Showing posts with label Nationalists. Show all posts
Showing posts with label Nationalists. Show all posts

Tuesday, 10 March 2020

قوم پرست سیاست اور انتخابات -May 2, 2013

Thu, May 2, 2013 at 10:33 AM
قوم پرست سیاست اور انتخابات 
سہیل سانگی
دنیا بھر میں قوم پرستی طاقتور ایک طاقتور نعرہ  رہا ہے۔متحدہ پاکستان کے زمانے  سے پاکستان کی سیاست میں قوم پرستوں کا رول ہمیشہ اہم رہا ہے۔ اسی قوم پرستی کے نعرے پر عوامی لیگ دو مرتبہ مشرقی پاکستان میں الیکشن جیتی تھی۔ اس کے بعد نئے پاکستان میں تین چھوٹے صوبوں میں قوم پرست تحریک خاصی سرگرم رہی۔ جس کا عکس ملکی سیاست اور انتخابات میں نظر آتا رہا  ہے۔
حالیہ صورتحال کچھ اس طرح سے ہے کہ خیبر پختونخوا کے قوم پرست پانچ سال حکومت کرنے کے بعد ایک بار پھر تمام رکاوٹوں کے باوجودمؤثرانداز میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔ مگر سندھ اور بلوچستان کی صورتحال مختلف ہے۔ جامع اور واضح حکمت عملی  کی غیر موجودگی میں الیکشن ان کے لیے ضایع موقعہ بن گئی ہے۔ 
ماضی کے الیکشن  کے اعداد وشمار پر نظر ڈالنے  سے پتہ چلتا ہے کہ 1970سے لیکر 2008تک ملک کا ووٹ چار حصوں میں بٹا ہوا رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، مذہبی جماعتیں اور قوم پرست جماعتیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان 75فیصد ووٹ تقسیم ہوتا ہے۔ باقی 25 فیصد ووٹ قوم پرست اور مذہبی جماعتوں یا آزاد امیدواروں میں تقسیم ہوتا ہے۔ 
قوم پرست سیاست بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مضبوط  پارلیمانی طاقت کے طور پر رہی ہے۔  بلوچستان کی قوم پرستی مسلح جدوجہد تک چلی گئی ہے۔ جبکہ سندھ کی قوم پرستی غیرپارلیمانی مگر احتجاجی تحریک کے طور پر موجود ہے۔ سندھ کی قوم پرست تحریک پارلیمانی سیاست میں اس وجہ سے بھی نہیں ہے کہ اس تحریک کے بانی جی ایم سید  نے 70 کے انتخابات کے بعد پارلیمانی سیاست کو خیرباد کہا تھا۔
پختون قوم پرست تحریک قیام پاکستان سے پہلے باچا خان کی سرخ پوش حامیوں کی وجہ سے پہچانی جاتی تھی۔ وہ اس خطے میں طاقت تھی۔عوامی نیشنل پارٹی جو پہلے نیشنل عوامی پارٹی کی شکل میں تھی اب بھی وہ خیبر پختونخوا میں حکمراں پارٹی ہے۔ آج پانچ سال کی حکمرانی کی وجہ سے آج لوگوں کو غم و غصہ اس پارٹی کے حصے میں آیاہے۔ 20008  میں وادی پشاور کی قومی اسمبلی کی 13نشستوں کے بلاک، مالاکنڈ ایجنسی کے 8نشستوں کے بلاک میں سے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کرجیتی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ جنوبی پختونخوا میں ہنگو، کرک، اور کوہاٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ملک کی اہم پارٹی نواز لیگ کا اثر خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویزن میں ہے۔ 
خیبر پختونخوا میں 2002کے انتخابات  میں متحدہ مجلس عمل پوری سیاست کو تہہ بالا کردیا۔لیکن آج یہ مذہبی جماعتوں کا اتحاد منتشر ہے۔ اس کے حصے جمیعت علمائے اسلام، دفاع پاکستان، یا جماعت اسلامی ایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑ رہے ہیں۔ 
مبصرین کا خیال ہے کہ مذہبی ووٹ کا کچھ حصہ مذہبی جماعتوں کے بجائے مسلم لیگ کو بھی پڑتا رہا ہے۔ لیکن مشرف دور میں مسلم لیگ کی عدم موجودگی اور مجلس عمل کے بے عمل ہونے نے تحریک انصاف فیکٹرکو ابھرنے کا موقعہ دیا۔ اس پچ پر کبھی متحدہ مجلس عمل سیاست کرکے کامیابی حاصل کرتی تھی۔
طالبان کی پوری کوشش ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی انتخابات سے اور آگے چل کر حکومت سے دور رہیں۔لیکن یہ دونوں جماعتیں انتخابات سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔
بلوچستان قوم پرست سیاست کا مضبوط گڑھ ہے۔ جہاں قوم پرست تحریک پارلیمانی خواہ غیرپارلیمانی طریقوں چلتی رہی ہے۔ یہاں کے بلوچ اور پختون ایوانوں میں آکرموثر کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ میر غوث بخش بزنجو اور محمود خان اچکزئی بڑے پارلیمانی ستون رہے ہیں بلوچستان کی روایتی قیادت کے گزشتہ انتخابات اور اس کے بعد عوام سے دور رہنے کی وجہ سے نئے کھلاڑی میدان میں آگئے ہیں۔ جس کا فائدہ پیپلز پارٹی اور جے یوآئی کو ہوا ہے۔ اختر مینگل کی انتخابات میں واپسی کو اسلام آباد اور لاہور دونوں نے خوش آئندہ قرار دیاہے۔ لیکن مسلح جدوجہد میں مصروف بلوچ قیادت اختر مینگل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔  بلکہ پر پہاڑوں میں موجود یہ لوگ انتخابات میں شرکت کو بلوچ مفادات کے خلاف قرار دے چکے ہیں۔بلوچستان کی سیاست کے بعض اور بھی دلچسپ منظر ہیں اختر مینگل انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان کے بھائی جاوید مینگل ان  لوگوں کے ساتھ ہیں جو انتخاب لڑنے کو بلوچوں سے غداری کے مترادف سمجھتے ہیں۔ نواب خیربخش مری کے بیٹے حربیار مری بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر ہیں۔ ان کے بھائی چنگیز مری نواز لیگ کی ٹکٹ پر کوہلو سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ برہمداغ بگٹی بلوچ ریپبلکن پارٹی کے قائد ہیں۔ جبکہ ان کے خاندان کے باقی لوگ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
 بلوچ سیاست کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اختر مینگل خضدار سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ جہاں  ان کے خلاف انتخابی اتحاد میں مولوی اور نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو ہیں۔ اختر اور حاصل کے والد صاحبان ماضی میں ایک دوسرے کے ساتھی اور بلوچ  سیاست کے ستون رہے ہیں۔
یہ انتخابات ثابت کریں گے کہ بلوچ مزاحمتی تحریک جو ایک بڑی شناخت رکھتی ہے وہ وسیع بلوچ سیاست کے طور پر ابھر کر روایتی قبائلی مفاد سے کتنی باہر آسکی ہے۔ 14نشستوں والے صوبہ میں صرف پانچ  حلقے بغاوت کی لپیٹ میں ہیں۔ لہٰذا دیکھنا یہ ہے کہ اس بغاوت کا اثر باقی سیٹوں پر کتنا  پڑتا ہے۔ یہ پاکستان حکومت اور انتخابات میں حصہ لینے والی بلوچ قیادت دونوں کے لیے امتحان ہے۔

 پیپلز پارٹی کا آبائی صوبہ ہونے اور مالی و معدنی وسائل سے مالامال سندھ کی قوم پرست تحریک بڑی اہمیت کی حامل ہے۔سندھ کی قوم پرست قیادت نے 70 کے بعد انتخابات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ عجیب صورتحال رہی ہے کہ  قوم پرست ووٹ  اپنی شناخت بنانے کے بجائے پی پی مخالفوں کی مدد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ ملک میں جب بھی فیصلہ کن موڑ آیا یا فیصلہ کن انتخابات ہونے لگے تو قوم پرستوں نے اسٹبلشمنٹ کی حامی قوتوں کا ساتھ دیا۔ یہی اسٹبلشمنٹ جس سے ان کو شکایت رہی ہے انہی کے حامیوں کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہیں یا ان کی سیاست کرتی رہی ہیں۔یہ صورتحال  اکثر اوقات ملک بھر کے قوم پرستوں کی رہی۔بھٹو دور میں  جب یونائٹیڈ ڈیموکریٹک  فرنٹ بنا  تو نیشنل عوامی پارٹی  جو پاکستان کے قوم پرستوں کی پارٹی تھی اس میں بلوچ اور پختون قوم پرست شامل ہوگئے۔یہاں تک کہ پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں بھی یہ جماعتیں شامل رہیں۔جب 88 ع میں انتخابات ہونے جارہے تھے تو سندھ قومی اتحاد بنا۔ یہ بھی پیپلزپارٹی کے خلاف تھا۔

پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ کارکردگی نے ایک بار پھر سندھ میں متبادل قیادت کا سوال اٹھایا ہے۔ متنازع بلدیاتی نظام متعارف کرانے کے بعد یہ سوال شدت سے سامنے آیا۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس سوال کو سندھ کی مجموعی محرومی کے ساتھ جوڑ کر اس کو  پنجاب کی روایتی بالادستی کے خلاف متحرک کیا  جاتا۔ لیکن یہ المیہ ہے کہ اس قومی بیداری کی لہر کو صرف پی پی مخالفت تک محدود رکھا گیا۔ ان قوتوں کو پلیٹ میں رکھ کر دیا گیا جن کو پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابات میں اشو مطلوب تھا۔پیپلز پارٹی نے صورتحال کو سمجھا اور اس مصیبت سے جان چھڑائی تو یہ تحریک بیٹھ گئی۔بقول ہمارے دوست جامی چانڈیو کے قوم پرست سیاست کا تھرڈ آپشن پی پی مخالف اتحاد میں گم ہوگیا۔جاکا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ کوئی بہتر متبادل نہ ہونے کی وجہ سے واپس پی پی کی طرف چلے گئے۔
ہاں یہ ضرور ہوا اس صورتحال کا تمام تر فائدہ  پیرپاگارہ اور نواز شریف کو پہنچا۔اور مسلسل جدوجہد کرنے والے مین اسٹریم سیاست کی رنگ سے باہر کھڑے ہیں۔ سندھ کے بعض قوم پرست گروپ پہلے ہی پارلیمانی سیاست سے باہر تھے اور انتخابات میں حصہ لینے کے مخالف تھے۔ جو تین گروپ پارلیمانی سیاست کرنا چاہ رہے تھے ان کی اسلام آباد اور لاہور سے حوصلہ افزائی نہ ہونے  کی وجہ سے سندھ  کی قوم پرست تحریک میں پارلیمانی سیاست نہ کرنے کا رجحان اور بڑھے گا۔
 انتخابات کے بعد اس بات کا احساس ہوگا کہ الیکشن اپنے نعرے اور سیاست پر لڑی جاتی ہے۔جیسے خیبر پختونخو اور بلوچستان کے قوم پرست لڑتے رہے ہیں۔ اور یہ کہ زرداری  کے خلاف توانائی ضایع کرنا کتنی دانشمندی تھی۔
 ریاستی اور غیر ریاستی عناصر انتخابی عمل اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس پر قوم پرستوں کا کوئی موقف نہیں۔ رجعتی  پرستوں کے ساتھ اتحاد کر کے نہ کراچی،حیدرآباد، سکھر، شکارپور اور لاڑکانہ میں بھی اسپیس دیا گیا ہے۔ جس کے آنے والے وقتوں میں گھرے اثرات مرتب ہونگے۔

