ بجٹ:نہ ویزن بدلا نہ منیجرز
سہیل سانگی
نئے مالی سال کے لیے سندھ کے بجٹ سے ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی کہ یہ ایک اسی پارٹی نے بجٹ پیش کیا ہے جو تین صوبوں میں انتخابات ہاری ہے۔ یا یہ کہ پارٹی کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل رضا ربانی صاحب  کے اس دعوے کا بھی عکس نہیں ملتا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی سندھ کو مثالی حکومت بنائے گی۔اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرے گی۔ 
نہ ویزن میں تبدیلی ہے۔ نہ پروگرام میں۔ معیشت کے منیجرز اور پالیسی ساز بھی وہی ہیں اور ان پر عمل کرنے والی انتظامی مشنری میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ 
 ہر حکومت مالی سال کے اختتام پر اپنی معاشی کارکردگی کی رپورٹ اسمبلی میں اور عوام کے سامنے پیش کرتی ہے۔تاکہ پتہ چل سکے کہ حکومت کے اقدامات سے معاشی اور سماجی طور پر کیا فرق پڑا۔ کن کن شعبوں میں ترقی ہوئی؟ کیا کیا نقص اور کوتاہیاں رہیں۔مگر ایسا کوئی دستاویز اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ بجٹ پانچ  حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں آمدن کی تفصیل اور ترقیاتی پروگرام کی تفصیلات وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ یہ ایک پبلک دستاویز ہوتا ہے۔ لیکن  اسمبلی میں پانچ میں سے صرف تین حصے پیش کئے گئے۔
ویزن میں مجموعی طور پر ویزن کی فقدان نظر آتا ہے۔ اور وہی گھسی پٹی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔ ضیاء الحق نے ایم پی ایز کو سیاسی رشوت کے طور پر  ترقیاتی اسکیمیں دی تھی۔  موجودہ حکومت نے اس روایت کو برقرار رکھا۔ اور اس مقصد کے لیے آٹھ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ایم پی ایز کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایم پی ایز  اسمبلی کا حصہ نہیں جو بجٹ پاس کرتی ہے؟کیا وہ اپنی اسکیمیں پہلینہیں دے سکتے تاکہ ان کو منصوبہ بندی کا حصہ بنیاجا سکے؟ دراصل یہ اسکیمیں منصوبہ بندی کا حصہ نہیں بنتی اور صوابدیدی ہوتی ہیں لہٰذا ان کا فائدہ اجتماعی نہیں ہوتا۔یوں ہرسال ایک خطیر رقم ضائع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ چھ ارب روپے بلاک الوکیشن صوابدیدی رکھی گئی ہے۔ اس رقم کا بھی  منصوبہ بندی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یعنی پندرہ ارب روپے کے لگ بھگ رقم منصوبہ بندی سے ہٹ کر خرچ ہو جاتی ہے۔ 
سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے کوئی موثر اقدام تجویز نہیں کیا ہے۔ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات کے لیے41 ارب روپیکی رقم رکھی گئی ہے یوں اس مد میں گیارہ فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
ترقیاتی پروگرام سے ویزن کا نادازہ ہوتا ہے۔مختلف اضلاع اور علاقوں کے لیے جو منصوبے تجویز کئے گئے ہیں ان میں عدم مساوات عیان ہے۔ ایک بار پھر تین اضلاع جو کہ نسبتا ترقی یافتہ ہیں انہی کو ترجیح دی گئی ہے۔یعنی وزیراعلیٰ کے ضلع خیرپور، صدر آصف زرداری کے ضلع بنیظیرآباد اور کاڑکانہ کو مجموعی طور پر تیس فیصد سے زیادہ اسکیمیں یا ترقیاتی فنڈ دیئے گئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں صوبے کے پسماندہ ترین علاقے تھرپارکر  کو نظر انداز کیا گیا ہے۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں  صرف ایک کالیج ہے۔تعلیم، صحت ٹرانسپورٹ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ فنی تعلیم کا کوئی ادارہ نہیں۔یہاں تک کہ یہاں پر پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں۔ ہر دوسرے سال قحط کا شکار ہوتا ہے۔ایک درجن سے زائد محکموں میں تھرپارکر کا ذکر ہی نہیں کیونکہ کوئی ایک بھی اسکیم اس ضلع کو نہیں دی گئی ہے۔ حالانکہ یہ وہ ضلع ہے جس نے کے عوام نے حالیہ انتخابات میں ایک بہت بڑے بت ارباب غلام رحیم کو شکست دی اور بدترین  تشدد کے حالات اور دھاندلیوں میں بھی پیپلز پارٹی کوکامیاب کیا۔ اسی طرح سے دوسرے پسماندہ اضلاع سانگھڑ، عمرکوٹ، بدین اور ٹھٹہ کو بھی ترقیاتی پروگرام میں کم حصہ دیا گیا ہے۔ مطلب جو علاقے ترقی یافتہ ہیں وہ زیادہ ترقی کریں اور کو پسماندہ ہیں وہ مزید پسماندہ رہیں۔یہ صورتحال گزشتہ کئی برسوں سے چلی آرہی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم جن کا تعلق تھرپارکر سے تھا وہ بھی اس پسماندہ علاقے کے لیے کچھ نہ کر سکے۔
 اقلیتیں  ہر جگہ پر خصوصی توجہ کی طلبگار ہوتی ہیں۔ اوردنیا بھر میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ ان کے لیے خصوصی  منصوبے رکھے جاتے ہیں۔اقلیتوں  کے لیے اگرچہ 720 روپے رکھے گئے ہیں مگر یہ تمام رقم بندوں کے لیے نہیں بھگوان کے لیے رکھی گئی ہے۔ کیونکہ یہ تمام کی تمام رقم  مندروں اور دیگر  مذہبی مقامات کی تعمیر  پر خرچ کی جائے گی۔ اقلیتوں کی ضروریات یا ان کی ترقی کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔ صوبے کے تنین اضلاع ایسے ہیں جہاں اقلیتوں کی آبادی چالیس فی صد سے زیادہ ہے۔ اور جنرل نشستوں یا مخصوص نشستوں پر دس کے قرب ممبران ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں ایک دو کو چھوڑ کر باقی سب اقلیتی ممبران دولتمند ہیں۔ نتیجتاان لوگوں کی ترجیحات وہ نہیں بنتیں جو اقلیت سے تعلق رکھنے والے عام آدمی کی ہوتی ہیں۔  گزشتہ سال سولہ ہزار کی آبادی کے ایک شہر کو اقلیتی ممبران نے کروڑوں روپے کی اسکیمیں دیں جبکہ تھرپارکر، عمرکوٹ وغیرہ جہاں  لاکھوں کی تعداد میں اقلیتی بستے ہیں کوئی ایک بھی اسکیم نہیں دی گئی۔ لہٰذا یہ بجٹ بھی عدم مساوات اور علاقوں کے درمیاں فاصلہ بڑھانے کا بجٹ ہے۔ جس میں پسماندہ لوگوں اور علاقوں کو مزید نظرانداز کیا گیا ہے۔ 
جہاں تک  اچھی اور موثرحکمرانی کا تعلق ہے  اس کا اندازہ گزشتہ سال کی کارکردگی سے لگایا جاسکتا ہے۔ 
 گزشتہ سال وفاق سے رقومات کی منتقلی کا تخمینہ 382 ارب روپے لگایا گیا تھا۔ اور صوبائی ٹیکس  سے 96 ارب 63کروڑ روپے کی  رقم وصول ہونی تھی۔ مگریہ دونوں ہدف حاصل نہیں کئے ا سکے۔تنخواہوں اور انتظامی اخراجات 315ارب روپے ہونے تھے۔ مگر غلط فیصلوں اور ناقص پالیسیوں  اور خراب گورننس کی وجہ سے یہ اخراجات 342ارب روپے تک جا پہنچے۔ یہاں تک کہ ایک موقعہ پر اسٹیٹ بینک سے قرضہ لے کر تنخواہیں دینی پڑیں۔ 
گزشتہ سال ترقیاتی پروگرام کے 181ارب روپے رقم رکھی گئی تھی مگر 30 جون تک صرف 97ارب روپے خرچ کئے جا سکے۔تعجب کی بات ہے کہ انتظامی اخراجات پر رکھی گئی رقم سے زیادہ پیسے خرچ ہو جاتے ہیں مگر  ترقیاتی پروگرام  پر رکھی گئی رقم کا بمشکل پچاس فیصد ہی خرچ ہوتا ہےَ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صوبائی حکومت کے منیجروں اور انتظامیہ میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ منظور کی گئی ر قم ترقیاتی پروگراموں پر خرچ کر سکے۔یا حکومت کے پاس سیاسی فیصلہ سازی یا ارادے کی کمی ہے۔ 
اس صورتحال میں بہت کم امیدہے کہ سندھ کے لوگوں کے حالات تبدیل ہونگے۔

Tuesday, 10 March 2020

سندھ کے بارے میں سنجیدہ سوال - Feb 28, 2013 مذہبی انتہا پسندی

Thu, Feb 28, 2013 at 12:26 PM
سندھ کے بارے میں سنجیدہ سوال
میرے دل میرے مسافر 
بعض زمینی حقائق نے سنجیدہ سوال پیدا کردیا ہے کہ کیا سندھ جو صوفیوں کی سرزمین تھی، رواداری، بھائی چارے، امن اور آشتی کی زمین تھی، وہ اب اسی نہیں رہی؟ گزشتہ چند برسوں سے چھوٹے موٹے واقعات رونما ہو رہے تھے جو سندھ کی روایتی رواداری کی نفی کرتے تھے۔ مگر گزشتہ دنوں شکارپور اور جیکب آباد میں  ایک روحانی پیشوا  کے کارواں پر  اور اس ک چند روز بعد ایک درگاہ پر حملوں نے اس سوال کو مزید تیز کردیا ہے۔
امن اور آشتی کی سرزمین سندھ اب دھماکوں سے گونجنے لگی ہے۔ سندھ کے لوگ اس طرح کے دھماکوں کی آواز کے عادی نہیں تھے۔ درگاہوں اور خانقاہوں پر حملوں کے بعد روایتی میلے اور اس طرح کے ثقافتی اجتماعات کی راہیں بھی مسدود ہو رہی ہیں۔ 
 تاریخ گواہ ہے کہ سندھ نسلی یا لسانی خواہ مذہبی اعتبار سے رواداری کی سرزمین رہی ہے۔اس مٹی میں اتنی صلاحیت رہی ہے کہ باہر سے آنے والے خواہ وہ لشکر کشی کے دوران آئے یا افریقہ سے غلام بن کر یہاں بکے، ان کو اپنی گود میں سمو لیا۔ اور یہاں کی آبادی کا حصہ بن کر رہے۔ یہاں مختلف مذاہب ایک ساتھ رہے جن میں کوئی ٹکراؤ یا تصادم نہیں تھا۔ 
قلندرلال شہباز کے فقیروں کی دھمال، شاہ عبداللطیف بھٹائی کافکر، سچل سرمست کی شاعری، شاہ عنایت شہید  کی مزاحمتی جدوجہد  کے اصل رنگ ایک ہی ہیں ان کے پیرواکار ہندو اور مسلمان دونوں رہے ہیں۔ اڈیرولال  اس کی آگے بڑھی ہوئی مثال ہے جہاں ایک ہی درگاہ کے ایک طرف مسلمان  اور دوسری طرف ہندو آکر انہیں خراج  عقیدت پیش کرتے رہے ہیں۔
لیکن سندھی سماج تیزی کے ساتھ زوال پذیر ہوا ہے۔جس کے نتیجے میں بعض تکلیف دہ علامات سامنے آئی ہیں۔ قبائلی، سرادری اور برادری کا بڑھا ہے۔ صوبے کی آبادی کے ایک حصے ہندوؤں اور عورتوں کے خلاف مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔ بڑے پیمانے پر  باہر کے لوگوں کی آمد اور ان کا یہاں آکر آباد ہونے سے سماجی، معاشی، سیاسی اور ثقافتی  صورتحال بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ زندہ رہنے کے وسائل پر باہر کے لوگوں کے قبضے نے مقامی آبادی  کے لیے وسائل کو محدود کردیا ہے جس  نے بدترین غربت کو بڑھایا  اور لوگوں میں بیچارگی کا احساس  بڑھا۔ قانون اور  ریاست کے ادارے لوگوں کی مدد کو نہ آئے تو لوگوں نے قبائلی اور برادری  پرستی میں  پناہ ڈھونڈنے لگے۔ جس کے نتیجے میں انارکی بھی بڑھی اور مذہبی انتہا پسندی کو بھی جگہ ملی۔  
 سندھ کی روادری اور پیار محبت کے کلچر پرریاست کی پالیسیاں  بری طرح سے اثرانداز ہوئی ہیں۔ سیاسی اور معاشی پالیسیاں کچھ ایسی رہی کہ تمام مثبت روایات دم توڑنے لگیں۔ 
 اب تو سب اہل دانش یہ ماننے لگے ہیں کہ  ملک ی سیاست میں آلودگی کے  تین بڑے اسباب رہے ہیں۔  پہلا عنصر خارجی ہے۔ جس میں ملک کی خارجہ خواہ اندرونی پالیسیاں  امریکہ کے ماتحت بنائی گئیں۔ دوسرے دو عنصر اندرونی ہیں جس میں سیاست میں مذۃب کا کردار بڑھانا، اسٹبلشمنٹ کی مداخلت جس کی وجہ سے کوئی سیاسی نظام نہیں بن سکا۔ان تین عناصر کی وجہ سے  ملک میں اپنا معاشی نظام نہیں بن سکا۔ 
 ملکی سیاست میں  مذہب کا کیا کردارہو؟  بانیان پاکستان کا نقطہ نظراس سے بہت مختلف تھا جو آج ہمیں بتایا جارہا ہے۔ یا جس پر ہم عمل پیرا رہے ہیں۔ یہ بات آج علمی سطح پر تو کہی جاتی ہے مگر عملی طور نہ تو مانی جارہی ہے اور نہ کی جارہی ہے۔ اگر بات کی تہہ تک جایا جائے تو پتہ چلے گا کہ آج ملکی سلامیت کوجو خطرات درپیش ہیں وہ  ناگزیر طور پر مذہب کے حوالے سے ریاستی پالیسی کا نتیجہ ہیں جو اب انتہاپسندی کے روپ میں ہمارے سامنے ہے۔ اس انتہا پسندی نے دنیا بھر میں پاکستان کا امیج تباہ کیا ہوا ہے۔ ملکی سلامتی کو داء پر لگا دیاہے۔ 
آج صوتحال یہ ہے کہ معاشرہ دہشت زدہ ہے چاروں طرف خوف کے سایے ہیں۔ پہلے شدت پسند وں کی کاروایاں صرف قبائلی علاقوں تک محدود تھیں۔اس کے بعد شہری علاقوں تک پہنچیں۔اور اب دیہی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ انتہاپسند معاشرے کے بعض کمزورحصوں میں مقبول ہورہے ہیں۔
جس انتہا پسندی کو آج ہم بھگت رہے ہیں  اس کا آغاز اس بات سے ہوا کہ قیام پاکستان کے بعدان عناصر کو خوف محسوس ہوا کہ نیا ملک اگر جدید مسلمان ملک بن  گیا ان کے مذہبی نظریات خطرے میں پڑ جائیں گے۔انہوں نے نوزائیدہ ریاست کی سیاست اور حکمرانی پر قبضہ کرنے کی مرحلہ وار حکمت عملی بنائی۔ اور انہوں نے 1951ع  میں قرارداد مقاصد منظور کرائی۔ مذہبی بنیاد پرستی  کے نکات کو نئے آئین کاحصہ بنانے سے مشروط کیا گیا۔1956ع کے آئین میں  تمہید کے طور پر لیا گیا۔ اور جب ضیاء الحق حکومت میں آیا تو اس پر عمل درآمد شروع کیا گیا۔ ملک کے ابتدائی دنوں میں جمہوری عمل میں مداخلت  اور آئین بنانے میں ناکامی نے اسطرح کی مذہبی حلقوں کو موقعہ فراہم کیا کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ کا نعرہ بلند کریں۔
رجعت پسندانہ مذہب خیالات نے ریاستی ڈھانچے میں ایوب کے دور حکومت میں راستہ بنایا۔ بعض عالمی قوتوں کی ایماء پر رجعت پسندانہ   خیالات کو مذہب مے نام پر پروان چڑھایا گیا۔ کیونکہ یہ غیرملکی قوتیں مذہب کو کمیونزم کے خلاف لڑنے کے لیے ایک موثر ہتھیار سمجھتی تھی۔ آگیچل کر سرد جنگ میں جتنی تیزی آتی گئی اتنی ہی ان رجعت پسندانہ خیالات کو مضبوطی ملی۔افغانستاں میں سوویت فوجوں کی آمد کے بعد  ان مذہبی عناصر کے لیے کامیابی مزیدیقینی بنادیا۔ باہر کی مالی اعانت اور حکومت اور میڈیا کی سرپرستی نے رہی سہی کسر پوری کردی۔مذہب کو سیاسی مقاصد  کے لیے ایک آلے کے طور رپر استعمال کیا گیا۔ 
آگے چل کر  دیوبندی اور بریلوی  مکاتب فکر کی بنیاد پر پالیسیاں بننے لگیں جس میں خود وقت کی حکومت نے بھی کردار ادا کیا۔ بڑے پیمانے پر مدارس کھنے لگے۔ 
 1979ع میں پڑوسی ملک ایران میں انقلاب آنے سے شیعہ انتہا پسندی بڑھی۔ضیاء الحق نے مارشل لا لاگو کرنے کے بعد اسلام کا متنازع اور بنیاد پرستی پر مبنی فکر پھیلانا شروع کیا۔انہوں نے دیو بندی اور جماعت اسلامی کے نظریات پر بھروسہ کیا۔اب تو نہ صرف شیعہ سنی بلکہ بریلوی اور دیوبندی مکاتب فکر کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر تقسیم چل رہی ہے جس میں بعض عالمی قوتوں کے ملوث ہونے کی علامات نظر آنے لگی ہیں۔
رجعت پسندانہ مذہبی خیالات اور مذہبی  خیالات کو پروان چڑھانے میں تعلیمی نصاب نے بھی کام دکھایا جو کہ تعصب پر مبنی رہا ہے۔اور مذہبی رواداری کی نفی کرتاہے۔ 
قیام پاکستان سے پہلے سندھ میں  مذہبی حوالے سے الگ مکاتب فکر تھے جو انڈیا کے مکاتب فکر سے مختلف تھے۔ لیکن ملکی سیاست، حکومتی پالیسیوں، بڑے پیمانے پر باہر کے لوگوں کی آمد نے سندھ کے ان مذہبی مکاتب فکر کوپیچھے دھکیل دیا۔ اب سندھ میں بڑی حد تک مذہبی حوالے سے وہی صورتحال بنی ہوئی ہے جو ملک کے کسی اور جگہ پر ہوسکتی ہے۔ فکری، ثقافتی اور سماجی طور پر ملاوٹ نے سندھ کے فائبر کو تہس نہس کردیا ہے۔
سندھ میں یہ اندیشہ ظاہرکیاجارہا ہے کہ ممکن ہے کہ سندھ میں بیک وقت نسلی اور مذہبی فسات کرائے جائیں۔ اس کے بعد کمزور سندھ کو آسانی کے ساتھ تقسیم کیا جاسکے۔ صدیوں سے صوفیانہ  شناخت رکھنے والی سندھ کو اب انتہاپسندی کا اجگر نگل رہا ہے۔سندھ پہلے ہی برادری جھگڑوں میں پھنسا ہوا تھا۔ اب مذہبی رواداری کا درس دینے والی درگاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ سندھ کے تصوف پر کوئی بڑا وار ہونے والا ہے۔ 

