Showing posts with label Parliament. Show all posts
Showing posts with label Parliament. Show all posts

Monday, 9 March 2020

عدلیہ اور پارلیمان کی محاذ آرائی میں بیچ کا راستہ۔ 2012-7-26

Jul 26, 2012
 عدلیہ اور پارلیمنٹ کی محاذ آرائی  میں  بیچ کا راستہ۔
کالم  میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان محاذ ّرائی اور بیان بازی نے ملک میں سیاسی ہی نہیں بلکہ قانونی اور آئینی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے۔ جبکہ عدلیہ ان معنوں میں پارلیمنٹ کی بالادستی کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔نئے توہین عدالت بل منظور ہونے کے بعدحکومت کا رویہ بھی کچھ سخت ہوا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے چیف جسٹس کے جو بیاناتاخبارات میں شایع ہو رہے ہیں وہ خاصے غور طلب ہیں رہے ہیں۔ ملک میں  جو سیاسی صورتحال بنتی ہے اس پر کبھی رولنگ کی شکل میں تو کبھی ریمارکس تو کبھی کسی تقریب سے خطاب کی شکل میں ان کے خیالات سامنے آرہی ہے۔ جو حکومتی اقدامات پر رائے کا اظہار ہیں۔ انہوں نے ایک موقعے پر واضح کیا کہ ملک میں مارشل لاء نہیں نافذ ہونے دیا جائیگا۔ یا یہ کہ بنگلادیش ماڈل نہیں لایا جا رہا ہے۔ یہ دونوں ریمارکس خوش آئند ہیں۔
بدھ کے روز  سپریم کورٹ نے  بیچ کا راستہ نکالنے  کے لیے حکومت کو دو ہفتے کی مہلت دی۔ لیکن توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس  خاصے اہم تھے کہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں اس بل پر مزاحمت کرنی چاہئے تھی۔ اور یہ ایسے بیانات تھے جو عدلیہ کے رول کے بارے میں لوگوں میں موجود تشویش کو دور کر رہے تھے۔ لیکن ان بیانات سے یہ بھی واضح ہوا کہ عدلیہ ہی ملک میں کسی تبدیلی لانے کی پوزیشن میں ہے۔ بعض مبصرین اس کو عدلیہ کے سیاسی رول سے تعبیر کر رہے ہیں۔ عدلیہ کے ریمارکس سے یہ بھی بحث چھڑی کہ پارلیمنٹ بالادست یا عدلیہ۔ 7 جولائی کو چیف جسٹس نے کراچی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ پر پارلیمنٹ کی بالادستی کا کوئی جواز نہیں۔ برطانیہ جو پارلیمانی بالادستی کے اصولوں پر چل رہا ہے وہاں بھی پارلیمان کی بالادستی پرانی بات ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے 22 جون کو علامتی نوجوانوں کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا عدلیہ شہریوں کے حقوق کے حوالے سے آخری آربریٹر ہے جوآئین کی بالا دستی کی محافظ ہے۔سپریم کورٹ کو اوریجنل، اپیل اور مشاورتی اختیار حاصل ہیں۔
11 مئی کو لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کے دوران  چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے:”سپریم کورٹ سے بڑا کوئی ادارہ نہیں۔“ یہ چیف جسٹس کے پبلک میں کہے گئے ریمارکس ہیں اس لیے سیاست اور تاریخ کے طالب علم کے طور پر ان کا جائزہ لینا اشد ضروری ہے۔پہلا سوال یہ ہے کہ وہ کونسے تھے جن کی وجہ سے پاکستان کے چیف جسٹس کو عوام میں یہ ریمارکس دینے پڑے؟ کیا سپریم کورٹ  کے  اوریجنل، اپیل اور مشاورتی اختیارات اس کو پارلیمان پر بالادستی دے رہے ہیں؟ اگر ہاں تو کس طرح سے اور کس حد تک؟ 
