Showing posts with label PMLN. Show all posts
Showing posts with label PMLN. Show all posts

Wednesday, 11 March 2020

نئے حقائق اور نواز حکومت - Jul 2, 2013

Tue, Jul 2, 2013 at 11:09 AM
نئے حقائق اور نواز حکومت
میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی 

انتخابات سے پہلے میاں نواز شریف ملک کی معیشت، معاشی و سیاسی صورتحال، خارجہ پالیسی وغیرہ کے بارے میں  بلند بانگ دعوے ک کئے تھے۔ کچھ وعدے کئے تھے۔ کچھ کرنے کچھ نہ کرنے کی بات کی تھی۔ مگر جو بجٹ دیا وہ عوام کی توقعات سے بالکل برعکس تھا۔اس بجٹ میں نواز شریف نہیں،وزیر خزانہ ہی  نظر آرہے تھے۔ یہی صورتحال سیکیورٹی پالیسی کے حوالے سے ہے۔ ان دو  اہم معاملات کے مطالعے سے پت دو باتیں عیاں ہوتی ہیں۔ایک یہ کہ حکومتی پالیسیوں پر نواز شریف کی کمانڈ نہیں۔ کوئی اور ان معاملات کو دیکھ رہا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ بحران  کا تعلق ملک کے معاشی حالات اور دہشتگردی  یا سیکیورٹی کے معاملات  جو خارجہ پالیسی سے ہے۔ جن پر ہے۔گورننس کا اشو اہم ہے لیکن اسکا نمبر ان دو کے بعد آتا ہے۔ اگر حکومت ان دو معاملات کو ٹھیک کر لیتی ہے تو عام لوگوں کو رلیف مل جاتا ہے۔صرف گورننس کے ذریعے بہت کم رلیف مل سکتا ہے۔ 
دوسری بات یہ نظر آئے کہ میاں صاحب کو ملک کی موجودہ صورتحال کا  صحیح ادراک نہیں۔ وہ ملکی حالات کو12اکتوبر1999ع پر ہی دیکھ رہے ہیں۔ یعنی جہاں انہوں نے ملک کو چھوڑا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان 14 برسوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ علاقے کی صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔میاں صاحب کے زمانے میں پاکستان امریکہ کے لیے غیر اہم بن چکا تھا۔ لیکن اس کے بعد نائین الیون کا واقعہ ہوا۔افغانستان اور عراق میں بہت کچھ تبدیل ہوا۔ پاکستان ایک بار پھر امریکہ کا ساتھی بنا اور اس نے امریکہ کی ایماء پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شریک ہوا۔اب صورتحال یہ ہے کہ امریکی فوجیں افغانستان سے واپس جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد اگرچہ افغانستان  اور علاقے میں پاکستان کا اہم رول بنتا ہے مگر امریکہ پاکستان کو یہ رول دینا نہیں چاہ رہا۔اس کے بجائے بھارت کو اہمیت دینا چاہ رہا ہے۔ افغانستان کے اندر امریکی کارروایوں کے نتیجے میں شدت پسندپاکستان کی طرف آگئے۔جہاں پر ن کے نصف درج گروپ کام کررہے ہیں۔ انکا ٹارگٹ اب صرف امریکہ ہی نہیں پاکستان بھی بن چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے واقعات میں پھنسا ہوا ہے۔ اور آئے دن کسی نہ کسی شہر میں واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک کی اندرونی سیکیورٹی کا معاملہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ 14 سال کا عرصہ بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے۔ اس عرصے میں ہمارے پڑوسی ممالک بھارت، چین، اور ایران کی پالسیوں اور ترجیحات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔پاکستان  دس گیارہ سال سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے۔ لیکن اب یہ جنگ دلدل بن چکی ہے جس میں ہم پھنس چکے ہیں۔ اس دلدل سے نکلنے کے لیے ایک ویزن، چاہئے اور اتنی جرئت بھی۔مزید یہ کہ فیصلے کی قوت بھی۔اس صورتحال میں سیاست بازی نہیں چلے گی۔ بلکہ اس طرح کے فیصلے کی قوت جو برطانوی رہنماچرچل اور  فرینچ لیڈرڈیگال نیدکھائی تھی۔انہوں نے اپنا یا اپنی پارٹی کا سیاسی فائدہ دیکھے بغیر فیصلے کئے تھے۔ 
ملک کے اندر بھی سیاسی خواہمعاشی اور سماجی حوالے سے کئی نئے مظاہرسامنے آئے ہیں۔نئے حقائق نے جنم لیا ہے۔ اب نئے دور کے نئے چلینج ہیں۔ ملک کی اندرونی حالات کے حوالے یہ امر اہم ہے کہ صوبوں کی صورتحال وہ نہیں جو نواز حکومت کے پہلے دور میں تھی۔ بلوچستان بہت زیادہ گرم ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور اسکے علاوہ قوم پرستی کی تحریک  نیا رخ اختیار کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں ان صوبوں کو اب مزید محرومیوں میں نہیں رکھا جاسکتا۔ان کو نہ صرف ان کے وسائل اور ذرائع  کا حق دینا پڑے گا بلکہ ان کو ہر سطح پر اور ہر حوالے سے فیصلہ سازی میں شامل رکھنا پڑے گا۔اب صورتحال کو  تیکنکی طور پر ہینڈل کرنے کا زمانہ نہیں رہا۔ 
مجموعی طور پرضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی ازسرنو تعریف بنائی جائے۔ یہ لگ بھگ اس طرح کی صورتحال ہے جومشرقی پاکستان کی علحدگی کے بعد پیدا ہوئی تھی۔اور ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان کی از سرنو تعریف پیش کی اور اسکو دنیا میں منوایا بھی۔ بھٹو یہ سب کچھ اس وجہ سے بھی کر پائے کہ ان کے ساتھ پنجاب تھا۔ نواز شریف کو بھی یہ سنہری موقعہ حاصل ہے۔ پنجاب  ان کے ساتھ ہے۔ اس لیے نواز حکومت ملکی سطح پر خواہ خارجہ پالیسی میں اہم فیصلے کر سکتی ہے۔ 
ملک میں دو ادارے بہت ہی زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ صورتحال آج سے 14 سال پہلے نہیں تھی۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا طاقتور بن چکے ہیں۔نواز شریف کو پرنٹ میڈیا کنٹرول کرنے کا تو تجربہ ہے۔پرنٹ میڈیا  لیکن الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کو کیسے ہینڈل کیا جائے یہ بہت بڑا سوال ہے۔ سوشل میڈیا نیپرویز مشرف اور الطاف حسین کے حوالے سے بہت اہم رول ادا کیا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ میڈیا وسیع اور کثیر جہتی ہوگیا ہے۔ جس کو سیاسی مقبولیت کے بغیر کنٹرول کرنا مشکل ہے۔ جب تک اس میڈیا میں کسی سیاسی جماعت کے اپنے کارکن موجود نہیں ہونگے تب تک اس کو نہیں سنبھالا جا سکتا۔ یہ کام کرایے کے لوگوں سے نہیں ہوسکتا۔ میڈیا کی طرح عدلیہ کا رول بھی بڑھ گیا ہے۔ س کی حیثیت مانیٹرنگ والی ہوگئی ہے۔ جو ہر حکومتی عمل پر نظر رکھے ہوئے ہے یہ عمل گورننس کا ہو یا پالیسی سازی ای قانون سازی کا ہو یا انتظامی وغیرہ۔ پہلے عدلیہ کی ایکٹوازم اس طرح سے نہیں تھی۔ نواز حکومت کا نوے والا دور تو ایسا تھا کہ عدلیہ پر حملہ کیا گیا تھا۔ اب عدلیہ ریاست کے ایک مضبوط ستون کے طور پر ہے۔ اب تو ہر چیز کے لیے عدلیہ کے سامنے جواب دینا پڑتا ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ میاں صاحب کے پاس ایسی ٹیم موجود ہے جو ان نئے حقائق سے آگاہ ہو ان کو سمجھ سکتی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی بناسکتی ہو؟ فی الحال تو یہی لگ رہا ہے کہ ان کے پاس وہی پرانی ٹیم ہے جس کے ساتھ انہوں نے دو مرتبہ حکومت کی تھی۔

