Showing posts with label Kala Bagh. Show all posts
Showing posts with label Kala Bagh. Show all posts

Tuesday, 10 March 2020

کالا باغ ڈیم کورٹ میں - Dec 1, 2012

Sat, Dec 1, 2012, 9:26 AM
کالا باغ ڈیم کورٹ میں 
کالم ۔۔۔سہیل سانگی
 کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق لاہور ہائی کورٹ  نے چونکا دینے والا فیصلہ دیا ہے۔عدالت نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک اس متنازع آبی منصوبے  کے بارے میں پٹیشن کی سماعت کی۔ جس منصوبے کو صوبوں کی اکثریت نے کئی بارمسترد کیا  تھا بڑے صوبے کی عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ یہ بڑا صوبہ اس منصوبے کا حامی رہا ہے اوت وقت بوقت  اس کی وکالت کرتا رہا ہے۔ کورٹ کے فیصلے کے فورا بعد مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور وزیراعلیٰ  پنجاب شہباز شریف نے  عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور مطالبہ کیا کہ ڈیم کی تعمیر شروع کی جائے۔ مسلم لیگ (ن) خود کو پنجاب کی نمائندہ پارٹی سمجھتی ہے اور فی الحال اس کے پاس پنجاب  میں اسمبلی کی زیادہ نشستیں حاصل ہیں۔لہٰذا پنجاب کا موقف سامنے آگیا ہے۔ 
 یہ منصوبہ سالہا سال سے التوا میں ہے۔ اور کہ اس کے خلاف تقریبا روزانہ احتجاج ہوتا رہا ہے۔چونکہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے۔ لہٰذا اس پر لوگ رائے زنی کرتے رہیں گے۔ عدالت کو ایسے معاملے سے احتراز کرنا چاہئے تھا۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اب اس عدالتی فیصلے کے بارے میں رائے زنی ہوگی لہٰذا عدلیہ کو دیہ اختلافی نقط نظر اور تنقید سننی پڑے گی۔
 سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا  تازہ موقف بھی پنجاب کے موقف کے برعکس ہے۔ ان صوبوں کے نمائندوں نے  عدالت کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور متنازع ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کی ہے۔سندھ کے قائم مقام گورنر اور اسپیکر سندھ اسمبلی نثار احمد کھڑو اس ہ کہ  فیصلے کو آمریت کی راہ ہموار کرنے اور ملکی وحدت پر وار کے متراسمجھتے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان  کا کہنا ہے کہ تین صوبوں کی اسمبلیاں اس منصوبے کو مسترد کر چکی ہیں۔ کیا ڈیم قومی وحدت سے زیادہ اہم نہیں؟ بلوچستان کے وزیر آبپاشی اسلم بزنجو کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اگر کشیدگی بڑھی تو ذمہ دار لاہور ہائی کورٹ ہوگی۔  اے این پی کا موقف ہے کہ کالاباغ ڈیم سیاسی معاملہ ہے اور عدالتیں سیاسی معاملات نہ چھیڑیں۔ لاہور ہائی کورٹ سے تین صوبوں کے مسترد کردہ ڈیم کی تعمیر کا حکم صوبوں کے درمیان فاصلے اور بڑھائے گا۔
آئین کی اٹھارویں ترمیم کہاں گئی جس کی پاسداری پنجاب کی ہائی کورٹ نہ کر سکی کہ دوسرے صوبوں کے بارے میں فیصلہ سنادیا۔اب اگر باقی تین صوبوں کی عدالتیں بھی اس ڈیم کے بارے میں فیصلہ دے دیں تو کیا صورتحال بنے گی؟یعنی ہائی کورٹیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ جائیں گی۔ یہ اس لیے بھی ممکن ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے  باقی تینوں صوبوں کا موقف سنا ہی نہیں۔
