Showing posts with label Punjab. Show all posts
Showing posts with label Punjab. Show all posts

Monday, 9 March 2020

پنجاب چاہوے کی؟ 2

Jul 20, 201-punjab kia chahwy- 2
پنجاب چاہوے کی؟ 2  
  میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ملکی صورتحال ابتر ہو رہی ہے۔کیونکہ سرکاری ادارے حکومت سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کا اختیار روز بروز کم ہو رہا ہے۔ پاکستان نے امریکہ کی  دس سالہ دہشتگردی کے خلاف پراکسی جنگ لڑی۔ مگر حالات وہی نظر آرہے ہیں جو نوے کے عشرے میں افغان جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد پیدا ہوئے تھے اورپاکستان کی امداد کے حوالے سے پریسلر ترمیم آگئی تھی۔نوے کا عشرے میں ہی پنجاب امریکی امداد سے کھو بیٹھا تھا۔اپنی اہمیت جتانے کے لیے ایٹمی دھماکہ بھی کیا۔ لیکن اسکی ایک بھی نہیں مانی گئی اور اسے امداد کے ساتھ ساتھ عارضی طور پر سیاسی اقتدار سے بھی محروم ہوناپڑا۔البتہ آئی جے آئی بنا کر اسٹیبلشمنٹ صرف پنجاب میں عارضی طور پر اقتدار اپنے پاس رکھنے میں کامیاب ہو گئی۔ آج پھرامریکہ نے 90 کی طرح اسٹبلشمنٹ پر دباؤبڑھا دیا ہے اور امریکی امداد کوافغان، پاک امریکہ تعلقات، دہشتگردی کے حوالے سے بعض ٹھوس اورمناسب اقدامات سے مشروط کیا گیا ہے۔
سیاسی بحران  اس امر کی چغلی ہے کہ سیاسی اقتدار اسٹیبلشمنٹ کے پاس نہیں رہاتاہم اداروں پر مسلط ہونے کی وجہ سے وہ سیاسی اقتدار (حکومت) حاصل کرنے کے جتن کر رہی ہے مگر انہیں راستہ نہیں مل رہا ہے۔بلکہ دن بدن یہ راستہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ بنگلادیش ماڈل جس کو اب چیف جسٹس خارج از امکان قرار دے چکے ہیں، اس ماڈل کولانے کے لیے فوج اور عدلیہ دونوں کا ساتھ ہونا ضروری تھا۔مگر یہاں صدر کی موجودگی میں بنگلادیش ماڈل لانا مشکل ہو رہا ہے۔ اس کے لیے پہلے صدر کا اہتمام ہونا ضروری ہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے حالیہ بیان کہ پارلیمنٹ پر کسی بھی حملے کا دفاع کیا جائے گا۔ اس نے صورتحال  مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔
 پنجاب کو جمہوریت سوٹ نہیں کرتی؟
 موجودہ حالات میں  جب پارلیمنٹ  موجود ہے جمہوری سیٹ قائم ہے ایسے میں  پنجاب کی اشرافیہ محسوس کرتی ہے کہ اسکو اقتدار نہیں مل رہا ہے۔اب اس کے پاس براہ راست مداخلت کے بغیر کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ اگر منصفانہ اور آزادانہ انتخابات ہوتے ہیں تو بھی امکان کم ہی ہے۔ کیونکہ پہلی مرتبہ پنجاب کے سیاسی مینڈیٹ باقاعدہ تقسیم ہو چکا ہے۔  اور اس تقسیم کی دراڑیں اب زیادہ واضح ہیں۔باقی قوموں کا مینڈیٹ (پنجاب کے ڈر کی وجہ سے) تھوڑے سے فرق کے ساتھ  وہی رہنے کا امکان ہے۔ایسے میں پنجاب نے سیاسی اقتدار یعنی وزیر اعظم، صدر، کابینہ اور پارلیمنٹ حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ اختلافات کی نذرہو جائے گی۔