سید کے بعد سندھی قوم پرستی - Jan 17, 2013

 Thu, Jan 17, 2013 at 11:42 AM
جی ایم سید کے بعد سندھی قوم پرستی تحریک
سہیل سانگی
سندھ کی سیاست کو قوم پرست تحریک کو نظر میں رکھے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا۔ پچاس کے عشرے میں شروع ہونے والی یہ قومی تحریک کئی نشیب و فراز سے گزری ہے۔ اس تحریک کے بانی بزرگ رہنما جی ایم سید تھے، جنہوں نے قایم پاکستان میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ مگر بعد میں  پاکستان کی اسٹبلشمنٹ سے اختلافات  پیدا ہو گئے۔ اور انہوں نے صوبے میں قوم پرست تحریک کی بنیاد ڈالی۔پچاس اور ساٹھ کے عشرے میں یہ تحریک ملک کے دوسرے صوبوں بنگال، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ عوامی لیگ یا نیشنل عوامی پارٹی  کے روپ میں اتحاد میں رہی۔ مگر بعد میں خود کو ان صوبوں کی تحریک سے الگ کردیا۔ آج کم از کم ایک درجن  کے قریب تنظیمیں جی ایم سید کے پیروکار ہونے کی دعویدار ہیں اور قوم پرستی  کے نام پرسیاست کرتے ہیں۔ سندھ پاکستان میں سیاسی طور پر زیادہ باشعور صوبہ سمجھ جاتا ہے۔ اور یہاں کی قوم پرست تحریک بھی پرانی ہے۔ ا س تحریک کے دو خدوخال اہم ہیں۔ یعنی مسلسل احتجاج اور جدوجہد کو پرامن رکھنا۔
 سید کے انتقال کے بعد اور حالات اور صورتحال میں  میں کئی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں آئی ہیں۔ان تبدیلیوں نے سندھ کی قوم پرست تحریک کو بھی حکمت عملی، جدوجہد کے طریقہ کار  اور مقا صد پر بھی اثرڈالاہے۔ سندھ کی قوم پرست تحریک کی صورتحال خصوصاآج کیا ہے؟ ا اس موضوع سندھ  کے قوم پرست رہنماؤں اور دانشوروں سے گفتگو ہوئی۔ جس کا نچوڑ آج اپنے کالم میں پیش کر رہا ہوں۔
سند ھ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ جی ایم سید کا بڑا کنٹری بیوشن تھا کہ انہوں نے سندھی قوم پرستی کی تشکیل اور بناوٹ  دورمیں نظریاتی بنیادیں فراہم کیں۔لہٰذاسید کا حصہ قوم پرستی میں سیاسی سے زیادہ  اس سوچ  اور نعرے کو مقبول بنانے میں زیادہ۔ انہوں نے قوم پرست ذہنیت پیدا کی اور اس کے نظریاتی فریم ورک کی بنیاد رکھی۔ 
ان کی زندگی میں ہی قوم پرست تحریک تنظیمی لحاظ سے کم از کم  تین گروپوں میں بٹ گئی تھی۔ اور جی ایم سید سب پر ہاتھ رکھتے تھے۔ انہوں نے شعوری ونظریاتی کام تو کیا، مگرسیاسی تحریکوں میں دوسرا پہلوتنظیم، تربیت اور کردار ہوتا ہے وہ نہیں کیا جا سکا۔ اس مقصد کے لیے واضح حکمت عملی ہوتی ہے جس پروہ خود بھی توجہ نہیں دے سکے۔ نتیجے میں سیاسی سوچ بٹ گئی اور عملی طور پر اور سیاسی اثر سامنے نہیں آسکا۔صور تحال یہ بنی کہ سندھی لوگوں کی سوچ قوم پرستی کی ہے مگر ووٹ پیپلزپارٹی کو کرتے ہیں۔جامی چانڈیو کے مطابق آج قوم پرست تحریک تنظیم، لیڈرشپ، اور واضح حکمت عملی  کے فقدان کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مخصوص سطح سے زیادہ نہیں ابھر سکی ہے۔ 
ان کا کہنا ہے سید کی سیاست کے تسلسل میں سے کام کرنے والے مختلف گروپ اشو بیسڈ سیاست کر رہے ہیں۔ اور وہ بھی ایک ہی ڈھنگ اور طریقہ کار سے۔ واضح حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے بھرپور سیاسی پیغام بھی نہیں بن سکا ہے۔ بات صرف سوچ اور تک رہ جاتی ہے۔
خلاص نظریاتی سیاست کے حامی جیئے سندھ محاذ کے جنرل سیکریٹری ہاشم کھوسو کا کہنا ہے کہ سید نے قوم پرستی کی بنیادیں رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی کسوٹی اور معیار بھی بنایا۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد کیڈر کی موقع پرستی اور مصلحت پسندی نے قومپرستی کو کمزور رکر دیا۔ایسے لوگ بھی قوم پرستوں کے ساتھ بیٹھنے لگے جو سید کی زندگی میں انکے قریب بھی نہیں جاتے تھے۔ کل تک جماعت اسلامی یا نوشہروفیروز کے جتوئی سید کے مخالف تھے۔ آج یہ لوگ قوم پرستوں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قوم پرست اشوز پرسیاست کرنے لگے ہیں۔ اشوز پرکب تک سیاست چلے گی؟آج قوم پرست ریاست یا ریاستی ڈھانچے کو چیلینج نہیں کر رہی۔ 
چار عشروں تک جیئے سندھ کی سیاست کرنے والے جیئے سندھ محاذ کے چیئرمین خا لق جونیجو کا کہنا ہے کہ اشو پر لوگوں کو آسانی سے جمع کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے قوم پرست جماعتیں یہی کام کررہی ہیں۔ سندھی قوم پرست تحریک جاگیردار دشمن، مذہبی نعروں سے دور، سیکیولر رہی ہے۔جسکا جھکاؤ ترقی پسند اور بائیں بازو کی طرف ہی رہا ہے، مگر اب پیر وں وڈیروں بھی قوم پرست ہو گئے ہیں لہٰذا قوم پرستی کا رنگ اور ذائقہ ہی بدل گیا ہے۔  
پنجاب
سندھی قوم پرستی کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ملک کی اسٹبلشمنٹ پر پنجاب حاوی ہے اور وہ سندھ اور دیگر چھوٹے صوبوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کا ذمہ دار ہے۔لہٰذا اس کا ٹکراؤ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ پنجاب سے بھی ہے۔خالق جونیجو کا کہنا ہے کہ سندھ کے حقوق  پنجاب سے لینے ہیں کیونکہ ریاست پر اس کی بالادستی ہے۔ مگربعض قوم پرست حصے اس پر بھی واضح نہیں ہیں۔جو صوبہ سندھ کے حقوق غصب کئے ہوئے ہے اسی کی نمائندہ جماعت سے اتحادمیں ہیں۔مگر جیئے سندھ قومی محاذ کے وائیس چیئرمین آصف بالادی کا نقطہ نظر ان سے مختلف ہے ان کا کہنا ہے کہ کچھ قوم پرست گروپوں نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے، اگر تنہا ہو کر ایک دائرے میں سیاست کرتے ہیں تو تو قومی تحریک کے مخالف یا اس دھارے سے باہر لوگوں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ وفاقی سیاست کرنے والوں کو ہمارے خلاف استعمال کریں۔ یہ سلسلہ جوڑنے سے قومی تحریک کو فائدہ ہوا ہے۔ 