Tuesday, 10 March 2020

نواز لیگ اور نئے صوبے - Jun 17, 2013

Mon, Jun 17, 2013 at 12:40 PM
نواز لیگ اور نئے صوبے
میرے دل میرے  مسافر
نواز شریف حکومت کو جو فوری طور پر چیلینجز توانائی کا بحران، دہشتگردی، طالبان سے مذاکرات وغیرہ ہیں۔ مگر اس پورے قصے میں جو بات غائب ہے وہ  صوبوں  کے آپس میں تعلقات اور وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات ہیں۔ یہ وہ سوال ہے جو پاکستان کی سیاست پر روز اول سے چھایا رہا ہے۔ اس سوال کو صحیح طریقے سے ایڈریس نہ کرنے کے نتیجے میں ہم ادھا ملک کھو چکے ہیں۔ بلوچستان کی کی آج جو صورتحال ہے وہ بھی اسی ک نتیجہ اور سندھ میں جو ناراضگی ہے اس کی بیناد بھی یہی ہے۔ کل تک خیبرپختونخوا بھی اس  وجہ سے خفا تھا۔  
پیپلز پارٹی کی حکومت اٹھارویں ترمیم  لے تو آئی مگر اس پر عمل درآمد کے لیے اسکو کئی مشکلات کا سامنا تھا۔ سب سے بڑی مشکل پنجاب میں موجود  نواز لیگ کی حکومت تھی۔ اور پیپلز پارٹی پنجاب اور نواز لیگ کے ڈر کے مارے اس پر عمل درآمد نہیں کراسکی۔ بعض صورتوں میں ایسا بھی ہوا کہ پنجاب حکومت نے پیپلز پارٹی حکومت کی بعض ایسی  تجاویز کی مخالفت کی جو اٹھارویں ترمیم  کی شقوں پر عمل درآمد سے متعلق تھیں۔ 
ابھی تک اٹھارویں ترمیم کے صرف الیکشن کمیشن یا نگران حکومت وغیرہ کی شقیں عمل میں لائی گئی ہیں۔ جبکہ اس کا بہت بڑاحصہ عمل میں لانا باقی ہے۔ اگرچہ بعض محکمے صوبوں کو منتقل کردیئے گئے ہیں لیکن ان محکموں کے بہت سارے معاملات ابھی تک بیچ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 

اس پس منظر میں  اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد نواز شریف کی پہلی حکومت ہے جس کو اس ترمیم پر عمل کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اب آئینی فریم ورک  موجود ہے کہ صوبوں کی شکایات، غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔ اب معاملہ یہاں پر جا کے  پھنستا ہے کہ پنجاب صوبوں کو واقعاتا کیا دینا چاہ رہا ہے؟ صوبوں کے مطالبات اور ضروریات کو کس حد تک تسلیم کیا جاتا ہے؟ یہ ایک بڑا امتحان ہے۔ 
دراصل اٹھارویں ترمیم  ماضی کے تلخ تجربات اور ملک میں صوبوں اور جمہوریت کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر منظور کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر  سیاسی  طور پر اتفاق رائے تھا۔اٹھارویں ترمیم کی منظوری سے پہلے اور اس کے بعد حالیہ برسوں میں بنیادی سوچ میں ایک تبدیلی محسوس کی گئی۔  ایک تاثر یہ دیا جانے لگا کہ نواز لیگ کا صوبوں کے بارے میں سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔
اس ضمن میں اختر مینگل سے گزشتہ سال کے مذاکرات، سندھ کے قوم پرستوں سے رابطے اور سندھ کی ایک قوم پرست جماعت سندھ یونائٹیڈ پارٹی سے تحریری معاہدہ وغیرہ کا  خاص طور پر حوالہ دیا جاتا ہے۔ دوسرا مظہر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ خود بلوچستان اور سندھ کے قوم پرستوں کا رویہ بھی پنجاب اور پنجاب کی نمائندہ پارٹی کے بارے میں تبدیل ہوا۔ قوم پرستوں کا خیال تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے درمیان تعلقات یا ٹکراؤ کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔ اب ان تعلقات کو از سرنو  ڈیفائین کرنے اور دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے۔ 
اس صورتحال کے پس منظر میں بعض تجزیہ نگار  حالیہ انتخابی نتائج کی تشریح بھی اسی طرح سے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فیڈریشن ہار گئی مگر جمہوریت جیت گئی۔ ان کا اشارہ چاروں صوبوں میں مختلف قسم کے مینڈیٹ کا آنا ہے۔ اور کوئی بھی ایک یا ملک گیر پارٹی چاروں صوبوں میں نہیں جیت سکی۔ پناجب میں نواز لیگ جیتی جو پناجب کی نمائندہ جماعت سمجھی جاتی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی جیتی جو سندھ کی پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف بطورپشتون پارٹی کے سامنے آئی۔ یہ مار خاصا دلچسپ ہے کہ  پناجب کو چوڑ کر باقی صوبوں میں روایتی قوم پرست ہار گئے۔ اور  نئے قسم کے قوم پرست سامنے آئے۔سوائے بلوچستان کے، جہاں پرروایتی قوم پرستوں نے میڈیٹ تقسیم ہو جانے کے باوجود اپنا  وجود کسی نہ کسی شکل میں برقرار رکھا۔اورڈاکٹر عبدالمالک  بلوچ کے بطور وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق کر کے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ ایسا کر کے انہوں نے تقسیم شدہ میڈیٹ کے نقصان کا ایک حد تک ازالہ کرنے کی کوشش کی۔ 
اب جب  روایتی قوم پرست میدان میں نہیں ہیں، ایسے موقعہ پر  پنجاب کے لیے یہ زیادہ آسان ہو گیا ہے کہ وہ  صوبوں کے درمیان  تعلقات اپنی مرضی سے ریڈیفائین redefine کرے۔ 
اٹھارویں ترمیم  میں جہاں جمہوریت  اور اس عمل کی از سرنو  تعریف کی گئی ہے وہاں صوبوں کے تعلقات  کو بھی از سرنو  دیکھا گیا ہے۔ اس میں کئی چیزیں بطورآئینی شقوں کے موجود ہیں لیکن باقی چیزیں بطور اسپرٹ کے بھی موجود ہیں۔ مثلا ڈاکٹر عبدالماک بلوچ جنہوں نے اس ترمیم  کو بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی ٹیم  نے جو سید خورشید شاہ اور سید نوید قمر پر مشتمل تھی، گوادر پر صوبے کا حق تسلیم کیا تھا، مگر بعد میں  مکر گئے۔ مطلب اس طرح کے  بعض نکات تھے جن پر اصولی طور پر اتفاق رائے موجود تھا  لیکن ان کو کسی وجہ سے اس ترمیم کا حصہ نہیں بنایا جا سکا۔ 
نواز شریف کی حکومت صوبوں کو کس حد تک حقیقی معنوں میں اختیارات منتقل کرتی ہے یہ اہم سوال ہے۔ اس پورے قصے میں بعض منفی اشارے بھی ملے ہیں۔ مثلا نواز شریف نے کراچی میں میٹرو بسیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔ حالانکہ ٹرانسپورٹ پہلے بھی اور اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی مکمل طور پر صوبائی محکمہ ہے۔ جس  سے وفاق کا کسی طور پر بھی اختیار نہیں۔دوسری طرف حکومت سندھ نے کراچی میں  سرکیولر ریلوے چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کے اس منصوبے کی حمایت کرتی اور اس کی مالی اعانت کرتی۔ مگر ایسا کرنے کے بجائے اس کے مقابلے میں اپنا منصوبہ لے آئی جس کا نہ آئینی اور نہ ہی منطقی جواز ہے۔
 جب اٹھارویں ترمیم پر عمل ہونے جارہا ہے اور صوبوں  کے درمیان آپس میں اور وفاق کے ساتھ تعلقات کو از سرنو  استوار کیا جا رہا ہے اس وقت ملک میں اداروں کی صورتحال پر بھی ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر آج فیصلہ سازی اور اس پر عمل درآمد کے اداروں پر پنجاب کی بالادستی  hegemonyہے۔ پارلیامنٹ میں  نواز لیگ اب ہیوی مینڈیٹ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عسکری ادارے اور بیورکریسی میں میں پنجاب حاوی ہے۔ یہی صورتحال عدلیہ کی بھی ہے۔ یہ چاروں ادارے  اختیارات کی منتقلی  اور ازسرنو تعلقات بننے کے اس عمل پر براہ راست اثرانداز ہونگے۔ 
اب دیکھنا یہ ہے کہ جب پنجاب  کے پاس ہر حوالے سے اختیار کل حاصل ہے  ملک اور قوم کی مفاد میں پنجاب  یا اس کی نمائندہ جماعت نواز لیگ صوبوں کو حقیقی معنوں میں کیا دیتی ہے۔

