Thu, Mar 8, 2012, 11:51 AM
بھگت سنگھ
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
”اس باپو کے پاس ہے کیا؟
ایک جھوٹا دھونگ اہنسا کا،
جو نجات نہ دلا سکے گاکسی کو بھی“
یہ تحریک آزادی کے ایک ہیرو بھگت سنگھ کا مکالمہ ہے جو انہوں نے گاندھی جی کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے بحث کے دوران کہا تھا۔ جس کو شیخ ایاز نے اسرنو تخلیق کیا ہے۔ برصغیر کی تحریک آزادی میں ایک مرحلہ یہ بھی آیا تھاجب نوجوان قیادت اور سیاستدانوں کی راہیں الگ الگ تھیں۔نوجوانوں کی نمائندگی بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی کر رہے تھے۔ بھگت سنگھ کا مطالبہ انگریزوں سے مکمل آزادی تھا۔ جبکہ اس وقت گاندھی اور نہرو جزوی آزادی کی بات کر رہے تھے۔جب بھگت سنگھ کو ٹربیونل نے پھانسی کی سزا سنائی تو پورے برصغیر سے یہ آواز اٹھی تھی کہ گاندھی جی وائسرائے سے ملاقات میں بھگت سنگھ کی سزا ختم کرنے کا مطالبہ کریں۔مگر گاندھی جی نے ایسا نہیں کیا۔اور بھگت سنگھ اور انکے ساتھیوں کو پھانسی دے دی گئی۔انہی دنوں میں گاندھی جب دورے پر سندھ آئے تو کراچی میں ان کا استقبال کالے جھنڈوں سے کیا گیا۔
موسم بہارکی ایک شام کو حیدرآباد کی سندھی آبادی والے علاقے قاسم آباد میں واقع سندھ میوزیم کی ممتاز مرزا ہال میں بھگت سنگھ پر تحریر کردہ شیخ ایاز کے ڈرامے، ہیر کے سروں میں گائی گئی سندھی شاعری نے سامعین کو جھونے پر مجبورکردیا۔یہ سندھ کے دور جدید کے بڑے شاعرکا تحریر کردہ برصغیر کی تحریک آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ پر لکھا ہوا اوپیرا تھا جو شیخ ایاز کی 89 ہویں سالگرہ پر پیش کیا جا رہا تھا۔بالی ووڈ میں نصف درجن سے زائد فلمیں بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں پر بنی ہیں۔ مگر کوئی بھی فلم شیخ ایاز کے رتبے کے لکھاری نے نہیں لکھی۔یہ اوپیرا ان فلموں کی طرح کو ئی تفریحی ڈرامہ نہیں تھا۔ بلکہ تاریخ کو اس کے صحیح پس منظر میں بیان کرنے اور اسکی تشریح کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اپنی تخیل کی اڑان، فنی و تخلیقی صلاحیتوں، زبردست مشاہدے اور مطالعے کی وجہ سے بلاشبہہ شیخ ایاز تاریخ کو دوبارہ تخلیق کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ شیخ ایاز سندھ کے بہت بڑے شاعر ہیں جن کا رتبہ اور مقبولیت شاہ عبدللطیف بھٹائی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
پنجاب کے ضلع لائلپور (موجودہ فیصل آباد) کی تحصیل جڑانوالا کے گاؤں بنگا سے تعلق رکھنے والے بھگت سنگھ مارکسسٹ اور بہادر تحریک آزادی کے ہیرو تھے جوربرطانوی راج کے خلاف گوریلا یا مسلح جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔اور وہ گاندھی جی کے اہنسا (عدم تشدد) کے مخالف تھے۔بھگت سنگھ کو انکے دو ساتھیوں کے ساتھ مرکزی اسمبلی بلڈنگ میں دھماکے کرنے کے الزام میں پھانسی دی گئی۔