مہاجر تضاد 
خالق جونیجو کا کہنا ہے کہ مہاجر تضاد سندھ کے گلے پڑا ہوا ہے۔ جی ایم سید کا یہ تصور تھا کہ جب تحریک زور پکڑے گی تب ان میں سے ایک حصہ قوم پرست تحریک کا ساتھ دے گا۔ دوسرا حصہ ملک چھوڑکرچلا جائے گا، تیسرا حصہ مخالفت کرے گا۔ مگر  اب قوم پرست گروپ انتہاپسندی کی دو  چوٹیوں پر کھیل رہے ہیں۔ یا تو انہیں مار بھگانے کی بات کی جاتی ہے یا پھر ہر حال میں راضی رکھنے کی۔ اس کا نتیجہ سامنے ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کہے ویسے کیا جائے۔ یہ دنوں غیر سیاسی اور غیرسنجیدہ رویے ہیں۔ اس اشواصل روح یہ ہے کہ وسیع قلبی کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے۔ نسل پرستی کی طرف دھکیلنے سے سب کچھ نسل پرستی میں چلا جاتا ہے۔ آصف بالادی کا کہنا ہے کہ مہاجر سندھ کی ثقافتی اقلیت ہیں۔ ایم کیو ایم کی سیاست نے صورتحال کو خراب کیا ہے۔
خالق جونیجو کا کہا ہے کہ آج سے تیس چالیس سال پہلے سرائیکی اور دیگر چھوٹی قوموں کے قوم پرست سندھ کی قومی تحریک سے سیکھتے تھے۔ مگر اب وہ کہتے ہیں کہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ جب کہ اس کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ملکی، علاقائی اور عالمی صورتحال میں تبدیلیاں آئی ہیں جن کے اثرات قومی تحریک پر بھی پڑے ہیں۔ اب اس تحریک کو نئے بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔
 مقبول قوم پرست گروپ جیئے سندھ قومی محاذ کے رہنما آصف بالادی کا کہنا ہے کہ قوم پرستی کی اصطلاح بہت عام ہو گئی ہے۔ اور بہت سے گروپ قوم پرست کہلانے لگے ہیں۔ سندھی قوم پرستی کا اصل تصور وطن کا تھا۔یعنی سندھ ہزارہا برس سے وطن ہے اور اپنا الگ تشخص رکھتی ہے۔ اب عام اصطلاح میں یہی ہے کہ پاکستان کے فریم ورک میں حقوق ملیں۔ وطن کا پہلو کم ہو گیا ہے۔ مشترکہ پلیٹ فارم پر بھی نظریاتی اور نفسیاتی مرکز کمزور ہوا ہے۔ بشیر خان قریشی نے کسی حد تک اس خلاء کو پر کیا تھا۔ اور قومی تحریک کو عوامی شکل دی تھی۔ مگر اب قومی تحریک کمزور ہے کوئی بھی قدآور شخصیت نہیں ہے جو مرکزیت پیدا کرسکے۔ سید نے فکری طور پر متاثر کیا۔ مگر فکری اثرات تنظیمی شکل اختیار نہ کر سکے۔اس لیے آج تنظیمی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے۔ 
 ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی نسلی اور فرقہ وارانہ تضادات کو ابھارکر قومی اور جمہوری تضاد کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔ جس سے مجموعی طور پر اور سیاست میں بھی کنفیوزن پیدا ہوا۔
معاشی مفادات کہ وجہ سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ اخلاقی کرادر کا پہلو بھی کافی حد تک کمزور ہوا ہے۔ چھوٹے چھوٹے گروپ سرگرم ہو گئے ہیں۔ یہ گروہ بندی شخصی اور معاشی مفادات کی وجہ سے ہے۔ بڑی وجہ مختلف پس منظروں سے آنے والا متوسط طبقہ ہے۔ چھوٹے بڑے شہروں کے مڈل کلاس کی نفسیات میں بھی فرق ہے۔ ان کی تربیت بھی نہیں ہو پارہی۔ لہٰذا اکے معاشی مفادات اور لیڈرشپ کے معاملات بھی ہیں۔ اور یہ بھی کہ میں لیڈر ہوں اور ایک مرتبہ لیڈر بننے کے بعد وہ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ عالمی طور رپر بھی شعور نے ترقی کی۔ 80 کی دہائی کے بعد اقتصادی مطالبات جس میں پانی اور قدرتی وسائل  پرحق ملکیت لے معاملات بھی قوم پرستی اور انسانی حقوق کی تحریک کے مطالبات میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہ مڈل کلاس نظریاتی طور پر پختہ نہیں۔ اوربالغ اورپختہ مڈل کلاس نہیں۔ 
 یہ صحیح ہے کہ قوم پرستی میں اشو بیسڈ سیاست نہیں ہوتی مگر جب قوم کے زندہ رہنے کے وسائل مثلا پانی کا مسئلہ یا کالاباغ ڈیم کا اشو ہو تو قوم پرست یہ کہہ کر چپ نہیں بیٹھ سکتے کہ ہم اشو بیسڈ سیاست نہیں کرتے۔  یا جب جغرافیائی سرحدیں خطرے ہوں جیسے بلدیاتی نظام کے حوالے سے صورتحال بنی تھی۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ واضح حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے قوم پرستی کی اصطلاح مبہم اور غیر واضح ہو گئی ہے۔ جس کو دوسرے لوگ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
پرانے سیاسی کارکن اور تجزیہ نگار ناز سہتو کا کہنا ہے کہ جی ایم سید کے بعدقومی تحریک میں چارتبدیلیاں رونما ہوئی ہیں:  مرکزی قیادت کا فقدان،  انتخابی سیاست کی کشش کا بڑھنا، اشو بیسڈ سیاست کو قومی تحریک سے منسلک کرنا اور بعض گروپوں کامسلح جدوجہد کو بطور پالیسی اختیار کرنا۔ جی ایم سید کی زندگی میں اس تحریک سے وابستہ لوگ انتخابات کی طرف نہیں جاتے  تھے۔ اب قوم پرست تنظیمیں اور فرد بھی انتخابی سیاست کی طرف گئے ہیں۔یہ بھی سید کے بعد کا مظہر ہے کہ ایک آدھ گروپ نے مسلح جدوجہدکو پالیسی کے حصے کے طور پر رکھا گیا ہے۔۔جیئے سندھ قومی محاذ کے مرحوم چیئرمین بشیر قریشی نے قوم پرست تحریک میں مختلف قسم کا تجربہ کیا۔ انہوں نے اشو بیسڈ سیاست اور نظریاتی سیاست کو ایک ساتھ ملایا۔ اشوز پرقائم ہونے والے اتحادوں میں  وہ بطور ممبر شامل نہیں ہوئے تاہم ان کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ بشیر قریشی عوامی رجحان کو ساتھ لیکر چلتے تھے۔۔ وہ ایک پروسیس میں بنے تھے۔ بشیر خان کے بعد اب تک کسی نے اتنی ساکھ نہیں بنائی ہے کہ لوگ اس کو مانیٹر کریں۔ آج یہ قومی تحریک کوقیادت  نہ ہونے کا چیلینج درپیش ہے 

