Showing posts with label Musharraf. Show all posts
Showing posts with label Musharraf. Show all posts

Wednesday, 11 March 2020

آخری آ مر - مشرف پر مقدمہ - Jun 27, 2013

Thu, Jun 27, 2013 at 12:00 PM
آخری آ مر   مشرف پر مقدمہ 
میرے دل میرے مسافر       سہیل سانگی 
جنرل مشرف کا احتساب اور انکے اعمال کی سزا ملنے کی کوشش پر جمہوریت پسند لوف خوش ہیں۔ یہ ان کی پرانی خواہش تھی۔اب وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ حکومت کس طرح سے مقدمہ بناتی ہے اور لڑتی ہے اور عدلیہ اپنا رول کس طرح سے ادا کرتی ہے۔ 
اس ضمن میں حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کا ایک  موقف ہے کہ ڈکٹیٹر کا احتساب ہونا چاہئے۔ پیپلز پارٹی تمام آمروں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وقت بہت ظالم ہے۔ آج جہاں مشرف کھڑا  ہیں کل وہاں نواز شریف کھڑے تھے۔ایک حوالے سے مشرف کی حالت  نواز شریف کی حالت سے زیادہ خراب ہے، کیونکہ نواز شریف کے سیاسی خواہ سماجی طور پر حامی موجود تھے۔ لیکن مشرف کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ نواز شریف پر مقدمہ چلانے کو ملک کے عوام اور سیاسی قوتیں غلط سمجھ رہی تھیں، لیکن مشرف پر مقدمہ چلانے پر سیاسی قوتیں متفق ہیں۔ نواز شریف کی  مدد کے لیے سعودی عرب آگیا تھا جو ان کو  رہا کراکے لے گیا۔ لیکن مشرف جس کی اہمیت صرف تب تھی جب وہ آرمی چیف تھا اور آرمی اس کے ساتھ تھی۔  نواز شریف ایک سیاستدان ہیں۔اگر اقتدار میں نہیں تو بھی عوام میں کم یا زیادہ حمایت موجود رہے گی، اور یہ کہ وہ کسی بھی وقت اقتدار میں آسکتے ہیں۔ لیکن مشرف دوبارہ آرمی چیف نہیں بن سکتے۔ 
 مشرف کو واپس وطن آنے کا مشورہ کس نے دیا؟ شاید یہ انکا اپنا فیصلہ ہو۔ وہ اتنے خود سر تھے کہ ان کے ذہن سے یہ جملہ نہیں نکل سکا کہ ”میں نے کہہ دیا وہ کہہ دیا“۔وہ  ملک میں موجود صورتحال کو نہیں سمجھ سکے کہ ان کے بیرون ملک جانے کے بعد ملک میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ نئی سیاسی صف بندیاں وجود میں آگئی ہیں۔ ان نئی صف بندیوں میں ان کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔ بلکہ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ وہ ان صف بندیوں کو نقصان پہنچا سکتے تھے لہٰذا انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ عام تاثر یہ تھا کہ مشرف نے بعض دوست ملکوں سے  یقین دہانیاں حاصل کیں تھیں کہ وطن واپسی پر ان کے ساتھ خراب سلوک نہیں کیا جائے گا۔انتخابات سے پہلے جب  یہ فیصلہ ہوا کہ حکومت نواز شریف کی ہی بن رہی ہے، تو نواز شریف نے مقتدرہ حلقوں کو بتا دیا تھا کہ اگر مشرف کو بچانا چاہتے ہیں تو ان کو نگراں دور میں ہی ملک سے باہر بھیج دیا جائے۔مگر یہ سب کچھ نگراں دور حکومت میں نہیں ہوسکا۔کیونکہ عدلیہ بیچ میں آگئی تھی۔ 
 مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلانے کے حوالے سے دو  اور اہم باتیں سیاسی مارکیٹ میں گشت کر رہی ہیں۔ ایک یہ کہ ایسا کرنے سے پینڈورا باکس کھل جائے گا۔ جس کی لپیٹ میں بہت سارے سابق جنرل اور سیاستدان وغیرہ بھی آسکتے ہیں۔ لہٰذا اس کو قومی مصلحت اور مفاہمت کے لیے نہ چھیڑا جائے۔ یہ عجیب پینڈورا باکس ہے جو ہر مرتبہ کسی کے خلاف کوئی کارروائی کرتے وقت کھلنے کا خوف دلایا جاتا ہے۔اور ہر مرتبہ اس میں کوئی نئی چیز ڈال کر بند کردیا جاتا ہے۔ نواز شریف کو یہ بھی مشورہ دیا جارہا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو  اصغرخان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی عمل درآمد کا معاملہ سر اٹھائے گا جس میں نوے کی دہائی میں انتخابات چرانے کا الزام  نواز شریف پر بھی آتا ہے۔ دراصل ایسا وہ لوگ کر رہے ہیں جو یہ خوف دلا کر ایک تاریخی قدم اٹھانے سے روکنا چاہ رہے ہیں۔ اور بلواسطہ طور پر مشرف کی حمایت کر رہے ہیں۔ بعض حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ 1958 سے لیکر2007 تک آئین اور منتخب حکومتیں توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بظاہر یہ بات اچھی لگتی ہے۔ مگر اس کا عملی پہلو کیا ہے؟ اگر 1958سے لیکر 2007 تک کے آمروں اور ان کے ساتھیوں پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سوائے مشرف اور اس کے ساتھیوں کے باقی چند ایک ہی زندہ ہونگے۔باقی واقعات کے بڑے کردار پاکستان کے عوام اور عدلیہ کے دائرہ کار سے باہر جاچکے ہیں۔ 