Monday, 9 March 2020

سندھ میں سیاسی محاذ آرائی - Oct 13, 2012

Sat, Oct 13, 2012 at 10:40 AM
یہ کالم اگر آج شایع کریں گے تو بڑا بروقت ہوگا۔بعد میں آؤٹ ڈیٹیڈ ہو جائے گا۔
 سندھ میں تصادم کی طرف بڑھتے ہوئے حالات
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
بلدیاتی  نظام پر تنازع کے بعد سندھ کے حالات  جس نہج پرہیں کہ یہاں کے عوام ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بند  ہونے کی صورتحال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سندھ کے سیاسی حلقوں کے احتجاج  اور بعد میں نامعلوم افراد کی جانب سے سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور بعض وزراء اور ایم پی ایز کے گھروں پر دھماکوں کے بعد صورتحال  مزید خراب ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی ان حملوں کا الزام قوم پرستوں پر  ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خود صدر زرداری کا بھی کہنا ہے کہ یہ حملے پیپلز پارٹی  کے خلاف سازش کا تسلسل ہیں۔
 جب نئے بلدیاتی نظام  سے متعلق بل اسمبلی سے منظور ہوا تھا تب سے  اس بات کا خدشہ ظاہر کای جا رہا تھا کہ بعض قوتیں اس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔مگر افسوس کی بات ہے کہ اس طرف نہ حکومت نے اور نہ ہی احتجاج کرنے والوں نے کوئی توجہ دی۔بلکہ دونوں فریقین ایسی زبان استعمال کر رہے تھے جس سے مزید آگ بھڑک اٹھے۔
 اب دونوں نے زور آزمائی کے طور پر جلسے منعقد کر رہی ہیں۔پیپلز پارٹی  15 اکتوبر کو حیدرآباد میں جلسہ کر رہی ہے۔سندھ ترقی پسند پارٹی  17 اکتوبر کو خواتین کی کانفرنس بلائی ہے اور 19 اکتوبر کو  سندھ بچاؤ کمیٹی کا بہت بڑا جلسہ منعقد ہنا ہے۔سندھ بچایو کمیٹی نے پیپلز پارٹی کے جلسے والے دن  پہیہ جام ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کی اپیل کی ہے۔قوم پرستوں کی کوشش ہے کہ پیپلز پارٹی کا جلسہ کامیاب نہ ہو۔ پیپلز پارٹی اس جلسے کو ہر حال میں کامیاب بنانا چاہ رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ یہ دونوں فریق زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لہٰذا دونوں میں تصادم کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اہل دانش حلقے اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ  ذرا سی اشتعال  انگیزی یا غلطی کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتی ہے۔
پیپلز پارٹی  یہ جلسہ قوم پرستوں اور صوبے کے وسیع تر حلقوں کی جانب سے شروع کی گئی احتجاجی مہم کے جوااب اور توڑ میں منعقد کی جا رہی ہے۔ تاکہ پیپلز پارٹی دنیا کو یہ دکھا سکے کہ  متنازع بل کے باوجود عوام پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔یہ بل ایم کیو ایم کو خوش کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا۔ جو حیدرآباد اور کراچی میں میئروں کے لیے زیادہ اختیارات چاہ رہی تھی۔ اور اس بل کے ذریعے  انہیں وزیراعلیٰ کے بھی اختیارات مل گئے ہیں۔ سندھ بولنے والی آبادی  اس بل کی شدید مخالف کر رہی ہے۔انہیں خدشہ ہے کہ اس بل سے  دوہرا نظام رائج ہو جائے گا جو کہ عملا سندھ کی تقسیم ہے۔
صوبے بھر میں ہونے والے احتجاج میں آبادی کے قوم پرست اور اسمبلی میں موجود پارٹیوں کے ساتھ ساتھ وسیع تر حلقے  بشمول  دانشوروں کے شامل ہوئے۔جس سے بظاہر لگ رہا تھا کہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔اسی پر  پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ  پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔ بعض حلقے یہاں تک کہنے لگے کہ”سندھ پیپلز پارٹی کے ہاتھ سے جا چکا ہے اور وہ اپنا مینڈیٹ کھو چکی ہے۔“
 اس صورتحال نے پیپلز پارٹی کو  مجبور کیا کہ وہ  ان احتجاجوں کے توڑ کے طور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرے اور یہ بتائے کہ لوگ اس کے ساتھ ہیں۔خود وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے لافاظ ہیں کہ  یہ جلسہ کارکنوں کو آئندہ انتخابت  کے بارے میں  رہنما لائن مہیا کرے گا۔ مطلب اس جلسے کرنے کا مقصد  ووٹرز سے رجوع کرنا ہے۔
بعض سیاسی تجزیہ نگار  اس جلسے کو  پی پی کا دوسری بڑی غلطی قرار دے رہے ہیں۔ پہلی غلطی عوام کی خواہشات کے برعکس  متنازع  قانون بنانا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کا یہ قدم  صوبے کی متفقہ رائے عامہ کے خلاف ہے، کیونکہ یہ صرف قوم پرستوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سندھ کے لوگوں کا مطالبہ ہے۔ادیب شاعر اور عام آدمی بھی قوم پرست جماعتوں کی حمایت کے بغیر جلوس نکال رہے ہیں۔ بلکہ بعض صورتوں میں قوم پرست جماعتیں  ان احتجاج کرنے والوں کے پیچھے چل رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا یہ اقدام   عوام کی خواہشات کے برعکس ہے اورعوام نے جو جدوجہد کی ہے اس پر پانی پھیرنے کی کوشش ہے۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے صدر سید جلال محمود شاہ  جو کہ تحریک چلانے والی کمیٹی سندھ بچایو کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ سندھ کے عوام  نیا بلدیاتی نظام مسترد کر چکے ہیں اب حکومت کو ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہئے۔اور جلسہ کر کے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش نہ کرے۔کو اس تحریک میں سرگرم عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ سندھ کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ سندھ کے لوگوں نے تحریک کے ذریعے جو حاصلات کی ہیں وہ ضایع کردے۔  جیئے سندھ  کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ اس تاریخ پر سندھ کے لوگوں کو یوم سیاہ منانا چاہئے۔
بعض  ہوش مند حلقے کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی درمیانہ راستہ نکالا جائے۔اور پی پی کو اس تکلیف دہ صورتحال سے نکالنے کے لیے  تجاویز دے رہے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم جس کی ایماء پر یہ نظام لایا گیا ہے۔ وہ اپنے موقف میں نرمی لے آئے۔ اگر وہ پیپلز پارٹی واقعی پنا اتحادی سمجھتی ہے تو ایسا کران پڑے گا۔اور سندھ کے لوگوں کے نقطہ نظر کو سمونا پڑے گا۔قانونداں  اور سندھ بایو کمیٹی کے رکن بیریسٹر ضمیر گھمرو  کا کہنا ہے کہ بل کی تین شقیں اور  ایک شیڈیول منسوخ کرنے سے جھگڑا ختم ہو سکتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ ایم یو ایم اپنی ہٹ دھرمی چھوڑے۔کیا یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوگی؟ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک خوش فہمی ہے کیونکہ  ایم کیو ایم سے بات چیت کے لیے بیچ میں کوئی شخصیت  پل کے طور پر نہیں جبکہ باقی تمام سیاسی جماعتوں  کا معاملہ اس طرح نہیں۔

 سندھ میں غیر یقینی کی سی صورتحال ہے۔مقبول پارٹی اور مقبول مطالبہ ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔یہ مقبول مطالبہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت سے بھی گہرا ہے کیونکہ سندھ کے لوگ دو معاملات میں  بہت ہی حساس ہیں۔ ایک زبان دوسرے زمین۔ خود پیپلز پارٹی کی مقبولیت کی ایک وجہ  یہ عوامی سوچ ہے کہ یہ سندھی پارٹی ہے۔
اب بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض قوتیں سندھ کے ان دو سیاسی مظاہر کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
یہ تضاد کس طرح سے حل ہو سکتا ہے؟ اس پر سندھ کے اہل دانش سیاسی محفلوں اور میڈیا میں بھی میں بحث کر رہے  ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ خود پیپلز پارٹی کو اس تصادم اور فاصلے کا احساس ہو اور وہ ”سدھر“ جائے۔ لیکن اکثر کی رائے ہے کہ ایسا سوچنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے برابر ہے۔ تجزیہ نگار اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ مثالی صورت تو یہ کہ متبادل سیاسی جماعت موجود ہو۔ لیکن سندھ کے حالات میں ایسی کوئی  چیز مسقبل قریب میں نظر نہیں آتی،  لہٰذا اب ایک ہی آپشن ہے کہ عبوری دور میں کوئی ایسا مکینزم یا فورم  بنایاجائے جس میں  مشترکہ narrative رکھنے والے گروپ جمع ہوں اور جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔ ان کے خیال میں یہ وہی ماڈل ہے جوفلسطین  اور جنوبی افریقہ میں اپنایا گیا تھا  جہاں بہت سارے قوم پرست گروپ تھے مگر  کم سے کم پروگرام پر  وسیع تراتحاد بنائے ہوئے تھے۔سندھ کی صورتحال میں شاید یہ بھی عملا کے بجائے آئیڈیل ہی لگتے ہیں۔ کیونکہ یہاں پر ابھی تک قوم پرست اتحاد کے ہوتے ہوئے بھی الگ الگ سرگرمیاں کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو برداشت نہیں کررہے ہیں۔ سندھ شاید ون یونٹ کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کے ماڈل کا انتظار رکر ہا ہے  جب عوام نے سیاستدانوں کے رویوں سے تنگ آکر نئی سیاسی قیادت پیدا کر لی تھی۔  