ڈرامہ کا آغاز راوی کے کہانی شروع کرنے سے ہوتا ہے۔ اور اس صورتحال کو بیان کرتا ہے جو برصغیر میں 1922-21 کی عدم تعاون تحریک کے بعد برصغیر میں ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی اور ماسوائے پارلیمان کے کوئی سرگرمی نظر نہیں آرہی تھی۔
منظر ایک تہہ خانے سے شروع ہوتا ہے جو بم بنانے کی فیکٹری ہے۔جھانسی کی رانی، ٹیپو سلطان، ٹانتیا ٹوپی کی تصاویر لگی ہوئی ہیں۔کمرے کے بیچ میں ایک میز رکھی ہے جس پر کچھ بم رکھے ہوئے ہیں۔ اور میز ہی کے گرد بھگت سنگھ، کشوری لال، ڈاکٹر پرساد گیا، چندر شیکھر آزاد، سکھ دیو، اور راج گرو بیٹھے ہیں۔میز پر ایک اخبار پڑا ہے جس میں تحریک آزادی کے ایک اور ہیرو لالا لجپت رائے کے موت کی خبر چھپی ہوئی ہے۔
ان چاروں کامریڈوں کے درمیان بحث شروع ہوتی ہے۔ یہ بحث سیاسی صورتحال، عام لوگوں کے حالات، حکومت کے رویے اور مختلف اقدامات کے بارے میں لوگوں کے رویے کے موضوعات پر مشتمل ہے۔وہ لوگوں کے مائنڈ سیٹ اور سیاست کرنے والوں کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں بحث میں یہ بات بھی آتی ہے کہ لوگ کس طرح سے مذہبی رسومات ادا کر کے اطمینان حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں پر در حقیقت کر نہیں پاتے۔ کیونکہ اصل اطمینان تو اپنی دھرتی اور لوگوں کے لیے کام کرنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ چندر شیکھر کہتے ہیں کہ برٹش راج اور اسکے حواریوں سے نجات حاصل کرنے کا واحد راستہ مسلح جدوجہد میں ہے۔وہ کہتا ہے کہ اہنسا جسکا پرچار گاندھی جی کر رہے ہیں وہ ایک ڈھونگ ہے۔ اور لوگوں کو جدوجہد کے درست راتے سے بھٹکانا ہے۔بھگت سنگھ کہتے ہیں کہ جب تک کوئی شیواجی نہیں آئیں گے صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔
اس جدوجہد کے بغیر مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ بھگت سنگھ اس فلسفے کے مخالف ہیں کہ کسی کو قتل کرنا پاپ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب خودکشی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی ایودھیا کو یاد کر رہا ہے اور رام راج کے خواب دیکھ رہا ہے مگر سامراج کے خلاف جدوجہد کرنے سے کتراتے ہیں۔ مسلمان بھائی ایران اور عربوں کا سوچ کے اطمینان حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ کسی احمد شاہ ابدالی یا کسی افغانی کے انتظار میں ہیں۔آؤ ٹیپو سلطان کی بات کریں اور اتحصال اور استحصالی قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنے کا عہد کریں۔
راج گرو یہ سب بحث سن رہاتھا اٹھتا ہے اور چھ موم بتیاں جلاتا ہے۔چھ کے چھ دوست موم بتیوں پر ہاتھ رکھ کر عہد کرتے ہیں کہ مادرر وطن ک کی آزادی کے کئے جدوجہد کرین گے اور کسی قربانے سے گریز نہیں کریں گے۔ یہاں پر شیخ ایاز کی مشہور نظم جل جل مشعل جل پس منظر میں گونجتی ہے اور ماحول کو خاصا جذباتی با دیتی ہے۔