ماضی میں ہوتا یہ رہا ہے کہ جمہوریت پر شب خوں مارنے والوں کو یہ سب کچھ ہضم ہوتا رہا ہے۔ لہٰذا ایسے طالع آزما وقتا فوقتا پیدا ہوتے رہے ہیں اگر اس طرح کا احتساب ایوب خان کے خلاف بھی ہو جاتا تو آج  ملک کے سیاسی اور معاشی ھالات مختلف ہوتے۔ کیونکہ اس کے بعد کسی بھی طالع آزما کو یہ جرئت نہیں ہوتی کہ منتخب حکومت کو یا آئین کو توڑتا۔ 
اس پورے قصے میں دو باتیں اور بھی اہم ہیں۔ ایک  امریکہ کا رول جس نے پچاس کی دہائی میں پاکستان کی سیاست، حکمرانی اور خارجہ پالیسی کے ساتھ کھیلنا شروع کیا۔  یہی کھیل دوبارہ1977ع میں کھیلا گیا اور جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کردیا۔ ضیا کا مارشل لاء دراصل افغانستان میں پاکستان کو رول دینے کے لیے تھا۔  اور اس کے پیچھے امریکی ہی تھے۔ پاکستان میں لگنے والے مارشل لاؤں  کا اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ براہ راست یا بلواسطہ طور پر امریکہ کی آشیرواد حاصل رہی ہے۔ 
  جمہوریت کو لپیٹنے  میں دوسرا عنصر خود سیاسی قوتوں کا بھی رہا ہے۔ایک عرصے تک یہ ہوتا رہا کہ  جمہوریت کے دعویدار سیاستدان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے ہیں۔ اور لڑتے رہے ہیں جس سے تیسری قوت کو موقعہ ملتا رہا۔ لہٰذا ان آمروں کی نیت اور مہم جوئی اپنی جگہ پر مگر انکو موقعہ اور سازگار حالات سیاسی قوتوں نے ہی فراہم کئے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات  فوج کو باقاعدہ دعوت بھی دی جاتی رہی کہ  وہ مداخلت کرے یا اقتدار سنبھالے۔اور بعد میں فوج کی آجیاں بھی کرتے رہے ہیں۔یوں یہ سیاستداں فوج کی سیاست میں مداخلت کے ذمہ دار رہے ہیں۔ 
جب تک یہ رویے تبدیل نہیں ہونگے ایک دوسرے کو برداشت نہیں کریں گے تب تک جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکے گی۔ اس لیے جہاں یہ رویت قائم کی جارہی ہے کہ آئین اور پارلیمنٹ توڑنے والے سزا کے مستحق ہونگے وہاں یہ بھی روایت قائم ہونی چاہیئے کہ سیاسی جماعتیں ذمہ دارانہ کرادر ادا کریں گی۔ملک میں دوسرے صوبے بھی ہیں۔مختلف الخیال لوگ بھی ہیں، جو کہ سب کے سب پاکستانی ہیں۔ لہٰذا سیاسی جماعتیں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں دونوں صورتوں  میں قانون اور آئین کی پاسداری کرینگی اور اسکے ساتھ ساتھ ملکی معاملاتباہمی مشورے سے چلائیں گی تاکہ کسی تیسری قوت کی دور کی بات تیسری سوچ بھی کسی کے ذہن میں نہ آئے۔اگر یہ اس طڑھ سے کیا گیا تو یقیننا مشرف آخری آمر ہوگا جو سزا بھی بھگتنے لگے گا۔

Tuesday, 10 March 2020

ایک آمر کی واپسی - Mar 24, 2013

Sun, Mar 24, 2013 at 10:32 PM
ایک آمر کی واپسی۔ مشرف گزرا  ہو ا  زمانہ یا پریشر گروپ
سہیل سانگی
 ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف منتخب حکومت کا تختہ الٹنے والے پہلے فوجی آمر ہے جو دیدہ دلیری سے واپس ملک آگئے ہیں اوروہ سیاست میں سرگرم ہوناچاہتے ہیں۔ ورنہ دوسرے آمرجنرل ایوب خان اور یحیٰ خان خان کو آمریت ختم ہونے کے بعد عوامی زندگی میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ جنرل ضیا دوران آمریت ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔  
1999ع میں جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا، ان کو جلاوطن کیا اور آئین توڑا۔ د وہ دس سال تک مسلط رہے۔جب 2008  میں پیپلز پارٹی نے دیگر سیاسی جماعتوں ملکر انہیں مواخذہ کی دھمکی دی اور خود عسکری حلقوں میں ان کی حمایت کم ہوئی تو وہ صدارت سے استعیفا دے کر ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ جاتے جاتے انہوں نے کہا تھا کہ اب پاکستان کا خدا حافظ ہے۔ لیکن خدا کے فضل سے پاکستان اب بھی قائم ہے۔  
 مشرف بینظیر بھٹو اور نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں مطلوب ہیں۔ اور سپریم کورٹ کے ججز کو حبس بے جا رکھنے کے بھی الزامات ہیں۔