سندھ میں حکومت کی بھاگ دوڑ ۔۔۔۔ 2012-8-16

Thu, Aug 16, 2012, 1:08 AM
سندھ میں حکومت کی بھاگ دوڑ ۔۔۔۔
 میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی  
عام لوگ چاہے اسے ڈھیٹ پن کہیں۔ مگر لوگوں کا سامنا کرنا خود ایک فن ہے۔ اور یہ فن بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔
عام آدمی کو چاہے کچھ بھی نہ دیں، مگر میدان میں کھڑے رہیں۔ کچھ نہ دینے کی وضاحتیں اور تشریحات بیان کریں۔ کچھ مجبوریاں کچھ رکاوٹین بتائیں۔ ماضی کی شاندار جدوجہد اور قربانیاں یاد دلائیں۔ کچھ نئے وعدے کریں اور آسرا دیں۔ ہماریہاں یہی سیاست ہے۔ حکمران سمجھتے ہیں کہ اس سے کام چل جائے گا۔لوگوں کا صرف حافظہ ہی کمزور نہیں ہوتا وہ وسیع القلب بھی ہوتے ہیں۔اسی پر سیاستدانوں کی سیاست چلتی ہے۔ آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ 
 بزرگ شخصیت اور سینئرسیاستداں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو بھی یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے۔ کام ہو نہ ہو،کوئی وزیریا اعلیٰ سرکاری اہلکار ان کی بات مانے یا نہ مانے مگر یہ بزرگ ہر جگہ کھڑے ہوتے ہیں۔دوسال قبل جب سیلاب آیا تو دوسرے وزراء اور ایم پی ایز اپنی زمینیں بچانے یا نئے فنڈز میں اپنا حصہ پتی ڈھونڈ رہے تھے، مگر سائیں قائم علی شاہ کبھی گاڑی میں کبھی کشتی میں ہر جگہ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ اس وقت بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ 
اب جب حکومت کی مدت پوری ہونے کو چند ماہ باقی ہیں تب اچانک خیال آیا کہ حکومت بہت سارے مسائل حل نہیں کر پائی ہے۔کل جب عوام کے پاس ووٹ کے لیے جائیں گے توکئی چیزوں کا جواب بھی نہیں ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی خبریں شایع ہوئی ہیں کہ بعض اسمبلی ممبران نے انتخابات کے بعد پلٹ کے ووٹروں کو منہ تک نہیں دکھایا ہے۔تمام کام کاج ان کے مقرر کردہ نائبین چلا رہے تھے۔بعض مقامات پر لوگوں نے زیادہ ہمت کا مظاہرہ کیا انہوں نے جلوس نکالے اورتلاش گمشدہ کا اعلان کیا کہ انہیں انکے منتخب نمائندے تلاش کر کے دیں۔جو بھی انہیں منتخب نمائندے تلاش کرکے دے گا ان کو انعام دیا جائے گا۔
آنے والے وقت کی ان مشکلاتوں کو سائیں قائم علی شاہ نے بھانپ لیا۔ ہر ضلع ہیڈکوارٹر میں سندھ کابینہ کے اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ان اجلاسوں کا مقصد یہ بتایا گیا کہ اس کے ذریعے لوگوں کے مسائل حل کئے جائیں گے اور موقع پر ہی انہیں حل کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں گے۔ بعض اضلاع میں ترقیاتی کاموں کا بھی اعلان کیا۔ اسے وزراء کیمسائل کے بارے میں سنجیدگی کہیئے یا وزیر اعلیٰ کے ڈسپلن کا کمال کہ اکثر اجلاسوں میں نصف سے زیادہ وزراء گم تھے۔ انہوں نے اجلاسوں میں شرکت ہی نہیں کی۔ اب تک آدھے اضلاع میں سندھ کابینہ کے اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔یو ں سمجھئے کہ سندھ کے نصف مسائل حل ہو چکے ہیں۔ 
سندھ کابینہ کے اجلاسوں کا اثر الٹا ہوا۔ جیکب آباد اور کندھ کوٹ اضلاع  میں سب سے بڑا مسئلہ ہندو آبادی کو درپیش تھا  جنہوں نے بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، قتل، شادی کے لیے نوجوان لڑکیوں کے اغوا سے متعلق شکایات کیں۔ اجلاسوں کے بعد ان اضلاع سے ہندو آبادی نے ہجرت شروع کردی۔ جس پر وفاقی خواہ صوبائی حکومتیں ہی نہیں سندھ کے باشعور حلقے بھی چونک گئے۔ شکارپور ضلع کاروکاری،  قبائلی جھگڑوں اور جرگوں کی لپیٹ میں ہے۔کابینہ  کا اجلاس  یہاں کی صورتحاکل کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکی۔اغوا انڈسٹری اسی طرح چل رہی ہے۔ قبائلی جھگڑے اور جرگے اسی شان شوکت کے ساتھ منعقد ہو رہے ہیں۔ دادو کے لوگوں نے آبپاشی پانی کی شکایت کی۔وزیراعلیٰ نے سیکریٹری آبپاشی کو تین روز کے لیے دادو میں کیمپ کرنے کی ہدایت کی۔سیکریٹری بھی کیا کرتا۔ خود دریائے سندھ میں پانی  ہی کم ہے۔جو تھوڑا بہت کینالوں میں پانی آرہا ہے وہ وزراء، ایم پی ایز، ایم این ایز اور دیگر بااثر لوگوں کے لیے ہی ناکافی ہے۔ تو عام آدمی کی باری کہاں سے آئے گی۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ پانی کی تقسیم کا جھگڑا ان باثر لوگوں کے ہی درمیان ہے، جس کو نمتانے کے لیے ویزر اعلیٰ نے سیکریٹری کو ذحمت دی۔
سندھ کابینہ کا اجلاس تھرپارکرضلع کے شہر مٹھی میں بھی ہوا۔مگر وہاں پر کسی ترقیاتی پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا۔اور نہ ہی بارش پر زندگی گزارنے والے اس ریگستانی علاقے  کے لوگوں کے لیے کسی پیکیج کا اعلان ہوا۔ابھی بھی تھر میں  بارش نہیں ہوئی ہے۔ پڑوسی ملک انڈیا وہاں کے تھر کو بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط زدہ علاقہ قرار دے چکا ہے۔مگر یہاں پر ابھی  سرکاری طور پر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ تھر کے لوگوں کو بتایا گیا کہ ان کی قسمت کوئلے سے وابستہ ہے۔ ویسے حکمران تو پورے ملک کے لوگوں کی قسمت کو تھر کے کوئلے سے منسلک کئے ہوئے ہیں کہ تھر کول پرجیٹ شروع کر کینہ صرف لوڈ شیڈنگ بلکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا ئے گا۔ اس پروجیکٹ سے حکومتوں کے خلوص کا یہ عالم ہے کہ مشرف حکومت نے 1999ع میں تھر کول پروجیکٹ کا اعلان کیا تھا۔ آج 13 سال گزرنے کے بعد بھی  پروجیکٹ شروع نہیں  ہوسکا ہے۔  
مختلف اضلاع میں منعقد ہونے والے سندھ کابینہ کے ان اجلاسوں سے لوگوں کا تو بھلا کیا ہونا تھا البتہ منتخب نمائندوں کا بھلا ہو رہا ہے۔ ان کی پہلے سے ہی  عام فلاح کے کام کرنے کی نیت نہیں تھی۔اب تو بہانہ مل گیا۔اب وہ اپنے حلقے کے لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ ” مسائل کا حل اتنا آسان نہیں۔ ہم نے وزیراعلیٰ اور پوری سندھ کابینہ تک کو لا کر ضلع میں حاضر کیا اب بھی اگر مسئلے حل نہ ہوں تو ہم کیا کریں۔“یوں سمجھئے کہ ضلع ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہونے والے اجلاس  مسائل اور حقائق سے بھاگنے اور ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر ڈالنے کا بہانہ بن رہے ہیں۔ 
کبھی بچپن میں پڑھا تھا کہ بندروں کی برادری پر اچانک بھیڑیوں کے حملہ کردیا۔ دونوں کی سرحدوں کے قریب بندروں کے گھر تھے۔ انہوں نے آکر اپنے سردار یا بادشاہ کوبتایا کہ بھیڑیے حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بادشاہ سلامت نے  انہیں بتایا کہ وہ اس ضمن میں مختلف اقداماتکے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ آپ فکر نہ کریں اپنے اپنے گھروں کو جائیں۔  دوسرے روز دوبارہ بندر بادشاہ کی حضور میں پیش ہوئے اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا کہ کس طرح بھیڑیوں کا لشکر پیشقدمی کر رہا ہے۔ یوں ایک ہفتے تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ بھیڑیوں کے لشکر نے حملہ کردیا اورحملہ آوروں نے بندروں کے بچے کھانے شروع کئے۔ ایسے میں بندر پھر باشاہ  کی حضور میں پہینچے۔وہ کیا دیکھتے ہیں کہ بادشاہ سلامت تیز تیز دوڑ رہے ہیں اور چکر کاٹ رہے ہیں۔ کچھ دیر کے بعد  جب وہ ٹہرے تو بندروں نے ان کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ بادشاہ سلامت نے کہا کہ آپ خود گواہ ہیں کہ ہم نے بھاگ دوڑ تو بہت کی، مگر بھیڑیوں کا کچھ نہیں کر سکے تو اب کیا کر سکتے ہیں۔ 
ایک خیال یہ بھی ہے کہ سندھ حکومت کے وزراء کے بس میں کچھ بھی نہیں ہے۔کوئی اور چھپا ہوا ہاتھ ہے جو سب کام چلا رہا ہے۔ مگر زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ ان وزراء کے ذاتی کام کبھی بھی نہیں رکتے۔ یہاں کون کون سے وزراء کے نام لیں۔ بعض سے تو اچھی خاصی دعا سلام بھی ہے۔ ویسے بھی لوگ کہیں گے کہ یہ وزراء کی ذات پر حملہ ہے۔ لہٰذا اس ے گریز کرتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کسی کا تقرر ہو یا تبادلہ،  حد میں کوئی ترقیاتی کام ہو یا کوئی نیا پروجیکٹ جس سے ان کے ذاتی مفادات وابستہ ہوں،ایسے سب کام بروقت اور بغیر رکاوٹ کے ہو رہے ہیں۔ ہاں البتہ اگر کسی اجتماعی بھلے کا کام ہوگا تو دنیا بھر کی رکاوٹیں اور مجبوریاں ان وزراء کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں اور وہ بچارے بن جاتے ہیں۔ہم یہاں پر حلقہ انتخاب کے بجائے حد کا لفظ اس لیے استعمال کر رہے ہیں کہ یہ حد کسی تھانیدار یا تھانے کی حد کے معنوں میں ہی ہے۔ جہاں پر ان حضرات کا سکہ چلتا ہے، راج ہے۔اگر وہ اس کو حلقہ انتخاب سمجھتے تو وہاں ووٹر اور عام لوگوں کا معاملہ آجاتا ہے۔حلقے کی بات کا مطلب یہ ہوگا کہ عام بھلے یا اجتماعی مفاد کو سامنے رکا جائے گا یا اس کو ترجیح دی جائے گی۔
کسی کو اگرملازمت دی جاتی ہے، کوئی سڑک یا کوئی اور اسکیم دی جاتی ہے تو یہ سب کچھ ذاتی حوالے سے ہوتا ہے۔وزیر یا ایم پی اے اور ایم این اے ذاتی طور پر مہربانی کرتے ہیں۔ یوں سب کام اور اس کا کریڈٹ ذاتی طور پر ہی ہوتا ہے۔یوں ان کا تعلق بھی ذاتی بنتا ہے۔کہیں بھی اجتماعیت یا سیاسی  فائدے کے لیے کاوئی کام نہیں ہوتایہی وجہ ہے کہ بڑے پیمانے پر میرٹ کو کچلا جاتا ہے۔کرپشن اور اپنوں کو نوازنے اور مخصوص گروہ کو آگے لے آنے کی شکایات عام ہیں۔ اور ان شکایات میں وزن بھی ہے۔ یہ شکایات اب محفلوں میں بحث کا موضوع بننے کے ساتھ ساتھ اخبارات کے کالموں کی بھی زینت بن رہی ہیں۔ یوں ایک یا دو بندوں کو خوش کرنے کے لیے سو ڈیڑھ سو بندوں کو ناراض کرنے کا سلسلہ چل نکلا ہے۔اگر یہ سب کچھ میرٹ پہ ہو تو اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔ سندھ کا عام ووٹر تو پیپلز پارٹی کا ہے۔اس نیگزشتہ کل بھی پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا تھا اور آنے والی کل بھی دے گا۔یہ سندھ کے لوگوں کا  سیاسی فیصلہ ہے۔ جس کو پیپلز پارٹی کے وزراء اور اسمبلی ممبران  زاتی بنانے کے جتن کر رہے ہیں۔ اور عام آدمی کا پارٹی سے سیاسی رشتہ  توڑنے اور کمزور کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔ اور اس کی جگہ پر اپنا ذاتی رشتہ جوڑنا چاہ رہے ہیں۔ یہ ان کی بھول ہے۔ اگر سندھ کے  لوگوں نے سیاسی رشتہ توڑا تو ذاتی رشتے کے لیے  ان کے پاس کئی آپشن ہو سکتے ہیں۔ آنے والی کل کو کسی چھوٹی موٹی بات وہ اپنا ذاتی رشتہ کسی اور سے جوڑ سکتے ہیں۔ عارضی طور پر یعنی  اعیک آدھ انتخابات کی حد تکانہیں یہ حکمت عملی فائدہ دے سکتی ہے۔ مگر طویل مدت میں یہ صرف پارٹی کو ہی نہیں بلکہ ایسے لیڈروں کو بھی نقصان دے گی۔ 
 پیپلز پارٹی کی قیادت کو سوچنا چاہئے کہ ذاتیات اور مفاد پرستی کی سیاست کرنے والے ذاتی طور پر اپنے حلقہ انتخاب بنانے والے  پارٹی کے لیے کتنا نقصاندہ ہیں۔ یہ لوگ دراصل سیاست کے بنیاد روایتی بنیادوں پر رکھنا چاہ رہے ہیں جس کو پیپلز پارٹی نے ستر کے عشرے میں اور اس کے بعد1988ع میں اٹھا کے پھینک دیا تھا۔