حکومت اورت پارلیمنٹ کہتی ہے کہ وہ آئین کی پاسداری کر رہی ہے۔سپریم کورٹ کہتی ہے کہ عدلیہ ّئین کی محافظ ہے اور آئین بالاتر ہے۔ پارلیمنٹ آئین  اور قانون سازی کا  اختیار ہے۔ سپریم کورٹ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہونے کے باوجود آئین اور قانون کی حکمرانی کے ماتحت ہے۔آئین کی آخری تشریح کرنے والے ادارے کی حیثیت کے باوجود سپریم کورٹ کا بھی دائرہ اختیار متعین ہے۔ 
آئین دراصل قوانین، ضوابط اور عمل کا ایسا مجموعہ ہے جو ریاست کے بنیادی ادارے اور انکے ذیلی ادارے وجود میں لاتا ہے۔ ان اداروں کے اختیارات و فرائض اور تعلقات کا تعین کرتا ہے۔
یہ صرف پاکستان کا ہی قصہ نہیں۔حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان تعلقات میں تبدیلی آئی ہے جس کی وجہ حکمرانی اور معاشرہ میں مجموعی طور پر رونما ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔برطانیہ اور انڈیا میں اس طرح کی صورتحال بنی تھی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا ملک ریاست کے تین ستون کے تعلقات کے حوالے سے بہت ہی نازک موڑ پہ کھڑا ہے۔ یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ یہ تینوں ریاستی ادارے تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امریکی چیف جسٹس جان مارشل نے  1830 کے عشرے میں ایک تاریخی فیصلہ میں کانگریس کے اختیارات کا تعین کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو اختیار ہے کہ وہ کوئی بھی قانون بنا سکتی ہے جو اس کے اختیارت کو چلانے کے لیے مناسب ہو۔ ان کی یہ رولنگ آج بھی اتنی ہی قابل عمل ہے جتنی کوئی دو صدی پہلے تھی۔یہ صحیح ہے کہ عدلیہکو نظرثانی کا اختیار ہونا چاہئے تاکہ وہ یہ دیکھ سکے کہ حکومت یا پارلیمان کا کوئی بھی قدم آئین سے متصادم تو نہیں؟ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس حوالے سے عدلیہ کا کوئی دائرہ اختیار لامحدود ہے۔ عدلیہ کا دائرہ اختیار آئین میں بھی متعین ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں عدلیہ کے حوالے موجود قوانین، اہم مقدمات کی رولنگ کی شکل میں تاریخ اور ریکارڈ کا ایک حصہ ہے۔ پوری دنیا میں جہاں جڈیشل ایکٹوازم کے لفظ ہے اس کے ساتھ ساتھ  restraint   judicialیعنی خود کو سنبھالنے یا کنٹرول کرنے کا بھی لفظ بھی آتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عدلیہ جدیشل ایکٹوازم کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکے کہ ایکٹوازم کا استعمال منصفانہ اور جہاں ضروری ہو وہاں کرے۔اس کے ساتھ ساتھ اس کے ملک کے پورے نظام پر پڑنے والے مثبت یا منفی اثرات کا بھی جائزہ لے۔یعنی یہ بات عدلیہ کو اس کے دائرہ اختیار یاد دلاتی ہے کہ اس کا دائرہ یا اختیارات لامحدود نہیں۔
پاکستان کاآئین پارلیمنٹ کے اختیارات یا دائرے کو واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ آئین کی تمہید میں لکھا ہوا ہے کہ ہم عوام اپنے منتخب نمائندوں کو اختیارات دیتے  ہیں۔یہ الفاظ کچھ اس طرح ہیں: ”پاکستان کے جمہور کو اختیار و اقتدار اسکے مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا جو کہ ایک مقدس امانت ہے۔ چونکہ پاکستان کے جمہور کی منشاء ہے کہایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں مملکت اپنے اختیارات واقتدار جمہور کے منتخب نمائدوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔“