حال ہی میں مدت مکمل کرنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت امریکی فارمولے کے تحت بنی تھی۔ جس کیمطابق مشرف اور بینظیر بھٹو کو ساتھ ساتھ حکومت کرنی تھی۔ستمبر میں مشرف پر واضح کیا گیادیا کہ”بنیادی طور پر ہم آپ کے ساتھ ہیں مگر چاہتے ہیں کہ حکومت پر جمہوری لبادہ ہو، اور اس کے لیے بینظیر نہایت ہی موزوں ہے۔“  مگر مشرف مستقبل کی اتحادی کو تحفظ فراہم نہ کر سکے اور محترمہ کو راولپنڈی میں جلسے کے بعد قتل کردیا گیا۔ ان کے قتل کے بعد بھی اسی فارمولے پر عمل ہوا۔ فرق یہ ہوا کہ بینظیر جہاں میں نہیں رہیں اور مشرف ملک میں نہیں رہا۔ 
 خود کو ضرورت سے زیادہ دانا سمجھنے والے مشرف نے ملک  میں کسی بھی پارٹی یا ادارے سے بنا کے نہیں رکھی۔ نواز لیگ کی حکومت کو برطرف کیا۔ پیپلز پارٹی ان کو بی بی کے قتل کا ذمہ دار ٹہراتی ہے۔ عدلیہ کو برطرف کیا۔ آخری ایام میں خود عسکری حلقے بھی ان سے ناخوش تھے۔
 ان کے اتحادی آج نئی سیاسی صف بندی میں چلے گئے ہیں۔ مذہبی جماعتوں کا اتحاد مجلس عمل کے لوگ نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ایم کیوایم اور قاف لیگ پیپلز پارٹی کی اتحادی ہیں۔اگرچہ قاف لیگ ڈھائی سال پہلے مشرف کو ”عاق“ کر چکی ہے۔ جس کو جنرل صاحب نے بڑے ارمانوں سے بنایا اور پالا تھا۔ ویسے بھی  یہ لیگ اب آخری سانسیں لے رہی ہے۔ سندھ میں مشرف نے ار باب غلام رحیم اور علی محمد مہر پر بڑی نوازشیں کی تھیں ارباب نواز شریف سے اتحاد کرنے کے چکر میں تقریبا لاہوری بن بیٹھے ہیں۔ لیکن مشرف نے تھر سے الیکشن لڑنے کی بات کرکے نواز شریف کے پاس ارباب رحیم کے نمبر کم کر دیئے ہیں۔
مشرف کی حامی جماعتیں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد میں رہیں۔ سوائے متحدہ مجلس عمل کے۔ ان میں سے مولانا فضل الرحمان نے پی پی کا دیا۔
 مشرف واپس تو آگئے ہیں، کیاسیاسی طور رپربھی وہ خود کو بحال کر لیں گے؟وہ عناصر جو کل مشرف کے ساتھ تھے آج کہاں کھڑے ہیں؟کیا ملکی سیاست میں مشرف کا کوئی رول ہے؟وہ جس رول کی تلاش میں لوٹ کر آئے ہیں کیا وہ رول ان کو مل سکتا ہے؟ان کے ساتھ کون کون کھڑا ہوگا؟ یہ وہ بنیادی سوال ہیں جن کے جواب میں بات پنہاں ہے کہ مشرف کا مستقبل کیا ہے؟ 
وہ خود کو پی پی اور نواز شریف کے بعد تیسرے آپشن کے طور پر پیش کرتے ہیں۔انکا دعوا ہے کہ ان کی پارٹی ہر نشست پر امیدور کھڑے کرے گی۔ ملک کی دوسرے نمبرپر بڑی پارٹی نواز لیگ یہ کام نہیں کرسکتی۔ مشرف کہاں سے کر لیں گے؟   
مشرف گزرا ہوا زمانہ ہیں۔ تاہم میڈیا ضرورہائیپ پیدا کیاہوا ہے۔ دراصل ان کی اہمیت پریشرگروپ کی سی ہے۔ وہ صرف ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے لیے مشکل پیدا کریں گے۔ اور انہیں مجبور کریں گے کہ وہ بعض اشوز پر اپنی پوزیشن واضح کریں۔
 اسلام آبادکے حلقوں کے مطابق عسکری قیادت نے ریٹائرڈ جنرل کو فی الحال ملک سے باہر رہنے کا مشورہ دیا تھا۔یہی مشورہ  بینظیر کو مشرف نے دیا تھا کہ ان کی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ کہا جاتا ہے کہ ریٹائرڈ جنرل نے و طن واپسی کے لیے سعودی عرب اور عرب امارات کا اثر رسوخ استعمال کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت انہیں گرفتاری کی دھمکیاں دے رہی تھی  اس کے ختم ہونے کے بعد مشرف وطن آرہے ہیں جو۔ اب ان کی فرمائش ہے کہ انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔
 مبصرین کے مطابق مشرف اس پوزیشن میں نہیں کہ حکومت میں آ سکیں گے البتہ سیاسی منظر نامے پر اثرانداز ضرور ہونگے۔اور سیاسی جماعتوں اور ریاست کے اداروں پر بھی اثرانداز ہونگے۔
عسکری قیادت:
ریٹائرڈ جنرل کا سیاست میں سرگرم ہونا سیاستدانوں کے لیے ہی نہیں خود موجودہ عسکری قیادت کے لیے بھی درد سر ہوگا جس نے حالیہ برسوں میں ادارے کو  سراب  سے نکالنے اورنئے طریقے سے استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ان کی آمد سے قبل تجزیہ نگار ان سوالات پر  غور کررہے تھے کہ کیا فوج میں ان کے حامی اس پوزیشن میں ہیں کہ انکو گرفتار ہونے سے بچا سکیں یا یہ فوج یہ برداشت کرلے گی کہ ایک سابق سربراہ جیل چلا جائے۔ فوج آخر ایک ریٹائرڈ جنرل کو سر پرکیوں بٹھائے گی؟
طالبان کی دھمکی کے بعد اگر خدانخواستہ ان کو کچھ ہو جاتا ہے تواس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟اگر ان کو کچھ نہیں ہوتا، تو اس تاثر کو ختم کرنا ناممکن ہوجائے گا کہ انہیں فوج کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ دونوں صورتوں میں فوج کا رول زیر بحث آئیگا۔
