Showing posts with label PPP-Sindh. Show all posts
Showing posts with label PPP-Sindh. Show all posts

Tuesday, 10 March 2020

اور جب پی پی اپوزیشن میں ہے - Jun 13, 2013

Thu, Jun 13, 2013 at 10:58 AM
پی پی بطور اپوزیشن  اور سندھ
اور جب پی پی اپوزیشن میں ہے
میرے دل میرے مسافر     سہیل سانگی  
پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت  میں عدم موجودگی نے سندھ  کے لیے سہولت پیدا کردی ہے کہ پنجاب اور وفاق سے متعلق  متنازع معاملات زیادہ شدومد سے اٹھائے۔یہ صورتحال پہلی مرتبہ بنی ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبے میں تو حکومت ہے مگر وفاق میں نہیں۔ اور نوز لیگ کو بھی اس طرح کی صورتحال کا پہلی مرتبہ سامنا ہے۔ ورنہ ماضی میں جب نواز لیگ نے وفاق میں حکومت  بنائی تھی تو سندھ میں بھی توڑ پھوڑ کرکے اپنی پسند کی حکومت بنا لی تھی۔ 
 وفاق میں اپنی حکومت کی وجہ سے پیپلز پارٹی سندھ کے معاملات پر خاصی مصلحت پسندی اور مفاہمت کا مظاہرہ کرتی رہی، کیونکہ اس کو بہرحال ملک بھر میں حکومتی معاملات چلانے تھے۔ اب تبدیل شدہ صورتحال میں پارٹی نے نئی حکمت عملی بنائی ہے۔ سندھ اسمبلی کا افتتاحی اجلاس نئی حکمت عملی کا ماحول بنانے کی گواہی دیتا ہے۔ 
سندھ اسمبلی کے افتتاحی اجلاس ہوا تو تین ماہ قبل والی حکومت اسی ایوان میں موجود تھی۔ اکثر ممبران اور وزراء بھی وہی تھے۔ اجلاس میں سندھ کے وسائل مثلا بجلی، گیس اور پانی سے متعلق بحث کی گئی۔اس حوالے سے سندھ کو ہمیشہ شکایت رہی ہے کہ اس کو جائز حصہ نہیں ملتا۔چشمہ جہلم اور تونسہ لنک کینال جب سے تعمیر ہوئے ہیں متنازع رہے ہیں۔ پنجاب کے یہ دونوں کینالوں میں صرف سیلاب کے دنوں میں پانی چھوڑنا ہے اور وہ بھی سندھ کی منظوری سے مشروط ہے۔ عملا اس کے برعکس ہوتا رہا ہے۔ چاہے پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا جنرل ضیا کی اور پرویز مشرف کی یا نواز شریف کی یہ دونوں کینال معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چلتے رہے ہیں۔ ان کینالوں کو سیلاب کے دس روز کے دوران پانی چھوڑنے کی بات کتابوں میں موجود ہے۔ مگر 1971ع میں چشمہ جہلم لنک کینال تعمیر ہونے کے بعد کبھی بھی ایسا نہیں ہواہے۔ 2010ع میں پنجاب نے یہ متنازع کینال کھولا تو اسوقت بھی وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ تھے جنہوں نے اس عمل کو افسوسناک قرار دیا تھا۔ پنجاب کے سینئر وزیر راجا ریاض نے فرمایاتھا کہ فی الوقت پنجاب کو پانی کی ضرورت ہے۔ سندھ کو بعد میں اتنا پانی دے کر حساب برابر کیا جائے گا۔ 40کلومیٹر لمبے اس کینال میں ایک سیکنڈ میں 21700کیوسک پانی اٹھانے کی گنجائش ہے۔ 
افتتاحی اجلاس میں ایوان نے قرارداد منظور کر کے چشمہ جہلم لنک کینال سمیت سیلابی کینالوں میں پانی چھوڑنے تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ایوان کو بتایا گیا کہ سندھ میں پانی موجود نہیں ہے۔ کاشتکاروں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت نے ارسا کے پاس احتجاج ریکارڈ کرایا گیاہے۔