 یعنی آئین عوام کے اختیار کو اولیت دیتا ہے اور اسی کو مانتا ہے کہ وہ آئین اور قانون سازی کریں۔ دنیا کے کسی بھی آئین میں یہ لکھا ہوا نہیں ہے کہ ہم ججز ملک کو آئین دے رہے ہیں۔
  ریاستی ادارے آپس میں لڑیں یا نہ لڑیں پاکستان کے عوام کی بالادستی تسلیم کی جانی چاہئے۔1947 میں ملک بنا اور 1971 ہم ایک حصہ گنوا بیٹھے۔ باقی 41 سال اس حالت میں گزارے کہ ملک کو خطرہ ہے۔اصل میں ان تینوں اداروں کی  معائنے کی ضرورت ہے۔
اگر آئین بالاتر ہے، سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ کسی آئینی ترمیم کو مسترد کرسکتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا تمام ترامیم کو چیلینج کیا جاسکتا ہے؟ پارلیمنٹ کا یہ موقف ہے کہ عدلیہ آمروں کوتو قانونی جواز دے کر تسلیم کرلیتی ہے اور منتخب پارلیمان کی ترامیم کو مسترد کیا جاتا ہے؟ یہ ایسے سوالات  ہیں جن کی وجہ سے عدلیہ کا رول  زیربحث آجاتا ہے اور لوگ سوالات کرنے لگتے ہیں۔
 ایک منظر یہ ہے کہ چیف جسٹس نے کہا کہ صرف آئین ہی سپریم ہے اور اس لیے صرف سپریم کورٹ کو حق ہے کہ وہ آئین کی تشریح کرے۔آئین اس وجہ سے سپریم ہے کہ وہ ہمارے آئینی اداروں کے کام کو ریگیولیٹ کرتا ہے۔مگر حقائق کو تصورات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ حقائق آئین کے تحت بننے والے ادارے ہیں جن کو اپنے دائرہ کار اور اختیار میں رہ کر اپنا پانا کام کرنا ہے۔ خود ان کے کام میں رکاوٹآئین میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔یہ صحیح ہے کہ آئین سپریم ہے مگر اس کی خالق پارلیمان ہے جو اسکو تبدیل کرسکتی ہے۔  جس میں حکمران جماعت کے علاوہ اپوزیشن  جماعتیں بھی ہیں۔یہ صرف پارلیمان ہی کرسکتی ہے کیونکہ وہ عوام کی آواز اور عوام کا منتخب ادارہ ہے۔  ہمارے پاس معاملات اس وجہ سے بھی خراب ہوئے کہ اپوزیشن حکومت پر چیک رکھنے اور پارلیمنٹ  کا فورم مؤثر طور پر استعمال کرنے میں اور اپنا رول ادا کرنے میں ناکام رہی۔پارلیمنٹ اور حکومت پر چیک رکھنے کا آخری سیاسی طریقہ انتخابات ہیں  جہاں عوام اور ووٹر پارلیمنٹ اور حکمراں جماعت کا محاسبہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں کہ سپریم کورٹ آئین کے خلاف پارلیمان کے بنائے ہوئے عام قانون کو مسترد کرسکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ آئینی ترمیم کو بھی مسترد کرسکتی ہے؟ ایسا کرنے کے لیے اسے جرمن تصور  basic structure doctrine پر انحصار کرنا پڑے گا۔ جس کے مطابق آئین کے بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جن کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔مگر جرمن لوگوں نے یہ بات آئین میں واضح طور پر لکھ بھی دی ہے۔ ہمارے آئین میں ایسی کوئی چیز لکھی ہوئی نہیں ہے۔ انڈیا کی عدالتوں نے آئین  میں ترامیم کو ختم کرنے کا اپنا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔لیکن ہماری عدلیہ نے ایسا کوئی طریقہ نہیں اپنایا ہوا ہے لہٰذا  لے دے کر ہماری عدلیہ کو آئینی ترامیم کے حوالے سےdoctrine basic structure  پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔
پارلیمان اور عدلیہ دونوں آئین کو سپریم اور مقدس سمجھتی ہیں۔ کس کا کیا ریکارڈ ہے اور  پہلے کی کونسی مثالیں موجود ہیں اگراس بات کو دیکھا جائے تو دونوں کے ہاتھ  صاف نہیں۔دونوں نے آمروں کو یا انکے اقدامات کوتحفظ دیا۔ سپریم کورٹ نے پہلا قدم اٹھایا کی اس نے فوجی بغاوتوں کو قانونی طور پر تسلیم کیا۔ اور آئین میں ترامیم کرنے کی اجازت دی۔ پارلیمینٹرین یہ کہہ سکتے ہیں کہ انکو یہ اختیار ہے لہٰذا انہوں ے ّئینی ترامیم کے ذریعے ان اقدامات کو قبول کیا۔ جبکہ سپریم کورٹ نے آمروں کو قانونی شکل دینے کے لیے اپنے اختیارات نئے سرے سے ایجاد کئے۔
 سپریم کورٹ سمجھتی ہے کہ وہ موجودہ”نااہل اور کرپٹ“ حکومت کے خلاف جنگ کررہی ہے۔وہ آئین کو مرضی سے تبدیل کرنے کو روکنا چاہتی ہے۔یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ عدلیہ ماضی میں جو اس پر داغ لگے ہیں اس وجہ سے یہ داغ دھونا چاہ رہی ہواور آئین اور عدلیہ کو لوگوں سے متعلق بنانا چاہ رہی ہو۔ سوال یہ ہے کہ عدلیہ اس معاملے میں کہاں تک جا سکتی ہے؟ ہو سکتا ہے کہ وہ اس چکر میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کو ہی نہ نقصان پہنچا دے۔
  برطانوی عدالتیں آج اگر اس طرح سے عمل اس لیے کر رہی ہیں کیونکہ اس کے لیے پارلیمنٹ نے ہیومن رائٹ ایکٹ نام سے ایک قانون لایا گیا ہے۔جس میں عدلیہ کے حوالے سے آئین اصلاحات بھی شامل ہیں۔برطانیہ کی یہ مثال تو دی جاتی ہے کہ وہاں پارلیمان کی بالادستی کا تصور کم ہو رہا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہاں عدلیہ پارلیمان کے ایکٹ کو مسترد نہیں کرتی۔اگر کبھی ایسا ہوتا ہے تو وہ پارلیمان کو وقت دیتی ہے کہ قانون کو آئین کی مطابقت میں لے آئے۔اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو اسے سیاسی طور پر اسکی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔وہ عوام ہوتے ہیں نہ کہ عدلیہ جو انہیں انتخابات کرانے کا کہتے ہیں۔امریکہ کی سپریم کورٹ نے کبھی بھی کوئی پارلیمان کا بنایا ہوا قانون ختم نہیں کیا۔وہاں کانگریس کی آواز کو عوام کی آواز سمجھا جاتا ہے۔ حال ہی میں امریکی چیف جسٹس نے کہا تھا کہ یہ عدلیہ کا کام نہیں ہے کہ لوگوں کو ان کی غلط رائے  یا پسند سے بچائے۔it wasn't the job of the Supreme Court to protect the people from the consequences of their political choices. 
پاکستان میں حکمرانی کے کیا اصول اور طور طریقے ہوں اس پر طویل عرصے تک جنگ چلتی رہی۔ بالآخر 1973 میں سمجھوتہ ہوا جس میں پارلیمان کو آئین سازی اور آئین میں ترمیم کا اختیار دیا گیا۔ کیا اب ہم سپریم کورٹ کو یہ اختیار دے رہے ہیں کہ وہ اس سمجھوتے میں ردوبدل کرے؟ یہ فیصل کن موڑ ہے اگر ہم عدلیہ کو یہ سب کچھ کرنے دیتے ہیں تو سیاست اور پارلیمان غیرمتعلق ہوکر رہ جائیں گے۔ بالکل اسی طرح جس طرح مارشل لا یا کسی ڈکٹیٹر کے دور میں ہوتے تھے۔سوئس حکام کو خط لکبھنے کے لیے سپریم کورٹ نے جس بیچ کے راستے کی بات کی ہے، در اصل بیچ کا راستہ  مجموعی طور پر پارلیماں اور اور عدلیہ کے درمیان نکالنے کی ضرورت ہے۔