عدلیہ:  جب عدلیہ اس کے خلاف مقدمات کی سماعت شروع کرے گی تب صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ یہ وہ عدلیہ ہے جس کو  انہوں نے برطرف کردیا تھا۔تاریخ کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ مشرف نے جس عدلیہ کو لتاڑا تھا تھا وہ اب ان کی آزادی اور مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ 
سیاسی بازار میں یہ باتیں بھی گشت کر رہی ہیں کہ غیرملکی فیکٹر نے یہ یقین دہانی حاصل کر لی ہے کہ عدلیہ ہلکا ہاتھ رکھے۔یہ افواہ ان ججز کے لیے خاصے تکلیف دہ ہونگے جنہوں نے گزشتہ برسوں میں بڑی محنت اور ہمت سے اپنا امیج بنایا ہے کہ عدلیہ آزاد ہے۔ بہرحال یہ افواہ عمل سے ہی ختم ہو سکیں گے۔ فی الحال تو عدلیہ نے ریٹائرڈ جنرل کی بینظیر بھٹو اور نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں ضمانت منظورکر لی ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے دو مرتبہ کو کیا، اور آئین کو توڑا وہ انکے معاملے پر عدلیہ آزمائش میں آئے۔ عدالت جس نے دو منتخب وزیر اعظموں کو طلب کیا۔ جن میں سے ایک کو نااہل قرار دیا۔ صدر کو مشورہ دیا کہ وہ آئین کے مطابق چلیں، طاقتور نوکرشاہی سے بھی پوچھ گچھ کی۔ لوگ منظر ہیں جب عدلیہ مشرف کے معاملے کو ہینڈل کرے گی۔
سیاسی جماعتیں:
سب سے بڑا امتحان مسلم لیگ (ن) کا ہوگا۔ نواز شریف مسلسل مشرف کے خلاف بولتے رہے ہیں۔اور زور دیتے رہے ہیں کہ حکومت کا تختہ الٹنے والے پر آئین کی دفعہ چھ کا اطلاق کیا جائے یعنی غداری کا مقدمہ چلایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی مہم جوئی کی ہمت نہ ہو۔مشرف کی آمد کے بعد وہ اسکو سزا دلانے کے لیے کتنا زور دیتی ہے، اس سے پتہ چلے گا کہ وہ اس مطالبے میں کتنی سچی ہے۔اگر نواز لیگ انتخابات جیت جاتی ہے تب یہ معاملہ اور بھی پیچیدہ ہوجائے گا۔ تاہم ابھی تک نواز لیگ کا کوئی سخت موقف سامنے نہیں آیا۔
 عمران خان  اور مشرف دونوں ایک ہی حلقے سے حمایت کے آسرے میں ہیں۔کی کیا پوزیشن بنے گی جو شروع میں جنرل مشرف کے ساتھ تھے، مگر بعد میں ان سے الگ ہو گئے۔ اس وقت ان کی پوزیشن یہ ہے کہ وہ طالبان کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ اور میاں نواز شریف کی بھی یہی لائن ہے۔ اور ان کے ساتھ مذہبی جماعتیں کھڑی ہیں۔ یہ پوری لابی طالبان سے مذاکرات کے حق میں ہے۔مشرف کے مخالفین کا الزام ہے کہ انہوں نے نائین الیون کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت ترک کردی تھی۔شدت پسند رہنماؤں کو امریکہ کے ہاتھوں بیچا۔
جبکہ دوسری طرف پی پی، ایم کیو ایم اور اے این پی ہیں۔ تاریخ کی یہ ستم ظریفی ہے کہ مشرف کا اور ان جماعتوں کا اس معاملے میں موقف ملتا جلتا ہے۔البتہ اے این پی اب طالبان سے مذاکرات کی بات کرتی ہے۔
کیا مشرف اور علامہ قادری کے درمیان کوئی تعلق ہے؟دونوں خود کو ”ماڈرن مسلمان“کہلاتے ہیں۔ممکن ہے کہ مشرف بھی دو بڑی پارٹیوں کے خلاف  پوائنٹ اسکور کرنے کے لیے انتخابات میں امیدواروں کی اہلیت کا سوال اٹھائیں۔ اور علامہ قادری کی طرح آرٹیکل 62 اور 63 پر مکمل عمل کی بات کریں۔ جس طرح علامہ خود کوئی سیاسی فائدہ نہ لے سکے، مشرف کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہے کہ وہ کسی اور کی گیم خراب کریں گے۔اس وقت صرف علامہ قادری ہی ہیں جو ان کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ ورنہ کسی پارٹی نے ابھی تک مشرف کا ساتھ دینے یا اتحاد میں دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔
خود کو پاکستان کا نجات دہندہ قرار دینے والا  بلوچستان میں سینکڑوں لوگوں کی پراسرار گمشدگی، ڈرون حملوں کا خفیہ معاہدہ کرنے،  بلوچستان میں آپریشن کی ذمہ داری سے بھی بری الذمہ نہیں۔ 
مشرف کے ابھی تک بادشاہی خیالات ہیں۔وہ دیہی علاقوں کے تھانوں پر ڈیوٹی کرنے والے تھانیدار کی طرح سوچتے ہیں۔ جو ریٹائر ہونے کے باوجود خود کو تھانیدار ہی سمجھتا ہے۔ جنرل نے ملکی وسائل، عسکری ادارے کی کمانڈ، سرکاری مشنری کے نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے سیاست اور حکومت کی۔ اب ان کے پاس ان میں سے کوئی چیز نہیں۔ہاں پیسے ضرورہیں جو خرچ ہوتے ہوئے نظر بھی آتے ہیں۔