ایوان میں موجود مرکزی حکومت کے اتحادیوں سے اپیل کی گئی کہ سندھ میں پانی کی قلت ہے لہٰذاوہ لنک کینال بند کرانے میں مدد دیں۔ 
ایوان میں موجود فنکشنل لیگ کے ممبران کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور حکومت پیپلز پارٹی کا تھا۔ تب یہ کینال بند کیوں نہیں کرایا گیا؟جبکہ نواز لیگ کے اسمبلی ممبر حاجی شفیع محمد جاموٹ نے بھی  ممبران کے اصرار پر قرارداد کی حمایت کی۔
سندھ میں پانی کی قلت  ہے جس کے خلاف مختلف علاقوں میں کاشتکار مظاہرے اور احتجاج کر رہے ہیں۔ اس صورتحال پر قوم پرست کیوں خاموش ہیں۔وہ ابھی تک انتخابات  کے زخم چاٹ رہے ہیں۔
ملک میں سب سے زیادہ سندھ میں موجود توانائی کے وسائل یعنی گیس، تیل اور کوئلہ استعمال ہورہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 
 سندھ 70فیصد گیس فراہم کرتا ہے مگر اسکو 22 فیصد ملتا ہے۔ایوان میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے یہ معاملہ بھی اٹھایا۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ صوبے قدرتی وسائل کامعاملہ اسمبلی میں اٹھایاگیا ہے۔اس سے پہلے پانی سے متعلق بحث اور قراردادیں مظور کی جاتی رہی ہیں۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعدگیس کی پیداوار، اس کا استعمال  متعلقہ صوبے کے استعمال کے بعد دوسرے صوبوں کو دینے کی بات کی گئی ہے۔ بجلی جو اس سے پہلے کنکتنٹ لسٹ میں شامل تھی اس کو فیڈرل لسٹ نمبر 2میں رکھا گیا ہے۔ یعنی اس سے متعلق تمام فیصلے وفاقی کابینہ کے بجائے مشترکہ مفادات کی کونسل کرے گی۔ 
ایوان نے کراچی کو بجلی کی رسد چھ سو میگاواٹ کم رنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اور سنیٹ کی کمیٹی کے اس فیصلے کوقانون اور آئین کے منافی قرار دیا گیا۔  
پانی کی منصفانہ تقسیم اور اور قدرتی وسائل پرحق ملکیت کا معاملہ سندھ  میں مقبول مطالبات رہے ہیں۔سندھ کے قوم پرست اور دیگر سیاسی حلقے وقت بوقت یہ اشوز اٹھاتے رہے ہیں۔ خود وفاق کی سیاست کرنے والی جماعتیں بشمول نواز لیگ، جے یو آئی، جماعت اسلامی بھی ان مطالبات کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ اب یہ سب جماعتیں خاموش ہیں۔اور پیپلز پارٹی یہ مطالبات اٹھارہی ہے۔ اس کا سیاسی فائدہ پیپلز پارٹی اٹھارہی ہے۔ 
وفاقی حکومت میں سندھ کی کم نمائندگی  اور ترقیاتی منصوبوں میں سندھ کو نظرانداز کرنے کی بھی شکایات آنے لگی ہیں۔ وہ حلقے جو پیپلز پارٹی کی مخالفت کر رہے تھے، وہ یا تو مصلتحتا خاموش ہیں یا دبے لفظوں میں اپنی غلطی کو تسلیم کر رہے ہیں۔سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سید جلال محمود شاہ جنہوں نے نواز لیگ سے باقاعدہ تحریری معاہدہ کیا تھا وہ  اب نواز لیگ پر تنقید کر رہے ہیں۔