بلکہ بیرونی دباؤ کی وجہ سے پائدار ثابت نہیں ہوگی۔جب تک وہ اہم امریکی مطالبات نہیں مان لیتی۔سیاسی سیٹ اپ میں پنجاب کے لیے ناممکن ہے کہ وہ سیاسی اقتدار حاصل کر لے۔کیونکہ پنجاب کی 90 جنرل نشستیں تقسیم ہو چکی ہیں۔جبکہ دوسرے صوبوں اور سراءٗیکیوں کے پاس 182 نشستیں ہیں جو موجودہ سیٹ اپ کو بچانے کے کام آئیں گی۔ان حالات میں پنجاب کو جمہوریت سوٹ نہیں کر رہی ہے بلکل اسی طرح سے جیسے بنگال کے ہوتے ہوئے نہیں سوٹ کر رہی تھی۔اب اس کے پاس یہ راستہ ہے کہ کوئی انجنیئرڈ انتخابات ہوں، یا  دوسرے صوبوں کا مینڈیٹ بھی تقسیم ہو۔
پراکسی لیڈرشپ
دوسرے صوبوں کا مینڈیٹ تقسیم کرنے کے لیے پنجاب کے اداروں کی کوشش ہے کہ وہاں پراکسی قیادت پیدا کرے۔خاص طور پرسندھ میں پیپلز پارٹی کو کمزور کرے۔ سندھ میں ممتاز بھٹو کی نواز لیگ میں شمولیت اور جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ  کے ساتھ انتخابی اتحاد اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔سندھ میں کبھی بھی نوازشریف نے پارٹی کو منظم کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اب کر رہے ہیں۔انہوں نے پراکسی لیڈرشپ پر ہی انحصار کیا۔سندھ میں ماضی میں بھی یہ نسخہ جام صادق علی اور لیاقت جتوئی کی شکل میں آزمایا جا چکا ہے۔لہٰذا  نواز لیگ بطور پارٹی وہ پیپلز پارٹی کے متبادل کے طور پر نہیں ابھر سکی۔ سندھ میں پراکسی قیادت کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکتی۔
 یہی وجہ ہے کہ نواز شریف سندھ کے لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ سندھ پنجاب اتحاد کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں جس کی بنیاد بھٹو نے ڈالی تھی۔ وہ اس چکر میں گڑہی خدابخش کی بھی یاترا کر چکے ہیں تاکہ سندھ  خواہ پنجاب دونوں میں یہ تاثر دے سکیں کہ وہ اس اتحاد کا تسلسل ہیں۔انہیں اس تسلسل پر اس وجہ سے بھی آنا پڑا کہ پنجاب کی دوسری ہ جماعت مسلم لیگ (ق) جو کبھی ان کی پارٹی کا حصہ تھی وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کرکے سندھ پنجاب اتحاد والے فارمولا کو مضبوط کئے ہوئے ہے اور اس حصے کے نمبر بھی لے رہی ہے۔یہ وہی فارمولا ہے جس کے تحت مسلم لیگ چٹھہ اور مسلم لیگ ملک قاسم گروپ، نوابزادہ نصراللہ پیپلز پارٹی کے اتحادی رہے۔ 
سندھ کے ساتھ بنانے کے چکر میں نواز شریف نے ایم کیو ایم سے بھی بیر لیا ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات کو ترجیح دی کہ روایتی مہاجر پنجابی اتحاد کے بجائے سندھ  کے قوم پرستوں سے اتحاد کرے۔ اور سندھ پنجاب اتحاد کا  دکھاوا دے۔ یہ اس لیے ضروری  ہو گیاتھا کہ اسٹبلشمنٹ نے جب  پنجاب میں ہر حالت میں سیاسی اقتدار اپنے پاس رکھنا چاہا تو اس نے دراصل سندھ پنجاب اتحاد توڑ دیا تھا۔ اور پیپلز پارٹی  کا نیا تعارف صرف سندھ کی یا سندھی پارٹی کے طور پر کرایا۔ 