 مشرف نے ابھی چند ماہ قبل فوج کو مشورہ دیا تھا وہ ٹیک اوور کرے۔مگر ہر کوئی جانتا ہے کہ اب اس نسخے کی سیاسی مارکیٹ میں ڈمانڈ نہیں رہی۔ اور نہ ہی ان پالیسیوں کی اور شخصی حکومت کی مارکیٹ ہے۔

Monday, 9 March 2020

مشرف کے بادشاہی خیال 2012-7-5


Jul 5, 2012 
 مشرف کے بادشاہی خیال  
 کالم۔۔ میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی
چاہے بادشاہت ختم ہو جائے، بادشاہی خیالات ذہن سے نہیں جاتے۔ کہا جاتا ہے کہ جب مغل شہنشاہ شاہجہاں کو اس کے بیٹے اورنگزیب نے قید کرکے شہنشاہیت پر قبضہ کر لیا تھا تو  قید ی شنہنشاہ نے فرمائش کی کہ انہیں ثابت چنے اور کچھ بچے بھیج دیں،انکے پاس بہت سارا وقت ہے وہ قیدخانے میں  ان بچوں کو وہ کلام پاک کا درس دیتے رہیں گے۔جواب میں اورنگزیب نے کہا کہ بڑے میاں بادشاہی چلی گئی بادشاہی خیالات نہیں گئے۔ آپ چنوں سے دنیا بھر کی ڈشیں بنوائیں گے اور بچوں پر حکم چلا کر بادشاہی ٹھرک پوری کریں گے۔ جنرل مشرف جنہوں نے تقریبا دس سال تک عوام کے مینڈیٹ کے بغیرغیرآ ّئینی اور غیر قانونی طور پربادشاہت کی۔اب پھرملک کو خطرات کا تذکرہ کر رہے ہیں اور اپنی خدمات پیش کررہے ہیں۔جنرل مشرف نے ایسپین آئیڈیا فیسٹیول میں کچھ تازہ فرمودات کہے ہیں کہ ”ملک کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔اورملک کو بچانے کے لیے لوگ ایک بار پھر فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ کیا ہم ملک بچانے کے لیے کچھ غیر آئینی چیزیں کریں یا آئین کی پاسداری کریں اور ملک کو تباہ ہونے دیں۔“خدا کا شکر کریں کہ یہ الفاط کسی ان سروس جنرل نے نہیں بلکہ ایک ریٹائرڈ جنرل نے کہے ہیں۔ان کی یہ بات جہاں ان کے 12اکتوبر1999کے جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام کو جائز قرار دینے کی کوشش ہے بلکہ موجودہ حالات میں بھی فوج کوایسا کرنے کا مشورہ ہے۔یہ الگ بات ہے کہ انکے اس مشورے پر موجودہ حالات میں عمل کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔فوجی ٹیک اوور کی وکالت سیاستداں کے طور پر اس کے قد میں کوئی اضافہ نہیں کرے گی  اور نہ ہی پاکستان میں انکے سیاسی مستقبل بہتر بنائے گی جہاں انہیں پاپولر لیڈر بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش کرنے کے مقدمے میں مفرور ملزم قرار دیا جا چکا ہے اور انٹرپول سے درخواست کی گئی ہے کہ انہیں گرفتار کر لے۔ ان احکامات کے باوجود ایسے کوئی شواہد نہیں ملتے کہ انٹرپول نے اس بات کو سنجیدگی سے لیا ہو۔ جنرل مشرف کی سیاست میں آمد بلکہ مداخلت میں رکاوٹ یہ الزامات نہیں بلکہ آل پاکستان مسلم لیگ کے دھڑے کی بیوفائی ہے، جو انہوں چند سال پہلے بنایا۔ مشرف کا اصل حلقہ تو فوج ہے جو یقیننا پاکستان کی سیاست میں بڑی ہی اہمیت کی حامل ہے اوراسی کے بل بوتے پر انہوں نے حکمرانی کی۔مسلم لیگ کا دھڑا جس کو انہوں نے برے وقتوں میں خام آنے کے لیے پروان چڑھایا تھا، عرصہ ہوا ان سے لاتعلقی کا اظہار کر چکا ہے، اور اب پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں حصہ دار ہے مگر بھر بھی ریٹائرڈ جنرل بار بار پاکستان لوٹنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ مشرف کے دوبارہ سیاسی زندگی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ فوج آخر ایک ریٹائرڈ جنرل کو سر پرکیوں بٹھائے گی؟ مشرف کا دعوا ہے کہ وہ ملک کو بچانے کے لیے اپنی گرفتاری کی پرواہ کئے بغیر وطن جانے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر وہ انٹرپول کے ذریعے نہیں بلکہ کہ اپنی مرضی سے اور اپنے طور پر جائیں گے۔ 
 ملک میں مارشل نافذ کرنے والے سب ایک سا جواز پیش کرتے ہیں۔ الفاظ میں بھلے انیس بیس فرق ہوں مگر مفہوم اور معنی ایک سی ہوتی ہیں۔اسکندر مرزا کے الفاظ بھی یہی تھے انہوں نے اکتوبر1958میں کہا تھا:”آئین مقدس ہے مگر آئین سے زیادہ مقدس ملک ہے۔“ پہلی تقریرکوئی پچاس سال پہلے کی ہے مگر دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ ان پانچ عشروں میں بہت کچھ تبدیل ہوا ہے۔ اگر تبدیل نہیں ہوا تو سیاسی بحث ہے یا ہمارے حکمراں طبقے کی سوچ۔ وہی سوچ اور وہی پیغام ہے۔ ایک  زبان، لب و لہجہ کیوں منتخب کیا جاتا ہے؟ اپنے عمل کوجائز قرار دینے کے لیے ایسی طریقے کیوں تلاش کیے جاتے ہیں۔آئیے ملک میں مارشل لگانے والوں کی پہلی تقاریر کا جائزہ لیں۔