 یہ صحیح ہے کہ پیپلز پارٹی کا یہ موقف اس کی سندھ میں ساکھ بہتر بنانے میں مدد دے گا، لیکن یہ سب سیاسی معاملہ ہے۔ اصل معاملہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور گورننس کو عوام کی خواہشات کے مطابق بنانا ہے۔ اس پر صوبائی حکومت کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 
جس طرح کا موقف سندھ اسمبلی کے ایوان میں کیا گیا ہے یہ ایک زمانے سے سندھ کا مطالبہ رہا ہے۔ قررداد منظور کرنے کے بعدلوگوں میں پیپلز پارٹی کے لیے جگہ پیدا ہورہی ہے۔یوں سندھ میں سیاسی ماحولتبدیل ہورہا ہے۔ 
 اس موقعہ پر یہ بھی سوال اٹھایاجارہا ہے کہ سندھ کے نمانئدوں کا یہ موقف موسمی تو نہیں؟ نقادوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت گزشتہ پانچ سال کے دوران یہ حقوق حاصل نہیں کرسکی تھی۔کیا اب وہ واقعی سنجیدہ ہے؟اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ سندھ کے ان مطالبات پر جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ مشترکہ مفادات کی کونسل اور دیگر وفاقی فورموں میں پیش کئے جائیں۔ 

بہت دیر کے مہمان آتے آتے - May 28, 2012

Mon, May 28, 2012 at 11:56 AM
بہت دیر کے مہمان آتے آتے
میرے دل میرے مسافر  کالم سہیل سانگی 
 بالآخر پیپلز پارٹی کو احساس ہو ہی گیا کہ اسکے ووٹر  پارٹی کی پالیسی سے خوش نہیں۔ جس طرح سے حکومت میں رہتے ہوئے پارٹی اور قیادت معاملات کو دیکھ رہی ہے اور کر رہی ہے، وہ ا سکے حلقہ انتخا ب  کے خواہشات اور امنگوں کے مطابق نہیں۔ اس بات کا احساس اچانک اوراتنی شدت سے  ہوا کہ  وفاقی کابینہ کینے خصوسی کمیٹی تشکیل دے دی۔ پاکستان میں عوام کو کمیٹیوں اور کمیشنوں کی تشکیل، ان کی کارکردگی کا ماضی میں تلخ تجربہ رہا ہے۔ عموما یہی کہا جاتا رہا ہے کہ اگر کسی مسئلے کو حل نہ کرنا ہو یا کھٹائی میں ڈالنا ہو تو کمیٹی یا کمیشن بنادو۔لہذا کمیٹی سیاست میں ڈسٹ بن کا کام دیتی ہے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء  مخدوم امین فہیم، خورشید شاہ،  نوید قمر اور مولابخش چاندیو پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے سندھ پہنچ کرکے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔کمیٹی مہاجرصوبے کے حوالے سے مختلف سرگرمیوں اور اس کے میں سندھ کی وحدت  کے لیے نکالی گئی ریلی پر فائرنگ کے واقعات  کی تحقیقات کرے گی۔کمیٹی کے اراکین نے حیدرآباد سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت میں آنے کے بعد  قوم پرستوں سے بات چیت کرے گی۔اس سے قبل اپوزیشن میں رہتے ہوئے پی پی کالاباغ ڈیم، گریٹر تھل کینال کی تعمیر وغیرہ کے اشوز پر قوم پرستوں کے ساتھ اتحاد میں رہی ہے۔ لہٰذا قوم پرست اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے جانے پہچانے اور بعض معاملات میں اتحادی بھی رہے ہیں۔