صدر زرداری کا دورہ سندھ 2012-7-31

Tue, Jul 31, 2012, 2:26 PM
صدر زرداری کا دورہ سندھ  
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
 اسے کیا کہا جائے؟  انتخابی مہم کا آغاز یا اکچھ اور۔ صدر آصف علی زرداری نے قوم سے وعدہ  کیا ہے کہ کہ آئندہ انتخابات وقت پر ہونگے، صاف شفاف ہونگے، کسی کو نہ دھاندلی کرنے دیں گے نہ کریں گے۔ اور یہ کہ آئندہ چاروں صوبوں میں وزراء اعلیٰ ان کی پارٹی کے ہونگے۔انہوں نے ٹی وی اسکرین کی سیاست کی بھی بات کی۔اور کہا کہ خواہ ٹی وی کے سیاستداں پیدا ہوں۔آبائی صوبے سندھ میں ضلع خیرپور کے گاؤں نواب وسان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آئندہ عام انتخابات کے بارے میں بعض اہم باتیں کی ہیں۔وہ لاڑکانہ اور نوابشاہ میں آکرلوگوں سے خطاب کرتے رہے ہیں۔لیکن ان دو مقامات کو چھوڑ کر ہونے والا یہ پہلا جلسہ ہے جس کو سیاسی حلقے اتنخابی مہم کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ 
 صدار زرداری اگرچہ خیرپور میں  وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور پیپلز پارٹی کے ایک رہنما منظور وسان کومنانے گئے تھے۔ منظور وسان  جو اپنے تئیں وزیراعلیٰ کے بھی امیدوار تھے۔ان کے پاس ڈاکٹرذولفقار مرزا کے استعیفے کے بعد وزارت داخلہ کا قلمدان تھا۔ مگر بعد میں  وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی مداخلت اور ایم کیو ایم کی مخالفت کی وجہ سے کوئی چار ماہ قبل انہیں کابینہ سے الگ کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کے پاس کوئیسرکاری ذمہ داری نہیں تھا اور وہ زیادہ تر وقت اپنے گاؤں میں گزار رہے تھے۔ منظور وسان کا تعلق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے آبائی ضلع ٰپرور سے ہی ہے۔ وہ جب سند کابینہ میں شامل  تھے تب بھی ان کی وزیراعلیٰ سندھ سے نہیں بنتی تھی۔ اور وزیراعلیٰ کی طرف سے بھی انہیں بڑا کولڈ ریسپانس ملتا تھا۔ یہاں تک کہ خیرپور میں ہونے والے پروگراموں میں نہ وسان خود شریک ہوتے تھے اور نہ ہیان کے لوگ شریک ہوتے تھے۔ بلکل اسی طرح وزیراعلٰ کے حامی وسان کے پروگراموں میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ دونوں کی کوشش ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ہوتی تھی۔سیاسی ماحول میں حالیہ تبدیلیوں اور فنکشنل لیگ کے سرگرم  ہونے کے بعد یہ ضروری ہو گیا تھا کہ منظور وسان کی ناراضگی ختم کی جائے۔اس میں یہ پیغام بھی چھپا ہوا ہے کہ صدر زرداری انتخابی مہم کس طرح سے چلائیں گے۔
ایسے میں رسم بھی تھی اورموقعہ بھی۔ صدر زرادری  صرف انتخابات کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ ان کے نتائج کے بارے میں بھی کچھ کہہ دیا۔ ٓن کے بعض نقادوں کا کہنا ہے کہ صدرچونکہ ایک پارٹی کا نہیں ہوتابلکہ ملک کا سربراہ ہوتا ہے، انکے منہ سینتائج کے بارے میں پیشگی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔انہیں پہلے سے نتائج کے بارے میں بات کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے تھاانتخابی مہم اور انتخابی سیاست میں ایسے بیانات فائدہ مند ہوتے ہیں اور مخالفین پر بھی رعب ڈالتے ہیں۔ لہٰذا سیاسی پارٹیاں ایسے مواقع کو استعمال کرتی ہیں۔ پیپلز پارٹی ملک کی بڑی پارٹی ہے۔ اسے 70ع کے بعد مسلسل انتخابات کا تجربہ ہے۔ لہٰذا اس کو پتہ ہے کہ انتخابات کے موسم میں کیسے کھیلا جاتا ہت۔ صدر نے محض اس کلچر کے تحت دعوا کی ہے۔انتخابات کے بعد کیا ہوگا اور کونسی پارٹی کس پوزیشن میں ہوگی؟ یہ پیش گوئی آج نہیں کی جاسکتی۔
 انتخابات کے بارے میں صدر کے اس وعدے کے بعد ملک میں جاری  ان افواہوں  نے دم توڑ دیا کہ صدر موجودہ اسمبلی کے ذریعے خود کو دوبارہ منتخب کرانا چاہتے ہیں اور ایم کیو ایم  کی تجویز کردہ گول میز کانفرنس  اس سلسلے کی کڑی سمجھی جارہی تھی۔اس افواہ پر نوزا لیگ نے اتنباہ بھی جاری کردیا تھا کہ انتخابات کو ٹالنے یا موجودہ سیٹ  اپ کو دوام دینے کیشدید مخالفت کی جائے گی۔
 حالیہ سیاسی بحران  کے دوران جب نتخابات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے صدر کی جانبب سے یہ بیان خاصی اہمیت کا حامل ہے۔اور ان کا یہ بیان اور دورہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کی تیاری شروع کردیں۔صدر نے یہ بات ایک ایسے ماحول میں کہی ہے جب وقت سے پہلے انتخابات کرانے اور نگران حکومت کیسی ہو کے معاملات سیاسی ماحول میں زیادہ پاپولر ہیں۔ صدر کی اس بات نے  واضح اشارہ دیا ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات کی بات نہیں ہورہی۔اور نگراں سیٹ اپ والا معاملا بھی اتنا کوئی پیچیدہ نہیں۔انہوں نے یہ کہہ کر واضح کردیا ہے کہ پیپلز پارٹی انتخابات کے لیے تیار ہے۔
پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے عدلیہ کے پارلیمنٹ سے متعلق ریمارکس نے ایک بار پھر پارلیمنٹ کوrelevant بنا دیا ہے۔ اور اسکے ساتھ یہ بھی کہ سیاسی قوتیں  اگر کسی نقطے پر متفق ہو جاتی ہیں تو اس کے نتائج بہرحال سیاست پر مثبت ہی پڑتے ہیں۔ اس پس منظر میں سپریم کورٹ کیپیر کے روز کے ریمارکس خاصی اہمیت کے حامل ہیں جس مین عدلیہ کا رویہپارلیمنٹ اور اراکین کی جانب مثبت اور نرم تھا۔
ایسا لگتا ہے کہ  پورے ملک میں ایک سیاسی ماحول بننے جا رہا ہے جس میں ماضی کی تمام حکمت عملیاں غیر ضروری ہو جائیں گی۔سیاسی پارٹیوں کو نئے سرے سے منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔
 اس اعلان کے بعدایم کیو ایم کی گول میزسے متعلق تجویز میں بھی لمبا چوڑادم باقی نہیں رہتا۔ کیونکہاب الیکشن کا ماحول ہوگا۔ اور یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ ملک کو درپیش مسائل انتخابات کے ذریعے حل کئے جاسکتے ہیں۔
صدر کے اس بیان  کے دوسرے دن الیکشن کمیشن نے بھی سرگرمی دکھائی۔ اور اعلان کیا کہ ابتدائی انتخابی فہرستیں جاری کی جا رہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ یہ انتخابات پرانی حلقہ بندیوں پر ہونگے۔کیونکہ نئی مردم شماری نہیں ہو سکی ہے۔اس وقت ملک میں 1998 کی ہی مردم شماری پر حلقہ بندیاں  بنی ہوئی ہیں۔ اگرچہ اس پر کئی سیاسی پارٹیوں کو اعتراضات بھی ہیں۔ سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ  ملک میں آبادی کی  ایک علاقے سے دوسرے میں منتقلی ہوئی ہے اس کو تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔ اس کو لحاظ میں لائے بغیر حلقہ بندیاں اور انتخابات  ماضی کے انتخابات سے مخلتف نتائج نہیں دیں گے۔ تاہم یہ الگ بحث ہے۔ الیکشن کمیشن کے ان دو اعلانات نے صدر کی بات کو مستند بنا دیا ہے۔
اگرچہ ابھی تک نگراں سیٹ اپ اور دیکگر کچھ امور سے متعلق کچھ چیزیں ضرور ہیں جو آڑے آسکتی ہیں۔
 خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ  اب ملک میں انتخابی ماحول اور سیاست چلنے لگے گی۔اگر واقعی ایسا ہو جاتا ہے تو تمام پارٹیاں اپنی تمامتر توانائیاں حکومت کو کسی اور طریقے سے ہٹانے یا تحریک چلانے پر صرف کرنے کے بجائیانتخابات پر ہی صرف کرنے لگیں گی۔ جو کہ کسی بھی حکومت کو ہتابنے کا آئینی اور قانونی طریقہ ہے۔اس پر اگر حکومت نے مزید کچھ پیشرفت کی توموجودہ بحران سے نکنے میں یہ بات اسے خاصی مدد
 دے گی۔

Thursday, 5 March 2020

سندھ میں بے چینی کی لہریں - 2012-3-1

Thu, Mar 1, 2012, 1:14 PM
سندھ میں احتجاج کی لہریں 
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی 
سندھ میں احتجاجوں کی لہر اٹھی ہوئی ہے۔یہ اسی فیصد احتجاج  مختلف محکموں کے سرکاری ملازمین کے ہیں۔ جو ملازمت کی بہتر شرائط باضابطہ سروس اسٹرکچر،  یا مستقل کرنے کے لئے ہیں۔ بڑے احتجاجوں کا آغاز چند ماہ قبل لیڈی ہیلتھ ورکرز نے گھوٹکی میں کیا تھا۔اس احتجاج کا جواب حکومت نے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں سے دیا۔ خواتین مظاہرین کو گھسیٹا بھی گیا۔ان لیڈی ہیلتھ ورکرز کی چھ ماہ سے تنخواہیں رکی ہوئی تھی۔ یہ خواتین ایک خصوصی ہیلتھ پروجیکٹ میں کام کر تی ہیں جو دیہی علاقوں میں خواتین کو طبی سہولت اور مشورہ مہیا کرنے کے لیے بے نظیر بھٹو نے ڈونرز کی مالی اعانت سے شروع کیا تھا۔ اس پروجیکٹ میں  لاکھوں خواتین تین چار ہزار روپے ماہوار پر برسہا برس سے کام کر رہی ہیں۔ان خواتین ملازمین سے پولیو، امیونائزیشن اور صحت کے دوسری پروگراموں میں بھی مدد لی جاتی رہی ہے۔ان کا نہ سروس اسٹرکچر ہے اور نہ ملازمت کی ضمانت۔ تنخواہیں بھی تین چار ماہ دیر سے ملتی ہیں۔اس مرتبہ یہ معاملہ اس وجہ سے بھی اٹھا کہ ان کی تنخواہیں روک دی گئی اور انہیں چھ ماہ تک تنخواہیں نہیں ملی۔ ان لاکھوں خواتین ملازمین کی تنخواہوں کا معاملہ ای پیچیدہ گورکھ دھندے سے گذرتا ہے۔ 
صوبائی محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ڈونرز وفاقی حکومت کو فنڈز مہیا کرتے ہیں۔ جہاں سے یہ فنڈز صوبائی حکومت کو منتقل کئے جاتے ہیں۔ صوبائی حکومتیں یہ فنڈ محکمہ صحت کو رلیز کرتی ہیں جہاں سے یہ رقومات اضلاع میں بھیجی جاتی ہیں اور پھر لیڈی ہیلتھ ورکرز تک تنخواہیں پہنچتی ہیں۔ برسہا برس سے کام کرنے والی ان خواتین ملازمین کو نہ سالانہ اضافہ ملتا ہے اور نہ ہر سال مہنگائی کے پیش نظر حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں بڑھائی گئی رقم ملتی ہے۔لہذا کم از کم تنخواہ سات ہزار روپے کے حکومتی فیصلے پر حکومت خود ہی عمل نہیں کرتی اور لاکھوں خواتین سے معمولی پیسوں پر فیلڈ ورک کرا رہی ہے۔حکومت نے نہ کبھی ان کو باقاعدہ سروس اسٹرکچر دینے کا سوچا اور نہ تنخواہوں کی رلیز کے اس پیچیدہ عمل کو آسان بنانے کی کوشش کی۔
ؒسندھ بھر سے لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اچانک گھوٹکی میں پہنچ کر احتجاج نہیں کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ مختلف اضلاع میں کئی ماہ تک احتجاج کرتی رہی، مگر ان کی ایک بھی نہیں سنی گئی۔حد ہے کہ کسی قومی یا صوبائی اسمبلی ممبر نے بھی زحمت نہیں کی کہ مظاہرے اور بھوک ہڑتالی خواتین سے ملاقات کر کے کوئی یقین دہانی بھی نہیں کرائی۔اس صورتحال نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مجبور کردیا کہ وہ صوبے بھر سے چل کر گھوٹکی میں آکر جمع ہوں اور ہائی وے بلاک کریں۔
 حکومت نے ان کے کچھ مطالبات تسلیم کئے، مگر بعد از خرابی بسیار۔ ہزاروں خواتین کو احتجاج پر مجبور کیا، لاٹھیاں برسائیں، گرفتار کیا،  ہیلتھ کے حوالے سے جو وہ کام کر رہی تھیں وہ متاثر کیا۔ پھر کہیں جا کر کچھ مطالبات مانے۔
کچھ ایسا ہی رویہ اساتذہ کے ساتھ رکھا گیا۔ان اساتذہ کو ایشین بنک کی فنڈنگ سے سینکڑوں اساتذہ کو باضابطہ ٹسٹ کلیئر کرنے کے بعد بھرتی کیا گیا۔ لیکن  تین سال سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود انہیں مستقل نہیں کیا گیا۔ جبکہ  ان کے بعد بھرتی کئے گئے  اساتذہ کو مستقل کردیا گیا۔ یہ لوگ بھی مختلف شہروں میں مظاہرے کرتے رہے۔ بالآخر انہوں نے کراچی میں  پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا۔ وہ لوگ  وزیر اعلی سندھ، اور گورنر کو یاداشت نامہ پیش کرنا چاہتے تھے۔مگر ان پر بے دردی کے ساتھ لاٹھی چارج کیا گیا۔ جس میں درجنوں اساتذہ زخمی ہوئے۔ اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔رات کو دیر سے  انکو مستقل کرنے کا نوٹفکیشن جاری کیا گیا۔یہ نوٹفکیشن پہلے بھی جاری ہو سکتا تھا جب ان کے وفود وزیر تعلیم سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔ یا ضلع ہیڈ کوارٹرز میں احتجاج کر رہے تھے۔ یا کراچی پریس کلب کے سامنے کھڑے تھے۔ اس وقت اگر وزیر اعلی یا وزیر تعلیم  وغیرہ آکر انکو یقین دہانی کراتا اور نوٹیفکیشن جاری کرتا تو کتنا اچھا ہوتا۔ حکومت کی بھی عزت رہ جاتی۔ اور اساتذہ پر لاٹھیاں بھی نہیں پڑتی۔
 اس کے علاوہ عدالتوں کا ماتحت عملہ بھی کئی ہفتے احتجاج کرتا رہا۔ انکا کہنا تھا کہ ملک کے با قی تینوں صوبوں میں عدالتی عملے کی تنخواہیں اور سروس اسٹرکچر کچھ اور ہے جو کہ سندھ میں انکو نہیں دیا جا رہا ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والی نرسیں  اور پیرامیڈیکل عملہ بھی سروس اسٹرکچر کے لئے ہڑتالیں اور مظاہرے کرتا رہے۔مختلف سرکاری محکموں کے کلرکوں کی بھی قلم چھوڑ ہڑتال، اور مظاہرے جاری ہیں۔ اساتذہ کے احتجاج کے باعث سندھ یونیورسٹی پچاس روز تک اور سندھ کی باقی یونیورسٹیاں پندرہ روز تک بند رہیں۔ یہ احتجاج  اب نصف دن کے بائکاٹ میں تبدیل ہوگیا ہے مگر جاری ہے۔
نادرا کے ملازمیں نے تین روز تک ہڑتال کی اور مظاہرے کئے۔ ان پر بھی کراچی  پریس کلب  کے سامنے دو مرتبہ لاٹھی چارج کرنے، آنسو گیس پھینکنے اور گرفتاریوں کے بعد حکومت نے اصولی طور پر ان کے مطالبات تسلیم کر لئے ہیں۔ 14ہزرار سے زائد ملازمین کئی سال سے کانٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں نہ انکا کوئی سروس اسٹرکچر ہے نہ سالانہ اضافہ، اور نہ ہی کوئی سوشل سیکیورٹی اور اولڈ ایج بنیفٹ۔اس ادارے کو  قومی شناختی کارڈ اور بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن سے لیکر افغانیوں کی داخلہ، سیلاب متاثرین کی رجسٹریشن اور انکو مالی امدا کے لئے پاکستان کارڈ اور وطن کارڈ جاری کرنے سے لیکر ووٹرز کی داخلا اور لسٹوں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا کام کرنا پڑا۔مطلب ریگیولر کام کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی کام بھی کرایا گیا۔ یہ ایک مستقل کام ہے مگر ملازمین کو مستقل نہیں کیا جاتا۔وفاقی وزارت داخلہ کے تحت چلنے والے اس ادارے میں اعلی عہدوں پر ریٹائرڈ فوجی افسران تعینات ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ادارے میں  سروس اسٹرکچر نہ ہونے کی بڑی وجہ یہی اعلی افسران ہیں۔ جنہیں خود تو تمام سہولیات، پینشن وغیرہ حاصل ہے مگر باقی ملازمین محروم ہیں۔ سروس اسٹرکچر  نافذ ہونے سے ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ نقصان ہو سکتا ہے لہذا یہ لوگ سروس اسٹرکچر کے خلاف ہیں۔ حکومت نے سمری بنا تو لی ہے مگر  اس کو تبدیل کرنے اور کچھ مرعات کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کیا وجہ ہے  یہ سب  ملازمین اس دور حکومت میں ہی احتجاج کر رہے ہیں؟  ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی سے لوگوں کی توقعات زیادہ ہیں۔ احتجاج کرنے والے  لوگ بتاتے ہیں کہ یہ جمہوری دور ہے۔ اس دور میں بھی پچھلی نااصافیوں کا ازالہ نہیں کیا گیا تو کب ہوگا کون آکر ے گا۔
یہ جمہوری دور ہے۔احتجاج کرنا  ہر متاثرہ شخص کاجمہوری حق ہے۔اور اس حق کے اظہار کو باعزت  رکھنا حکومت کی بھی ذمہ داری ہے۔ اس وقت عام آدمی کی وزراء یا دیگر ذمہ دار افراد سے  ملاقات کم از کم کراچی اور سندھ کی حد تک خاصا مشکل ہوگیا ہے۔ لوگ اپنی آواز معاشرے  اور متعلقہ افراد تک پہنچانے کے لیے پریس کلب کا رخ کرتے ہیں۔سندھ کے بڑے شہروں کے کلب ایسے احتجاجوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ کراچی پریس کلب اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ وہ صوبائی دارالحکومت میں واقع ہے اورقومی خواہ عالمی میڈیا کا مرکز بھی ہے۔ مگر اب کراچی پریس کلب حکومت کی نئی سیکیورٹی پالیسی کیبعد ریڈ زون ایریا میں آ گیا ہے۔ جس کے بعد لوگوں سے احتجاج کا حق چھن گیا ہے۔ اور جو وہاں احتجاج کرتا ہے اس پر لاٹھیاں برستی ہیں۔ اگر لوگ احٹجاج کرتے ہیں وزیر اعلی یا گورنر کو یاداشت نامہ پیش کرتے ہیں تو اس کو بندوبست کرنا کوئی مشکل کام نہیں اور نہ ہی اس پر بڑی رقم خرچ ہوگی۔  حکمرانوں کو  تو چاہئے کہ  وہ لوگوں کے پاس چل کر جائیں مگر یہاں معاملہ الٹ ہے۔ لوگ جاتے ہیں تو ان پر تشدد کیا جتا ہے۔
 لوگ جمہوری حکومت پر اپنا حق جتاتے ہیں۔حکومت ان کی حجت کسی حد تک امن بھی رہی ہے مگر تشدد کرنے کے بعد۔یہی سکھا رہی ہے کہ احتجاج کرینگے تو مطالبات مانے جائینگے۔ ورنہ نہیں۔یوں حکومت خود لوگوں کو احتجاج پر اکسا رہی ہے۔