پارلیمنٹ کی حیثیت کم ہونے کی کہانی 2012-7-12

Jul 12- 2012 Story of reducing importnace of parliament
پارلیمنٹ کی حیثیت کم ہونے کی کہانی
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔ سہیل سانگی 
ایک وزیراعظم کی قربانی کے بعد دوسرے وزیر اعظم کو بچانے کے لیے حکومت نے جلدی میں قومی اسمبلی سے توہین عدالت کا نیا قانون  نمظور کرلیا ہے۔ تاکہ بہت ہی سرگرم عدلیہ کے سامنے ڈھال بنائی جا سکے۔حکومت کا موقف یہ ہے کہ توہین عدالت کے بارے میں مشرف کا قانون ختم کرکے 1976 اور 1988کا قانون واپس لانا چاہتی ہے۔ 
 حکومت کو یہ قدم اس لیے بھی اٹھانا پڑا کہ آئین میں صدر کو حاصل استثنیٰ کی سپریم کورٹ نے یہ تشریح  نکالی کہ استثنیٰ دینا نہ دینا عدالت کا ڈسکریشن ہے۔ اگر صدر کو استثنیٰ چاہئے تو وہ عدالت میں آکر مانگیں۔عدالت نے سوئس حکام کوخط نہ وزیراعظم کو چند سیکنڈ کی سزا سنائی اور انہیں کوئی ایک ماہ بعد  وزارت عظمیٰ کے عہدے اور قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل قراردے دیا۔ حکومت کے ایک درجن سے بھی زائد فیصلوں کوعدالت نے روک دیا۔
توہین عدالت کے قانون  میں تبدیلی سے حکومت عدالت کے اختیارت کو نہیں بلکہ عدالت کی مرضی کوایک حد تک کم کرے۔صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ کونسا قانون ہو یا نہ ہو اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔بعض اوقات حکومتی فیصلوں اور انتظامی اقدامات جو کہ خالصتا گورننس کے دائرے میں  آتے ہیں ان کو بھی عدالت نے اپنے دائرہ اختیار میں لے لیا۔ حالت یہ ہے کہ وفاق اور سندھ میں تمام فیصلوں اور اقدامات کے  آگے عدلیہ کی دیوار کھڑی ہے۔ حکومت کی رٹ اتنی کمزورنظرآتی ہے کہ وزراء خواہ سرکاری اعلیٰ افسران اس بات سے ڈرے ہوئے تھے کہ کہیں ان سے کوئی ایسا نہ فیصلہ”سرزد“ نہ ہو جائے کہ ان کی عدالت میں طلبی ہو، ایسا ہوا تو ان کا ”حشر“ بھی وزیراعظم گیلانی جیسا ہوگا۔
 ہوا کچھ اس طرح کہ گورننس کو بہتر بناے اور موثر گورننس کے نام پر عدالتی فیصلوں اور رویے نے حکومت کو بے اثر بلکہ حکومتی اہلکاروں کی زبان میں اپاہج بنا دیا۔حکومت کے موثر ہونے نے ملک میں موجود معاشی و سیاسی بحران کو مزیدخراب کردیا۔
قانونی ماہرین یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ عدلیہ جس طرح سے کام کر رہی ہے۔ اس کے بعد آئین اور قانون کی تشریح کرنے والا واحد ادارہ  بھی یہی ہے  تو قانون پر عمل درآمد، حکمرانی  اور انتظامی اقدامت لینا جو حکومت کے فرئض ہیں وہ بھی بلواسطہ طور پرعدلیہ سرانجام دے رہی ہے۔بات اس سے بھی آگے نکل گئی جب عدلیہ نے کہا کہ حکومت اگر کوئی ایسا قانون بنائے گی جس کو عدلیہ نے سمجھا کہ وہ آئین کی روح کی منافی ہے تو اسے کالعدم قرار دے دیگی۔ یا قانون سازی کے حوالے سے عدلیہ کے بعض فیصلے ایسے ہیں کہ جو پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں ّآتے ہیں۔ریاست کے دو ستونوں  انتظامیہ اور مقننہ کا کام ایک ہی ستون یعنی عدلیہ سرانجام دینے لگی۔