 سندھ دریائے سندھ  پرواقع آخری صوبہ ہے۔ لہٰذا اس  ڈیم کی تعمیر کے سب سے زیادہ منفی اثرات بھی اسی صوبے پر مرتب ہونگے۔ مگر ایسا فیصلہ دیتے وقت سندھ کو سنا ہی نہیں گیا جو فطری انصاف کے خلاف ہے۔ سندھ کے آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ فیصلہ دیتے وقت ایسا محسوس کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی طرح یہ ڈیم تعمیر کی جائے۔
 1991کے آبی معاہدے کے دو اہم کردار  اس وقت کے سیکریٹری آبپاشی ادریس راجپوت اور وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری امتیاز شیخ کا کہنا ہے کہ پانی کے معاہدے میں کالا باغ ڈیم کا کوئی براہ راست یا بلواسطہ طور پر کئی ذکرنہیں تھا۔  
 لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ میں یہ موقف اختیار کیا کہ 1991ع اور 1998ع میں مشترکہ مفادات کی کونسل کالاباغ ڈیم کی منظوری دی تھی۔ ملک میں موجود پانی کے تنازع سے واقف ماہرین کو تعجب ہوا کہ فیصلے کی  بنیاد جن دو اجلاسوں   کے فیصلوں پر کیا گیا ہے وہ فیصلے در حقیقت بہت مختلف ہیں۔اگر واقعی  1991  اور 1998 میں مشترکہ مفادات کی کونسل میں تجویز پیش کی گئی تھی اور اس کی منظوری بھی دی گئی تھی تو پھر ان اجلاسوں کے منٹس عدالت میں کیوں پیش نہیں کئے؟  ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ 1991 میں پانی کے معاہدے کے بعد مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ جس کی صدارت اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے کی تھی۔ اس اجلاس میں 10 ڈیلیز کے معاملے پر پنجاب نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ٹین ڈیلیز کو نئے ذخائر کیساتھ نتھی کیا جائے۔سندھ کے نمائندوں کا اس اجلاس میں یہ موقف رہا  جو منٹس کا حصہ ہے۔ وہ کچھ اس طرح سے تھا: ”حکومت سندھ سمجھتی ہے کہ سسٹم وائیز بنیادوں پر 10 ڈیلیز تحت اوسط پانی کی فراہمی کے ا عداد و شمار کا اندرونی حصہ ہیں۔ یہ مناسب نہیں ہوگا کہ دیگر اشوز مثلا مستقبل کے ذخائر وغیرہ کو معاہدے کی اس شق کے ساتھ مشروط کیا جائے۔ اس ضمن میں شفافیت کو برقرار رکھا جائے۔ سندھ اور پنجاب کا موقف سننے کے بعد  مشترکہ مفادت کی کونسل نے پنجاب کا موقف مسترد کردیاتھا۔ اور فیصلہ دیا تھا کہ”مشترکہ مفادات کی کونسل 10 ڈیلیز  کی منظوری دیتی ہے مگر اس میں سے سیلاب کے پانی اور مستقبل کے ذخائر کو خارج کردیا۔ان چار الفاظ  میں دیئے گئے منٹس کو  یہ معنی پہنائی گئیں کہ کونسل نے کالاباغ ڈیم منصوبے کی منظوری دی ہے۔
 لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے  کہاہے کہ 1998ع میں مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس نے بھی کالاباغ ڈیم کی حمایت کی تھی۔اگر ایسا ہے تو یہ دستاویزات ظاہر کیوں نہیں کئے جاتے؟  چیف جسٹس نے خاص طور پر پٹیشنر کی اس دلیل کا  کا حوالہ دیا ہے کالاباغ ڈیم کی تعمیر  کے حوالے سے آئین کی شق نمبر 14 اور 9  کومد نظر رکھا جائے۔ آئین کی شق  نمبر9  میں کہا گیا ہے کہ”کسی شخص کو زندگی یا آزادی  سے محروم نہیں کیا جا سکتا سوائے جبکہ قانون اس کی اجازت دے۔“اس شق میں ایسی کوئی بات نہیں جس سے کالاباغ ڈیم کی تعمیرکی توضیح نکالی جاسکے۔
آئین کی شق نمبر 14 میں کہا گیا ہے کہ”کسی بھی شخص کے وقار اور قانون  مطابق گھر کے پردے کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی۔ اور یہ کہ گواہی لینے کے لیے کسی بھی شخص پر تشدد نہیں کیا جا سکتا۔“ قانون کی یہ شقیں پڑھنے کے بعد ہر ذی شعور انسان  حیران ہوگا کہ ان شقوں کا  کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے کیا تعلق؟ 
