Thursday, 5 March 2020

کوٹا سسٹم کی تکرار 2012-3-5

Mon, Mar 5, 2012, 12:14 PM
کوٹا سسٹم  کی تکرار
کالم ۔ سہیل سانگی 
کراچی میں ایک بار پھر علحدہ صوبے کے پوسٹر لگ گئے ہیں۔یہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کوٹا سسٹم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتا، مگر یہ متعصبانہ رویہ جاری رکھا گیا تو وہ سندھ کی وحدت کے بارے میں بات کرنا چھوڑ دینگے۔ حکومت نے کوٹا سسٹم میں مزید بیس سال توسیع کیلیے سمری وزیر اعظم کو بھیج دی ہے۔ پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ایم کیو ایم کے لیڈر انیس قائمخانی کا کہنا ہے کہ کوٹا سسٹم میں توسیع کا مقصد سندھ کی تقسیم کا آغاز ہوگا۔ کوٹا سسٹم کو کسی صورت میں برداشت نہیں کرینگے اور نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ یوں ایک بار پھراتحادیوں کے بیچ میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور اس کے ساتھ سندھ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے
سندھ میں  بڑے تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں شہری کوٹا 40 فیصد اور دیہی کوٹا60فیصد کے تناسب سے کوٹا سسٹم نافذ ہے۔
 گذشتہ سال سندھ اسمبلی نے  2مارچ میں ہی ایک متفقہ قرارداد منظورکی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمتوں اور ترقیوں میں 40 اور 60 فیصد کے تناسب سے کوٹا سسٹم پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔اس قرارداد کی ایم کیو ایم نے بھی حمایت کی تھی۔ایم کیو ایم کے سینئر لیڈر سردار احمد نے ایوان کو بتایا تھا کہ یہ ایک عمومی  اصول ہے جس پر عمل درآمد کیا جانا چاہئے۔
 ایک سندھی دانشور صغیر احمد شیخ کا کہنا ہے کہ امن، انصاف اور ترقی تب ممکن ہے جن معاشرے کے مختلف گروہوں کے درمیاں نابرابری ختم ہوگی۔کوٹا سسٹم سندھ کے دیہی علاقوں کے لئے فائدیمند رہا ہے۔ مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے کئی لوگ ہیں جو محض کوٹا سسٹم کی وجہ سے ہی بہتر اداروں میں تعلیم حاصل کرسکے۔ 
بعض شہری حلقے میرٹ پر ضرورت سے زیادہ  زور دیتے ہوئے کوٹا سسٹم کی مخالفت کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ مظہردیکھا گیا ہے کہ شہری آبادی تعلیم اور ترقی کے فوائد دیہی آبادی تک پہنچنے کے مخالف ہیں۔میڈیا اور پروپیگنڈہ کے دیگر ذرائع شہری آبادی کے پاس ہیں۔کوٹا سسٹم کو میرٹ سے مواقع چھیننے کے طور پر نہیں بلکہ پسماندہ لوگوں کو مواقع دینے کے طور پر لیا جائے ہے جن کے پاس کچھ نہیں ہے۔دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کو وہ تعلیمی مواقع میسر نہیں جو شہری علاقوں کو حاصل ہیں۔
 کوٹا سسٹم پسماندہ علاقوں کو ترقی دلانے اور ایک توازن قائم کرنے کے لئے رائج کیا گیا تھا۔ کوٹا سسٹم اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمارے ہاں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں لوگوں کے پاس وہ سہولتیں اور مواقع نہیں  ہیں کہ وہ مقابلہ کر سکیں۔