نواز لیگ کا منشور اور چھوٹے صوبے - Mar 11, 2013

Mon, Mar 11, 2013 at 1:02 PM
نواز لیگ کا منشور اور چھوٹے صوبے 
 سہیل سانگی
 2013  کے انتخابات کے لیے جاری کئے گئے منشور میں مسلم لیگ (ن) نے پہلی مرتبہ صوبوں کی شکایات کا اعتراف کیا ہے۔اور صوبوں کے تعلقات کے لیے الگ سے ایک باب مخصوص کیا ہے۔ 
انتخابات میں منشورکو دیکھ کر لوگ پارٹیوں ووٹ نہیں دیتے۔ ووٹ کے لیے بعض دوسرے عوامل زیادہ موثرہوتے ہیں۔البتہ یہ۔ 

یہ منشورانتخابات کے آکھاڑے میں موجود پارٹیوں کے پاس انتخابات کے دوران اور اس کے بعد بھی موضوع بحث بنے رہتے ہیں۔عموما منشور سیاسی جماعتوں کا ایسا شو پیس ہوتے ہیں جس میں سب اچھا دکھایا جاتا ہے۔سنہری خواب دکھائے جاتے ہیں جس کی تعبیر  نہیں ہوتی۔ 
نواز شریف انتخابات کے بعد حکومت بنانے کے بڑے امیدوار ہیں۔ان کے لیے لازم تھا کہ وہ پنجاب کی نمائندہ پارٹی کے تاثر کو دھوئیں اور یہ ثابت کریں کہ ان کی پارٹی کو ملک کے چاروں صوبوں میں حمایت حاصل ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں پارٹی منظم کرنا مشکل کام تھا، لہٰذا انہوں نے ان دونوں صوبوں میں اتحاد کی سیاست کا سہارا لیا۔ 
  بلوچستان بہت گرم ہے جہاں ریاستی مشنری اور مسلح بلوچ  ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور یہ مسئلہ عالمی سطح پر بھی چلا گیا ہے۔یہاں پر پارلیمانی سیاست کرنے والے سیاستداں بھی خود کو مشکل میں محسوس کر رہے ہیں۔ اس مسئلے پر ملک کی تمام پارٹیان متفق ہیں کہ بلوچستان مین اسٹریم سیاست سے باہر چلا گیا ہے۔ اس صوبے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے منشور میں بہت مبہم ہے۔ منشور میں کاہ گیا ہے کہ ”مسلم لیگ بلوچستان کی سنگین صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے۔ ہم بامعنی سیاسی مذاکرات اور جامع پروگرام کے ذریعے بلوچ عوام کے سیاسی و معاشی حقوق کی بحالی سے ان کا دل جیتنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔ یہ پروگرام تمام سیاسی پارٹیوں اور اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ صلاح مشورے سے تیار کیا جائے گا۔“سیاسی و معاشی حقوق“کی اصطلاح بہت ہی مبہم ہے۔ جس سے کچھ واضح نہیں ہوتا کہ وہ کون سے حقوق ہیں۔ لاپتہ ہونے والے  سیاسی کارکنوں اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا کوئی حوالہ ہے۔جس کے خلاف بلوچ قیادت آواز اٹھا رہی ہے۔ 
  بلوچستان کے بعد دوسرے نمبر پر سندھ میں قومپرست تحریک موجود ہے۔یہ صوبہ اس لیے بھی  اہم ہے کہ یہ پیپلز پارٹی کا ”آبائی صوبہ“ ہے۔اس مرتبہ نواز شریف نے سندھ کی طرف قدم بڑھایا تو بعض حلقوں نے ان کے اس قدم کو سندھیوں اور پنجابیوں کا اتحاد بحال کرنے کی کوشش قرار دیا۔ یہ اتحاد ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا، مگر بعد میں بھٹو کو پھانسی دینے پرٹوٹ گیا۔لہٰذا نواز شریف نے شہری علاقوں کے بجائے پرانے سندھیوں کا رخ کیا۔  انہوں نے ایسا شاید اس لیے بھی کیا کہ شہری علاقے ایم کیو ایم کے زیر اثر ہیں  جہاں سے انہیں ووٹ ملنے کی امید کم ہے۔ 
آئیے دکھیں کہ مسلم لیگ (ن) سندھ کے ان اشوز کو کس طرح سے دیکھتی ہے۔ سندھ کے بنیادی اشوز مالیاتی ایوارڈ، پانی کی تقسیم، کراچی میں بدامنی کی صورتحال، صوبے میں روز بڑے پیمانے پرتارکین وطن کی اور دوسرے صوبوں سے لوگوں کی آبادکاری، قدرتی وسائل پر حق ملکیت، تھر کول کا استعمال، کراچی کے تعلیمی اداروں میں سندھ کے دیگر علاقوں کے طلباء  کے داخلے  رہے ہیں جس پر سندھ کے وسیع تر سیا سی حلقے اور بعض اوقات پیپلز پارٹی بھی آواز اٹھاتی رہی ہے۔ان اشوز کو کئی حوالوں سے متفقہ ایجنڈا قرار دیا جاتا رہا ہے، کیونکہ سندھ تمام جماعتیں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر بات کرتی رہی ہیں۔حال ہی میں کراچی میں سندھ ایجنڈا کے موضوع پرایک کانفرنس میں سندھ کے ان نکات کا اعادہ کیا گیا ہے۔ یہ آئندہ انتخابات میں حصہ لینے والی تمام پارٹیوں پر پریشر ہے کہ وہ سندھ کے ان مطالبات پر اپنے موقف کا اظہار کریں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سندھ میں دباؤ موجود ہے کہ سیاسی جماعتیں  ایجنڈا سے نہ ہٹیں۔ 
 منشور اور وعدے اپنی جگہ پر سندھ نون لیگ کا عملی رویہ اس پیمانے سے ناپے گا  جس کا اظہار  موجود پنجاب حکومت کے سندھ کے ساتھ کیا ہے، جہاں یہ جماعت حکومت میں ہے۔ پنجاب حکومت نے پانی کی تقسیم، وفاقی مالی وسائل کی تقسیم، توانائی کا بحران، گیس، تیل اور بجلی کے معاملات پروہی پرانا موقف رکھا۔ سندھ  کو شکایت ہے کہ پنجاب اپنے حصے سے زیادہ استعمال کر رہا ہے اور ان وسائل کی قلت کی صورت میں یہ قلت شیئر کرنے کے لیے تیار نہیں۔ 
 سندھ کے ساتھ از سرنو تعلقات کیا آغاز گشزتہ دو سال کے دوران ہوا۔نواز شریف نے سندھ کے قوم پرستوں سے الگ الگ مذاکرات کئے اور بعض معاملات پر یقین دہانیاں بھی کرائیں۔ جبکہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا تھا۔ فنکشنل لیگ کے ذریعے سندھ کے معاملات ہینڈل کرنے کے فیصلے بعد یہ معاہدہ کتنا موثر ہے؟ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔مسلم لیگ (ن) کے نزدیک آئین میں دی گئی صوبائی خود مختاری کافی ہے۔ لہٰذ منشور میں صوبوں کو مزید اختیارات دینے کے بجائے اٹھارویں ترمیم پر عمل درآمد پر زوردیا۔ جبکہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ساتھ کئے گئے تحریری معاہدے میں ”آئین کی حدود میں رہتے ہوئے صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری“مانی گئی تھی۔سندھ میں اتفاق رائے ہے کہ خودمختاری 1940کی قرارداد کے مطابق دی جائے۔