Monday, 9 March 2020

قوم پرستوں کا اتحاد ایک خواب 2012-7-24

Tue, Jul 24, 2012, 
ایک خواب اور قوم پرست 
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ کالم سہیل سانگی
سندھ  میں یہ رائے  حاوی رہی ہے کی مختلف ٹکڑوں اور گروپوں میں بٹے ہوئے سندھ کے قوم پرست جماعتیں مشترکہ پلیٹ فارم سے انتخابات لڑیں تو خاصا فرق پڑ سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے درمیان حالیہ انتخابی اتحاد کے بعد سندھ کے قوم پرستوں کا ایک پلیٹ فارم سے انتخاب لڑنا خارج ازامکان لگتا ہے۔ سندھ میں قومپرستی کے مختلف رنگ اور لہجے ہیں۔ ایک ہبت بڑا حصۃ جس میں  جیئے سندھ قومی محاز کے دو گروپ، جیئے سندھ محاذ اور جیئے سندھ تحریک  پارلیمانی یا وفاقی سیساست پر یقین نہیں رکتھے۔ باقی جو قوم پرست  جماعتیں پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی ہیں  ان میں سے تین جماعتوں جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارتی، ایاز لطیف پلیجو کی عوامی تحریک اور ڈاکٹر قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی نے  2010ع میں سندھ پروگریسو نیشنلسٹ الائینس ”سپنا‘‘بنایا تھا۔اور مشترکہ انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تھا تاکہ سندھی ووٹرز کو تیسرا آپشن پیش کر سکیں۔
 نواز شریف گزشتہ کئی ماہ سے انتخاب لڑنے کی خوہشمند ان تینوں سندھ کے قوم پرست پارٹیوں سے مسلسل رابطے میں تھے۔ان میں سے دو جماعتیں سندھ ترقی پسند پارٹی اورعوامی تحریک ان کے ساتھ اے پی ڈیم میں بھی انکے ساتھ تھیں۔مگر انہوں نے ان دو جماعتوں یا سپنا کے اتحاد سے ناطہ جوڑنے کے بجائے سندھ یونائٹیڈپارٹی سے تحادکے لیے چنا۔
جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارٹی تنظیمی طور خواہ ووٹ کے حوالے سے کوئی بڑی پارٹی نہیں ہے۔مگر ان کا نام اور تعارف بڑا ہے۔وہ سندھ کی قوم پرست تحریک کے بانی جی ایم سید کے پوتے ہیں۔ اور طبیعتا  بہت ہی شریف آدمی ہیں۔تمام قوم پرست  کا احترام کرتے ہیں۔مزید یہ کہ جلال محمود شاہ  نواز شریف کے اس معیار پر پورے اترتے ہیں کہ بندہ بڑے خاندان سے ہو اور اپنی نشست نکالنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ 
سندھ کے لوگوں کی یہ پرانی خواہش تھی کہ تمام قوم پرست مل کر انتخابات لڑیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ سندھ کے لوگ قوم پرستوں کو ایک موقعہ دینا چاہتے ہیں۔”سپنا“ نے اس خواہش کو عملی شکل دینے کے لیے کوشش کی مگر بدقسمتی سے یہ اتحاد سربراہی اتحاد سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ آگے چل کر ڈاکٹر قادر مگسی نے عمران خان سے رابطہ کیا اور عوامی تحریک نے دیگراتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر لیاری کی پیپلز امن کمیٹی سے اتحاد کیا اور سندھ بھر میں محبت سندھ ریلی پر فائرنگ کے خلاف سندھ بھر میں احتجاجی مہم چلائی۔عوام کے اچھے ریسپانس کے باوجود”سپنا“ علامتی اتحاد تو رہا پر عملی شکل نہیں اختیار کر سکا۔متنازع میگا پروجیکٹ ذوالفقارآباد مشترکہ ایجنڈا ہونے کے باوجود تمام اتحادی جماعتیں الگ الگ احتجاج کرتی رہیں۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی اور نواز لیگ نے آٹھ نکاتی اعلان نامے پر دستخط کئے ہیں جس میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے زیادہ زیادہ صوبائی خودمختاری کے لیے جدوجہد کرنا۔سندھ کی جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ، 1991ع کے  پانی کے معاہدے پر مکمل طور پر عمل کرنا شامل ہے۔معاہدے میں این ایف سی ایوارڈ کو بہتر بنانا کا نقطہ بھی مبہم شکل میں شامل ہے۔ کیا  یہ نکات سندھ کے ان مطالبات کا احاطہ کرتے ہیں جو وقتا فوقتا سندھ کے لوگ اور حکومت اٹھاتی رہی ہے؟ تجزیہ نگاروں کو شبہ ہے کہ نواز شریف اقتدار میں آنے کے بعد سندھ کے کچھ قوم پرستوں کو اقتدار میں تو حصہ پتی دے سکتا ہے مگر سندھ کے سیاسی اور معاشی حقوق نہیں دے گا۔اس کا تجربہ دو مرتبہ نواز شریف کے دور حکومت میں ہو چکا ہے۔ اور آج بھی پنجاب میں  جب نواز لیگ کی حکومت ہے اور اس کا سندھ کے مختلف معاملات پر رویہ مخصوص پنجابی بالادستی والا ہے۔اور یہ بھی کہ جب پیپلز پارٹی جس کا ووٹ بینک سندھ میں ہے وہ بھی حکومت میں ہوتے ہوئے کئی چیزیں نہیں کر سکی  تو نواز لیگ یہ سب کچھ کیسے کر لے گی۔
نواز شریف کے پاس دو الگ حکمت عملیاں ہیں۔ ایک اتخابات کے لیے اور دوسری انتخابات کے بعد کی صورتحال کے لیے۔ایم کیو ایم سے وہ ابھی بات نہیں کرنا چاہتا۔ مگر اس بات کو بھی یقینی بنایا ہوا ہے کہ ابھی اس جماعت کے خلاف کوئی زیادہ نہ بولے کہ یہ جماعت بدک جائے۔وہ اس لیے کہ انتخابات کے بعد اگر ضرورت پڑے تو ایم کیو ایم سے اتحاد کر لیا جائے۔
’سپنا‘ میں موجود اتحادیوں کو چھوڑ کر سندھ کی باقی سیاسی گروپ اس اتحاد سے ناخوش ہیں۔جیئے سندھ کے مختلف گروپوں کو  خاص طور پر زیادہ ناراضگی ہے۔جیئے سندھ کے ایک دھڑے جیئے سندھ قومی محاذ کے سربراہ عبدالواحد آریسر کا کہنا ہے کہ سندھ کی قوم پرست تحریک نہ کسی سندھی جاگیردار کی جھولی میں ہے اور نہ ہی کسی پنجابی سرمایہ دار کی حامی بنے گی۔
عبدالخالق جونیجو جی ایم سید کی زندگی میں جیئے سندھ محاذ کے  چیئرمن رہے ہیں۔اب  جیئے سندھ محاذ کے ایک گروپ کے سربراہ ہیں۔انہیں اس اتحاد پر سخت تحفظات ہیں۔ وہ جلال محمود شاہ کو جی ایم سید کا سیاسی جانشین نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ جلال محمود شاہ نے کبھی بھی قوم پرست سیاست نہیں کی۔وہ نوے کے عشرے میں ڈپٹی اسپیکر بھی نواز شریف اور ایم کیو ایم کی وجہ سے بنے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ جی ایم سیدبارہا استفار پریہ کہتے رہے کہ سیاست میں انکا کوئی جانشین نہیں۔جلال محمود شاہ  جی ایم سید کی جائداد اور زمینوں کے تو وارث ہو سکتے ہیں مگر سیاسی وارث نہیں۔وہ جلال محمود شاہ کو سرے سے قوم پرست ہی نہیں مانتے۔ ان کے خیال میں میڈیا نے انکو قومپرست بنایا ہے۔
خالق جونیجو کے مطابق سندھ یونائٹیڈ پارٹی اقتدار کی لالچ میں آکر پنجاب کو خوش کرنا چاہ رہی ہے۔سید 1973 کے آئین کو مکمل طور پر رد کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ آئین سندھیوں کو بطور قوم نہیں مانتا تو کس طرح سے سندھ کے حقوق کا تحفظ کر پائے گا۔ اس آئین کے حامی سید کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے رہنما کو مشورہ دیا کہ وہ بزرگ ہستی کا نام اقتدار کے لیے استعمال نہ کریں۔خالق جونیجو کا کہنا ہے کہ قوم پرست الائینس اس معاہدے کے بعد عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔اور مشترکہ انتخاب لڑنے کا خواب بھی۔جیئے سندھ کے ان پرانے رہنما کاکہنا ہے کہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس معاہدے میں  پانی کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی بات کی گئی ہے۔ یہ معاہدہ خود نواز شریف نے ہی کیا تھا۔ اب وہ اس معاہدے پر عمل کرانا چہاتا ہے۔ جس کی سندھ کے لوگ تب اور اب بھی مخالفت کر رہے ہیں۔ سندھ کی وحدت یا جغرافیائی حدود کے تحفظ کی بات نواز شریف  اس معاہدے سے قبل کہتے رہے ہیں۔
سینئر صحافی اورتجزیہ نگار ناز سہتو کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے دیگر قوم پرستوں سے بھی رابطے کئے تھے مگر وہ کسی معاہدے میں جانے سے ڈر رہے تھے اور شرما رہے تھے کہ پنجاب کی بالادستی والی پارٹی سے کیسے معاہدہ کر لیں۔ جلال محمود شاہ نے ہوشیاری کی اور لاہور گیا اور وہاں مذاکرات  میں اتحاد کو اآخری شکل دی اور اپنے قریبی ساتھی شاہ محمد شاہ کومعاہدے کا ڈرافٹ بنوانے کے لیے اسلام آباد بھیجا۔انکے مطابق جلال محمود شاہ کے پاس  اپنے حلقہ انتخاب سے زیادہ اثر نہیں ہے۔
عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو اس اتحاد کے خلاف نہیں اور تبصرہ کرنے میں محتاط ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا اگر ایس یو پی کچھ انتظار کرتی کہ ”سپنا“ ایک چارٹر بنا لیتی اور اس کی بنیاد پر نواز شریف سے بات کی جاتی اور معاہدہ کیا جاتا۔وہ اس بات پہ اتفاق کرتے ہیں کہ اب ”سپنا کو سرگرم کرنا ذرا مشکل کام ہے۔ تاہم وہ پرجوش ہیں کہ ان کی پارٹی اس اتحاد کو زندہ کرنے کی کوشش کرے گی۔پلیجو کے خیال میں بہتر ہوتا کہ تمام قوم پرست ملکر انتخابات لڑتے اور سندھ کے لوگوں کو تھرڈ آپشن پیش کرتے۔اگر قوم پرست اس طرح وڈیروں کے ساتھ کھڑے ہونگے تو ان کے دلیل میں وزن کم ہو جائیگا کہ وڈیرے سندھ صحیح نمائندگی نہیں کرتے۔
 یہ اتحاد نواز لیگ میں شمولیت کرنے والوں کو ڈھال مہیا کرے گا سیاسی تجزیہ نگار جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ پاکستان اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جب بڑے مینڈیٹ اور بڑی پارٹیوں والا دور ختم ہو گیا ہے۔اب پارٹنرشپ اور اتحادوں یا چھوٹے گروپوں کا دور ہے۔
نواز لیگ کو سندھ میں پاؤں ٹکالنے کے لیے جگہ چاہئے تھی۔ کیونکہ اس جماعت کی اس صوبے میں کوئی باضابطہ تنظیم کاری نہیں۔یہ اچھا ہوا کہ نواز شریف نے ایم کیو ایم یا دائیں بازو کی جماعتوں کے بجاسئے قوم پرستوں سے معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نواز شریف بڑے خاندانوں سے رابطہ کیا ہے جو انہیں اتخابات میں حمایت دے سکتے ہیں۔ اور یہ قوم پرستوں سے اتحاد ان کو سیاسی یا اخلاقی لیجٹمیسی دے گا۔ اس بات سے ہٹ کر قوم پرستوں کے پاس نہ ووٹ ہیں اور نہ ہی کوئی سیٹ۔اگر یہ لوگ اتحاد کی شکل میں جاتے تو زیادہ اچھا تھا۔ انہیں شبہ ہے کہ اب ”سپنا“ کا کوئی روشن مستقبل نہیں ہے۔تاہم نواز شریف کے لیے جیت ہی جیت ہے۔
جلال محمود شاہ کو ویسے کوئی زیادہ حمایت حاصل نہیں ہے وہ نواز شریف کے ساتھ معاہدے کے ذریعے ملک گیر پارٹی کی وجہ سے ملنے ولای کچھ حمایت حاصل کر سکتا ہے۔اگر اسٹبلشمنٹ پیپلز پارٹی سے ہٹ کر کوئی سیٹ اپ بنائے گی تو جلال محمود شاہ کام ّئیں گے،ایسے میں وہ سندھ میں وزیر اعلیٰ کے مناسب ترین امیدوار ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ نگاراور قانونداں بیریسٹرضمیر گھمرو  کے پاس مختلف دلیل ہیان کے خیال میں پیپلز پارٹی نئے آنے والوں کو جگہ نہیں دے رہی تھی یہ اسکا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دو پارٹیوں نے جو چارٹر دیا ہے اس میں کوئی واضح اور ٹھوس چیز نہیں ہے۔ جو کچھ بھی ہے وہ مبہم ہے۔
ڈاکٹر قادر مگسی قوم پرستوں کے مشترکہ پلیٹ فار سے انتخابات لڑنے کے حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ اب سب لوگ ”سپنا“ کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سندھ کا ایجنڈا ان آٹھ نکات سے وسیع تھا۔ یہ چارٹر ناکافی ہے۔لگتا ہے کہ قوم پرست پارٹیوں کو انتخابات جیتنے کی بہت جلدی ہے۔بہرحال ان کا خیال ہے کہ ”سپنا“ برقرار رہے گا۔
نواز لیگ سندھ میں پیپلز پارٹی کو انتخابا ت میں نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ نواز لیگ انتخابات جیتنے کے بعد  سندھ کے ساتھ بہتر سلوک کرے گی۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس اتحاد سے نوز لیگ کو پنجاب میں بھی فائدہ ملے گا اور بلوچستان میں نرم گوشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