اسکندر مرزا نے کہا تھا”ملک تباہی کے دہانے پر ہے“۔ایوب خان کے یہ الفاظ تھے”ایک اچھا بھلا ملک مذاق بن کر رہ گیا ہے“۔ یحی خان کا کہنا تھا کہ خوف وہراس نے قوم کو معذور بنا دیا ہے۔مشرف نے کہا تھا کہ ہم اقوام کی برادری میں اپنی عزت، احترام کھوبیٹھے ہیں۔ 
 ہوتا یہ ہے ملک کی ایک تاریک شکل پیش کرنے کے بعد یہ مارشل لگانے والے حکومت کی کارکردگی کو نشانہ بناتے ہیں۔سیاستدانوں اور ٹوٹنے والی حکومتوں کو ایک نقصاندہ جیت سمجھتے ہیں اور جتنے منفی خصوصیات اور زبان ہوسکتی ہے اتنی استعمال کرتے ہیں۔سیاسی پارٹیوں کی ذہنیت بہت گر چکی ہے۔ سیاستدانوں کو سیاسی مہم جو، غدار، غیرمحب وطن، اقتدار کے بھوکے وغیرہ وغیرہ کہا جاتا ہے۔ عوام کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں اور دعوے کئے جاتے ہیں کہ مارشل ملک کو بچانے کے لیے لگایا جا رہا ہے، ملک اور قوم کے عظیم مفاد میں۔ اس واعدے کے ساتھ کے جلد انتخابات کرائے جائیں گے۔۔
 اسے حسن اتفاق کہئے کہ مشرف کے یہ”خوبصورت“ خیالات کہ ملک کو بچانے کے لیے غیر آئینی اقدامات کئے جا سکتے ہیں، ملک کے ان بدترین اور تاریک ترین لمحوں کی سالگرہ کے موقعے پر سامنے آئے ہیں جب  جنرل ضیا نے آئین کو توڑ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔انہوں نے بھی ملک کو بچانے کا دعوا کیاتھا۔ یہ اور بات ہے کہ انہوں نے ملک کو تباہ ہی کیا۔ جس کا خمیازہ نسلیں بھگت رہی ہیں۔تمام تر نفاستوں لبرل ہونے کے دعوؤں کے باوجود جنرل مشرف پر یہ تاثر نہیں بنا پایا کہوردی والے پاکستان کے نجات دہندہ نہیں ہوسکتے۔
ضیا اور مشرف کے مقابلے میں ایوب خان اس حد تک تو بہتر تھا کہ نہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ چونکہ سیاستدان انتشار پھیلا رہے تھے لہٰذا وہ انتخابات کو روکنے کے لیے آئے ہیں۔مگر ان کی بھی اقتدار میں آنیکی انوکھی دلیل دی کہ پاکستان کے لیے جمہوریت صحیح نہیں۔ ضیا کا فوجی قبضہ چند ماہ کے ہنگاموں اور اس کے جواب میں ریاستی کارروائیوں  کے بعدآیا۔واضح ہرے کہ ضیا نے مارشل تب لگایا جب احتجاج ختم ہو چکا تھا اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاملات طے ہو چکے تھے اور معاہدے پر دستخط ہونے والے تھے۔جنرل ضیانے آغاز میں یہ تسلیم کیا تھا کہ دھاندلی نہ ہوتی تو بھی پیپلز پارٹی جیت جاتی۔ اور 90روز کے اندر انتخابات کرانے کا وعدہ کیا۔بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے دو سال بعد پاکستان کے پہلے جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم کو پھانسی دی گئی۔ جس سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔اوربھٹو فیکٹرپاکستان کی سیاست میں حاوی فیکٹر بن گیا۔ آج تک  اسٹیبلشمنٹ اس مقبولیت سے جان نہیں چھڑا پا رہی ہے۔
مشرف نے 1999میں منتخب حکومت کا تختہ الٹا تھا، اور ملک کا چیف اگزیکیوٹو بنا اور2001میں خود کو صدر مقرر کیا2008میں اس وقت استعیفیٰ دیا جب انہیں مواخزۃ کا خطرہ تھا۔ اس کے بعدانہوں نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی۔
 و ہ لوگ جنہوں نے جنرل مشرف کے ٹیک اوور کو سراہا تھا بتا سکتے ہیں کہ فوجی حکومت ملک کے مسائل کا حل نہیں ہوتی۔
مشرف کی باتوں  اورجوازکو اگرآج کی صورتحال میں پرکھتے وقت ان سب چیزوں کو جائے۔ حکومت کی نااہلی، خراب حکمرانی اپنی جگہ پر، مگر چھ آٹھ ماہ میں تو انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں ایک اور نااہل قسم کی حکومت اقتدار میں آجائے سوال یہ ہے کہ اس  سے ہٹ کے جو کچھ آفر کیا جا رہا ہے وہ متبادل ہے؟ پاکستان کے 65 برس 33 سال براہ راست فوجی حکمرانی رہی ہے۔ان فوجی حکومتوں نے کیا دیا؟ کیا یہ قابل عمل ترقی کا راستہ ہے؟اگر ایسا ہوتا تو بہت پہلے ثابت ہوچکا ہوتا۔ تمام خامیوں کے باوجود  سیاسی اور منتخب  نظام  میں بامقصد تبدیلی کے امکانات ہیں۔ہمارے حکمراں سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کو دیکھ کر بظاہریہ دعوا ایک بڑا اور کھوکھلا اور خواب سا لگتا ہے۔ اس عرصے کے دوران اور قوتیں بھی ابھریں گی، آگے بڑھیں گی، اور اس صورتحال کو بدل کر رکھ دیں گی۔مگبالکل ایسے ہی  جیسے چرچل  نے کہا تھا کہ جمہوریت  میں خرابی آجائے تو اسکا علاج مزید جمہوریت ہے یہاں بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ نہ کوئی حل ہے نہ آپشن۔ 
  