مالیاتی ایوارڈ  صوبوں کے درمیاں  خاصا تنازع کا باعث رہا ہے۔ پر بھی منشور مبہم ہے۔ سندھ کا مطالبہ رہا ہے کہ آمدنی کی بنیاد پر مالیاتی وسائل تقسیم ہوں۔ جبکہ پنجاب آبادی کو وسائل کی تقسیم کی بڑی بنیاد رکھنے کا حامی ہے۔ سندھ کا یہ بھی مطالبہ رہا ہے کہ ملک کے بالائی علاقوں سے بڑے پیمانے پرآبادی سندھ میں موجود ہے جس کی وجہ سے سندھ کے وسائل پر دباؤ پڑتا ہے لہٰذا دوسرے صوبوں اپنے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے رقم دیں یا وفاقی پول سے خصوصی فنڈ مہیا کیا جائے۔اس کے علاوہ غربت کو بھی ایوارڈ کا اہم حصہ  تسلیم کرنے کے لیے سندھ زور دیتا رہا ہے۔
تارکین وطن کے بارے میں منشور میں وہی چیزیں دی گئی ہیں جو ملک میں پہلے سے رائج ہیں۔ ان حکومتی اقدامات سے سندھ کے لوگ مطمئن نہیں ہیں۔ 
 معدنی و قدرتی وسائل پر حق ملکیت کا معاملہ اب اہمیت اختیار کرگیا ہے، سندھ ملک کی تیل اور گیس کی پیداورا کا پینسٹھ سے ستر فی صد پیدا کرتا، پر اس پر صوبے کو آمدنی نہیں ہوتی۔ بلوچستان کی طرح سندھ کا بھی مطالبہ ہے کہ معدنی و قدرتی وسائل پراس کا حق ملکیت تسلیم کیا جائے۔ یہ منشور اس حوالے سے بھی خاموش ہے، آئین بھی اس ہی ضمانت دیتا ہے، لیکن گیس کی پیداور سندھ سے ہونے کے باوجود یہاں بھی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جس کی وجہ پنجاب حکومت کا دباؤ بنا تھا۔ 
منشور میں سب سے بڑی بات صوبوں کے بارے میں مبہم ہی سہی  پہلی بار موقف آیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ یہ بہتر ہوگا۔ اور اس کو پنجاب کی سوچ میں تبدیلی کا پیش خیمہ سمجھنا چاہئے۔