  سرائیکی کارڈ اور دیگر نئے مظاہر 
ملک کے دوسرے صوبوں اور علاقوں میں نئی قوتیں اور نئے حقائق و مظاہر پیدا ہوئے ہیں۔جن کا ادراک کرنا از حد ضروری ہے۔سرائیکی علاقہ اور ووٹر پہلی مرتبہ بہت اہم ہو گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کے بعدسرائیکی کارڈ  بڑی چالاکی سے استعمال کر رہی ہے۔اگر فوجی مداخلت کے دن پورے ہو چکے ہیں (اگرچہ اس بات  پر کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں) تو پھر پنجاب کی اشرافیہ اپنی موجودہ پالیسیوں، نقطہ نظر کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے  فارغ ہو جائے گی۔ فاٹا، ہزارہ  وغیرہ کو پنجاب کی اشرافیہ روایتی طور پر ہینڈل نہیں کر سکتی۔  اصولی طور پریہ بات پنجاب  کوریاستی اداروں میں اکثریت اور بالادستی کی وجہ قابل قبول کرلینی چاہئے۔مگر تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے میں رہی ہیں۔آج بھی نواز شریف  باری کی بات کرتے ہیں اور ھساب لگا کر بتاتے ہیں کہ ہم نے اتنے سال حکومت کی  اور پیپلز پارٹی نے اتنے سال۔ لہٰذا اب  حکومت  میں آنے کی ان کی باری ہے وغیرہ وغیرہ۔1973کے بعدسندھی اشرافیہ نے ادارتی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر صاف اور شفاف انتخابات پر انحصار کیا ہے۔وہ 1973  سے 2012 تک تقریبا  17 سال اقتدار میں رہی ہے۔جبکہ آئین اور قانون کو توڑ کر 22 سال پنجاب نے سیاسی اقتدار اپنے پاس رکھا۔
 کوئی راستہ ہے؟ 
موجودہ صورتحال بہت نازک ہے۔کیونکہ پنجاب کی اشرافیہ ہو یا اسٹبلشمنٹ دونوں کے پاس آپشن محدود ہیں۔1990 کے مقابلے میں 
 2012 انہیں  عالمی اور علاقائی صورتحال کی وجہ سے بھاری پڑ رہا ہے۔حال ہی میں سندھی اور پنجابی اشرافیہ اسی دباؤ کے نتیجے میں چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر سمجھوتہ کیا ہے۔اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ نگراں حکومت اور انتخابات کرانے کی تاریخ پر دونوں پارٹیوں کے درمیان سمجھوتہ ہو جائے۔بہرحال ایسا سمجھوتہ قابل دید ہوگا۔کیونکہ اس سمجھوتے کے تحت فیڈریشن کچھ آگے بڑھ سکے گی۔
بہرحال پنجاب کو مکمل سیاسی اقتداراپنے ہاتھ میں رکھنے اور ریاستی اداروں میں بالادستی  رکھنے کے عمل اور تصور سے ہاتھ اٹھانا ہوگا۔اور  باقی صوبوں سے نیا معاہدہ کرنا ہوگا۔

پنجاب چاہوے کی؟ 2012-7-19(part-1)

Jul 19, 2012-punjab kia chahwy-1
 پنجاب چاہوے کی؟

میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
پاکستان میں جمہوریت اور سیاسی تاریخ بڑے نشیب و فراز سے گزری ہے۔ پہلے بنگال کی اکثریت مارنے کے لیے مساوات پیئرٹی کا فارمولا نافذ کرکے ون یونٹ بنایا گیا۔پر جب بات آگے بڑھی۔ملک میں تب تک جمہوریت اور ایک آدمی ایک ووٹ کو تسلیم ہی نہیں کیا گیا۔بلوچستان اور سندھ میں جب وسائل پیدا ہوئے اور بنگال کو اپنے ساتھ رکھنا مہنگا اور بھاری پڑ رہا تھا  تونکال کے باہر کر دیا گیا۔ بنگال کو الگ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی وہ دوسرے صوبوں کو بھی اکسا رہا۔ تو جو مچھلی باقی پانی کو گندہ کر رہی تھی اسی کو نکال کے باہر کر دیا گیا۔