Thursday, 5 March 2020

مشرف کی آمد 2012-01-16

 Mon, Jan 16, 2012 at 10:09 AM
مشرف  کی آمد
 کالم  سہیل سانگی
نو سال تک ملک کے سیاہ و سفید کے ملک  رہنے والے ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے وطن واسپی کا اعلان کرتے ہوئے صدارتی انتخاب لڑنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ ان کی آمد کے حوالے سے بہت سے سوالات ہیں۔ کیا وہ  واقعے جنوری کے آخر میں  پاکستان آرہے ہیں؟ اگر آئیں گے تو نا کے ساتھ کیا سلہک کیا جائے گا؟ سیاست میں ان کا کیا رول ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ۔
ان کا بیرون ملک جانا  بینظیر بھٹو اور نواز شریف سے مختلف تھا۔ وہ گئے بھی اپنی مرضی سے تھے۔ نواز شریف کو انہوں نے ملک بدر کیا تھا۔جبکہ بینظیر کے لئے وطن عزیز کی سر زمیں اتنی تنگ کردی گئی تھی کہ ان کے پاس سوائے جلاوطنی کے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ابھی جب وہ وطن ّنے کا سوچ رہے ہیں یقینا انہیں یہ یاد آرہا ہوگا کہ کس طرح  انہوں نے ان دونوں سیاسی رہنماؤں کو وطن آنے سے روکا تھا۔   
بینظیر بھٹو کو این آر او کے باوجود وطن آنے کی اجازت نہیں دی۔اور کہا کہ وہ اگر آئیں تو اپنے رسک پر آئیں وہ ان کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتا۔بینظیر جب وطں پہنچیں تو ان کے استقبالی جلسے کو خون سے نہلا دیا گیا۔ اور بعد میں 27 دسمبر کو انہیں رالپنڈی میں قتل بھی کر دیا گیا۔ 
 کیاوطن واپسی پر ریٹائرڈ جنرل کا محاسبہ ممکن ہے؟  مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے کہ مشرف کے خلاف 2007میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔وزیر اعظم اور صدر کا کہا ہے کہ مشرف پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے۔ پارلیمنٹ میں دو جماعتیں مسلم لیگ (ق) اور ایم کیوایم  بھی موجود ہیں جو مشرف کے ساتھ تھیں۔
مشرف کی پالیسیوں  اور اقدامات سے  ملک کو معاشی، سیاسی نقصانات ہوئے سو ہوئے مگروہ بعض  ایسے اعمال کے بھی مرتکب ہوئے جو جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ آئین اور قانون سے بالاتر نہیں ان کو آئین کے کٹہرے میں ضرور کھڑا ہونا پڑیگا اور بہت سارے سوالات کے جوابات دینے پڑینگے۔ اگر تاریخ کو کھنکھلا جائے تو اور بھی بہت سارے  واقعات سامنے آئیں گے، مگر ذیل میں چند ایسے الزامات ہیں  جن سے عام پاکستانی بھی آگاہ ہے۔
 ۱)  ایبٹ آباد کی سیشن کورٹ نے گمشدہ افراد کے ایک مقدمے میں مشرف کو  اشتہاری مجرم قرار دے چکی ہے۔
۲)  فروری  2011میں انسداد دہشتگری کی عدالت نے بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش کرنے کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کئے  چکی ہے۔
۳)  مارچ 2011 میں سندھ ہائی کورٹ   ان کے خلاف غداری کے الزامات عائد کر چکی ہے۔ 
۴)  بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کا مقدمہ قتل ہے، جس میں انہیں اشتہاری مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ 
 ۵)  پاکستان کی سرزمین امریکہ کے ہاتھوں بیچا اور تین اڈے امریکہ کے حوالے کئے۔جہاں سے امریکہ اپنے آپریشن اور حملے کرتا رہا۔ 
 ۶)کارگل کی مہم جوئی 
 ۷)  نومبر 2007کی ایمرجنسی جس کی توثیق ابھی تک پارلیمنٹ نے نہیں کی۔ 
 ۸) ججوں کی معزولی اور انہیں حراست میں لینا۔  
 ۹) بینظیر بھٹو کا قتل، جس میں خود بینظیر انہیں نامزد کر گئی تھیں۔ 
 ۰۱)  12 مئی2007کو کراچی میں قتل عام 
 ۱۱)  ڈرون حملوں کی اجازت، جس  سے متعلق  ایک آئینی درخواست  پشاور ہائی کرٹ میں زیر سماعت ہے۔ 
  کچھ  مقدمات تو عدالتوں میں ہیں۔ جب کہ باقی  الزامات کے لئے کئی لوگوں کی کوشش ہے کہ وہ بھی مقدمات کی شکل اختیار کر لیں۔ جبکہ سابق ڈکٹیٹر کی کوشش ہے کہ وہ  واشنگٹن اور ریاض سے  ضمانتیں لے کہ پاکستان پہنچنے پر انہیں گرفتار نہیں کیا جائیگا۔ جب تک اس طرح کے واضح پیغامات  صدر زرداری اور  جنرل کیانی کو نہیں مل جاتے  وہ نہیں آنا چاہ رہے ہیں۔بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عربیہ نے مشرف کو یقین دلایا ہے کہ ان کے خلاف آئین کے شق چھ کے تحت غدرای کا مقدمہ نہیں چلایا جائے۔ 