 کئی مرتبہ یہ سولات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی دنیا جہان  کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی پر چل رہی ہے۔ ان کے ساتھ بات چیت بھی ہو رہی ہے، مطالبات سنے بھی جا رہے ہیں اور تسلیم بھی کئے جا رہے ہیں مگر یہ مفاہمت سندھ اور بلوچستان میں نظر نہیں آتی۔ بلوچستان کے لیڈروں کو تو پھر بھیسچے یا جھوٹے منہ دو تین مرتبہ مذاکرات کی پیشکش کی گئی۔سند ھ جس کو پیپلز پارٹی کا گھر سمجھا جاتا ہے وہاں کے قوم پرستوں سے کبھی بھی بات کا عندیہ بھی نہیں دیا گیا۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ان کی اہمیت کو سمجھا اور مانا ہے۔ حالانکہ اس عمل میں خاصی دیر ہو چکی ہے۔ درجنوں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں،۔چلو دیر آید درست آید۔
باتت چیت کا سلسلہ اس لیے بھی شروع کیا گیا کہ نواز شریف نے سندھ میں جارحانہ انداز میں کام کرنا شروع کردیا ہے۔ چند ماہ قبل تک پیپلز پارٹی کے گڑھ اس صوبے میں نواز شریف کی پارٹی کا تنظیمی سطح پر کوئی باقاعدہ وجود نہیں تھا۔اور نواز شریف کو اپنے جلسے کرنے کے لیے  پنجاب سے رہنما لا کر بندوبست کرنا پڑ رہا تھا۔اس کے علاوہ حالیہ چند ہفتوں میں رونما ہونے والے واقعات نے بھی خاصا اہم کردار ادا کیا۔ جیئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر خان قریشی کی پراسرار حالات میں موت اور ان کے جسم کے اجزاء کی میڈیکل رپورٹ نے کئے سوالات پیدا کردیئے۔جس کو تاحال حکومت واضح نہیں کر سکی ہے۔اس کے بعد کراچی میں سندھ کو تقسیم کرنے اور مہاجر صوبہ بنانے کے لیے مظاہرے ہوئے، وال چاکنگ کی گئی۔پوسٹر لگائے گئے۔ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ پیپلز پارٹی کے گڑھ لیاری میں آپریشن کیا گیا۔ لیاری جو پیپلز پارٹی کا ذاتی حلقہ مجھا جاتا رہا ہے وہاں سے پیپلز پارٹی کے خلاف نعرے لگے۔لوگوں نے احتجاج کیا۔ 22 مئی کو کراچی میں لیاری سے سندھ کی وحدت کے خلاف اٹھنے والے نعروں اور امکانی تحریک کے خلاف  لیاری کے قدیمی باشندوں، کچھی برادری اور سندھی آبادی نے عوامی تحریک اور بعض دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر جلوس نکالا جس پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 12 افراد ہلاک ہو گئے اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے۔ اسی دن  سندھ کے ایک قوم پرست گروپ جیئے سندھ متحدہ محاذ کے جنرل سیکریٹری  مظفر بھٹو کی لاش ملی۔ جنہیں کوئی ایک سال قبل ایجنسیوں نے گرفتار کیا تھا۔ اور ان کی پارٹی اور لواحقین ان کی پراسرار گمشدگی پر احتجاج کر رہے تھے۔اور مطالبہ کر رہے تھے کہ انکو رہا کیا جائے اور اگر الزامات ہیں تو گرفتاری ظاہر کی جائے۔اور بتایا جائے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ اگرچہ سندھ سے سیاسی کارکنوں کی پراسرار گمشدگی گذشتہ دو تین سال سے جاری ہے۔ اور مختلف وقتوں میں ایک سو ے زائد کارکنان اس عمل سے گزر چکے ہیں۔ مگر اس طرح سے گرفاری کے بعد لاش ملنا سندھ میں پہلا واقعہ تھا۔