پاکستان جیسے ملک کے لئے جہاں 60فیصد لوگ دیہی علاقوں میں رہ رہے ہوں، کوٹا سسٹم ناگزیر ہے۔
حکومت ابھی تک ان لوگوں کو بجلی، روڈ، اسکول، کالج وغیرہ جیسی بنیادی سہولیات نہیں دے سکی ہے۔ ان لوگوں میں بھی ٹیلنٹ ہے مگر بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے وہ اس مسئلہ کا شکار ہیں۔ جدید انفرمیشن اور تعلیم نہیں حاصل کرسکتے۔اگر حکومت ان کو شہری سہولیات نہیں دے سکتی تو یہ لوگ کیوں مصائب جھیلیں۔ان لوگوں نے پہلے ہی بہت کچھ برداشت کیا ہے۔اب یہ حکومت کا فرض ہے کہ اس نقصان کا  ازالہ کرے۔اس سسٹم کو تب تک رائج رہنا چاہئے جب تک ان کو شہری علاقوں کے برابر سہولیات اور مواقع نہیں مل جاتیں۔
اگر یہ سسٹم ختم کیا جاتا ہے تو  پہلی ایسے مواقع پیدا کئے جائیں کہ میرٹ یا منصفانہ مقابل ہو سکے۔
کوٹا سسٹم پاکستان میں نیا نہیں خود اسمبلیوں میں بھی اس سسٹم کو برقرار رکھا گیا ہے۔ جہاں خواتین، اقلیتوں کی نشستیں مخصوص ہیں۔ 1956کا آئین ہو یا 1962 کا  یا  1973آئین ہو کوٹا اور مخصوص نشستیں موجود رہیں۔ آج بھی تمام قومی خواہ صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں مخصوص نشتیں موجود ہیں۔ 
مختلف محکموں اور کارپوریشنوں میں نا برابری کو ختم کرنے اور تمام صوبوں کو منصفانہ حصہ دینے کے لئے 1973  میں کوٹا سسٹم رائج کیا گیا۔یہ اس لئے بھی کیا گیا کہ اس سے پہلی چھوٹے صوبوں اور پسماندہ علاقوں کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔اس کی ایل وجہ یہ تھی کہ بیوروکیسی کا تعلق پنجاب سے تھا۔جو کہ قیام پاکستان سے اہم عہدوں پر فائز تھے۔اور ون یونٹ کے بعد اور بھی صورتحال خراب ہوگئی۔ کیونکہ مغرعبی پاکستان کا دارالحکومت لاہور کو بنایا گیا تھا۔
ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد یہ ضروری ہوگیا تھا کہ اس نابرابری کو ختم کیا جائے۔اور ملازمتوں اور دیگر ایسے مواقع میں ہر ایک کو اسکا حق دیا جائے۔اس کے لیے کوٹا سسٹم رائج کیا گیا۔ یہ بدقسمتی تھی یا کوئی منظم چیز بھارت سے ہجرت کرے آنے والے زیادہ تر کراچی اور حیدرآباد میں ہی آکر آباد ہوئے۔دیہی علاقوں سے کم ہجرت ہوئی، جہاں تعلیم معاشی ترقی وغیرہ کے مواقع کم تھے۔ لہذا یہ نابرابری قائم ہو گئی۔یہ لوگ کسی بھی طور پر شہری لوگوں کا مقابلہ نہیں کر پارہے تھے۔اس نا برابری کو اور احساس محرومی کو ختم کرنے کے لیے اور انکو جائز حصہ دینے کے لیے آئین میں ان کے حقوق کا تحفظ دیا گیا۔اور کوٹا سسٹم رائج کیا گیا۔ 
حکومت کے تمام کام بیوروکریسی کے ذریعے ہوتے ہیں، اور یہ بیوروکریسی شہری علاقوں سے تعلق رکھتی تھی۔جس نے پسماندہ اور دیہی علاقوں اور مقامی آبادی کے مستقبل اور ترقی کے لیے نہ کچھ کیا اور نہ ہی
 کچھ سوچا۔
   1973 میں جب یہ سسٹم رائج کیا گیا تھا تو اسکا ٹارگیٹ20سال رکھا گیا تھا۔ یعنی 1993 تک۔  ضیاالحق نے کوٹا سسٹم میں دس سال توسیع کا اعلان کیا۔