اس صورتحال کو بعض تجزیہ نگار  ریاست کے دو ستونوں حکومت اور انتظامیہ اور عدلیہ کے تصادم کا نام دے رہے ہیں۔ مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو یہ ان اداروں یا ستونوں کا تصادم نہیں بلکہ افراد کا تصادم ہے۔ جس کو اداروں کا تصادم کہہ کر معاملے کو الجھایا جا رہا ہے۔آج اگر آصف زراداری صدر کے عہدے پر نہ ہوں تو اپوزیشن یا مخالفت کرنے والے حلقے کو ایوان صدر کی کئی باتوں پر اعتراض نہیں ہوتا۔ یعنی شکایت یا مخالفت صدر زرداری سے ہی ہے۔یہ کل ہی بات ہے کہ نواز لیگ آئی ایس آئی کے سربراہ اور کچھ دوسرے اداروں کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کر رہی تھی۔ مگرآئی ایس آئی کے نئے سربراہرہ آنے کے بعد اور کچھ دیگر اداروں کے رویے میں تبدیلی کے بعد نوازلیگ کا موقف نرم ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے بھی عدلیہ کے بارے میں خدشات  شایدبہت کم ہو جائیں گے اگر جسٹس افتخار محمد چوہدری اس عہدے پر نہ ہونگے۔  
 سوال یہ ہے کہ عدلیہ کی بالادستی اہم یا بڑی ہے یا پارلیمنٹ کی؟  اس بارے میں چیف جسٹس کے ریمارکس ہیں کہ پارلیمنٹ کی بالادستی پرانا تصور ہے۔ان ریمارکس ّنینئی بحث کاکے دروازے کھول دیئے ہیں۔ یہ تصور جمہوریت کے برعکس ہے۔ کیونکہ پارلیمنٹ ملک کے کروڑوں عوام کا منتخب ادراہ ہے۔ اور اسی کو ہی قانون سازی اور حکمرانی کا حق اور اختیار ہے۔ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے مطابق پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے۔پارلیمنٹ کی بالادست کو تسلیم نہ کرنا آمریت کی راہ دکھانے کے مترادف ہے۔ عدلیہ کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ آئین اور قانونی طریقہ کار کے مطابق حکومت کی مقرری عدلیہ نہیں کرتی۔بلکہ حکومت یا پارلیمنٹ عدلیہ کا تقرر کرتی ہے۔اس بنیادی تصور کی روشنی میں عدلیہ اور حکومت یا پارلیمنٹ کا موازنہ کیا جائے گا تو پارلیمنٹ کی سائیڈ وزنی ہو جائے گی،
 دنیا میں آج جمہوریتیں اور جمہوری اقدار پرواں چڑھ رہے ہیں۔عوام کی اور ان کے نمائندوں  یعنی پارلیمنٹ کی بالادستی زور پکڑ رہی ہے۔کہیں اس ے الٹ کسی سوچ کو جنم دینا اور پروان چڑھانا  جمہوریت کے خلاف تو نہیں؟
وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہا ہے کہ پارلیمنٹ ملک کا بالادست ادارہ ہے۔ دوسرے سب ادارے اس کے ماتحت ہیں۔ ہر ادارہ خود کو آزاد اور خود مختیار سمجھتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد فوج کے ادارے نے خود کو بالاتر و بالادست  اور خودمختار ادارہ سمجھا اور کچھ ایسے اقدامات کئے جو ملک کی تباہی کا باعث بنے۔ ملک میں مارشل لا لگتے رہے،، ّئین نہ بن سکا، اور جب بن گیا تو اس کو معطل کردیا، انتخابات نہ ہونے دیئے گئے اور جب ہوئے تو نتائج کو تسلیم نہ کیا گیا یامنتخب حکومتوں کو چلنے نہیں دیا گیا۔