شروع کے بیس سال پنجاب مہاجر اشرافیہ اور بیوروکریسی سے اتحاد کر کے اس کو شیئردے کر اپنا حصہ بڑھاتا رہا۔ اور ریاستی اداروں میں بالادستی حاصل کی۔بعد میں اس کو طلاق دے دی۔اسکو طلاق تو ایوب خان کے دنوں میں مل چکی تھی مگر اسکا باقاعدہ اعلان بھٹو کے آنے کے بعد ہوا۔کیونکہ پیپلز پارٹی کا قیام اور سیاست دراصل سندھ پنجاب اتحاد ہے۔یہی وجہ ہے کہ کراچی نے ایوب اور بھٹو کے خلاف تحریک میں اپنے احتجاج کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
پاکستان میں جمہوریت کے قیام یاعدم موجودگی کی وجہ حکمران طبقات سے زیادہ صوبوں کے تضادات  رہے ہیں۔سیاست مختلف قوتوں کی آپس میں کشمکش اور اتحادو عمل ہے اور اسکو سمجھے بغیر سیاست اور سیاسی پارٹیوں کے عمل کو پرکھنا اور سمجھنا مشکل ہو جاتاہے۔ پاکستان کی سیاست کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پنجاب کے لیے آئینی اور قانونی طریقے سے اقتدار حاصل کرنا  مسئلہ رہا ہے۔ لہٰذا وہ اداروں کے ذریعے مداخلت کرتا رہا ہے۔لیاقت علی خان سول اور ملٹری بیوروکریسی کو قبول نہیں تھے۔یہ وہ دور تھا جب نئے جنم لینے والے ملک کی سیاسی بنیادیں ڈالی جا رہی تھیں، اس کی ملکی و خارجہ پالیسی بنائی جا رہی تھی۔انہیں راولپنڈی میں کمپنی باغ میں (جو بعد میں اسی واقعہ کی نسبت سے لیاقت باغکہلانے لگا) اسی مقام پر گولی کا نشانہ بنایا گیا جہاں کوئی آدھی صدی بعدملک کی پاپولر لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا۔ بعد میں پنجاب کے غلام محمد گورنر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔بنگال سے تعلق رکھنے والے خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم بنے تو انہیں بھی آئینی مدت سے پہلے برطرف کر دیا گیا۔ 
سیاسی اقتدار حاصل کرنے میں بنگال کی اکثریت رکاوٹ بن رہی تھی، تو 1954  میں جمہوریت کے مانے ہوئے اصولوں کو بالائے تاک رکھ کر بنگال کی اکثریت ختم کر کے ون یونٹ قائم کیا گیا۔پھر بھی  بات نہ بنی۔ کیونکہ ریاستی کے ادارے ابھی اتنے مضبوط نہیں ہوئے تھے اور سیاسی ادارے مضبوط تھے لہٰذا سیاسی اقتدار پنجاب کے ہاتھ سے نکلنے کے ڈر موجود تھا۔ دو مارشل لا لگائے گئے۔ یہاں سے سیاسی اداروں کو کمزور کرنے اور ان پرکنٹرول کرنے کی کہانی شروع ہو گئی۔ اور منتخب وزراء اعظم کو برطرف کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔اگرچہ 1985 سے 2012 تک ملک 73ع کے آئین کے تحت چل رہا ہے۔ مگرپنجاب کی ریاستی اداروں کے ذریعے معاملات، فیصلوں اور پالیسیوں میں براہ راست مداخلت جاری رہی۔ بعض تجزیہ نگار1973 کے آئین  کو سندھ اور پنجاب کا اتحاد قرار دیتے ہیں۔ یہ وہ نقطہ ہے جو پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی نقطہ ہے۔ اگرچہ ستر کے عشرے میں 73ع کے آئین کے بعد حکومت  میں سندھی وزیراعظم تھامگرسیاسی اقتدار حاصل کرنے کے لیے ضیاء الحق کے ذریعے 1958 کی طرز پر مداخلت کی گئی اور ملک میں مارشل لا نافذ کردیا گیا۔مارشل لا ختم ہونے کے بعد اقتدار محمدخان جونیجو اور بے نظیر بھٹو کو ملا۔ان دونوں کا تعلق سندھ سے ہی تھا۔1988 میں بینظیر بھٹو کو اقتدار کن شرائط پہ ملا وہ اس کہانی کی مزید تفصیلات ہی ہیں۔ جہاں پنجاب میں حکمرانی کا حصہ پنجاب نے اپنے پاس ہی رکھا۔ پر اسی پہ اکتفا نہیں کیا گیا۔ پنجاب نے ایک با پھر اداروں کے ساتھ ساتھ صدر کو استعمال کیا۔اور 1990 اور 1997 میں مشکوک انتخابات کے ذریعے اقتدار حاصل کیا۔ ان انتخابات کا اب بھرم کھل چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے ویسے بھی یہ ماضی قریب کی بات ہے کہ1999 تک ایوان صدر اور خواہ عدلیہ نے پنجاب کی ان اقتداری کوششوں میں بھرپور ساتھ دیا۔1999 میں غیر پنجابی جنرل نے اقتدار پر قبضہ کیا۔ تب پنجاب خود کو اقتدار سے باہرمحسوس کرنے لگااگرچہ ریاستی اداروں پر عددی اعتبار سے اکثریت اور کلیدی عہدوں پر موجودگی کی وجہ سے پنجاب کا غلبہ برقرار رہا۔ 1985 سے 1999کے عرصے میں جس طرح سے عدالتوں نے آئین کی تشریح کرکے  پنجاب یا فوج کے اقتدار کو تسلیم کیا وہ بھی  ایک ریکارڈ ہے۔آج بھی یہی کوشش کی جارہی ہے کہ ریاست کے ادارتی نظام کو استعمال کرکے پنجاب کو سیاسی اقتدار دلایا جائے۔مگر تبدیل شدہ حالات میں فوج کی براہ راست مداخلت پنجاب کے مڈل کلاس اور پڑھے لکھے طبقے کو پسند نہیں۔اس سے بھی بڑھ کریہ کہ امریکہ اور اسٹبلشمنٹ کا ٹکراؤ کسی ایسے انتہائی اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔ پاکستان میں بہرحال کسی سیاسی یا حکومتی تبدیلی کے لیے  امریکہ کی منظوری ضروری رہی ہے۔ ماضی میں پنجاب امریکہ کی آشیرواد سے ہی اقتدار حاصل کیا ہے۔جس کے عوض اس نے افغانستان میں سوویت یونین کی حامی حکومت ختم کرنے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی خدمات انجام دیں۔چونکہ اب امریکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس خطے میں آئینی سیاسی سیٹ اپ کو اپنے مفادات میں سمجھتا ہے۔لہٰذاپنجاب کی ادارتی اشرافیہ کے لیے اقتدار پرقبضہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔اس ضمن میں آئے دن ہم مختلف اداروں کی وضاحتیں سنتے رہتے ہیں۔