Thursday, 5 March 2020

بشیرخان قریشی کا کیس اور مبہم رپورٹ 2012-4-23

Mon, Apr 23, 2012 at 12:03 PM
بشیرخان قریشی کا کیس اور میڈیکل  بورڈ کی مبہم رپورٹ
 میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم سہیل سانگی
 بعد از خرابی ء بسیار حکومت سندھ نے قوم پرست رہنما بشیر خان قریشی کے جسم کے اجزا کا کیمیائی تجزیہ بیرون ملک کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کے وزیر داخلہ منظور وسان نے کا کہنا ہے کہ جیئے سندھ قومی محاذ (جسقم)کے چیئرمن بشیر خان قریشی کے ورثاء نے برطانیہ سے اجزا کا معائنہ کرانے کی درخواست دی تھی جسے وزیر اعلیٰ سندھ نے منظور کر لی ہے اور اس امر کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔قوم پرست رہنما کاتقریبا دو ہفتے انتقال ہو گیا تھا اور ابتدائی طور پر یہ بتایا گیا کہ ان کی موت حرکت قلب بند ہونے سے واقع ہوئی ہے۔ لیکن اٹھتے ہی پارٹی کی قیادت نے شبہہ ظاہر کیا کہ یہ موت طبعی نہیں لہٰذا معاملے کی تحقیقات کرائی جائے۔ حکومت سندھ نے چانڈکا میڈیکل ہسپتال میں انکا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور پندرہ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا۔
 گزشتہ ہفتے محکمہ صحت سندھ نے سندھ کی سب سے بڑی قوم پرست پارٹی کے سربراہ کی موت کے اسباب معلوم کرنے کے لیے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ مرحوم لیڈر کے جسم میں فاسفورس کے اجزا ملے ہیں جن کو عام طور پر زہر بھی کہا جاتا ہے۔ سیکریٹری صحت اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں میڈیکل رپورٹ کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ مائکرواسکوپ معائنے سے پتہ چلا ہے کہ وہ عارضہ دل میں بھی مبتلا تھے۔رپورٹ میں دعوا کیا گیا ہے کہ انہیں دو مرتبہ دل کا دورہ پڑ چکا ہے۔ مگر اہلخانہ اور پارٹی کی قیادت اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہیں کبھی بھی دل کا دورہ نہیں پڑا تھا۔رپورٹ کا اعلان کرتے وقت بورڈ کا کوئی ور ممبر پریس کانفرنس میں موجو نہ تھا۔
بورڈ نے یہ تجویز کیا کہ موت کے اسباب معلوم کرنے کے لئے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے اس کیلئے عالمی معیار کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔میڈیکل بورڈ سے ایک ہی سوال پوچھا گیا تھا کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ ان کی موت کیسے واقع ہوئی۔ مگراس رپورٹ نے اس سوال کا جواب دینے کے بجائے بہت سارے سوالات اور شبہات کو جنم دیا ہے۔ اگر مرحوم لیڈر کے جسم کے اجزا میں فاسفورس ملا ہے تو یہ کتنی مقدار میں ہے۔اس کے بارے میں رپورٹ میں کوئی معلومات نہیں دی گئی ہے۔مطلب میڈیکل بورڈ یہ نہیں واضح کر سکا کہ موت کے اسباب کیا تھے بلکہ مزید خدشات اور وہم وگمان پیدا کردیئے ہیں۔ بورڈ نے ایسی رپورٹ بنائی ہے جس سے موت کی وجوہات کا پتہ ہی نہیں چلتا۔بتایا جاتا ہے کہ سندھ حکومت کے پاس جدید مشنری، ماہر عملے کی کمی وغیرہ کے باعث یہ رپورٹ مبہم ہے۔میڈیکل بورڈ کے ایک رکن ڈاکٹر قیوم راجپر کا کہنا ہے کہ بشیر قریشی کی موت زہر دینے سے واقع ہوئی ہے۔
 اس سے قبل میڈیا میں یہ بھی خبریں بھی شایع ہوئی کہ اجزا کی برنیاں ٹوٹ گئی تھیں اور یہ اجزا 12 اپریل کو لیبارٹری میں دیئے گئے مگر وصول کرنے کی تاریخ 9اپریل ڈالی گئی۔سوال یہ کہ اگر بشیر قریشی کی موت طبعی تھی تواس کو ایسے اقدامات کر کے پراسرار کیوں بنایا جا رہا ہے۔؟ میڈیکل بورڈ بھی کوئی آسانی سے نہیں بناگیا۔ جسقم کی صوبے بھر میں کامیاب اور پہیہ جام ہڑتال کے بعد 15رکنی بورڈ ڈاکٹر عمر میمن کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا۔ جس نے رپورٹ پیش کرنے کی روز سے ایک دن قبل یہ مبہم رپورٹ جاری کردی۔
 پریس کانفرنس میں سیکریٹری صحت کا یہ جملہ بہت ہی معنی خیز تھاکہ چھت پہلے ہی کمزور تھی جو معمولی بارش میں گر پڑی۔اس مطلب یہ تھا کہ بشیر قریشی کسی خطرناک مرض میں مبتلا تھے، چلنے پھرنے سے لاچار تھے۔ مگر ا س دعوے کے برعکس سندھ بھر کے لوگ جانتے ہیں کہ بشیرقریشی چاک و چوبند تھے انہیں کوئی بیماری نہیں تھی۔اس طرح کی باتوں نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے
 جسقم قیادت نے اس رپورٹ کو رد کردیا اور اسکی اپیل پر سندھ بھر میں ایک بار پھر ہڑتال کی گئی۔جسقم کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے مطمئن نہیں ہیں۔ان کے رہنما کو ایک سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے۔معاملے کی تحقیقات کسی عالمی ادارے سے کرائی جائے۔جسقم عدم تشدد کی راہ پر چل رہی تھی۔بشیر قریشی کو راہ سے ہٹانے والوں نے یہ کام کسی ایسی ٹیکنیک سے کیا ہے کہ کوئی ثبوت نہیں چھوڑا۔ 23 مارچ کا کراچی میں فریڈم مارچ بعض حلقوں کے لیے واقعی پریشانی کا باعث بنا تھا۔خود کراچی شہر پر حکمرانی کا بلا شرکت غیرے کرنے والوں کو بھی چونکا دیا۔
 لگتا ہے کہ سندھ حکومت بشیر قریشی کی پراسرارموت کی تحقیقات کرانے میں لاچار ہے۔ جب اجزاء کے معائنے پر اتنی پراسراریت پیدا کی گئی تو آگے چل کر تحقیقات میں کیا ہوگا۔یہ کیس بھی بے نظیر بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو کے کیسز کی طرح تاریخ اور ناہلی کے صفحات میں دب جائے گا۔
سندھ میں سیاسی قتل کی تاریخ ہے۔ سندھ کے بہادر لوگوں کو چن چن کر کسی نہ کسی بہانے قتل کردیا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا۔ انکے چھوٹے بیٹے شاہنواز بھٹو کی موت پراسرار حالات میں پیرس کے فلیٹ میں واقع ہوئی۔ میر مرتضیٰ بھٹو کو کلفٹن کراچی میں انکی رہائش گاہ سے چند گز کے فاصلے پر پولیس کے ہاتھوں قتل کیا گیا۔بے نظیر بھٹو کو جلسے سے واپسی پر راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قتل کیا گیا۔
 جیئے سندھ کے تین کارکنوں کو گذشتہ سال سانگھڑ کے قریب گولیاں مار کر قتل کرنے کے بعد ان کے لاشوں کو جلا دیا گیا۔اس سوچ اور سلسلے نے سندھ میں عجیب مائینڈ سیٹ بنایا ہے کہ پنجاب، اسٹیبلشمنٹ یا کچھ اس طرح کے خفیہ ہاتھ سندھ کے نمائندوں کو طاقتور دیکھنا نہیں چاہتے۔
 جسقم کی آئندہ پالیسی کیا ہوگی؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔جسقم کے اندر پالیسی اور حکمت عملی کے حوالے سے تین رجحانات پائے جاتے ہیں۔معاملہ ترجیحات کے تعین کا ہے ایم کیو ایم  اور پنجاب کی طرف کیا رویہ ہو۔ دوسرا  لڑائی جھگڑے کا حامی ہے۔ تیسرا حلقہ پنجاب اور ایم کیو ایم کے بارے میں ایک متوازن اور محتاط ریوہ رکھنا چاہتا ہے۔اس میں پنجاب مخالف رجحان زیادہ ہے۔ بشیر خان قریشی ان تینوں رجحانات کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔یہ امر بھی قابل ذکرہے کہ جسقم میں ایک مضبوط راجحان یہ بھی موجودہے کہ جیئے سندھ کے نعرے پر سیاست کرنے والی تمام جماعتیں اور گروپوں کا اتحاد یا انضمام ہو۔ اس ضمن میں فریڈم مارچ سے پہلے اور بعد میں بھی مختلف گروپوں کے درمیاں بات چیت چل رہی تھی۔ بعض حلقوں کا دعوا ہے کہ بشیر خان قریشی اس اتحاد اور انضمام کے لیے کوشاں تھے۔
 آئندہ انتخابات میں اقتدارکی سیاست کرنے والوں کی رسہ کشی میں قوم پرست سیاست کو اہم کردار دا کرنا ہے۔ انکا یہ کردار بشیر قریشی کی زندگی میں بھی تھا اور انکی موت کے بعدتبدیل شدہ صورتحال میں اور بڑھ گیا ہے۔قوم پرست سندھ میں توازن کا تعین کرنے والی قوت رہے ہیں۔ان کی حکمت عملی پیپلز پارٹی کو نواز لیگ کے مقابلے میں فائدہ پہنچا رہی تھی یا پھر انکا ساتھ نواز شریف کو مضبوط کر رہا تھا جو سندھ میں پاؤں رکھنے کی جگہ کی تلاش میں تھا۔اس صورتحال میں  بشیر قریشی کی موت صرف سندھ کے سیاسی منظرنامے پر ہی نہیں ملکی منظر نامے پر بھی اثرانداز ہوگی۔
 آج سندھ تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے۔لگتا ہے کہ پارلیمانی یا وفاقی سیاست کا پچھلا پہر ہے۔ بشیر خان قریشی کے قتل کے بعد سندھ ریڈیکلائزیشن کے زبردست طوفان کی زد میں ہے۔جہاں پارلیمانی سیاست پس منظر میں چلے جانے کا اندیشہ ہے۔بشیر قریشی کاا پنا شاید کوئی  بہت بڑاووٹ بینک نہ ہو (یہ آپشن انہوں نے کبھی آزمایا بھی نہیں تھا)مگر سیاست میں ایک مضبوط رجحان کے طور پر ان کی سیاست موجود تھی۔ جو کئی ایک چیزوں پر اثرانداز ہوتی تھی۔اب جسقم پہلی بار ایک پاپولر پارٹی کے طور پر ابھر رہی ہے جس سے پیپلز پارٹی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ 

