Thursday, 5 March 2020

آج کل تو ہرشخص دانشور ہے 2012-4-16

Mon, Apr 16, 2012 at 11:50 AM
آج کل تو ہرشخص دانشور  ہے
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ کالم۔۔۔ سہیل سانگی 
آج کل تو ہرشخص دانشور بنا ہوا ہے۔ ٹی وی چینلز کی بریکنگ نیوز اور ایک آدھ ٹاک شو دیکھ کر اور ایک نظر اخبار پر ڈال کر دنیا بھر کے مسائل پربحث اور رائے زنی پر ہی بس نہیں کرتے۔ یارلوگ مسائل کے حل کے لئے بعض بیش بہا نسخے بھی تجویز کردیتے ہیں۔ بلاشبہہ ٹی وی بڑی حد تک معلومات اور آگہی پیدا کی ہے۔ مگر آگہی اور شعور دو الگ چیزیں ہیں۔ معلومات تب تک کسی کام کی نہیں ہوتی جب تک اسکو مفاد عامہ کے لیے استعمال میں نہ لایا جا سکے۔سیاسی معاملات پر معلومات اور آگہی اچھی بات ہے۔ لیکن یہ علم کا پہلا مرحلہ ہے۔ ٹی وی نے لوگوں کے  perceptionتو بنا دیئے ہیں مگر ان کے خیالات اور بات چیت میں گہرائی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کچے پکے  perception کو رائے عام تبدیل کرنے والے یا اپنے حق میں رائے بنانے والے آسانی سے استعمال کر لیتے ہیں۔ٹی وی  چینلز سے پہلے یہ کام  اخبارات اور تعلیمی نصاب سے لیا جاتا تھا۔ 
دونوں صورتوں میں کوشش یہی ہوتی تھی کہ بنیادی مسائل اور اشوز پر بحث نہ ہو بات نہ ہو لوگ اس طرف نہ سوچیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم سیاسی طور پر وہیں کھڑے ہیں جہاں پچاس ساٹھ سال پہلے تھے۔آج بھی حکمرانوں کے بحث کے موضوعات اور ہیں اور سرزمین کے حقائق اور عام آدمی کے مسائل اور ہیں۔
پچاس کے عشرے میں جمہوریت اورمعاشی برابری کا سوال پیدا ہوا تھا آج بھی اسی طرح موجود ہے، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید پیچیدہ ہوا ہے۔سندھ اور بلوچستان کو پنجاب اور وفاق سے بہت شکایات ہیں اورمعاملات میں شدید ناراضگی بھی ہے۔ یہ امتیازی سلوک اور عدم مساوات جوآج زیادہ شدت سے محسوس کیا جارہا ہے  اس کی  بنیاد پچاس کی دہائی میں رکھی گئی تھی اور ون یونٹ کے قیام کے سے اس نے باقاعدہ شکل اختیارکرلی تھی۔ون یونٹ ایک پنتھ دو کاج تھا۔ بنگال کی اکثریت کو مساوات کے فارمولا کے تحت ختم کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے صوبوں سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کو انکی شناخت ختم کرے، حق حکمرانی چھین کر براہ راست لاہور کے ماتحت کردیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ سندھ،بلوچستان کے مالی و معدنی وسائل، ملازمتیں اور ترقیاتی منصوبے انکے اختیار میں نہ رہے۔یوں صوبوں کے درمیان نفرتوں کو دعوت دی گئی۔
 عام آدمی کے مسائل کی طرف دیکھا جائے تو معاشی نابرابری بڑھی ہے۔بیروزگاری اورمہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔امن امان کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ عام آدمی کی زندگی، عزت اور ملکیت  خطرے میں پڑ گئی ہے۔شہر ہوں یا دیہی علاقے عدم تحفظ کا احساس شدید تر ہو گیا ہے۔امن امان ہو یا کسی نجی ادارے میں کام کرنے والے شخص کی ملازمت، قانون کہیں بھی نظر نہیں آتا۔