 پاکستان میں فوج اور عدلیہ کے خلاف بات کرنا گناہ کبیرا ہے۔ کیونکہ دونوں اداروں کے پاس ایسے اختیارات ہیں کہ جن کو نہ چیلینج کیا جا سکتا۔اور دونوں ادارے ماضی میں بھی ایک دوسرے کے غیر مقبول فیصلوں کی  حمایت اور انکو تحفظ فراہم کرتے رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں عدلیہ نے ایک حد تک  لوگوں اعتماد حاصل کر لیا ہے۔ حکومت نے جس خراب حکمرانی کا مظاہرہ کیا اور معاملات کو ٹھیک نہ کر سکی تو پارلیمنٹ کو چاہئے تھا کہ وہ اس پر کنٹرول کرتی، اس کالغام دیتی۔ مگر اس کے برعکس پارلیمنٹ  جہاں حقیقی معنوں میں کوئی اپوزیشن میں نہیں تھا سب حکومت میں تھے۔اپنا کردار ادا نہ کر سکی۔لہٰذا عدلیہ کا کردار بڑھ گیا۔حکومت پر پارلیمنٹ کی جانب چیک انیڈ بلینس نہ ہونے کی وجہ سے دن بدن کشمکش میں اضافہ ہوتا گیا۔ بعض سیاسی خواہ غیر سیاسی حلقوں اس کونے بڑھاوا دیا۔یوں نہ صرف حکومت بلکہ پارلیمنٹ بھی بے اثر ہوتی گئی۔ایسے میں عدلیہ کے سرگرمی والے کردار کو عوام کی جانب سے شاباس ملی۔یوں لوگ تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ کے بجائے عدلیہ کی طرف دیکھنے لگے۔ اس طرح پارلیمنٹ کی وقعت اور حیثیت رائے عامہ خواہ اداروں کے پاس کم ہوتی گئی اور یہ اسپیس عدلیہ لیتی گئی آج عدلیہ پارلیمنٹ سے رائے عامہ، عملی طور پر بھی اور قانونی طور پر بھی بالادستی حاصؒ کر لی ہے۔ عدلیہ کا یہ رول سیاست اور حکمرانی تاریخ میں نہیں ملتا۔ 
 تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں عدلیہ کے فیصلے ایک طرف ہوتے ہیں تو عوام کے فیصلے دوسری طرف۔ مولوی تمیزالدین کیس سے لیکر مشرف کے دور تک جو بھی سیاسی فیصلے عدلیہ نے کئے ہیں (یا اس سے کروائے گئے ہیں) ان کو عوام کی تائید نہیں مل سکی ہے۔ اور وقت نے ان عدالتی فیصلوں کو غلط ثابت کیاہے۔عدالت نے بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا دی، مگر عوام عدالت کے اس فیصلے کو 34سال گزرنے کے بعد بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ضیاالحق اور مشرف کو عدالت نے منتخب حکومتوں کا تختہ الٹنے پر جائز قرار دیا مگر عوام آج بھی انکو غاصب سمجھتے ہیں۔ 
عوام کے مینڈٰٹ اور رائے کی اپنی طاقت ہوتی ہے۔ نواز شریف کوآخری حکومت میں  ہیوی مینڈیٹ حاصل تھا تو انہوں نے عدلیہ پر حملہ کردیا تھا۔ صدر فاروق لغاری کو مواخذہ کی دھمکی دے دی تھی۔ آرمی چیف کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔حال ہی میں مصر کے منتخب صدر محمد مرسی نے سپریم کورٹ  کے حکم پر فوج کے ہاتھوں توڑی گئی پارلیمنٹ کو ایک صدارتی حکم کے ذریعے بحال کردیاملک کا آئین بنانے سے متعلق فوجی کونسل کے اس حکمنامے کو مسترد کردیا اور اعلان کیا کہ آئین منتخب پارلیمنٹ بنائے گی۔ یہ تو اس صدر کے احکامات ہیں جوفوجی جنتا کی منشا کے خلاف انتخابات جیت کر آئے ہیں۔ ایک ہمارے صدر اور حکومت ہیں جن کا وجود اور برقرار رہنا سمجھوتوں کی بنیاد پر ہے، اور مفاہمت کے نام پر نہ صرف اپنی بلکہ پارلیمنٹ کی بالادستی بھی کھو چکی ہے،  وہ اتنا ہی قدم اٹھا سکتی ہے کہ توہین عدالت جیسا قانون اسمبلی سے پاس کرا لے۔
 حکومت کے اس قدام سے عدلیہ اور حکومت کے درمیان کشمکش شدید ہو جائے گی۔ سیاست کے میدان میں  مخالفت اور بڑھ جائے گی۔ حکومت کی رٹ مزید کمزور ہوگی، اور روز کا حکومتی کاروبار چلانے میں بھی دقت ہونے لگے گی۔ یہ صورتحال عسکری حلقوں کو بلکل پسند نہیں آئے گی، ایسے میں وہ مداخلت کر سکتے ہیں۔ یہ مداخلت تنی ہوگی اس کا تعلق اندرونی اور بیرونی ایڈجسٹمنٹس پر ہے۔