Monday, 9 March 2020

تیسرے آپشن کی طرف بڑھتے ہوئے قدم 2012-6-25


Mon, Jun 25, 2012 at 10:18 AM
تیسرے آپشن کی طرف بڑھتے ہوئے قدم 
 میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔سہیل سانگی 
جب قومی اسمبلی میں نئے وزیراعظم کا انتخاب ہورہا تھا تو اس انتخاب سے  بے نیاز ملک کی دو بڑی اپوزیشن پارٹیوں  کے سربراہ یعنی میاں نواز شریف اور عمران خان سندھ میں جلسوں سے خطاب کر رہے تھے۔تحریک انصاف کی تو خیر قومی اسمبلی میں موجودگی نہیں، پر نواز لیگ  ایوان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ ان دونوں کی طرف سے وزیراعظم کے انتخاب میں اتنی عدم دلچسپی معنیٰ خیزلگتی ہے۔کییہ کوئی حسن اتفاق نہیں تھا۔ا اس کی یہ معنی لی جائیں کہ ان پارٹیوں کے نزدیک پارلیمنٹ غیر متعلق ہو گئی ہے یا بنادی گئی ہے؟ یا اس منتخب ادارے کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ کے بغیر بھی معاملات چل سکتے ہیں؟ ایسے حالات میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کہتے ہیں کہ جمہوری اداروں کے خلاف سازشیں بند کی جائیں  تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں کام کریں۔ سیاسی جماعتیں آنے والت انتخابات کا انتظار کریں  ایسا نہ ہو کہ جھگڑے میں ملک اور جمہوریت تباہ ہو جائے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ سب کا احتساب ہوگا۔
عمران خان پھر ایکشن میں آگئے ہیں۔ ایک وقفے کے بعدان کی سرگرمیوں کومبصرین بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے جنوبی سندھ کا دورہ کیا۔ حیدرآباد میں جلسہ سے خطاب کیا، میرپورخاص، سانگھڑ، ٹنڈومحمدخان، کا بھی دورہ کیا کچھ لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ کراچی میں چیمبر آف کامرس کے عشائیے میں شرکت کی۔ان کا  انداز گفتگو اور طریقہ کار ووٹ مانگنے کا نہیں بلکہ عام مقبولیت حاصل کرنے کا تھا۔
حیدرآباد میں نیاز اسٹیڈیم کے قریب واقع ایس آر ٹی سی گراؤنڈ پر  دس بارہ ہزار لوگ جمع ہو گئے۔ اسٹیج پر سندھی قوم پرستی کے گیت بار بار بجائے جارہے تھے۔ نوجوان رقص کر رہے تھے۔حالانکہ سندھ کے لوگ جن چیزوں کو کور اشوز سمجھتے ہیں  ان پر عمران خان  نے کوئی موقف ظاہر نہیں کیا۔اس تضاد کے علاوہ یہ تضاد بھی  ناقابل فہم ہے کہ رقص اور گیت کے مخالف طالبان کے حامی  خان نے اپنے جلسوں جلوسوں میں گیت اور رقص کی اجازت دی۔سندھ کے سیاسی حلقے اس رویے کودکھاوا قرار دے رہے ہیں۔ان کے مطابق پھر اسٹیج پر نماز پڑہنا ان کی نمائشی طبیعت کا خاصہ ہے۔ وہ ایک روز پہلے حیدرآباد میں آئے تھے۔ سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے اور خود کو ڈسپلن اور قاعدے کا پابند ہونے کے دعویدارخان سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادمگسی کے عشائیہ میں شرکت کی۔ حیدرآباد میں موجودگی کے باوجودوہ جلسہ گاہ ساڑھے تین گھنٹے دیر سے آئے۔
بمشکل دس بارہ ہزار افراد۔حیدرآباد میں سونامی بس اتنی ہی تھی۔ شرکاء کی اکثریت پشون تھی، کو کوٹری، حیدرآباد کے علاوہ سندھ کے دوسرے شہروں سے آئی ہوئی تھی۔ پشتونوں کا یہ وہ حصہ ہے جو ابھی تک خود کو ای این پی سے کسی نہ کسی وجہ سے جوڑ نہیں پایا ہے۔تحریک انصاف کے لیے حیدرآباد میں اتنے لوگ جمع کرنا بڑی بات ہے۔ ورنہ حیدرآباد میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم یا پھر قوم پرست ہی بڑا جلسہ کر پاتی ہیں۔
بہرحال عمران خان کا سونامی سندھ کے روایتی سیاستدانوں کو اپنی طرف کھینچ نہیں سکا۔ ویسے اس مرتبہ عمران خان کی کوشش بھی ان روایتی سیاستدانوں کو اپنی طرف لانے کی کم لگ رہی تھی۔ عمران خان کا زور سندھ کے مسائل کے بجائے ڈرون حملوں کی طرف زیادہ تھا۔
 عمران خان کی حکمت عملی پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دونوں کو نشانہ بنانے ولی ہی تھی۔ ان کی تقریر میں نئے انتخابات کی جھلک نہیں نظر آرہی تھی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، نواز لیگ اور اے این پی پر تنقید کی۔وہ پورے نظام کی بساط لپیٹنے کی بات کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر آصف زرداری کے ہوتے ہوئے شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے۔اب ان کو انتخابات  کے لیے کسی حلقہ انتخابات میں مقبولیت یا وہاں امیدوار نہیں چاہئے۔صرف جنرل قسم کی مقبولیت چاہئے۔جو معاشرے میں انہیں قبولیت اور legitmacy دے۔ حکومتی معاملات چلانے کے لیے ان کے پاس ٹیکنوکریٹس ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ملکی معیشت اور سیاست پر الیٹ کلاس یا بااثر طبقہ حاوی ہے۔دراصل یہ طبقہ ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔میڈیا جسکا رول دنیا بھر میں مانا جاتا ہیوہ ایک طاقت کے طور پر تھی ہی، مگر گزشتہ چند برسوں سے ملک میں ہونے والی سرگرمیوں کے بعداب وکیل بھی طاقتور ہو گئے ہیں۔قانون کے محافظ قانون کو اپنی مرضی کے مطابق بنانا اور چلانا چاہ رہے ہیں۔ملک کی سیاست اور معاملات میں اب یہ  نیا قبیلہ بن گیا ہے۔لاہور میں منعقدہ آل پاکستان وکلاء کنوینشن نے وزیر اعظم کی تقرری مسترد کردی ہے۔27جون کو مہنگائی، لوڈشیڈنگ، لاقانونیت اورکرپشن کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ان بات سے ہٹ کر کہ یہ معاملات ملک کے لیے خاصے اہم ہیں، خودوکلاء برادری کے دائرہ اختیار میں عوام کو سستا اور جلدیانصاف فراہم کرنا ہے انس کو یقینی بنانے کے بجائے ایسے مسائل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو  ان کادائرہ اختیار نہیں۔اسکو کہتے ہیں اپنی حدود سے تجاوز کرنا۔
ایک اور صورتحال بھی ہے۔ مختلف سرکاری ادارے اور خود سرکار عوام سے پیسے تو لیتی ہے مگر اس کا حساب دینے کے لیے تیار نہیں۔یہ ادارے اور وہ سرکار لی ملازم ہے مگر سرکار کا حکم ماننے کے لیے تیار نہیں۔ یہی حال عدلیہ کا ہے۔ اس پر اب عام لوگ بھی بحث کر رہے ہیں کہ یہ ایک برادری بن گئے ہیں۔ پولیس اور بیوروکریسی ایک دوسرے کو تحفظ دیتی ہیں۔عجیب بات ہے کہ سیاستداں واحد قبیلہ ہیں جن کی آپس میں نہیں بنتیوہ ایک دوسرے کی مخالفت میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔
عدلیہ اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر قومی اسیمبلی کے ممبر اور پوری پارلیمنٹ سے منتخب وزیر اعظم کو  توہین عدالت کے جرم میں قومی اسمبلی کی رکنیت اور وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیتی ہے۔ اس سے عدلیہ کی تو یقیننا بالادستی قائم ہو گئی مگر اس کے نتیجے میں جمہوریت کو کوئی استحکام نہیں ملا۔ عوام کو کوئی سہولت مسیر نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ کو نظرثانی کا اختیار ہے۔
 ایک ادارے نے انتہا پسندی کی سزا نواز شریف کو دی گئی جب انہوں نے اپنی پسند کا آرمی چیف مقرر کرنا چاہا۔وہ بھی ملک کے منتخب وزیراعظم تھے۔ اب دوسرے ادارے نے انتہا پسندی کر کے وزیر اعظم کو سزا دے ہے۔ جیسے نواز شریف کے خلاف کارروائی کر کے ملک میں بحران میں دھکیل دیا گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق ملک میں ایسی ہی صورتحال دوبارہ بننے جا رہی ہے۔ صرف ایک دو دو ادارے ہی نہیں سیاسی جماعتیں بھی انتہا پسندی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
باقی انتخابات میں دن کتنے رہ گئے ہیں؟ مگر احالات اور واقعات بتاتے ہیں کہ ملک سے پارلیمنٹ کو نکالا جا رہا ہے۔اس آپشن پرکام ہورہا ہے کہ تین سال تک  فوج اور عدلیہ اپنی پسند کی ٹیکنوکریٹ حکومت لانا چاہتی ہیں۔ جوجارہ رہے گی۔ اس کے لیے آئیں میں گنجائش نکالنااب اتنا مشکل نہیں رہاکیونکہ اس وقت آئین کی حتمی تشریح کا اختیار صرف عدلیہ کے پاس ہے۔ ایسا ایک تجربہ بنگلادیش میں کیا گیا تھا۔ مگرمشکل یہ ہے کہ ہمارے پاس تو دو اہم اداروں پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں۔ہونا یہ چاہیے کہ اداروں کی ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت بند ہو۔ انتہا پسندی کے اسبابکا خاتمہ ہونا چاہئے۔معاشرے میں مجموعی طور پر  رواداری اور برداشت  کے رجحان پروان چڑھایا جائے۔اپنے عقائد سے وفاداری کے ساتھ ساتھ دوسروں کے عقائدکے احترم کو بھی  اپنے عمل کا حصہ بنانا چاہئے۔ 
ملکی بحران بڑی تیزی سے طے شدہ یا منطقی  نتیجے کی طرف بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے مطابق  حکومت اور اپوزیشن مل کر صوبوں اور مرکز میں نگراں حکومت قائم کریں گی۔ اختلاف کی صورت میں الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا۔مگر تاحال الیکشن کمشنر پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔اور اس بات کا امکان بھی نظر نہیں آتا۔ لہٰذا چیف جسٹس نے جسٹس شاکراللہ جان کو نگراں الیکشن کمشنر مقرر کردیا ہے۔ملطب نگراں حکومت کا قیام حکومت الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس کے مشورے سے ہی عمل میں لائے گی۔اگر نگراں حکومت سمجھے گی کہ معاشی صورتحال، یا خاجہ پالیسی، اجیسے معاملات کوپہلے نمٹنا ضروری ہیں تو ایک پٹیشن ڈالنے سے ہی کام ہوجائے گا۔ بنگلادیش میں بھی کرپشن  کے خاتمے کے لیے ایک عبوری حکومت وجود میں لائی گئی تھی۔ویسے ہی عمران خان سب کا احتساب کا نعرہ لگا چکے ہیں 