اس ے برعکس آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کی شق 155 کے تحت  خاص  طور پر اس کے ذیلی دفعہ 6  کے تحت عدالتیں پانی سے متعلق معاملات کی سماعت نہیں کر سکتیں۔دفعہ میں واضح ہے کہ”کسی ایسے معاملے کے بارے میں جو کونسل کے سامنے زیر بحث ہویا رہا ہو، معاملے کے کسی فرقی کی تحریک پر، یا کسی ایسے معاملے کے باے میں جو اس شق کے تحت کونسل کے سامنے شکایت کا مناسب موضوع  فی الواقع ہو، یا رہا ہو یا  ہو سکتا ہو یاہونا چاہئے، کسی بھی شخص کی تحریک پر کسی عدالت کے سامنے کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔“ آئین کی اس شق کے تحت لاہور ہائی کورٹ کالاباغ سے متعلق مقدمہ کی سماعت کی مجاز ہی نہیں۔لیکن اس کے باوجودعدالت نے مقدمہ سنا اور ڈیم کے حق میں بھی فیصلہ دیا۔
 سندھ اور پختونخواہ تین تین مرتبہ اور بلوچستان اسمبلی دو مرتبہ کالا باغ ڈیم کے خلاف قردادیں منظور کیں۔ دو مرتبہ نواز شریف حکومت میں آئے اور  بعد میں جنرل مشرف بھی  بارہ سال تک حکومت کرتے رہے مگر وہ کالاباغ ڈیم نہ بنا سکے۔یہ منصوبہ اب سیاسی بن چکا ہے۔ جس کی تعمیر کسی بھی طور پر نظر نہیں آتی تاہم مختلف سیاسی جماعتیں اور حلقے اس کے ذریعے پوائنٹ اسکور رکر سکتے ہیں۔اس فیصلے سے پنجاب میں پیپلز پارٹی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم  لاہور ہائی کورٹ نے سندھ میں ایک لحاظ سے پیپلز پارٹی کی ضمانت کرادی ہے، کیونکہ اس صوبے میں پیپلز پارٹی کو بلدیاتی نظام کے حوالے سے سخت مخالفت کا سامنا تھا۔اور وہ مخا لفین اور قوم پرستوں کی توبوں کی زد میں تھی۔
کیا اس معاملے کو پنجاب کی ہائی کورٹ کو اٹھانا چاہئے تھا اور ایک ایسا فیصلہ دے دینا چاہئے تھا جس سے دوسرے صوبے بھی متاثر ہوں۔ اس فیصلے  کے بارے میں یہ بھی کہا جائے گا کہ وفاقی حکومت نے کوئی مددل کیس نہیں بنایا۔ بہرحال ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاق اپیل میں جائے۔

Monday, 9 March 2020

کالا باغ ڈیم کارڈ- Oct 29, 2012

Mon, Oct 29, 2012, 10:41 AM
کالا باغ ڈیم کارڈ
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
 اصغر خان کیس میں مسلم لیگ (ن) اور مذہبی جماعتوں کو سخت جھٹکا لگا۔ نواز لیگ ہاتھ پاؤں تو مار رہی ہے مگر  اس جھٹکے سے نکلنے کے لیے میاں صاحب کو کچھ وقت لگے گا۔ لاہور ہائی کورٹ کے کالا باغ ڈیم کے حق میں حالیہ ریمارکس نے ان کی کچھ مشکل آسان کردی ہے۔اب آئندہ انتخابات کے لیے نواز لیگ کو پنجاب میں ایک نیا موضوع دے دیا ہے۔جس کو اٹھا کر اپنی حریف جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ اچھا خاصا کھیل سکتی ہے۔اس سے قبل پیپلز پارٹی نے سرائیکی صوبے کے معاملے پر نواز شریف کے لیے مشکل صورتحال پیدا کردی تھی۔ پیپلز پارٹی نے سرائیکی کارڈ کے ساتھ پنجاب میں انتخابات لڑنا چاہتی ہے۔اس کے توڑ کے طور پر اب کالاباغ ڈیم کا کارڈ نواز لیگ کے پاس ہے۔