سیاسی طور باشعور مگر خالی پیٹ لوگ۔۔ 2012-2-23

Thu, Feb 23, 2012, 12:51 AM
سیاسی طور باشعور مگر خالی پیٹ لوگ۔۔
میرے دل میرے مسافر۔۔۔۔سہیل سانگی
ملک کے معاشی حالات بد تھے ہی، مگر سیاسی عدم استحکام  اور خراب حکمرانی نے انکو بدتر سے بدترین بنا دیا ہے۔آسمان سے  باتیں کرتی  مہنگائی، شدید بیروزگاریجس کے جہنم میں عام شہری جل رہا تھا۔ سیلاب نے لاکھوں افراد کے اثاثے، گھر اور روزگارچھین لیا۔ملک میں اب عام آدمی کی کیا حالت ہے؟ اسکی ایک جھلک گذشتہ ہفتے جاری ہونے والی رپورٹ میں ملتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پینتیس فیصد گھرانے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں صورتحال اور بھی سنگین ہے۔جہاں ستر فیصد گھرانوں کو خوراک میسر نہیں۔پچاس فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں۔ یعنی انکا قد اور وزن عمر سے مطابقت نہیں رکھتا۔دس سال کے بعد کئے گئے سروے کے مطابق ان دس سالوں میں غذائیت کے معاملے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔حالانکہ اس سے متعلق حکومت کے کئی پروگرام چل رہے ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ حکومت کے پروگراموں میں کوئی ربط نہیں ہے لہذا مشترکہ کوششیں سامنے نہیں آتیں۔
کہنے کو تو بات پاکستان کی ہے مگر دراصل یہ قصہ سندھ کا ہے۔جہاں گذشتہ دو سال سے بارش اور سیلاب کے بعد صورتحال ابترہوگئی ہے۔کیونکہ ان دو سیلابوں سے قبل  پاکستاں کا  یہ جنوبی صوبہ پانی کی قلت اور خشک سالی کا شکار رہا ہے۔
سروے کے مطابق خوراک میں کمی کی بڑی وجہ غربت ہے۔یہاں پچاس فیصد گھرانے ایسے ہیں جنہیں مطلوبہ خوراک دستیاب نہیں۔ صوبائی وزیر صحت نے بھی اس سروے کو حقیقت قرار دیا  اور کہا کہ گذشتہ دو سال میں بارش اور سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو بے دخل ہونا پڑا۔ جس کے باعث غربت میں بھی اضافہ ہوا اور خوراک کی کمی میں بھی۔پولیو اور دیگر امینائزیشن پروگرام کے نتائج اس لئے سامنے نہیں آرہے ہیں جس کی وجہ خوراک کی کمی ہے۔
 سندھ کے کئی علاقوں سے گذشتہ سال کی بارش کا پانی کا اخراج نہیں ہوسکا ہے۔ پانی کی نکاسی نہ ہونے کے باعث ہزاروں لوگ نہ گھروں کو جا سکے اور نہ ہی کھیتی باڑی کر سکے ہیں۔ اسوقت یہ لوگ بے گھربھی ہیں اور بیروزگار ہیں۔سرکاری و غیرسرکاری اداروں کی امدادی کاروائیاں ناکافی تھیں، اس پر طرح یہ سے تقسیم میں روایتی امتیاز اور کرپشن، جس نے عام آدمی کے لئے رلیف کو محدود کردیا۔صوبائی خواہ نیشنل ڈزاسٹر اتھارٹی کے پاس اپنا کوئی نیٹ ورک نہیں ہے لہذا انہیں حکومت کے روایتی نیٹ ورک پر ہی انحصار کرنا پڑا۔ اور یہ نیٹ ورک محکمہ روینیو کا تھا جہاں پٹواریوں اور تحصیلداروں کی کرپشن کے ریکارڈ پہلے ہی موجود ہیں۔حدہے کہ بعض این جی اوز نے رلیف کے مختلف پروجیکٹس کمیشن دے کر حاصل کئے۔لہذا انہوں نے ا سی خلوص سے ان پروجیکٹس میں پیسے خرچ کئے۔جس خلوص سے پروجیکٹس لئے تھے۔لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یا توپاکستان کو کرپشن کے معاملے میں دنیا بھر میں اتنا ”مشہور“ کیا ہوا تھا کہ ڈونرز پیسے اور پروجیکٹس نہیں دے رہے تھے کہ حکومتی مشنری کرپٹ ہے مگربعض غیرملکی غیر سرکاری تنظیموں نے حکومتی اہلکاروں کے بھی رکارڈ توڑ دیئے۔
امدادی  سرگرمیوں میں آنے والی غیر سرکاری تنظیموں نے کا دوسرا نقصان دہ یہ تھا کہ انہوں نے ملازمتوں اور اشیاٗ کی ترسیل میں مقامی آبادی کو نظرانداز کیا۔ باورچی، ڈرائیور تک صوبہ خیبر پختونخوا سے لائے گئے۔ ملازمتوں میں مقامی آبادی کو نظرانداز کرنے پرآواز کچھ آواز اٹھی مگر بے اثر رہی۔اگر رلیف کے کام میں مصروف ادارے مقامی آبادی کو ملازمتوں میں ترجیح دیتے تو ہزاروں لوگوں کو روزگار ملتا اور اسکا براہ راست اثر اس علاقے پر پڑتا۔
 متاثر ہ علاقوں میں خوراک اور غذائیت کی کمی کا باعث خود ریلیف کے بعض پروگرام بھی بنے۔جن علاقوں میں پانی خشک ہوا اور زمین کاشت کے قابل بنی وہاں کچھ این جی اوز نے نقد فصل بونے کا نہ صرف پرچار کیا بلکہ لوگوں کی مدد بھی کہ وہ خوردنی فصلوں کے بجائے نقد فصلوں کو ترجیح دیں۔ نتیجے میں سبزیاں اور دیگر خوراک کی فصلیں بہت ہی کم  بوئی گئیں۔ آج سندھ میں سبزیوں وغیرہ کی بے انتہا کمی ہے اور ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور جو کہ ایک غریب گھر کے لئے سبزی خرید کر پکانا محال ہو گیاہے۔
2010کے سیلاب کے متاثرین آج تک بے گھر اور بیروزگار ہیں۔ جبکہ اتنی ہی آبادی 2011 میں بارشوں سے متاثر ہوئی۔چھ ماہ  بعد دنیا  اس بحران کوبھول گئی ہے۔قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی عدم توجہ کے باعث اقوام متحدہ کی تقریبا  پینتیس کروڑ ڈالر کی اپیل کے جواب میں بمشکل نصف رقم ملی ہے۔  امدادی رقم کی کمی کی وجہ سے بحالی کی کوششوں کو سخت خطرہ لاحق ہے۔
 سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں غذائیت کی کمی خطرناک حد تک بڑھی ہوئی ہے۔سیو دی چلڈرین کے کنٹری ڈائریکٹر ڈیوڈ رائٹ کا کہنا ہے کہ سیلاب نے چھپی ہوئی  غربت اور غذائی کمی کو ظاہر کر دیا ہے۔جہاں افریقہ کے سب صحرا سے بھی بدتر صورتحال ہے۔
  دنیا کے کل غذائیت کی کمی کے شکار کا  بچوں کی نصف تعدادپاکستان بنگلادیش، انڈیا، نائجیریا اور پیرو میں رہتی ہیں۔ پاکستان میں ایک سال تک مسلسل  قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے بعد 38 فیصد خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے  کھانے کے اشیاء میں کمی کی ہے۔، 22فیصد والدین کا کہنا ہے کہ انکے بچوں کے پاس کھانے کے لئے مطلوبہ خوراک نہیں ہے۔بڑے پیمانے پر سیلاب نے فصلوں اور روزگار کے ذرائع کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔ جس سے اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس نے غریب کھرانوں کو مجبور کیا ہے کہ کھانے کی اشیاء میں کمی کریں۔ ملک میں 80فیصد گھرانے خوراک کے حوالے سے  غیر محفوظ ہیں جن میں سندھ سب سے زیادہ متاثر ہے۔سندھ جو سیاسی طور پر زیادہ باشعور سمجھا جاتا ہے وہ اب خالی  پیٹ ہے۔
اشیائے خوردنی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور غذائیت کی کمی  وجہ  سے پاکستان میں آ ّئندہ 15 برسوں کے دورانغیر صحتمندبچے پیدا ہونے کا تناسب بہت ہی بڑھ جائیگا۔ 
 یہ کوئی پہلی رپورٹ نہیں ہے جس میں اتنی تشویشناک صورتحال کو بیان کیا گیا ہے۔گذشتہ ماہ نیشنل  نیوٹریشن سروے  میں بھی اسی طرح کے اعداد و شمار پیش کئے گئے تھے۔ 2011 کی عالمی بنک کی رپورٹ میں کہا گیا تھا غریب ترین خاندان  اپنی آمدنی کا ستر فیصد سے زیادہ  خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔ بیروزگاری اور عدم خواندگی کے بڑھتے ہوئی شرح  کی وجہ سے صورتحال مزید بھیانک ہو جاتی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ اس صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔مگر یہ سب ٹکڑوں میں کیا گیا۔تعجب کی بات ہے کہ اکثر غریب مزید غریب ہتے جا رہے ہیں، جن کو بہت ہی بنیادی انسانی حق حاصل نہیں۔ 
حکمرں آئے دن اپنے مسائل میں اتنے الجھے رہتے ہیں کہ انکو شہریوں کی  یادبہت ہی کم آتی ہے۔حکومت اور سیاستداں اپنی سہولت کے قوانین تو چند گھنٹوں میں منظور کرا دیتے ہیں مگر ایسے قوانین جس سے عام آدمی کا بھلا ہو اس کے لئے پروسیجر آڑے آ جاتا ہے اور کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں۔ 
ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ میں بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کو خوراک اور شیلٹر سے جوڑا جائے۔ معاشرے کے پسماندہ طبقوں، خاص طور پر شیڈیول کاسٹ اور بے زمین کسانوں کی امداد کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ان لوگوں کو طویل مدت تک مدد کی ضرورت ہے۔لہذا کمیونٹیز کو مضبوط بنانے اور مزید فنڈز کے انتظامات کئے جائیں تاکہ انکا روزگار بحال ہو سکے۔