  1999 میں نواز شریف نے سولہویں ترمیمی بل کے ذریعے کوٹا سسٹم میں بیس سال کی توسیع کردی تھی۔ تب بھی ایم کیو ایم حکومت کی اتحادی جماعت تھی۔اس نے رسمی مخالفت ضرور کی تھی مگر کوئی اس طرح کی دھمکی نہیں دی تھی جیسی اب دی ہے۔پیپلز پارٹی نے حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے بھی اس بل کی حمایت کی تھی۔
مشرف دور میں تو ایک طرح سے کوٹاسسٹم ختم کردیا گیاتھا۔علاقائی کوٹے کے بجائے سیاسی جماعتوں کا کوٹا نافذ کردیا گیا تھا۔جس کے مطابق ملازمتوں میں ایم کیو ایم کو پچاس فیصد، تیس فیصد مسلم لیگ (ق) کو اور باقی بیس فیصد دیگر اتحادیوں کے لیے تھا۔
تجربے اور مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ کوٹا سسٹم کے نفاذ کے بعد بھی طاقتور بیوروکریسی نے دیہی آبادی کی ٹھیک سے خیال نہیں رکھا، ّج بھی مرکزی خواہ صوبائی سطح پر سرکاری محکموں، کارپوریشنوں اور بنکوں میں یہ گیپ باقاعدہ نظر آتا ہے۔ پسماندہ آبادی کو جو آئینی تحفظ حاصل تھا اس پر بھی ٹھیک سے عمل نہیں ہوا ہے۔
 ایم کیو ایم جو تقریبا ہر دور میں حکومت میں رہی ہے بتا سکتی ہے کہ کتنا بجٹ دیہی علاقوں کے لئے مختص کیا گیا اور اس میں سے کتنا رلیز ہوا، جو رلیز ہوا وہ کتنا تھا اور کس طرح سے خرچ ہوا۔ 
ایم کیو ایم کے اس موقف پر سندھ کے حلقے تعجب کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ جماعت جوکل تک سندھ کی وحدت کی قسمیں کھا رہی تھی اور اس خطے کو ناقابل تقسیم قرار دے رہی تھی وہ کوٹا سسٹم کے اختلافی معاملے پر تقسیم کی دھمکی دے رہی ہے۔یہ موقف ایم کیو ایم کی ساکھ کو مشکوک بنا دیتا ہے۔
سندھ میں تعلیم کی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔گذشتہ دو برس کے دوران سیلاب اور بارش کی وجہ سے پندرہ اضلاع میں کم از کم ایک  سال تک اسکول بند رہے۔بعض مقامات پر ابھی بھی پانی کھڑا ہے اور تعلیمی سرگرمیاں شروع ہونا دور کی بات معمول کی زندگی بھی بحال نہیں ہو سکی ہے۔ سندھ کی اعلی تعلیمی اداروں کا یہ عالم ہے کہ سندھ یونیورسٹی تقریبا دو ماہ تک بند رہی۔ پر گورنر سندھ نے جو کہ ان یونیورسٹیوں کے چانسلر ہیں کوئی مؤثر اقدام نہ کر سکے۔ واضح رہے کہ گورنر کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔
 سندھ میں انتہا درجے کی غربت ہے۔ حالیہ سیلابوں نے اس غربت کو عیاں کردیا ہے۔ عالمی اداروں کی رپرٹس کے مطابق 
 دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں صورتحال اور بھی سنگین ہے۔جہاں ستر فیصد گھرانوں کو خوراک میسر نہیں۔پچاس فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں۔سیو دی چلڈرین کا کہنا ہے کہ سیلاب نے چھپی ہوئی  غربت اور غذائی کمی کو ظاہر کر دیا ہے۔جہاں افریقہ کے سب صحرا سے بھی بدتر صورتحال ہے۔کیا اس صورتحال میں دیہی آبادی  اس میرٹ پر آسکتی ہے جس کا بار بار حوالہ دیا جا رہا ہے؟ کیا یہ لوگ پاکستان کے شہر ی ہیں ان کو بھی آگے بڑھنے کا حق  ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت دیہی علاقوں میں  بنیادی سہولیات شہری علاقوں کے برابر مہیا کرے۔ تب تک ان کو کوٹا سسٹم کے ذریعے اسپیس دینا چاہئے۔

No comments:

Post a Comment