قوم پرست سیاست کا عوامی رنگ بشیر خان قریشی 2012-4-9

Mon, Apr 9, 2012, 1:28 AM
قوم پرست سیاست کا عوامی رنگ  بشیر خان قریشی 
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔ سہیل سانگی 
دو ہفتے قبل کراچی میں منعقد کی گئی فریڈم مارچ اور وہاں اس کی تقریر کی ان الفاظ کی گونج ابھی فضاؤں میں باقی تھی کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے وہ انتقال کر گئے۔بشیر خان قریشی جس نعرے پر جدوجہد کر رہے تھے اس پر ان سے پہلے بھی بلکہ ابھی کچھ مختلف لیڈر کام کر رہے ہیں، مگر ان جماعتوں یا لیڈر کو مقبولیت نہ مل سکی جو بشیر خان نے حاصل کی۔اس کی وجہ انکا اسٹائل اور مخصوص طبیعت تھا۔لہٰذا انکی سیاست، طریقہ کار اور ذاتی تجربہ مطالعہ کی تقاضا کرتا ہے۔
سندھ کی قوم پرست سیاست میں تیں بڑے رجحانات ہیں۔ایک گروہ پارلیمانی سیاست کے ذریعے سندھ کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔جس میں جی ایم سید کے پوتے سید جلال محمود شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی، جلال محمود شاہ، ممتاز بھٹو شامل ہیں۔ دوسرا گروہ علحدگی چاہتا ہے اور سندھ کی آزادانہ حیثیت کا خواہان ہے۔اس رجحان کی نمائندگی بشیر خان قریشی، خالق جونیجو، عبدالواحدآریسر، صفدر سرکی وغیرہ کرتے ہیں۔بشیر خان قریشی دوسرے رجحان کے اہم نمائندے اور سندھ کی تمام قوم پرست جماعتوں اور گروپوں میں سب سے بڑی جماعت کے رہنما تھے۔قوم پرست سیاست میں جی ایم سید کے بعد سب سے زیادہ مقبول رہنما بن گئے۔ اگرسندھ کی سیاست پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر مگسی رسول بخش پلیجو کی سیاست میں مین ڈائریکشن ایم کیو ایم کے خلاف ہے جبکہ بشیر خان قریشی اور ڈاکٹر صفدر سرکی  کی پنجاب کے خلاف ہے۔ڈاکٹر قادر مگسی اور رسول بخش پلیجو نواز شریف کے اس لندن میں بنائے گئے اس اتحاد کا حصہ رہے ہیں جو انہوں نے بینظیر بھٹو سے میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے کے بعد اپنی الگ شناخت کے لئے بنایاتھا۔
قوم پرست سیاست جو صرف تعلیمی اداروں تک محدود تھی۔ زمانہ طالب علمی  میں سیاست میں قدم رکنھنے والے بشیر قریشی نے جیئے سندھ تحریک کو ایک نیا رخ دیا۔ اس کو عوام تک لانے کی بھرپور کوشش کی جس کا ثبوت بڑے بڑے جلسے اور ریلیاں ہیں۔یہ ان کی دو دہائیوں کی انتھک محنت تھی۔وہ دراصل ایک کارکن لیڈر تھے۔سندھ میں قوم پرست سیاست کرنے والے چھوٹے بڑے گروپ اور ان کے زیادہ تر رہنما باتوں کے بادشاہ ہیں۔ عام آدمی کو موبلائز کرنے یا دیہات میں جاکر مشکل حالات میں کام کرنے کے بجائے ڈرائنگ روم کی سیاست پر اکتفا کرتے ہیں۔بشیر قریشی نے باتوں کی بادشاہی کے بجائے عمل کے میدان کو منتخب کیا اور یوں لوگوں کے درمیاں پلتھی مار کر بیٹھنے والا بڑے بڑے اکابرین اور دانشوروں سے زیادہ مقبول ہو گیا۔
 قدیم تہذیب موہن جو دڑو کے علاقے میں جنم لینے والے بشیر قریشی نے صوفیانہ اور سادہ طبیعت کے مالک تھے اور مخصوص سندھی اسٹائل میں ہاتھ جوڑ کر سلام کرکے اس شخص نے سندھ بھر میں رابطوں نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا۔ قوم پرست سیاست جواس سے قبل کارنر میٹنگز، ہوسٹلوں کے کمروں یا قومی کارکنوں کے اوطاقوں تک محدود تھی اسے وہاں سے سے نکال کرپہلی مرتبہ سڑکوں پرلے آیا۔وہ احتجاج کو  جلسوں سے آگے لے گئے اور احتجاج کی نئی شکل دھرنوں کی سیاست کوسندھ میں متعارف کرایا۔ دھرنوں کے باعث وہ صوبے میں خواہ ملک میں توجہ کا مرکز بن گئے۔ لوگوں کو موبلائز کرنے اور مقبولیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اور انہوں نے ان دھرنوں کے ذریعے بعض مقامی مسائل بھی حل کرائے۔
 پانی کی قلت کا معاملہ ہو یا کالاباغ ڈیم کا منصوبہ، این ایف سی ایوارڈ ہو یا سندھ کے لوگوں کی ملازمتوں کا معاملہ ہو یامردم شماری میں ہیراپھیری۔بشیرقریشی نے شہر شہر جا کر لوگوں کومتحرک کیا۔بلاشبہ وہ سندھ کی ہم عصر قیادت میں وہ شخص تھا جن کا عوام سے سب سے زیادہ رابطہ تھااور عوام کو متحرک کیا۔
مشرف دور میں کالا باغ ڈیم کے خلاف خیرپور کے قریب ببرلوئی چوک کے مقام پرپاس دھرنا دینے جا رہے تھے تو فائرنگ کی گئی۔یہ خیرپور کی تاریخ کا سب سے بڑا دھرنا تھا۔۔ رانی پور سے کراچی تک لانگ مارچ کیا۔وہ ان لیڈروں میں سے نہیں تھے جو پیدل لانگ مارچ کرنے والے کارکنوں کو چھوڑ کر خود لینڈ کروزر پر شہر سے باہر آکے مارچ میں شامل ہوتے تھے۔ پنجاب کی سرحد سے کراچی تک پیدل لانگ مارچ کیا تو ان کے پاؤں میں چھالے تھے۔ سندھ کے مختلف اشوز پر زبردست تحریک چلائی۔کئی مرتبہ سندھ پنجاب بارڈر پر دھرنا دیا۔اور پنجاب کی طرف جانے والی ٹریفک کو بلاک کیا۔کموں شہید کے پاس کالاباغ ڈیم کے خلاف بینظیر بھٹو کے ساتھ دھرنا دیا  اور بینظیر نے انہیں تقریر کے لیے بلایا۔ چھوٹے بڑے شہروں میں دھرنے دیئے۔مختلف شہروں سے کراچی تک لانگ مارچ کئے۔
سندھ میں قبائلی جھگڑے روز کا معمول ہیں۔ یہ جھگڑے ہر ماہ کئی انسانی جانیں نگل جاتے ہیں۔کئی مقامات پر یہ جھگڑے معیشت، تعلیم اور عام سماجی زندگی پر برے اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔ان قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے کاروکاری پر عورتوں کا قتل اور بعد میں ان قتل کا فیصلہ جرگے کے ذریعے کرنا خاصا عام تھا۔انہوں نے قبائلی جھگڑوں اور خون خرابے کو روکنے کے لیے منت سماجت ”منتھ میڑ“ قافلوں کی رویت ڈالی۔وہ ْرآن مجید اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کا مجموعہ لے کر پہنچے اور فریقین کو راضی نامہ کرنے پر قائل کیا۔یہ ایک سوشل ورک کی فیلڈ تھی لیکن اس کو انہوں نے سیاست کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔
عام طور پر قوم پرست سیاست کا مرکز حیدرآباد رہا ہے۔ جہاں مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنما موجود بھی ہوتے ہیں اور انکے دفاتر اور انکی سرگرمیاں نظر آتی ہیں۔بشیرقریشی پہلے قوم پرست لیڈر تھے جنہوں نے نہ صرف کراچی میں سیاسی مقصد کے لیے رہائش اختیار کی بلکہ کراچی کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔انہوں نے کئی شہروں سے کراچی تک کا مارچ کیا۔ کراچی میں ہر سال بڑی بڑی ریلی نکالنا ضروری قراردیا۔
 بنیادی طور پرزراعت کے طالبعلم سیاست کی طرف آئے، مگر وہ کوئی بہت زیادہ کتابیں پڑھنے والا نہیں تھا۔مگر جذبہ اور سچائی ان کے لیے رہنمائی تھے۔یوں کہیئے کہ علم پیچھے رہ گیا اور عمل آگے نکل گیا۔وہ اتنی بڑی ریلیاں نکالتے تھے تو یہ علم کا نہیں عشق کا کارنامہ تھا۔
بشیر یاروں کا یار تھا۔ کارکنوں سے ذاتی تعلق اور وابستگی ان کی کامیابی کا سبب بنی۔ روپوشی کے زمانے میں وہ گاؤں گاؤں گئے جس نے ان کے طریقے کار کو نیا رخ دیا۔ اور کامیابی کی بھی وجہ بنی۔ 
وہ پارلیمانی سیاست سے دور رہے۔ نہ کسی کو انتخابات کا آسرا نہ اقتدار میں حصہ پتی کی لالچ۔اس کے باجود خاصی مقبولیت حاصل کی جو ابھی تک کسی قوم پرست سیاستداں کا صرف خواب ہی ہو سکتا ہے۔
 سیاست بڑی عجیب چیز ہے۔ خاص طور پر آج کے دور میں۔ تھوڑی مقبولیت کے بعد لیڈر کے گردن میں بل آجاتا ہے۔ مگر اتنی بڑی مقبولیت کے باوجود انکا  نہ کوئی پروٹوکول نہیں۔ ہر وقت کارکنوں کے درمیان ہوتے تھے۔بشیر کی ایک اور خصوصیت عدم تشدد تھا۔انہوں نے کراچی میں 23مارچ کو جو آخری ریلی نکالی اس میں کوئی ہتھیاروں کی نمائش نہیں تھی۔ورنہ کراچی میں سیاست بغیر ہتھیاروں کے کرنا ناممکن سی بات لگتی ہے۔
 بشیر قریشی نے سیاست کرنے کا عوامی ڈھنگ اپنایاجو یا تو تحریک آزادی کے دوراں رہنماؤں نے اختیار کیا تھا یا پھر کمیونسٹوں کا تھا۔ یعنی نچلی سطح پرجا کر کام کرنا۔یہ وہ خصوصیات تھیں جس کی وجہ سے بشیر قریشی منفرد اور مقبول لیڈر بنے۔