ایک مختصر مدت کے بعد ایک بار پھر کالاباغ ڈیم کی بلی تھیلی سے باہر آگئی ہے۔کالا باغ ڈیم پر پنجاب کی اشرافیہ کا جو موقف رہا ہے وہ ملک کے باقی تینوں صوبوں کے موقف سے متصادم ہے۔سندھ اور پختونخواہ اس کو اپنی زندگی اور موت کا سوال سمجھتے ہیں۔سندھ کو اس بات پر تعجب ہے کہ کوئی بھی اہل دانش واہل نظر جرئت کرکے یہ نہیں کہتا کہ یہ غلط ہو رہا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ سندھ اور خیبر پختوخوا نے کالا باغ ڈیم کو سیاسی اشو بنایا ہے۔ہائی کورٹ نے نواز شریف سے نہیں پوچھا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں کروڑوں روپے کی اشتہارات چلائے مگر اب وہ خود یہ کہہ رہے ہیں کہ کالا باغ ڈیم نہیں بننا چاہئے۔اس کے بعد جنرل مشرف نے بھی  اس کے لیے مہم چلائی لیکن بعد میں انہیں بھی اس منصوبے سے ہاتھ اٹھانے پڑے۔
کالاباغ ڈیم کے حق میں فیصلہ آنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک بار پھر اس نکتے پرپنجاب میں سیاست ہونے لگے گی۔نواز لیگ یہ مطالبہ کرے گی کہ عدالت کے فیصلے کی روشنی میں اس ڈیم کے لیے کمیشن قائم کیا جائے۔سندھ اور خیبر پختونخوا شروع سے ہی اس ڈیم کے مخالف رہے ہیں وہ اس مرتبہ بھی مخالفت کریں گے۔اے این پی کے سنیٹر افراسیاب خٹک نے خبردار کیا ہے کہ کالاباغ ڈیم کوئی ّئینی یا قانونی مسئلہ نہیں کہ عدالت اس پر رائے دے یا فیصلہ دے۔ یہ خلاصتا فنی اور سیاسی معاملہ ہے، جس پر عدالت کو اپنی رائے دینے سے احتراز کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس اندیشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر پنجاب لاہور ہائی کورٹ سے فیصلہ لے سکتا ہے تو سندھ اور پختونخواہ بھی اپنی ہائی کورٹوں سے ایسا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ نتیجے میں ہائی کورٹس ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہو جائیں گی۔صوبوں کے درمیان اکتلافات اور تضادات  حل کرنے کا آئینی فورم مشرتکہ مفادات کی کونسل ہے، اس فورم کو پھلانگ کرعدالتی راستہ اختیار کرنا آئین کی متعلقہ شق کو عضوومعطل  قرار دینے کے مترادف ہے۔
عدالت کو یہ بتانا کہ اگر کالاباغ ڈیم ہوتا تو سندھ اور پنجاب میں سیلاب نہیں آتا، فنی طور پر غیر منطقی دلیل ہے۔اس دلیل کی بنیاد پر فیصلہ بھی عجیب ہوگا۔کالاباغ ڈیم کوئی فلڈ کینال نہیں ہے جس میں صرف سیلاب کے دنوں میں پانی ڈالا جائے گا۔یہ ایک مستقل اور بڑا ڈیم ہے جس کو ریگیولر بنیادوں پر پانی چاہئے۔ مشرف دور میں  اے این جی عباسی کی سربراہی میں قائم کردہ کمیشن بھی اس ڈیم کو مسترد کر چکی ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کے لیے جتنا پانی چاہئے  اتنا پانی دریائے سندھ میں موجود ہی نہیں ہے۔ سندھ میں ویسے ہی پانی کی زبردست کمی ہے۔خریف اور ربیع کے دونوں موسم میں سندھ کو حصے سے کم پانی ملتا ہے۔قلت کے باعث ڈاؤن اسٹریم کوٹری پانی نہ چھوڑنے باعث بڑی تباہی آئی ہے۔ لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین سمندر نگل گیا ہے۔لہٰذا کالا باغ ڈیم کی مخالفت صرف سیاسی ہی نہیں بلکہ فنی بنیادوں پر بھی ہے۔تمام حکومتیں کالاباغ ڈیم کو مردہ گھوڑا قرار دے چکی ہیں۔اب اس مردہ گھوڑے کی قبر کھود کر نیا پینڈورا باکس کھولا جا رہا ہے۔
سندھ میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اصغرخان کیس میں نوز شریف کو جو شکست ملی تھی اس کا حساب لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برابر کر دے گا۔