راوی پان بیان جاری رکھتا ہے۔اور بتاتا ہے کہ مرکزی اسمبلی میں بم دھماکوں کے بعد بھگت سنگھ اور اس کے کامریڈوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔خصوصی ٹربیونل بھگت سنگھ اور اسکے دو ساتھیوں راج گرو اور سکھ دیو کو سزائے موت سنا دیتی ہے۔وہ سنٹرل جیل لاہور کے پھانسی گھاٹ میں بند ہیں اور سزائے موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ دوست آپس میں ایک بارپھر زندگی، جدوجہد پر سوچنے لگتے ہیں اور بحث کرتے ہیں۔سکھدیو کہتے ہیں کہ آج زندگی اس کی خوشیاں، رونقیں، سب کچھ ختم ہو جائے گا۔سوال یہ ہے کہ کیا ہامری جدوجہد رنگ لائے گی یا یہ قربانیاں رائیگاں جائیں گی؟ بھگت سنگھ ان کے قریب آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آزادی کوئی خیرات نہیں جو کوئی آپ کی جھولی میں ڈال جائیگا۔ یہ جدوجہد اور قربانیاں مانگتی ہے۔اگر کوئی آپ کو بھیک میں دیتا ہے تو سمجھیں وہ آپکو مزید غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رہا ہے۔اس بحث میں بھگت سنگھ کے مستقل نعرے انقلاب زندہ باد کا بھرپور عکس بھی ملتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں جلاد، میجسٹریٹ اور جیل کا عملہ پہنچ جاتا ہے۔انہیں پھانسی گھاٹ سے نکالاجاتا ہے۔ایک بار پھر زندگی کی خوشیاں، نامکمل جدوجہد یاد کرتے ہیں۔ مادر وطن کے لئے قربانیاں دیگر خواہشوں اور رونقوں پر حاوی ہو جاتی ہیں۔ تینوں پھانسی کے پھندے کو چومتے ہیں اور پھانسی چڑھ جاتے ہیں۔شاعری اور لاش وصول کرنے کے لئے بھگت سنگھ کے والد اور منگیتر کی آمد آخری منظر کو اور بھی جذباتی بنا دیتی ہے۔ پس منظر میں شیخ ایاز کی مشہور نظم مادر وطن زندہ باد گونجتی ہے۔سیاسی جدوجہد، قربانی، سیاسی اور نظریاتی بحث، بہادری کے موضوع پر اس ڈرامے کو دیکھنے کے لئے زبردست رش تھا۔ سامعین کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ ذولفقار علی بھٹوکی پھانسی سندھ کے لوگ ابھی نہیں بھولے ہیں۔تحریک آزادی کے سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک ہیرو ہیموں کالانی بھی بھگت سنگھ کے پیروکار تھے۔ جہنیں سکھر کے قریب ریلوے کی پٹڑی اکھاڑنے کے الزام مٰن سزائے موت دی گئی۔
پاکستان میں سنجیدہ تھیٹر کی صنف ختم ہو رہی ہے۔ تاہم لاہور اسلام آباد وغیرہ میں اجوکا، دستک اور بعض اور چھوٹے موٹے گروپ زوال پذیر سنجیدتھیٹر کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے۔ مگر سندھ میں بشمول اس کے دارالحکومت کراچی میں شاذ و نازذ ہی ایسے ڈرامے اسٹیج کئے جاتے ہیں۔
شیخ ایاز کے اس ڈرامے کی ایک اور خوصیت یہ تھی کہ اس کی موسیقی مشہور پنجابی لوک گیت ہیر کے سروں پر ترتیب دی گئی تھی۔ایاز کی شاعری اور ہیر کے سروں نے سامعین کو جذباتی کردیا۔ یہ ڈرامہ برصغیر کی تحریک آزادی کے ہیروکی تفصیلی سوانح حیات تو نہیں مگر اس ڈرامہ میں بھگت سنگھ کی جدوجہد بہادری اور
سیاسی نظریات، گاندھی جی سے اختلافات اور مجموعی سیاسی صورتحال کو بہت ہی خوبصورتی سے بیان کیا گیاہے۔
No comments:
Post a Comment