عام بحث یہ ہے کہ اس تمام صورتحال کے لیے حکمران ذمہ دار ہیں۔یہ الزام درست بھی ہے۔لیکن اس پورے بحث میں دو اہم نکات کو شامل نہیں کیا جاتا۔پہلا یہ کہ ملک کی ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے دوراں کس کس کی حکمرانی رہی۔پہلے ایوب خان، اس کے بعد کچھ عرصے تک یحیٰ خان، اور حالیہ برسوں میں جنرل مشر ف بلاشرکت غیرے حکمرانی کرتے رہے ہیں۔یعنی آدھے سے زیادہ عرصہ مارشل لا ہی رہا ہے۔اور جو عرصہ سویلین کی حکمرانی رہی ہے وہ بھی براہ راست فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ اور زیر اثر رہی ہے۔ بینظیر بھٹو کا دور ہو یا نواز شریف کی حکومت یہ دباؤ باقاعدہ موجود رہا۔اس دو حکومتوں میں وزیر اعظم، صدر اور آرمی چیف پر مشتمل ٹرائیکا باقاعدہ موجود رہی اور تمام فیصلے یہ ٹرائیکا ہی کرتی رہی۔اس دور کے اخبارات اس بات کی گواہی کے لیے کافی ہیں۔ جونیجو دور کا ذکر ہی کیا،انکو جنرل ضیاء الحق نے مثبت نتائج کے انتخابات کے بعد خود  نامزد کیا تھا۔مگرملک کا مضبوط ترین سمجھے جانے والے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی بہت سارے معاملات میں فیصلہ کرنے میں آزاد نہ تھے۔سویلین حکومت کو آزادانہ طور پر حکمرانی کا نہ موقعہ ملا اور نہ ہی آئینی مدت پوری کرنے دی گئی۔
آج جو مہنگائی،بیروزگاری اور امن امان کی صورتحال ہے وہ دراصل ماضی کے غلط فیصلوں اور پالیسیوں کی دین ہے۔جس میں صرف سیاسی حکومتیں اور سیاستداں ہی نہیں بلکہ پوراوہ حلقہ شامل ہے جس کو  اسٹیبلشمنٹ کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔کیونکہ یہی حلقہ یا تو براہ راست پالیسیاں بناتا رہا ہے یا پالیسیاں بنانے میں شریک رہا ہے۔تاریخ کے اوراق پلٹنے سے پتہ چلتا ہے کہ بعض معاملات میں تو سویلین حکمران خاصے بے بس تھے۔اور وہ ایک دوکاندار کی طرح عمل کرتے رہے کہ کس عمل میں انکا فائدہ ہے۔انکے پاس شاید دو راستے تھے۔ یا اس عمل میں شریک ہوں یااپنی سیاست کی دوکان بند کریں۔ لہٰذا مہرے بن کر اس پر عمل کرتے رہے۔
 بہت سارے معاملات ترجیحات کے تعین کی وجہ سے بھی پیدا ہوئے ہیں۔ ہمارے پالیسی ساز  قائداعظم کے فلاحی ریاست کے تصور کے بجائے اس کو دفاعی ریاست قرار دیتے رہے ہیں۔خرابیوں کی  ایک وجہ جو اب سب سے بڑی وجہ قرار دی جارہی ہے وہ خارجہ پالیسی کا تعین تھا۔خارجہ پالیسی میں ہم وہی بناتے رہے جو امریکہ کوسوٹ کرتی تھی۔اسکی وجہ سے ہم نے امریکہ سے دو طرفہ معاہدے اور سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدے بھی کئی جن کی نہ ہمیں ضرورت تھی اور نہ ہی ہمیں کبھی کام آئے۔امریکہ سے دوستی  کے پرانے اثرات سمجھنے کے لیے شاید تاریخ پڑھنے کی ضرورت پڑے مگر حال ہی کے دو واقعات جو افغانستان کے حوالے سے ہیں ابھی تازہ  ہیں۔ سوویت یونین کے خلاف جب ہم نے افغانستان میں ”پراکسی جنگ“ لڑی تو ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر ہمیں تحفہ ملا اور لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی فوج  بھی، یہ تینوں چیزیں آج بھی ہمارے لیے سیاسی، معاشی اور سماجی حوالے سے درد سر بنی ہوئی ہیں اور ہمارے نظام کے بنیادی فائبر کو تہس نہس دیا ہے۔دوسری مرتبہ جب امریکی پالیسی میں شرکت دراصل  ہمارے پہلے فیصلے کا تسلسل تھا۔ اگر پہلے ہم امریکی پالیسی کا حصہ نہ بنتے اور شدت پسندوں کو اسٹریٹیجک اثاثہ قرار نہ دیتے تو دوسری مرتبہ امریکی حکمت عملی میں اس طرح ہماری شمولیت کے امکانات کم تھے۔
 مسائل جس طرح سے ایک روز میں حل نہیں ہو سکتے اسی طرح راتوں رات جنم بھی نہیں لیتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بقول ہمارے صحافی دوست وسعت اللہ خان کے چوبیس روپے کے دانشور بننے کے بجائے دانشوری کرتے وقت پیچھے مڑ کر تاریخ کو ضرور دیکھیں۔ان مسائل اور تمام صورتحال کا پس منظر سامنے رکھیں۔ مسائل کی جڑ کیا ہے اس کا بیج کیسے بویا گیا اور کس طرح سے پروان چڑھایا گیا؟ اس پورے عمل میں کس فریق کا کیا رول ہے؟صرف اس صورت میں ہی  ہم اس صورتحال کو سمجھ سکتے ہیں اورشاید بہتر حل کی طرف بھی بڑھ سکتے ہیں۔ 

No comments:

Post a Comment