 اس آبی منصوبے کو سیاسی  پنجاب بنا رہا ہے۔جس کو بعض سیاسی جماعتیں سرائیکی صوبے کے لیے بلیک میلنگ اورپیپلز پارٹی کو ایکسپوز کرنے کے لیے استعمال کریں گی۔پیپلز پارٹی کی کالاباغ ڈیم کی مخالفت کے باوجود پنجاب میں پارٹی کے اندر ایک عنصر موجود ہے جو ڈیم کا حامی ہے۔ اسی طرح سے سرائیکی بیلٹ میں بھی کچھ لوگ اس ڈیم کے حامی ہیں۔اس کے مقابلے میں سندھ مکمل طور پر اس ڈیم کا مخالف ہے۔قوم پرستوں کے ساتھ ساتھ چاہے وفاق پرست جماعتیں ہوں یا  مذہبی جماعتیں سب کی سب اس ڈیم کی مخالف ہیں۔ سندھ کی سیاسی جماعتوں نے نواز شریف کے دور حکومت میں  بینظیر بھٹو کی قیادت میں سندھ پنجاب سرحد پر کموں شہید کے مقام پر اور پختونخواہ کے عوام نے ولی خان کی قیادت میں اٹک کے پل پر تاریخی دھرنے دیئے تھے، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔
کالاباغ ڈیم کو قومی مفاد قرار دیا جا  رہا ہے۔ کیا سندھ، بلوچستان اور خیبرپخونخواہ کے مفادت قومی مفادات نہیں؟ اگر نہیں تو کس قوم کے مفادات کو قومی قرار دیا جا رہاے ہے؟ ملک کی چار میں سے تین اسمبلیاں ایک سے زائد مرتبہ مسترد کر چکی ہیں۔مگر اس کے باوجود اس ڈیم کے حامی اس کو قومی مفادات کی مطابق قرار دے رہے ہیں۔سندھ کو 1991 کے پانی کے معاہدے پر بھی تحفظات ہیں مگر اس پر بھی پورے طور پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔پنجاب سے  چھوٹے صوبوں کو ویسے ہی بہت شکایات ہیں۔اس تناظر میں  عدلیہ کو سوچنا چاہئے کہ ایک اور ناخوشگوار بات پنجاب کے کھاتے میں کیوں ڈالی جائے۔
اگر لاہور ہائی کورٹ فیصلہ دے بھی دیتی ہے تو بھی یہ ڈیم نہیں بن پائے گا۔عدالت خوامخواہ خود کو ایک سیاسی اشو میں  الجھایا جارہا ہے۔ملک میں ویسے ہی بہت سارے اشوز ہیں ایک اور  اشو کھڑا ہوگا جس کا بظاہر عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہونا ہے۔ فیصلہ کے بعد تو نواز لیگ یہی کہے گی کہ صرف اصغرخان کیس کے فیصلے پر عمل کیوں، لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا۔
جب انتخابات قریب آتے ہیں تو سیاسی جماعتیں نئے نئے اشوز زیر بحث لاتی ہیں اور انتخابات میں اپنے پوائنٹ اسکورکرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
کالاباغ کی بحث چھڑنے سے پیپلز پارٹی کو سندھ میں ایک نیا گراؤنڈ ملے گا، جس کو ابھی بلدیاتی نظام کے معاملے پر سخت مخالفت کا سامنا کرنا  پڑا تھا۔ مگر پنجاب میں اسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس پر دباؤ ہوگا کہ وہ سرائکی صوبے کے نعرے سے ہاتھ اٹھائے۔
اسے اتفاق کہئے یا کچھ اور گزشتہ دو تین سال میں سیاست عدلیہ کے گرد ہی گھومتی رہی ہے۔ کیا لاہور کی  عدلیہ بھی آئندہ انتخابات کے لیے ایک نیا موضوع دینے جارہی ہے۔اصغرکان کیس، شہید بے نظیر بھٹو کیس، میمو گیٹ اسکینڈل،  سرائیکی صوبہ، سندھ کا بلدیاتی نظام، سندھ میں امن امان کا مسئلہ، بلوچستان کی صورتحال، صدر کے دو عہدے رکھنے کا معاملہ وغیرہ وغیرہ۔یہ سب وہ اشوز ہیں جو آئندہ انتخابات میں سیاسی نعرے ہونگے۔شایدآئندہ تین ماہ کے دوران چند مزید فیصلے آئیں۔ این آر او کیس ابھی زندہ ہے۔لگتا ہے کہ اس مرتبہ انتخاباب سے پہلے تمام گائیڈ لائن بھی عدلیہ ہی دے گی۔
اس تمام پس منظر میں کالا باغ ڈیم کا اشو سامنے آیا ہے۔ عدلیہ کے ذریعے ایک  بند کتاب دوبارہ کھولی گئی ہے۔جس کا پنجاب میں سب سے زیادہ اثر ہوگا۔کالاباغ ڈیم  توکبھی بھی نہیں بننا ہے مگر اس پر سیاست ہوتی رہے گی۔