سندھ کے مڈل کلاس کے آپشنز 2012-6-14

June 14-2012 Sindhi middle class
نواز شریف کے پاس سندھ کے لیے کتنی جگہ ہے؟
 سندھ کے مڈل کلاس کے آپشنز
میرے دل میرے مسافر۔۔  کالم۔۔۔ سہیل سانگی
سندھ اب پہلے کا سندھ نہیں رہا۔ سیاستداں اور سیاسی مفکرین بحث بھی کر رہے ہیں اور بیانات بھی جاری کر رہے ہیں۔ اصل میں دو اہم سوالات  ہیں جن کا  درست جواب دیئے بغیر آج کے سندھ کو نہیں سمجھا جا سکتا۔  سوال یہ کہ تبدیل کیا ہوا ہے؟کیسے ہوا ہے؟ گزشتہ دو دہائیوں میں سندھ میں مڈل کلاس سائیز میں اور خصوصیات میں بھی بڑھا ہے۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جو مڈل کلاس پیدا ہوا اور بڑھا اس نے بڑی حد تک پیپلز پارٹی میں جگہ مل گئی۔ ایک اور تبدیلی ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی شہادتوں کی وجہ سے بھی رونماہوئی۔وقت کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی روایتی اور پرانی پارٹی بن گئی۔یوں اس پارٹی پرپیپلز فیوڈل تسلط  بڑھ گیا۔اس وجہ سے وہ اس مڈل کلاس کو اپنے اندر سمونے کے لیے نا کافی ثابت ہوئی۔ لہٰذا اب مڈل کلاس اقتدار کے کاریڈورز میں جانے کے لیے دوسرے راستے تلاش کر رہا ہے۔ اس کوشش کے ہمیں کئی ایک مظاہر ملتے ہیں۔
 پیپلز پارٹی کے بعددوسرے نمبر پر ایم کیو ایم  ایسی جماعت ہو سکتی تھی ن جو سندھ کے مڈل کلاس کو اپنے اند سمو سکتی تھی مگریہ جماعت دوسری زبان اور نسل کے لوگوں کو سمونے کے لیے تیار نہیں۔جب کہ اپنی پالیسیوں میں تنگ نظری کے باعث دیہی سندھ کے پرانے باشندوں کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتی بلکہ دونوں کا ایک دوسرے کی طرف مخاصمانہ رویہ ہے۔لہٰذا سندھ کے لوگ اخلاقی طور پر بھی اس پارٹی میں جانے کے لیے تیار نہیں۔ 
اب صورتحال یہ ہے کہ ایک چھوٹا حصہ پیپلز پارٹی میں جگہ بنا لے گا۔ اور باقی وفاقی سیاست کرنے والی  دو جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور فنکشنل مسلم لیگ کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔ان آپشنز کے باوجود خاصا حصہ قوم پرست سیاست میں موجود رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے ک ملک کی بڑی پارٹیاں جو مین اسٹریم پارٹیاں کہلاتی ہیں وہ سندھ کے مڈل کلاس کو اپنے اندر سمونے میں ناکام رہتی ہیں۔ یہ وہ صورتحال ہے جس کا آج ہم بلوچستان میں سامنا کر رہے ہیں یا چند عشرے قبل خیبر پختونخوا میں کر رہے تھے۔  فنکشنل لیگ مسلسل انتخابی عمل کا حصہ رہی ہے۔ اس کی پوزیشن چھوٹی ہی سہی مگر تسلیم شدہ ہے۔اسٹیبلشمنٹ سے بھی اس جماعت کے تعلقات اچھے ہی رہتے ہیں۔اب اس جماعت نے حال ہی میں اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے اور اپنے دروازے دوسرے لوگوں کے لیے کھولے ہیں۔ ستر کے آخری عشرے میں بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کے بعد پہلی باراسمبلی کے اندر خواہ باہر باقاعدہ سیاسی سرگرمیاں شروع کی ہیں، اور ایک پاپولر پارٹی بننے کی تگ و دو کر رہی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ یہاں بھی پیپلز پارٹی کی طرح فیوڈل تسلط پایا جتا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کا نئے آنے والوں کے لیے استقبالی رویہ نہیں۔ چونکہ یہ  پی پی ملک کی ماتسلیم شدہ سب سے بڑی پارٹی ہے اس میں داخلا کا طریقہ لمبا اور مشکل ہے۔ وہ اپنی سائز کو بڑھانے نہیں بلکہ برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے۔ فنکشنل لیگ سائیز میں چھوٹی ہے اور خود کو بڑا کرنا بھی چاہتی ہے اس لیے نئے آنے واالوں کا استقبال کرتی ہے۔ فنکشنل لیگ کو نواز لیگ پر سندھ میں اس وجہ سے بھی برتری حاصل ہے کہ یہ سندھی پارٹی ہے۔اورپیر سورہیہ بادشاہ کی انگریزوں کے خلاف حر تحریک اور گوریلا جنگ کی وجہ سے  وہ بوقت ضرورت حریت پسندی کا لبادہ بھی اوڑھ لیتی ہے۔ لہٰذا قوم پرستوں کے لیے بھی کشش رکھتی ہے۔
نواز شریف کی صورت میں سندھیوں اور پنجابیوں کا اتحاد دوبارہ بنانے کی کوشش ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے یہ اتحاد بنایا تھا، مگر بعد میں پنجاب نے بھٹو کو پھانسی دے کر یہ اتحاد توڑ دیا تھا۔نواز شریف کے لیے اتحاد مجود ہے کہ وہسندھ میں اپنی پارٹی بنائے۔ اور سندھ اور پنجاب کے پرانے اتحاد کو زندہ کرے۔اس مقصد کے لیے انہیں اپنی پالیسیوں اور حکمت عملی میں تبدیلی لانی پڑے گی۔اور دونوں صوبوں کے مشترکہ مفادات والے اشوز پر زیادہ فوکس کرنا پڑے گا۔ اگر وہ اپنی پالیسی میں کوئی ایسی بڑی شفٹ لے آتا ہے توسندھ کے لوگوں کے لیے دروازے کھول سکتا ہے۔
  وقت کے ساتھ نئے ایکٹر بنے ہیں وہ کیسے اکموڈیٹ ہوں؟ نئے کھلاڑی فنکشنل اور نواز لیگ میں جا سکتے ہیں، مگر شرط یہ کہ ان جماعتوں کی قیادت پروسیس صحیح کرتی ہے۔ اگر غلط پروسیسنگ کی تو یہ امکان رد ہو جائے گا۔ نتیجے میں  یہ لوگ یا تو پیپلز پارٹی میں اپنے لیے کوئی جگہ تلاش کریں یا پھرقوم پرست سیاست میں ہی رہیں۔
  سات سال تک نواز شریف  اور ان کی پارٹی نے سندھ آنے کی زحمت نہیں کی۔2008 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے سندھ میں علامتی طور پر بھی ایک بھی ا میدوار کھڑا نہیں کیا۔مگر ان انتخابات کے بعد  پنجاب میں جب یہ جماعت حکومت میں آئی تواس نے سندھ کے بنیادی اشوز پروہی پرانا موقف رکھا۔پانی کی تقسیم، وفاقی مالی وسائل کی تقسیم، توانائی کا بحران، گیس، تیل اور بجلی کے معاملات وغیرہ ایسے اشوز ہیں جن پر سندھ سمجھتا ہے کہ پنجاب اپنے حصے سے زیادہ استعمال کر رہا ہے اور ان وسائل  کی شارٹیج کی صورت میں یہ شارٹیج شیئر کرنے کے لیے تیا رنہیں۔ لہٰذا جھگڑا کر کے بھی اپنے حسے سے زیادہ لیا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ آج کل ممتاز کا کوئی مؤثر سیاسی رول نہیں تھا۔ان میں یہ پرانا رجحان ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے پاور پالیٹکس میں شیئر ملے۔نواز شریف کو بھی ضرورت تھی کہ کوئی قوم پرست سیاست  کے نام پر ہیوی ویٹ ملے۔وسیع تر وفاقی پارٹی میں ممتاز بھٹوجیسے کئی کردار ہوتے ہیں۔ ممتاز بھٹو کو کچھ اپنے اندر نرمی لانی پڑے گی۔ اور نواز لیگ سندھ کی بڑی پارٹی بن سکتی ہے۔اس میں ممتاز بھٹو کو بھی فائدہ ہے۔
 انتخابی سیاست نظریاتی کم اور عملی زیادہ ہے۔ وہ بعض پر عوامی سیاست کی جگہ بھی لے لیتی ہے۔ سندھ میں جو بھی پارٹی ہوگی اسکو روایتی پاور بروکرز اور نئے ایکٹرز کا مکسچر بنانا پڑے گا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ پارٹی کی بیل مونڈے نہیں چڑھے گی۔ نواز شریف کے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔ پہلا راستہ یہ کہ وہ عوام ک انمائندہ بنے اور پھر انتخابی عمل میں جائے، جیسے بھٹو یا شیخ مجیب نے کیا تھا۔ دوسرا یہ کہ انتخابی عمل میں جائے اور اس کے بعد عوام میں جائے۔ پہلا کام اس وجہ سے بھی نہیں کر سکتا کیونہ وہ ورجن(virgin) نہیں۔ 
 خراب حکمرانی، ایم کیو ایم  کے دباؤ میں آکر بعض فیصلے کرنے اور پنجاب کو خوش رکھنے کے لیے بعض فیصلے کرنے کی وجہ سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں فرق آیا ہے۔دوسری جانب نواز شریف کے لیے اتنی خیرسگالی کے جذبات (good will) پیدا ہو گئی ہے کہ لوگ ان کے جلسوں کو خراب نہیں سمجھتے۔ ان خیرسگالی کے جذبات کو وہ ووٹرز میں تبدیل کر سکتی ہے یا نہیں؟یہ ایک اہم سوال ہے۔ نواز شریف کے پاس دو راستے تھے۔ ایک تنظیم کاری کریں اور لوگوں کے پاس جائیں۔ دوسرا یہ کہ بااثر وڈیرے جو منتخب ہو سکتے ہیں ان سے رجوع کریں۔نواز شریف نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔اور وہ لیاقت جتوئی اور دوسرے پی پی مخالف وڈیروں کو جمع کر رہے ہیں۔اس سے نواز شریف  اور ان وڈیرہ خاندانوں کو تو فائدہ مل سکتا ہے مگر سندھ کی سیاست میں کوئی نیاپن نہیں آئے گا۔صرف اچھے سیاسی بیانات دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔وہ پارٹی کو مستقل بنیادوں پر سندھ کی سیاست میں رکھنا چاہتے  ہیں یا سیاسی شارٹ کٹ کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
نواز شریف کے اچھے بیانات آئے ہیں مگر انکا اسٹائل وہی پرانا ہے۔وہ ہر قیمت پر کچھ نسشتیں جیتنا چاہتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے پاس بھی وہی فارمولا ہے۔وہ ہرایک سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔ 
 قوم پرستوں کے پاس پختہ ووٹ بینک نہ سہی مگر باہر کی کوئی بھی جماعت ہو اس کوسندھ میں سیاست کرنے یا انتخابات میں پاؤں رکھنے کے لیے اخلاقی جواز چاہئے۔یہ جواز قوم پرستوں کے بغیر نہیں مل سکتا۔
سندھ کے سیاسی حلقوں اور مڈل کلاس کو پیپلز پارٹی سے ناراضگی پنجاب کی وجہ سے اتنی نہیں جتنی ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد کرنے یا اسکو مراعات اور چھوٹ دینے کی وجہ سے ہے۔ نواز شریف نے ماضی میں یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی شخصیت میں ڈھل مل یقینی ہے۔کیا انتخابات کے بعد وہ ایم کیو ایم کے ساتھ نہیں بیٹھے گا؟وہ کسی ایسے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہے؟