سنیٹ میں سندھ کی نمائندگی -2012-2-20

Mon, Feb 20, 2012, 12:57 AM
 سنیٹ میں سندھ کی نمائندگی کا سوال 
سہیل سانگی
سینٹ کے انتخابات کا اثر کسی اورصوبے پہ ہو نہ  ہو، سندھ جہاں مختلف لسانی گروپ بستے ہیں، وہاں  میں اس کے اثرات واضح نظر آرہے ہیں۔ ان انتخابات کے بعد یہاں مختلف لسانی آبادیوں اور مکتب فکر کی نمائندگی میں ردو بدل واقع ہوگا۔ وفاقی سظھ پر  حکومت کی پالیسی تھی کہ سنیٹ کے انتخابات بلامقابلہ ہوں۔ جسکا اظہار بعض نشستوں پر نظر بھی آیا۔ مگر ویراعلی سندھ سید قائم علی شاہ کااس بات پر مصر تھے کہ انکے صوبے میں ہر حال میں  سنیٹ کے انتخابات بلامقابلہ ہوں سندھ اسمبلی میں موجود باقی تمام گروپوں اور جماعتوں کو اکموڈیٹ کر لیا گیا ہے کیونکہ وہ سب کی سب حکمران اتحاد میں شامل ہیں۔ صرف ارباب غلام رحیم کا گروپ باقی ہے مسلم لیگ ہم خیال کے نام سے  وجود رکھتا ہے۔انکی فرمائشیں ذرا لمبی تھیں جو حکومت پوری نہ کر سکی۔ لہذا محض اس گروپ کی وجہ سے انتخابات کو پروسیس ہوگا۔
۔یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ بلامقابلہ انتخابات کی اتنی مجبوری کیا ہے۔
وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے مسلم لیگ ہم خیال کے ارباب رحیم سے فون پر دبئی رابطہ کیا تھا۔اور ان سے کہا تھا کہ وہ سندھ میں سنیٹ کے اپنے امیدوار دستبردار کرادیں۔ارباب رحیم کا مطالبہ ہے کہ سنیٹ کی ایک عمومی سیٹ عبدالغفار قریشی کو دی جائے۔اور انہیں سنیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن بنایا جائے۔  یہ شرائط حکومت کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔مسلم لیگ ہم خیال کے ارباب رحیم کی چھٹی کی درخواست اسمبلی میں پیش نہیں کی جا سکی۔حالانکہ وزیر قانون  ایاز سومرو نے بدھ کو کہا تھا کہ درخواست پر فیصلہ جمع تک موخرکرنے کو کہا تھا۔اسمبلی میں درخواست پیش ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اور حکومت کے درمیان بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔یوں سندھ میں بلامقابلا سنیٹ کے انتخابات کے امکان ختم ہو گئے ہیں۔
انتخابات  کے بعدارباب رحیم کو اسمبلی بلڈنگ میں ایک نوجوان نے جوتا مارا تھا۔ جس کے لئے انہوں نے پیپلز پارٹی کو لیڈروں کو ذمہ دار ٹہرایا تھا۔  بعد وہ دبئی چلے گئے اور اسمبلی کے کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور لیڈروں کو بشمول کامریڈ جام ساقی،  سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا تھا۔اورمحترمہ بے نظیر بھٹو اور صدر آصف زارداری کے خلاف ہتک آمیز زبان استعمال کرتے رہے۔
کراچی کی نمائندگی
 کراچی تمام پارٹیوں کے لئے اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں ہر سیاسی جماعت اپنا وجود  اورنمائندگی رقائم رکھنا  چاہ رہی ہے۔ ان انتخابات کے بعد سنیٹ میں سندھ سے نمائندگی کی کمپوزیشن بڑی عجیب بن جائے گی۔ سندھ میں کل 23 سنیٹرز میں سے 13کا تعلق کراچی سے ہوگا۔اس طرح سے کراچی ملک کا واحد شہر ہوگا جس کی ایوان بالامیں اتنی بڑی نمائندگی ہوگی۔ ایم کیوایم  جو کہ کراچی کی سیاسی نمائندگی کی اکیلی دعویدار کہلاتی ہے اس نے اس مرتبہ  چاروں امیدوار کراچی سے نامزد کئے ہیں۔ اس سے پہلے ایک سنیٹر احمد علی بروہی اندرون سندھ سے تھے۔لہذا اب  ایم کیو ایم کے ساتوں سنیٹرز کراچی سے ہونگے۔
 ایم کیو ایم کے علاوہ خودپیپلز پارٹی کے چھ سنیٹرز یعنی وزیر داخلہ رحمان ملک، رضا ربانی، ڈاکٹر عاصم حسین،  فاروق نائک، مسز مدثرسحر کامران،  اور الماس پروین کراچی سے ہونگے۔ حالانکہ پیپلز پارٹی  سندھ اسمبلی میں کراچھی سے نشستیں  بمشکلایک سنیٹ کی نشست کے برابر ہونگی۔
اے این پی
کراچی شہر پٹھانوں کے لئے  اہم شہر بنتا جا رہا ہے۔جہاں مستقبل میں بھی  پٹھانوں کی آبادکاری کی گنجائش موجود ہے۔اس وقت بھی کراچی پٹھانوں کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اے این پی کے پاس گنجائش نہیں تھی کہ کراچی سے  اپنا سنیٹرلے آتی۔ اس نے یہ کسر یوں پوری کی کہ پارٹی کے صوبائی صدر کو خیبر پختونخوا سے سنیٹ کی ٹکٹ دی ہے۔ حالانکہ ان کے سیاسی کام کا دائرہ کراچی رہا ہے اور وہ اے این پی سندھ کے صدر ہیں۔یوں  شاہی سید کراچی کی ہی نمائندگی کریں گے۔ کراچی میں اس وقت بھی  پشتو  بولنے والوں کی ایک صوبائی اسمبلی کی نشست ہے، اور اسے سندھ حکومت میں نمائندگی بھی حاصل ہے۔افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آبادکاری نے پٹھان آبادی کی پوزیشن اور مضبوط کردی ہے۔بعض حلقوں کا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات میں اگر حلقہ بندی صحیح رہی تو پٹھان آبادی کو کم از کم دو صوبائی اور ایک قومی کی نشست مل سکتی ہے۔ اس آبادی کی نمائندگی کونسی جماعت کرے؟ اس پر صوبہ خیبر پختونخوا  میں اثر رکھنے والی  دو بڑی جماعتیں اے این پی اور جمیعت علمائے اسلام (ف)  زور لگا رہی ہیں۔جبکہ تحریک انصاف کے عمران بھی کوشش کریں گے کہ پشتون آبادی کی سیٹ ان کے حصے میں آئے۔ مولانا فضل الرحمان کا کراچی کا جلسہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔مولانا فضل الرحمان کے پاس مذہبی نعرہ ہے اور اے این پی کے پاس  یہ قوت کہ وہ طاقت کے زور پر کراچی میں پٹھانوں کے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے۔جے یو آئی کا خیال ہے کہ وہ پٹھان ووٹ کے علاوہ مذہبی رجحانات کے حامل غیر پٹھان ووٹ کو بھی اپنی طرف لا سکتی ہے۔ ایسے میں انہیں مذہبی جماعتوں کا اتحاد کام آتا ہے۔
غیر سندھی نمائندے
سندھ کے لوگوں کو یہ بھی شکایت رہی ہے کہ سنیٹ میں  ان کی نمائندگی  مؤثر اوردرست نہیں۔ پیپلز پارٹی کے کئی سنیٹرز کا تعلق مقامی آبادی سے نہیں، وہ نان سندھی اسپیکنگ ہیں۔پیپلز پارٹی کے پاس کل 14سنیٹرز میں چھ  نان سندھی اسپیکنگ ہیں۔یعنی وزیر داخلہ رحمان ملک، رضا ربانی، ڈاکٹر عاصم حسین،  فاروق نائک، مسز مدثرسحر کامران،  اور اسلام الدین شیخ۔  یہ حضرات سندھ  اور اس کے لوگوں اور حقوق کے بارے میں واضح سوچ نہیں رکھتے۔پیپلز پارٹی پر  اس حوالے سے تنقید ہوتی رہی ہے کہاس نے سیاسی مصلحت کی بنا پر سندھیوں کی نمائندگی غیر سندھیوں کے حوالے کی ہوئی ہے۔
مسلم لیگ (ق) اور جے یو آئی
نئی سنیٹ کے خدوخال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ق) اور جے یو آئی کی سندھ سے نمائندگی ختم ہو گئی۔ جبکہ مسلم لیگ فنکشنل کی نمائندگی دو سے کم ہو کر ایک رہ جائے گی۔ ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہونے کی دعویدار مسلم لیگ (ن) کا تو سنیٹ یا اسمبلی میں نمائندگی کے حوالے سے کوئی ذکر فکر ہی نہیں، کیونکہ اس جماعت کی سندھ سے قومی خواہ صوبائی اسمبلی میں کوئی سیٹ نہیں۔
 علماء کی نمائندگی ختم
سیاسی طور اندرون سندھ کبھی بھی مذہبی جماعتوں کے زیر اثر نہیں رہا مگر کراچی اور حیدرآباد میں اردو آبادی کی وجہ سے خاصے مذہبی اثرات رہے ہیں۔ستر کے انتخابات میں جب ملک میں قوم پرست ، سیکیولر اور سوشلزم کے نعرے پر لوگوں نے ووٹ دیئے تب بھی کراچی اور حیدرآباد سے جماعت اسلامی اور مولانا نورانی کی جمیعت علماے پاکستان کے ممبران منتخب ہوئے تھے۔ ایم کیو ایم نے ان دو شہروں میں مذہبی جماعتوں کے سیاسی اثر کو توڑا۔مگر اس کے باوجود کراچی میں مجموعی طور پر مذہبی اثر گاہے بہ گاہے نظر آتا رہا ہے۔حیدرآباد سے تو  بعد میں بھی جے یو پی ایک آدھ نشست جیتتی رہی ہے۔سنیٹ میں جے یو آئی کے ڈاکٹر خالد محمود سومرو اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد سندھ سے علماء کا بھی کوئی نمائندہ نہیں ہوگا۔
ٓیم کیو ایم کی نشستوں میں اضافہ 
ایم کیو ایم کے تین سنیٹرز کرنل سید طاہر حسین مشہدی، احمد علی بروی ریٹائر ہوئے مگر اس کو تین کے بجائے چار نشستیں مل رہی ہیں۔جس کے بعد ایم کیو ایم کے پاس سنیٹ میں سات نشستیں ہو جائیں گی۔
 ایک چیز مثبت ہوئی ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس مرتبہ کارکن طبقے کو سنیٹ میں جگہ دی ہے۔ مسز مدثرسحر کامران، اعجاز دھامراہ اور سعید غنی پرانے جیالے ہیں۔ اعجاز دھامراہ  پارٹی کے بانی بھٹو کے ساتھی اور پارٹی کے بنیادی رکن قاضی محمد بخش دھامراہ کے خاندان سے ہیں۔ سعید غنی مزدور رہنما اور مسلم کمرشل بنک ایپملائز یونین کے رہنما  کے بیٹے اور کراچی میونسپل میں اپوزیشن لیڈر رہے ہیں۔
سندھ سے منتخب  والے سنیٹرز میں سے چند ایک کو چھوڑ کر ایک بڑی اکثریت نے ایوان میں شاید ہی کبھی لب کشائی کی ہو۔ یہ حضرات صرف  کسی بل پر ووٹ دینے کا  آلہ بنے رہے ہیں۔مگر سندھ کے لوگ چاہتے ہیں کہ جب ملک کے اندر سیاسی صف بندی تبدیل ہو رہی ہے  اور صوبوں کے مابین بھی نیا  سیاسی ایڈجسٹ منٹ بن رہا ہے، ایسے میں انکی صحیح اور مؤثر نمائندگی ہو۔ 

پیپلز پارٹی کا سندھ میں امتحان -2012-01-26

Thu, Jan 26, 2012, 11:56 AM
پیپلز پارٹی  کا  سندھ میں امتحان 
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
بیسویں آئینی ترمیم  کے ذریعے نئے صوبوں کی تشکیل کا طریقہ کار تبدیل کرنے کے بل نے سندھ میں پیپلز پارٹی کے لئے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ سندھ اسمبلی میں اس آئینی ترمیم کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی کوشش اور قوم پرستوں نے ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ نیشنل پیپلز پارٹی کے رہنما اوراعتدال پسند سیاستداں مرحوم غلام مصطفی جتوئی کے بیٹے مسرور جتوئی سندھ اسمبلی میں سندھ کی موجودہ جغرافیائی سرحدوں کے آئینی تحفظ کے لئے ایک قراردد پیش کرنا چاہ رہے ہیں۔ لیکن تین مرتبہ ایسی کوشش کے باوجود انہیں قرارداد پیش نہیں کرنے دی گئی۔
نئے صوبے بنانے یا صوبوں کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی کے لئے آئین میں طریقہ کار موجود ہے۔ آرٹیکل239  کی شق4 کے تحت ایسی کسی تقسیم یا تبدیلی کے لئے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت لازمی ہے۔ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پیش کردہ بل میں نئے صوبوں کے قیام کے لئے متعلقہ صوبائی اسیمبلی کی دو تہائی اکثریت کے بجائے ریفرینڈم کے ذیعے فیصلہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جس کی سندھ کے سیاسی حلقے مخالفت کر رہے ہیں۔
اگرچہ یہ قرارداد نیشنل پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز پیش کررہے تھے مگراس پر پیپلز پارٹی  وزراء کے علاوہ دو اور اتحادی جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل اور اے این پی کے ایم پی ایز نے بھی دستخط کئے تھے۔ دستخط کرنے والے پیپلز پارٹی کے اکثریت ان ممبران کی ہے جو کبھی سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے قریبی سمجھے جاتے تھے۔ سندھ اسمبلی اگر یہ قرارداد منظور کرلیتی ہے تو ا قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی پیش کی گئے بیسویں ترمیم منظور کرانا محال ہو جائے گا اور یہ بل سیاسی اور اخلاقی حمایت سے محروم ہو جائیگا۔ لہذا ایم کیو ایم کے لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ  اس قرارداد کو سندھ اسمبلی میں روکنے کے لئے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی پر دباؤ ڈالے۔ایم کیو ایم جو اپنے کارڈز بڑے احتیاط اور سلیقے سے کھیلنے کے لئے مشہور ہے اس کے آئینی ترمیم کے بل کا راستہ بلاک کیا جا رہا تھا۔
  اس صورتحال کو دیکھ کرمتحدہ کے ایک رہنمانے وزیر داخلہ رحمان ملک کو فون کرکے بتایا کہ پیپلز پارٹی ان کی بیسویں آئینی ترمیم کے خلاف سندھ اسیمبلی میں قرارداد منظور کرانا چاہ رہی ہے۔جسے روکا جائے۔ وزیراعلی سندھ نے  اتحادیوں کی شکایت کا فوری نوٹس لیا اور اس قرارداد پر دستخط کرنے والے پی پی پی کے اراکین اسمبلی کو چیف منسٹر ہاؤس طلب کیا۔ اس اجلاس میں 30 میں سے 10 ایم پی ایز نے شرکت نہیں کی۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے اراکین سے وزیر اعلی نے پوچھ گوچھ کی کہ انہوں نے کس کی اجازت سے ایم کیو ایم کی بیسویں ترمیم کے خلاف قرارداد پر دستخط کئے۔اور انہیں بتایاگیا کہ یہ عمل پارٹی پالیسی کے خلاف ورزی ہے۔ اراکین نے بتایا کہ انہوں نے ووٹروں کے مطالبے پر دستخط کئے ہیں اور اگر وہ اپنی دستخطوں سے دستبردار ہوئے تو اپنے حلقہ انتخاب میں نہیں جا سکیں گے۔تاہم وزیراعلی نے انہیں اب خاموش رہنے کی تلقین کی۔
نیشنل پیپلز پارٹی سندھ میں حکمران اتحاد میں شامل ہے۔صوبائی کابینہ میں ایک وزیر بھی شامل ہے۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے نیشنل پیپلز پارٹی  نے سنیٹ کی ایک سیٹ کی فرمائش کی تھی، اور انکار پر پیپلز پارٹی کو امتحان میں ڈالا ہے۔
  نیشنل پیپلز پارٹی کے ایم پی اے مسرور جتوئی کی مجوزہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں پیش کردہ بیسویں آئینی ترمیم کے بل پر سندھ کے عوام کو شدید تحفظات اور خدشات ہیں۔ یہ اسمبلی آئین کے آرٹیکل239 کی شق 4 میں ترمیم کی مخالفت کرتی ہے۔اس آئین  پر بانیان نے دستخط کئے تھے جس میں سندھ کی سرحدوں کو تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔یہ اسمبلی اور سندھ کے عوام ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جو مستقبل میں سندھ کی تقسیم میں معاون و مددگار بنے۔اسپیکر نثار کھڑو نے اپنی صفائی پیش کی کہ ان کا کوئی قصور نہیں، ایم کیو ایم بھی ایک ایسی قرارداد لانا چاہ رہی ہے۔
اگرچہ ایم کیو ایم کی رابطہ کیمٹی کے فاروق ستاراندرون سندھ کے دورے کے دوران اور پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد سندھ اسمبلی میں یہ کہ چکے ہیں کہ وہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔ مگر سندھ کے مختلف حلقوں کی ان یقین دہانیوں سے تشفی نہیں ہو سکی۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی تمام تر سیاست کا محور کراچی اور سندھ ہے۔ خدشہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس بنیاد پر سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ میں نئے صوبوں کی تشکیل کا طریقہ کارتبدیل کرنے کے خلاف تحفظات کا کھل کر اظہار کیا جا رہا ہے۔ دانشور حلقوں کی جانب سے مباحثے اور کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں۔  تاہم ایم کیو ایم سکھر میں جلسہ کر رہی ہے جس میں خوشحال سندھ کا نعرہ دے کر ان خدشات اور تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تاریخ سے واقف قانوندانوں کا کہنا ہے کہ بہاولپور ریاست کو ایک ایگزیکیوٹو آرڈر کے تحت مغربی پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔ اور یہ ایگزیکیوٹو آرڈ واپس لینے سے  بہاولپور ریاست  بحال ہو جائے گی۔  جس کو سرائیکی صوبہ بنایا جا سکتا ہے۔بعض حلقوں نے پیپلز پارٹی کو تجویز دی ہے کہ وہ فی الحال سرائیکی صوبے کی تجویز سے دستبردار ہو جائے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے ایک ایسا پنڈورا باکس کھلے گا  اور وہ قوتیں جو سندھ کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں وہ سندھ کا معاملہ بھی سرائیکی صوبے سے نتھی کریں گی۔ جس میں سب سے زیادہ نقصان سندھ کا ہوگا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کا ترمیمی بل خود سرائیکی صوبے کی راہ روک دے گا۔اور پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیاں اختلافات کی ایک  اور وجہ بن جائے گا۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی، جیئے سندھ قومی محاذ،  جیئے سندھ محاذ،عوامی تحریک، سندھ نیشنل فرنٹ اور دیگر پارٹیوں پر مشتمل سندھ بچاؤ کمیٹی نے بیسویں ترمیم کا آئینی بل واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔اورا28 جنوری کو بیسویں آئینی ترمیم کے بل کے خلاف صوبے بھر میں ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ایم کیو ایم کے سکھر والے جلسے کے ایک دن بعد یہ ہڑتال کی جا رہی ہے۔ قوم  پرست  لیڈروں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے بعدبھی بیسویں آئینی ترمیم کا بل واپس نہ لیا گیا تو لانگ مارچ، ہڑتالوں کے ذریعے حکمرانوں کا چلنا دوبھر کردیں گے۔ چند ماہ قبل صوبے میں دو طرح کے بلدیاتی نظام رائج کرنے کے خلاف سندھ بھر میں کامیاب ہڑتال ہو چکی ہے۔
پتہ چلا ہے کہ اب پیپلز پارٹی اس اشو پرصوبائی اسمبلی میں نئی قرارداد لانا چاہتی ہے۔ مگر اس میں آئین کے آرٹیکل  239کی شق4میں ترمیم کاذکر نہیں ہوگا۔یوں پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی ناراضگی سے بھی بچنا چاہتی ہے اور سندھ میں موجود بے چینی کو بھی ٹھنڈا کرنا چاہتی ہے۔ لیکن نیشنل پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہناہے کہ پیپلز پارٹی کی تجویز کردہ قرارداد میں مسرور جتوئی کی قرارداد کی روح شامل نہیں ہوگی۔
 پیپلز پارٹی اپنی جانب سے کوئی قرارداد پیش کرکے اسمبلی کے اندرجو سیاسی پیش رفت ہوئی تھی اس سے تو بچ سکتی ہے اور اپنی اتحادی جماعت کا بھی تحفظ کرسکتی ہے مگر سڑکوں پر احتجاج کا کیا کرے گی؟ اور صوبے بھر میں موجود رائے عامہ کو کیسے بدل دے گی؟ یہ اس کے لئے ایک
 امتحان ہے۔