سندھ میں قوم پرست سرگرم ہونے لگے - 2012-3-27

Tue, Mar 27, 2012 at 11:48 AM
سندھ  میں قوم پرست  سرگرم ہونے لگے
میرے دل میرے مسافر  ۔۔ سہیل سانگی 
ملک گیر پارٹیوں کے جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں کے بعدسندھ کی قوم پرست جماعتیں بھی سرگرم ہو گئی ہیں۔ گذشتہ ہفتے سندھ کی تین قوم پرست جماعتوں نے جلسے کئے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔بشیر خان قریشی کی قیادت میں جیئے سندھ قومی محاذ  (جسقم) نے 23مارچ کوکراچی بہت بڑی ریلے نکالی۔ اس سے قبل ڈاکٹر صفدر سرکی کی قیادت میں جیئے سندھ تحریک نے بھی صوبائی دارالحکومت میں ریلی نکالی اور کراچی کی سڑکوں پر مارچ کیا۔سندھ ترقی پسند پارٹی نے حیدرآباد میں جلسہ کیا۔ ان تین ریلیوں نے قوم پرست سیاست کو تقویت دی ہے۔
 اس وقت سندھ میں جب کوٹہ سسٹم، کراچی کو صوبہ بنانے کی چاکنگ اورسندھ اسمبلی میں بحث وغیرہ کے حوالے سے صوبے کی دو بڑے لسانی گروہوں کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی پائی جاتی ہے۔اور ایم کیو ایم کراچی، سکھر اور حیدرآباد میں اپنی سیاسی قوت کے اظہار کے طور پر جلسے منعقد کر کے کر چکی ہے۔اگرچہ سندھی آبادی کی پارلیمانی نمائندگی پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ مگر سندھ کا سیاسی اظہار قوم پرستوں کی جانب سے ہی ہوتا رہا ہے۔ ایسے میں سندھی آبادی کی طرف سے قوم پرستوں کا یہ اظہار اہمیت کا حامل ہے۔
ان تینوں جماعتوں کی سیاست اور نقطہ نظر میں فرق ہے۔  بشیر خان قریشی نے  1940 کی قرارداد کو لوداع کرنے اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ سندھ کی نجات کے لیے ساتھ دیں۔انکا کہنا ہے کہ  ملک کے تینوں آئین بشمول  73 کے آئین کے 1940 کی قرارداد کے منافی بنائے گئے ہیں۔وہ بھی سندھ کی اردو دان آبادی کو سندھی قوم کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ 
ڈاکٹر صفدر سرکی کے مطابق سندھ کے اردو بولنے والے مستقل باشندے ہیں وہ وال چاکنگ کے بجائے سندھ کے حقوق کی جدوجہدمیں ساتھ کریں۔ان کا کہنا ہے کہ بعض لوگ قوم پرستی کے نام پر انتخابات لڑتے ہیں اور لوگ انہیں مسترد کرتے ہیں۔ہم انتخابات کا بائکاٹ کریں گے۔وہ پنجاب کی بالادستی کی مخالفت کو پہلے نمبر پر رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ پنجاب کی سندھ پر پنجاب کی شہنشاہیت مسلط ہے اب وہ چلنے نہیں دینگے۔وسائل پر قبضہ اب زیادہ دن تک نہیں چلے گا۔ سندھ کی نجات کے لیے ریفرینڈم کرایا جائے۔
 سندھ ترقی پسند پارٹی پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی ہے۔ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی  کو انہوں نے  ہدف تنقید بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ زرداری کا مقابلہ نعروں اور باتوں سے نہیں پورے سندھ میں انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے سے کریں گے۔سندھی زبان اور ثقافت خطرے میں ہے۔ملازمتیں کوٹہ پر بانٹی جا رہی ہیں۔جس کی وجہ سے سندھ میں بے روزگاری ہے۔ہم انتخابات جیت کر بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو سزا دیں گے۔انہوں نے ایک کیو ایم کی قیادت اور اس کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ 
 ان تینوں سیایس مظاہروں میں صرف سندھ ترقی پسند پارٹی کا موقف ایم کیو ایم کے خلاف ہے جبکہ باقی دونوں جماعتوں نے اردو بولنے والوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اگر سندھ کے بیٹے بنتے ہیں تو ان کے خلاف کوئی تنقید نہیں ہے۔جبکہ ڈاکٹر قادر مگسی نے ایم کیو ایم پر سخت تنقید کی۔ڈاکٹر مگسی  قوم پرستوں کے اس اتحاد میں شامل ہیں جنہوں نے مشترکہ پلیٹ فارم سے آئندہ انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور نواز شریف کے ساتھ اتحاد بھی کرنا چاہ رہے ہیں۔ اگر ایک نظر میں دیکھا جائے تو ڈاکٹر مگسی کی مخالفت کی مین ڈائریکشن ایم کیو ایم کے خلاف ہے جبکہ ڈاکٹر صفدر سرکی اور بشیر خان قریشی کی پنجاب کے خلاف ہے۔ڈاکٹر قادر مگسی اور رسول بخش پلیجو نواز شریف کے اس لندن میں بنائے گئے اس اتحاد کا حصہ رہے ہیں جو انہوں نے بینظیر بھٹو سے میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے کے بعد اپنی الگ شناخت کے لئے بنایاتھا۔
 سندھ کے لوگ عرصہ دراز سے سندھ کے وجود، اہمیت اور یہاں کے لوگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔اور سندھ کو حق حاکمیت دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اسکا اظہار وہ مختلف شکلیوں میں کرتے رہے ہیں۔حال ہی میں سندھ میں ریلوے کی پٹریوں کو اڑایا  گیا تو  صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان بھی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ یہ احساس محرومی کا نتیجہ ہے۔
 1873 کا آئین جو کئی حلقوں سے برداشت نہیں ہو سکا، سندھ کے لوگ اس کو بھی ناکافی سمجھتے رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ ملک میں بننے والے تمام آئین بشمول 1973 کے آئین، 1940کی قراردادکے منافی ہیں جو کہ قیام پاکستان کی بنیاد بنی تھی۔
 جیئے سندھ قومی محاذ کا فریڈم مارچ جو ان تینوں سیاسی مظاہروں سے بڑا تھا، سندھ میں سیاسی رعب تاب رکھنے والے حلقوں کو بھی ایک پیغام تھا کہ چیزیں اس طرح سے نہیں ہیں جس طرح سے بظاہر نظر آ رہی ہیں۔اس ریلی کی خوبی یہ بھی تھی کہ اس میں اسلحہ کی کوئی نمائش نہیں کی گئی۔
 اس مارچ میں صرف جیئے سندھ قومی محاذ کے کارکن اور حامی ہی موجود نہیں تھے بلکہ مختلف پارٹیوں کے لوگ شامل تھے۔
 اگرچہ شرکا ء کی زیادہ تر تعداد اندرون سندھ سے آئی تھی تاہم اس کراچی کے باشندوں پر مشتمل تھی۔جس میں کراچی کے پرانے باشندوں کے نمائندے شفیع محمد جاموٹ اور دوسرے لوگ شامل تھے۔
پیپلز پارٹی  سندھ کے اس احساس محرومی اور نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی کو کبھی کچھ دے کر تو کبھی ڈرا دھمکا کر وفاق کے ساتھ سندھ کو جوڑے ہوئے تھی۔ اب پیپلز پارٹی کے اقتدار میں ہوتے ہئے بھی شدید احساس محرومی پایا جاتا ہے۔ یعنی پیپلز پارٹی بھی اسکو دور نہیں کر سکی ہے۔ تیل اور گیس کی کل پیداوار کا  69فیصد سندھ سے ہے۔ مگر وہاں کی تعلیم تباہ ہے۔اکثر آبادی غربت کی لکیر سے نہچے کی زندگی گذار رہی ہے۔وفاقی محکموں اور نیم خودمختار کارپوریشنوں میں مقررہ کوٹہ پر عمل نہیں کیا جاتا۔
 سندھ میں قوم پرست سیاست منقسم ہے۔ کچھ پارٹیاں مثلا ڈاکٹر قادر مگسی کی ترقی پسند پارٹی، عوامی تحریک اور جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارٹی پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی ہیں۔ یہ تینوں پارٹیاں انتخابات لڑنے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔اور انہوں نے الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن بھی کرالیا ہے۔ جبکہ بشیر خان کی  جیئے سندھ قومی محاذ اور ڈاکٹر صفدر سرکی کی جیئے سندھ تحریک پارلیمانی سیاست یا الیکشن میں یقین نہیں رکھتیں اور اپنی جدوجہد غیر پارلیمانی طریقوں سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
 کراچی کے فریڈم مارچ سے یہ بات ایک بار پھر ابھر کر سامنے آئی ہے کہ سندھ کے نجات کی سیاست  نہ صرف وجود رکھتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوئی ہے۔ اب قوم پرست سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور وہ بھی صوبائی دارالحکومت کراچی کی سڑکوں پر جہاں بعض گروہ سیاسی اجارہداری کا دعوا کرتے ہیں اورکسی بھی فریق کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
 بلوچستان کے حوالے سے جو نئی بحث چلی ہے۔ اس کے بعد اس لانگ مارچ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
ایک نئے سوشل کانٹریکٹ کی ضرورت ہے۔ جس کی بنیاد لوگوں کی خواہشات پر ہونی چاہئے۔ کیونکہ فیڈریشن ہمیشہ تبھی بہتر طور پر چل سکتے ہیں اور مضبوط ہوتے ہیں جب وحدتوں کی خواہشات کو اکموڈیٹ کرتے ہیں۔لوگوں کی خواہشات پر کھڑ ی ہوئی یا بنائی ہوئی ریاست سیکیورٹی کے حوالے سے خواہ ریاست کی ہو یا لوگوں کی سیکیورٹی صرف ایسی ہی ریاست ضمانت بن سکتی ہے۔ در اصل ایک سوچ کے انداز میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ 
پاکستان میں فیڈرل ازم کے بحران ملک میں ہر جگہ نمودار ہو رہے ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں قوم پرست تحریکیں ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں انتہا پسندی ہے۔ جو فیڈریشن کے حقیقی منیجروں  کے لئے چیلینج ہے کہ وہ اپنی ان پالیسیوں پر نظر ثنی کریں جو وہ گذشتہ 65 سال سے چلا رہے تھے۔ 
 سندھ میں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ کی قوم پرست جماعت جسقم کی اپیل پر چار لاکھ افراد نے23مارچ کو کراچی کی سڑکوں پر مارچ کیا۔اور 23 مارچ1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ نے لاہور کو قرارداد منظور کی تھی کس میں مسلم اکثریتی صوبوں پر مشتمل الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس قرارداد کو خداحافظ کہا۔
تعجب ہے کہ قومی  ہونے کی دعویدار میڈیا کے ایک بڑے حصے نے اس  بڑی سیاسی سرگرمی کو اہمیت نہیں دی نہ کوریج میں اور نہ ہی بعد میں اس کوزیر بحث نہیں لایا گیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔سندھ کے لوگوں کے اس بھرپور اظہار کے بعد پیپلز پارٹی کے لیے بھی راہ نکل آئی ہے کہ اگر وہ کچھ کرنا چاہتی ہے مگر کسی اتحادی فریق یا بعض دیگر حقوں کی جانب سے اگر کوئی رکاوٹ پیدا ہو رہی تھی تو وہ رکاوٹ اب دور ہو چکی ہے۔ اور کچھ کرنے کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔
قوم پرستوں اور عوام کے درمیاں اعتماد کی کمی ہے۔ اگر یہ کمی کسی طرح سے پوری ہو جائے تو صورتحال بہت بدل سکتی ہے۔