Thursday, 5 March 2020

نواز لیگ کو سندھ میں کیا چاہئے؟ 2012-3-29

Thu, Mar 29, 2012 at 2:50 PM
نواز لیگ کو سندھ میں کیا چاہئے؟ 
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کو بعد دیر بعد پتہ چلا کہ اسلام آاباد کا اقتدار حاصل کرنے کے لیے سندھ کی حمایت بہت ضروری ہے۔ورنہ گذشتہ انتخابات میں انہیں وفاق میں حکومت بنانے کا کوئی آسرا نہیں تھا تو انہوں نے سندھ میں کوئی ایک بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔ حال ہی میں انہوں نے ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور قوم پرستوں کے مضبوط گڑھ سندھ کا دورہ کیا۔وہ سال میں جتنی بار لندن جاتے ہیں اتنی ہی بار سندھ کا دورہ بھی کرتے ہیں۔مگر گذشتہ ڈیڑھ دو سال سے وہ گاہے بہ گاہے سندھ آتے رہے ہیں اس کوشش میں ہیں کسی ہیوی ویٹ کو پارٹی میں شمولیت کے لئے قائل نہ کر سکے ہیں۔
وہ ان تمام کوششوں کے باوجود سندھ میں کوئی بڑا جلسہ نہیں کر پائے ہیں۔ جبکہ ان  کے رقیب عمران خان گھوٹکی، کراچی اور عمرکوٹ میں سیاسی شو کر چکے ہیں۔
 سندھ میں پیپلز پارٹی سے کسی ہیوی ویٹ کی نواز لیگ میں شمولیت یا حمایت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ لے دے کے قوم پرست اور کچھ آزاد گروپ جو”بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹے“ کے منتظر ہیں وہ نواز لیگ میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں یا اتحاد یا سیاسی حمایت کر سکتے ہیں۔مگر اس میں بھی بہت سارے اگر مگر ہیں۔اگرچہ پنجاب میں پارٹی کے بعض حلقے سندھ کو اہمیت دینے کے مخالف ہیں مگراس کے باوجود  میاں صاحب نے سندھ میں قوم پرستوں اور دیگر سیاسی گروپوں سے رابطہ کیا ہے۔انہوں نے  
حالیہ برسوں میں بہت محنت کے بعد کچھ کامیابیاں میاں صاحب کے حصے میں آئی ہیں۔ چند ماہ قبل  انہوں نے سندھ کی ایک قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی جو اب پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی ہیاس کے دفتر”ترقی پسند ہاؤس“گئے اور اس جماعت کے چیئرمین قادر مگسی سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں ڈاکٹرقادر مگسی نے انہیں کچھ یقین دہانیاں بھی کرائی۔ مگر ان یقین دہانیوں پر قوم پرست حلقوں میں سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔میاں صاحب نے اسی دن عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو سے بھی ملاقات کی۔ان ملاقاتوں کا مقصد چند یقین دہانیاں پیپلز پارٹی کی حکومت سے جان چھڑانا کے لیے تعاون حاصؒ کرنا تھا۔ جس سے وہ خود نہیں جان چھڑا سکے ہیں۔
سندھ کی ان دو پارٹیوں نے تا حال مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دینے کا واضح اشارہ نہیں دیا ہے۔تاہم مسلم لیگ (ن) کی وفاق میں پیپلز پارٹی کے متبادل ہونے کی پوزیشن کی وجہ سے قادر مگسی اور رسول بخش پلیجو سیاسی حکمت عملی کے طور پر نواز شریف کے اتحادی ہیں۔یہ دونوں جماعتیں نواز شریف کے ساتھ عملی طور پر اتحاد کرتی ہیں یا صرف سیاسی حمایت تک محدود رہتی ہیں؟ اس بات کا تعین اس بات پر ہوگا کہ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو ہی اپناتی ہے یا کوئی اور مہرہ میدان میں لے آتی ہے؟ اور یہ بھی کہ واقعی پیپلز پارٹی کو ااقتدار سے دور کرنا چاہتی ہے؟ اگر یہ دونوں جماعتیں نواز شریف کا سہارا بنتی ہیں تو کسی حد تک انکو سندھ میں سیاسی طور پر تقویت مل سکتی ہے۔مگر اس کے لئے نواز شریف کو سندھ کے حوالے سے کچھ وعدے وعید کرنے پڑیں گے۔ مثال کے طور پر نواز لیگ اقتدار میں آکر سندھ کی پانی، مالی معاملات،  قدرتی وسائل وغیرہ کے لیے کیاقدامات کرے گی؟ اور حکومت میں آنے کے بعد انکو کیا ملے گا۔
ابھی تک ماروی میمن واحد شخصیت ہیں جنہوں نے میاں صاحب کو عزت بخشی۔ مشرف دور میں سیاسی منظر پر آنے والی ساحلی ضلع ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والی ماروی میمن نے مسلم لیگ (ق) کو الوداع کہنے کے بعد کچھ عرصہ سندھ میں تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والے گروپ کے ساتھ گذارا۔ بعد میں عمران خان کی پیشکش پر غور کرتی رہی۔بالآخرانہوں نے رائیونڈ پہنچ کر نواز لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ماروی میمن کا اپنا کوئی بھی ووٹ بنک یا حلقہ انتخاب نہیں۔کیونکہ ٹھٹہ پیپلز پارٹی یا پھر شیرازیوں کے زیر اثر ہے۔ اس وقت تک انکا کنٹری بیوشن یہ ہے کہ وہ سندھ کے مختلف اشوز پر جلسے جلوس اور احتجاج رتی رہی ہیں۔ خصوصی نشست کی طلبگار ماروی سندھ میں نواز لیگ کی سیاسی مہم چلانے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔

 گھوٹکی اور شکارپور کے مہر برادران یعنی مشرف دور کے وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر اور موجودہ  وفاقی وزیر غوث بخش مہر کوبھی راضی کرکے پارٹی میں لانے کی کوششیں تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔ غوث بخش مہر اس وات مسلم لیگ (ق) میں ہیں اور گھوٹکی کے علی محمد مہرسے پیپلز پارٹی کا بھی رابطہ ہے۔انہوں نے اگر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار نہ کی تو وہ انتخابات جیت کر بعد میں ماحول دیکھنے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ کس کا ساتھ دیا جائے۔قوی امکان ہے کہ وہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے یا پھر اس کے اتحادی بنیں گے۔مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور وفاقی وزیر غوث بخش مہر مسلم لیگ (ن) کے اتحادی ہیں۔
تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی اور ہیوی ویٹ پارٹی میں شمولیت نہ کرسکا ہے۔اب سابق وزیر اعلیٰ لیاقت جتوئی نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا۔لیاقت جتوئی ماضی میں نواز شریف کی پارٹی میں رہے ہیں اور وزیر اعلیٰ بھی رہے۔ بعد میں انہیں ہٹا گورنر راج نافذ کیا گیا اورکر غوث علی شاکہ کو  مشیر اعلیٰ بنایا گیا۔ بعد میں لیاقت جتوئی مشرف دور میں وفاقی وزیر پانی و بجلی بھی رہے، اس سے پہلے وہ قوم پرستی کے لبادے میں سیاست کرنے والے لیاقت جتوئی پیپلز پارٹی کے بغیر جو بھی بھی سندھ میں سیٹ اپ بنا اسکا حصہ رہے ہیں۔لیاقت جتوئی کی نظر ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی کرسی پر ہے۔
 نوز شریف نے جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ سے اور سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہ ممتاز بھٹو سے بھی رابطہ کیا ہے۔ ممتاز بھٹونے ضیا دور میں پیپلز پارٹی سے علحدگی اختیار کی تھی۔اور اس کے بعدوہ پیپلز پارٹی کے کٹر مخالف رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر وہ اپنے فرنٹ کو نواز لیگ میں ضم کرتے ہیں،  پیپلز پارٹی شہید بھٹو سمیت سندھ کی بعض قوم پرست جماعتوں کو نوز لیگ کا اتحادی بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو انکو صدارت کا عہدہ دیا جائیگا۔مگر سندھ کے قوم پرستوں کو نواز شریف کی حمایت کرنے پرقائل کرنا میں مشکل کام ہے۔ شایدممتاز بھٹوایسا نہ کر پائیں۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جلال محمود شاہ اور ممتاز بھٹو نے نوز شریف سے دو معاملات یعنی کالا باغ ڈیم اور 1940 کی لاہور قرارداد  پر عمل کرنے کی پر یقین دہانی مانگی ہے۔لیکن نوز شریف ان دونوں مطالبات کو لمبی فرمائش سمجھتے ہیں۔
مشرف دور کے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم پیپلز پارٹی کے مخالف صف بندی کا حصہ ہیں۔ مگر انہوں نے نواز شریف کے بجائے عمران خان کو منتخب کیا ہے جہاں سندھ میں تاحال کوئی اور ہیوی ویٹ
 موجود نہیں ہے۔اس کے علاوہ تھر کے علاقے میں جہاں کے تین نشستوں کی بنیاد پر وہ سیاست کرتے رہے ہیں تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کے مرید موجود ہیں اور مقامی سیاست میں وہ ان کی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ارباب غلام رحیم اور مخدوم شاہ محمود قریشی کے درمیان رابطہ ہے اور شاہ محمود قریشی نے تھرپارکر کے ایک نشست سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔
سندھ میں سیاسی طور  وجود رکھنا نوز شریف کے لیے بہت مشکل کام ہے۔ اول یہ کہ سندھ کے لوگ اور سیاسی حلقے سمجھتے ہیں کہ انکی مسائل اور مصائب کے لیے ذمہ دار پنجاب ہے۔ اور یہ مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کی پارٹی سمجھتے ہیں۔لہٰذا سندھ میں جو اشوز اٹھائے جاتے رہے ہیں جن کو سندھ کے کور اشوز کا نام دیا جاتا ہے ان کافوکس پنجاب مخالفت پر مبنی ہے۔اور نوز شریف ان پر کوئی واضح موقف اختیار نہیں کر سکتے کہ یہاں کے سیاسی حلقوں اور لوگوں کو اپنی طرف لے آ پائیں۔دوسرے یہ کہ سندھ میں ان کی پارٹی کی تنظیمی صورتحال غیر اطمینان بخش رہی ہے۔
میاں صاحب نے شروع سے ہی پارٹی کی تنظیم کاری کے بجائے ایسے لوگوں پر تکیہ کیا جو تھوڑا بہت ووٹ بنک رکھتے ہیں۔ اور انتخابات جیت کر انکی سیاسی حمایت کر سکتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اس صوبے میں نہ پارٹی بنائی اور نہ ہی اپنا کوئی ووٹ بنک۔ لہٰذا  ایسے بنے بنائے لوگوں پر تکیہ کیا جو اپنا حلقہ انتخاب رکھتے تھے۔ابن الوقت اور موقع پرست لوگ ہی ان کے گرد جمع ہوتے رہے۔ اور حکومت جانے کے بعد یا برے وقت میں ان سے علحدہ ہوتے رہے۔ماضی میں یہ بھی المیہ رہا کہ جب شہباز شریف پارٹی کے سربراہ بنے تو انہوں نے پرانے لوگوں کے بجائے سردار رحیم جیسے لوگ آگے آئے۔ جس کی وجہ سے اختلافات بھی بڑھے اور پرانے لوگوں کی حوصلہ شکنی بھی ہوئی۔ یوں سندھ میں تنظیمی طور پر پارٹی ختم ہو کر رہ گئی۔ اضلاع تو دور کی بات ہیں ابھی تک پارٹی کی صوبائی سطح پر بھی تنظیم سازی مکمل نہیں ہے۔
پارٹی میں موجود سندھ کے لوگوں پر عدم اعتمادی کا یہ عالم رہا ہے کہ پارٹی کے صوبائی چیف خوآرڈینیٹر مشہود صاحب پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ہیں۔اگر آپ لوگوں پر اعتماد نہیں کرتے تو لوگ آپ پر کیوں کریں؟اب دیکھنا یہ ہے کہ میاں صاحب سندھ کو واقعے اپنا حلقہ انتخاب بنا رہے ہیں یا صرف فوری ضرورتوں کے لیے اپنا رہے ہیں۔