سندھ تبدیلی کے دہانے پہ -2012-10-23

Mon, Jan 23, 2012, 10:32 AM
 سندھ تبدیلی کے دہانے پہ
 کالم۔۔ سہیل سانگی
”بھوتار کلچر“ یعنی وڈیرہ شاہی سے بیزا ر سندھ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں افراد سندھ کے عظیم شاعرجن کواب لوگ سیاسی امام کہنے لگے ہیں شاہ عبداللطیف بھٹائی کی مزار پربھٹ شاہ میں جمع ہوئے اور تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔مگر نئی پارٹی بنانے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ جس کا بڑا چرچا تھا۔ ااس بڑے مجمع کے محرک سندھی میڈیا گروپ ”کاوش“کے ایڈیٹر علی قاضی ہیں جو گذشتہ کئی برس سے اس آئیڈیا پر کام کر رہے تھے کہ صوبے کے بھوتار کلچر (وڈیرہ شاہی)میں کیونکر تبدیلی ممکن ہے۔ انہوں نے صوبے کے مختلف شہروں میں جا کر مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے صلاح مشورہ کرتے رہے اور اس سوال کا جواب تلاش کرتے رہے۔ 
علی قاضی کا تعلق سندھ کے جانے پہچانے سیاسی گھرانے اور میڈیا فیملی سے ہے ان کے والد قاضی محمد اکبر پرانے مسلم لیگی تھے اور سندھی صحافت کو بطور ادارہ  بنانے کے پیش رو تھے۔ان کے انتقال کے بعد علی قاضی نے والد کے صحافتی مشن کو آگے بڑھایا۔ اور ایک شام کے اخبار سے آغاز کیا، بعد میں یہ ادارہ ترقی کر کے میڈیا گروپ  بن گیا  اور اب یہ گروپ   نصف درجن مقبول اخبارات اور جرائد کے ساتھ ساتھ دو ٹی وی  چینل کا بھی مالک ہے۔
صحافی سے سیاستدان بننے والے علی قاضی پندرہ سال سے نجی محفلوں میں، دانشوروں، سیاسی کارکنوں اور سماج کے مختلف حلقوں کے ساتھ سندھ میں تبدیلی کے موضوع پر بحث بھی کرتے رہے اور لکھتے بھی رہے۔ اس موضوع پر انہوں نے دو کتابیں بھی لکھی۔ان کا کہنا ہے کہ خراب حکمرانی، ٹوٹا پھوٹا انفرا اسٹرکچر،  ڈاکو فیکٹر، بھتہ خوری  کے ساتھ ساتھ امن امان کی بدترین صورتحال، صحت، تعلیم جیسے شعبے یہاں کے لوگوں کی قسمت تو نہیں۔ وڈیروں کے ایک ٹولے کی حکومت آتی ہے تو دوسرے ٹولے کی آجاتے ہیں۔ انتخابات میں عام آدمی کا ووٹ بے وقعت ہوکر رہ گیا ہے۔الیکشن ہو تو بھی نا ہوں تب بھی عام آدمی کے حالات زندگی تبدیل نہیں ہو رہے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ کہ اگر آج لوگ ان کو ’نو“ کہہ دیں تو تبدیلی آجائیگی۔ 
علی قاضی ایک ذہین شخص ہیں۔ بطور ایڈیٹر کے انہوں نے بولڈ صحافت کی اور انسانی حقوق اور دیگر اہم نئے موضوعات سندھ کی صحافت میں متعارف کرائے۔ وہ بہت ہی متحرک بندہ ہے ان کے ملک کی تقریبا تمام اہم سیاسی شخصیات سے روابط  اور اٹھنا بیٹھنا رہا ہے۔اور ادبی اور معاشرے کے دیگر طبقات سیبھی خاصا  انٹر یکشن  ہے۔
دو سال قبل انہوں نے سندھی کلچر ڈے منایا تھا، جس کو صوبے بھر میں بڑی پذیرائی ملی، اور سندھ کے تمام شہروں میں ہزاروں لوگ  اجرک اور ٹوپی پہن کے سڑکوں پر نکل آئے۔  ایک سال  بعد جب  دریائے سندھ میں مٹی اڑ رہی تھی تو انہوں نے سندھو دریا کا دن منانے کی اپیل کی کہ اگر لاکھوں لوگ دریائے سندھ پر پہنچ جائیں تو صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ انکی اس کال کو بھی زبردست رسپانس ملا اور لاکھوں لوگ مقررہ دن پر سندھ بھر میں دریا کے کنارے جمع ہوئے۔اور دریا بادشاہ  پر پھول نچھاور کئے۔ لوگوں کو متحرک کرنے کے ان دو کامیاب تجربوں کے بعد علی قاضی نے باضابطہ  تبدیلی کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا جو کہ برہ راست سیاسی نعرہ تھا۔ اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ بھٹ شاہ پر وہ  نئی پارٹی کا اعلان کریں گے۔ مگر انہوں نے یسا نہیں کیا۔حالانکہ وہ اس سے قبل نئی پاڑتی بنانے کا عندیہ دے چکے تھے۔ 
  ”تبدیلی“کے نعرے کے ساتھ انہوں نے ڈیڑھ ماہ قبل باقاعدہ مہم  شروع کی۔سندھ کے کونے کونے میں گئے اور 188جلسے کئے۔ تمام لوازمات کے باوجود انہوں نے پارٹیٰ کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم یہ جلسہ اور صوبے بھر میں منعقدہ ریلیاں اس بات کا اظہار ہیں کہ لوگ فوری طور پر تبدیلی چاہتے ہیں 
سندھ میں پیدا ہونے والی اس تحریک کو شہری اور درمیانہ طبقے، پرانے سیاسی کارکنوں، ادیبوں، دانشوروں اور نوجوانوں کی حمایت حاصل ہے۔سول سوسائٹی کے یہ لوگ کھڑے ہوئے پانی میں پتھر پھینک کر وڈیرہ شاہی کے خلاف جمود کوتوڑنا چاہتے ہیں۔اور وڈیرہ شاہی کلچر کے  مدمقابل متبادل کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے نئی پارٹی کیوں نہیں بنائی؟ یہ سوال سندھ بھر میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ ان کے بعض قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ علی صاحب کا شروع سے یہی  خیال تھا کہ اگر بھٹ شاہ پر کم از کم ایک لاکھ افراد جمع ہوئے تو وہ سیای جماعت کے قیام کا اعلان کرینگے۔ مجمع ایک لاکھ سے تو کم تھا یعنی محتاظ اندازے کے مطابق  ساٹھ  ستر ہزار افراد تھے۔مگر سیاسی معنوں میں اتنے بڑے مجمع کو ایک لاکھ کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ  محتاط طبیعت کے ہیں، جلد بازی میں کوئی کام نہیں کرنا چاہتے۔ وہ اس ہر مزید ہوم ورک کرنا چاہتے ہیں۔ باقاعدہ پارٹی منشور، کارکنوں کا کیڈر، دوسری سطح کی قیادت وغیرہ پر ابھی کام کرنا باقی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ملک میں موجود سیاسی بحران کی نوعیت کے پیش نظر انہوں نے اس مرحلے پر پارٹی بنانے کا فیصلہ فی الحال ملتوی کردیا ہو۔ ان میں سے جو بھی صورتحال ہو یہ طے ہے کہ سندھ کے لوگوں نے تبدیلی کا اشارہ دے دیا ہے۔ یہ تبدیلی کیسے ہوگی، اس کی شکل کیا ہوگی، اور نئی صورت کیا ہوگی؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات  سیاسی لوگ اور تجزیہ نگار تلاش کر رہے ہیں۔ کیونکہ خود علی قاضی اور دوسرے تبدیلی پسندوں نے ابھی تک کوئی روڈ میپ نہیں دیا ہے۔
اس پوری تحریک سے ایک اور سوال نے بھی جنم لیا ہے کہ کیا میڈیا معاشرتی تبدیلی میں براہ راست کردار ادا کر سکتی ہے؟ اس تحریک میں میڈیا نے بہت بڑا رول ادا کیا ہے۔
بھٹ شاہ کے جلسے کی خاص بات یہ تھی کہ سارے لوگ اپنے خرچے پر ہی آئے تھے اور انکا تعلق خاموش اکثریت سے تھا۔ روایتی سیاسی کارکن اخال خال موجود تھے۔ایک مبصر نے خوب تجزیہ کیا کہ روایتی سیاسی کارکن اپنی اپنی پارٹیوں سی کمٹیڈ ہیں وہ اب پروفیشنل بن گئے ہیں اور ان کے مفادات  پہلے سے موجود پارٹیوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔لہذا نہ وہ  آئے اور نہ ہی ان کو آنا چاہئے تھا۔ یہ تو پورا معاملہ ایک طرح سے اان کے خلاف تھا۔
 یہ پارٹی تو بنے گی آج نہیں بنی تو کل صحیح۔دیکھا جائے تو یہ تحریک سندھ کے شہری درمیانہ طبقے کی ہے۔ جس کو شہروں میں نہ  نمائندگی مل رہی ہے نہ اس کی حیثیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔دیہی علاقوں کا وڈیرہ اس شہری طبقے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اور نہ ہی ان کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔یہ شہری درمیانہ طبقہ تعلیم، کاروبار، اور دیگر ایسے شعبوں میں کچھ آگے نکل آیا ہے۔ 
اس وقت سندھ میں موجود پارٹیوں کی شہری علاقوں کی سندھی آبادی میں جڑیں نہیں۔ پیپلز پارٹی کا بیس دیہی علاقے ہیں اور اس کی ترجیح بھی دیہی علاقے ہیں۔ ایم کیو ایم  شہری علاقوں میں سندھی آبادی کامسئلہ ہے، پیپلز پارٹی اس کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پا رہی۔ سندھ کی قوم پرست پارٹیاں بھی بڑی حد تک دیہی ہیں، کسی حد تک ڈاکٹر قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی شہری علاقوں میں اپنے وجود کا دعوا کرتی ہے، مگر اسکو بھی زیادہ پذیرائی دیہی علاقوں میں ہے۔ 
کیا سندھی شہری درمیانہ طبقہ اتنا مضبوط ہے کہ وہ سیاست میں اپنا حصہ نکال سکے،؟ سندھی بزنیس کلاس نہ ہونے کے برابر ہے۔ درمیانی طبقہ روایتی طور پر موقع پرست ہوتا ہے۔لیکن سندھ میں اس طبقے نے جتنی مار کھائی ہے  لہذا ممکن ہے کہ وہ زیادہ بہادری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرے۔ اسکی ثابت قدمی کی ایک اور بھی وجہ ہو سکتی ہے کہ سندھ میں اردو بولنے والے مڈل کلاس نے ایک مثال قائم کی ہے جو کہ براہ راست اس طبقے کا رقیب ہے۔اس تحریک کی کامیابی تب ممکن ہے جب شہری آبادی کے ساتھ یہ سندھ کی دیہی آبادی کو اپنے ساتھ جوڑے۔بہرحال کچھ بھی ہو سندھ ایک تبدیلی کے دہانے پہ کھڑا ہے۔