ماروی میمن کی شمولیت کے بعد مسلم لیگ (ن) کو  ایک سرگرم، موبائل لیڈر مل گیا ہے۔ یہ صورتحال اس سے پہلے کبھی بھی اس پارٹی کے ساتھ نہیں تھی۔ نواز شریف نے ممتاز بھٹو، رسول بخش پلیجو، ڈاکٹر قادر مگسی، جلال محمود شاہ سے ملاقاتیں اور رابطے کئے اور بعد میں فالو اپ کے طور پر ماروی میمن ان رہنماؤں سے رابطے میں ہے۔ ان رابطوں نے پیپلز پارٹی کو مجبور کردیا کہ وہ اپنے لوگوں سے رجوع کرے۔
 پہلے مرحلے میں کمیٹی کے اراکین نے سندھ کے بعض دانشوروں سے مالاقات کی۔ ان دانشوروں میں سے زیادہ کا تعلق این جی او سیکٹر سے ہے۔ نہیں معلوم کہ کس طرح سے ان لوگوں کو دانشور بنا کر حکومتی ٹیم کے سامنے پیش کیا گیا۔اور یہ خود ایک سوال ہے کہ این جی اوز کا بھی کوئی سیاسی رول بنتا ہے؟ یا حکومت اس یکٹر کو یہ رول دینا چاہ رہی ہے جو کہ ا س سیکٹر کا مینڈیٹ نہیں۔
 کابینہ کی کمیٹی  کے اراکین کے مطابق صرف قوم پرستوں سے ہی نہیں ملے گی بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملے گی۔تعجب کی بات ہے کہ کمیٹی کا ابھی تک نہ ٹرم آف ریفرنس آیا ہے اور نہ ہی  یہ طے ہوا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کون کون ہو سکتے ہیں۔کمیٹی کے ممبران کے مطابق ایم کیو ایم سمیت دیگر پارٹیوں سے بھی ملاقاتیں کی جائینگی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کمیٹی اس نام نہاد مہاجر صوبہ تحریک کے نمائندوں سے بھی ملاقات کرے گی۔کیونکہ مہاجر صوبے کے اشو پر ایم کیو ایم نے بلاواسطہ یہ بھی کہا ہے کہ لوگوں کی شکایات ہیں انکو سنا جائے۔اگر ایسا کیا گیا تو کمیٹی جن مقاصد کے لیے بنی ہے وہ حاصل نہیں ہو سکیں گے بلکہ پیپلز پارٹی جو سیاسی فائدہ اس کمیٹی کے ذریعے لینا چاہ رہی ہے وہ بھی نہیں لے پائیگی۔
بعض قوم پرست  جماعتیں کمیٹی کے ممبران سے  ملاقات کو اس بات سے مشروط کر رہی ہیں کہ پہلے پیپلز پارٹی یا حکومت بعض اقدامات اٹھائے اور مذاکرات کا ماحول بنائے۔سندھ کے دانشوروں نے  وفاقی کابینہ کی کمیٹی کے سامنے جو مطالبات رکھے ہیں ان میں بالواسطہ  طور پر  پرانے بلدیاتی نظام کی بحالی، گورنر سندھ کی برطرفی اورحیدرآباد ضلع کی  پرانی شکل میں بحالی کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ جن میں سے گورنر ندھ کو ہٹانا اور  حیدرآباد ضلع کی بحالی ایسے مطالبات ہیں جن کو چھیڑنے کا مطلب ایم کیو ایم  اور پیپلز پارٹی کے اتحاد میں دراڑیں ڈالنا ہے۔ 
ایسا لگتا ہے کہ کمیٹی کا کام سیاسی ماحول پیدا کرنا اورسندھ میں پیپلز پارٹی جس مشکل میں پھنسی ہے اس سے نکالنا ہے نہ کہ سندھ کے حقیقی اشوز اور شکایات کو دور کرنا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کمیٹی مزید مذاکرات میں جانے سے پہلے اپنا ٹرم آف ریفرنس بناتی ہے اور یہ طے کرتی ہے کہ کون کون سے اسٹیک ہولڈرز ہیں اور کن کن ے ملنا ہے۔ اس طے کئے بغیر کمیٹی کی پوری کوشش  ایک سیاسی مشق سے زیادہ نہیں ہو گی۔