حالات کا موازنہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ حکومت کو ختم کرنے کے لیے وہی کوششیں ہیں جو1950اور 1990میں کی گئی تھیں۔وہی الزامات، وہی قانون اور آئین کی تشریح ہے ا، اس قسم کے اتحادوں اور انجنیئرڈ اتنخابات کی تیاریاں ہیں۔سوال یہ ہے کہ پنجاب عددی اکثریت کے باوجودجمہوری عمل سے خائف کیوں ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہآج پنجاب1973 کے ّئین  کے باوجود خود کو اقلیت میں محسوسکیوں کرتاہے؟اس لیے کہ سرائیکی اشومیچوئرہو چکا ہے۔ماضی میں پنجاب میں طویل مدت تک نواز لیگ کی حکومت نے اس احساس کو مضبوط تر کر دیاہے۔ اب پنجاب کے پاس قومی اسمبلی کی  جنرل 272 نشستوں میں سے 90 نشستیں ہیں۔سرائیکی بیلٹ کی نشستیں اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہیں۔ جن کو قابو میں رکھنے کے لیے عمران خان کے ذریعے بھی کوششیں کی گئی ہیں۔ لیکن عمران خان کو دیا گیا دوسرا رول اس سے زیادہ اہم ہے۔  وہ ہے نواز شریف پر چیک رکھنا۔اب کے بعد پنجاب کے ووٹ بینک کی تقسیم  جو دھندلی تھی اب واضح شکل میں سامنے آئے گی۔جبکہ دوسرے صوبوں میں پنجاب کا خوف ہونے کی وجہ سے مینڈیٹ تقسیم ہونے کے امکانات کم ہیں۔حال ہی میں مختلف حلقوں میں منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات نے بھی اس بات کو واضح کردیا ہے۔چونکہ اس وقت سیاسی اقتدار سندھ کی اشرافیہ کے پاس ہے، جس نے آگے بڑھ کرپاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا۔ جبکہ ادارے پنجاب کے پاس ہیں۔لہٰذا موجودہ بحران کو اس تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔عدم استحکام کا  بتدریج ماحول بنایا گیا ہے۔میڈیا نے اس کام میں بھرپورساتھ دیا۔تجزیہ نگار، اینکرز اور تبصرہ نگار سب کے سب لاہور یا اسلام آباد سے ہی ہیں۔ مین اسٹریم میڈیا میں سندھ، بلوچستان یہاں تک کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والا اینکر یا تجزیہ نگاراسکرین پر یا میڈیا میں نہیں نظر آتا۔ آج بھی افواہ، تجزیے،  اور آراء یہ ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ لپیٹ لیا جائے گا کیونکہ طاقتور ادارے حکومت کی کرپشن، اقرباء پروری  (نااہلی؟)سے بیزار ہیں۔مگر درحقیقت اداروں اور حکومت کے درمیان تصادم کی وجہ پنجاب کا اقتدار سے باہر ہونے کا احساس اور اچھے یا برے طریقے سے اقتدار حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ماضی میں صدر کے منصب پر ایسا آدمی رہاہے کہ اسٹبلشمنٹ کے لیے سیاسی حکومت کو گھر روانہ کرنا اتنا مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔ مگر آج نہ صرف صدر کے پاس حکومت توڑنے کا اختیار نہیں ہے بلکہ صدر خود پنجاب کے پاور سینٹر سے تعلق نہیں رکھتے۔اس مرتبہ سپریم کورٹ بھی مختلف ہے جو کہ بار بار پارلیمنٹ کو بچانے اور اس کا دفاع کرنے کا عہد کرتی رہتی ہے۔عدلیہ کا یہ رویہ جو دو ٹوک بھی نہیں لگتا کہ ایکدم  سیٹ اپ کو لپیٹ کر روانہ کردے۔لہٰذا مقتدرہ حلقے نہ صرف پنجاب کی سیاسی اقتدار سے بے دخلی اور سرائیکی کارڈ پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں آنے پر پریشان ہیں بلکہ ان کے پاس اقتدار کو اپنے حق میں کرنے کے لیے کوئی راستہ بھی نہیں۔
(نوٹ: اس کی دوسری قسط اگلے کام میں  پڑھیں)