Wednesday, 4 March 2020

سندھ کا مسئلہ سیاسی نہیں انتظامی ہے 2011-12-12


Mon, Dec 12, 2011 at 1017 AM
سندھ مسئلہ انتظامی نہیں سیاسی ہے
سہیل سانگی
ٍنواز شریف نے پیپلزپارٹی کے گڑھ اور بھٹوز کے شہر لاڑکانہ میں جلسہ کر ہی لیا۔مخدوم شاہ محمود قریشی کے جلسہ کے بعد کسی اپوزیشن پارٹی کا سندھ میں یہ دوسرا جلسہ تھا۔ جبکہ عمران خان اور ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے جلسے ابھی پائپ لائن میں ہیں۔
نواز شریف گڑھی خدابخش بھی گئے اور ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹوکی مزاروں پر پھول چڑھائے۔ جس سے وہ یہ تاثر دینا چاہ رہے ہیں کہ وہ صرف زرداری کے مخالف ہیں بھٹوز یا پیپلز پارٹی کے خلاف نہیں۔ لاڑکانہ کے جلسہ کامقصد بھی یہی تھا۔ بعد میں انہوں نے اپنے تقریر میں بھی  یہ بات برملا کہی کہ یہ پیپلز پارٹی اصل پیپلز پارٹی نہیں۔ کیا  اسکا مطلب یہ ہے کہ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی بالادستی اور اسکے بنیادی آئیڈیا کو تسلیم کر لیا ہے۔اور وہ بھی شہیدوں کی سیاست پر اتر آئے ہیں؟
جلسے سے قبل انہوں سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہ ممتاز علی بھٹو، پی پی شہید مرتضی بھٹو گروپ کی چیئرپرسن میڈم غنوا بھٹو اور سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمن ڈاکٹر قادر مگسی سے بھی رابطے کئے تھے۔ بعض رہنماؤں نے ان کی حمایت کا بھی اعلان کیاتھا۔  تاہم یہ طے ہونا باقی ہے کہ یہ مجمع صرف نواز شریف کا تھا یا اس میں  زرداری مخالف قوتوں نے اپنے بندے بھیجے تھے۔ مسلم لیگ ن کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ سب انکی پارٹی کے بندے تھے۔ عام خیال یہ ہے کہ سندھ کی بعض پارٹیوں نے نواز شریف کی مدد کی۔کیا سندھ کی سیاسی جماعتیں واقعے نواز شریف کے جلسے میں اپنے لوگ بھیج سکتی ہیں؟ سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ زبانی حمایت کرنا  اور بات ہے۔ساتھ کھڑا ہونا مختلف بات ہے۔ مسلم لیگ ن ایک پنجاب بیسڈ پارٹی سمجھی جا رہی ہو اور قوم پرستوں کی سیاست کا فوکس پنجاب مخالفت ہو۔ اس پر طرہ یہ سندھ کے وہ اشوز جو قوم پرست اٹھا رہے ہوں ان پر نواز شریف کا کوموقف واضح نہ  ہو۔ ایسے میں وہ زرداری مخالفت میں نواز شریف کی صرف اخلاقی مدد ہی کر سکتے ہیں۔
نواز شریف گذشتہ دنوں آصف زرداری کے شہر نواب شاہ اور سابق وزیر داخلہ  ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے شہر بدین میں جلسے کر چکے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ میاں صاحب نے یہ جلسے اس وقت کئے جب صدر آصف زرداری ملک سے باہر تھے۔ اب  لاڑکانہ کا جلسہ بھی تب کیا ہے جب صدر زرداری دبئی ہیں۔ اور میاں صاحب لاڑکانہ میں آکر گو زرداری گو کے نعرے لگا رہے ہیں۔
سندھ میں میاں صاحب کی پارٹی تنظیمی طور پر خاصی کمزور ہے۔ 2007 کے عام انتخابات میں  انکی جماعت نے سندھ میں ایک بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔روایتی وڈیرے جو انکے دور حکومت میں ساتھ رہے، وہ یا تو اپنا الگ الگ گروپ بنائے ہوئے ہیں یا پھر مسلم لیگ ق میں ہیں۔ لاڑکانہ میں نواز شریف کے ساتھ الطاف انڑ اور امداد چولیانی تھے۔ انڑ آج کل مسلم لیگ ق میں ہیں اور امداد چولیانی بیمار ہیں۔پارٹی کے دو سینیئر رہنما الاہی بخش سومرو سیاست سے کنارہ کش ہیں۔ جبکہ غوث علی شاہ جوکہ جلاوطنی کاٹ کے آئے ہیں ان کو نواز شریف نے پارٹی سے دور رکھا ہوا ہے۔پارٹی کے ایک اور رہنما مخدوم شاہنواز انتقال کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ سندھ کے لئے پنجاب اسیمبلی کے ڈپٹی اسپیکررانا شہود کو کوآرڈینٹر مقر کیا گیا گیا ہے۔جنہوں میں کراچی کے پنجاب ہاؤس میں قیام کیا۔ وہ یہی تاثر دیتے ہیں کہ یہ پورا شو انکاہے۔پارٹی کی سندھ میں کوئی مؤثر تنظیم موجود نہیں تھی، اس لئے پنجاب سے ایک شخص کوبلا کر کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا۔
 لاڑکانہ کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ جلسے میں شرکت جو دعوت نامے تقسیم کئے گئے اس وفد کے ساتھ کوئی مقامی لیڈر نہیں تھا۔ ان کی جماعت کے ساتھ اگر کچھ پرانے لوگ تھے بھی تو انکو نظرانداز کیا گیا۔ایسی ناراضگی  کے اظہار کے طور پرپارٹی کے ایک سینئر کارکن نثار شاہ نے خود سوزی کی کوشش کی جنہیں نازک حالت میں کراچی لے جایا گیا۔ 
عمران خان نے لاہور کے جلسے میں موسیقی کی روایت ڈالی ہے۔ جسے نواز شریف کو بھی برقرار رکھنا پڑا۔ان کی آمد سے قبل سندھ کے مقبول فنکار شمن میرالی اور دیگر فنکاروں نے گیت سنائے اور لوگوں کو محظوظ کیا۔ محفل موسیقی کا پروگرام جلسے کے پروگرام کا حصہ تھا کیونکہ جو ہینڈ بل وغیرہ تقسیم کئے گئے تھے ان میں موسیقی کا ذکر موجود تھا۔ جلسہ مسلم لیگ کا تھا۔ پر گیت سندھ کی قوم پرستی کے گونج رہے تھے۔ نواز شریف جب جلسہ گاہ پہنچے تو انکا استقبال جیئے سندھ کی طرز پر بنائے گئے ایک گیت سے کیا گیا۔ ایک اور خاص بات یہ تھی کہ انکو ایک عدد گھوڑا بطور تحفہ پیش کیا گیا۔
بے نظیر بھٹو حکومت میں تھیں یا اپوزیشن میں، نواز شریف انکے کٹر مخالف رہے۔ اب اچانک انکے لئے ہمدردی پیدا ہو گئی۔ اور ان کو اپنی بہن کہا۔عام خیال یہ ہے کہ نواز شریف بے وہ بے نظیر کے نام پر سندھ میں داخل ہونا چاہتے  ہیں۔ بھائی ہونے کے دعویدار نے محترمہ کے خلاف کئی مقدمات درج کئے۔اور اپنے بچے سمیت جیل کے چکر کاٹتی رہی۔ اور بعد میں جلاوطنی کاٹی۔ سندھ کے لوگ اتنے بھی سادہ نہیں کہ وہ اس بات کو بھول گئے  ہوں۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ نے اس اہم جلسے میں اپنی تقریر میں کیا کہا۔میاں صاحب نے اپنی تقریر میں ایسا کچھ نہیں کہا جسے متبادل پروگرام کہا جا سکے۔ انکا زیادہ زور اس پر تھا کہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا۔جیسے بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو گرفتار کرنا صرف سندھ کا مسئلہ ہو۔
انکے نزدیک سندھ کے تین چار بنیادی مسئلے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانا، سیلاب زدگان کے مصائب،  زرعی اجناس اورکھاد کے قیمتیں اورامن و امان۔ انہوں نے سندھ کے ان اشوز پر بات نہیں کی جو سندھ کے کور اشوز کہلاتے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ سندھ اور پنجاب کے درمیان کالا باغ ڈیم، مالی معاملات، دریائے سندھ کے پانی کے معاملہ وغیرہ پر جو عدم اعتمادی ہے، میاں صاحب اس حوالے سے سندھ کے لوگوں کو یقین دہانی کرائیں گے۔ پر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ لوگ ابھی تک  یہی بات کرہے ہیں کہ  سندھ کے لئے متبادل قیادت کیا چیز لائی تھی؟ کیا اعلان کیا تھا؟ میہڑ کے خمیسو خان یا ٹنڈو باگو کے نبی بخش جب بات کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ میاں صاحب نے کچھ نہیں کہا  یا کچھ خاص نہیں کہا۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ سندھ کے لوگوں کے لئے تھا ہی نہیں۔ جن کے لئے تھا انکو کر کے دکھایا گیا۔
سوال یہ ہے کہ وہ سندھ میں سیاست کرنا چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی کا متبادل بننا چاہتے ہیں یا صرف پیپلز پارٹی کی مخالفت کرنے آئے ہیں۔ اگر وہ  اس صوبے میں سیاست کرنی ہے تو پارٹی کی تنظیم سازی کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ اور جن سیاسی معاملات پر سندھ کے لوگ بھڑک اٹھتے ہیں  انکو ایڈریس کرنا ہوگا۔ کیونکہ سندھ کا مسئلہ سیاسی ہے نہ کہ انتظامی جیسے میاں صاحب سمجھ رہے ہیں،  یا لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سیاسی کشمکش کا مرکز اب سندھ 2011- 11-21

Mon, Nov 21, 2011 at 4:15 PM
سیاسی کشمکش کا مرکز اب سندھ
میرے دل میرے مسافر 
سہیل سانگی  
گذشتہ ماہ  سیاسی رسہ کشی کا مرکز پنجاب تھا۔ مگر ماہ رواں میں یہ مرکزواپس سندھ منتقل ہو گیا ہے جو حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کی سرزمین ہے۔سندھ میں روایتی طور پر ایم کیو ایم کے ساتھ  ان بن رہتی ہے۔ پر اس بار یہ ان بن اور رسہ کشی حکمراں اتحاد کی جماعت کے بجائے  خود پیپلز پارٹی کے اندرہے۔ اس بحرانی کیفیت کے دوران پتہ چلا کہ سندھ اسیمبلی میں بیس کے لگ بھگ اراکین مرزا کے حامی ہیں۔ تاہم کم از کم چار ایسے لوگ ہین جنہوں نے کسی پارٹی ایکشن کی پرواہ کئے بغیرکھلے عام ڈاکٹر مرزا کی حمایت  کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال سے عیاں ہوا کہ  خود سندھ میں پارٹی کے اندر  توڑ پھوڑ اور بحران موجود ہے۔ 
 مسلم لیگ پاکستان کی مدر پارٹی ہے۔ یہ نیا ملک بنا بھی اور ٹوٹ بھی گیا۔ بالکل جس طرح سے ملک ٹوٹنے کے باوجود قائم ہے اسی  طرح مسلم لیگ کئی حصوں میں تقسیم ہونے کے باوجود  اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔  مسلم لیگ،  مسلم لیگ نواز، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ قیوم  بقول زرداری کے مسلم لیگ قاتل کے ناموں سی کئی ایک گروپ موجود ہیں۔ 
کہتے ہیں کہ بڑی پارٹیاں میلے کی طرح ہوتی ہیں۔جس میں کچھ لوگ جاتے رہتے ہیں تو دوسرے آتے رہتے ہیں۔ سندھی کے مشہور کہاوت ہے کہ ایک دیہاتی میلہ دیکھنے گیا تو اسکی پگڑی کسی نی چرا لی۔ جب اس سے کسی دواست نے میلے کا حال احوال پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ میلہ  لگا ہی اسکے پگڑی چرانے کے لئے تھا۔ پیپلز پارٹی بھی ایک ایسا ہی میلہ ہے۔چوالیس پینتالیس سال گذرنے کے بعد ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ آخر یہ میلہ لگا کس کی پگڑی چورانے کے لئے تھا۔۔ان چار عشروں کے دوران کئی لوگوں کی پگڑیاں چوری ہو ئیں۔ کئی ایک نے اس پارٹی کے میلے میں آکر نئی پگڑیاں پہنی۔ 
سندھ سے ذوالفقار مرزا پہلے شخص ہیں جو اسیمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوئے۔ اور اب شاہ محمود قریشی نے بھی قومی اسیمبلیی کی رکنیت سے استعیفا دیا ہے۔ مستقبل میں وہ کون سی پگڑی پہنیں گے۔یہ وقت بتائے گا۔ نصف صدی تک بڑی بڑی آمریتیں جس پارٹی کو توڑ نہ سکیں۔لگتا ہے کہ اس کی پگڑی اس کے اپنے ہی لوگ اتار رہے ہیں۔گولاڑچی میں سابق وزیر داخلہ اور موجودہ  وزیر داخلہ کے ایک دوسرے کے گریبان میں ہاتھ یہی کہانی  سناتی ہے۔  
زرداری سیاستداں نہ ہونے کے باوجود گذشتہ دو ڈھائی عشروں سے ملک کی سیاست کے اہم اور متحرک کردار رہے ہیں۔ انہوں نے کئی تکلیفیں بھی دیکھی پر اس سے زیادہ مزے لئے۔ ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ پر اسے طرح سے ان کے مخالفین بھی لاتعداد ہیں۔انکو محبتیں بھی بہت ملی ہیں تو نفرتیں بھی ان گنت ہیں۔نوابشاہ سی نودیرو تک کا سفر کرنے والے زرداری کی قسمت میں وزیر اعظم ہاوس آیا، تو جیل بھی ان کے لئے ناگزیر بنا رہا۔ انکے لئے مشہور ہے کہ وہ یاروں کے یار ہیں۔ پر وہ دشمنوں کے کتنے دشمن ہیں، یہ بات ابھی مفاہمت کے پردے میں چھپی ہوئی ہے۔جب یہ پردہ اٹھے گا تب اصل حقیقت سامنے آئے گی۔ 
 قریشی صاحب کے پارٹی چھوڑنے پر پیپلز پارٹی کا ردعمل ایک تو وہی روایتی ہے کہ کسی کے جانے سی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس جس نے پارٹی چھوڑی وہ خود ختم ہوگئے۔ذوالفقار مرزا نے جب پارٹی چھوڑی تو انکا ٹارگٹ  ایم کیو ایم اوردوسرے وزراء تھے پر قریشی صاحب نے پارٹی چھوڑی ہے تو انکا ٹارگٹ زرداری صاحب خود ہیں۔
ذوالفقار مرزا اور شاہ محمود قریشی میں ایک اور بھی فرق ہے۔  ڈاکٹر مرزا کی مخالفت کا بنیادی نکتہ ایم کیو ایم ہے۔ ایم کیو ایم کے مخالفت سندھ کے اندر ایک مقبول رجحان ہے۔ جس کی وجہ سی نہ صرف مرزا کوعام لوگوں میں پزیرائی ملی بلکہ خود پیپلز پارٹی کے صفوں میں  ان کے حامی موجود ہیں۔ صدر آصف زرداری سے اراکین اسیمبلی کی ملاقاتوں  اور بعض مرزا کے حامیوں کے خلاف کارروایوں کے باوجود پیپلز پارٹی کی دو اراکین اسیمبلی ڈاکٹر امداد پتافی اورشرجیل میمن جن کے پاس وزارت اطلاعات کا قلمدان تھا، دونوں لندن تک ڈاکٹر مرزا کے 
 ساتھ گئے یہ اور بات ہے کہ اس کے عوض انکو اسیمبلی کی نشست سے ہاتھ دھونا پڑا۔ صرف اتنا ہی نہیں ان تمام واقعات رونما ہونے کے باوجود اٹھارہ نومبر کے سندھ اسمبلی کے اجلاس  کے موقع پر خاتون رکن اسیمبلی عائشہ کھوسو نے بہ بانگ دہل ڈاکٹر مرزا  کی حمایت کی۔ اور کہا کہ وہ اور کئی اراکین اسیمبلی ڈاکٹر مرزا کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ موقعہ ایم کیو ایم کے قرارداد نے فراہم کیا جس کے ذریعے وہ پارٹی کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف بد زبان استعنال کرنے والوں کے مذمت کرنا چاہ رہے تھے۔
اصل میں ایم کیو ایم کو اس بات پر بہت غصہ تھا کہ ڈاکٹر مرزا، ملک کی اندر ایم کیو ایم اور اسکے سربراہ کے خالف سخت زبان استعمال کرنے کے بعد اب لندن میں بھی وہ یہی کام کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم نے موقعہ غنیمت جانا اور  ایوان میں  ڈاکٹر مرزا کا نام لے کر مذمتی  قرارداد پیش کردی۔ اس قرارداد نے پیپلز پارٹی کو اپنے اتحادیوں کے ہاتھوں تقریبا بے بس کر ڈالا۔  تاہم پیپلز پارٹی کے بعض سنجیدہ رہنماوں نے صورتحال کو بھانپ لیا اور ایم کیو ایم کے قرارداد  کو تبدیل کیا اور ڈاکٹر مرزا کا نام اس سے خارج کرایا۔ اس کے کئے اثرات مرتب ہوئے۔ ایک یہ کہ  ڈاکٹر مرزا کو پیپلز پارٹی کی حمایت مل گئی۔ دوسرے یہ کہ پیپلزپارٹی اگر یہ قرارداد منظر کر لیتی تو آئندہ بھی ایسی قراردادوں کا راستہ کھل کھل جاتا۔
فی الحال اس قرارداد نے سندھ میں پیپلز پارٹی کے اندر گروہ بندی کو ظاہر کردیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ جنہوں نے پارٹی چھوڑی وہ خود ختم ہو گئے۔مگر اس پہلے پارٹی چھوڑنے والوں کے مقابلے میں بھٹوز تھے۔ اور اب زرداری ہیں۔کیا زرداری کی مخالفت کرنے والے اس طرح ختم ہو سکتے ہیں جیسے بھٹوز کی مخالفت کرنے والے۔لگتا تو مشکل ہے۔ دیکھیں مخالفت کا یہ جو میلہ لگا ہے اس میں کس کے پگڑی اترتی ہے۔