Wednesday, 4 March 2020

سندھ اور دوسرے صوبوں کے قوم پرست 2011-12-22

Thu, Dec 22, 2011 at 236 AM
سندھ اور دوسرے صوبوں کے قوم پرست 
یہ درست ہے کہ ایک صوبے میں کسی پارٹی کی مقبولیت دوسرے صوبے میں اس پارٹی کی مقبولیت پر مثبت یا منفی طور پر اثرانداز ہوتی ہے۔ سندھ میں ابھی تک یہ تاثر نہیں بن پایا ہے کہ عمران خان  باقی کسی صوبے میں یا ملکی سطح پر مقبول  لیڈر کے طور پر ابھرا ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ وہ پنجاب میں اور خاص طور پر شہری پنجاب میں کچھ مقبولیت حصل کر سکے ہیں۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ  وہ براہ راست نواز شریف کے حریف ہیں۔ پنجاب  کے شہروں میں خواہ عمران خان کے چاہنے والے موجود ہوں مگر یہ ووٹ پورے پنجاب کو صاف کرنے میں مدد نیں کر سکتا۔  پنجاب کے بڑے شہر اور مرکزی پنجاب مین شاید کچھ جگہ بنا پائے مگر سرائیکی بیلٹ اور دیہی علاقوں میں جگہ بنانا اتنا آسان نہیں جہاں پرپہلے ہی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کا ایک دوسرے سے سخت مقابلہ ہے۔ اور پیپلز پارٹی سرائیکی صوبے کا کارڈ اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہے۔ایسی صورتحال میں جب پنجاب کی حکومت جو مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے وہ سینٹرل پنجاب کواپنے ہاتھوں سے جانے نہیں دیگی  اور وزیر اعظم سرائیکی بیلٹ سے ہیں تو پیپلز پارٹی یہ بیلٹ اپنے ہاتھوں سے نکلنے نہیں دیگی۔ 
پختونخواہ میں  اے این پی کا مضبوط ووٹ بنک ہے۔ اے این پی   خان عبدلولی خان کی سیاست کی وارث اورعملی طور پر خان قیوم خان کی سیا ست کر رہی ہے۔ قیوم خان نے پختوں کے بالائے طبقے کے مفادات کی سیاست کی تھی۔لہذااب اے این پی کے پاس دونوں فلیور موجود ہیں۔ سیاسی کارکنوں اور قوم پرستی کا بھی اور بڑے طبقے کے مفادات کا بھی۔ اس کے علاوہ اے این پی اور پیپلز پارٹی نے مل کر  پختونوں کا صدیوں پراناشناخت کا مسئلہیعنی صوبے کا نام پختونخواہ رکھ کر حل کر دیا ہے۔ جو کہ عوام کی ہمدردیاں برقرار رکھنے میں بڑی مدد دیگا۔ صوبے میں دوسری بڑی قوت جمیعت علمائے اسلامکی ہے جس کا مضبوط مذہبی ووٹ بنک بھی ہے۔  یہ ووٹر کسی طور پربھی عمران خان جیسے کلین شیو کو برداشت نہیں کرے گا۔
بلوچستان کی صورتحال  ایسی ہے کہ سردار عطائاللہ بھی کہتے ہیں کہ اگر بات کرنی ہے تو  پہاڑوں ہر موجود نوجوانوں سے کرو۔انہوں نے ایک طرح سے نواز شریف کو بھی جواب دے دیا کہ  وہ کوئی بات یا ڈیل کرنے کے مجاز نہیں رہے۔ 
سندھ کی صورتحال دوسرے صوبوں سے مختلف ہے۔ یہاں قوم پرستی کا زور سمجھا جاتاہے۔ کسی حد تک  یہ بات صحیح بھی ہے۔سندھ کے عوام قوم پرست ہیں پروہ  الیکشن کے حوالے سے کبھی بھی قوم پرستوں کے خوبصورت نعروں کے سحرمیں نہیں آئے ہیں تووہ عمران خان کی کہاں سے سنیں گے۔ سندھ میں لسانی بنیادوں پردیہی اور شہری تقسیم ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ جسکو پنجاب کے سیاستداں پورے طور پر سمجھ ہی نہیں پائے ہیں۔ پنجاب  سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں سے سندھ کے لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ سندھ کے بنیادی اشوز جس پر سندھ کا ہنجاب یا  وفاق سے تکرار ہے کیا موقف رکھتے ہیں۔ اور یہ کہ صوبے کے اندرونی تضاد یعنی  دیہی اور شہری تضاد پر ان رہنماؤں کی کیا سوچ ہے۔سندھ میں بھی قلاباز سیاستدانوں کا ایک گروپ موجود ہے لیکن یہ گروپ انتخابات بھی اسٹیبلشمنٹ کے سہارے جیت سکتا ہے۔
سندھ کے عوام کی عمران خان کی پارٹی اور اسکی مقبولیت کے بارے میں کچھ اس طرح کی سوچ ہے۔جب انکی جماعت کی صوبے بھر میں کوئی تنظیم نہ ہواور کوئی سرکردہ کارکن بھی موجود نہ ہوایسے میں کس  طرح سے تنظیم سازی کر لیں  گے اور سیاسی حمایت کا نیٹ ورک بنا لیں گے؟ اسکا جوا ب  خانصاحب کو عملی طور پر ہی دینا ہوگا۔

 کچھ مقتدرہ حلقوں کی مہربانی کچھ میڈیا کا کمال۔ عمران خان کا چرچہ ملک بھر میں ہوہی گیا۔ بحثیں ہو رہی ہیں کہ عمران۔
 اقتدار میں آئے گا یا نہیں آئیگا؟  اب ھی دو  مراحل باقی ہیں یعنی  حمایت حاصل کرنا اور اس حمایت کو ووٹ میں تبدیل کرنا۔
مختلف صوبوں میں عمران کی  پوزیشن کیا ہ ہے؟ ا اسکو سندھ کے عوام اپنے طور پر کوکچھ یوں دیکھتے ہیں۔
سندھ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ  ملک میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ بظاہر عمران خان کی سوچ اور عمل ایک خوشحال پاکستان کا خواب دکھاتا ہے۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ عمرا ن خان تبھی اقتدار میں آئیگا  جب اس کے پاس  ایسے لوگ ہونگے ج امیدوار بن سکے اور انکے پاس چند ہزار اپنے ووٹ بھی ہوں۔ مزید یہ کہ الیکشن کے روز ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچانا اور پولنگ اسٹیشن کی چھوٹی موٹی ہیرا پھیری کو چیک کرنے کی بھی صلاحیت ہو۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ عمران خان کی پارٹی میں پنجاب، سندھ بلوچستان اور پختونخواہ کے جاگیرداروں، سرداروں اور گادی نشینوں کو تحریک انصاف میں شمولیت کرائی جائیگی تاکہ اس پارٹی کا ملک گیر پارٹی کے طور پر وجود نظر آئے۔ ا یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ بڑی سیاسی پارٹیوں  کے اثر کا مقابلہ کرنے کے لئے ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں کاروباری خواہ مزدور رہنماؤں اور چھوٹے سیاسی گروپوں کو ملایکجا کیا جائیگا۔ اس کے علاوہ ملک کے مشور سماجی کارکنوں اور کھلاڑیوں کو بھی نئی سیاسی بس میں بٹھا دیا جائیگا۔ویسے تو عمران خان کو مذہبی عناصر کی  الگ سے حمایت کی ضرورت تو نہیں ہے تاہم کچھ  مذہبی لوگوں کو بھی  شامل کر کے ایک عوامی سیاسی پارٹی کا دکھاوا دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرانی پارٹیوں کے خلاف فرسودہ اور ناکام ہونے کی مہم چلاکرسیاسی طور پر مقام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان پارٹیوں کے بعض کارکنوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔
سندھ  کے سیاسی  اور سیاست پر اثرانداز ہونے والے حلقے  عمران خان کی سیاست کو اشرافیہ کی سیاست سمجھتے ہیں۔تحریک انصاف کے  سرکردہ یا بنیادی رہنماؤں  میں کوئی ایک بھی ا شخصیت نہیں ہے جس کی جمہوریت کے لئے قربانیاں ہو یا کبھی عوامی ھقوق کے لئے جیل کاٹی ہو۔یا جس کا عوام کی خدمت کا کوئی ریکارڈ ہو۔
کیاعمران خان باتیں چاہے  انقلاب یا  صاف ستھری سیاست اور خوشحال پاکستان کی کرتے ہوں۔ مگر اپنے ساتھ جب پرانے جگادری لے رہے ہیں  تو انکے دعوے کتنے سچے اور قابل عمل ہونگے؟ کیا  وہ ان پرانے سیاسی پنڈتوں اور جاگیرداروں کے اثرات سے   بچ سکیں گے، جو اپنی وفاداریاں مفادات کے مطابق تبدیل کرتے رہتے ہیں۔
 عمران خان کے بڑے جلسے، پرجوش تقاریر اور تحریک انصاف میں اونچے طبقے کی شمولیت  ایک طرف ہے تو زمینی حقائق دوسری طرف ہیں۔جو بتاتی ہیں کہ  چیزیں اس طرھ نہیں ہیں جیسے دکھائی دیتی ہیں۔  یا جس طرح سے پیش کی جا رہی ہیں۔ 
 بڑا جلسہ کرنا  الگ بات ہے  اور الیکشن میں میدان مارنا  الگ بات بھی ہے اور مشکل بھی۔ آج کی صورتحال میں  جلسے کو دوسری جماعتیں بھی کامیاب کرا سکتی ہیں۔ یہ سیاسی حمایت ہے، الیکشن میں کسی کو حکومت سے ہٹانا نہیں بلکہ کسی کو حکومت میں لے آنا ہوتا ہے۔ کسی کی حکومت کو ہٹانے پر  بہت ساری سیاسی قوتیں متفق ہو سکتی ہیں پر کسی کو حکومت میں لانے پر بہت کم  لوگ متفق ہونگے۔اس لئے سیاسی جلسہ اور الیکشن دو الگ الگ کھیل ہیں