 اقتدار پر قبضہ کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد مشرف نے  ججوں کے حلف میں تبدیلی کا حکم نامہ جاری کیا اور ججوں سے کہا گیا کہ وہ فوج سے وفاداری کا حلف لیں۔اگست 2002 کو لیگل فریم ورک آرڈر  جاری کر کے 73ع کے آئین میں کئی ترامیم کیں۔مسلم لیگ کو توڑ کر  الگ سے مسلم لیگ (ق) بنوائی۔ اور مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت قائم کی۔جس نے  ان کی حکومت کوlegitimise  کیا. دسمبر 2003 میں مشرف نے چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے ساتھ معاہدہ کیااورآئین میں سترہویں ترمیم منظور کراکے آرمی چیف اور صدرکے عہدے پر بیک وقت  فائز رہے۔  
  جنت سے نکالے گئے یہ ”فرشتے“ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر کے خود کو  لندن اور دبئی تک محدود کرنے والے مشرف کا کوئی سیاسی رول یا مستقبل ہے بھی؟ 
ریٹائرڈ جنرلوں کی خواہشا ت اپنی جگہ، پر پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی بھی ریٹائرڈ جنرل نے شدید خواہشات اور کوششوں کے باوجود کوئی بڑا کارنامہ نہیں کیا، اصغر خان،  جنرل اسلم بیگ  اور کچھ اور جنرل  بارہا یہ کوشش کر چکے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ فوج نے کبھی ریٹائرڈ جنرل کا ساتھ نہیں دیا ہے، ماسوائے انکی فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین کے۔حاضر سروس  اور ریٹائرڈ جنرل کے بارے میں فوج کے اپنی  قواعد و ضوابط ہیں۔ 
مشرف نے 2010 میں لندن میں بیٹھ کر آل پاکستان مسلم لیگ بنائی۔ جس کے بعد وہ  مختلف ممالک میں لیکچر دیتے رہے۔ان کے لیکچرز کے سلسلے کی دو چیزیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ ہمیشہ اپنی احیثیت سے بڑھ کرباتیں کیں، دوسرے یہ کہ سامعین  کا حلقہ ان کے حامیوں کا تھا۔
 اگر مشرف  وطن آجاتے ہیں اور مقدمات سے بھی بچ جاتے ہیں  تو یقیننا وہ سیاست کرنے کی کوشش کرینگے۔ اس کوشش میں  وہ سب سے زیادہ نقصان نواز شریف کو انتخابی مہم میں دے سکتے ہیں۔  ان کی واپسی کا  زیادہ سیاسی اثرعمران خان اور نواز شریف پر پڑسکتا ہے۔ نواز شریف  اور جنرل مشرف ایک دوسرے کے سیاسی اورذاتی مخالفبن چکے ہیں۔ 
مشرف کو ایک مضبوط اور منظم مشین چاہئے۔جبکہ ان کی اپنی پارٹی ایسی نہیں ہے۔ ان کے لئے ایک آپشن یہ بھی ہے کہ  وہ ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کر لیں۔ ایم کیو ایم  انکی اتحادی رہی ہے، اوروہ خود بھی اردو اسپیکنگ ہیں۔ انہوں نے  ملک میں جو بلدیاتی نظام نافذ کیا تھا  اسکا سب سے زیادہ فائدہ بھی ایم کیو ایم کو ملا تھا۔ ایم کیو ایم نے آخر تک مشرف کا ساتھ دیا تھا اور عہدہ چھوڑنے سے چند دن قبل جب ان کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا، ایم کیو ایم نے کراچی میں ان کی حمایت میں ریلی نکالی تھی۔
رواں ماہ  کے دوران کراچی میں ویڈیو خطاب میں مشرف نے اعلان کیا کہ وہ جنوری کے آخری ہفتے میں پاکستان آئینگے۔  یہ خبریں بھی شایع ہوتی رہیں کہ انہوں نے آرمی چیف  جنرل کیانی سے فون پر بات کی  اور اپنے تحفظ کے لئے فوج کو اپنی ذمہ داریاں یاد دلانے کی کوشش کی۔ن سے نہ صرف اسکی آمرانہ پالیسوں کی وجہ سے نفرت کی جاتی ہے،  میڈیا پر کریک ڈاؤن، سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف کارروائی،  بجلی کا بحران وغیرہ۔ ایسے نکات ہیں کہ لوگ ابھی تک بھولے نہیں، ایٹائرڈ جنرل کے پاس صرف آئیڈیا ہی آئیڈیا ہے جسے وہ  امریکہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے پاس بیچنا چاہ رہے ہیں۔
 گذشتہ دو ہفتوں کے دوران  فوج کی صدر زارداری اور  وزیر اعظم گیلانی سے ناراضگی  کے باعث اس شبہہ کو مزید تقویت ملی کہ آرمی  ایک فوجی سیاستدان کی حمایت کریگی۔مگر موجودہ فوجی قیادت  ملک کی رائے عامہ اور  جمہوریت دوست  ہونے کی دعویدار بنی ہوئی ہے۔ایسے میں اگر عدالتیں  ریٹائرڈ جنرل مشرف سے کچھ حساب کتاب کرتی ہیں تو فوج بیچ میں نہیں آئیگی۔اگر مشرف کو سزا ہو جاتی ہے یا وہ جیل بھیج دیئے جاتے ہیں  تو یہ ان کے سیاسی کریئر کے لئے فائدیمند ہوگا، کیونکہ پاکستان میں بھٹو سے لیکر نواز شریف تک سب کا ہائی پروفائل جیل کی وجہ سے ہی بنا۔
 مبصرین کا کہنا ہے کہ تبدیل شدہ حالات میں  ان کی واپسی کے امکانات کم ہیں۔وہ شاید  چند  ماہ مزید انتظار کریں۔